Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 46)

Basil by Huma Waqas

شیون نے سرخ ہوتا چہرہ اوپر اٹھایا ۔ دران نے اس کے چہرے کا حشر کر دیا تھا ۔ اس کی بائیں آنکھیں سرخ ہو کر سوزش کے باعث اوپر کو ابھری ہوئی تھی ۔ بکھرے بالوں اور چہرے پر جا بجا مکوں کے نشان لئے وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے کبھی دران اور جویریہ کی طرف اور کبھی سلاخوں کے پیچھے چمکتی آنکھوں والی بوسیدہ اور بے حال لڑکیوں کو طرف دیکھ رہا تھا ۔ جو اسے بے خوف آنکھوں کے ساتھ کسی بھوکے شیر کی مانند گھور رہی تھیں ۔ ایسا بھوکا شیر جس کے شکار میں اور اس میں صرف ان لوہے کی سلاخوں کا فاصلہ ہو ۔

وہ لوگ اس وقت خفیہ تہہ خانے میں موجود تھے ۔ یہ شیون کی جیل تھی ۔ اسے وہ اپنی بنائی ہوئی دوزخ سمجھتا تھا اور خود کو یہاں موجود ہر ذی روح کا خدا مانتا تھا ۔ وہ یہاں ہزاروں کی تعداد میں موجود لڑکیوں کی زندگی حتی کہ ان کی سانسوں تک کا مالک خود کو سمجھتا تھا ۔

دران نے اس کو کچھ سوچنے سمجھنے کی مہلت ہی نہیں دی تھی ۔ وہ اسے پاگلوں کی طرح مار رہا تھا اور اس کی اتنی بڑی فوج میں سے کوئی ایک آدمی بھی اسے بچانے کے لیے نہیں پہنچا تھا ۔ اتنی سکیورٹی اور اتنی طاقت کے باوجود وہ اس وقت دران کے رحم و کرم پر تھا ۔

دران کے گھونسوں اور مکوں میں ایک عجیب جنون تھا اس کی آنکھوں کی وحشت میں عجیب درد تھا ۔ یہ درد صرف جویریہ کی محبت اور اس کو پہنچائی گئی تکلیف کے لیے ہی نہیں تھا ۔ اس درد کے پیچھے , اس کے وجود کے ہر زخم کی چبھن تھی ۔ اس کی ماں اس کی پیدائش سے پہلے ہی مکمل طور پر نشے کی لت میں جکڑی جا چکی تھی ۔

اس کی پیدائش کے چند ماہ بعد ہی کنز کو یہ احساس ہونے لگا کہ وہ اس پر بہت بڑی ذمہ داری بن گیا ہے ۔ وہ اس کے خرچے پورے کرتی یا پھر اپنے نشے کا خرچہ اٹھاتی , آخر کار تنگ آ کر وہ اسے اسفند کے حوالے کرنے کے لیے پاکستان پہنچ گئی تھی اور وہاں سے شروع ہوئی تھی اس کے درد کی داستان , اس کی محرمیوں کی داستان , اس کے دکھوں , وحشتوں کی داستان , تنہائی اکیلے پن اور مظلومیت کی داستان ۔

دران کو اپنی تمام اذیتیں اور درد کی وجہ آج شیون لگ رہا تھا ۔ وہ اسے جان سے مار دیتا لیکن اس کی جان اتنی آسانی سے نکل جائے وہ یہ نہیں چاہتا تھا , اسی لیے اسے گھسیٹتے ہوئے یہاں تک لے آیا ۔

وہ اور جویریہ اب شیون کے ساتھ تہہ خانے میں موجود تھے جبکہ زک وہاں آفس سے تمام معلومات اکٹھی کر رہا تھا اور ایجینسی سے رابطہ کر کے , اگلے لائحہ عمل سے پہلے , ان تمام معلومات کو بروقت ان تک پہنچا رہا تھا ۔

