Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 36)

Basil by Huma Waqas

یہ مدھم سی پروجیکٹر کی روشنی میں ڈوبا ہال تھا جس میں اس وقت سٹیج پر ایک طرف لگے میز پر پانچ نفوس ایک قطار میں لگی نشستوں پر براجمان تھے اور ان کے سامنے شیشے کا شفاف میز پر پانی کی بوتلیں اور گلاس پڑے تھے ۔

سٹیج کے بالکل سامنے مخصوص فاصلوں پر سولہ نشستیں ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں اور ہر کرسی کے آگے ایک چھوٹا میز تھا اور ہر نشست پر چوڑے کندھوں اور مضبوط جسم کے حامل اکیس بائیس سال کے سولہ جوان کلین شیو , سپاٹ چہرے , تنے سینے اور گردنیں لیے ربوٹ کی مانند بیٹھے تھے ۔

سٹیج پر بیٹھے نفوس ان سے بالکل مختلف تھے ۔ سیاہ کوٹ پینٹ میں ملبوس وہ چالیس سال کے لگ بھگ عمروں کے اور پرسکون آہستہ آواز میں ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھے ۔ اچانک ہال کا داخلی دروازہ کھلا ۔

ایک دم سے قبرستان جیسی خاموشی چھائی اور ہال میں موجود تمام نفوس تیر کی طرح اپنی جگہوں سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ سٹیج کی طرف بڑھتے دو قدم پروقار انداز میں اب سٹیج کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے ۔

سٹیج پر چڑھنے کے بعد وہ نفس اب مائک کو سنبھال چکا تھا ۔ مائک کے سامنے کھڑے شخص کی شخصیت کسی بھی تعارف کی متحاج نہیں تھی ۔ اس عمر میں بھی مضبوط جسم اور رعب دار شخصیت کے مالک ابراہیم خان آفریدی گردن کو اٹھائے ایک اچٹتی نگاہ ہال پر ڈال رہے تھے جہاں سٹیج کے بالکل سامنے چند فاصلوں پر رکھی گئی نشستوں پر براجمان سب لڑکے ان کے داخل ہوتے ہی سینہ تانے کھڑے ہو چکے تھے ۔

ابراہیم خان آفریدی کی پشت پر چلتی پروجیکٹر سکرین پر بڑے سیاہ حروف میں لکھے لفظ جگمگا رہے تھے ۔

” اینٹی نارکوٹکس فورس ایجینسی ” اور ان حروف کے سامنے کھڑا شخص اینٹی نارکوٹکس فورس کا منسٹر ابراہیم خان آفریدی تھا ۔ اس کی شیر جیسی نگاہ سامنے کھڑے سولہ لڑکوں پر جمی تھی ۔

” ویلکم ٹو اے ۔ این ۔ ایف سکریٹ انوسٹیگیشن ابروڈ سنٹر ( خوش آمدید اے این ایف خفیہ تحقیقات غیر ملکی سنٹیر میں ) “

رعب دار آواز مائک میں سے ہو کر ہال میں گونجی ۔ سٹیج پر موجود پانچ نفوس میں سے میجر جنرل عاطف ملک نے نگاہ اٹھائی اور پھر ہاتھ کو ہوا میں اٹھائے ہلکی سی جنبش دی ۔ اشارہ بیٹھنے کا تھا غالباً ۔ تمام لڑکے اشارہ ملتے ہی حکم کی تعمیل کے طور پر نشستوں پر بیٹھ گئے ۔

” آپ سب کو یہ تو پتا چل ہی گیا ہے کہ آپ وہ سولہ جوان ہیں جن کو سویلین (civilian ) ٹیسٹ کے ذریعے منتخب کیا گیا ہے ۔ “

ابراہیم خان آفریدی کی بارعب آواز ہال کی خاموشی کو چیرتی ہوئی سب کے کانوں میں پڑ رہی تھی ۔

” آج یہاں پورے چھ ماہ کی کڑی ٹرینگ کے بعد ہم نے تیس جوانوں میں سے آپ سولہ لوگوں کو ایک خاص پوسٹ کے لیے سیلیکٹ کیا ہے ۔ “

سب لڑکوں کی تنی گردنوں میں اور آنکھ کی پتلیوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی ۔

” آپ سولہ جوان ایجنسی کے خفیہ سلیپر سیل پوسٹ کے لیے منتخب کئے گئے ہیں ۔ یہ ہماری خفیہ ایجینسی کی سب سے حساس پوسٹ ہے جو ایک طویل اور تھکا دینے ولے عرصے پر مشتمل ہوتی ہے ۔ “

ابراہیم خان کی آخری بات پر سولہ لڑکوں میں سے پندرہ لڑکوں کی آنکھوں میں ہلکا سا متحیر پن جھلکا ۔

” یہ عرصہ سالوں پر مشتمل ہو سکتا ہے جس میں ہم آپ کی اس ذاتی زندگی میں کہیں بھی مداخلت نہیں کریں گے لیکن آپ پر کڑی نظر ہو گی ۔ آپ دنیا کی نظر میں ایک عام شہری ہوں گے لیکن آپ کی بھرتی ہم کچھ خاص پیشوں میں اپنے خفیہ ذرائع سے کروائیں گے ۔ “

ابراہیم خان نے اپنے مضبوط ہاتھوں کو آپس میں ملایا ۔ اور نگاہ ایک سکینڈ کے لیے جھکا کر پھر سے اٹھائی ۔

” ان پیشوں میں آپ ایک عام شہری کی طرح ملازمت کریں گے لیکن یہاں منشیات سے متعلق حساس معلومات ہم تک پہنچائیں گے ۔ یہ یاد رکھیں آپ ہمارے لیے اُس وقت تک کارآمد ہیں جب تک آپ کی اصل پہچان سب سے چھپی ہوئی ہے ۔ از اٹ رائٹ “

” یس سر “

ایک ساتھ فضا کو چیرتی ہوئیں جوان آوازیں گونجیں ۔

” آپ سب کے سامنے میز پر موجود فائلز ہیں ۔ ان میں سب کے ملکوں کے اور ان کے منسلک ہونے والے پیشوں اور اداروں کے نام ہیں ۔ “

ابراہیم خان نے ہاتھ کے اشارہ ان سب کے آگے لگی میزوں کی طرف کیا جہاں ایک ایک خاکی فائل موجود تھی ۔

” اوپن اٹ ۔ “

سب نے ایک ساتھ ہاتھ بڑھا کر فائل کو کھولا ۔ اور نگاہ سامنے لکھے لفظوں پر دوڑائی ۔ سفید رنگ کے کاغذ پر ٹائپ شدہ الفاظ میں لکھا ملک کا نام اس کے وجود کو پل بھر کے لیے ساکن کر گیا ۔

” یونائیٹڈ سٹیٹ آف امریکہ “

سیاہ ٹائپ شدہ لفظوں میں لکھا ملک کا نام وہ بار بار پڑھ رہا تھا ۔

☆☆☆☆

شیشے کے میز پر رکھے لیپ ٹاپ کی سکرین پر چلتی فوٹیج کا منظر کچھ یوں تھا کہ دران سیاہ ہڈ زیب تن کیے بیکری میں داخل ہو رہا تھا ۔ ہڈ کی بڑی ٹوپی اور سیاہ چشمے میں وہ اپنے چہرے کو اس حد تک چھپائے ہوئے تھا کہ اس کی پہچان بے حد مشکل تھی ۔

انل میز کے بالکل سامنے ہاتھ میں کافی کا مگ تھامے , صوفے پر براجمان بڑے مزے سے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا تھا ۔ یہ جیسیکا کے اپارئٹمنٹ کا لاونج تھا جہاں اس وقت جیسیکا نے اسے جاسوسی کی شروعات کے لیے بلایا تھا ۔ آج چھٹی کا دن تھا اور وہ صبح دس بجے ہی اس کے گھر میں موجود تھا ۔

وہ اسے لیپ ٹاپ پر دران کے کچھ کٹ شدہ فوٹیج دیکھنے کے لیے دے کر گئی تھی ۔ یہ فوٹیج بیکری کے دروازے اور کچھ گیلری کے تھے ۔ کسی بھی فوٹیج میں دران کا چہرہ واضح نہیں تھا ۔ انل بڑی تسلی بخش انداز میں بیٹھا تھا کیونکہ جیسیکا کے پاس دران کی کھوج کے لیے اب تک کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا ۔

وہ یونہی کافی کے گھونٹ بھرتا مختلف فوٹیج کو بار بار دیکھ رہا تھا جب اچانک قریب سے جیسیکا کی آواز سنائی دی ۔

” یہ پیکٹ ہے جو مجھے اس کی طرف سے پچھلے مہینے ملا ۔ اس کو میں نے کھولا ہی نہیں تھا ۔ “

جیسیکا نے ایک پیک شدہ لفافہ انل کے سامنے میز پر رکھا اور خود قریب کے صوفے پر براجمان ہوئی ۔ انل نے چونک کر لیپ ٹاپ سکرین سے نگاہ ہٹائی اور پیکٹ کی طرف دیکھا ۔ یہ وہی پیکٹ تھا جو پچھلے مہینے وہ اور دران بیکری میں اس تک پہنچا کر آئے تھے ۔

وہ نا صرف کمرے سے وہ لفافہ لے کر واپس آئی تھی بلکہ اس کی تیاری سے لگ رہا تھا کہ وہ کہیں باہر جانے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ سیاہ گھٹنوں تک آتی سکرٹ پر سفید ٹاپ پہنے سیلقے سے بالوں کو کندھوں پر ڈالے ہمیشہ کی طرح دلکش لگ رہ تھی ۔ انل نے ایک اچٹتی نگاہ پہلے اس کی تیاری پر اور پھر پیکٹ پر ڈالی ۔

” ہاں لیکن اس سے کیا ہو گا ؟ “

” ہو گا کیوں نہیں ہو گا ۔ تم کرو گے نہ ؟ “

وہ دلفریب انداز میں مسکرائی ۔ چمکتی گلوسی گلابی لپ سٹک سے مزین ہونٹ اس کو ہوش ربا حد تک حسین بنا رہے تھے ۔

” مطلب ؟ “

انل نے نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھا ۔

” مطلب یہ کے اس سے مجھے اس کے فنگر پرنٹس ملیں گے ۔ “

اس کی وثوق سے کہی گئی بات پر انل بے ساختہ قہقہ لگا گیا ۔ وہ تیوری چڑھائے اب انل کی طرف دیکھ رہی تھی پھر غصے سے گھورتی ہوئی گویا ہوئی ۔

” ہنس کیوں رہے ہو؟ “

” محترمہ یہ پچھلے مہینے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھو ۔ تمہارے کاؤنٹر پر کوئی کسٹمر پیکٹ رکھ کر جا رہا ہے وہ نہیں ۔ “

انل نے ہاتھ کا اشاراہ سامنے لیپ ٹاپ سکرین کی طرف کرتے ہوئے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا ۔ اس کی فنگر پرنٹس کی بات پر ایک پل کے لیے تو وہ گھبرا گیا تھا لیکن اگلے ہی لمحے ذہن نے پوری رفتار سے کام کیا اور وہ پھر سے مطمئن تھا ۔

” ہاں تو یہ پتا ہے مجھے ۔ “

جیسیکا نے لاپراوہی سے کندھے اچکائے ۔

” تو پھر اس پیکٹ پر تو اس کسٹمر کے فنگر پرنٹس ہوں گے نہ کہ اس کے ۔ فنگر پرنٹس نکلوا کر کیا کریں گے ۔ “

” میں پیکٹ پر نہیں پیسوں پر موجود فنگر پرنٹس کی بات کر رہی ہوں ۔ میں نے یہ پیکٹ ابھی تک کھولا ہی نہیں ۔ پیکٹ میں پیسے تو اسے نے ہی ڈالے ہوں گے نہ ؟ “

نخوت سے ناک چڑھائے وہ اسے وضاحت دے گئی جبکہ اس دفعہ انل کی بولتی بند ہو چکی تھی کیونکہ پیکٹ میں پیسے دران نے نہیں اس نے ڈالے تھے ۔ چند سکینڈ ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے کے بعد وہ گڑبڑا کر سیدھا ہوا ۔

” اوہ ہاں ۔۔۔۔ ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو ۔ پیسوں پر تو ہوں گے اس کے فنگر پرنٹس ۔ گریٹ آیڈیا۔ “

زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اس کی تعریف کی ۔ ” بچو گھونچو نہیں ہے بڑی چالاک ہے ۔ ” نگاہیں جھکائے سوچا اور پھر مسکراہٹ کو گہرا کیے سر اوپر اٹھایا ۔

” ویسے تمہیں کسی بیکری میں نہیں کسی خفیہ ایجینسی میں ہونا چاہیے تھا۔ مطلب کیا ذہن ہے تمھارا ۔۔۔ واؤو۔۔۔۔”

” نہیں مجھے کسی خفیہ ایجینسی میں نہیں کام کرنا بس اس شخص کی کھوج کرنی ہے ہر حال میں اور جیسے تم نے اس دن جھٹ پٹ ڈرنک کی رپورٹ نکلوا لی تھی ۔ امید کرتی ہوں آج اس میں بھی ہیلپ کرو گے ۔ “

وہ پراعتماد لہجے میں کہتی ہوئے اب اس کی طرف تائیدی نگاہ جمائی ہوئی تھی ۔ انل نے بمشکل سر کو اثبات میں ہلایا

” کیوں ۔۔۔ نہیں ۔ بے فکر ہو جاؤ ۔ “

مصنوعی مسکراہٹ کی اؤٹ میں بے چینی کو چھپایا ۔ ” اب کیا کرنا ہے ؟ مطلب اگر اپنے نہیں تو پھر بھی کسی کے تو فنگر پرنٹس دینے ہی ہوں گے ۔”

ٹائی کی ناٹ کو ڈھیلا کرتے ہوئے سوچا ۔ سانس اٹک رہی تھی ۔ آخر کو دران اسے سچائی بتا کیوں نہیں دیتا ۔

” ہاں تو پھر چلیں ۔ “

جیسیکا کی آواز پر چونک کر خیالوں سے باہر آیا ۔

” کہاں ؟ “

حواس باختہ سوال کیا ۔

” یہ دینے اور کہاں؟ “

جیسیکا نے کندھے اچکائے ۔

” آ۔۔۔ا۔ا ایک منٹ ۔۔ کیا تم ساتھ چلو گی ؟ “

آبرؤ اچکائے ہاتھ کو گھما کر سوال کیا ۔ جیسیکا نے گہری سانس لی اور پھر دانت پیسے

” بالکل ساتھ چلوں گی ۔ “

” اوہ ۔۔۔ اچھا اچھا ۔ “

بلاوجہ لبوں کو آپس میں ملائے کوٹ کے شکن درست کیے ۔ وہ پیکٹ کو اپنے بیگ میں رکھ رہی تھی ۔

” مطلب یہ ساتھ جائے گی اور پھر فنگر پرنٹس میرے۔۔۔ ہیں ۔۔۔ “

گڑبڑا کر جیسیکا کی طرف دیکھا وہ بیگ کندھے پر لٹکائے اسے اٹھنے کا اشارہ کر رہی تھی ۔

” مجھے دیر کرنی چاہیے تاکہ نتیجہ آج نہ مل سکے ۔ ” گاڑی کی چابی اٹھا کر وہ سوچ چکا تھا کیا کرنا ہے ۔

☆☆☆☆☆

گھڑی کی ٹک ٹک اس چھوٹے سے کمرے میں گونج رہی تھی جہاں اس وقت سگریٹ کا بے تحاشہ دھواں اتنا زیادہ بھر چکا تھا کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جائے ۔

کمرے کا بند دروازہ اور بند کھڑکیاں گھٹن کے ساتھ دھویں کی تعداد بڑھانے کا موجب بن رہی تھیں ۔ دران سگریٹ ہاتھ میں تھامے بے حال حلیے میں بیٹھا تھا ۔ اسے لاہور سے کراچی آئے آج دو ہفتے گزر گئے تھے ۔

اس دوران دستگیر بیگم کو اس دنیا سے گزرے آج ایک ہفتہ ہو چکا تھا اور وہ ان کے جنازے میں ایک اجنبی کی طرح شرکت کرنے گیا تھا ۔ خاموشی سے سب سے پیچھے کھڑے ہو کر جنازہ پڑھنے کے بعد وہ انہی قدموں واپس آ گیا تھا ۔

اسفند ملک نے دستگیر بیگم کی وفات سے پہلے ہی تمام کاغذات اس کے حوالے کر دیے تھے ۔ وہ ان دو ہفتوں میں انل کے گھر میں تھا اور اس وقت بھی وہ اس کے مہمان خانے میں موجود تھا۔

فلیٹ کا چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں بمشکل ایک صوفی سیٹ اور لکڑی کی میز رکھی ہوئی تھی ۔ اوپر نیچے چار کھڑکیاں تھیں جو باہر کی طرف کھلتی تھیں مگ اس وقت بند تھیں ۔ سگریٹ کو ہاتھ کی انگلیوں میں دبائے وہ اس دھویں سے بھرے کمرے میں کسی غیر مرئی نقطے پر نگاہ جمائے بیٹھا تھا جب کمرے کا دروازہ کھلا اور اندر داخل ہوتے انل کی بے اختیار کھانسنے کی آواز پر منجمند سے متحرک ہوا ۔

وہ متواتر کھانستے ہوئے آگے بڑھا اور تیزی سے کھڑکیوں کو کھولنے لگا ۔ کھڑکیاں کھولنے کے بعد لپک کر اس تک آیا اور دران کی انگلیوں میں جکڑی سگریٹ کو کھینچ کر میز پر رکھی پیالی میں رگڑ دیا جس کو ایش ٹرے بنائے دران راکھ سے بھر چکا تھا ۔

” ایسے خود کو تکلیف دینے سے کیا ہو گا ؟ ان سب نے جو بھی کیا تمھارے اس عمل نے ان کو منہ توڑ جواب دے دیا ۔ “

” یہ نہیں چاہتا تھا میں ۔ “

سپاٹ لہجے میں کہا اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بکھرے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔ وہ تمام جائیداد کو بیچ چکا تھا ۔ ویزا لگ چکا تھا اور چند دن میں ہی اس کی امریکہ کے لیے پرواز تھی ۔

” کیوں نہیں چاہتے تھے ؟ بات سنو ۔ وہ کچھ نہیں لگتے تمھارے اب تو اس بات کو وہ خود تسلیم کر چکے ہیں کہ تمہیں صرف اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا انہوں نے ۔ تم نے جو کیا بہت بہت اچھا کیا ۔ “

انل نے سگریٹ کی راکھ سے بھرے پیالی اٹھائی اور کمرے میں رکھے کوڑادان کی طرف قدم بڑھائے ۔

” بہت جلد واپس کردوں گا سب ۔ “

” کیوں کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔ وہ کچھ نہیں لگتے تمھارے ۔ “

انل نے تیوری چڑھائے اس کی طرف دیکھا جو اب چہرے کو اوپر اٹھائے چھت کو گھور رہا تھا ۔

” وہی میرے سب کچھ لگتے ہیں ۔ “

دران کی بات پر انل کے کوڑا دان میں راکھ پھینکتے ہاتھ منجمند ہوئے ۔

” مطلب ۔ میں ۔۔ میں سمجھا نہیں ؟ “

بھنویں اکٹھی کیے وہ سوال کرتا ہوا آگے بڑھا ۔

” اسفند ملک ہی میرے رئیل فادر ہیں ۔ “

تاہنوز چھت کو گھورتے ہوئے جواب دیا ۔ انل کی حیرت سے کھلتی آنکھیں اس نے نہیں دیکھی تھیں۔

” کیا !!”

” ہاں میں انہی کا بیٹا ہوں ۔ لیکن ایسا بیٹا جسے وہ چاہ کر بھی قبول نہیں کر سکتے ۔ “

سیدھے ہو کر مضطرب لہجے میں جواب دیا پھر حیرانگی سے آنکھیں کھولے انل کی طرف دیکھا ۔

” میں نے جائیداد کے کاغذات صرف یہ سب کچھ بیچنے کے لیے نہیں نکلوائے تھے بلکہ اور بہت سی معلومات چاہیے تھی مجھے ۔”

” تم نے اُن سے بات کی۔ کچھ پوچھا ؟ “

” نہیں ضرورت نہیں ۔ زبردستی اپنا رشتہ منوانے کا کیا فائدہ اور ویسے بھی مجھے اپنا بیٹا مان کر ان کی جگ رسوائی ہے ۔ میں ان کے کسی نیک عمل کی نشانی نہیں ہوں ۔ “

طنز بھرا لہجہ اور استہزائیہ مسکراہٹ اس کے اندر کی تکلیف کو چھپا نہیں سکی ۔ انل نے بے دلی سے پیالی ایک طرف رکھی اور اسی طرح شکن آلودہ پیشانی کے ساتھ سامنے کے صوفے پر براجمان ہوا ۔ دران اب اسی لہجے میں بول رہا تھا ۔

” تمہیں پتا ہے جن بچوں کے ماں باپ کی علیحدگی ہو جاتی ہے ان کو بروکن چائلڈ کہتے ہیں ۔ لیکن مجھ جیسے بچوں کو کیا کہتے ہیں پتا ہے ؟ “

انل اس کے سوال پر خاموش رہا ۔

” ان وانٹڈ ۔۔۔۔ ڈرٹی چائلڈ ۔ “

وہ مسکرا رہا تھا ۔ کرب ناک لہجے میں اس کی آواز کا بھاری پن کمرے کی خاموشی کو چیر رہا تھا ۔

” نہیں وہ ڈرٹی چائلڈ نہیں ہوتے اور نہ تم ہو سمجھے ۔”

” تمھارے کہہ دینے سے پل بھر کو سکون ملا لیکن حقیقت یہی ہے ۔ “

اسی تلخ مسکراہٹ کو گہرا کیا ۔

” ہم جیسے بہت کم ہوتے ہیں جو ناچاہتے ہوئے بھی وجود میں آتے ہیں ۔ اگر میری ماں یہودی نہ ہوتی تو شاید میں بھی کسی کچرے کے ڈھیر میں گل سڑ جاتا ۔ “

” اس نے پیدا کرنے کے بعد بھی تو چھوڑ دیا ۔ “

انل کے برجستہ کہے گئے جملے پر وہ پل بھر کو غیر محرک ہوا پھر آنکھوں کو چندھی کیے میز کی سطح پر نگاہ گاڑی ۔

” ایگزیٹلی یہی تو پوچھنا ہے اس سے کہ اگر پیدا کرنے کی ہمت کر ہی لی تھی تو پھر ایک سال بعد ہی کیوں چھوڑ دیا اور اگر چھوڑنا ہی تھا تو پھر بہت سے یتیم خانے بھی ہوتے ہیں ۔ “

” دران میری مانو تو سب بھول کر آگے بڑھ جاؤ ۔ دیکھو دنیا میں کتنے ایسے بچے ہیں جن کے ماں باپ نہیں ہیں اور بہت سے تم جیسے بھی جن کی کوئی شناخت نہیں ۔ کوئی رشتہ نہیں ۔ وہ بھی تو جی رہے ہیں ۔ “

” ایک ہوتا ہے رشتوں کا ہونا اور ایک ہوتا ہے رشتوں کا نہ ہونا مگر رشتوں کا ہو کر بھی نہ ہونا ۔ “

وہ اب انل کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔

” مجھے لگتا ہے میں ایک نہ رکنے والا پینڈولم ہوں جو پیدا ہونے کے بعد سے صرف جھول رہا ہے ۔ “

انل نے دکھ سے اس کی طرف دیکھا جو اس وقت شاید اپنے حواسوں میں نہیں تھا ۔

” بے مقصد , بے معنی زندگی اور منتشر ذہن ۔۔۔۔ مجھے الجھن ہوتی ہے خود سے اپنے ذہن کے انتشار سے ۔ “

” سب ٹھیک ہو جائے گا دران بس تم اب دوبارہ ان لوگوں سے کبھی مت ملنا ۔ “

” ٹھیک تو اب بھی سب ہے ۔ “

فوراً سر اٹھا کر جواب دیا ۔

” تو نارمل ہو جاؤ یار اور زندگی سے ناراضگی ختم کر دو ۔ “

“زندگی سے نہیں زندگی دینے والے سے ناراضگی ہے ۔ تمہیں کیا لگتا ہے میں نے خود کو نارمل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی ہو گی ؟ “

اس کی آواز کی تلخی بڑھ گئی تھی ۔ اب تھکی سی آنکھوں میں انگنت شکوے جھلک رہے تھے ۔

” میں نے بہت بہت کوشش کی ۔ زندگی کے ہر موڑ پر خود کو سنبھالا سمجھایا لیکن ہر بار مجھے ایک نیے دکھ اور تکلیف کے سوا کچھ نہیں ملا ۔ “

وہ تیوری چڑھائے پھٹ پڑا تھا ۔

” میں جب جب اللہ کے قریب گیا مجھے تب تب ایک نئی تکلیف ملی ۔ تمہیں پتا ہے ان دو سالوں میں میں نے کیا کیا ؟ “

دانت پیسے انل کی طرف دیکھ کر سوال کیا جبکہ وہ اس کی حالت پر دکھ سے دیکھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا تھا ۔

” میں نے قرآن حفظ کر لیا۔ بچپن میں جس کتاب سے میں روٹھ کر اللہ سے دور ہوا تھا ۔ میں نے ایک بار پھر اس کتاب کو سینے سے لگایا کہ شاید مجھے سکون ملے گا ؟ میں بھی پرسکون زندگی گزارنے لگوں گا ۔ “

اس کی کنپٹی کی رگیں ابھر رہی تھیں اور آنکھوں کی سرخی اب آنکھوں کے کناروں سے آگے بڑھ رہی تھی ۔

” نتیجہ کیا ملا ایک ایسی سچائی جس کو جان کر مجھے خود سے گھن آنے لگے ۔ “

ٹھک کی آواز سے دروازہ کھلا تو دونوں نے ایک ساتھ سر اٹھا کر بائیں سمت دیکھا ۔ انل کا چھوٹا بھائی دروازے کا پٹ تھامے کھڑا تھا ۔

” انل بھائی کوئی لڑکی آئی ہے ۔ کہہ رہی ہے دران بھائی سے ملنا ہے ۔ “

” لڑکی!”

انل نے حیرت سے پیشانی پر بل ڈالے ۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھتا کمرے میں داخل ہوتی سبرینا کو دیکھ کر حیرت سے وہیں رک گیا ۔ سیاہ چادر میں لپٹی وہ کمرے کے دروازے سے آگے آ کر رک گئی تھی ۔

” دران میں باہر ہوں ۔ “

انل نے دران کی طرف دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا اور پھر کمرے سے باہر نکلتے ہوئے دروازہ لگا دیا ۔

” تم یہاں کیا کر رہی ہو اور یوں اکیلی ؟ “

غصے اور حیرت سے گھورتے ہوئے کہا وہ صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوا ۔

” دران مجھے معاف کردو۔ میں خالہ اور دادو کے بہکاوے میں آ گئی تھی لیکن میری تمھارے لیے محبت سچی ہے ۔ “

وہ چند قدم کا فاصلہ مٹائے اب بالکل دران کے سامنے کھڑی تھی ۔

” میں اس محبت نامی چیز کے بارے میں کچھ نہیں جانتا لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں جو جذبہ سچا ہو اسے کسی بھی غلط راستے کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ “

” دران مجھے معاف کر دو ۔ پلیز ۔ “

” کر دیا معاف ۔ چلو اب گھر جاؤ فوراً “

ضبط سے لب بھینچے پرسکون لہجے میں کہا ۔

” نہیں مجھے گھر نہیں جانا مجھے تمھارے ساتھ جانا ہے جہاں تم جاؤ گے میں وہیں چلی جاؤں گی ۔ میں گھر اور ان سب رشتوں کو چھوڑ دوں گی ۔ “

” بکواس بند کرو اپنی ۔ جن قدموں پر چل کر آئی ہو انہی پر واپس جاؤ گھر ۔ “

” دران سمجھ کیوں نہیں رہے میں بہت محبت کرتی ہوں ۔ “

بے اختیار اس کا پاس ہونا دران کے ضبط کو ختم کرگیا بازو کو جھٹکا دیتے ہوئے اسے دور کیا ۔

” اور میں تمھاری اس سو کالڈ محبت سے نفرت کرتا ہوں ۔ ہمیشہ سے کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا ۔ “

ناک بھینچے سختی سے جواب دیتا وہ اس کے دھواں ہوتے چہرے اور پھٹی آنکھوں سے بے اعتنائی برتے ہوئے تھا ۔

” تمہیں ایک بات سمجھا سمجھا کر تھک چکا ہوں کہ مجھ سے محبت کر کے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔ میرے پیچھے بھاگنا بند کرو “

دران کی نفرت سے آگ برساتی آنکھوں کو وہ تاسف سے دیکھتی چند سکینڈ خاموشی کے سپرد کر گئی اور پھر وہ پھٹتے لہجے میں اس پر برس پڑی ۔

“دران ملک تھکے تم نہیں تھک میں گئی ہوں ۔ “

آواز اور جسم دونوں کانپ رہے تھے ۔

” ہاں میں تھک گئی ہوں ۔ تم جیسے انسان سے محبت کرنے کے بعد میں نے اپنی زندگی جہنم بنا لی ۔ تم کیا چھوڑو گے مجھے ؟ میں چھوڑتی ہوں تمہیں آج ابھی اور اسی وقت ۔ “

وہ غصے میں پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی ۔

” خالہ , مما , دادو سب ٹھیک کہتے تھے ۔ تمہاری رگوں میں دوڑتا خون اور تمھارا وجود دونوں ناپاک ہیں ۔ “

ناک بھینچے حقارت سے کہتی وہ دران کی گھورتی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی ۔

” میں نے دو سال پہلے تمھارے ساتھ جو کچھ بھی کیا مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں اب ۔ تم ہو کیا ہاں ۔ تم جیسے بچوں کو لوگ گٹروں میں پھینک دیتے ہیں لیکن ہم سب نے تمہیں عزت دی ۔ نوین تایا کا نام دیا ۔ میرے بابا نے محبت دی ۔ “

وہ بنا بریک کے , بنا سوچے سمجھے بس بولے چلے جا رہی تھی اور دران اس کے منہ سے نکلتے زہر خندہ تیروں کو خود میں پیوست ہوتے محسوس کر رہا تھا ۔

” لیکن سچ کہا ہے کسی نے رگوں میں بہتا خون کسی نہ کسی دن تو اثر دکھاتا ہے اور اسی کا صلہ ہم سب بھگت رہے ہیں ۔ “

سر کو ہلاتے ہوئے نفرت سے کہتی وہ سر سے سرک جانے والی چادر سے بے نیاز تھی ۔

” احسان فراموش , گھٹیا انسان ۔۔۔۔ تم تو دادو کے مرنے پر بھی نہیں آئے ۔ وہ جو بھی تھیں لیکن تمھاری زندگی کے اتنے سالوں میں تم ان کے گھر رہے ۔ “

وہ تم تم لفظ سے مخاطب کرتی بدتمیزی کی انتہاؤں کو چھو رہی تھی لیکن دستگیر بیگم کی وکالت میں کہے گئے جملے پر دران مٹھیاں بھینچتا ہوا چیخا ۔

” جاؤ یہاں سے ۔ “

” میں بچپن سے دادو کو غلط کہتی تھی لیکن آج میں بھی کہتی ہوں ۔ تم کافر ہو ۔ دران تم کافر ہو “

وہ گدی سے چہرہ آگے کئے غصے میں چیخ رہی تھی ۔ دران نے بمشکل اپنے غصے کو ضبط کیا اور قدم آگے بڑھائے لیکن وہ تو جیسے آج سب حساب چکتا کرنے آئی تھی بازو سے کھینچ کر دران کو روکا ۔

” جا کہاں رہے ہو ۔ سنو اب سب ۔ تم صرف یہودی عورت کی بیٹے ہی نہیں بلکہ تم اس کے کسی گناہ کی پیداوار ہو ۔ “

دران نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑ وایا تھا اور پھر ہاتھ اٹھ کر ایک گونج کے ساتھ سبرینا کی گال رنگ گیا ۔

پھر وہ وہاں رکا نہیں تھا ۔ تیزی سے کمرے کے دروازے کو پورا کھولے باہر نکل گیا ۔

☆☆☆☆☆

ہلکے شربتی رنگ کی شِرب شراٹے کی آواز کے ساتھ بوتل کے منہ سے گرتی کانچ کے گلاس کو بھر رہی تھی ۔ ہاروی نے گلاس بھرتے ہوئے نگاہ اوپر اٹھائی۔

ہاروی پروڈکشن کے اس جدید طرز کے آفس میں اس وقت تین نفوس موجود تھے ۔ برھان , بروس اور ہاروی ۔ وہ تینوں ایک منصوبے کا مکمل ڈھانچہ تیار کرنے کے بعد ایک دوسرے سے مل رہے تھے ۔ ایک مکمل کامیاب منصوبہ اس دفعہ بھی برھان اور بروس نے مل کر تیار کیا تھا ۔ برھان اپنی پہلی فلم سائن پر ایک بہت بڑی پارٹی دینے جا رہا تھا جو صرف بظاہر اس کی طرف سے دی گئی ایک پارٹی ہو گی ۔

حقیقت میں یہ ایک پارٹی نہیں بہت صبر اور طویل انتظار کے بعد جویریہ کے لیے بچھایا گیا ایک جال تھا ۔

مونٹاج میں منقد کی گئی یہ تقریب مکمل طور پر دران ملک کے ہاتھ سے اس لڑکی کو لے نکلنے کا ایک منصوبہ تھی جس میں شیون کے بھیجے گئے آدمی بھی شامل تھے ۔

” تو کیا لگتا ہے درانگ اس لڑکی کو ساتھ لائے گا ؟ “

ہاروی کے سوال پر دائیں بائیں کاؤچ پر براجمان برھان اور بروس نے ایک نظر ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔ ہاروی تین کانچ کے گلاسوں میں شربتی محلول انڈیل چکا تھا ۔

” بہت نا قابل یقین شخص ہے۔ مجھے اب بھی لگتا ہے کہ وہ شاید نہ آئے اور ہماری ساری تیاری پر پانی پھر جائے گا ۔ “

ہاروی نے سوال کرنے کے بعد خود ہی جواب دیا اور ایک گلاس اٹھائے برھان کی طرف بڑھایا ۔ برھان نے سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے اس کی بات کی تردید کی ۔

” وہ آئے گا ۔ “

برھان کا لہجہ پریقین تھا ۔ ہاروی کے ہاتھ سے گلاس تھامتا ہوا وہ پر اعتماد مسکرا رہا تھا ۔

” اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو؟”

ہاروی نے بھنویں اچکائیں ۔ برھان پرسکون گلاس کو تھامے منہ سے لگانے کے بعد گھونٹ بھر رہا تھا ۔ بروس بھی اب برھان کی طرف متوجہ تھا ۔

” دران انکل یاور یعنی کے سبرینا کے والد سے بے پناہ محبت کرتا تھا اور اب اسی محبت کی بنا پر وہ سبرینا کی کوئی بات نہیں ٹالتا اور جویریہ کی پارٹی میں شرکت کے لیے سبرینا ہی اسے رضامند کرے گی ۔ “

” مطلب ہمیں مایوسی نہیں ہو گی ۔ “

ہاروی نے بتیسی نکالی ۔ بروس کی آنکھیں بھی چمک اٹھیں ۔

” بالکل نہیں ہو گی ۔ “

برھان کے یقین دلانے پر وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا دیے ۔ بروس چہک کر آگے ہوا ۔

” تو پھر وقت ہوا جاتا ہے ایک عدد بلاسٹ کا ۔ “

پرجوش لہجے میں کہتے ہوئے اس نے اپنے گلاس کو آگے کیا ۔ باقی دونوں نفوس نے بھی اپنے گلاسوں کو ہوا میں اٹھایا اور تینوں گلاسوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔

” بوم۔م۔م۔م”

بروس کی آواز کے ساتھ گلاسوں کے ٹکرانے کی آواز تھی اور پھر تینوں کے فلک شگاف قہقے ہاروی پروڈکشن کی در و دیوار میں گونج رہے تھے ۔

☆☆☆☆☆

کمرے کا دروازہ کھلنے پر اس نے دعا کی صورت چہرے پر رکھے ہاتھ ہٹائے اور گردن گھما کر دروازے کی طرف دیکھا ۔ دران سنجیدگی کا پیکر بنا ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ رہا تھا گو کے وہ آج گھر ہی تھا لیکن کمرے میں نہیں تھا ۔ کہاں تھا یہ نہیں پتا چلا ۔ وہ بہت بار کمرے سے باہر بھی گئی لیکن پتا نہیں چلا ۔ اب بھی وہ ڈھیلے سے ٹرائیوزر اور ہڈ میں ملبوس ڈریسنگ کی طرف جا رہا تھا ۔

تیسرا دن ۔ ہاں آج تیسرا دن تھا اس کی اس بے رخی کا ۔ وہ اس کی سوچ کے بالکل مطابق ردعمل ظاہر کر رہا تھا۔ قرآن پڑھانے کی فرمائش کیا کردی وہ اسے پھر سے دیکھنا تک چھوڑ چکا تھا ۔ وہی روکھا انداز , وہی بات نہ کرنا ۔ وہ مدھم سا مسکرا دی ۔

جائے نماز سمیٹا اور سر پر بندھا سکارٹ ڈھیلا کیا ۔ اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی ہلکے کاسنی رنگ کی فراک پیروں کو چھونے لگی ۔ چند منٹ کے انتظار کے بعد دران ڈریسنگ روم سے باہر آ یا تو ناچاہتے ہوئے بھی نگاہ اس پر پڑی جو پہلے سے ہی اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ فوراً نگاہیں چرا لیں ۔ اپنے مخصوص لاپرواہی برتتے انداز میں صوفے کے قریب آیا تو جویریہ اس کے صوفے پر بیٹھنے سے پہلے اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی ۔

” کیا محبت کے یقین کے لیے ایسا کچھ مشکل مانگ لیا میں نے ؟ “

بے ساختہ کیے گئے سوال اور جویریہ کے یوں سامنے آنے پر وہ ایک پل کے لیے چونکا لیکن اگلے ہی پل نگاہیں اس کے چہرے پر جمی تھیں جو دران کا قد لمبا ہونے کے باعث چہرہ اوپر اٹھائے ہوئے تھی ۔

” مشکل نہیں ناممکن ۔ “

سپاٹ لہجے میں مختصر جواب دیا ۔ تین دن بعد آخر کو جویریہ نے ہی بلانے میں پہل کر دی تھی ۔ جویریہ کی یقین کے لیے مانگی شرط وہ کسی صورت پورے کرنے کے لیے تیار نہیں تھا اور یہی وجہ تھی وہ چپ چاپ اس کی طرف دیکھنا ,اسے بلانا چھوڑ چکا تھا ۔

” محبت میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا ۔ یہ دل لگی تھوڑی ہوتی ہے کہ ناممکن رستوں کو دیکھ کر رستہ ہی بدل لیا جائے ۔ “

” تو شاید پھر یہ محبت نہیں دل لگی ہی تھی ۔ “

برجستہ روکھا جواب دیا ۔ آنکھوں میں بے پناہ محبت لیے وہ زبان سے اپنی محبت کو دل لگی کا نام دیے یہ سوچ رہا تھا کہ شاید وہ اس کی بات پر یقین کر لے گی ۔

” دران یہ غلط ہے ۔ “

” کیا غلط ہے ؟ “

” آپکا یوں پیچھے ہٹ جانا ۔ “

لہجہ پل بھر کو پھیکا پڑا ۔ بے شک دران کا رویہ اس کی سوچ کے مطابق تھا لیکن اس کا یوں محبت کو دل لگی کہہ دینا اسے تکلیف دے گیا ۔

” میں پیچھے تو نہیں ہٹا ۔ محبت اب بھی ہے تم سے بس اب یقین نہیں دلانا تمہیں ۔ “

اس کی اتری صورت دیکھ کر فوراً اپنی پہلی بات کی تردید کی اور کمر کے دونوں اطراف میں ہاتھ دھر کر جویریہ کے چہرے پر سے نظر ہٹا کر سامنے دیوار پر گاڑی ۔

” آپ یہ کہنا چاہتے کہ آپ مجھ سے بھاگ رہے ہیں ؟ “

جویریہ نے بھنویں اکٹھی کیے سوال کیا اور پھر گہری سانس خارج کرتے ہوئے خود ہی جواب دیا ۔

” آپ مجھ سے نہیں خود کے اصل سے بھاگ رہے ہیں ۔ “

” تم نہیں جانتی مجھے ؟ “

رخ موڑے پھر سے اس کی سیاہ آنکھوں میں جھانکا جو پر اعتماد مگر دلکشی کا سامان بنی اتنے قریب کھڑی تھی ۔

” جان لینا اور محبت کرنا دونوں الگ الگ باتیں ہیں آج تک دنیا میں کسی کو جان کر محبت ہوئی ہے کیا؟”

” تم پھر الجھ کس بات پر رہی ہو ؟ “

” الجھ کر سلجھانا چاہتی ہوں سب ۔ “

” کیا سلجھانا چاہتی ہو؟ “

” جو آپ میں الجھا ہے ۔ “

محبت بھرا لہجہ تھا ۔ دونوں ایک پل کے لیے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکتے لمحے کو وقت کے سرکنے کے حوالے کر چکے تھے ۔

” مجھے جان کر دم گھٹے گا اور جن الجھی گتھیوں کو سلجھانے بیٹھو گی وہی ہاتھوں سے لپٹ کر تمھاری کلائیاں کاٹ دیں گی ۔ “

دران کا لہجہ اور سنجیدگی اب کسی کرب میں ڈوبا ہوا لگ رہا تھا ۔

” خوش نصیبی ہو گی میری اگر یوں موت آئے ۔ “

وہ بلا کی ڈھیٹ ثابت ہوئی تھی ۔

” مجھے جاننا ہے سب ؟ “

” کیا ؟ “

دران نے آہستگی سے پوچھا ۔

” آپ کا ماضی , اللہ سے ناراضگی کی وجہ ؟ “

طمانیت سے کہتے ہوئے وہ اور قریب ہوئی اور پھر اس پتھر جیسے سینے پر سر رکھ دیا ۔ ایک لمحے کو جیسے سب سمٹ گیا ۔

” میں ہی ہوں وہ دران ۔ بس اندر ہی اندر گھلنے کا وقت ختم ہوا ۔ میں ہی ہوں وہ جس کے آگے آپ کو رونا ہے ۔ “

آنکھیں موندے وہ دھیمی مگر مدھر آواز میں کہتی ہوئی اس کی بے ترتیب دھڑکنوں کو سن رہی تھی ۔

ایک ۔۔۔ دو ۔۔۔ تین ۔۔۔۔ چار سکینڈ دران نے سختی سے بازو دبوچ کر ایک جھٹکے سے خود سے الگ کیا ۔ وہ لڑکھڑا گئی ۔

” جس لمٹ تک رکھ رہا ہوں وہیں تک رہو ۔ “

دانت پیستے سخت لہجے میں کہتا وہ دران بہت مختلف تھا ۔ اب کی بار آنکھوں میں غصہ تھا ۔ آخر کو کیوں ؟ وہ پھٹی آنکھوں سے دران کو دیکھ رہی تھی ۔

” پارٹی کے لیے تیار ہوجاؤ ہمیں جانا ہے ۔ “

سپاٹ لہجے میں کہتا وہ آگے بڑھا سگریٹ اٹھایا اور آؤٹ ڈور کی طرف بڑھ گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *