Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 31)
Rate this Novel
Basil (Episode 31)
Basil by Huma Waqas
جویریہ کی چھینک پورے کمرے میں گونجی تھی ۔ دران ڈریسنگ روم سے نائٹ ٹرایوزر شرٹ زیب تن کیے اب صوفے کی طرف بڑھ رہا تھا جب اس کی چھینک کی آواز پر ٹھٹک کر رکا ۔
محترمہ کو ایک چھینک نہیں ایک ساتھ چھینکیں آ رہی تھیں ۔ وہ اب دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپے چھینک رہی تھی پھر بے حال سی بیڈ کے اطراف میں لگے میز پر سے ٹشو اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو نگاہ سامنے غصے سے گھورتے دران پر پڑی جویریہ نے فوراً خجل ہو کر نگاہ چرائی ۔
وہ غصیلی مگر فکر مند نگاہوں سے اس کو گھور رہا تھا ۔ جویریہ نے زبردستی چھینکوں کا گالا گھوٹا ۔ اس عمل سے آنکھوں میں پانی جما ہونے لگا ۔ چھینکیوں سے جان چھوٹی ہی تھی کہ ناک سے پانی بہنے جیسا احساس ہونے لگا ۔ اس نے فوراً ٹشو کو ناک کے آگے رکھا ۔
کچھ دیر اس کو یونہی گھورنے کے بعد وہ انٹرکام کی طرف بڑھا ۔ انٹرکام اٹھایا کان سے لگایا جبکہ ایک ہاتھ کمر پر دھرا تھا۔ دل تو چاہ رہا تھا جویریہ کی اس لاپرواہی پر جھاڑ کر رکھ دے ۔ روزین کے انٹرکام اٹھانے کا انتظار کرتا وہ لب بھینچے ضبط کی کیفیت میں کھڑا تھا ۔
وہ کن اکھیوں سے بار بار اس کی طرف دیکھتی خود کو نارمل ظاہر کرنے کی کوشش میں تھی ۔ کتاب اٹھا کر جلدی سے کھولی , گود میں رکھی اور سر اس پر جھکا دیا ۔
” اوہ میرے اللہ ۔ دران کی بات سچ ہو گئی ۔ آج ہی تو نکلی تھی میں اور آج ہی اس کو جلدی آنا تھا ۔ ” دران کے جلدی آنے اور اسے یوں پکڑ لینے پر غصہ آ رہا تھا ۔
” روزین دو بلیک کافی بھجوا دیں کمرے میں ابھی ۔ “
دران انٹر کام کی دوسری طرف روزین کو کافی کا حکم صادر کر رہا تھا ۔ انٹر کام کو واپس رکھنے کے بعد وہ ٹی وی آن کرتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا ۔ چہرے پر تاہنوز سختی قائم تھی ۔
جویریہ اب خاموشی سے بار بار ٹشو سے ناک کو رگڑ رہی تھی۔ دماغ کی جھلی کا انفیکشن ابھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوا تھا ۔ لان میں دران کا غصہ بجا تھا ۔ اسے گرم کمرے سے باہر نہیں جانا چاہیے تھا۔ کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک کی آواز پر دران نے گردن موڑی ۔
” کم ان ۔۔ “
روزین دروازہ کھول کر ٹرالی گھسیٹتی کمرے میں داخل ہو رہی تھی ۔ ٹرالی پر کافی کے مگ اور کچھ کھانے کے لوازمات رکھے ہوئے تھے ۔ وہ کمرے کے وسط میں ٹرالی چھوڑ کر ہاتھ باندھے باہر چلی گئی ۔ دران نے ٹرالی پر سے کافی کا ایک مگ اٹھایا اور ننگے پاؤں چلتا ہوا بیڈ کے قریب آ کر مگ جویریہ کی طرف بڑھایا ۔ وہ سر نیچے کیے مسلسل ناک پر ٹشو رکھے آہستگی سے صاف کر رہی تھی ۔
” مجھے بلیک کافی اچھی نہیں لگتی ۔ “
چہرہ جھکائے گھٹی آواز میں انکار کیا ۔
” ضروری نہیں ہر وہ چیز جو ہمارے لیے بہتر ہو وہ ہمیں اچھی بھی لگے ۔ “
رعب سے کہتا وہ اب بھی مگ اس کی طرف بڑھائے ہوا تھا ۔
” میں نے کبھی نہیں پی ۔ مجھے چائے ۔۔۔۔ “
” تمھاری جو حالت ہو رہی ہے ۔ اس کے لیے یہ بہت ضروری ہے ۔ چائے پھر کبھی پی لینا ۔ وہ تو ویسے بھی تمہیں اپنے ہاتھ کی بنی پسند ہے ؟ “
” یہ اتنا بولنے کیوں لگا ہے ۔ ” جویریہ نے بنا چہرہ اوپر اٹھائے سرعت سےہاتھ بڑھا کر ٹشو باکس سے اگلا ٹشو نکالا ۔ دران نے اس کے جھکے سر کو گھور کر دیکھا پھر مگ میز پر رکھ کر اس پر جھکا ۔
” میرا خیال ہے مجھے میڈیسن والا ہی طریقہ ۔۔ “
اس کے سکارف کی طرف ہاتھ بڑھاتے ابھی اس کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ جویریہ نے بدک کر سر اوپر اٹھایا ۔
” پیچھے ہٹیں , پی رہی ہوں میں ۔ “
تیزی سے ہاتھ بڑھا کر میز پر سے مگ کو اٹھایا اور دونوں ہاتھوں کے درمیان میں جکڑ لیا ۔ وہ اب بھی سر پر کھڑا تھا شاید اس کے گھونٹ بھرنے کا انتظار تھا ۔ ” عجیب انسان ہے ۔ اب کیا کافی پلانے کے لیے بھی ہاتھ باندھ دے گا ۔ ” پیشانی پر نگواری سے بل ڈالے ۔
مگ کے کنارے کو لبوں سے لگایا اور گھونٹ بھرا ۔ کافی صیح بلیک اور کڑوی تھی ۔ حلق تک کڑوا ہوا ۔ بے تحاشہ بری شکل بنائی ۔
اس نے واقعی پہلے کبھی بلیک کافی نہیں پی تھی ۔ زندگی میں پہلے ہی اتنی کڑواہٹیں تھیں ان میں ایک اضافہ کافی کا کر لیتی ۔ ہر گز نہیں ۔ دران اب ٹرالی پر سے اپنا مگ اٹھائے صوفے کی جانب جا رہا تھا ۔
ویسے ایک دفعہ سنانا کی ضد پر اس نے کافی چکھی ضرور تھی۔ لیکن وہ اتنی کڑوی تو نہیں تھی جتنی کڑوی یہ تھی ۔ اگلا گھونٹ بھر کر دران کی طرف دیکھا ۔ جو بڑے مزے سے ٹی وی سکرین پر نگاہیں جمائے کافی پی رہا تھا ۔ اسے تو متلی جیسا احساس ہو رہا تھا ۔ وہ کیسے آرام سے گھونٹ پر گھونٹ لے رہا تھا ۔
” ہوں اب سمجھ آیا اس کی کڑواہٹ میں بھی اسی لیے کمی نہیں آتی۔ اتنی کڑوی کافی جو پیتا ہے ۔” بدمزہ صورت بنائے سوچا ۔
ایک چور نظر دران پر ڈالی اور مگ کو میز پر رکھنے کے لیے بازو لمبا کیا ۔
” کافی کا ایک گھونٹ بھی نہیں بچنا چاہیے ۔ “
دران کی بارعب آواز گونجی ۔ اس کا ہاتھ رکا اور بے بسی سے واپس مگ کو منہ تک لے گیا ۔
” کیا مصیبت تھی ۔ کیا وہ کسی جیل میں تھی ۔ نہیں اس کی قید میں ۔ لیکن کیوں بھئ اسکی قید میں کیوں تھی ۔۔۔ ” وہ خود سے ہی سوال کرتی الجھ کر رہ گئی ۔
جلدی سے باقی کافی حلق میں زہر مار کر انڈیلی اور منہ بسورتے ہوئے مگ واپس میز پر رکھا ۔ دران کے پلٹ کر دیکھنے پر نخوت سے ناک بھینچے مگ اٹھا کر الٹا کیا ۔ اس کا انداز ایسا تھا کہ وہ بے ساختہ ہنس دیا ۔
” نہیں وہ ہنستا ہے ۔ انفیکٹ اس کی ہنسی بہت خوبصورت ہے ۔ ” انل کی بازگشت ذہن میں گونج گئی اور دران کی ہنسی دیکھ کر دھڑکتے دل نے انل کی بات کی تصدیق کی ۔ وہ بنا آواز مگر مکمل ہنسا تھا ۔
بلاشبہ اس کی طرح اس کی ہنسی بھی مکمل حسن رکھتی تھی ۔ دل جو اس کی ہنسی پر اپنا سارا غصہ تیاگ دینے کو تیار بیٹھا تھا ۔ بڑی مشکل سے اسے قابو میں کرتی وہ نظریں کتاب پر جھکا گئی تھی ۔
کچھ دیر دران کی نگاہیں خود پر محسوس ہوئیں لیکن پھر وہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہو چکا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆
کراچی کی شفاف صبح اس پوش علاقے میں بنے گھروں کو روشن کیے ہوئے تھی ۔ تارکول میں لپٹی کشادہ سڑک پر بنی یہ خوبصورت بنگلوں کی قطار میں سے ایک بنگلے میں برقی قمقوں کی لٹکتی لڑیاں صبح کی روشنی میں مدھم ہو کر جل رہی تھیں ۔
اسفند ملک اور روبی کے امریکہ شفٹ ہو جانے کے بعد اور دران کی بڑھتی دولت کی ریل پیل نے ملک ہاؤس کے باقی مکینوں کی زندگیاں بھی بدل کر رکھ دی تھیں ۔ کہاں وہ متوسط طبقے کے رہائشی علاقے میں بنا بوسیدہ دیواروں والا ملک ہاؤس اور کہاں اب یہ پوش علاقے میں بنا شاندار چمچاتا بنگلا جس میں فائقہ اور سونیا راہب کے ساتھ رہتی تھیں۔
اسی بنگلے کی اوپری منزل کے اس خوبصورت کمرے میں اس وقت وہ جدید طرز کے سنگہار میز کے آگے کھڑی اپنے کمر تک آتے بھورے سنہری بالوں کو سمیٹ رہی تھی۔ مہندی رنگے ہاتھ جوڑے سے الجھ رہے تھے , عنابی رنگ کا رشیمی جوڑا اس کے خوبصورت وجود پر دمک رہا تھا ۔ گزرتے سالوں نے سبرینا کے حسن کو چار چاند لگا دیے تھے ۔
واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے نگاہ شیشے کے عکس میں ڈالی برھان ٹاول سے گیلے بال رگڑتا ہوا باہر آ رہا تھا ۔ شادی کے بعد آج دوسری صبح تھی جس میں وہ خوش باش اپنی زندگی کے نئے سفر کی ڈگر پر سر شار اب برھان کو محبت سے دیکھ رہی تھی ۔
امریکہ سے صرف اسفند ملک اور روبی ہی برھان کے ساتھ پاکستان آئے تھے ۔ اسفند ملک کا دران سے بات کرنا تھا کہ اس نے بالکل ویسا ہی کیا جیسا انہوں نے سوچا تھا ۔
دران نے برھان کو مارلین سے شادی کے بعد درانگ ولاس میں رکھنے سے انکار کر دیا ۔ دران کے اس حکم پر ہاروی اور بروس کو اپنا سارا منصوبہ تبدیل کرنا پڑا اور اب کی بار ساری پلینگ کرنے والا برھان خود تھا ۔
سنگہار میز کے سامنے کھڑی سبرینا ہی اب وہ چوتھا نفوس تھی جسے وہ اپنے سارے منصوبے میں شامل کرنے والے تھے ۔ برھان نے ٹاول کو گلے میں ڈالا اور مسکراتے ہوئے قدم سنگہار میز کی طرف بڑھا دیے ۔
دران کے ٹھکرا دینے کے بعد اسے محبت سے سمیٹ لینے والا برھان ہی تھا ۔ سات سالوں میں جہاں وہ برھان کی محبت کے ساتھ اپنے دل کو باندھ چکی تھی وہاں دران کے لیے نفرت کو بھی بڑھا چکی تھی ۔ برھان نے محبت سے اسے دونوں کندھوں سے تھام کر قریب کیا ۔
” تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔ “
سنجیدگی سے کہتا آج دوسرے دن وہ سبرینا کو ساری حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتا تھا۔ وہ سنگہار میز سے کمر ٹکائے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
” کرو ۔ ” برھان کو یوں سنجیدہ دیکھ کر آنکھوں میں محبت کی جگہ تجسس نے لی ۔
” تم نے پوچھا ہی نہیں یوں اچانک تمھارے ایگزیم سے پہلے ہی شادی کیوں کر لی میں نے ؟ “
وہ سپاٹ لہجے میں پوچھ رہا تھا ۔ سبرینا کے چہرے پر پریشانی جھلکنے لگی ۔ دو دن سے چہکتے برھان کو آج یوں سنجیدہ دیکھ کر وہ الجھ گئی تھی۔
” کرنی تو تھی ہی ۔ بس یہ میری پڑھائی چھڑوانے پر مجھے دکھ ہوا مگر مما بھی یہی چاہتی تھیں اور خالہ بھی تو بس پھر راضی ہو گئی مگر آپ یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں ؟ “
آہستگی سے جواب دیتے ہوئے اس نے الجھ کر برھان کے پر تجسس انداز پر سوال داغا ۔ وہ یوں پرسراریت کیوں ظاہر کر رہا تھا ۔
” ہوں ۔۔۔۔لیکن مجھے تمہیں یہ بتانا ہے کہ میں نے یہ شادی جلدی کسی مقصد کے تحت کی ہے ۔ “
برھان نے لب بھینچے لفظوں پر زور دیتے ہوئے تمہید باندھی ۔
” کیسا مقصد ؟ “
نا سمجھی ظاہر کرتے ہوئے سر کو جنبش دی ۔ برھان نے آہستگی سے اس کے کندھوں پر سے ہاتھ اٹھائے اور اس کے دائیں ہاتھ کو اپنی دونوں ہتھیلیوں کی گرفت میں لیا ۔
” تمہیں پتا ہے نہ کہ میں بچپن سے ہی تمہیں پسند کرتا ہوں لیکن جب تمھاری نسبت دران سے طے ہوئی تھی تو خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا تھا ۔ “
” جانتی ہوں ۔ بتا چکے ہیں آپ یہ سب پہلے بھی لیکن اب یہ سب باتیں کرنے کا کیا فائدہ ہماری شادی ہو گئی ہے ۔ وہ اپنی زندگی میں خوش ہے ہمیں بھی خوش رہنا ہے ۔ “
سبرینا نے الجھ کر پیشانی پر پڑے شکن مزید گہرے کیے ۔ برھان کے اس پرسرار سے انداز پر دل وسوسے بُننے لگا تھا ۔
” ہاں خوش تو رہنا ہے اور میں تمہیں زندگی کی ہر خوشی دوں گا لیکن کیا تم دران کی دی ہوئی ساری تکلیفیں بھلا چکی ہو ؟ “
برھان نے بھنویں اکٹھی کیے عجیب سا سوال کیا تو اس نے الجھی نگاہوں کے ساتھ حیرت ظاہر کرتے ہوئے اس کی جانب دیکھا ۔
” دیکھو نہ میں تو کچھ نہیں بھولا ۔ میری یہ چوٹ کا نشان , میری بچپن کی وہ بے بسی جب وہ بات بات پر مجھے پکڑ کر مارتا تھا اور سب سے بڑھ کر میرے بابا کی محبت جو اس نے چھین لی ۔ “
وہ اپنی پیشانی پر کٹ کے نشان پر ہاتھ رکھتے ہوئے نفرت آمیز لہجے میں دران کا ایک بعد دوسرا ظلم گنوا رہا تھا ۔
” اسی طرح تمہیں جو تکلیف دی ۔ پورے خاندان میں تمہیں رسوا ہوتا چھوڑ کر خود بھاگ گیا ۔ “
وہ ساکن کھڑی تھی ۔ وہ ناسمجھی سے اپنی طرف دیکھتی سبرینا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دران کے لیے دل میں موجود ساری بھڑاس نکال رہا تھا لیکن یہ نہیں جانتا تھا وہ اس کے زخموں کو بھی کرید رہا ہے ۔
” دو سال بعد واپس آیا تو دادی کو مار دیا , عصمت پھپھو ابھی تک اپنے بھائی سے ملنے کو ترستی ہیں ۔ بولو کیا تم سب بھول گئی ہو ؟ “
وہ خاموش کھڑی تھی ۔ برھان کا یہ انداز اس کے سوال کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔ چند سکینڈ کی خاموشی تھی جسے اس کے سپاٹ لہجے نے ختم کیا ۔
” نہیں کچھ بھی نہیں بھولی ۔ لیکن ھنی ان سب باتوں کا اب کیا فائدہ ۔ وہ اتنا بڑا آدمی بن گیا ہے ۔ “
” کوئی بڑا آدمی نہیں بنا ۔ گھٹیا آدمی بن گیا ہے ۔ “
برھان نے بے دردی سے دانت پیسے ۔
” تمہیں پتا ہے جس لڑکی سے شادی کی ہے اس نے وہ کسی جسم فروشی کرنے والے گروہ کی رکن تھی ۔ وہاں سے بھگا کر لے آیا اسے اور اب چھپا کر کڑی سکیورٹی میں رکھا ہوا ہے۔ “
” کیا! ۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں کیسے پتا اس سب کا ؟ “
اس حیرت انگیز انکشاف پر سبرینا کی پوری آنکھیں اور منہ ایک ساتھ کھل گیا ۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے برھان کی طرف بے یقینی سے دیکھ رہی تھی ۔
” اس نے جس فلم کی شوٹنگ کے دوران یہ سب گل کھلائیں ہیں اس کے پروڈیسر نے بتایا ہے مجھے ۔ بیچارا اس پروسٹیوٹ گروہ کے ہاتھوں پھنسا ہوا ہے ۔ وہ اس کی کچھ پرائیویٹ ویڈیوز کو لے کر اسے بلیک میل کر رہے ہیں ۔ وہ دران کے ساتھ بھاگی ہوئی لڑکی کو واپس لینا چاہتے ہیں جسے دران اپنی بیوی بنا کر گھر میں بیٹھا ہے ۔ “
برھان ایک کے بعد دوسرا بمب پھوڑ رہا تھا اور سبرینا بنا پلکیں جھپکے سن رہی تھی ۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس نے تھوک نگلا ۔
” بات تو بہت حیرت کی ہے لیکن ھنی اس سب کا ہماری شادی سے کیا تعلق ہے ۔ یہ تو ان کا آپسی معاملا ہے نہ ۔ “
سبرینا اب دران کے اس فعل کی حیرت سے باہر آ کر تفتیشی نگاہوں سے برھان کو گھور رہی تھی ۔ برھان نے گہری سانس لی ۔
” یہی تو جان میری ۔۔۔تعلق ہے بہت گہرا تعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ میں اس فلم پروڈیسر کی اس کام میں مدد کرنا چاہتا ہوں ۔ اس کی مدد ہو جائے گی اور دران سے بدلہ بھی لے لیا جائے گا ۔ اور اس سب میں تم بھی ساتھ دو گی میرا ۔ “
برھان کی بات پر وہ جو الجھی کھڑی تھی گھبرا کر اس کی طرف دیکھا ۔ برھان نے فوراً تسلی کے لیے ہاتھ تانا
” پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہمیں بس کسی طرح دھوکے سے اس لڑکی کو ان کے حوالے کرنا ہو گا ۔ دیکھو اس لڑکی کی اصلی جگہ وہیں ہے جہاں سے وہ آئی ہے ۔ “
وہ بڑی چالاکی سے اسے نہ صرف اپنے لائحہ عمل سے آگاہ کر رہا تھا بلکہ قائل بھی کر رہا تھا جبکہ سبرینا بے یقینی اور الجھن سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
“دو گی نہ ساتھ ؟ دران سے اپنی اذیتوں کا بدلہ لینے کا اس سے اچھا موقع نہیں ملے گا ہمیں ۔ “
وہ اب سبرینا کے کندھوں کو ہلاتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔
” بولو دو گی ساتھ ؟ “
اس کی خاموشی کا دورانیہ بڑھتے دیکھ کر بڑی محبت سے پھر پوچھا وہ لب کچل رہی تھی ۔ عجیب سی سچویشن تھی لیکن سامنے کھڑا شخص بھلا اس سے کیوں جھوٹ بولے گا ۔ سبرینا نے آہستگی سے سر اثبات میں ہلایا تو وہ ایک دم سے پرجوش ہو کر اسے گلے لگا گیا ۔
” آئی لو یو ۔ میں جانتا تھا تم میرا ساتھ دو گی ۔ بس اس بات کو تم میرے اور اپنے درمیان راز رکھو گی ۔ “
وہ بانہوں کی گرفت کو مضوبط کرتا اس کے کان میں سرگوشی کر رہا تھا اور وہ واقعی اپنی پچھلی اذیتوں کو دہرا کر زخموں کو تازہ کر رہی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆
سفید ٹی شرٹ اور نیلی جینز میں ملبوس ہشاش بشاش انل گاڑی کے سٹیرنگ پر انگلیاں ٹپٹپاتا بار بار بیکری کے بند دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ بیکری کے ارد گرد اور سڑک پر سفید برف روئی کے گالوں کی طرح گر رہی تھی ۔
جیسیکا نے اس دن کے بعد آج اسے فون کیا تھا اور ملنے کے لیے بلایا تھا ۔ وہ اور دران تو اپنی طرف سے جیسیکا والے معاملے کو ختم کر چکے تھے لیکن آج اس کی کال نے تجسس میں ڈال دیا ۔ دران سے اجازت لینے کے بعد وہ مینگولا بیکری کے سامنے کار میں بیٹھا پچھلے پندرہ منٹ سے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔
پندرہ منٹ اور دس سکینڈ کے انتظار کے بعد وہ بیکری سے باہر نکلتی ہوئی نظر آئی ۔ سیاہ لمبے کوٹ اور گرے گرم سکارف کو گردن کے گرد لپیٹے , سنہری بالوں کو کندھے پر بکھرائے وہ انل کو دیکھنے کے بعد اب کار کی طرف بڑھ رہی تھی ۔ کار کے پاس آ کر بڑے اعتماد سے دروازہ کھولا اور فرنٹ سیٹ پر انل کے ساتھ براجمان ہوئی ۔
” ہیلو ۔ “
انل نے بشاشت سے دوستانہ انداز میں کہا جبکہ وہ اپنے گلے کے گرد سکارف کو اتار رہی تھی ۔ اس کے گال اور ناک ٹھنڈ سے سرخ ہو رہے تھے ۔ آج صبح سے ہلکی برف باری نے درجہ حرارت کم کر رکھا تھا ۔ باہر کی ٹھنڈ کے باعث اس کے منہ سے اب بھی بھاپ نکل رہی تھی
” ہائے ۔ کیسے ہو ؟ “
خوشگوار موڈ میں جواب دیتی وہ سکارف کو گود میں دھر کر انل کی طرف متوجہ ہوئی ۔ ۔
” ہینڈسم ۔ “
مسکراہٹ دبا کر شرارت سے جواب دیا ۔ انل کے برجستہ جواب پر ایک دم سے اس کی خوشگواریت غصے میں تبدیل ہوئی ۔
” خوش فہمی ۔ “
” فہم کی بات فہم والوں کو سمجھ آتی ہے میڈیم ۔ خیر بریک اپ کرنے کے بعد کیوں یاد کیا مجھے ؟ “
انل نے بڑے انداز میں پہلو بدل کر رخ اس کی طرف موڑا ۔ وہ جو ہینڈسم پر تپی بیٹھی تھی ۔ بریک اپ کے لفظ پر اس کے گال اور پھول گئے ۔ نک کے دھوکے کے بعد لڑکوں کے اس لب و لہجے پر اسے غصہ آنے لگتا تھا ۔
” شٹ اپ ۔ سنجیدہ نہیں ہوتے کیا کبھی تم ؟ “
” ہوتا ہوں کیوں نہیں ہوتا ۔ تم ہاں کر کے تو دیکھو ۔ “
انل کے سنجیدگی سے جواب دینے پر وہ چڑ کر دانت پیس گئی۔ دران کے ڈالے پنگے میں اب اسے مزہ آنے لگا تھا ۔ جیسیکا چڑتی ہوئی اچھی لگتی تھی ۔
” پاگل مت کرو مجھے ۔ مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے تم سے ۔ “
وہ جھنجلا کر دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھا گئی جبکہ انل کا اگلا ردعمل مزید کوفت میں ڈال گیا ۔
” میں تو یہ سن کر ہی خوش ہوں کہ تمہیں مجھ سے بات کرنی ہے اور وہ بھی ضروری واؤ۔و۔و۔۔۔ “
جوش سے بتیسی نکالے کہا ۔
” اوہ جیزیز ۔۔۔ کچھ اٹھا کر مار دوں گی تمھارے سر میں ۔ “
جیسیکا نے کچھ ڈھونڈنے کے انداز میں اردگرد دیکھا ۔
” مار تو پہلے ہی چکی ہو ۔ زندہ لاش ہوں بس ۔ “
انل نے ہاتھ سینے پر رکھا ۔ جیسیکا نے ضبط کے انداز میں سانس اندر انڈیلی اور بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے آڑستی سنجیدہ ہوئی ۔
” مجھے تمھاری مدد چاہیے۔ “
” کسس سلسلے میں ؟ “
انل نے پوری گفتگو میں پہلی بار سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے آبرؤ چڑھائے ۔
” دراصل میں دو سال سے ایک بات کو لے کر بہت پریشان ہوں ۔ مجھے کوئی شخص مدد کر رہا ہے وہ ہر مہینے بہت سارے پیسے دیتا ہے مجھے ۔ “
اس کی بات پر اندر سے سٹپٹا کر بمشکل انل نے اپنی حالت پر قابو پایا اور چہرے کے رنگ چھپانے کے لیے بلند و بانگ قہقہ لگایا ۔
” ہنس کیوں رہے ہو ؟ پاگل ہو تم کیا ؟ “
وہ انل کو یوں بنا بریک کے ہنستا دیکھ کر مزید جھنجلا گئی ۔
” پاگل تو تم مجھے لگ رہی ہو ۔ پہلی دفعہ کسی کو پیسے ملنے پر پریشان دیکھا ہے ۔ دنیا میں لوگ پیسہ نہ ملنے پر پریشان ہوتے ہیں ۔ “
اپنی ہنسی ہر قابو پاتا بمشکل وہ اپنی بات کہہ رہا تھا۔ جیسیکا نے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ دانت پیسے ۔
” دیکھو میں نے تمہیں یہاں اپنا مزاق اڑانے کے لیے نہیں بلوایا ہے ۔ مجھے تم ایک ایماندار اور سلجھے ہوئے انسان لگے ۔ “
” کیا واقعی ۔ پھر سے کہو کیا لگا میں تمہیں ؟ “
بچوں کی طرح پلکیں پھڑپڑائیں ۔ جیسکا نے بدمزہ سی صورت بنائے کھڑکی کے باہر دیکھا ۔ عجیب چپکو شخص تھا لیکن ایماندار اور مخلص تھا ۔ تھوک نگل کر وہ پھر سے سیدھی ہوئی ۔
” دیکھو مجھے تمھاری مدد چاہیے مجھے اس شخص کو پکڑنا ہے ۔ “
ہاتھ کی انگلیوں کو آپس میں ملائے وہ بڑے پر عزم انداز میں انل سے دران کو پکڑنے کی بات کر رہی تھی ۔
” ارے بھئ کیوں پکڑنا ہے ۔ بیچارا مدد ہی تو کر رہا ہے ۔ “
کندھے اچکاتے ہوئے اس کی بات کی تردید کی ۔ بھلا وہ اب دران کو پکڑنے میں اس کی کیا مدد کرتا ۔
” لیکن کیوں کر رہا ہے مجھے نہیں چاہیے اس کی مدد میں پریشان ہوں اس بات کو لے کر ۔ آخر کوئی کیوں اس طرح میری مدد کر رہا ہے ۔ مطلب دو سال ہو گئے ہیں بلا جواز کوئی کسی کو اتنے پیسے کیوں بھیجتا ہے ۔ “
” ہاں ویسے سوچنے والی بات ہے ۔ کوئی بہت ہی شاندار شخص لگتا ہے ۔ “
انل نے لبوں کو رشک سے باہر نکلاتے ہوئے تعریف کی ۔
” شاندار ہے یا پاگل ہے ۔ جو بھی ہے جیسا بھی ہے مجھے اسے پکڑنا ہے اور تمہیں میری مدد کرنا ہو گا ۔ “
بڑے وثوق سے کہتی وہ انل کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جو بہت برا پھنسا تھا ۔ بیچارگی کی آخری انتہا پر سر اثبات میں ہلا دیا ۔ وہ خوشی سے مسکرائی ۔
” تھنکیو ۔۔۔۔ تھنکیو سو مچھ ۔۔۔ “
انل نے زبردست لبوں پر مسکراہٹ سجائے سر ہلایا ساری شوخی ہوا ہوئی ۔ اب یہ کیا گیم تھا غصہ دران پر آرہا تھا ۔ جیسیکا اسے بڑے رازدانہ انداز میں سارا کچھ بتا رہی تھی کہ کیسے اسے بیکری میں ہر مہینے پیکٹ وصول ہوتے تھے اور وہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی انجان بن کر سر ہلا رہا تھا ۔
☆☆☆☆☆
بیورلی ہلز میں چند دن کی مسلسل برف باری کے بعد آج سورج نے ہلکی سی جھلک دکھائی تھی ۔ درانگ ولاس کے اس خوبصورت کمرے میں موجود شیشے کی دیوار کے پردے آج کتنے دن بعد ہٹے تھے ۔ جویریہ کی طبیعت اب بہت بہتر ہو گئی تھی ۔ فریڈ نے دوا نہ لینے کی بھی اجازت دے دی تھی ۔
دوپہر کے دو بجے وہ بیڈ کے بائیں طرف دیوار کے قریب فرش پر سفید میکسی اور گرے سکارف کو سر پر اوڑھے جائے نماز پر بیٹھی تھی ۔ ہاتھ دعا کے لیے اٹھے تھے ۔ جن کو وہ دعا مانگنے کے بعد بھی بلاجواز اٹھائے ہوئے تھی ۔
دران۔۔۔۔ وجہ دران ملک تھا جس کا بالکل بدلہ رویہ اور آنکھوں سے جھلکتی بے پناہ محبت نے اسے پریشان کر رکھا تھا ۔ کچھ دن تو وہ اس کو اپنا وہم سمجھتی رہی لیکن دران اسے چھپ چھپ کر دیکھتا تھا ۔ فجر کی نماز کے بعد جب وہ اسے بیڈ پر لیٹنے کا کہتی تو وہ بیڈ پر آ کر سوتا نہیں تھا بلکہ اسے نماز پڑھتے , قرآن پڑھتے دیکھتا رہتا تھا جیسے ہی جویریہ متوجہ ہوتی وہ آنکھیں بند کر لیتا ۔
اس کا ذہن کبھی کسی کی آنکھوں کو غلط پڑھ ہی نہیں سکتا تھا لیکن یہ کیسے ہو سکتا تھا ۔ مطلب دران ملک ۔۔۔۔ دران کو اس سے محبت ہو گئی تھی ۔ نہیں یہ نہیں ہو سکتا تھا ۔ دل زور سے دھڑکنے لگا تھا ۔ وہ بار بار اپنے ذہن کو جھٹلا رہی تھی ۔
ہلکی سی دستک کے بعد کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے ہاتھوں کو آہستگی سے چہرے پر پھیرا اور سیدھی ہوئی ۔
سبرینا اور روزین مسکراتی ہوئی کمرے میں داخل ہو رہی تھیں ۔ روزین کے بازوؤں پر بہت سے کپڑے تھے جو ہینگر سمیت لٹک رہے تھے ۔ سبرینا گولڈن جوڑے میں نک سک سے تیار ہوئی حسن کی انتہا کو چھو رہی تھی ۔
سبرینا اور برھان کے شادی کے بعد انہیں امریکہ واپس آئے تین دن ہو چکے تھے ۔ ان تین دنوں میں سبرینا نے درانگ ولاس کے ماحول کو بدل کر رکھ دیا ۔ خاموش درانگ ولاس اب قہقوں کے جلترنگ میں گونجنے لگا تھا ۔
برھان کی ہدایتوں پر عمل کرتے ہوئے سبرینا نے ایک دن میں ہی جویریہ کے ساتھ راہ و رسم اس قدر بڑھا لیے تھے کہ آج وہ بڑی بے تکلفی سے اس کے کمرے میں موجود تھی ۔
آج شام کو دران نے اس کے اور برھان کے لیے ایک بہت شاندار ریسپیشن پارٹی کا اہتتمام کیا تھا اور اب بھی دران باہر اسی پارٹی کے انتظامات دیکھنے کے لیے لان میں موجود تھا ۔
” کیسی ہیں بھابھی ؟ “
بے تکلفی سے مسکراتی اب وہ بیڈ کے پاس جویریہ کے سامنے کھڑی تھی ۔ وہ بہت اپنائیت دکھا رہی تھی ۔ اسے بھابھی کہنا , محبت جتانا جویریہ کے لیے یہ سب خوشگوار تبدیلی تھی ۔
اسے وہ بہت اچھی لگی تھی ۔ روبی سے جھجک کے باعث وہ کمرے سے بہت کم نکلتی تھی لیکن ان دو دنوں میں سبرینا نے اس کی وہ جھجک بھی ختم کر دی تھی ۔
” ٹھیک ہوں آؤ کھڑی کیوں ہو ؟ اور یہ سب ! “
محبت سے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور نماز صورت بندھے سکارف کو چہرے کے گرد سے اتارتے ہوئے روزین کے بازو پر لٹکتے جوڑوں کی طرف اشارہ کیا ۔
” یہ کچھ فینسی ڈریسز ہیں آپکے لیے لائی ہوں ۔ “
روزین کے ہاتھ میں پکڑے جوڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑی محبت سے جواب دیا ۔
” پریشان نہ ہوں وہ دراصل رات کو ریسپیشن پر تھیم پاکستانی ڈریسز کا ہے تو مجھے روزین سے پتا چلا کہ آپ کے پاس تو کوئی پاکستانی ڈریس نہیں ہے ۔ “
جویریہ کے چہرے کی ہچکچاہٹ پر اس نے فوراً وضاحت دی ۔ اس کی چمکتی آنکھوں میں بے پناہ محبت تھی ۔ گہرائی تھی۔
” ہاں لیکن میری پاس بہت سی میکسز وہ دران نے۔۔۔ “
ہچکچاتے ہوئے وہ ابھی بات مکمل نہیں کر پائی تھی کہ سبرینا نے محبت سے بات کاٹ دی ۔
” ارے بھابھی یہ یہاں کی میکسیز میں پاکستانی فینسی ڈریسز جیسی لُک کہاں آتی ہے بھلا ۔ “
روزین کو جوڑے بیڈ پر رکھ کر جانے کا اشارہ کرتی وہ جویریہ کی جانب پلٹی ۔ آج شام ریسپیشن کے تھیم میں تمام انڈین اور پاکستانی مہمانوں نے شلوار قمیض پہننے تھے اور ایسے میں جویریہ کے ساتھ اعتماد کا رشتہ بڑھانے میں اس سے اچھا موقع کوئی نہیں تھا ۔
” یہ میرے کچھ بالکل نئے ڈریسز ہیں آپ کو جو اچھا لگے وہ رکھ لیں اور شام کو وہی پہنیے گا ۔ بہت اچھی لگیں گی آپ ۔ “
بھاری بھرکم نقش و نگار سے لیس دیدہ زیب پانچوں جوڑوں کو وہ الگ الگ کر رہی تھی ۔ سرخ , جامنی , پیچ , سبز اور فیرزوی رنگ کے خوبصورت جوڑے تھے سبھی کیپری اور قمیض تھے ۔ جویریہ تزبذب کا شکار ہوئی ۔
کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر دونوں نے ایک ساتھ پیچھے مڑ کر دیکھا۔ دران کمرے میں داخل ہوتے ہی وہاں کے منظر پر حیرت سے آنکھیں سکیڑے رکا ۔ وہ آج ابھی سو کر اٹھا تھا اور ٹرایوز شرٹ میں ہی لان میں چلا گیا تھا ۔
” ارے آپ ۔۔ آپ ہی بتائیں نہ بھابھی شام کو کونسا ڈریس پہنیں اس میں سے ۔ “
سبرینا نے چہکتے ہوئے حیران سے کھڑے دران کی طرف رخ پھیرا ۔ وہ ابھی ناسمجھی سے بیڈ پر بکھرے کپڑوں کو دیکھ رہا تھا سبرینا کی بات پر نگاہ جویریہ کی طرف اٹھی ۔ نماز کے بعد سفید فراک میں اس کا نکھرا چہرہ دل کو ٹھنڈک بخش رہا تھا ۔ وہ پریشان سی صورت بنائے کھڑی تھی ۔
” میں کیا بتا سکتا ہوں ۔ جو بھی اسے پسند ہو ۔ “
اس کے چہرے پر نگاہیں جمائے آہستگی سے جواب دیا ۔
وہ تو کنفیوژ ہیں تب سے ۔ اچھا ایسا کرتے ہیں بھابھی آپ کو ان میں سے جو بھی پہنا ہوا اچھا لگے وہ رکھ لینا ٹھیک ہے ۔ آپ ہیلپ کرئے گا ۔ “
جویریہ سے بات کرنے کے بعد وہ دران کی طرف پلٹی ۔ دران نے سر کو دائیں بائیں اثبات میں ہلایا ۔
” اچھا بھابھی پھر میں چلتی ہوں شام کو ملاقات ہوتی ہے ۔ “
سبرینا پرجوش سی جویریہ کو گلے لگا کر پلٹی اور کمرے سے باہر نکل گئی ۔ وہ اب مضطرب سی بیڈ پر رکھے جوڑوں کو دیکھ رہی تھی ۔ دران ٹرایوزر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے صوفے کی طرف بڑھا ۔
وہ بظاہر صوفے پر بیٹھ گیا تھا لیکن بھنویں اٹھائے بار بار چور نگاہوں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا جو بس کپڑوں کو جانچتی نگاہوں سے دیکھے جا رہی تھی ۔
وہ شاید فیصلہ کرنے میں الجھی ہوئی تھی ۔ نچلے لب کو دانتوں میں دبائے وہ فیصلہ نہ کرتی ہوئی اسے دلچسپ لگ رہی تھی ۔ دران نے لبوں پر امڈ آنے والی مسکراہٹ کو روکا ۔ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا اور بیڈ کے پاس آیا ۔ جھکا اور جامنی جوڑے کو اٹھا کر اوپر کر دیا ۔
” یہ اچھا ہے ۔ “
وہ جو سر جھکائے فیصلہ کرنے میں الجھی ہوئی تھی چونک کر سر اوپر اٹھایا ۔
