Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 17)
Rate this Novel
Basil (Episode 17)
Basil by Huma Waqas
انل نے حنا کو خاموش رہنے کا کہتے ہوئے کمرے کا جائزہ لیا ۔ بنا کسی کھڑکی اورروشن دان کے اس چھوٹے سے کمرے میں صرف ایک ہی مقصد کا سازو سامان تھا ۔ انل کے چپ کروانے کے باوجود سامنے کھڑی بے جان حنا گھٹی گھٹی آواز میں روئے جا رہی تھی ۔
قید اور وہ بھی اذیت بھری اس میں کسی ذی روح کی کیا حالت ہوتی ہے ۔ سامنے بیٹھی وہ لڑکی ہی جانتی تھی۔ پچھلے چھ ماہ سے وہ یہاں قید و بند میں تھی ۔ ماں باپ نے تو یہی سوچ کر رخصت کیا تھا کہ نہ صرف اس کا مستقبل سنور جائے گا بلکہ پیچھے ان کے گھر کو بھی سہارا ملے گا ۔
شادی کے جھانسے میں یہاں لا کر شوہر اس سے چھ ماہ سے جسم فروشی جیسا گھناؤنہ کروبار کروا رہا تھا ۔ اس کے گھر والوں کا منہ ہر ماہ چند ہزار بھیج کر بند کر دیتا تھا ۔ وہ اپنی نگرانی میں حنا کی بات گھروالوں سے کرواتا تھا ۔ جس میں وہ یہ کہتی کہ وہ بہت خوش ہے اور یہاں ایک سٹور میں ملازمت کرتی ہے جس کی وجہ سے آپ لوگوں کو پیسے بھیج رہی ہے ۔
سارا دن وہ اس چھوٹے سے فلیٹ نما گھر میں بند رہتی ۔ شوہر کا جب دل کرتا تششد کرتا اور منہ مانگے داموں پر جسم فروشی کرواتا۔
وہ اب مایوس ہونے لگی تھی ۔ خود کو حالات پر چھوڑ دیا تھا ۔ لیکن آج یوں کوئی اسے بچانے کے لیے آ جائے گا یہ ناقابل یقین تھا ۔
” مجھے یہاں سے جانا ہے ۔ مجھے پاکستان جانا ہے اپنے گھر ۔ پلیز مجھے لے چلو یہاں سے “
کانپتے ہاتھوں سے راہ فرار کی جا پر کھڑی وہ اب بھی بے یقینی سے سامنے کھڑے انل سے منت سماجت کر رہی تھی۔
” جائیں گی ضرور جائیں گی ۔ بلیو می ۔ آپ رونا بند کریں ۔ آواز باہر جائے گی ۔”
انل نے تسلی آمیز لہجے میں سمجھایا ۔ تحفظ کی یقین دہانی کے لیے اپنا کوٹ اتار کر اس کے کندھوں پر ڈال دیا ۔ نگاہوں کا زاویہ تبدیل کیا اور کمرے کے بند دروازے کو بغور دیکھا جس کے پار چھوٹے سے لاؤنج میں لگے صوفے پر حنا کا شوہر بیٹھا تھا اور دران ہاتھ میں دو گلاس تھامے اس کی طرف آ رہا تھا ۔ گلاسوں میں موجود محلول کی اوپری سطح پر سفید جھاگ کی دبیز تہہ تھی جو دران کے ڈگ بھرنے سے گلاس کے کناروں سے ٹکرا رہی تھی ۔
بڑی مہارت سے دران نے گلاس کے اندر موجود اس محلول کے اندر بے ہوشی کی دوا ملائی تھی ۔ کن اکھیوں وہ سامنے بیٹھے شخص کو دیکھتا ہوا اب اس کے قریب آ چکا تھا ۔ وہ بڑے مزے سے ٹانگیں پسارے ٹی وی پر نگاہیں جمائے ہوئے تھا ۔
” آپ کے لیے ۔ “
دران نے بھرپور مسکراہٹ چہرے پر مزین کئے اس کی طرف گلاس بڑھایا ۔ وہ چونکا حیرت سے دران کی طرف دیکھا ۔ بھرپور ادکاری ۔
” اوہ ۔۔ اپنا میں خود بنا لیتا آپ نے تکلیف کی ۔ پر اب کر دی ہے تو لائیں دیں “
پیلاہٹ سے بھرے دانت نکالے وہ اب دران کے ہاتھ سے گلاس تھام رہا تھا ۔ دران نے گلاس اسے پکڑایا اور خود بائیں طرف لگے کاؤچ پر براجمان ہوا ۔ وہ گلاس کو لبوں سے لگائے شراب چڑھا بھی چکا تھا جبکہ دران ہنوز گلاس کو ایک ہاتھ میں تھامے بیٹھا تھا ۔ نگاہیں کلائی پر بندھی گھڑی کی سوئیوں کو آگے سرکتا ہوا دیکھ رہی تھیں ۔ تین منٹ بس ۔۔۔
” آپ کو دیکھ کر لگتا ہے ۔ ایسے جیسے بہت دیکھا ہو کہیں ” وہ محلول سے بھرے گلاس کو لبوں سے ہٹائے آنکھوں کو شناسائی انداز میں چندھی کئے دران کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ دران نے آبرؤ اٹھایا ۔
“ہاں ایک مشہور ہالی وڈ ایکٹر سے بہت شکل ملتی ہے میری “
دران نے بڑے وثوق سے جھوٹ بولا ۔ وہ زور زور سے سر اثبات میں ہلانے لگا ۔
” ہاں ۔۔۔ یاد آ گیا بلکل وہ راک فائیٹر کا ہیرو “
وہ صوفے کے بازؤ پر ہاتھ مارے اپنی ذہانت پر اتراتا ہوا قہقہ لگا گیا ۔ دران نے معنی خیز مسکراہٹ سجائے بس سر اثبات میں ہلانے پر اکتفا کیا ۔
” واقعی بہت شکل ملتی ہے تمھاری اس سے ۔ مجھے بھی بہت سے لوگ کہتے ہیں میں جیکی جیسا لگتا ہوں “
وہ گردن اٹھائے شیخی بگار رہا تھا ۔
” اچھا یقین کریں لوگ سچ کہتے ہیں “
” ہے نہ تمہیں بھی لگا نہ ایسا “
وہ انگلی کو ہوا میں جھلاتے ہوئے تصدیق مانگ رہا تھا ۔ خباثت سے بتیسی نکالے ہوئے تھا ۔ دران اس کی انگلی کی دھیمی ہوتی رفتار کو جانچ رہا تھا ۔ اب کام سکینڈز پر تھا ۔
” اندر۔ر۔ر۔۔۔۔ وہ تم۔۔۔ت۔۔تمھارا دوست ہے؟ ۔ کس۔۔۔ کام کے سلسلے میں آئے ہو ۔۔۔ت۔ت۔تم لوگ چائینہ ؟ “
دروازے کی طرف اشارہ کئے وہ دران سے اب انل کے بارے میں پوچھ رہا تھا ۔ اُس کو ہچکی لگ رہی تھی ۔ آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔ جنہیں وہ زبردستی کھولنے کی ناکام کوشش میں منہ کے زاویے بگاڑ رہا تھا ۔ دران بڑے آرام سے اپنی جگہ سے اٹھا۔ محلول سے بھرا گلاس سامنے میز پر بڑی آہستگی سے رکھا ۔
وہ اب حواس کھو رہا تھا ۔ گردن ایک طرف لڑھک گئی اور آنکھیں بند ہو چکی تھیں ۔ دران قریب آیا پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے اس پر جھکا ۔
” تمھیں انجام تک پہنچانے آئے ہیں ۔ “
☆☆☆☆☆☆
سیاہ آسمان پر انگنت ستاروں کے جھرمٹ میں آخری تاریخوں کا باریک سا چاند چمکتا ہوا دنیا میں موجود بہت سے سیاہ بخت لوگوں کے دکھوں سے بے خبر تھا ۔ کراچی میں گھٹن زدہ تنگ گلیوں میں بنے تعفن زدہ یہ گھر جن کی ہر سیم زدہ بھبھری اینٹ اندر رہتے مکینوں کی گھٹی اور تلخ زندگیوں کی غمازی تھی۔ دو کمروں اور ایک چھوٹے سے سٹور نما کوٹھڑی پر مشتمل اس گھر میں رات کے گیارہ بجے جھنگیروں کی آواز ایک بھنبھناہٹ کی طرح گونج رہی تھی ۔ دونوں کمروں کی بتی گُل تھی جبکہ سٹور میں لگا بلب جل رہا تھا سٹور کو بھی کمرے کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا تھا ۔
دسمبر کی یخ بستہ سردی میں جہاں گھر کے تمام مکیں لحافوں میں دبکے سو رہے تھے وہاں سٹور میں ڈالے بستر ایک طرف بے خبر سوئی میری کی کروٹ کے مخالف سمت وہ سمٹی سی چور نگاہوں کے ساتھ گود میں رکھی کتاب پر نگاہیں دوڑا رہی تھی ۔ سیاہ رنگ کے جوڑے پر میرون شال کو کندھوں کے گرد لپیٹے وہ کتاب پڑھنے میں محو تھی ۔
آمنہ اب اسے اپنی گھر کی لائبریری سے اسلامی کتابیں لا کر دینے لگی تھی ۔ روشن کتابیں ۔۔۔ حق سچ کو بیان کرتی ہوئی کتابیں ۔۔۔۔ سیدھا راستہ دکھاتی ہوئی کتابیں ۔۔۔ پرت در پرت رازوں پر سے پردے اٹھاتی کتابیں ۔ جنہیں وہ چھپا کر گھر لے آتی تھی ۔ ساری ساری رات وہ ان کتابوں کو پڑھنے میں گزار دیتی تھی ۔
اسلام کامل دین ہے صرف ذہن اس کو تسلیم نہیں کر رہا تھا بلکہ آہستہ آہستہ دل میں لگے قفل بھی کھلنے لگے تھے ۔ وہ سوچنے لگی تھی۔ پھر کھوجنے لگی تھی ۔ پھر ماننے لگی تھی بس اب ایمان لانے کی دیر تھی ۔
دروازہ کھلنے کی ہلکی سی چراچرہٹ پر برق رفتاری سے اس نے کتاب کو لحاف میں چھپایا ۔ مضطرب سا چہرہ اوپر اٹھایا ۔
” جوی جاگ رہی ہو نہ ؟ “
سنانا سر اندر کئے پوچھتے ہوئے آگے بڑھی ۔ سیاہ شال کندھوں پر لپیٹے وہ اندر داخل ہو چکی تھی ۔
” آ ۔۔۔آ جاؤ ۔۔ ت۔۔تم نہیں سوئی ابھی تک ؟ روشنی سو گئی کیا ؟ “
ہلکی سی گڑبڑاہٹ پر وہ بمشکل قابو پائے ہوئی تھی ۔ عموماً اس وقت سب سو جاتے تھے مگر آج سنانا کی بیٹی روشنی بیمار تھی۔ کچھ دیر پہلے تک اس کے رونے کی آوازیں گھر بھر میں گونج رہی تھیں ۔ اب شائد وہ سو چکی تھی ۔
” ہاں سو گئی ہے ۔”
وہ دروازہ بند کرنے کے بعد اب اس کے بستر کے قریب آ رہی تھی۔ جوی کی دھڑکن تیز ہونے لگی ۔ دھک دھک کی آواز کے ساتھ گال گرم ہونے لگے ۔
” تم بھی سو جاتی نہ تھوڑی نیند پوری ہو جاتی۔ “
” کوشش تو کی مگر سر میں بے پناہ درد تھا ۔ چائے پینے کو دل تھا مگر تمھارے ہاتھ کی “
ہلکی سی مسکان نے سنانا کے خشک لبوں کے کناروں کو پھیلا دیا ۔ کتنے عرصے بعد تو وہ یوں مسکائی تھی ۔ جوی نے نظر بھر کر اسے دیکھا ۔ پیلاہٹ زدہ تھکا چہرہ , آنکھوں کے نیچے گہرے سیاہ حلقے اس کے حسین چہرے کو پژمردہ کئے ہوئے تھے۔ دل میں ایک ٹیس اُٹھی ایک سال پہلے کیسا کھلتا چہرہ تھا اس کا چمکتی آنکھیں ۔ دمکتی سرخی جھلکاتی رنگت ۔
” ابھی بنا دیتی ہوں ۔ چلو ساتھ چلتے ہیں کچن میں اکٹھے بناتے ہیں “
لحاف کو بڑی احتیاط سے اٹھاتی وہ اپنی جگہ سے اُٹھی مبادہ سنانا کی نگاہ کتاب پر پڑ جائے ۔
وہ اس سے پہلے ہی پلٹ کر دروازے کی طرف بڑھ گئی ۔ جوی نے سر کو ہلکا سا خم دیا ایک جانچتی نگاہ واپس لحاف پر ڈالی اور اس کے پیچھے پیچھے کچن میں آ گئی ۔ چھوٹا سا بوسیدہ کچن بھی مریم نے بڑے سلیقے سے صاف رکھا ہوا تھا۔
جوی اب برتنوں کی الماری میں سے کیتیلی نکال رہی تھی اور سنانا دودھ کی بوتل فریج سے نکال کر باہر لا رہی تھی ۔
” جوی ۔۔۔۔”
بوتل کو اس کی طرف بڑھاتے ہوئے دھیمے مگر پرسوچ لہجے میں پکارا ۔
” ہوں ۔۔۔ “
ایک کپ پانی کو کیتیلی پر چڑھاتے مگن انداز میں ہلکا سا ہنکارا بھرا ۔
” رہبر رشتہ بھیج رہا ہے پھر سے۔ خالہ نے اماں کو بتایا ہے کہ وہ جلد آئیں گی “
سنانا نگاہیں جھکائے ہوئے تھی ۔ جوی نے چونک کر خوشی سے دیکھا ۔ وہ ان کا خالہ زاد تھا جس کا رشتہ پہلے سنانا کا اچھی جگہ سے رشتہ آ جانے پر جان نے ٹھکرا دیا تھا ۔ رہبر سنانا کو پسند کرتا تھا ۔ وہ اچھا سلجھا ہوا لڑکا تھا لیکن مالی حالات اچھے نہیں تھے جس کی وجہ سے جان راضی نہیں ہوا تھا ۔
” یہ تو بہت خوشی کی بات ہے نہ “
جوی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی جبکہ وہ اداسی سے سر جھکائے ہوئی تھی۔
” میں نے اماں سے صاف صاف کہہ دیا ۔ پہلے جوی کی شادی ہو گی تو ہی میں کروں گی ۔ تب تک روشنی بھی بڑی ہو جائے گی “
” میرے نصیب کے انتظار میں خود پر نصیب کے دروازے کیوں بند کر رہی ہو سنانا ۔ رہبر اچھا لڑکا ہے جو تمہیں یوں ایک بچی کے ساتھ بھی قبول کر رہا ہے “
بہت آہستگی سے سنانا کے چہرے کو ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا ۔
” نصیب وہ کیا ہوتا ہے جوی ؟ “
اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ۔ ایک ہوک تھی جو جوی کے دل میں ٹیس بن کر اٹھی اور پھر کم ہوتے ہوئے جیسے پورے وجود میں گھل گئ ۔ پانی کیتیلی میں پک کر اب پتی کناروں سے چپکنے لگی ۔
جوی نے فوراً پکتے پانی میں دوھ کی بوتل انڈیلی ۔ سفید دودھ سیاہ ہوتے پانی میں گھل کر اپنا رنگ بدلنے لگا ۔
” پہلے میں اکثر یہ سوچتی تھی کہ کاش کوئی ایسا بازار ہو جس سے خوبصورت چہرہ خرید لاؤں خوبصورت چہروں کے ساتھ شائد نصیب فری میں مل جائے گا لیکن اب تمہیں دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں نہیں نصیب خوبصورت چہروں سے نہیں جڑے ہوتے ۔ ابا کو دیکھ کر سمجھ آتی ہے ۔ نصیب تو دولت سے جڑے ہوتے ہیں ۔ “
کھویا سا لہجہ اور آنکھیں کھولتی چائے پر تھیں ۔ چینی کے دو چمچ کیتیلی میں انڈیل کر وہ گم صم کھڑی سنانا کی طرف پلٹی ۔
وہ مسکرائی تھی ۔ پھیکی سی مسکراہٹ ۔ سنانا نے تڑپ کر اس کے چہرے پر نگاہ گھمائی
” تم بد صورت نہیں ہوئی جوی۔ کیوں ایسا سوچتی ہو ؟ تم بہت پیاری ہو ۔ تمھاری آنکھیں اتنی خوبصورت ہیں سیاہ بڑی سی , گھنی لمبی پلکیں , تمھارے چہرے کا ہر نقش اتنا معصوم اور جاذب نظر ہے کہ “
سنانا جلدی جلدی ایک ہی سانس میں جوی کو اس کی خوبصورتی سے آشنا کر رہی تھی ۔ وہ بے ساختہ ہنس دی نہ ختم ہونے والی ہنسی کندھے ہل رہے تھے ۔ سیاہ کناروں والے لبوں کے نیچے سفید ترتیب سے تراشے دانت بھی دکھنے لگے ۔
” ہنس کیوں رہی ہو ؟ سچ کہہ رہی ہوں بالکل ۔ اور تمھارے بال لوگ تو ایسے کرل ڈالنے کو پتا نہیں کتنے پیسے لگا دیتے ہیں “
سنانا نے خفگی سے گھورا ۔ وہ ہنستے ہوئے چائے کپوں میں انڈیل رہی تھی اور سر کو آہستگی سے نفی میں ہلا رہی تھی ۔
” میں نے کب کہا تم جھوٹ کہہ رہی ہو ۔ تمہیں میں واقعی بہت خوبصورت لگتی ہوں گی کیونکہ میں تمھاری بہن ہوں اور تمہیں مجھ سے محبت ہے۔ کسی اور کی نظر سے دیکھو گی تو نہیں لگوں گی۔ “
چائے کا کپ اسے پکڑاتے ہوئے وہ اب بھی ہنس رہی تھی ۔
” نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ دیکھنا ایک دن کوئی شہزادہ آئے گا میری جوی کے لیے “
سنانا نے جوش سے کہا چائے کا کپ دونوں ہاتھوں میں تھامے اس کا موڈ ایکدم خوشگوار ہو گیا تھا ۔ چائے کے کپ سے اڑتی بھاپ اس کے چہرے تک اٹھ رہی تھی ۔
” پھر سے ڈائجیسٹ پرھنے لگی ہو نہ ؟ مت پڑھو حقیقت بہت تلخ ہوتی ہے اس سے “
جوی نے مصنوعی شکن ڈالے تنبہیہ کیا ۔
” نہیں تو کہانیاں ہمیں جینے کے طریقے بھی تو سکھاتی ہیں ۔ ہر کہانی رومانوی اور خیالوں سے پرے تو نہیں ہوتی ۔ بہت سی کہانیاں سبق آموز بھی ہوتی ہیں ۔ کہاں کیا غلط ہے کیا صیح ہے یہ سب بھی تو سکھاتی ہیں۔ “
‘” اچھا اماں دادی پڑھ لیا کرو ۔ چائے کیسی بنی ہے یہ بتا؟ “
کپ کے کنارے کو لبوں سے لگائے بھنویں اٹھاتے ہوئے سوال کیا ۔
” ہائے بہت بہت کڑک , فلیٹ کی بالکنی یاد دلا دی “
وہ مسکرا رہی تھی۔ آنکھیں بند کئے چائے کی لذت کو اندر اتارتے ہوئے وہ واقعی بیتے اچھے دنوں کی یاد میں کھوئی تھی ۔
مگر جوی کو صرف بالکنی یاد نہیں آئی تھی ۔ کوئی اور بھی تھا جو سامنے پارک میں سفید پتھر کے بنچ پر سر جھکائے بیٹھا تھا ۔
☆☆☆☆☆
ہوٹل کے اس نفیس کمرے میں حنا کی مدھم سسکیوں کے ساتھ اس کی آنسوؤں میں روندھی بازگشت بھی گونج رہی تھی ۔
یہ چونگکینگ کے ایک فائیو سٹار ہوٹل کا کمرہ تھا جس کے وسط میں حنا جوی کے گلے لگے ہوئے تھی ۔ سیاہ گرم مکمل بند کوٹ میں ملبوس وہ شفاف آنسوؤں سے تر چہرہ لیے اس دن کی نسبت بہت بہتر حالت میں تھی ۔ جوی گہرے نیلے رنگ کی جرسی کے نیچے پاؤں تک آتی گلابی سکرٹ زیب تن کئے ۔ بالوں کی سلیقے سے چوٹی بنائے پرسکون چہرے کے ساتھ گلے لگے حنا کی کمر کو تسلی آمیز انداز میں سہلا رہی تھی ۔
” مجھے معاف کر دینا جوی ۔ میری وجہ سے اتنی تکلیف اٹھائی تم نے ۔ شنگ جب بھی میری تمھارے گھروالوں سے بات کرواتا تھا تو وہ میرے سر پر کھڑا ہوتا تھا ۔ جو وہ کہنے کے لیے کہتا تھا میں وہی کہتی تھی “
حنا کی شادی کے بعد اس کے والدین کے ذکر پر ہی جان اور مریم کو پتہ چلا تھا کہ کوئی ایسا چینی گروہ ہے جو عیسائی بچیوں سے وہاں کے لڑکوں کی شادی کرواتا ہے ۔
حنا کے والدین کے مطابق حنا وہاں بہت خوش تھی۔
بس وہیں سے جان اور مریم کو لی تاؤ کا رشتہ ملا تھا جو اس وقت ان کی اشد ضرورت تھا ۔ تفتیش کے لیے ایک دو دفعہ حنا سے بات ہو جانے کے بعد انہوں نے مزید لی تاؤ کی کوئی چھان بین نہیں کروائی تھی ۔
” مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں پگلی تم نے تو اپنی جان پر کھیل کر مجھے فون کیا تھا لیکن اُس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔ “
جوی نے آہستگی سے کہا لمحہ بھر کو چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا ۔ پھر وہ مسکراتی ہوئی اس سے الگ ہوئی ۔ اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا ۔
” بھول جاؤ سب جو بھی ہوا ۔ اب پاکستان جا رہی ہو تو نئے سرے سے اپنی زندگی شروع کرنا ۔ “
حنا کے شوہر شنگ کے بے ہوش ہوتے ہی دران اور انل اس کو وہاں باندھ کر حنا کو بحفاظت وہاں سے نکال لائے تھے ۔ ایسا کرنا بے حد ضروری تھا کیونکہ پولیس کو شنگ پورے ثبوتوں کے ساتھ پیش کرنا تھا ۔
اس کے بعد حنا کو بحفاظت پولیس سٹیشن پہنچایا جہاں اس نے شنگ کے خلاف بیان دیا اور چائنہ پولیس کے فوری ردعمل پر بے ہوش شنگ کو اس کے گھر سے تمام ثبوتوں سمیت گرفتار کر لیا گیا ۔
پھر دو دن کے اندر اندر صرف شنگ ہی گرفتار نہیں ہوا تھا دران اور انل نے حنا کی ویڈیو بنائی اور اس کو وائرل کرتے ہوئے پاکستانی حکام کو جگایا جن کی توجہ اس گھناؤنے جرائم کی طرف آج تک گئی ہی نہیں تھی ۔ دو دن کے اندر اندر نہ صرف چائنہ میں شنگ سے لے کر لی تاؤ جیسے ایسے چال باز تمام لڑکوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی بلکہ پاکستان میں ان جرائم میں ملوث دھڑا دھڑ گروہ اب گرفتار ہو رہے تھے ۔ بہت سی لڑکیاں حنا کے ساتھ بازیاب کروا لی گئی تھیں جن کی آج رات پاکستان روانگی تھی ۔
جوی کو اور خود کو دران ابھی بھی اس سارے معاملے میں مخفی رکھے ہوئے تھا ۔ وہ جانتا تھا ابھی اس ایکشن پر بلیک سکیس مافیا بھی کچھ دیر کے لیے روح پوش ہو گیا ہو گا ۔ اسے اسی دوران جوی کو لے کر چائنہ سے نکلنا تھا ۔
اب کی بار دران نے سنوکر کے کھیل جیسا داؤ کھیلا تھا سٹرگیر کو ایسی ضرب دی تھی کہ چاروں طرف بہت سی گیند نہ صرف نشانے پر آئی تھیں بلکہ لڑھکتے ہوئے چاروں خانوں کو چت کر دیا تھا ۔ جوی نے پاکستان میں سنانا اور راہبر سے بات کر لی تھی جنہیں وہ اپنے معاملے میں خاموشی اختیار کرنے کی تلقین کر چکی تھی ۔ دران اسے اس سارے معاملے سے بڑے انداز میں الگ کر رہا تھا ۔ اس وقت حنا پاکستان واپسی کے لیے تیار تھی اور جوی سے الوداعی طور پر گلے مل رہی تھی ۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر جوی اور حنا نے ایک ساتھ دروازے کی طرف نظر گھمائی ۔ دران کے پیچھے انل کمرے میں داخل ہو رہا تھا۔
دران ہنوز اپنے لاپرواہ سے حلیے میں جبکہ انل سوٹڈ بوٹڈ تھا ۔ وہ تو کھلے سے ٹرائیوزر کی جیب میں ہاتھ ڈالے موبائل سکرین پر کچھ دیکھنے میں مگن تھا جبکہ انل اب لب بھینچے ان کی طرف بڑھ رہا تھا
” آپکی فلائیٹ کا وقت ہے ۔ پولیس نیچے انتظار کر رہی ہے ۔ “
حنا نے آہستگی سے سر کو اثبات میں ہلایا اور پھر سے جوی کو اپنے ساتھ لگایا ۔
” اپنا خیال رکھنا جوی “
نم آنکھوں کے ساتھ محبت سے اس کے کان میں سرگوشی کی ۔
” تم بھی ۔ “
وہ پیچھے ہو کر آہستگی سے مسکرائی تھی ۔ حنا ایک محبت بھری الوداعی نگاہ اس پر ڈالتی پلٹی اور انل کے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئی ۔
وہ اب تک کمرے کے وسط میں اپنے موبائل پر سر جھکائے کھڑا تھا ۔ جوی کو پرپوز کرتی ویڈیو نے پورے ہالی وڈ میں ہلچل مچا دی تھی ۔ میڈیا والے اور فینز دران کے غائب ہونے پر بے چینی ظاہر کر رہے تھے ۔ سب کو جاننا تھا کہ آخر وہ کونسی خوش قسمت لڑکی ہے جسے درانگ اپنی دلہن بنانے والا ہے ۔ وہ اس سے کب ملا کیسے ملا کب محبت ہوئی اور اب کب شادی کرے گا ۔
دران کی پرپوز کرنے والی ویڈیو نے ہاروی اور بروس کی ویڈیو کو پس پشت ڈال دیا تھا ۔ لوگوں کو بس اب درانگ کے میڈیا پر بیان کا انتظار تھا ۔ وہ یونہی ٹرائیوزر کی بائیں جیب میں ہاتھ ڈالے پیشانی پر افقی شکن ابھارے دائیں ہاتھ میں موجود موبائل سکرین پر نظریں جمائے ہوا تھا ۔ جب جوی اپنے اور اس کے بیچ موجود چند قدم کا فاصلہ ختم کرتے ہوئے اس کے مقابل آ کھڑی ہوئی ۔
جوی نے دونوں ہاتھوں کو ہتھیلوں کو آپس میں ملایا اور الفاظ کو ذہن میں ترتیب دیا ۔ تھوک نگلا اور نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی ۔ اس کے کلون کی مدھم سی مہک اتنی سی دوری پر دل کہ دنیا اتھل پتھل کئے ہوئی تھی ۔
” الفاظ نہیں ہیں میرے پاس کیسے شکریہ ادا کروں آپکا “
بہت ہلکی سی بازگشت تھی جس نے کمرے کی خاموشی میں ارتعاش پیدا کیا ۔
” مت کریں “
روکھا سا مختصر جواب ۔ وہ موبائل کو دیکھنے میں محو تھا ۔ ایکدم عجیب سی ندامت ہوئی ۔ وہ بدتمیز تو شروع سے تھا ۔ جوی آنکھیں جھپکے اس بدتمیز کو دیکھ رہی تھی ۔
” میرا مطلب ہے شکریہ مت ادا کریں بس میرے لیے وہ کریں جو میں کہوں گا “
سپاٹ لہجے میں بنا تمہید باندھے اپنا مقصد بتایا ۔ پھر نگاہ اٹھائی ۔
اُف۔۔۔ گھائل کر دینے والی ہیزل آنکھیں ۔ جوی نے فوراً پلکیں گرا دیں ۔
” کیا کرنا ہو گا مجھے ؟ “
یہ ادب صرف اس کے احسانوں کے مرہون منت نہیں تھا ۔ سامنے کھڑی لڑکی کے لیے وہ کچھ اور ہی اہمیت رکھتا تھا ۔ اسے جب بھی یہ محسوس ہوتا تو عجیب سی چڑ ہونے لگتی ۔
” فلحال تو پورے اعتماد کے ساتھ میڈیا پر انٹرویو دینا ہے آپکو “
گہری سانس لیتے ہوئے ذہن سے جوی کی سوچ کو جھٹکا ۔ وہ اب پھر سے پلکیں اٹھائے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔ سیاہ آنکھوں کی پتلیوں میں بے پناہ احترام کے ساتھ ایک سمندر موجزن تھا ۔ جو دران سے مخفی نہیں رہ سکتا تھا فوراً نگاہیں چرائیں چہرے پر سختی عود آئی ۔
” کیسا انٹرویو دینا ہوگا مجھے ؟ “
وہ سوال کر رہی تھی ۔ میٹھی سی آواز جس کی پھوار اس کے اعصابوں پر برسنے لگتی تھی ۔ کیا تھی وہ اور کیوں تھی ۔ لیکن اسے نہیں چاہیے تھی وہ زبردستی گھس رہی تھی اس کی زندگی میں۔۔۔ اس کی بہت ہی پرسنل زندگی میں ۔۔۔۔ جہاں آج تک وہ کسی کو مقام دینے کا تصور بھی نہیں کرتا تھا وہاں وہ ایک سانحے کے طور پر آ رہی تھی ۔
” بتاؤں گا ۔ “
تیزی سے وہ اس کے پاس سے گزرتا ہوا کمرے کے دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔ جوی اب بند دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ وہ چلا گیا تھا لیکن اس کی خوشبو یہیں ہوا میں اب تلک گھلی تھی ۔
