Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 27)

Basil by Huma Waqas

بکھرے بال , آدھی آستین کی ٹی شرٹ پہنے وہ ٹھٹھرتی سردی میں اس کے سامنے بیٹھا پوری طرح محو تلاوت کر رہا تھا ۔ آنکھیں موندی ہوئی تھیں ۔ گھنی پلکیں خوبصورت چہرے پر بند تھیں ۔ حرف حرف اتار چڑھاؤ کے ساتھ اس کے منہ سے نکل کر فضا میں گھل رہا تھا ۔ اسے پتا تھا کس حرف کو کب جوف دہن , حلق , زبان اور ناک سے ادا کرنا ہے ۔

جویریہ کو اپنے جسم کے تمام رونگٹے کھڑے ہوتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔ یہ ایک سحر تھا ۔۔۔ طلسم تھا ۔۔ اس کی آواز کانوں سے گزر کے اس کے دل پر اثر کر رہی تھی ۔ وقت کے رکنے جیسا احساس تھا ۔ ریڑھی کی ہڈی میں سنسناہٹ تھی ۔ ایسا احساس تھا جیسے کوئی اعصاب پر ٹھنڈی پھوار برسا رہا ہو ۔

یہ وہی دران ملک تھا جس نے اسے کمرے میں قرآن کی تلاوت سننے پر اتنی باتیں سنائیں تھیں اور آج وہ خود اتنی خوبصورت تلاوت کرتا ہوا اسے حیرت کے سمندر میں دھکیلے ہوئے تھا ۔

وہ اسی طرح سکتے کے عالم میں بیٹھی تھی جب تیسری آیات کی تلاوت کے بعد دران نے ایک دم سے خاموشی اختیار کی اور آنکھیں پوری کھول دیں ۔ وہ جیسے کسی سحر سے باہر آیا تھا ۔ چہرے پر سے سکون یک لخت سختی میں تبدیل ہوا ۔

وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اُٹھا اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتا ۔ آوٹ ڈور کیا کمرے سے بھی باہر نکل گیا ۔ جبکہ وہ منجمند وہیں بیٹھی تھی ۔

حیرت سے کھلی آنکھوں میں ہلکی سی لغزش ہوئی ۔ اور پھر وجود میں جیسے ایک راحت سرایت کرنے لگی ۔اتنی شدید ٹھنڈ میں بھی اس کا جسم گرم تھا ۔ لب مسکرا دیے ۔ مسکراہٹ اور گہری ہوئی۔ ایکدم سے لب کھلے اور مسکراہٹ دلفریب ہنسی میں بدل گئی ۔ ترتیب سے جڑے دانت لبوں کی اؤٹ سے جھلکنے لگے ۔ گال گلال ہوئے ۔ آنکھوں میں چمک تھی ۔ پتلیوں میں کچھ لمحے پہلے بیٹھے دران کا عکس تھا اور محبت کی ایک نئے انداز میں چمک تھی ۔

ضبط جتنا بھی ہو ۔ جتنے بھی پہرے لگا لو ۔ دل میں دبی محبت کہاں ختم ہوتی ہے ۔ جتنا بھی خود کو روک لو ۔ تھام لو۔ سنبھال لو ۔ کوئی ایک لمحہ ۔ کوئی ایک پل یا محبوب کی کوئی ایک ادا سارے ضبط پر پانی پھیر دیتی ہے ۔ اس کے دل میں بھی جو دران کے لیے محبت کا ایک سمندر موجود تھا جسے ضبط کے جادو سے اس نے ایک کوزے میں بند کر رکھا تھا۔ آج اس کوزے کو پاش پاش کیے پورے وجود میں ٹھاٹھیں مارنے لگا تھا ۔

☆☆☆☆☆

دران کی بند آنکھیں بمشکل کھلیں ۔ اس کا سر بھاری ہو رہا تھا ۔ سر کے نیچے کسی نرم تکیے اور گردن تک اوڑھے گرم کمبل کا بھی احساس ہو رہا تھا ۔

نیم وا پلکیں چند سکینڈ کے توقف کے بعد اب پوری اوپر اٹھ چکی تھیں ۔ آنکھوں کے پورا کُھلتے ہی سر میں ایک شدید درد کی لہر اٹھی جس کی تکلیف کو برداشت کرنے کے لیے اس کی پیشانی پر ہلکے سے شکن ابھرے ۔ شکن پڑتے ہی احساس ہوا اس کے سر پر پٹی بندھی ہے ۔ فوراً ہاتھ لگا کر تصدیق کی ۔

وہ کسی کمرے میں موجود تھا اور یہ شائد پلنگ تھا جس پر وہ اس وقت لیٹا تھا ۔ حواس بحال ہونے کے ساتھ ساتھ اسے پچھلے گزرے پل یاد آنے لگے ۔

ملک ہاؤس کے اُس کمرے میں موجود بہت سے ذہنوں کی شاطر چال اگلے ہی لمحے کھل کر اس کے سامنے آ گئی تھی ۔ دستگیر بیگم کے نکاح کے حکم دینے کے بعد

وہ سبرینا کو سمجھانے اور یہ بتانے کی غرض سے اس کے کمرے میں جا رہا تھا کہ وہ سب کے سامنے آ کر سب کو سچ بتائے کہ ان دونوں کے بیچ کچھ نہیں ہوا تھا اور عدنان پھپھا نے جو کچھ دیکھا اس کی حقیقت کچھ اور ہے۔ وہ سب کو سچ بتا دینا چاہتا تھا کیونکہ وہ کسی صورت سبرینا سے شادی نہیں کر سکتا تھا ۔

وہ جیسے ہی سبرینا کے کمرے کے پاس پہنچا کمرے میں سے ابھرتی سرگوشی نما آوازوں نے اس سے ایک اور رشتہ چھین لیا ۔

سونیا , روبی اور سبرینا کمرے میں موجود قہقوں سمیت سرگوشیاں کر رہی تھیں۔ سونیا اور روبی سبرینا کو اچھی اداکاری کرنے پر داد دے رہی تھیں ۔ انہوں نے یہ سب ایک مکمل منصوبے کے تحت سر انجام دیا تھا جس میں معصوم صرف ایک وہ اور دوسرے عدنان پھپھا تھے۔

سب جانتے تھے وہ بہت حساس ہیں ان سارے معاملوں میں اور وہ اس حرکت کو معمولی نہیں لیں گے اسی لیے سبرینا کے اوپر جانے کے کچھ دیر بعد ہی طلعت منصوبے کے عین مطابق جان بوجھ کر عدنان کو اوپر لے آئی تھیں کہ آپ دران کے کمرے والا واش روم نہانے کے لیے استعمال کریں ۔

ان سب نے نہ صرف عدنان کے احساسات کو مہرہ بنایا تھا بلکہ دران کے جذبات کے ساتھ بھی کھیلنے کی خوب کوشش کی تھی ۔ سب یہ بات با خوبی جانتے تھے کہ دران سبرینا کے معاملے نرمی رکھتا ہے اور یوں خاندان بھر میں وہ سبرینا پر الزام دیکھ کر چپ چاپ نکاح کر لے گا ۔

کمرے سے گونجتے قہقے اسے سب سمجھا گئے ۔ سبرینا خوشی سے سرشار نکاح کے لیے سنگہار کر رہی تھی ۔ وہ الٹے قدموں وہاں سے نکلا تھا ۔ ہر رشتے سے اعتبار اٹھ گیا تھا ۔ سبرینا کی محبت اور چاہت چاہے اسے بچگانہ لگتی تھی لیکن وہ اس کے مخلص ہونے پر کبھی شک نہیں کرتا تھا ۔ یاور کے بعد اس گھر میں صرف وہ تھی جو اسے اپنائیت کا احساس دلاتی تھی ۔ سبرینا کی طرف سے اتنا بڑا دھوکا اسے اندر سے ہلا کر رکھ گیا ۔

سب سب جھوٹ تھا مکاری , فراڈ , حوس وہ غم و غصے کی حالت میںں سیدھا لائینز ایریا پہنچا تھا ۔ زندگی بے معنی لگنے لگی تھی ۔ کل تک یہ لگتا تھا کوئی ایسا رشتہ ہے جو اس کے ساتھ دل سے مخلص ہے لیکن سبرینا نے سب کے ساتھ مل کر یہ گھٹیا چال چلی اور اس کے اندر رشتوں کو لے کر جو کچھ احساس باقی تھا درہم برہم ہو گیا ۔

انل کراچی میں نہیں تھا وہ شاید حیدر آباد اپنے ماموں کی طرف گیا ہوا تھا ۔ کچھ سمجھ نہ آنے پر وہ عمارت کی چھت پر آ گیا تھا اور اس دن دل کو چھلنی کرتے ان جذبات کی رو میں بہہ کر وہ اکیس سالہ دران چھت سے کود جاتا اگر وہ لڑکی بروقت وہاں پہنچ کر اسے نہ بچاتی ۔ وہاں سے نکل کر جب تک وہ ملک ہاؤس واپس پہنچا وہاں شادی کے سلسلے میں لائے گئے ملازموں کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا سب فائقہ کی مہندی کے لیے شادی ہال جا چکے تھے ۔

نا جانے نکاح کے وقت اُسے گھر میں نہ پا کر کیا قیامت برپا ہوئی ہو گی لیکن اسے اب ان سب باتوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

وہ سیدھا اپنے کمرے میں گیا اور چند کپڑے بیگ میں بھر کر گھر سے باہر نکل گیا ۔ شاید اس وقت میں انل ہوتا تو اسے سنبھال لیتا لیکن اب ہر رشتے سے ہر ناطے سے اعتبار ختم ہو گیا تھا ۔

کراچی سے وہ آخری سٹیشن تک کی ٹکٹ لے کر بیٹھا اور پندرہ گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد لاہور سٹیشن پر اترا ۔ بنا سوچے سمجھے گھر سے نکل آیا تھا یہاں کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔ بھوک , سفر اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے سر چکرانے لگا تھا ۔ سٹیشن کے بنچ پر بیٹھے بیٹھے کب رات سے صبح اور پھر صبح سے شام ہوئی پتا نہ چلا بھوک کی شدت اتنی بڑھی کہ وہ بے اختیار بنچ پر سے اٹھا ۔

سٹیشن سے باہر ہجوم کے بیچ میں سے گزرتا ہوا جب وہ سڑک پر پہنچا تو اس سے پہلے کہ کوئی ٹیکسی یا رکشہ لیتا آنکھوں کے آگے چھا جانے والے اندھیرے کے باعث لڑکھڑایا اور سڑک پر تیزی سے آتی کسی گاڑی سے بری طرح ٹکرا گیا اتنے گھنٹے بھوکے رہنے اور منجمند ہو کر ایک جگہ بیٹھے رہنے کے باعث اس کا مضبوط جسم بھی لاغر ہو چکا تھا ۔ آخری منظر جو اس کی آنکھوں نے دیکھا اس میں کچھ لوگ اس پر جھکے ہوئے تھے ۔

اب جب آنکھ کھلی تو سب یاد آ جانے پر وہ حیرت سے ارد گرد دیکھ رہا تھا ۔ یہ کسی گھر کا درمیانے سائز کا کمرہ تھا جس میں ہر چیز بڑے سلیقے سے سجی تھی ۔ پلنگ سے کچھ دوری پر دیوار کے ساتھ لگی تین کرسیوں کے آگے میز رکھا ہوا تھا ۔

ایک طرف کتابوں کا بڑا سا ریک تھا جس میں ان گنت کتابیں بڑے سیلقے سے رکھی ہوئی تھیں ۔ لکڑی کی دو پٹ والی الماری ایک طرف دیوار سے لگی تھی ۔ بند کھڑکی پر سفید پردے لٹک رہے تھے اور لکڑی کا گہرے میرون رنگ کا دو پٹ والا دروازہ بند تھا ۔ وہ نگاہیں گھما کر کمرے کا جائزہ لینے میں مصروف تھا جب دروازہ کھول کر ایک عمر رسیدہ شخص کمرے میں داخل ہوئے ۔

بڑے میاں سر پر نماز کی ٹوپی رکھے , سینے تک آتی سفید داڑھی اور منور چوڑی پیشانی پر بنا محراب سجائے دران کی طرف دیکھ کر بشاشت سے مسکرائے ۔ ہاتھ میں سٹیل کا بڑا گلاس تھام رکھا تھا ۔ سفید قمیض شلوار اور ٹخنے سے اوپر کی ہوئی شلوار بڑی طمانیت سے سانس لیتے ہوئے آگے بڑھے ۔

” کیسے ہو بیٹا ؟ “

اپنائیت بھرا پرسکون لہجہ تھا ۔ انہوں نے ہاتھ میں پکڑا گلاس میز پر رکھا ۔ دران حیرت سے دیکھتے ہوئے فوراً بستر سے اٹھنے کے لیے اوپر ہوا۔ سر میں شدید لہر اٹھی ۔ اٹھنے پر احساس ہوا چوٹ صرف سر میں نہیں ٹانگ پر بھی لگی ہے ۔

” خود مت اٹھو بیٹا چوٹ گہری ہے ۔ “

بڑے میاں نے فوراً آگے ہو کر کندھا تھام لیا ۔ پھر تکیے کے سہارے سے دران کی بیٹھنے میں مدد کی اسے بیٹھانے کے بعد وہ مڑے اور میز پر سے گلاس اٹھانے کے بعد پلٹے ۔

” لو دودھ پیو گرم ہے ۔ “

گلاس دران کی طرف بڑھایا ۔ بڑا ہی جاذب نظر چہرہ تھا ۔ دران نے سپاٹ چہرے کے ساتھ ان کے سراپے کا جائزہ لیا ۔

” پی لو بھوکے ہو کب سے ۔ “

دران کے ہاتھ نہ آگے کرنے پر گلاس کو مزید آگے کیا۔ دران نے ایک نگاہ اٹھائے ان کے چہرے پر ڈالی اور پھر ایک نگاہ گلاس پر ۔

” لو پیو شاباش “

وہ بضد تھے ۔ دران نے ہاتھ بڑھا کر گلاس تھام لیا ۔ دودھ نیم گرم تھا ۔ بھوک کی شدت سے واقی برا حال تھا ۔ آہستگی سے گلاس منہ سے لگایا ۔ دودھ میں مناسب میٹھا تھا اور اس وقت جس حالت میں وہ موجود تھا یہ دودھ دنیا کا سب سے بہترین مشروب لگ رہا تھا ۔

بڑے میاں کمرے سے باہر چلے گئے تھے اور جیسے ہی اس کا دودھ کا گلاس ختم ہوا وہ پھر سے کمرے میں داخل ہوئے ۔ اب کی بار ان کے ہاتھ میں کچھ پلاسٹک کی ٹوکریاں اور ہاتھ میں مٹروں سے بھرا شاپر تھا ۔ ٹوکریاں میز پر رکھ کر وہ دران کی طرف پلٹے اور اس کے ہاتھ سے گلاس تھاما۔

” بہت ناراض ہو زندگی سے ؟ “

مسکراتے ہوئے سوال کیا ۔ دودھ کا گلاس میز پر رکھا اور اسی مسکراہٹ کے ساتھ دران کی طرف دیکھا ۔

” نہیں ۔ “

مختصر جواب تھا لیکن ان کے سوال پر حیرت ہوئی ۔

” تو پھر گھر والوں سے ناراض ہو ؟ “

” نہیں ایسی بات نہیں ۔ “

درن نے سپاٹ لہجے میں بیزاری سے جواب دیا ۔ وہ اب سامنے لگی پہلی کرسی پر بیٹھ چکے تھے ٹوکریاں میز پر سجا کر مٹروں سے بھرا شاپر کھولا ۔

” پھر کیسی بات ہے ؟ کچھ تو ہے برخوردار ۔ صبح سے سٹیشن پر سر جھکائے بیٹھے بیٹھے رات کر دی ۔ کیا کوئی منزل نہیں ہے ؟ “

دران نے چونک کر ان کی طرف دیکھا ۔ بڑے میاں کے چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی ۔ وہ کیسے یہ سب جانتے تھے ۔

” نہیں ۔ “

حیرت میں ڈوبی آواز ابھری ۔

” منزل تو ہو گی ۔ بس تم راستہ بھٹک گئے ہو ۔ “

وہ مٹر نکال کر ٹوکری میں رکھ رہے تھے ۔ دران خاموش حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔

” کوئی بات نہیں بھٹک جاتے ہیں اکثر ہم لوگ ۔ انسان ہیں ہو جاتا ہے ایسا بھی ۔ پر اسی راستوں میں گھن چکر مت بنے رہنا منزل کی شناخت ضروری ہے بیٹا ۔ “

سر کو ہلاتے ہوئے وہ بڑے جذب سے سمجھا رہے تھے ۔

” آپ کون ہیں ؟ کیسے پتا کہ میں سٹیشن پر ۔۔ “

” پریشان نہ ہو سٹیشن کی مسجد کا امام ہوں اور ساتھ وہاں اسلامی کتب کا بک سٹال لگاتا ہوں ۔ تمہیں دیکھ رہا تھا صبح سے سر جھکائے بیٹھے تھے ۔ رات کو جب میں دوکان بند کر کے گھر کے لیے روانہ ہونے لگا تم آگے آگے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔ پہلے ہسپتال لے گیا پھر پٹیاں کروا کر گھر لے آیا ۔ نیم بے ہوشی میں تھے تم اس لیے کچھ یاد نہیں تمہیں ۔ “

وہ مٹر چھیلتے ہوئے ٹھہرے سے متوازن لہجے میں اسے آگاہ کر رہے تھے ۔ دران نے ناگواری سے خود پر اوڑھے گہرے بھورے رنگ کے کمبل کو دیکھا ۔

” اچھا چلو چھوڑو یہ ساری باتیں ۔ ذرا اپنے ابا کا نمبر دو ۔ بہت پریشان ہو گا بیچارا ۔ “

ہاتھوں کو پاس پڑے کپڑے سے پونچھتے ہوئے وہ اب میز پر پڑا اپنا موبائل فون اٹھا رہے تھے ۔ دران نے کوئی جواب نہیں دیا ۔

” اچھا چلو اماں کا نمبر دے دو وہ تو بھوکی ہو گی بیچاری پریشان ہو رہی ہو گی ۔ “

دران کے جواب نہ دینے پر وہ اپنی ہی قیاس آرائی لگا کر اگلا سوال کر رہے تھے ۔ اب کی بار تو دران کی پیشانی پر انگنت بل پڑے ۔

” نہیں ہیں دونوں اس دنیا میں ۔ “

لب بھینچے سپاٹ لہجے میں جواب دیا ۔

” بڑے بھائی یا بہن۔۔۔”

وہ بلا کے ڈھیٹ انسان واقع ہوئے تھے ۔ دران نے کوفت سے دیکھا ۔

” میرا کوئی نہیں ہے اس دنیا میں ۔ “

اب کی بار ناگواری سے جواب دیتا وہ پلنگ سے اٹھنے کی خاطر کمبل کو اپنے اوپر سے ہٹاتا ہوا سیدھا ہوا۔ لیکن ٹانگ پر شاید زخم زیادہ گہرا تھا ۔ ایک آہ نکلی منہ سے ۔

” اٹھو مت ۔ اٹھو مت ۔ نہیں اٹھا جائے گا بچے زخم گہرا ہے ۔ “

وہ مٹر کا چھلکا میز پر پھینکتے تیزی سے اٹھ کر اس تک آئے لیکن دران ان سنی کرتا ٹانگیں پلنگ سے نیچے اتار چکا تھا ۔

” مجھے جانا ہے ۔ اس زخم کی پرواہ نہیں ۔ مجھے درد نہیں ہوتا ۔ “

لب بھینچے پیشانی پر گہرے ہوتے شکن کم کئے ۔

” ٹھیک کہہ رہے ہو ۔ چلو اس زخم کا نہ سہی جو اندر زخم لگے ہیں ان کے بھرنے تک رُک جاؤ۔ “

کندھے پر دباؤ ڈالے بڑے میاں اس کے سر پر کھڑے تھے ۔

” پتا ہے مجھے نہ کوئی گھر ہے تمھارا اور نہ کوئی منزل ۔ میں بھی اکیلا ہوں ۔ کوئی دقت نہیں جب تک چاہو رک سکتے ہو یہاں ۔ “

” آپ کو نہیں ہو گی لیکن مجھے ہے دقت ۔ “

ناگواری سے کہا اور اپنے جوگرز کی تلاش میں نگاہ دوڑائی ۔

” معلوم ہے تمھاری دقت ۔ “

وہ خفیف سا قہقہ لگائے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرنے لگے ۔ دران نے چونک کر ان کی طرف دیکھا ۔

” جوان پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ۔ دنیا میں موجود ہر انسان کو ایک ہی ترازو میں نہیں تولہ کرتے ۔ “

بڑی محبت سے انہوں نے اپنا بوڑھا ہاتھ آگے کرتے ہوئے کہا ۔ دران اب ان کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔

” بیٹھ جاؤ باہر بہت سردی ہے ۔ یہ کراچی نہیں لاہور ہے ۔ “

بڑی اپنائیت سے کہا دران نے پھر سے آنکھیں سکیڑیں ۔ وہ کیسے جانتے تھے وہ کراچی سے ہی آیا ہے ۔

” آپ کو کیسے پتا ۔۔۔”

” تمھارے بیگ میں رکھے کپڑوں سے اندازہ لگایا کوئی گرم کپڑا نہیں تمھارے پاس حالانکہ پنجاب میں بہت ٹھنڈ ہے اور ناراض ہو کر گھر سے نکلے کیونکہ اگر ماں نے بھیجا ہوتا تو گرم کپڑے بیگ میں ضرور ہوتے ۔ “

وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے کمرے میں کھڑی الماری کی طرف جا رہے تھے ۔ الماری کھولی اور واپس پلٹے تو ہاتھ پر ایک گرم ہلکے بھورے رنگ کی مردانہ شال تھی ۔

” چلو یہ شال اوڑھ لو ۔ “

شال لا کر دران کے پاس کھولتے ہوئے کہا ۔

” لے لو بالکل نئی ہے ۔ اس عید پر میری بیٹی نے تحفہ بھیجا تھا ۔ “

دران کے ہاتھ آگے نہ بڑھانے پر مسکرا کر کہا ۔ دران نے آہستگی سے شال تھامی اور کندھوں پر ڈال لی ۔ بڑے میاں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے پلنگ پر بیٹھنے کے لیے کہا اور خود میز کی طرف بڑھ گئے۔ ان کی شخصیت میں کچھ تو ایسا تھا وہ ان کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیک چکا تھا ۔

” دو بیٹیاں ہیں میری ۔ ماشااللہ دونوں اپنے اپنے گھر کی ہیں اور زوجہ پچھلے سال ناراض ہو کر اکیلا چھوڑ گئیں ۔ تب سے بس ہم دو رہتے ہیں یہاں ۔ “

وہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بتا رہے تھے ۔ دران چادر اوڑھے پلنگ پر بیٹھ چکا تھا ۔ دو مطلب وہ اکیلے نہیں تھے ساتھ کوئی اور بھی تھا لیکن وہ کون اگر بیوی بھی نہیں ہے تو ۔ دران نے دروازے کی طرف دیکھا جہاں پردے کے پیچھے سے سنسان برآمدہ نظر آ رہا تھا ۔

” مت تلاش کرو ۔ دوسرا اس آنکھ سے دکھائی نہیں دیتا ۔ وہ ہر جگہ ہے ۔ “

ان کی بات پر دران نے چونک کر چہرے کا رخ ان کی طرف موڑا ۔ وہ مسکرائے ۔

” ہم دو مطلب میں اور میرا اللہ ۔ جو ہر انسان کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔ جب کسی کا کوئی نہیں ہوتا تب وہ ہوتا ہے اور اس کا ہونا ہی حقیقت ہے باقی تو سب فانی ہے ۔ سب چھوڑ دیتے ہیں ۔ “

بڑی گہری بات تھی ان کے چہرے کی چمک اور ذہن کی پاکیزگی دران کو جکڑ رہی تھی۔

” میرے بارے میں جو سوچ رہے ہو وہ درست ہے تسلی رکھو ۔ آرام کرو ابھی کچھ دیر میں کھانا بن جائے گا ۔ مٹر گوشت بہت مزے کے بناتا ہوں میں ۔”

مٹروں والی ٹوکری کو اٹھائے وہ کھڑے ہوئے اور پھر کمرے سے باہر نکل گئے ۔ دران نے حیرت سے چند سکینڈ خالی کمرے کی اس کرسی کو گھورا جہاں کچھ دیر پہلے وہ بڑے میاں بیٹھے تھے پھر آہستگی سے آنکھیں موند لیں اور سر تکیے سے ٹکا لیا شاید کمرے کے پاس ہی کچن تھا اس لیے برتن بجنے کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔

اچانک تلاوت کی خوبصورت آواز ابھری دران نے پٹ سے آنکھیں کھولیں ۔ بڑے میاں کچن میں کھانا بناتے ہوئے سورۃ الملک کی تلاوت کر رہے تھے ۔

دران نے آج سے پہلے اتنی خوبصورت تلاوت اپنی پوری زندگی میں کبھی نہیں سنی تھی ۔ اس کے جسم کا رواں رواں کان بن گیا تھے ۔ ریڑھی کی ہڈی میں ایک نرم میٹھی سی سنسناہٹ ابھرنے لگی ۔ کانوں میں پڑتی تلاوت کی آواز سیدھی دل پر اثر کر رہی تھی ۔ اچانک ایسا محسوس ہونے لگا جیسے تنے اعصابوں کو کوئی نرماہٹ سے دبا رہا ہو۔ اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔ اب باقی سب آوازیں مدھم ہو گئی تھیں بس تلاوت گونج رہی تھی ۔

☆☆☆☆☆

بیورلی ہلز رات کے گیارہ بجے بادلوں سے ڈھکے آسمان کے نیچے گھپ اندھیرے میں ڈوبا تھا ۔ درانگ ولاس کے اس نیلے اور سفید رنگ کے ملاپ والے حسین کمرے میں مکمل خاموشی چھائی تھی ۔ دران شام کا کمرے سے نکلا اب کچھ دیر پہلے ہی واپس آیا تھا ۔

جویریہ سے نگاہیں چرائے , سخت تاثرات والے سنجیدہ چہرے کے ساتھ اس کے پاس سے گزرتا ہوا سلائڈنگ ڈور کھول کر برآمدے میں نکلا آیا ۔ برآمدے میں دائیں بائیں چکر کے ساتھ سگریٹ کے کش لگاتا شاید وہ جویریہ کے سو جانے کا انتظار کر رہا تھا ۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد کمرے میں واپس آیا۔

اس سارے لمحوں میں وہ بیڈ پر بیٹھی محبت سے اس کی ہر حرکت کو دیکھ رہی تھی ۔ اوپری زرد کوٹ اتار دیا تھا اب نیچے سرخ فراک زیب تن تھی ۔ جس کے چوڑی دار آستئین کلائیوں سے نیچے آدھے ہاتھوں تک کو ڈھانپ رہے تھے اور فراک کا گھیرا ٹخنوں کو چھو رہا تھا ۔ فیروزی سکارف اسی طرح نماز صورت چہرے کا طواف کر رہا تھا ۔

دران کمرے میں واپس آ کر صوفے پر بیٹھ چکا تھا ۔ جویریہ کی خود پر ٹکی شوخ نگاہیں بے چین کر رہی تھیں ۔ شام کو نہ جانے کیسا سحر تھا جو طاری ہوا اور وہ جویریہ کے سامنے بیٹھ کر وہ کر گیا جس سے چار سالوں سے وہ جنگ کر رہا تھا ۔

وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اس کے بالکل پاس آ کھڑی ہوئی ۔ دران نے انجان بن کر ٹی وی پر نگاہیں جما دیں ۔ وہ بڑے اعتماد سے دران کے سامنے صوفے پر براجمان ہوئی تو وہ سٹپٹا گیا ۔ وہ بہت قریب بیٹھی تھی ۔ پوری کھلی آنکھوں میں بے پناہ محبت تھی جو وہ دران کے چہرے پر جمائے مسکرا رہی تھی ۔

اوہ خدا یہ مسکراہٹ ۔۔۔

” مجھے قرآن پڑھا دیں ۔ “

مدھر سی آواز کا جلترنگ خاموش کمرے میں گونجا ۔ دران نے لب سختی سے بھینچے ۔ ریموٹ پر ہاتھ کی گرفت اتنی بڑھی کہ وہ بیچارا چرچرا اٹھا ۔ خاموشی کا دورانیہ ۔

ایک ۔۔۔ دو ۔۔۔۔ تین سکینڈ ۔

” میں نہیں پڑھا سکتا ۔ “

سپاٹ لہجہ وہ نگاہیں پھر بے رخی سے سکرین پر جما چکا تھا ۔ شام والی نرماہٹ چہرے پر بالکل موجود نہیں تھی۔

” کیوں اتنی خوبصورت تلاوت ایسا پیارا ادئیگی تلفظ۔ اگر کسی کو سکھا دیں گے تو ثواب ۔۔۔”

” اپنی جگہ پر جائیں پلیز ۔ “

دران کی کرخت آواز گونجی وہ ہاتھ سے بیڈ کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ جبڑے باہر کو ابھر رہے تھے ۔

” نہیں مجھے آپ سے ہی قرآن پڑھنا ہے اور تجوید سیکھنی ہے ۔ “

اف ۔۔۔ یہ اعتماد ۔۔۔

بڑا لاڈ بھرا لہجہ تھا ۔ شاید دران کی شام والی عنایت نے اس کی حوصلہ افزائی کر دی تھی ۔ کتنی بڑی غلطی کر بیٹھا تھا وہ ۔ دران نے دانت پیسے ۔

” مجھے قرآن نہیں آتا ۔ “

” تجوید اور تلاوت تو آتی ہے ۔ “

پیار سے دیکھتے ہوئے فوراً بات اچک لی ۔

” فار گاڈ سیک کیا فضول کی بحث لے کر بیٹھ گئی ہیں ۔ یہ موبائل میں پوری دنیا جہان کے قاری حضرات کی تلاوت موجود ہے ۔ “

جھنجلا کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے موبائل کی طرف اشارہ کیا جو صوفے کے کونے میں پڑا تھا ۔

” آپ بس روز رات کو آدھا گھنٹہ دے دیں مجھے پلیز “

بڑے پیار سے منت کی ۔ دران نے گھور کر اس کی طرف دیکھا پھر غصے سے کمر پر ہاتھ رکھے شیشے کی دیوار کے پار دیکھا ۔ اعصاب ضبط کی آخری حدود کو چھونے لگے تھے۔

” دیکھیں پلیز منع مت کریں ۔ میں نے آج تک کسی کی بھی تلاوت سن کر ایسا محسوس نہیں کیا جیسے آپ کی آپ پلیز مجھے سکھا دیں ۔ “

” نہیں میں نہیں سکھا سکتا ۔ “

چند قدم مزید فاصلہ بڑھاتے ہوئے وہ اب تقریباً شیشے کی دیوار کے پاس کھڑا تھا ۔ باہر جلتے بلب کی روشنی میں وہ دونوں کرسیاں خالی تھیں جہاں شام کو وہ آمنے سامنے بیٹھے تھے۔

” سکھا سکتے ہیں۔ انفیکٹ آپ سے بہتر کوئی نہیں سکھا سکتا ۔ میں بہت محنت کروں گی اچھا چلیں بس روز کے بیس منٹ دے دیا کریں۔ میں بالکل تنگ نہیں کروں گی پرامس ۔ “

وہ تو آج پتا نہیں کس خوش فہمی میں مبتلا تھی ۔دران کی منت کرتے ہوئے بے ساختہ اس کے بازو کو تھام لیا ۔ وہ کرنٹ کھا کر ایک جھٹکے سے اس کا بازو چھڑائے دور ہوا ۔ تین لمبے ڈگ بھرتا صوفے تک پہنچا جھپٹ کر اسکے موبائل کو اٹھایا اور سرعت سے اس تک پہنچا ۔

” یہ پکڑو موبائل اور باہر جا کر سیکھو اس سے جو سیکھنا ہے اور آئیندہ کسی معاملے میں میرا دماغ مت کھانا۔ “

جھٹکے سے اس کا بازو تھام کر موبائل اس کے ہاتھ پر رکھا اور غصے سے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ سلائڈنگ ڈور کھینچ کر کھولا ۔ اسے باہر دھکا دیا ۔ وہ بری طرح لڑکھڑا کر فرش پر سنبھلی ۔پاؤں ننگے تھے ۔

ایک دھماکے سے دروازہ بند کیا لاک گھمایا اور غصے سے تنے اعصاب لیے کمرے سے باہر نکل گیا ۔ وہ ہونقوں کی طرح شیشے کے پار کھڑی اسے جاتا دیکھ رہی تھی ۔ پیچھے سوئمنگ پول کے پانی میں بلب کی روشنی کا عکس جگمگا رہا تھا ۔ ٹھنڈا فرش ننگے پیروں سے جسم میں سرائیت کرنے لگا ۔

☆☆☆☆☆

انل لاؤنج میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا جب پاس سے کسی کے گزرنے کا احساس ہوا ۔ نگاہ اٹھا کر دیکھا تو دران غصے میں بھرا پورچ کے دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔

” دران کہاں جا رہے ہو ۔ “

انل کی آواز دینے پر وہ رکا ۔ غصے سے ہاتھ میں پکڑی کار کی چابی کو مڑوڑا ۔

” کہیں نہیں ۔ “

تیزی سے کہہ کر قدم پورچ سے پہلے آنے والی راہداری کی طرف بڑھا دیے ۔

” ارے بھئ اتنی رات ہو رہی ہے ۔ رکو میں بھی ساتھ چلتا ہوں ۔ “

انل چھلانگ لگا کر اپنی جگہ سے اٹھا ۔ دران کے چہرے کی سختی کھٹک گئی تھی ۔ دران کی طرح وہ بھی نائٹ ٹرایوز شرٹ میں ملبوس تھا ۔ موسم اچھا تھا اس لیے آج لاؤنج کی بڑی سکرین پر وہ اپنی پسند کی فلم دیکھنے کا پروگرام بنا کر ابھی بیٹھا ہی تھا ۔

جب تک وہ دران کے پیچھے بھاگتا ہوا پورچ میں پہنچا دران بوگاٹی کا ڈرائیونگ ڈور کھولے کھڑا تھا ۔ تیر کی طرح بھاگتا ہوا وہ دران سے پہلے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر براجمان ہوا ۔ دران جھنجلا کر جھکا ۔

” اترو گاڑی سے مجھے اکیلے جانا ہے ۔ “

دران نے ڈرائیونگ سیٹ کی طرف کے دروازے پر ہاتھ رکھ کر اندر جھانکا ۔ انل موبائل سکرین پر نگاہیں جمائے ان سنی کیے ہوا تھا ۔

” سنا نہیں اترو ۔ “

” نہیں اتر سکتا ۔ چلو جہاں جانا ہے ۔ “

انل نے لاپرواہی اور ڈھٹائی سے کہا ۔ دران نے ایک خونخوار نگاہ اس کے ڈھیٹ سراپے پر ڈالی اور غصے سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔ بوگاٹی ٹائرز چرچراتی آواز کے ساتھ گیٹ سے باہر نکل کر بیورلی ہلز کی شفاف سڑک پر دوڑنے لگے ۔

” اب بتاؤ ہوا کیا ہے ۔ جویریہ سے کوئی بات ہوئی ہے کیا ؟ “

انل نے گہری سانس لیتے ہوئے پہلو بدل کر رخ اس کی طرف کیا جو غصے میں گاڑی کی رفتار بڑھا رہا تھا ۔ کمرے سے وہ جس طرح منہ پھلا کر نکلا تھا پہلا اندازہ تو یہی لگایا جا سکتا تھا ۔

” اسے یہی بات تو سمجھ نہیں آتی میں اس سے بات کرنے میں انڑسٹڈ نہیں ہوں بلاوجہ میں سر کھاتی ہے ۔ “

سڑک پر نگاہیں جمائے گئیر بدلہ ۔

” دران یار بہت اچھی مہذب لڑکی ہے ۔ “

دران کے حقارت بھرے لہجے پر وہ جویریہ کا ساتھ دیے بنا نہیں رہ سکا ۔

” ہو گی مہذب میں کیا کروں ۔ “

سٹرینگ غصے سے گھومتی سڑک کے سنگ موڑا ۔ بارش برسنے لگی تھی ۔ گاڑی کے فرنٹ شیشے پر وائپر چلنے لگے تھے ۔

” ہوا کیا ہے ؟ یہ تو پتا چلے ۔ “

انل نے ہاتھ ہوا میں اٹھاتے ہوئے استفسار کیا ۔

” غلطی ہو گئی ہے مجھ سے ایک ۔ “

دران کی غصے سے بھری آواز گونجی ۔ باہر بجلی زور سے کڑکی تھی۔ بارش کی رفتار اور تیز ہو چکی تھی ۔

☆☆☆☆☆

” جھٹلا کیسے سکتا ہے اس بات کو ۔ تو ہے حافظ قرآن تو ہے ۔ اگر اس کو بند کمرے میں پڑھا دے گا تو اس میں کیا برا ہے بھئ۔ “

انل نے کافی کے مگ کو اپنی طرف کھسکاتے ہوئے کہا ۔ کافی شاپ میں بجتی موسیقی کی آواز گونج رہی تھی ۔ وہ انل کو تلاوت والی ساری بات بتا چکا تھا جس پر انل جویریہ کا ہی ساتھ دے رہا تھا ۔

“مجھ جیسا گناہ گار جو پچھلے چار سال سے قرآن کو ہاتھ لگانا تو دور کی بات خود کو مسلمان نہیں کہتا اس کو پڑھانے بیٹھ جائے واہ ۔ “

دران نے کافی کے مگ کو منہ سے لگائے نخوت سے ناک چڑھائی ۔ کافی شاپ کے شیشوں کے باہر طوفانی بارش زور شور سے برس رہی تھی ۔ باہر چلتے لوگوں کی چھتریاں تک اڑ رہی تھیں ۔ شیشوں سے بارش کے تھیپڑے آ کر ٹکرا رہے تھے ۔

” خدا سے غافل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ خدا تمہیں بھول گیا ہے ۔ “

انل نے سنجیدگی سے سر جھکائے کہا پھر چہرہ اوپر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا ۔

” زیادہ تو نہیں جانتا لیکن اتنا جانتا ہوں کہ قرآن حافظ کے دل میں قرآن محفوظ ہوتا ہے ۔ چاہے جتنے سال بھی قرآن کو ہاتھ نہیں لگائے لیکن دل تو دھڑکتا ہے نہ روز ۔ “

وہ دران کو دیکھ کر بڑے پریم سے سمجھا رہا تھا جب دران ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا ۔

” جیسیکا ۔ “

انل نے فوراً دران کی نگاہوں کا تعاقب کیا ۔ کافی شاپ کے ایک طرف شراب کے بار کے قریب جیسیکا کرسی پر براجمان تھی ۔ گلابی رنگ کی شرٹ کے نیچے جینز پہنے گہرے میک اپ سے مزین چہرہ لیے ۔

” ہاں وہی ہے لیکن اتنی رات کو یہاں کیا کر رہی ہے ؟ “

انل نے حیرت سے بھنویں اکھٹی کیں رات کے دو بج رہ تھے ۔ انہیں باہر آئے تین گھنٹے ہو چکے تھے ۔

” لڑکے کے ساتھ ہے ۔ “

جیسیکا کی میز کی طرف بڑھتے لڑکے کو دیکھ کر دران کی پھیکی سی آواز ابھری ۔ لڑکا وائن سے بھرے دو گلاس تھامے مسکراتا ہوا اب جیسیکا کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ رہا تھا ۔

دران نے ایک دم مضطرب حالت میں پیشانی سہلائی ۔

” کیا ہوا ؟ “

” وہ لڑکا ۔ “

” کیا ہوا اس لڑکے کو ؟ “

انل کے سوال ہوچھنے پر وہ غصے سے دو قدم آگے بڑھا ۔ انل نے کندھے سے پکڑ کر روکا ۔

” ایک ایک منٹ دران کیا کرنے جا رہے ہو ۔ “

” وہ اسے نقصان پہنچانا چاہتا ہے مجھے جیسیکا کو بچانا ہے ۔ “

دران نے بوکھلائے سے لہجے میں کہا ۔

” رکو جیسیکا ہمیں نہیں جانتی وہ کبھی یقین نہیں کرے گی کہ ہم سچ کہہ رہے ہیں اس لڑکے کے بارے میں ۔ کیسے بچاؤ گے اسے ۔ “

انل نے زبردستی اس کا کندھا تھام کر اس کے قدم روکے تھے ۔ دران کے موبائل کی گھنٹی پر دونوں کی توجہ موبائل کی طرف مبذول ہوئی۔ دران نے موبائل نکالا سکرین پر روزین کا نمبر جگمگا رہا تھا ۔

” ہیلو ۔ “

” سر کہاں ہیں آپ ؟ وہ میم ۔۔م۔م۔ہ۔ہ۔ “

روزین کی بوکھلائی سی آواز ابھری ۔ وہ بے حد گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی ۔

” کیا ہوا ہے جلدی بولو ۔ “

دران نے بھنویں سکیڑ کر غصے سے کہا جبکہ نگاہیں سامنے جیسیکا پر جمی تھیں ۔ جو سامنے بیٹھے لڑکے کو شرما کر دیکھ رہی تھی ۔

” سر جویریہ میم پتا نہیں کیسے کمرے کے آؤٹ ڈور میں لاک رہ گئی تھیں ۔ میں تو اب آپ سے کافی کا پوچھنے کمرے میں آئی تو دیکھا ان کی حالت بہت خراب ہے مکمل بھیگی ہوئی ہیں جسم نیلا ہو رہا ہے نہ ہوش آ رہا ہے ۔ “

ایک دھماکا ہوا تھا ۔ بے ساختہ اس کا ہاتھ ماتھے پر گیا ۔ وہ غصے میں آؤٹ ڈور کے لاک کو دو دفعہ گھما آیا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *