Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 32,33)

Basil by Huma Waqas

دران جامنی جوڑے کو جس کے گلے پر چاندی رنگ نیگینے بڑی نفاست سے گولائی میں جڑے تھے , ہینگر سے تھامے کھڑا تھا ۔ وہ یہ سب بلاتامل , بنا سوچے سمجھے کر گیا تھا ۔ شاید جویریہ کی الجھن برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔

دران کی آنکھوں میں موجود شوخی اور یہ بے تکلفی وہ یک ٹک اس پر نگاہ جمائے ہوئے تھی اور دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا ۔ ذہن تھا کہ یہ سب قبول کرنے کو قطعاً تیار نہیں تھا ۔ دل جہاں دران کی ان عنایتوں , محبتوں , نگاہوں کی نرماہٹوں اور نوازشوں پر دبی محبت کو ہوا دینے لگا تھا وہاں ذہن کسی صورت اس انہونی کو تسلیم نہیں کر رہا تھا شاید دران صرف ترس کھا رہا ہو۔ شاید وہ صرف پچھتا رہا ہو اپنے ظلم پر , شاید اسے مجھے موت کے منہ میں دھکیل دینے کا گلٹ ہو ۔ جب جب دل اس کی آنکھوں کو پڑھ کر محبت کی تصدیق کرتا تب تب ذہن یہ سارے وسوسے دہرانے لگتا ۔

دران اس کے چہرہ اوپر اٹھانے پر اس کی آنکھوں کی شفاف سفید پتلیوں کو محبت سے دیکھ رہا تھا ۔ اس کی حیرت سے کھلی بڑی بڑی آنکھوں کو وہ اس کے چہرے پر جمائے دل کے گوشے میں کونپل کی طرح پھوٹتی محبت کو نمی بخش رہی تھی ۔

” یہ اچھا لگے گا تم پر ۔ “

دران نے آہستگی سے کہتے ہوئے خاموشی کے اس جانفشاں طلسم کو توڑا ۔ جوڑا آہستگی سے پھر سے بیڈ پر رکھا اور پلٹا ۔

” آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ ؟ “

وہ مکمل طور پر پلٹا نہیں تھا جب جویریہ کے سپاٹ لہجے میں کہے گئے جملے پر رکا ۔ رخ مصنوعی حیرت سے اس کی طرف موڑا۔ چہرے پر سنجیدگی بڑھائی اور بھنویں مخصوص طرز میں اکٹھی کیں۔ وہ نگاہیں جھکائے پوچھ رہی تھی ۔

” کیا کر رہا ہوں ؟ تم سے ڈریس چوز نہیں ہو رہا تھا میں نے ہیلپ کر دی ۔ “

” میں ہیلپ کی بات نہیں کر رہی ہوں ۔ “

تاہنوز نگاہیں جھکائے بڑے وثوق سے کہا ۔ وہ سوچ سوچ کر تھک چکی تھی اب مزید اس کشمکش کی وجہ سے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی ۔

” پھر کیا بات کر رہی ہو ؟ “

دران نے حیرت ظاہر کی ۔ اس کی مانگ پر نگاہیں جمائے وہ اب بھی ذہن پر پورا زور دے رہا تھا کہ وہ کیا سوچ رہی ہے ؟ اس سے کیا پوچھنا چاہ رہی ہے ؟ کچھ اندازہ ہو لیکن وہ ہر بار کی طرح ناکام تھا ۔

” آپ مجھے پریشان کر رہے ہیں پچھلے ایک ہفتے سے ۔ “

ٹھوس لہجے میں جواب دیا ۔ وہ ان لڑکیوں میں سے نہیں تھی جو لڑکوں کی ایک مسکراہٹ اور ایک نگاہ کرم کو محبت سمجھ کر خود سے ہی خوش فہمی میں اڑنے لگیں ۔ وہ دران سے دو ٹوک بات کرنا چاہتی تھی ۔ دران نے اس کی اس بات پر فکرمندی سے ماتھے پر شکن ڈالے ۔

” مطلب ؟ “

آنکھیں پھیلائے حیرت ظاہر کی , اسے دران پر غصہ آ رہا تھا ۔ اسے کیا نہیں پتا تھا وہ کیا کر رہا ہے اتنے دن سے ۔ اس کا بدلہ رویہ , محبت سے دیکھنا , فکر کرنا , ہر بات پر مسکرا دینا , بات کرنے کے بہانے تلاش کرنا ۔ وہ تلملا کر بیڈ پر سے اتری اور غصے میں لب بھینچے دران کے سامنے تن کر کھڑی ہوئی ۔

” آپ کی یہ ساری عنایتیں , فکر مندی اور مجھے یوں ہر وقت دیکھنا ۔ ثابت کیا کر کرنا چاہتے ہیں آپ ؟ “

پھٹ پڑی تھی وہ ۔ وجود بلاوجہ ہی کانپنے لگا ۔ دران نے پیشانی پر پڑے شکن ایک دم ختم کیے۔ اوہ ۔۔۔ تو اس کی محبت کی تپش اس سے مخفی نہیں رہ سکی ۔ دل زور سے دھڑکا ۔

” خیال کر رہا تھا تمہارا ۔ تم بیمار تھی۔۔۔ “

اف ۔۔ اف ۔۔۔ دل پر گھونسا لگا ۔ تکلیف شدید تھی ۔ شاید ذہن نے لگایا تھا اور اب ذہن ہاتھ تانے دل پر قہقے لگا رہا تھا ۔

” بیمار تھی دران ملک اب نہیں ہوں ۔ بالکل ٹھیک ہوں اب میں ۔ مجھ پر ترس کھانے کی , بلاوجہ میرا خیال کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپکو ۔ “

گھٹی سی آواز میں مصنوعی غصہ دکھایا جبکہ آنکھوں میں جلن ہونے لگی تھی ۔ دل تکلیف سے پھٹنے کو تھا اور ذہن زور زور سے تالیاں بجا رہا تھا ۔

” آپ مجھے آزاد کب کر رہے ہیں ؟ بنا مقصد کب تک قید میں رہنا ہو گا مجھے یہاں ؟ “

نخوت سے ناک بھینچے آنسوؤں کا گلا گھونٹتی آواز تھی ۔ دران نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔ مطلب وہ اس سے محبت نہیں کرتی ۔ اسے میرے ساتھ رہنا قید لگ رہا تھا ۔ عجیب سا دھواں تھا جو دران کے وجود میں بھرنے لگا ۔

” بہت جلد ۔ “

بمشکل حلق سے آواز برآمد ہوئی ۔

آہ تکلیف آمنے سامنے کھڑے دونوں دلوں میں ایک جیسی اٹھی تھی ۔ دل کے پمپ کرنے کی رفتار کے ساتھ تکلیف بڑھتی جا رہی تھی ۔ یہ چبھن میٹھی نہیں تھی بہت دردناک تھی ۔ جویریہ نے ضبط سے تھوک نگلا اور ہمت سے چہرہ اوپر اٹھایا ۔

” بہت جلد مطلب کب ؟ “

سختی سے لب بھینچے وہ اس سے اپنی آزادی کا وقت پوچھ رہی تھی جسے وہ اپنے دل کے نہاں خانوں تک میں قید کر چکا تھا ۔

” آج رات پارٹی میں ۔ “

دل دھڑکنا بھول گیا ۔ آہ ۔۔۔۔ سارا بھرم پل بھر میں ڈھیر ہوا ۔ ٹیس دونوں دلوں میں ایک سی اٹھ کر آنکھیں اب دھواں دھواں ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔

” آج رات پارٹی میں سب کے سامنے جھگڑا کریں گے ہم ۔ “

دران نے بلاجواز ناک بھینچی اور شیشے کی دیوار پر نگاہیں جمائیں ۔

” کس بات پر ؟ “

بہت بھاری آنسوؤں کو روکتی آواز تھی ۔ وہ پل پل بکھر رہی تھی خود کو سمیٹ رہی تھی ۔ سامنے کھڑے سنگدل کے بارے ایک پل کے لیے بھی کیسے سوچ لیا تھا کہ وہ مجھ جیسی عام لڑکی سے محبت کرنے لگے گا ۔

جھگڑے کی وجہ پوچھتی وہ کتنی بے تاب لگ رہی تھی اس سے چھٹکارے کو ۔۔ دران نے گہری سانس باہر انڈیلی ۔

” با۔۔۔بات تو کوئی بھی نہیں ہو گی ۔ بلاوجہ جھگڑا کریں گے ۔ بس لوگوں کو دکھانا ہے کہ ہمارے بیچ جھگڑا ہو رہا ہے ۔ “

ایک نگاہ اس کے سراپے پر ڈالی ۔ دل نے تکلیف میں ہی تصدیق کر دی ۔ ہاں وہ مجھ میں بستی ہے ۔ سرعت سے نظریں چرائیں اور لاپرواہی سے ٹرایوزر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ۔

” بس پھر اس کے بعد ڈائیورس پیپر تو انل ریڈی کروا ہی چکا ہے ۔ “

بمشکل جھوٹ بولا ۔ جویریہ کو سانس کہیں حلق میں اٹکنے جیسا احساس ہوا ۔

ایک دن تو الگ ہونا ہی تھا پھر اتنا درد کیوں ؟ کتنا سمجھاتی رہی تھی خود کو پر اب دل چاہ رہا تھا پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔ سامنے کھڑے شخص کے سینے سے جا لگے اور کہے ۔ دیکھو مجھے خود سے الگ نہ کرو ۔ یہیں کہیں کسی کونے میں رکھ دو ۔ نہ بات کرو نہ کوئی اور عنایت بس خود سے الگ مت کرو ۔ میں تا حیات یہاں تمھارے آس پاس رہوں گی ایک بے جان وجود کی طرح , ایک بے ضرر احساس کی طرح ۔ بس مجھے اپنا نام ہی دے دو دران ۔ پلیز مجھے اپنے نکاح میں رہنے دو ۔

” آپ کا وہ مقصد ؟ آپ اس پروڈیسر سے ملوانا چاہتے تھے مجھے ۔ اس سے بدلہ ۔۔ “

بہت دور سے آتی آواز تھی جس میں دل بمشکل اٹھتی انگنت التجائیں دبا رہا تھا ۔

” کسی سے بدلہ نہیں لینا مجھے ۔ “

دران نے سپاٹ لہجے میں تیزی سے جواب دیا اور پھر سرعت سے قدم کمرے کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھا دیے ۔

تیز تیز لان کی طرف بڑھتے قدم دل کی گھٹن بڑھاتے جا رہے تھے ۔ سب طے تھا ایک دن الگ ہونا ہے ۔ پھر یہ دل کی بڑھتی تکلیف یہ سانس لینے میں دشواری جب تک وہ لان میں پہنچا کنپٹی کی رگیں شدت غم سے ابھر گئی تھیں۔

اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا

ہمیشہ ہو ستارا ہم سفر آساں نہیں ہوتا

جو آنکھ کی اوٹ ہے چہرہ اسی کو دیکھ کر جینا

یہ سوچا تھا کہ آساں ہے مگر آساں نہیں ہوتا

بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں

سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا

اندھیری کاسنی راتیں یہیں سے ہو کے گزریں گی

جلا رکھنا کوئی داغ جگر آساں نہیں ہوتا

کسی درد آشنا لمحے کے نقش پا سجا لینا

اکیلے گھر کو کہنا اپنا گھر آساں نہیں ہوتا

جو ٹپکے کاسۂ دل میں تو عالم ہی بدل جائے

وہ اک آنسو مگر اے چشم تر آساں نہیں ہوتا

گماں تو کیا یقیں بھی وسوسوں کی زد میں ہوتا ہے

سمجھنا سنگ در کو سنگ در آساں نہیں ہوتا

نہ بہلاوا نہ سمجھوتا جدائی سی جدائی ہے

اداؔ سوچو تو خوشبو کا سفر آساں نہیں ہوتا

انل لان میں کھڑا پھولوں کی سجاوڑ کرواتا ہوا ملازموں کو ہدایات دے رہا تھا ۔ اچانک دران پر نگاہ پڑی وہ سگریٹ جلا رہا تھا ۔ مسکراتا ہوا اس کی طرف بڑھا ۔

” دران دیکھو اب کیسا لگ رہا ہے سب ؟ جیکسیکا بتا رہی تھی کیک میں تین رنگ استعمال ہوئے ہیں ۔ اس کے مطابق میں نے ایک پھول کا اور اضافہ کیا ہے ۔ “

پرجوش لہجے میں وہ اسے سجاوٹ اور کیک کا بتاتا ہوا لمبے لمبے ڈگ برتا اس تک پہنچا ۔ دران کے کوئی جواب نہ دینے اور دھواں دھواں ہوتے چہرے کو محسوس کرتے ہوئے وہ مسکراہٹ کو سنجیدگی میں بدلتا ہوا اس کے اور قریب ہوا ۔

” کیا ہوا خیریت ہے پریشان کیوں لگ رہے ہو ؟ “

” وہ آج رات میں اور جویریہ سب کے سامنے جھگڑا کریں گے ۔ تم سچویشن سنبھال لینا ساری ۔ “

بمشکل بات مکمل کی اور منہ کھول کر ایسے سانس لی جیسے کوئی تکلیف کو برداشت کرے ۔ انل نے بغور اس کے چہرے کو جانچا ۔

” مطلب ؟ میں سمجھا نہیں کیوں جھگڑا کرو گے تم دونوں ؟ “

” بس اسے میری قید سے آزاد کرنے کا وقت آ گیا ہے ۔ “

سگریٹ کا دھواں ہوا میں اڑایا ۔ دھویں کے مرغولے کے پیچھت دران کی نم ہوتی آنکھیں انل کی جانچتی نگاہوں سے کسی صورت مخفی نہیں رہ سکیں ۔

” اسے رونا چاہیے ۔ ” جویریہ کے کہے الفاظ انل کے ذہن میں گونجے ۔ وہ اپنے سامنے کھڑے دران کی آنکھوں میں زندگی میں پہلی بار نمی کا احساس دیکھ رہا تھا ۔ تڑپ کر اس کے قریب ہوا ۔

” دران کم از کم یہاں اس رشتے میں تو خود کو تکلیف مت دے یار ۔ “

انل کی بات پر وہ جو آدھی سگریٹ کو زمین پر پھینک کر اسے پاؤں سے مسل رہا تھا ۔ سر مزید جھکا لیا ۔ اٹھاتا بھی کیسے انل آنسوؤں سے بھری آنکھیں دیکھ لیتا ۔

” دران سن رہا ہے اوپر دیکھ یار “

وہ کندھے جھنجوڑ رہا تھا ۔

” ارے یار مت کر اتنا ظلم خود پر کیوں کر رہا ہے ایسا ؟ “

” کیا بکواس کرتے جا رہے ہو کیا کر رہا ہوں میں ؟ کونسا ظلم ؟ “

غصے سے سرخ ہوتا چہرہ جھٹکے سے اوپر اٹھایا ۔ آنکھیں متورم تھیں ۔ لب سختی سے پھینچے ہوئے تھے ۔

” محبت کرنے لگے ہو جویریہ سے اور تھپڑ ماروں گا اگر اب کی بار یہ کہا کہ نہیں کرتے ہو ۔ “

انل بن چکا تھا وہ جو ہر دفعہ اس کی محبت میں بن جاتا تھا ۔ اس کا ہر رشتہ ۔ دران نے چند سکینڈ انل کی نم ہوتی آنکھیں دیکھیں پھر سرعت سے رخ دوسری طرف موڑ لیا ۔ چند سکینڈ کی خاموشی تھی ۔

” اس کو دیکھ کر دل کو سکون ملنے لگا ہے ۔ کہیں بھی ہوں اس کا خیال آتا ہے بار بار ۔ وہ ہر وقت حواسوں پر ذہن پر سوار رہتی ہے ۔ پاس آتی ہے تو پورے وجود میں عجیب سی میٹھی سنسنی دوڑنے لگتی ہے ۔ اسے چھونے کی پاس جانے کی خواہش دل میں مچلنے لگتی ہے ۔ “

وہ کھوئے لہجے میں متواتر بول رہا تھا اور انل اس کے بالکل پیچھے کھڑا تھا ۔

” میرا دل شدت سے یہ خواہش کرنے لگا ہے کہ وہ میرے پاس رہے ہمیشہ , مجھ سے بہت باتیں کرے , مسکرائے , حکم چلائے ۔ محبت جتائے , خیال رکھے ۔ اگر اس سب احساسات کو محبت کہتے ہیں تو ہاں۔۔۔۔۔۔ تم ٹھیک کہہ رہے ہو مجھے اس سے محبت ہوگئی ہے ۔ “

وہ ہر بار کی طرح اپنے دل کی ہر بات اس کے سامنے کھوک کر رکھ چکا تھا ۔

” تو پھر اسے کیوں چھوڑ رہے ہو ؟ “

انل نے بازو پکڑ کر دران کا رخ زبردستی اپنی طرف موڑا ۔

” صرف میرے محبت کرنے سے کیا ہو گا ؟ “

استہزائیہ پھیکی سی مسکراہٹ تھی ۔

” مطلب ؟ “

انل نے حیرانگی سے آبرو اچکائے ۔

” مطلب یہ کہ وہ میری قید سے رہائی چاہتی ہے ۔ “

پھیکی سی مسکراہٹ اور گہری کی جس کے پیچھے درد چھپا تھا ۔ انل اب کی بار کچھ نہیں بول پایا ۔ اس کے چہرے اور آنکھوں سے جھلکتی اس کے دل کی تکلیف اس کی محبت اور جویریہ کی بے اعتنائی کی گواہ تھی ۔

” کل وکیل کو ڈائیورس پیپر کے لیے کہہ دینا ۔ بس چند دن اور ۔ میں اسے اور تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ۔ “

آہستگی سے کہا اور قدم پورچ کی طرف بڑھا دیے ۔ سورج مکمل ڈوب چکا تھا اور درانگ ولاس کے لان میں جگمگاتی روشنیاں سجاوٹ کے حسن کو اور دوبالا کر رہی تھیں ۔ سفید , ہلکے زرد اور ہلکے گلابی رنگ کے پھولوں لی نفیس سجاوٹ آنکھوں کو خیرہ کر دینے کی حد تک حسین لگ رہی تھی ۔

☆☆☆☆☆☆

کمرے میں چھائی خاموشی اس کے وجود میں چھائی خاموشی سے کم تھی ۔ ڈرسینگ روم کی بائیں جانب پوری دیوار میں نصب آئینے کے سامنے جامنی جوڑے میں ملبوس وہ کسی مجسم کی طرح بیٹھی تھی ۔

بالکل پاس کھڑی میک اپ آرٹسٹ رات کی تقریب کے لیے اس کے چہرے پر سنگہار کرنے میں مصروف تھی ۔

” آپ مجھے آزاد کب کر رہے ہیں ؟ بنا مقصد کب تک قید میں رہنا ہو گا مجھے یہاں ؟ “

” بہت جلد ۔ “

دل میں ایک درد کی لہر پھر سے اٹھی ۔ آنکھوں میں نمی کا احساس ہونے لگا ۔ اس سے پہلے کے آنسو چھلک جاتا وہ سرعت سے لڑکی کا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے سیدھی ہوئی ۔

” ایک منٹ ۔”

لڑکی ہاتھ میں پکڑے برش کو لے کر حیرت سے سیدھی ہوئی جبکہ وہ اب آگے ہو کر ڈرسینگ میز پر سے ٹشو اٹھائے نم ہوتی آنکھوں کے آنسو اس میں جذب کر رہی تھی ۔

” میم سب ٹھیک ہے ؟ “

میک اپ آرٹسٹ اس کے بار بار آنکھیں پونچھنے پر پریشان ہو کر پوچھ رہی تھی کیونکہ وہ یہ عمل تیسری بار دہرا رہی تھی ۔ جویریہ نے زبردستی مسکراہٹ کو چہرے پر سجا کر سر اثبات میں ہلایا۔

” جی ۔ “

” اگر آپ کچھ دیر ریسٹ چاہ رہی ہیں تو میں رُک جاتی ہوں کوئی مسئلہ نہیں ۔ “

وہ ملائم لہجے میں کہتے ہوئے پیچھے ہوئی ۔ جویریہ کا یوں بار بار نم ہوتی آنکھوں کو پونچھنا اور اترا سا چہرہ اس سے مخفی نہیں تھا ۔

” نہیں میں ٹھیک ہوں ۔ پارٹی شروع ہونے والی ہے پھر دیر ہو جائے گی ۔ پلیز آپ کریں اپنا کام ۔ “

” اوکے میم ۔ “

وہ سراسیمگی میں سر ہلاتی پھر سے جویریہ کے چہرے پر جھک گئی ۔

کیوں دل اتنا کمزور ہو رہا ہے ۔ مجھے کمزور نہیں ہونا اللہ ۔ اے اللہ ۔ اے میرے خدا مجھے مضبوط کر دے میں اس دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر کمزور نہیں پڑنا چاہتی ۔

” ایک دفعہ بات تو کر لے اس سے ۔ کیا پتا وہ طلاق نہ دے ” دل کی بازگشت نے کانوں تک سفر کیا تو ذہن فوراً چوکنا ہوا ۔

” نہیں بالکل نہیں کیا وہ سوچے گا نہیں کہ میں کیوں نہیں لے رہی طلاق ؟ ” ذہن نے فوراً دل کو سرزنش کیا ۔

مجھے دل کڑا کرنا ہے ۔ کیا ہوا وہ نہیں ۔ کیا ہوا اس کا نام نہیں ۔ دل نے صرف اس سے محبت کی ہے اور اسی سے کرتا رہے گا ۔ میں کبھی شادی نہیں کروں گی ۔ آنکھیں پھر سے ڈبڈبا گئیں لیکن دل نے فیصلہ کر لیا تھا ۔ اب کی بار اس نے آنسو اندر انڈیل لیے ۔

☆☆☆☆☆

لاہور سٹیشن کی پٹڑی پر چلنے کو تیار کھڑی ٹرین سیٹی بجا رہی تھی جس کی آواز گردونواح کے علاقوں میں گونج رہی تھی ۔

انہیں تنگ گلیوں میں موجود احمد بیگ کا یہ چھوٹا سا گھر میں اس وقت شام کی چائے کا وقت تھا ۔ برآمدے کا پنکھا پوری رفتار سے چل رہا تھا ۔ پنکھے کے بالکل نیچے رکھی کرسی پر دران سر جھکائے کتاب کے مطالعے میں مگن تھا ۔

بوسیدہ سی سفید ڈریس شرٹ کے نیچے جینز پہنے , آستئین کو کہنیوں تک موڑے وہ کتاب کو پڑھنے میں محو تھا اور کچن میں برتنوں کے بجنے کی آوازیں احمد صاحب کی کچن میں موجودگی کی نشاندہی تھیں ۔

لاہور آئے اسے ایک سال چھ ماہ ہو چکے تھے ۔ اس سارے عرصے میں وہ نہ صرف قرآن حفظ کر چکا تھا بلکہ تجوید اور تلاوت بھی سیکھ چکا تھا ۔ سٹیشن کے قریب ایک جم میں نوکری مل گئی تھی اور احمد صاحب کے گھر میں ایک کمرہ اور تین وقت کا کھانا بس یہی اب اس کا مرکز تھا ۔

” وہ تمہیں تلاش کر رہے ہیں ۔ “

احمد صاحب کی آواز پر اس نے سر اوپر اٹھایا ۔ وہ ہاتھ میں اخبار اور چائے کی ٹرے تھامے کھڑے تھے ۔

” جانتا ہوں ۔ “

دران نے متوازن لہجے میں جواب دیا اور پھر لاپرواہی سے سر کتاب پر جھکا دیا ۔ اسفند ملک نے اخبار میں اس کی گمشدگی کا اشتہار دیا تھا ۔ ایک سال اور چھ ماہ کا عرصہ ان لوگوں نے اس آس پر گزار لیا تھا کہ شاید وہ خود لوٹ آئے گا ۔

” کیا رشتہ ہے ان سے ؟”

احمد صاحب اخبار کو میز پر رکھتے ہوئے سامنے بیٹھے اور چائے کا کپ دران کی طرف بڑھا دیا ۔

” لالچ کا ۔ “

چائے کا کپ تھامے کڑواہٹ بھرے لہجے میں جواب دیا ۔

” لالچ کے ساتھ خون کا بھی تو ہو گا ؟ “

وہ دھیمے سے مسکرائے ۔

” نہیں پتا ۔ “

دران نے بیزاری سے جواب دیا ۔ ناک نفرت سے چڑھائے کتاب کو بند کیا ۔

” دیکھو اگر یہ سوچ رکھتے ہو کہ بنا کسی رشتے ناطے کے ساری عمر گزار لو گے تو ہاں صیح سوچ ہے ۔ گزار لو گے لیکن یہ یاد رکھو زندگی گزارنے میں اور جینے میں بہت فرق ہے برخوردار ۔ “

احمد صاحب کی آواز پر دران نے جھکا سر آہستگی سے اٹھایا اور ان کے چہرے کی طرف دیکھا ۔ وہ چائے کا گھونٹ بھر رہے تھے ۔ لبوں سے کپ ہٹا کر دران کے چہرے کی طرف دیکھا

” زندگی فقط گزارنے والے لوگ اللہ کی اس نعمت کی ناشکری کرتے ہیں جو ہمیں صرف ایک بار ملتی ہے ۔ “

وہ انگلی کھڑی کرتے ہوئے وثوق سے بولے ۔ دران نے نظریں جھکائیں اور کپ لبوں سے لگایا

” زندگی جی جانے کا نام ہے اور زندگی جینے کے لیے ہمیں رشتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے ۔ خونی , روح , دل اور احساس کے رشتے ۔ “

وہ دران کی آنکھوں میں جھانک رہے تھے جو ہمیشہ کی طرح بس صرف ان کو سننے میں مصروف تھا ۔

” خونی رشتے تمھارے ماں باپ , بہن بھائی اور تمھاری اولاد , احساس کے رشتے تمھارے احباب اور دل اور روح کا رشتہ تمھاری بیویاں ۔ یہ سب رشتے زندگی جینا سکھاتے ہیں ۔ ان سے الگ ہو کر زندگی جینا بہت کٹھن ہے۔ “

وہ لب بھینچے مسکرائے , دران نے پرسوچ نگاہ ان پر ڈالی ۔

” اگر ان میں سے ایک بھی رشتہ تمھارے پاس ہے تو لوٹ جاؤ ۔ تم زندگی کو فقط گزار کر ضائع کر رہے ہو جب بوڑھے ہو جاؤ گے تو پھر احساس ہو گا کہ میں نے زندگی صرف گزار کر کتنی بڑی غلطی کی ۔ “

دران حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا اور ان کی باتیں سنںے کے بعد اسے جس ہستی کا سب سے پہلا خیال آیا وہ انل تھا ۔

” لوٹ جاؤ بیٹا وہ انتظار کر رہے ہیں ۔ “

احمد صاحب کی آواز کانوں میں پڑ رہی تھی ۔ وہ اسے جانے کے لیے کہہ رہے تھے وہ سر جھکائے بیٹھا تھا ۔

☆☆☆☆☆☆

سیاہ آسمان پر چمکتا چاند اور روشنیوں میں دمکتا درانگ ولاس کا یہ لان دونوں کی خوبصورتی آج رات ہوش ربا تھی ۔ جہاں آسمان میں ستارے جھلملا رہے تھے وہیں درانگ ولاس میں بھی ہالی وڈ اور ڈرامہ انڈسٹری کے بہت سے خوبصورت ستارے جھلملا رہے تھے ۔

انہی خوبصورت دمکتے چہروں اور رنگ برنگ لباسوں میں ملبوس ستاروں میں دران ہلکے مسٹڈ بوسیکی کے کرتا شلوار میں گہری بھوری مردانہ شال کو گلے کے گرد گھمائے جہاں بہت منفرد لگ رہا تھا وہاں اپنے اس حلیے میں آج ہر نگاہ کا مرکز بنا ہوا تھا ۔ تقریب اپنے عروج پر تھی ۔ اونچے سروں میں بجتی موسیقی , قہقہے , باتیں سب مگن تھے ۔

کھانے کے بعد برھان اور سبرینا ریسپیشن کیک کاٹ چکے تھے ۔ دران جو ایک کونے میں کھڑا دوسری سگریٹ ختم کر چکا تھا اب جلتا آدھا سگریٹ میز پر رکھی ایش ٹرے پر رگڑا اور جویریہ کی تلاش میں نگاہیں دوڑائیں ۔

وہ تقریب میں موجود تھی اس کا احساس اس کے لان میں قدم رکھتے ساتھ ہی ہو گیا تھا لیکن اس نے تب سے لے کر اب تک ایک نگاہ بھی جویریہ پر نہیں ڈالی تھی ۔ آج اس پر نگاہ ڈالنا اس کی قید میں رہائی کی رکاوٹ بن سکتا تھا ۔

پورے لان میں گھومتی نگاہیں اس کے وجود پر آکر تھمی تو دل زور سے دھڑکا ۔ گہرے جامنی قمیض , اور کیپری میں ملبوس ہم رنگ بھاری بھرکم دوپٹہ ایک کندھے پر ٹکائے وہ سبرینا کے ساتھ باتوں میں مگن تھی ۔ بالوں کو سیدھا کرنے کے بعد ایک طرف مانگ کو بل ڈال کر کندھے پر گرائے وہ بار بار دوسرے کندھے پر موجود دوپٹے کو سنبھال رہی تھی ۔ دران نے گہری سانس خارج کی ایسے جیسے کوئی دل کے اندر اٹھتی حسرت کو دبائے ۔ قدم آہستگی سے اس کی طرف بڑھائے۔

بظاہر تو وہ سبرینا سے باتوں میں مگن تھی لیکن دل اس آنے والے لمحے کے خوف سے لرز رہا تھا اور پھر جیسے ہی دران کو اپنی طرف آتا دیکھا گلا خشک ہونے لگا ۔ اللہ مجھے ثابت قدم رکھنا ۔ مجھے مضبوط رکھنا ۔

” جویریہ بات سنو ۔ “

چند سکینڈ کے بعد وہ اس کے اور سبرینا کے پاس کھڑا اسے رعب سے بلا رہا تھا ۔ آنکھ اٹھا کر ضبط سے اس کی طرف دیکھا اور پھر دوپٹے کو کندھے پر سنبھالتی ہوئی اس تک آئی ۔ جیسے ہی اس کے قریب پہنچی دران آگے چل دیا اب وہ متوازن قدم اٹھاتی اس کی تقلید کر رہی تھی ۔ کچھ دور کیمروں کے پاس جا کر وہ رکا اور پھر پلٹا ۔ جویریہ نے اٹکی سانس بمشکل بحال کی ۔

” میں جھگڑے کی شروعات کروں گا پھر تم ساتھ دینا ۔ اوکے “

آہستگی سے قریب ہو کر کہا وہ ضبط سے سر ہلا گئی ۔ دل میں بڑھتی گھٹن اور گلے اٹکتا آنسوؤں کا گولہ وہ ضبط کی رسی کو تھامے ہوئی تھی ۔

” بکواس بند کرو اپنی ۔ “

دران کی رعب دار گونج سے ارد گرد کتنے ہی لوگ ایک ساتھ متوجہ ہوئے ۔ وہ غصے سے سرخ ہوتا چہرہ لیے جویریہ کے سامنے کھڑا تھا ۔ جویریہ نے چہرہ اس کی طرف اٹھایا ۔

” اتنے دن سے تمہیں بار بار ایک ہی بات سمجھا رہا ہوں ۔ تمہیں وہ سمجھ نہیں آ رہی ۔ “

دران کی اگلی دھاڑ پر جہاں سارے کیمرے اس کی طرف گھومے تھے وہاں لان میں سکتا چھا گیا تھا ۔ جویریہ کی آواز گھٹ گئی تھی ۔ دل میں دھواں بھر گیا تھا اور آنکھیں بس نمکین پانی سے بھرنے ہی والی تھیں ۔

” دران کیا کر رہے ہو ۔ پاگل ہو گئے کیا ؟ “

اسفند ملک ایک دم سے آگے بڑھے اور قریب آتے ہی دران کے کندھے کو تھاما ۔

” آپ چپ رہیں ۔ اس لڑکی نے میرا جینا حرام کر دیا ہے ۔ جب سے ہماری شادی ہوئی ہے ایک دن بھی سکون کا نہیں گزارا میں نے ۔ “

دران نے خونخوار نگاہ جویریہ کے جھکے سر پر گاڑے غراتے ہوئے کہا ۔ چاروں طرف دبی دبی سرگوشیاں ہونے لگی تھیں ۔

” دران کیا کر رہے ہو ۔ جویریہ بیٹا اندر جاؤ ۔ “

اسفند ملک نے دران کا بازو تھاما اور جویریہ کو اندر جانے کا اشارہ کیا ۔

” نہیں جائے گی یہ اندر ۔ “

دران نے ایک جھٹکے سے بازو چھڑاویا اور جویریہ کو دونوں کندھوں سے تھام کر قریب کیا ۔

” کیا مسئلہ ہے ؟ تم کچھ کیوں نہیں بول رہی ہو ۔ “

دران نے اس کے کان میں آہستگی سے کہا اور ایک جھٹکا دے کر اپنے سامنے کیا ۔ جیسے ہی جھٹکا ملا جویریہ کی آنکھوں میں اٹکے آنسو ایک دم سے لڑھک کر گال پر گرے ۔ اس کے چہرے پر نگاہ جاتے ہی وہ جو ادکاری کے جوہر دکھا رہا تھا ایکدم سے ساکن ہو گیا ۔

وہ رو رہی تھی ۔ آنسو متواتر گال پر بہہ رہے تھے ۔ وہ اس کی دھڑکن میں جو بسنے لگی تھی وہ اس کے سامنے کھڑی آنسو بہا رہی تھی ۔ دران نے اس کے بازو کو تھام کر ایک جھٹکا دیا اور سینے سے لگا کر بازؤں میں بھینچ لیا ۔

سب کچھ گھڑی بھر میں ہی تھم گیا , وقت جو بھاگ رہا تھا اب دھیرے سرکنے لگا ۔ روح جو پل پل بکھر رہی تھی سمٹ گئی ۔

دران کی مضبوط بانہوں کے حصار میں وہ حیرت سے دنگ پوری آنکھیں کھولے کھڑی تھی ۔ گال اس کے سینے سے اوپر اس کے مضبوط کندھے سے لگا تھا اور دھڑکنیں اپنی رفتار کم چکی تھیں ۔

بے یقینی , بے اختیاری , ایک خواب جیسا احساس ۔ ایک طلسم کے سحر میں جکڑے لمحے جیسا احساس ۔ ایسا نا قابل یقین خواب جس کے ٹوٹ جانے کا خوف ہو مگر یہ خواب نہیں تھا دران کا سانس لینا , اس کے دل کادھڑکنا ,اس کا لمس , اس کی خوشبو وہ سب محسوس کر رہی تھی ۔

یہ وہ لمحہ تھا جب وہ خود سے کیا ہر وعدہ بھولے ایک روایتی عورت کا روپ دھار گئی ۔ وہ عورت جس کو خدا نے محبت کی مٹی سے سینچا اور نرم دل اس کے سینے میں رکھ دیا ۔ وہ بہت مضبوط بن کر یہاں تک آئی مگر دل عین وقت پر بغاوت کر گیا ۔ دغا دے گیا ۔

ہاں یہ سچ تھا کہ دران سے کی اس لازوال محبت کا اعتراف مشکل تھا , اپنے سالوں کے انتظار کا اقرار مشکل تھا لیکن دل کہاں دماغ کی سنتا ہے ۔ خاص طور پر تب جب وہ خودسر ہو جائے ۔

سامنے کھڑا وہ شخص اس کی دسترس میں ہو کر بھی اس کی سوچ سے کہیں اونچا تھا ۔ دران کو یہ باور کروانے کے لیے کہ وہ ویسی نہیں ہے جیسا وہ اسے سمجھ رہا ہے , اس نے خود پر , دل پر , جذبات پر ہزاروں بند باندھ لیے تھے ۔ برسوں سے اس کی ایک ملاقات کی یادوں کے سہارے جینے والی نے یہ بے پناہ محبت اپنے ہی اندر ایسے چھپا لی تھی کہ وہ خود اب اس بات سے انکاری تھی کہ اسے دران سے محبت ہے ۔

انسان چاہے خود سے بہت مضبوط بن جائے ۔ پرعزم ہو کر اپنے فیصلوں پر ڈٹ جائے لیکن اس کے دل کا ہر راز , ہر بھید وہ جانتا ہے جس کے پاس سب اختیارات ہیں ۔ انسان کے مضبوط بننے سے کچھ نہیں ہوتا ۔ وہ جب چاہے کسی کو بھی کسی لمحے کمزور کر دے ۔ وہ مالک ہے کل کائنات کا اور اس وقت بھی جو کچھ ہوا وہ ان دونوں کے اختیار میں نہیں تھا ۔ یہ سب تو اس کے اختیار میں تھا جو عرش پر جوڑے بناتا ہے ۔

تم نہیں جان سکتی کہ دنیا میں انگنت چلتے پھرتے وجود میں سے کس وجود کی پسلی سے لی گئ مٹی سے تمہیں سینچا گیا ہے ۔ تمہیں کیسے , کب اور کیونکر تمھارے اس مجازی خدا سے ملانا ہے۔ اس سب کی خبر تمہیں نہیں اس ذات کو ہے جس نے کائنات کے اس نظام کو چلا رکھا ہے ۔ تم چاہے اس نازک دل کے ساتھ مضبوط بنتے ہوئے ہزار نفی کرو اس ساتھ کی جس کے وجود سے لی گئی مٹی سے ہی تمھارا وجود اس دنیا میں آیا ہے لیکن اگر تم سچی عورت ہو جس کا دل نرم اور حساس ہے جیسا اللہ چاہتا ہے تو تم کبھی اپنے اس جوڑ کے وجود سے منکر نہیں ہو سکتی ۔ تم اسی میں سے سینچی ہو تمہیں اسی سے ملنا ہے , وہ تمھاری تکمیل ہے اور یہی وہ نظام ہے جو اس پاک ذات نے تشکیل دیا ہے۔ آدم اور حوا سے چلا یہ سلسلہ ازل سے ہے ابد تک رہے گا ۔ دنیا میں ہر وجود کو جوڑوں کی صورت میں پیدا کیا گیا ہے ان کا ملن لازم ہے ۔ کب , کہاں , کیسے , کیونکر , کس وقت یہ سب وہ جانتا ہے جس نے اس نظام کو تشکیل دیا اور وہ اللہ ہے ۔

تمہیں الگ کرنا ہے یا اس جوڑی کو ابدی بنا کر جنت میں تمہیں اس کے تخت کی ملکہ بنانا ہے صرف وہ جانتا ہے ۔

دران نے جس لمحے اسے خود سے لگایا وہ ایک ایسے پتلے کی مانند تھی جس کی جان کے آخری پل سامنے کھڑے اس جادوگر کی مٹھی میں تھے ۔ وہ ڈھے جاتی اگر دران اسے خود میں سمیٹ نہ لیتا جیسے ہی حواس بحال ہوئے اس کا پورا وجود دل بن کر دھڑکا ۔ دران کا اس کے گرد باندھا بانہوں کا یہ حصار ویسا نہیں تھا جیسا ادکاری میں ہوا کرتا تھا ۔

وہ تو اسے خود میں سمیٹ کر اپنی دھڑکنوں سے اس کی دھڑکنوں کو چھو رہا تھا ۔ بالکل خاموش اسے خود سے لگائے وہ ہر بات بھولے ہوئے تھا ۔

اردگرد کھڑے لوگ جو کچھ دیر پہلے دران کے یوں برہم ہونے پر معنی خیز سرگوشیاں کر رہے تھے ۔ اب ششدر کھڑے اس منظر کو تاک رہے تھے ۔

انگنت کیمرے جو ایک سنسنی خیز خبر کے طور پر اس منظر کو قید کرنے میں لگے تھے اب اس دلفریب منظر کو کیمروں میں قید کر رہے تھے ۔ جہاں نفرتوں سے بھرے دل جل کڑھ گئے وہاں کچھ لوگ اس دلفریب منظر پر بے اختیار مسکرا اٹھے ۔

کچھ پل پہلے دران کی دھاڑنے پر چھائی خاموشی اب شوخ سیٹیوں اور تالیوں کی گونج میں تبدیل ہو گئی ۔ چاروں جانب سے قہقے اور معنی خیز محبت بھرے جملے گونج رہے تھے ۔

دران ملک جو اپنی بیوی پر گرجا تھا اس کی آنکھ سے بہتا ایک آنسو دیکھ کر سب بھلا دیا ۔ ” واہ محبت ہو تو ایسی ۔ “

وہ جو بے اختیار ہی اسے خود میں سمیٹ گیا تھا اب ہوش آنے پر احساس ہوا کہ وہ تو دنیا کے سامنے اپنے رشتے کو کمزور ظاہر کرنے والے تھے لیکن یہاں تو سب الٹ ہو گیا ۔

آہستگی سے جویریہ کے گرد بندھی بانہوں کی گرفت ختم کی اور الگ ہوا ۔ وہ سر جھکائے ہوئے تھی , حیرت , بے یقینی چہرے پر اب بھی رقم تھی ۔

دران نے اس سے الگ ہو کر خجل ہوتے ہوئے اپنی شال درست کی۔ تالیاں پیٹتے لوگوں کے معنی خیز جملوں پر وہ ہونقوں کی طرح مسکرا دیا ۔

دران کی سب سے پہلی نگاہ منہ کھولے کھڑے انل پر پڑی ۔ دران کے دیکھتے ہی اس نے کچھ اس طرز سے دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو ۔ ” یہ کیا تھا سب ؟ “

سب لوگ اس بات کو معمولی جھگڑا گردانتے ہوئے اب پھر سے اپنی اپنی باتوں میں مشغول ہو گئے ۔ پریشان اگر تھے تو وہ دو دل جو بن کہے ایک دوسرے کو بہت کچھ کہہ گئے ۔

بعض اوقات خاموشی کی زبان آپ کی بولتی زبان سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے ۔ دران کی خاموشی نے جو کہا وہ اس کے وجود میں ایک ایسی زندگی کی لہر دوڑا گیا کہ وہ خود حیران تھی ۔ لرزتے دل اور وجود کے سنگ قدم اٹھاتی وہ واپس سبرینا کے پاس آئی ۔ جہاں جہاں سے گزری ۔ مختلف آوازیں تھیں جو کانوں میں پڑ رہی تھیں ۔

” کیا ہوا تھا ڈانٹ کیوں رہا تھا ؟ “

” ہوا کیا تھا سب خیریت ہے نہ ؟ “

” دران کا غصہ تو بہت مشہور ہے لیکن تم خوش قسمت ہو تمھارا ایک آنسو نہیں برداشت ہوا اس سے ۔ “

اس طرح کے ہزاروں جملے کانوں میں پڑ رہے تھے لیکن حقیقت سے سب نہ آشانہ تھے ۔

☆☆☆☆☆

وہ سامنے کرسی پر بیٹھے دران کو گھور رہا تھا ۔ رات کے تین بج رہے تھے لان میں چند گھنٹے پہلے والی چہل پہل کا نام و نشان تک نہ تھا ۔

لان کی اس خاموشی میں اب صرف دو نفوس موجود تھے ۔ سوئمنگ پول کے پاس لگی سفید کرسیوں پر آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔ دران سر کے بالوں کو دونوں ہاتھوں میں جکڑے بیٹھا تھا اور انل ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ کو ٹکائے اسے گھور رہا تھا ۔ اسفند ملک کچھ دیر پہلے ہی ان دونوں کے پاس سے اٹھ کر گئے تھے۔ ان کے جانے کے بعد انل مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہوا جو پریشان حال بیٹھا تھا ۔

” کیا تھا یہ سب ؟ “

انل کے سوال پر دران نے ہاتھوں میں جکڑے بالوں کو چھوڑا اور اس کی طرف دیکھا ۔ بال پل بھر میں بکھر کر ماتھا ڈھک گئے ۔ بلاوجواز چہرے پر ہاتھ پھیرا اور پھر مصنوعی حیرانگی ظاہر کی ۔

” کیا سب ؟ “

” واہ کیا سب ۔ او بھئ یہ جو ہوا آج تقریب میں یہ سب ؟ “

انل نے ٹھوڑی کے نیچے رکھا ہاتھ ہوا میں اٹھائے طنزیہ کہا

” پوچھ تو ایسے رہے ہو جیسے دیکھا نہیں کہ کیا ہوا “

” دیکھا تو ہے لیکن یہ سب وہ تو نہیں تھا جو تم نے مجھ سے کہا تھا ۔ “

” کیا کہا تھا میں نے ؟ “

بڑے رعب سے پوچھا ۔

” لو سن لو جناب وہ بھی بھول گئے کہ کیا کہا تھا مجھے ۔ “

انل نے معنی خیز لہجے میں کہتے ہوئے استہزائیہ قہقہ لگایا ۔ دران نے اس پر سے نگاہیں ہٹائے سوئمنگ پول کے لہریں بناتے پانی پر ٹکا دیں ۔

” وہ رو رہی تھی ۔ “

کھوئے لہجے میں جواب دیا ۔ گہری سانس خارج کی پھر رخ انل کی طرف موڑا ۔

” مجھ سے برداشت نہیں ہوا ۔ “

گمبھیر لہجے میں اپنے کمزور پڑ جانے کا اعتراف کیا ۔ انل کے چہرے پر ایک دم خوشگواریت ظاہر ہوئی۔

” آئی لو یو ( i love you ) “

چہک کر کہتا وہ بتیسی نکالے اب دران کی طرف دیکھ رہا تھا ۔

” سچ پوچھو تو مجھے بہت بہت اچھا لگا ۔ مطلب تمہیں یوں محبت میں دیکھ کر دل سے خوشی ہو رہی ہے مجھے ۔ “

انل کی خوشی اس کے لہجے سے بھی جھلک رہی تھی ۔ دران کے چہرے پر سنجیدگی اور اضطراب ہنوز قائم تھا۔

” کیوں ہے اتنا پریشان کچھ غلط نہیں کیا تم نے سب ٹھیک تھا ۔ تم محبت کرتے ہو وہ بیوی ہے تمھاری ۔۔۔”

” بات یہ نہیں ہے ۔ “

دران نے بھنویں پریشانی میں اکٹھی کیں ۔

” اس نے کہا کہ وہ مجھ سے , اس قید جیسی زندگی اور کانٹریکٹ میرج سے نجات چاہتی ہے پھر اس کی آنکھوں میں آنسو کیوں آئے ۔ “

” سمپل وہ جھوٹ بول رہی تھی تم سے ۔ “

انل نے برجستہ جواب دے کر کندھے اچکائے ۔

” میں اس کی سوچ پرکھ نہیں پاتا وہ بہت بہت مضبوط اعصاب کی مالک ہے۔ اسے خود پر اتنا قابو ہے کہ وہ اپنی سوچ کو اپنے ذہن پر حاوی نہیں ہونے دیتی لیکن کچھ دیر پہلے اس کا رونا ۔۔۔ سمجھ سے باہر ہے ۔ “

” کیا سمجھ سے باہر ہے ؟ او میرے بھائی محبت ایسے ہی گھٹنوں کے بل گرا دیتی ہے ۔ اب اپنی مثال لے ۔ کیا تھا تو اور کیا بن گیا ۔ “

” کیا بنا ہوں ۔ “

دران نے آبرؤ اچکائے ۔

” جورو کا غلام ۔۔۔ جو اپنی بیوی کا ایک آنسو بھی نہیں دیکھ سکتا ۔ “

” بکواس بند کر ۔ “

” او بھئ یہ کوئی بکواس نہیں ایک دم سچی بات ہے ۔ وہ لڑکی دنیا میں واحد ہو گی جس کے سامنے تمھاری ساری اکڑ ختم تھی ۔ “

انل نے بڑے وثوق سے بات کی اور کرسی کے بازو پر ہاتھ مارا ۔

” دیکھو یہ بلاوجہ کے خول ختم کرو دل نے اسے قبول کر لیا ہے اب تم بھی کرو ۔ “

دران نے اس کی بات پر سر ہوا میں مارا ۔

” کیسے کر لوں قبول میں جس کو یہ تک نہیں پتا کہ میں ہوں کون ؟ خود میں ہی الجھا ہوا اب اس کو خود میں الجھا لوں ۔ “

” دران تم وہ ہو جو ہو ۔ مجھے ایسا لگتا ہے جو تم نے خود کے گرد ایک یہ حصار بنا لیا ہے۔ یہ حصار , یہ اکیلا پن یہ خود پر تمھارا ظلم یہ سب وہی ختم کرے گی ۔ “

” اگر میری حقیقت سن کر وہ مجھ سے دور ہو گئی ۔ دیکھا نہیں کتنی مذہبی ہے وہ اور میں ایک گناہ سے تشکیل میں آیا وجود ۔ “

دران کی پیشانی پر گہرے ہوتے بلوں کے ساتھ آواز میں چبھتا کرب بھی بڑھ رہا تھا ۔ انل نے اس کی بات پر ایک دم سے کرسی سے جوڑی اپنی پشت سیدھی کی اور آگے ہوا ۔

” گناہ سے تشکیل میں آیا وجود بذات خود اپنی تشکیل کا ذمہ دار کیسے ہو سکتا ہے ؟ دران تم اس سوچ کے ساتھ جیتے رہے تو ایک دن میرے سوا تمھارا کوئی نہیں ہو گا اور میں سب ہو سکتا ہوں لیکن تمھارا خونی رشتہ نہیں ہو سکتا ۔ “

” مجھے اس سے محبت نہیں کرنی تھی ۔ نہ خود کمزور ہونا تھا اور نہ اسے کرنا تھا ۔ “

دران نے لب بھینچے پھر سے چہرے کا رخ دوسری طرف گھمایا ۔

” جو کچھ ہو جائے اس پر پچھتانے سے اچھا ہے کہ اسے اپنایا جائے ۔ اگر کچھ برا ہوا تو معافی مانگ لی جائے اور اگر کچھ اچھا ہو تو اس میں خوش ہوا جائے ۔ “

انل نے بڑے تحمل سے ٹھہر ٹھہر کر بات مکمل کی اور اپنی جگہ سے اٹھا ۔

” میں جا رہا ہوں سونے ۔ وہ جو میرے پیچھے لگا دی ہے ۔ صبح اس کے ساتھ تمھاری انوسٹیگیشن بھی شروع کرنی ہے ۔ “

انل نے ایک دم سے پیشانی پر شکن ڈالے جیسیکا کا ذکر کیا اور پھر کرسی سے اٹھا ۔

” میرا خیال ہے یہاں بیٹھ کر اندازے لگانے کے بجائے تمہیں کمرے میں جا کر اس سے پوچھ لینا چاہیے کہ کیوں روئی تھی تم ؟ اور ساتھ اس کو بھی بتانا چاہیے کہ تمھارے رونے پر میں نے تمہیں گلے کیوں لگایا ۔ “

انل نے شرٹ درست کرتے ہوئے متوازن لہجے میں مشورہ دیا اور پھر قدم پورچ کی جانب بڑھا دیے ۔

☆☆☆☆☆

دھاڑ کی آواز پر کمرے کا دروازہ کھلا ۔ وہ جو کچھ دیر پہلے ہی دروازے سے دوری ہوئی تھی ۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے سامنے شرب میں دھت کھڑے شخص کو دیکھ رہی تھی ۔

لی تاؤ اسے اپنے گاؤں میں لے آیا تھا اور آتے ہی ایک کمرے میں بند کر دیا تھا ۔ آج دوسرے دن ہی وہ اس کے کمرے میں کسی آدمی کو بھیج چکا تھا ۔ آدمی خباثت سے مسکراتا ہوا اور لڑلکھڑاتے قدموں کو سنبھالتا ہوا اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔

آدمی کے اپنی طرف بڑھتے قدموں سے وہ کمر پر بندھے ہاتھوں میں پکڑے کانٹے (فورک ) پر گرفت مضبوط کر رہی تھی جو اس نے کچھ دیر پہلے لی تاؤ کی اس آدمی کے ساتھ گفتگو سنتے ہی پلیٹ میں سے اٹھا لیا تھا ۔

وہ کچھ دیر پہلے ہی کمرے میں موجود کھڑکی کے باہر اپنے دوپٹوں کو بھی باندھ چکی تھی ۔ لی تاؤ کو اس کھڑکی سے کوئی خدشہ شاید اس لیے نہیں تھا کہ کھڑکی کے پار نیچے گہری کھائی تھی کیونکہ یہ مکان اونچی پہاڑی پر تھا ۔

آدمی جیسے ہی اس کے قریب پہنچا اس نے فوراً پہلا وار اس کی ران پر کیا کانٹے کے اس کی جلد میں پیوست ہوتے ہی اس نے اس پر اور وزن ڈالا ۔ وہ فلک شگاف چیخ لگا کر جیسے ہی لوٹ پوٹ ہوا اس نے فوراً بند دروازے پر ایک نگاہ ڈالی اور کھڑکی کی طرف بھاگی ۔

☆☆☆☆☆

کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز کے ساتھ ہی جویریہ نے کھلی آنکھیں زور سے بند کیں ۔ تو آخر وہ کمرے میں آ ہی گیا ۔ وہ کمفرٹر کو سر تک تانے بیڈ پر لیٹی اسی کے آنے کے انتظار میں تھی جو تقریب کے بعد سے نظر نہیں آیا تھا ۔

کمرے میں آ کر وہ کپڑے تبدیل کرنے کے فوراً بعد بستر میں لیٹ تو گئی تھی مگر آج رات نیند کس کو آ سکتی تھی ۔ عجیب بے کلی تھی ۔ بے چینی ۔ وہ کمرے میں آئے گا تو کیا بات ہو گی ؟ اسے رونے کی وجہ کیا بتاؤں گی ؟

دران کے قدموں کی چاپ بیڈ کی طرف آتی ہوئی محسوس ہوئی وہ شاید اب بیڈ کے پاس اس کے سر پر کھڑا تھا ۔ دل پوری رفتار سے دھڑک رہا تھا ۔ گال تپنے لگے ۔ سانس اٹک گئی ۔

انل نے ٹھیک کہا تھا ۔ اسے جویریہ سے اس کے رونے کا سبب پوچھنا چاہیے ۔ یہی سوچ کر کمرے میں آتے ہی پہلی نگاہ بیڈ پر پڑی وہ سو چکی تھی شاید لیکن پھر بھی تصدیق کے لیے وہ پاس آیا تو چہرہ کمفرٹر میں چھپا تھا لیکن انداز سے صاف ظاہر تھا وہ سو گئی ہے ۔

پلٹا اور مایوسی سے قدم صوفے کی طرف بڑھا دیے ۔ صوفے پر لیٹے چھت کو گھورتے ہوئے ذہن بار بار اسی منظر کو دہرا رہا تھا جب وہ سارے فاصلے مٹائے اس کے گلے لگی ہوئی تھی ۔ قربت کا وہ لمحہ چاہے اچانک ہی میسر آیا تھا مگر وہ ہمت کو بڑھا گیا تھا ۔

کمرے میں کلاک کی ٹک ٹک کے ساتھ وقت گزر رہا تھا ۔ جیسے ہی چار بجے میز کے اطراف پر پڑے جویریہ کے موبائل پر بجتی گھنٹی پورے کمرے میں گونج گئی ۔ تہجد کی نماز کے لیے بجتے آلارم نے خاموش کمرے میں خلل پیدا کیا تو دران نے جلدی سے کھلی آنکھیں زور سے بند کیں ۔ یقین تھا کہ اب وہ نماز کے لیے ضرور اٹھے گی ۔

جویریہ نے کمفرٹر کو چہرے پر سے ہٹایا اور کہنی کے بل تھوڑا سا اوپر ہو کر چور نگاہ صوفے پر ڈالی دران شلوار قمیض میں ملبوس ہی صوفے پر سو رہا تھا ۔

شکر کا سانس لیتی اٹھی اور وضو کے لیے قدم ریسٹ روم کی طرف بڑھا دیے ۔ پتہ نہیں کیوں اس کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی ۔ دران نے ریسٹ روم کا دروازہ بند ہونے کی آواز پر پھر سے آنکھیں کھولیں ۔

دل اور دماغ ایک بات پر متفق ہو چکے تھے ۔ اسے جویریہ سے اس کے رونے کی وجہ جاننی تھی ۔ چند منٹ کے بعد دروازہ کھلا اور وہ سر پر سکارف گھماتی جائے نماز ہاتھ میں تھامے بیڈ کے اطراف میں موجود جگہ کی طرف جاتی دکھائی دی ۔

دران نے پوری آنکھیں کھول لیں ۔ ہلکے مسٹرڈ گاؤن نما فراک میں ملبوس جائے نماز پر کھڑی وہ اب نماز پڑھ رہی تھی ۔ پرسکون , معصوم چہرہ جو دل میں اتر رہا تھا اس کے اندر کی دنیا یکسر بدل چکا تھا ۔

چند منٹ کے توقف کے بعد وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئی تھی ۔ دران اپنی جگہ سے اٹھا اور ننگے پاؤں چلتا اس کے قریب آیا ۔

دران کے قریب آتے ہی دعا مانگتے ہاتھ کانپ گئے ۔ وہ سر پر کھڑا تھا اور پھر ایکدم سے اس کے پاس فرش پر آلتی پالتی مارے بیٹھ گیا ۔

وہ بہت قریب بیٹھا تھا ۔ اس کا گہری نظروں سے دیکھنا دل دھڑکا رہا تھا ۔ جویریہ نے آہستگی سے دعا صورت کھلے ہاتھ چہرے پر پھیرے اور چہرہ اس کی طرف گھمایا ۔

آنکھیں اس کی گہری کھلی آنکھوں میں جھانک گئیں ۔ وہ بس خاموش بیٹھا مسلسل دیکھ رہا تھا ۔ اتنا قریب بیٹھا تھا کہ اگر وہ اٹھتی تو سر دران کے سر سے ٹکرا جاتا ۔ جویریہ نے پلکیں گرائیں تھوک نگل کر جھکی نگاہیں پھر سے اٹھائیں ۔

” کیا ہوا ؟ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں ؟ “

” تم روئی کیوں تھی ؟ “

فوراً اس کے سوال پر سوال کیا انداز ایسا تھا جیسے اس کے بس بولنے کا منتظر تھا ۔ دل پھڑپھڑانے لگا گود میں رکھے ہاتھ کانپ گئے ۔

” آپ نے گلے کیوں لگایا ؟ “

پھیکی سی آواز میں سوال کیا اور نگاہیں جھکا لیں ۔ چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔ دران کی نگاہیں ساری ہمت ختم کر رہی تھیں ۔

” پہلے سوال میں نے کیا ہے ؟ “

بڑے رعب سے کہا ۔

” آپکے سوال کا جو جواب ہے وہ لڑکیاں پہلے نہیں دیا کرتیں ۔ “

دھڑکتے دل کے ساتھ برجستہ جواب دیا ۔ نگاہیں جھکی تھیں ۔

” تم لڑکی نہیں بیوی ہو میری ۔ “

دھڑکتے دل کے ساتھ گھمبیر لہجے میں جواب دیا ۔ آج یہ سب کہنے میں کوئی عار نہیں تھی ۔ جویریہ نے چونک کر سر اوپر اٹھایا ۔ نگاہوں کا پھر سے تصادم ہوا ۔ دران کی محبت سے لبریز آنکھیں کسی صورت جھوٹی نہیں تھیں پر آہ یہ دل کیسے یقین کرے ۔

” صرف دکھاوے کی ۔ “

پھیکے لہجے میں جواب دیا ۔

” لیکن نکاح تو سچ میں کیا ہے نہ “

” اس نکاح کو تسلیم تو نہیں کیا کبھی ۔ “

” اگر کہوں کر لیا ہے ۔ “

دران کی بات پر وہ جو ترکی با ترکی جواب دے رہی تھی ساکن ہوئی لیکن خاموشی چند سکینڈ کی تھی ۔

” یقین نہیں کروں گی ۔ “

آنکھوں میں جھانک کر کہا اور فوراً نگاہیں پھر سے جھکا لیں ۔

” بے یقینی کی وجہ ؟ “

دران آنکھوں میں جھانکتا جذب میں بول رہا تھا ۔

” میرا عام ہونا اور آپ کا خاص ہونا ۔ “

آہستگی سے نظریں چراتے ہوئے کہا ۔ ہاتھوں کی انگلیاں اب سکارف کے کونے کو تھامے ہوئے تھیں ۔

” کیسے سوچ لیا کہ تم عام ہو اور کیسے کہہ سکتی ہو کہ میں خاص ہوں “

دران تو جیسے آج اس سے اس سارے سوال جواب کرنے کے لیے بیٹھا تھا ۔

” سوچنے اور کہنے سے کیا ہوتا ہے سب سامنے تو ہے ۔ “

نظریں چرائیں دران کی نگاہیں اب اس کی آنکھوں میں دیکھنے نہیں دے رہی تھیں ۔

” ضروری تو نہیں جو سامنے ہو وہ ہی سچ ہو ۔ “

محبت سے جواب دیا ۔ جویریہ نگاہیں جھکائے بیٹھی تھی ۔

” چلو اب بتاؤ روئی کیوں تھی ؟ “

اپنایت بھرا لہجہ تھا ۔

” تکلیف ہو رہی تھی ۔ “

” کس بات کی تکلیف ؟ میں تو سب ڈرامہ کر رہا تھا ۔ تم نے خود کہا تھا کہ تم اب اس قید سے رہائی چاہتی ہو۔ “

” نہیں چاہتی ۔ “

برجستہ جواب دیا ۔ سب تھم گیا۔

” میں نہیں چاہتی یہاں سے جانا ۔ میرا کوئی بھی نہیں اس دنیا میں۔ ماں باپ مجھے مسلمان ہونے کے بعد قبول نہیں کریں گے ۔ مجھے صرف اپنا نام دے دیں اور یہیں رکھ لیں ۔ میں ساری عمر یہیں رہوں گی کبھی تنگ نہیں کروں گی ۔ کبھی بات نہیں کروں گی ۔ مجھے طلاق نہیں چاہیے ۔ “

وہ سر جھکائے دلگیر لہجے میں کہہ رہی تھی ۔ دران کے دل کو جیسے کسی نے مٹھی میں لیا ۔ اوہ تو صرف یہ وجہ ہے ۔ گھٹن پھر سے بڑھنے لگی ۔

” صرف یہ وجہ تھی ۔ “

کرب زدہ لہجے میں سوال کیا ۔

” ہاں ۔ “

اس کی ہاں نے دل پر بہت کاری ضرب لگائی ۔ دل بجھ گیا اور چہرہ دھواں دھواں ہوا ۔

” وعدہ ہے تم سے تمھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں آنے دوں گا ۔ تمہیں طلاق کے بعد بھی مکمل سکیورٹی ملے گی اور ایک گھر جہاں تم چاہو یہاں یا پاکستان ۔ “

خود پر ضبط کیے وہ بمشکل الفاظ ادا کر رہا تھا ۔ جویریہ نے تڑپ کر چہرہ اوپر اٹھایا ۔

” نہیں میں یہیں رہنا چاہتی ہوں ۔ مجھے طلاق نہیں چاہیے ۔ “

مضطرب نگاہیں دران کے اداس چہرے پر گھماتے ہوئے کہا ۔

” کیوں نہیں چاہیے جب مجھ سے کچھ حاصل ہی نہیں تو صرف میرے نام کو لے کر کیا کرو گی ۔ “

دران نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا ۔ وہ پھر سے آنکھوں میں پانی بھر کر بیٹھی تھی ۔

” تمہیں زندگی گزارنی نہیں جینی ہے ۔ مجھے یقین ہے کوئی اچھا مسلمان لڑکا تمہارا ہاتھ تھام لے گا ۔ “

” میں مر جاؤں گی ۔ “

گھٹی آنسؤوں میں رندھی آواز تھی ۔ دران نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا ۔

” خود سے الگ کرو گے تو مر جاؤں گی ۔ “

وہ رو رہی تھی ۔ زکام زدہ آواز آنسؤوں کا گلا گھونٹتی بمشکل ادا ہو رہی تھی ۔

” مہ۔۔ میں بہت محبت کرتی ہوں آپ سے بہت زیادہ اور اب سے نہیں بہت سالوں سے ۔ شاید ہماری پہلی ملاقات کے بعد سے ۔ “

وہ ایک کے بعد دوسری بات کر رہی تھی ۔ دران اس کے چہرے کو دیکھتا اس لمحے کے قید میں تھا ۔

” ہمارا ملنا کوئی اتفاق نہیں تھا ۔ میں نے آپ کو بہت بہت مانگا تھا ۔ ہر پل ہر دعا میں ۔ تہجد میں ہر نماز میں ۔ “

دران کے لب مسکرا دیے جب کے آنکھیں نم تھیں ۔

” میں جانتی ہوں میں آپ کے معیار کی نہیں ہوں ۔ میں معمولی ہوں اس لیے کبھی بھی آپ سے اسی محبت کی طلبگار نہیں ہوئی ۔ “

وہ روہانسی آواز میں کہتی سر جھکائے ہوئی تھی ۔ اس کی اس بات پر دران نے ماتھے پر شکن ڈالے ۔

” مجھے بس خود سے الگ نہیں کریں ۔ “

وہ رو رہی تھی ۔ دران کو اس کا ہر آنسو اپنے دل پر گرتا محسوس ہو رہا تھا ۔

” اگر میں کہوں کہ تم نہیں بلکہ میں تمھارے قابل نہیں تو ؟ “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *