Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 30)
Rate this Novel
Basil (Episode 30)
Basil by Huma Waqas
دن کو الودع کہتی ایک اور شام بیورلی ہلز میں سایے پھیلا رہی تھی ۔ پہاڑوں کی اؤٹ میں چھپ کر غروب ہونے سے پہلے نارنجی سورج اپنی ترچھی کرنوں سے آس پاس کے آسمان کو رنگ رہا تھا ۔ درانگ ولاس کے اس کمرے کی یہ دیوار جو شیشے کی بنی تھی سفید برآمدے اور نیلے پانی والے سوئمنگ پول سے آگے اس سارے منظر کو واضح کرتی ہوئی کسی سنہری کا منظر پیش کر رہی تھی ۔
کمرے کے وسط میں لگے بیڈ پر وہ گھٹنوں سے ذرا اوپر تک ہلکے نیلے رنگ کے کمفرٹر کو اوڑھے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے ہوئے تھی۔ گود میں دھری کتاب پر نظریں جھکی تھیں ۔ دونوں اطراف کے گال کی ابھری ہڈیاں اور چہرے کی پیلاہٹ بیماری کے بعد کی کمزوری کی عکاس تھی ۔ آنکھیں کھولتی تو یوں لگتا چہرے پر اب یہ بڑی بڑی آنکھیں ہیں صرف ۔
یہ سیاہ گاؤن نما فراک تھا جس پر سرخ پھول بنے تھے جس کے اوپر وہ سرخ شال کو بڑے سلیقے سے کندھوں پر ڈال کر لیپیٹے ہوئے تھی ۔ طبیعت کو سنبھلے دو دن ہو چکے تھے ۔ ایک ہفتے اور تین دن کے بعد اس کے بہت اصرار پر نرس کو رخصت کر دیا گیا تھا جبکہ ڈاکٹر ابھی بھی معائنے کے لیے آتا تھا ۔
دوا کی مقدار اب کم ہو گئ تھی جس کے باعث سر کا بھاری پن بھی کم ہو گیا تھا ۔ طبیعت بہتر ہوتے ہی وہ نماز اور قرآن کی پابندی کرنے لگی تھی جس سے دل پر موجود بھاری پن بھی بہت حد تک کم ہو گیا ۔ اللہ نے اسے نئی زندگی دی تھی اور وہ اللہ کی اس بخشی ہوئی نعمت کا شکر ادا کرنے میں دیر نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
اب بھی عصر کی نماز کے بعد سے اب تک وہ بڑے انہماک سے کتاب پڑھنے میں مصروف تھی۔ اچانک بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز پر سر اوپر اٹھایا ۔ دران کمرے میں داخل ہو رہا تھا۔ ایک سرسری نگاہ ڈال کر پھر سے سر کتاب پر جھکا دیا ۔ پچھلے ایک ہفتے سے دونوں کے درمیان اسی خاموشی کا راج تھا ۔
گہری میرون لیدر جیکٹ کی نیچے سفید ٹی شرٹ اور نیلی جینز پہنے وہ آج معمول کے برخلاف تازہ دم لگ رہا تھا ۔ اس کی وجہ شاید آج شوٹنگ سے جلدی پیک اپ کر جانا تھا ۔ دوپہر کو پیک اپ کے بعد وہ انل کے ساتھ شاپنگ کے لیے نکل گیا تھا ۔
ہاتھ میں پکڑے پیکٹ کو دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتے ہوئے وہ ڈریسنگ روم کے بجائے بیڈ کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ چند سکینڈ کے بعد ہی وہ جویریہ کے سر پر کھڑا تھا جو معمول کے مطابق اس کے وجود سے بے اعتنائی برتے کتاب میں محو تھی ۔
دران نے کچھ دور رکھی کرسی کو پاس کیا اور بیٹھ گیا ۔ وہ اب خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔ دران کی خود پر پڑتی مسلسل نگاہ کی وجہ سے وہ زیادہ دیر کے لیے لاپرواہی نہیں برت سکی ۔ الجھ کر سپاٹ چہرہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔ انداز ایسا تھا جیسے پوچھ رہی ہو ۔ جی کہیے کیا کہنا ہے ۔ وہ تو جیسے اس کے متوجہ ہونے کے انتظار میں تھا ۔
” کیسی طبیعت ہے ؟ “
متوازن لہجے اور بے تکلفی سے پوچھا ۔ میرون جیکٹ میں کھلتا چہرہ اور بھورے بالوں کی ایک طرفہ مانگ نکالے سورج کی کرنیوں کے مخالف بیٹھا وہ اس حسین شام کا حصہ لگ رہا تھا ۔
” اچھی ہوں ۔ “
سپاٹ لہجے میں جواب دیا ۔ وہی بے رخی , وہی روکھا پن ۔
” یہ موبائل لایا تھا میں ۔ “
پیکٹ جویریہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔ بڑا اپنائیت بھرا لہجہ تھا ۔
” مجھے ضرورت نہیں اس کی ۔ “
” تمہیں نہ ہو لیکن میرے لیے ضروری ہے کہ یہ تمھارے پاس ہو ۔ میں نے اس میں اپنے اور انل کے دونوں نمبر سیو کیے ہیں ۔ “
واہ کیا احسان کیا تھا جناب نے ۔ جویریہ نے بنا کچھ کہے پیکٹ تھام کر میز پر رکھ دیا اور بے رخی سے پھر کتاب پر نگاہیں جما دیں ۔ دران ابھی بھی وہیں براجمان تھا ۔
گو کہ دران کا بدلہ رویہ اس سے مخفی نہیں تھا لیکن اسے اس کی ترس کھاتی نگاہوں سے بے چینی ہو رہی تھی ۔
مانا وہ اس کے رحم و کرم پر تھی لیکن وہ کمزور نہیں تھی ۔ اگر وہ موت کے منہ سے واپس آ سکتی تھی تو اتنی مضبوط بھی تھی کہ سامنے بیٹھے اس شخص سے دیوانہ وار محبت کو اپنے اندر ہی دفن کر سکتی تھی ۔
وہ جانتی تھی دران ملک نے ہمیشہ اپنے ارد گرد اس جیسی اور اس سے بھی کہیں زیادہ حسین لڑکیوں کو منڈلاتے آہیں بھرتے اور سب قربان کرتے دیکھا ہے مگر اس کو محبت دران کی صورت اور دولت سے تو نہیں تھی ۔ اس کی محبت اس کے گرد منڈلانے والی لڑکیوں جیسی نہیں تھی ۔
وہ تو محبت میں معرفت کے اس مقام پر تھی جس کو شاید دنیا والے عشق کا نام دیتے تھے ۔ عشق میں عاشق کو محبوب سے واپسی محبت یا چاہت مطلوب نہیں ہوتی ۔
وہ تو تب بھی دران سے محبت کرتی تھی جب اسے یہ تک نہیں معلوم تھا کہ وہ اس دنیا میں ہے بھی یا نہیں تو اب اس کے نکاح میں ہو کر وہ کیسے اس پتھر کے صنم کو دل سے نکال سکتی تھی لیکن اسے اب زندگی میں کسی محبت کے آگے کمزور نہیں پڑنا تھا ۔
ماں باپ کی محبت میں ایک دفعہ کمزور ہو کر اس نے اللہ کو بھلایا تھا لیکن اب دران کی محبت میں کمزور پڑ کر وہ اپنی خداری اور مان کو نہیں گنوانا چاہتی تھی ۔
وہ مان جو ہر مسلمان کو خود پر ہونا چاہیے کہ دنیا کی ہر محبت فانی ہے۔
ہر چیز ہر وجود فانی ہے جو دائم ہے وہ اللہ ہے اور محبت دائم سے کرو تو پچھتانا نہیں پڑتا ۔ اسے بھی بے شک دران سے بہت محبت تھی لیکن اللہ کی محبت کے آگے وہ اس جیسی ہزاروں محبتوں کو چھپا سکتی تھی ۔ وہ سوچوں کے بھنور میں اُلجھی اس کی نگاہوں کو خود پر مرکوز محسوس کر رہی تھی ۔
دران کرسی پر بیٹھا مضطرب حالت میں پیشانی سہلا رہا تھا ۔ اسے اپنے دل سے اس بے ایمانی اور دغا کی ہر گز توقع نہیں تھی کہ وہ چند دن میں ہی کسی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو جائے گا ۔
وہ اسے اچھی لگنے لگی تھی ۔ نہیں بلکہ بے تحاشہ اچھی لگنے لگی تھی ۔ کل تک جو دل چاہتا تھا وہ خاموش رہے آج وہی دل چاہتا تھا وہ اس سے باتیں کرے ۔ اس کی مدھر آواز سننے کو کان ترس گئے تھے اور وہ تھی کہ ایک ہفتے سے اس سے بات کرنا تو دور اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کر رہی تھی ۔
دران ملک نے آج سے پہلے اپنے آپ کو اور اپنے دماغ کو اتنا بے بس نہیں پایا تھا ۔ وہ اس لڑکی کی سوچ تک کبھی نہیں پہنچ پاتا تھا اور اب تو شدت سے دل چاہتا کہ وہ جان سکے کہ جویریہ اس کے بارے میں کیا سوچتی ہے ۔
وہ زندگی میں پہلی بار ذہنی اور دلی طور پر کسی انسان کی محبت میں اس بری طرح گرفتار ہوا تھا لیکن ازلی انا اور خود کی ناقابل برداشت عادتیں آڑے آ رہی تھیں ۔
وہ بہت الجھا ہوا انسان تھا ۔ اپنی شناخت اپنی کھوج میں بھٹکا ہوا جسے خود کے غصے پر قابو نہیں رہتا تھا ۔ اس سے جڑا ہر رشتہ ہمیشہ اس سے دور ہو جاتا تھا ۔
وہ جس نے آج تک کسی سے معافی نہیں مانگی تھی وہ اس سے اپنے کیے کی معافی مانگنا چاہتا تھا لیکن الفاظ تھے کے زبان تک آ کر ساتھ چھوڑ رہے تھے ۔
” جویریہ ۔۔۔”
اپنی سوچوں سے جھگڑتے بے ساختہ وہ اس کا نام پکار گیا ۔ جویریہ نے کتاب پر جھکا سر اوپر اٹھایا ۔ وہ شاید کچھ کہنا چاہ رہا تھا ۔
” وہ۔۔۔۔ اس دن میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا تھا ۔ لاک عادتاً دو دفعہ گھما دیا اور میرا ارادہ اتنی دیر باہر رہنے کا نہیں تھا ۔ “
یہ دران ملک ہی تھا ۔ شائستہ نادم لہجہ وہ اب دونوں ہاتھوں کو آپس میں ملائے کہنیوں کو گھنٹوں پر ٹکائے اپنی صفائی دے رہا تھا ۔
” آپ کو صفائی دینے کی ضرورت نہیں ۔ غلطی میری ہی تھی ۔ آپ نے پہلے دن سے ہی کہہ دیا تھا میں بلا ضرورت آپ سے بات نہ کروں لیکن میں باز نہیں آئی تو اس کی سزا تھی اب آئیندہ سے خیال ۔۔۔”
” نہیں میری غلطی تھی ۔ میں بہت غصہ کر گیا تھا ۔ دراصل مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔ سوری ۔ “
جویریہ کی بات فوراً کاٹ کر وہ تیزی سے اپنی بات مکمل کر گیا ۔ ایک گہری نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی ۔
پر سکون چہرہ , وہ چہرہ جو اب اسے دنیا کا سب سے حسین چہرہ لگنے لگا تھا ۔ وہ گھر میں ہوتا یا شوٹنگ میں ہر پل وہ اسکی نظروں کے آگے گھومتا رہتا تھا ۔
” اٹس اوکے ۔ “
وہ سپاٹ لہجے میں مختصر جواب دینے کے بعد بے نیازی سے نگاہیں کتاب پر جھکا چکی تھی ۔ اس کا یوں فوراً معاف کر دینا دران کو بری طرح بے چین کر گیا ۔ کم از کم وہ اسے اس بات پر کھری کھری سنا سکتی تھی لیکن اس نے تو دو لفظوں میں ہی بات ختم کر دی ۔
” تھنکیو۔ “
دران نے لب بھینچے آہستگی سے کہا اور پھر اٹھ کر ڈریسنگ روم کی طرف قدم بڑھا دیے جبکہ وہ اب اس کی پشت کو گھور رہی تھی ۔
☆☆☆☆☆
صبح کے گیارہ بجے ناشتے کے فوراً بعد درانگ ولاس کے سٹنگ روم میں اس وقت تین نفوس موجود تھے ۔ روبی , اسفند ملک اور برھان ۔
برھان ان دونوں کو ناشتے کے بعد یہاں سٹنگ روم میں کوئی خاص بات کرنے کے لیے لایا تھا اور پھر اس نے جو خاص بات کی وہ باقی دونوں نفوس کے سروں پر بمب کی صورت پھٹی ۔
روبی ایک دم صوفے پر سے اٹھی ۔ وہ ایک سال سے چھپ کر کسی مارلین نامی ماڈل کو ڈیٹ کر رہا تھا اور اب اس سے شادی کرنے کی نہ صرف خواہش ظاہر کر رہا تھا بلکہ بتا رہا تھا کہ وہ شادی کرنے جا رہا ہے ۔
” تمھارا دماغ ٹھیک ہے کیا ؟ پتا بھی ہے کہ کہہ کیا رہے ہو؟ “
” اب ایسی بھی کیا انوکھی بات کر دی میں نے ؟ “
برھان نے کندھے اچکائے ۔ روبی تلملا کر اس تک پہنچی اور غصے سے گھورتی ہوئی اس کے سامنے کھڑی ہوئی ۔
” انوکھی ! ” بھنویں استہزائیہ اکٹھی کیں ۔
” تمہیں شرم نہیں آئی یہ بات کرتے ہوئے جبکہ تم جانتے ہو سبرینا تمہارے ساتھ منسوب ہے ۔ بلکہ ہم تو تم دونوں کی شادی کے لیے اس کے ایگزیم ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور تم ہمیں یہاں کھڑے ہو کر اپنی عاشقی کے قصے سنا رہے ہو ۔ “
” مما ۔۔۔ مما ۔۔۔ کول ڈاون میں نے کب کہا کہ میں سبرینا سے شادی نہیں کروں گا میں اس سے بھی شادی کروں گا ۔ لیکن یہ شادی میرے کیریر کے لیے بہت ضروری ہے ۔ مارلین کی وجہ سے مجھے ایک بہت بڑی فلم مل رہی ہے۔ “
بڑے اعتماد سے وہ ایک کے بعد دوسرا جھوٹ بول رہا تھا۔ سبرینا اس کی بچپن کی محبت تھی جسے وہ کسی صورت نہیں چھوڑ سکتا تھا لیکن وہ ابھی اس شادی کی اصلی حقیقت سے کسی کو آگاہ نہیں کر سکتا تھا ۔
” دوسری شادی ۔ برھان سبرینا تمھاری پسند تھی ۔ “
” تھی نہیں اب بھی ہے لیکن میرا تعلق شوبز سے ہے مجھے اپنے کیریر کو بھی دیکھنا ہے۔ مارلین ایک بہت مشہور ماڈل ہے اور آنے والے دنوں میں ایک کامیاب فلم سٹار ہو گی ۔ میں اگر اس کے ساتھ خبروں میں اَن ہو گیا تو سمجھو راتوں رات شہرت میرے قدموں میں ہو گی ۔ “
وہ پرجوش لہجے میں ہاروی اور بروس کی تیار کردہ کہانی دہرا رہا تھا ۔
” بکواس بند کرو اپنی ۔ تم سمجھتے کیا ہو خود کو ۔ اور کونسی فلم ؟ “
اسفند ملک جو اس وقت سے ضبط کے عالم میں کھڑے تھے غصے سے روبی کے برابر آ کھڑے ہوئے۔
” تم آجکل ہو کن ایکٹیویٹز میں ۔ مجھ سے بنا پوچھے اپنا پی اے بدل لیا ۔ سیریز کی شوٹنگ پر وہ نہیں جا رہے اور اب یہ ماڈل ؟ کل تک تو ایسی کوئی بات نہیں تھی ۔ ہو کیا گیا ہے تمہیں ؟ “
” میں اب ٹی وی ایکٹر بن کر نہیں رہنا چاہتا بابا ۔ میں نے ایک فلم سائن کی ہے اور آپ دران کو تو کچھ نہیں کہتے ۔ اس نے بھی تو یوں اچانک شادی کی اپنی مرضی سے ۔”
گردن اکڑا کر نخوت سے منہ پھیرتے ہوئے کہا ۔ اب کی بار اسفند ملک کی پیشانی پر حیرت کے شکن نمودار ہوئے ۔ روبی کا تو منہ کھل گیا تھا ۔
” دران ہمارا بیٹا نہیں ہے سمجھے۔ اس پر ہم کوئی حق نہیں جتا سکتے لیکن تم ہماری اولاد ہو اور یہ فلم ؟ “
فلم کی بات پر اسفند ملک کی حیرت اب بھی قائم تھی ۔
” ہاں فلم اور خبردار اگر آپ دونوں میں سے کسی نے یہ بات دران کو پتا چلنے دی وہ تو ویسے ہی مجھے آگے بڑھتا نہں دیکھ سکتا ۔ “
ان دونوں کی حیرت پر کوٹ کو ایک جھٹکا دیتا ہو ئے کہا ۔ روبی نے دانت پیسے اور ناک غصے سے بھینچی ۔
” فلم کرو جو بھی کرو ۔ لیکن شادی تمھاری صرف سبرینا سے ہی ہو گی ۔ “
” میں شادی مارلین سے ہی کروں گا آپ کو جو کرنا ہے کریں ۔ “
وہ ترکی بہ ترکی گردن اکڑا کر جواب دیتا باہر نکل گیا ۔ روبی نے فوراً سر کو ایک ہاتھ سے تھام لیا ۔
” اف یہ لڑکا اب میں سونیا کو کیا منہ دکھاؤں گی ۔ “
” کچھ نہیں ہو گا ۔ بے فکر رہو ۔ بیورلی ہلز میں ایک فلیٹ تک لینے کی حیثیت نہیں اس کی اور دران اسے سبرینا کو دھوکا دینے پر درانگ ولاس میں رہنے نہیں دے گا ۔ “
اسفند ملک نے آنکھوں کو چندھی کیے بڑے وثوق سے کہا ۔
” بے فکر رہو میں کرتا ہوں دران سے بات ۔ “
روبی کے پریشان چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے تسلی دی ۔
☆☆☆☆☆
“فون چھین اس منحوس سے ۔ ‘”
ایک زور کا دھکا پڑا تھا اور وہ لڑکھڑاتی ہوئی فرش پر جا گری ۔ ناک سے اور منہ سے خون بہہ رہا تھا ۔
حنا کا فون سننے کے بعد وہ کچھ دیر تو گو مگو کیفیت میں کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی۔ حنا اسے یہاں سے بھاگنے کے لیے کہہ رہی تھی ۔ یہ کوئی شادی نہیں تھی یہ سودا تھا ۔ اس کے ماں باپ کو بھاری رقم دینا ۔ اسے اپنے ساتھ باہر لے جانا یہ سب عنایت نہیں تھی ۔ یہ بہت بڑی چال تھی جس کے پیچھے ایک گروہ کام کر رہا تھا ۔ ایک ایک کر کے اسے ساری بات سمجھ آنے لگی تھی ۔
اسے یہاں نہیں رہنا تھا اور بچنے کی راہ فرار یہیں اپنے ملک میں ہی تھی ۔ وہ فوراً کپڑوں کی الماری کی طرف لپکی تھی ۔
کچھ ہی دیر میں کانپتے وجود کے ساتھ وہ اپنی چیزیں سمیٹ کر بنگلے کے بیرونی گیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی لیکن بد قسمتی ایسی کہ دروازہ کھولنے کے بعد جیسے ہی وہ گیٹ پھلانگی گارڈ کی آنکھ اسی لمحے کھل گئی ۔
وہ اندھا دھند سڑک پر بھاگنے لگی ۔ ابھی ڈیفنس کی سڑکوں پر بھاگتے چند منٹ ہی گزرے تھے جب جیپ پر سوار ان وحشیوں نے اسے ڈھونڈ بھی نکالا ۔
وہ تین آدمی تھی ایک اس بنگلے اور گروہ کا مالک ایک گارڈ اور تیسرا لی تاو ۔ ان لوگوں نے خوب مارنے کے بعد اسے واپس بنگلے کے تہہ خانے میں لا پٹخا تھا ۔
” اب جب تک چین نہیں جاتے اسے باقی لڑکیوں سے الگ رکھنا ہے ۔ “
گروہ کے مالک نے غراتے ہوئے اپنے ساتھ کھڑے آدمی کو حکم صادر کیا ۔ ایک طرف پریشان حال لی تاؤ خونخوار نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا۔
” فکر نہ کریں صاب جی اس کی ٹانگیں نہ توڑ دیں گے اب اگر بھاگنے کی کوشش بھی کی اس نے ۔ “
” ہاں احتیاط کے ساتھ ۔ اب اس کی فلائٹ بھی چینج کرنی پڑے گی ۔ نہیں تو یہ کتیا باقی سب لڑکیوں کو بھی اگل دے گی ۔”
” سر وہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہو جائے گی ۔ پر اس کے گھر والے ۔ وہ فلائٹ میں اس سے ملنے کے لیے آئے تو ۔ “
” ان کو میں سنبھال لوں گا ۔ کہہ دیں گے اریجنٹ نکلنا پڑا چلو اب یہ سڑے یہیں پر کل سارا دن اسے کھانا نہیں دینا ۔ “
وہ خباثت سے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔ پاس کھڑے آدمی نے سر اثبات میں ہلایا اور پھر وہ تینوں زینے کی طرف چل دیے ۔
” سمجھ میں یہ نہیں آ رہا اس کو شک کیسے ہوا ہم پر ۔ سالی منحوس کچھ بتا بھی نہیں رہی ۔”
وہ تینوں اب تہہ خانے کی سیڑھیاں چڑھتے محو گفتگو تھے ۔ اور وہ فرش پر لیٹی پیٹ کو تھامے کراہ رہی تھی ۔ یہ زندگی میں پہلی ایسی مار تھی جو اس نے کھائی تھی ۔
تہہ خانے کا دروازہ بند ہوتے ہی گھپ اندھیرا چھا گیا تھا اور اس وقت وہ اس بات سے انجان تھی یہ اندھیرا اسے کہاں سے کہاں لے جائے گا ۔
☆☆☆☆☆
گہری نیلی بوگاٹی ایٹلانٹک متوازن رفتار میں بیورلی ہلز کی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی ۔ ہمیشہ کی طرح وہ اپنی لاڈلی کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے ہوئے تھا ۔
گرے کوٹ پنٹ میں ملبوس سٹیرنگ پر ہاتھ جمائے وہ بظاہر انل کی باتیں سن رہا تھا لیکن دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا ۔ جویریہ اس سے بات نہیں کر رہی تھی ۔ وہ چاہتا تھا وہ پہلے کی طرح اس سے باتیں کرے مسکرائے لیکن وہ یکسر بدل گئی تھی ۔
” بے فکر رہو ۔ جیسیکا بہت سمجھدار ہے ۔ نک تو کیا اب وہ اور کسی لڑکے پر بھی اعتبار نہیں کرے گی ۔ وہ اچھی لڑکی ہے نک اس کا کولیگ تھا اور اس دن ان کی وہ فرسٹ ڈیٹ تھی ۔ “
انل سیاہ سوٹ میں ملبوس ہاتھ ہوا میں ہلاتے ہوئے اسے اپنی اور جیسیکا کی ملاقاتوں اور نک کی معلومات کے متعلق بتا رہا تھا ۔
” ویسے بہت تیز دماغ ہے اس کا بھی ۔ شک کر رہی تھی مجھ پر کہ تم جانتے ہو مجھے پہلے سے ۔ ارے میں تو پہلے ڈر گیا کہ پکڑ لیا اس نے کہ ہم ہی ہیں جو ہر مہینے پیسوں کا پیکٹ اس تک پہنچاتے ہیں ۔”
بات کرتے کرتے وہ دران کی طرف گردن موڑے ہنسا لیکن اس کی پیشانی پر بل اور اترا چہرہ دیکھ کر انل کی ہنسی کو فوراً بریک لگی ۔
” دران کیا ہوا ؟ “
فکرمندی سے پوچھا ۔ دران نے جواب دینے کے بجائے بس ایک نگاہ ڈالنے پر اکتفا کیا ۔ اسے کیا بتاتا کہ دل نے ایسی کی تیسی کر رکھی تھی ۔
” کچھ دن سے دیکھ رہا ہوں تم پریشان ہو ؟ “
” نہیں ۔”
سنجیدہ لہجے میں مختصر جواب دے کر جان چھڑائی ۔
” ہو تو۔ اب مجھ سے تو نہ چھپاؤ ۔ کیا بات ہے ؟ تم نے خود ہی تو بتایا کہ جویریہ نے معاف کر دیا پھر اور کیا بات ۔۔۔”
” ایسی کوئی بات نہیں۔ بلاوجہ کے وہم مت پالو اور پلیز ابھی کوئی مما , ڈیڈی نہ بننا میرے ۔ “
” اوکے اوکے غصہ مت کر ۔ “
انل نے ہاتھ کھڑا کیے اسے غصہ نہ کرنے کا کہا وہ تو بھڑک ہی گیا تھا ۔ گو کہ وہ زیادہ بولتا نہیں تھا لیکن اس کی یہ گو مگو کیفیت عجیب تھی ۔
” اچھا وہ فلم کی تو شوٹنگ لاسٹ پر ہے تو بروس کا جویریہ سے سامنا کب کروانا ہے ؟ “
کچھ منٹ کی توقف کے بعد انل نے موضوع بدلتے ہوئے اگلا سوال کیا ۔
” نہیں کروانا ؟ “
سپاٹ لہجے میں سامنے نگاہیں جمائے جواب دیا ۔ وہ بروس اور جویریہ کا سامنا کروانا چاہتا تھا جہاں جویریہ اسے اس کے سامنے بتاتی کہ بروس ہی وہ آدمی تھا جس نے اسے زبردستی اس دن کمرے میں بھیجا تھا پھر رنگے ہاتھوں وہ بروس کا گریبان پکڑ لیتا اور خود پر کی گئی پلینگ کا منہ توڑ جواب دیتا کیونکہ فلم ختم ہونے کے بعد ہی وہ یہ سب کرنا چاہتا تھا اور اب فلم اپنے اختتام پر تھی ۔ دران کے جواب پر انل نے حیرت سے اس کے چہرے کو بغور دیکھا ۔
” مطلب ! پہلے تو یہی پلین تھا نہ تمھارا کہ ۔ ۔۔۔”
” ہاں پہلے تھا لیکن اب نہیں ۔ کیا ضرورت ہے یہ سب کر کے ان لوگوں کو پھر سے جویریہ کی یاد دلانے کا ۔ وہ لوگ پرسکون ہو گئے ہیں تو بس ٹھیک ہے سب ۔ “
طمانیت سے سبب بتایا ۔ وہ اب جویریہ کو کسی طرح بھی استعمال میں نہیں لانا چاہتا تھا ۔ محبت بھی عجیب مرض ہوتا ہے ۔ کل تک اسے جویریہ ایک مہرہ لگتی تھی جس پر اگر اس نے احسان کیا تھا تو وہ بھی اس کے کسی کام آنے والی تھی لیکن آج وہ اسے کسی قیمتی چیز کی طرح سب کی نظروں سے بچا کر رکھنا چاہتا تھا ۔ اس کے لیے وہ ہاروی اور بروس کے خلاف اپنی اندر جلتی بدلے کی آگ تک بجھا چکا تھا ۔ دران کے جواب پر انل نے شاکی نگاہوں سے اس کے سراپے کا جائزہ لیا ۔
” یہ بھی ٹھیک ہے ۔ “
گہری سانس لے کر پرسوچ لہجے میں اس کی بات کی تائید کی اور پھر ایک آبرؤ چڑھائے اس کی طرف دیکھا۔ دران سنجیدگی کے سبھی ریکارڈ توڑے ڈرائیونگ میں مگن تھا ۔ اس دن ریسپیشن پر دران کی جویریہ کے لیے دلچسپی کو تو اس نے بہت ہلکا لیا تھا لیکن اب اس کی یہ مجنوں جیسی حالت , جویریہ کے لیے یہ فکر اس نے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی ۔
” اچھا پھر یہ شادی کب ختم کرنی ہے ؟ “
انل نے گلا کھنکارتے ہوئے معنی خیز لہجے میں سوال کیا ۔ دران کی گڑبڑاہٹ مخفی نہیں رہی تھی لیکن وہ بہت بڑا ادکار تھا فوراً اپنی حالت کو سنبھالا۔ انل نے اپنے سوال کی مزید وضاحت پیش کی ۔
” تم اسے پبلک کے سامنے لائے ہی نہیں ۔ سب کے سامنے لاؤ۔ خبروں میں آؤ پھر ہی اسے چھوڑنا ڈرامہ نہیں لگے گا ۔ “
” اس سب کی بھی ضرورت نہیں ۔ “
نگاہیں چراتے ہوئے جواب دیا ۔ انل نے بمشکل اپنی ہنسی کو لبوں میں دبایا ۔
” مطلب تم نہیں چھوڑ رہے اسے ؟ “
” میں نے ایسا کب کہا ۔ برھان اور سبرینا کی شادی ہے نیکسٹ ویک ۔ اس کے بعد سوچتا ہوں کچھ۔ “
فوراً ماتھے پر بل ڈالے جواب دیا ۔
” اوہ ہاں ۔۔ یہ تو میں بھول ہی گیا ۔ ٹھیک ہے اس کے بعد ڈائیورس پیپر تیار کرواتے ہیں ۔ “
گاڑی کی رفتار اچانک تیز ہوئی تھی ۔ انل نے بے اختیار امڈ آنے والی ہنسی کو چھپانے کی خاطر چہرے کا رخ کھڑکی کی طرف موڑ لیا ۔
دران ملک عرف درانگ بے شک تمھارا یہ جگری تمھاری طرح سب کی سوچ پرکھنا نہیں جانتا لیکن جانِ من , جان ِ جگر تمھارے دل میں کیا چل رہا ہے یہ جاننا انل یوسف کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔
سڑک پر بھاگتی دوڑتی ٹریفک پر نگاہیں جمائے وہ اپنی دلفریب مسکراہٹ کو گہرا کر گیا ۔
☆☆☆☆☆
سیاہ گاڑی سست روی سے درانگ ولاس کے کھلے گیٹ سے اندر داخل ہو رہی تھی ۔ گرے رنگ کے بند گلے والے سویٹر میں ملبوس وہ گاڑی کی پچھلی نشت پر براجمان تھا ۔
آج اس نے دوپہر کو ہی زبردستی شوٹنگ کا پیک اپ کروا دیا تھا ۔ انل کو کچھ شاپنگ کرنی تھی اسے مارکیٹ چھوڑنے کے بعد وہ سیدھا گھر آ گیا تھا ۔ وہ موبائل پر نگاہیں جمائے بیٹھا تھا جب ڈرائیور نے اس کی طرف کا دروازہ کھولا ۔ موبائل سکرین کو بند کرتے ہوئے جیسے ہی وہ گاڑی سے باہر نکلا نگاہ سامنے لان میں موجود جویریہ اور روزین پر پڑی ۔ قدم وہیں ٹھٹک کر رکے۔
محترمہ بھورے رنگ کے لمبے کوٹ میں ملبوس سر پر سکارف اوڑھے , مزے سے سوئمنگ پول کے قریب لگی کرسی پر براجمان روزین کی کسی بات پر مسکرا رہی تھیں ۔
جہاں دران کے چہرے کی سختی بڑھی وہیں پیشانی پر فکرمندی کے بل پڑے ۔ فریڈ نے ابھی اسے کمرے سے باہر کے درجہ حرارت میں نکلنے سے منع کیا تھا ۔ اس کے دماغ کی جھلی ابھی اتنے زیاہ کم درجہ حرارت کو برداشت نہیں کر سکتی تھی ۔
دران سختی سے لب بھینچے تیز تیز قدم اٹھاتا چند سکینڈ میں ہی اس کی کرسی کے پاس اس کے سر پر کھڑا تھا وہ آج یوں اچانک دران کے جلدی آ جانے پر گھبرا گئی تھی ۔
” یہاں کیا کر رہی ہو تم ؟ کمرے سے باہر کیوں نکلیں ؟ “
غصے میں بھرا وہ ایک ہی سانس میں تابڑ توڑ سوال کر گیا ۔
” پتا ہے نہ باہر کتنی سردی ہے ۔ “
اونچی آواز میں ڈانٹا ۔ جویریہ نے کانپ کر آنکھیں بند کی لیکن اگلے ہی لمحے چہرہ پراعتمادی سے اوپر اٹھایا ۔
” مجھے کمرے میں گھٹن ہو رہی تھی اور گرم کوٹ پہنا تو ہے ۔ “
” گھٹن ۔۔۔ مائی فٹ “
وہ اب غصے سے روزین کی طرف پلٹا ۔
” روزین آپ کیوں لے کر آئیں اسے باہر جب میں نے منع کیا تھا آپکو کہ جتنا بھی کہیں ان کو باہر نہیں لانا ابھی ۔ “
روزین نے گھبرا کر سر نیچے جھکایا
” اس کا کوئی قصور نہیں ۔ اس پر غصہ مت کریں۔ میں خود باہر آئی ہوں ۔ اتنا کیوں چیخ کر تماشہ کر رہے ہیں کچھ نہیں ہو گا مجھے ۔”
جویریہ نے روزین کی شرمندگی پر فوراً رعب سے وضاحت دی ۔
” میں تم سے بات نہیں کر رہا ۔ “
دانت پیسے غصیلی نگاہ اس پر ڈالی جس کی جان اب بہت عزیز تھی ۔
” اور روزین آپ ۔۔۔۔جب تک فریڈ پرمیشن نہیں دیتا یہ کمرے سے باہر نہیں آنی چاہیے ۔ فوراً اسے کمرے میں لے کر آئیں ۔ “
غصے میں بھاری ہوتی آواز میں ڈانٹ کر کہا اور پھر قدم داخلی دروازے کی طرف بڑھا دیے ۔
” اچھی دھونس ہے جیسے میں اور میری ہر سانس نواب کی غلام ہو ۔ ” دران کی پشت کو غصے میں گھورتی وہ روزین کی طرف پلٹی ۔
” روزین سو سوری تمہیں میری وجہ سے ۔۔۔۔ “
” میم کوئی بات نہیں بلکہ مجھے بہت خوشی ہوئی سر کو یوں کسی ایک رشتے کے لیے فکر مند ہوتا دیکھ کر ۔ دراصل وہ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ “
روزین نے مبہم سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے کہا ۔
” ہوں “
ناک پھلائے آہستگی سے ہنکارا بھرا ۔
” چلیں اندر چلتے ہیں ۔ “
روزین نے ہاتھ کے اشارے سے چلنے کے لیے کہا ۔ جب وہ کمرے میں پہنچی دران واش روم میں تھا شاید ۔ غصے سے اس طرف گھور کر دیکھتی , پیر پٹختی بیڈ پر آئی اور بیٹھ گئی ۔
یہاں کے ڈاکٹر بھی عجیب تھے دو ہفتے ہونے کو آئے تھے اب تک اتنی احتیاط وہ تنگ آ گئی تھی ۔
غصے سے اس حسین پنجرے پر نگاہ گھمائی جہاں وہ قید ہو کر رہ گئی تھی ۔
اچانک سے ناک میں خارش کا احساس ہوا ۔ اور پھر آنکھوں میں پانی اکٹھا ہونے لگا ۔ اسے چھینک آ رہی تھی ۔ جیسے ہی دران واش روم سے باہر نکلا وہ پورا منہ کھولے ہوئے تھی ۔
” آ چھیں ۔ں۔ں۔ں۔ں۔ں”