دران نے شیون کو جیل کے کمروں کے وسط میں موجود گیلری میں لا کر پٹخا جبکہ جویریہ وہیں تہہ خانے کے داخلی دروازے کے پاس لگے بورڈ کے پاس کھڑی تھی ۔ اس بورڈ پر موجود ایک بٹن سے تمام کمروں کے دروازوں کے لاک خود بخود کھل جاتے تھے ۔ دران اس وقت پھر سے چہرے پر ماسک پہنے ہوئے تھا جو اس نے صرف شیون کو اپنا چہرہ دکھانے کے لیے اتارا تھا۔

” دیکھو , تم سب پر ظلم ڈھانے والا آج تم سب کے حوالے ہے ۔ اس کا کیا کرنا ہے ؟ یہ تم سب اچھے سے جانتی ہو ۔ تم سب آج سے آزاد ہو ۔ باہر آؤ اور کچل دو اس ظالم کو ۔ “

دران نے جبڑے بھینچے چلاتے ہوئے انگیرزی زبان میں کہا اور جھک کر ایک جھٹکے سے شیون کے منھ پر سے پٹی کھول دی ۔ پٹی کا کھلنا تھا کہ وہ چلا اٹھا ۔

” ایسا مت کرو ۔ دیکھو میں تمہیں وہ لڑکی دیتا ہوں ۔ تم اسے لے جاؤ ۔ ان سب کو بھی لے جاؤ ۔ جتنی چاہو دولت لے لو ۔ مجھے چھوڑ دو ۔ “

وہ گڑگڑا رہا تھا ۔ دران نے جویریہ کی طرف دیکھا اور پھر آہستگی سے آنکھیں بند کر کے کھول دیں ۔ اشارہ ملتے ہی جویریہ نے برقی رفتاری سے حکم کی تعمیل کی اور بورڈ پر لگے بٹن کو دبا دیا ۔ جیسے ہی بٹن نیچے ہوا ۔ کڑک , کڑک کی آوازوں کے ساتھ تمام کمروں کے لاک کھل گئے ۔ لڑکیاں حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات لئے باہر نکلیں اور پھر جیسے ہی شیون پر نگاہ پڑی جو خوف کے مارے سر کو نفی میں ہلا رہا تھا ۔ دروازوں کے آگے پہلے سے رکھی ہوئی بلٹیں , زنجیریں اور چاقو لے کر اس پر جھپٹ پڑیں ۔

لڑکیاں اسے بے دردی سے مار رہی تھی ۔ اس کے جسم پر ہر جگہ کوڑے , زنجیریں اور چاقو برس رہے تھے ۔ وہ درد سے چلا رہا تھا , بالکل ویسے ہی جیسے وہ سب لڑکیاں چیختی اور چلاتی تھیں جب ان کے نازک جسموں پر وہ ان سب چیزوں کے ساتھ ظلم کرتا تھا اور ان کی روح تک کو چھلنی کر دیتا تھا ۔

ہر لڑکی آنکھوں میں خون لئے خود پر ہوئے ہر ظلم اور زیاتی کا بدلہ لے رہی تھی ۔ اتنی ساری لڑکیوں میں شیون دب کر رہ گیا ۔ پہلے پہل اس کے چیخنے کی آوازیں آتی رہیں لیکن پھر وہ بھی دب گئیں ۔ وہ مر چکا تھا ۔ لیکن اس آخری لڑکی تک نے اسے مارا تھا جس کا کوڑا ابھی اس تک نہیں پہنچا تھا ۔ وہ اس کی لاش کو بھی مار رہی تھیں پیروں میں نوچ رہی تھیں ۔ اس کے چہرے اس کے جسم پر وار کر رہی تھیں ۔ ہزاروں کی تعداد میں لڑکیون نے چند سکینڈ میں ہی اسکے پرخچے اڑا دیے تھے ۔

وہ دران کے ساتھ کھڑی نم آنکھوں اور پرسکون چہرے کے ساتھ اس منظر کو دیکھ رہی تھی ۔ آنکھوں کی نمی آج خوشی کے باعث تھی ۔ وہ خوشی جو اس کی روح کو پرسکون کر گئی تھی ۔ شیون کی موت فقط اس کی آزادی کا پروانہ نہیں تھی , ہزاروں لڑکیاں اس ظالم انسان کے ظلم سے آزاد ہوئی تھیں ۔ شیون جیسے شیطان کے چیلے اور وقت کے فرعون دنیا میں آتے رہتے ہیں لیکن اللہ جب اپنی رسی کھینچنے پر آتا ہے تو سب نیست و نابود کر دیتا ہے ۔ اس کی طاقت کے آگے شیون کی بے پناہ طاقت اور حفاظتی تدابیر سب ناکام ہو چکی تھیں اور وہ ایک مسلے ہوئے کیڑے کی طرح اپنی ہی بنائی ہوئی دوزخ میں فرش پر پڑا تھا ۔

” جوی۔ “

وہ جو دران کے ساتھ کھڑی سامنے کے منظر کو دیکھ کر اللہ کی شان کے بارے میں سوچ رہی تھی , بائیں طرف سے آتی آواز پر چونک کر اس نے چہرے کا رخ پھیرا ۔ تمنا خوشی سے چمکتی آنکھیں لئے کھڑی تھی ۔ وہ حیرت اور خوشی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔

” تمنا ا۔ا۔ا۔۔ “

جویریہ نے ایک سکینڈ کے نناوے حصے میں اسے پہچان کر اس کا نام پکارا اور بے ساختہ اس کی طرف بڑھی ۔ کچھ لوگ بہت مختصر ملاقات میں بھی آپ کے ذہنوں پر بہت گہری چھاپ چھوڑ دیتے ہیں ۔ ایسی چھاپ کہ آپ کبھی بھی انہیں بھلا نہیں سکتے ہیں ۔

تمنا اس کی زندگی میں آنے والے لوگوں میں سے ایک ایسی ہی شخصیت تھی , جس نے چند دنوں میں ہی اسے بے حد متاثر کیا تھا ۔

تمنا کے گلے لگی وہ بے اختیار رو دی ۔ اس جہنم میں گزارے ان تمام دردناک لمحوں میں وہ اس کے لیے ایک ٹھنڈی پھوار کی مانند تھی ۔ تمنا کو نماز پڑھتا دیکھ کر ہی تو اسے اس بات کا احساس ہوا تھا کہ جن گناہوں کے مرتکب آپ اپنی رضا سے نہیں ہوتے , اللہ کے نزدیک ان گناہوں کی گندگی کوئی معنی نہیں رکھتی ۔

وہ آپ کی روح کی پاکیزگی کو دیکھتا ہے ۔ یہی وجہ تھی تمنا اپنے غلاضت کا شکار ہوئے وجود اور چھلنی روح کے باوجود اللہ کی بارگاہ میں پرسکون ہو کر سجدہ کرتی تھی ۔ اس کے چہرے پر پانچ وقت کا اطمینان اس کی روح کی پاکیزگی اور اللہ پر کامل یقین کے باعث تھا ۔ وہ یہ نہیں دیکھتی تھی کہ وہ اس وقت کس جگہ پر ہے , وہ یہ نہیں سوچتی تھی کہ اس کو شیون کس گندے کام کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ وہ تو بس یہ جانتی تھی کہ اس کی روح پاک ہے اور اس کا مالک اللہ ہے اور اللہ جس حال میں بھی رکھے اس کے آگے سجدہ کرنا لازم ہے شکوہ کرنے والے اور اپنی نصیب کو الازم دینے والے کبھی اس سکون کو محسوس نہیں کر سکتے جو تمنا کیا کرتی تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ آج اللہ نے اس کی آزمائش ختم کر دی تھی ۔

دران اب لڑکیوں کو تہہ خانے سے نکلنے کے بارے میں رہنمائی کر رہا تھا ۔ ان سب لڑکیوں کے لیے باہر چائنہ کی حفاظتی ٹیم آ چکی تھی ۔ ایجنسی نے اپنی ٹیم کو مخفی رکھتے ہوئے , اس جگہ کی ساری معلومات ایک انجان ذرائع کے ذریعے چائنہ پولیس تک پہنچا دی تھی ۔ خبر پہنچتے ہی ان کی رسکیو فوج اس انجان جگہ میں قید ہوئی لڑکیوں کو بازیاب کروانے پہنچ گئی تھی ۔

بعد ازاں مزید یہ بات پتہ چلی کہ یہ جیل صرف ان لڑکیوں سے ہی نہیں بہت سے لڑکوں اور بوڑھے لوگوں سے بھی بھری ہوئی تھی ۔ تہہ خانے کے اگلے خفیہ دروازے کے پیچھے ایک اور دردناک داستان رقم تھی ۔ یہاں مرد , کم سن بچے اور بوڑھے بھی قید تھے ۔ بہت سے ایسے افراد جن کو یہاں قید میں برسوں بیت گئے تھے ۔ وہ شیون کی فوج کے ہی باغی لوگ تھے جو شاید اس دلدل سے نکلنے کی کوشش کرتے پکڑے جاتے تھے اور ان کو لا کر یہاں قید کر دیا جاتا تھا ۔

چینی حکام اور پورے ملک میں یہ خبر تیزی سے پھیل چکی تھی ۔ چین اپنے ہی ملک میں موجود اس وحشت ناک اور بھیانک جگہ کی نشاندہی پر حیرت کا اظہار کر رہا تھا ۔ ان کے مطابق وہ اس علاقے اور یہاں ہونے والی تمام کاروائیوں کے بارے میں بالکل بے خبر تھے ۔ جہاں سب لوگ سامنے کے دروازے سے نکل رہے تھے ۔ وہاں صرف تین لوگ تھے جو اس جگہ کے خفیہ راستے سے ہوتے ہوئے باہر نکل رہے تھے ۔ دران , جویریہ اور زک کو لے کر ان کے خفیہ نقشے کے ذریعے یہاں سے باہر جا رہا تھا , جہاں ایجنسی کا ہیلی کاپٹر پہلے سے ان کے انتظار میں تھا ۔

چین کی پولیس نے آپریشن شروع کیا , اس عمارت کا مضبوط گیٹ ایک دھماکے سے توڑ دیا گیا اور بعد ازاں چینی پولیس کے مطابق اس خفیہ جگہ سے چونتیس ہزار سے زیادہ اغوا کار خواتین , مردوں اور کم سن بچوں کو مختلف جگہوں سے نکالا گیا ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ان مغویوں کو جسم فروشی , جسم کے اعضا کی فروخت اور منشیات کی سمگلنگ کے لیے زبردستی استعمال کیا جاتا تھا ۔ عجیب غریب اور جدید طرز پر تیار کی ہوئی اس جگہ سے بہت سی لاشیں بھی نکالی گئیں جس میں سے ایک لاش شیون کی بھی تھی جس کی شناخت کرنا بھی مشکل تھی ۔

اس واقع کے بعد چینی وزارت نے اسمگلنگ کے خلاف اپنا سخت مؤقف اپنانے کا عزم کر لیا تھا ۔ چین کی پولیس مکمل طور پر چوکنی ہو چکی تھی اور ایک خفیہ ذرائع سے موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید 3،195 اسمگلنگ گروہوں کے خلاف چھاپوں میں 8،660 مغوی بچوں اور 15،458 خواتین کو بھی بازیاب کرایا۔ بہت تجسس اور کھوج کے باوجود انہیں اس آدمی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ملی سکی تھیں جس نے یہ سب کاروائی میں ان کی مدد کی تھی ۔ لڑکیوں نے جس چہرے کے بارے میں بتایا دنیا میں ایسی شکل کا کوئی آدمی موجود نہیں تھا ۔

بہت سی اغوا کار لڑکیوں کو شناخت کے بعد ان کے مطلوبہ ممالک میں بھجوا دیا گیا تھا ۔ بہت سے بد حال قیدی ابھی بھی ہسپتالوں میں زیر علاج تھے ۔ بہت سے بڑے نام جو اس سب کاموں میں ملوث تھے ان کے نام سامنے آنے پر ان کی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا رہی تھیں ۔

☆☆☆☆☆

دوپہر کے دو بجے , امریکہ ائیر پورٹ کی انتظار گاہ میں معمول کی گہماگہمی تھی ۔ اردگرد کی چہل پہل سے بے نیاز , وہ سر کو جھکائے انتظار گاہ میں لگی نشست پر براجمان تھا ۔ تھکا سا چہرہ , بڑھی ہوئی شیو , وہ چند ماہ پہلے اسی ائیر پورٹ پر اترنے ولا اسفند ہر گز نہیں تھا ۔ اس کے پاؤں کے پاس نیچے پڑا اس کا سفری بیگ اس بات کی نشاندہی کر رہا تھا کہ وہ روانگی کے لئے یہاں موجود ہے ۔ کھلے پائنچے والی سیاہ پینٹ پر کوٹ پہنے وہ افسردہ اور بے حال بیٹھا تھا ۔

” اسفند ۔ “

اس کے بالکل سامنے کھڑے ہو کر اسے کسی نے پکارا تھا ۔ اسفند نے موندیں آنکھیں کھولیں ۔ سفید دودھیا پاؤں سرخ جوتوں میں مقید , سیاہ چمکتے فرش پر موجود تھے ۔ کنز پارکر ۔۔۔

ہاں وہ کنز پارکر ہی تھی جو اس کے سامنے کھڑی تھی ۔ اسفند نے سرعت سے چہرہ اوپر اٹھایا , وہ سرخ لمبے کوٹ میں ملبوس , دلکش چہرے پر پریشانی سجائے کھڑی تھی ۔ نوین سے علیحدگی کے بعد دوسرے دن ہی وہ اس کے فلیٹ سے چلی گئی تھی اور آج پورے دو ماہ بعد اس کے سامنے کھڑی تھی اور اس کے چہرے کے تاثرات سے صاف ظاہر تھا کہ ان دو ماہ میں اس کی زندگی میں کتنی بھیانک تبدیلیاں آ چکی تھیں ان کے بارے میں اسے آگاہی ہو چکی تھی ۔

” اسفی تم نے مجھے کچھ بتایا کیوں نہیں ؟ میں تمہیں پورے دو ماہ سے تلاش کر رہی ہوں اور آج تمھارے آفس کے ہی ایک آدمی سے سب پتا چلا ۔ “

” وہ میں ۔۔۔۔۔ “

اسفند نے بیچارگی سے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے کہ وہ غصے سے گھورتی ہوئی اس کے ساتھ والی نشست پر براجمان ہوئی ۔

” مانا نوین سے علیحدگی کے بعد ہمارا کوئی رشتہ نہیں رہا تھا لیکن اتنے دن ہم ساتھ رہے دوست جیسا ناطہ تو تھا نہ ۔ تمہارے ساتھ اتنا کچھ ہو گیا اور تم نے مجھے بتانا تک گوارا نہیں کیا اور اب چپ چاپ بنا بتائے پاکستان جا رہے ہو ۔ “

” آپ کا شکوہ بجا ہے لیکن جب خونی رشتے ہی کھوکھلے نکل آئیں تو دوست اس چھاج کی طرح لگتے ہیں جسے دودھ کا جلا پھونک پھونک کر پیتا ہے ۔ “

اسفند نے پھیکی سی مسکراہٹ سجائے معنی خیز جملہ اچھالا تو وہ الجھ کر اس کی طرف دیکھنے لگی ۔

” مطلب میں سمجھی نہیں ۔ “

” میری جاب ختم ہونے اور جیل جانے کے پیچھے نوین بھائی کا ہاتھ تھا ۔ “

” کیا! “

” جی بالکل یہ سچ ہے ۔ آپکی طلاق کے بعد اور ان کی حقیقت پتا چلنے کے بعد مجھ سے رہا نہیں گیا ۔ میں ان سے ملنے اور انہیں سمجھانے گیا ۔ “

” اوہ تم نے یہ سب کیوں کیا ؟ “

کنز کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید ہوا ۔

” کیوں نہ جاتا ۔ وہ میرے چچا زاد بھائی ہیں۔ میں نے انہیں بتا دیا کہ مجھے سب پتا چل گیا ہے اور ان کو کہا کہ وہ یہ سب چھوڑ دیں ورنہ میں پاکستان سب کو بتادوں گا ۔ “

اسفند نے تھوک نگلا ۔ کنز سانس روکے بے یقینی سے اس کی بات سن رہی تھی ۔

” میں ان کو یہ دھمکی دے کر واپس آ گیا لیکن نہیں جانتا تھا کہ ان کے اثر و رسوخ اتنے کمزور نہیں ہیں۔ جب میں اگلے دن آفس پہنچا تو مجھ پر آفس میں کرپشن کا بہت بڑا الزام لگ چکا تھا ۔ میرے آفسر نے مجھے جیل میں ڈال دیا ۔ “

کنز نے بے ساختہ تاسف سے منہ پر ہاتھ رکھا ۔

” دو ماہ جیل کاٹنے کے بعد میرے آفس کے ایک کولیگ کو مجھ پر رحم آیا وہ یہ سب جانتا تھا کہ مجھے پھنسایا گیا ہے اس نے وہاں سے میری بیل کروائی ۔ میں اس کے بعد پھر سے نوین بھائی کے پاس گیا ۔

مجھے امید تھی کہ وہ میری مدد کریں گے لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا اور مزید کہا کہ تم اگر میرے بارے میں کسی کو بھی پاکستان میں بتاؤ گے تو میں انہیں بتا دوں گا کہ تم خود کتنا ذلیل ہو کر جاب سے نکالے گئے ہو اور اب یہ سب تم فقط مجھے بدنام کرنے کے لیے جھوٹ بول رہے ہو ۔ تمھارا ویزا ختم ہو رہا ہے اب چپ چاپ پاکستان لوٹ جاؤ ۔ ورنہ اب کی بار تمھاری بیل بھی نہیں ہونے دوں گا ۔ “

اسفند کے لبوں پر درد بھری مسکراہٹ ابھری ۔

” وہیں مجھے پتہ چلا کہ مجھے جیل پہنچانے والا اور اب میری بیل کروانے والا کوئی اور نہیں میرا ہی چچا زاد بھائی نوین ہی ہے جو اب پاکستان میں سب سے اپنا رشتہ ختم کر چکا ہے ۔ پاکستان میں بنائی گئ اتنی جائیداد اور وہاں اس کے انتظار میں آنکھیں بچھائے رشتوں سے اسے کوئی سروکار نہیں رہا ۔ “

اسفند نے بات ختم کی اور پھر سے سر جھکا لیا ۔ کنز اس کے ساتھ بالکل ساکن بیٹھی تھی ۔

” تم پاکستان نہیں جاؤ گے ۔ “

کنز نے سپاٹ چہرے کے ساتھ کہا تو اسفند نے چونک جھکا سر اوپر اٹھایا ۔ بغور کنز کے چہرے کی طرف دیکھا۔ وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی تھی۔

” لیکن یہ ممکن نہیں ہے ۔ میں اگر یہاں رک بھی جاتا ہوں تب بھی ۔۔”

” تم مجھ سے شادی کر لو ۔ “

وہ ہنوز سپاٹ لہجے میں سامنے غیر مرئی نقطے پر نگاہ جمائے بیٹھی کہہ رہی تھی ۔

” کیا ! “

اسفند نے حیرت سے پوری آنکھیں کھولیں ۔ کنز نے پرسکون انداز میں چہرے کا رخ اس کی طرف پھیرا ۔

” ہاں تم مجھ سے شادی کر لو ۔ یہاں مستقل ہونے کے لیے تمہیں کسی سے تو شادی کرنی پڑے گی تو مجھ سے کر لو ۔ “

” لیکن ۔۔۔۔مہ۔۔میں ۔ “

” نوین خود کو سمجھتا کیا ہے ۔ تم ہرگز پاکستان نہیں جاؤ گے ۔ میں اسے دکھاؤں گی کہ رشتے کیا ہوتے ہیں ۔چلو میرے ساتھ , تمہیں ڈرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے ۔ “

وہ ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اس کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو رہی تھیں۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا وہ کسی بدلے کی آگ میں جل رہی ہو ۔

” نہ۔۔نہیں کنز۔۔۔”

” چپ بالکل چپ ۔ اٹھو ابھی فوراً ۔ “

اسفند کے تذبذب پر اس نے گھور کر دیکھا اور پھر اس کے بازو کو کھینچتے ہوئے وہاں سے اٹھا دیا ۔ وہ بے بسی سے سفری بیگ کو اٹھاتا ہوا اس کے سنگ واپس چل دیا ۔ ائیر پورٹ پر پاکستان روانگی کی پروان کے بارے میں اناؤنسمنٹ ہو رہی تھی اور وہ کنز پارکر کے ہمراہ ائیر پورٹ سے باہر جا رہا تھا ۔

☆☆☆☆

رات کے اندھیرے اس پہاڑی علاقے کے مضافات کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے چکے تھے ۔ پہاڑوں کی اونچائی پر جلتی یہ روشنیاں یہاں موجود خوبصورت ریزورٹس کی تھیں ۔

انہی ریزروٹ میں سے ایک ریزورٹ کے لکڑی کے بنے شفاف فرش پر ہلکے جامنی رنگ کی پوشش والے کاؤچ پر براجمان دران سر جھکائے موبائل سکرین کو اوپر نیچے اچھال رہا تھا۔ وہ لوگ اس وقت چین کے ہی ایک پہاڑی علاقے میں بنے ریزروٹ میں موجود تھے ۔

ایجینسی نے تینوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے یہاں پہنچایا تھا ۔ صبح سے رات تک وہ زک کے ساتھ لیپ ٹاپ پر کام کرتا رہا جبکہ جویریہ ریزورٹ میں موجود کمرے میں سوتی رہی ۔

سو کر باہر آئی تو وہ دونوں ویسے ہی مصروف تھے ۔ وہ جو کچھ دور صوفے پر آ کر بیٹھی گئ ۔ بظاہر تو نگاہیں ٹی وی سکرین پر جمی تھیں لیکن کان مسلسل دران اور زک کی باتوں پر لگے تھے ۔

دران زک سے اسے پاکستان بھجوانے کے متعلق بات کر رہا تھا ۔ دران کی اس بات پر اس کا دل ڈوب گیا ۔ کچھ دیر اور باتیں کرنے کے بعد زک گڈ نائیٹ کہتا ہوا ریزورٹ سے باہر نکل گیا ۔ ایجنسی نے اس کے لیے الگ ریزورٹ بک کروایا تھا ۔

زک کے کمرے سے باہر جاتے ہی وہ حواس باختہ سی دران کے پاس آ کھڑی ہوئی ۔ اُسی نیلی فراک کو زیب تن کئے اور سرخ شال کو کندھوں پر لپیٹے سارا دن سوئی ہوئی سوزش زدہ آنکھیں لئے , وہ دران کی آخری بات پر پریشان ہو گئی تھی ۔

” دران مجھے پاکستان کیوں بھیج رہے ہیں ؟ مجھے نہیں جانا ہے پاکستان ۔ “

جویریہ کی اچانک آنے والی آواز پر اس نے موبائل پر سے نگاہیں اوپر اٹھائیں ۔ وہ اس کے سر پر پریشان چہرہ لئے کھڑی تھی ۔ اچھا تو اس نے سب سن لیا ۔

” ہمیشہ کے لیے تھوڑی بھیج رہا ہوں ۔ بس کچھ مسائل ہیں وہ حل ہو جائیں پھر میں خود لینے آ جاؤں گا ۔ فکر مت کرو وہاں تمہارے رہنے کا مکمل انتظام ہے ۔ “

” کیا مسائل ہیں ایسے جو مجھے خود سے اتنا دور بھیج رہے ہیں ۔ “

غصے میں رعب سے کہتی برجستہ وہ اتنی بے تابی ظاہر کر گئ کہ دران کی سنجیدگی ایکدم سے شوخی میں تبدیل ہوئی ۔ ہاں یہ پچھلے ایک دن میں ان کے درمیان ساری غلط فہمیاں دور ہو چکی تھیں لیکن وہ بیوی تھی ایسی بیوی جس کو اس کی بے پناہ محبت پر یقین ہو کر بھی نہیں تھا ۔

وہ موبائل کو سامنے میز پر رکھے , مسکراہٹ دباتے ہوئے کھڑا ہوا جبکہ وہ خفگی اور پریشانی چہرے پر رقم کئے اب بھی اسے گھورنے میں مصروف تھی ۔

” ویسے میں نے سنا ہے کہ بیویاں ہمیشہ میکے جانے کے لئے بےتاب ہوتی ہیں۔ تم تو واقعی سب سے الگ ہی نکلیں ۔ “

” میں آپ سے مسائل کے بارے میں پوچھ رہی ہوں ۔ ایسے کیا مسائل ہیں جو مجھے یوں خود سے الگ کر رہے ہیں ؟ “

دران کی شوخی پر اس کے غصے میں رتی بھر بھی فرق نہیں آیا تھا ۔ دران نے بغور اس کے خفا چہرے کو دیکھا اور پھر گہری سانس خارج کرتے ہوئے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سنجیدگی سے گویا ہوا ۔

” برھان کو ہاروی اور بروس نے اغوا کر لیا ہے ۔ وہ دونوں خود بھی غائب ہیں ۔ سبرینا سمیت سب گھر والے بہت پریشان ہیں ۔ “

دران کی بات پر اس کی خفگی ایکدم سے ہوا ہوئی اور چہرے پر پریشانی پھیل گئی ۔ برھان , ہاروی اور بروس کی تمام سازش کے بارے میں وہ اسے سب بتا چکا تھا ۔ اس نے دران سے برھان کو سبرینا کی خاطر معاف کر دینے کا وعدہ بھی لے لیا تھا لیکن اب یہ خبر پریشان کن تھی ۔

” اوہ ۔ اب کیا ہو گا ؟ “

” کچھ نہیں وہ لوگ زیادہ دیر چھپ نہیں سکیں گے ۔ جس طرح چائنہ پولیس کو خفیہ رپورٹ جاری کی گئی ہے اس طرح امریکہ میں بھی جاری کر دی گئی ہے ۔ جس میں ہاروی پروڈکشن کا نام سب سے اوپر ہے ۔ امریکہ پولیس انہیں پاتال سے بھی کھوج نکالے گی ۔”

دران نے لب بھینچے متوازن لہجے میں وضاحت دی ۔ وہ اب بھی پریشان کھڑی تھی ۔

” بس مجھے برھان کو گرفتاری سے بچانا ہو گا ۔ میں یہ چاہتا ہوں اس سب میں تمھارا نام کہیں نہ آئے , اس لئے تمہیں کچھ عرصے کے لیے سب سے دور پاکستان رہنا ہو گا ۔ “

دران کی آخری بات پر اس کے چہرے پر اداسی پھر سے سائے پھیلانے لگی ۔ اس اداسی میں انگنت وسوسے اور بے یقینی کی جھلک صاف واضح تھی ۔ دران نے چند سکینڈ گہری نگاہوں سے اس کے چہرے کے تاثرات کو دیکھا ۔ اس کی سوچ کو پرکھنے میں ناکام ہوا تو سر جھٹک کر آہستگی سے اس کے سینے پر بندھے ہاتھوں کو کھولتے ہوئے اپنے ہاتھ میں لیا ۔

” تمھارے چہرے پر یہ بے یقینی مجھے بہت تکلیف دیتی ہے ۔ “

بہت نرم اور اپنائت بھرا لہجہ تھا ۔ وہ تو جیسے اس کے چھونے پر بکھر گئی تھی۔

” آپ مجھے چھوڑ تو نہیں رہے ؟ “

اف۔۔۔اف ۔۔۔ آنسوؤں میں روندھائی بھاری آواز تھی اور پھر ٹپ ٹپ آنسو اس کی موٹی آنکھوں سے گر کر گال بھگونے لگے ۔ دران نے تڑپ کر اسے قریب کیا ۔ وہ تو بے جان ہو رہی تھی ۔ کیا سچ میں وہ یہ سمجھ رہی تھی کہ سب مقصد پورا ہونے کے بعد وہ اسے چھوڑ رہا ہے ۔ اف۔۔ ایک تو اس کی سوچ وہ جان نہیں پاتا تھا ۔ پتا نہیں اب وہ کیا غلط غلط سوچ رہی تھی ۔

” جویریہ ۔۔۔ “

اس کے ہاتھوں کو چھوڑ کر محبت سے اس کے چہرے کو اپنی دونوں مضبوط ہتھلیوں میں بھر لیا ۔

” نہیں ہر گز نہیں ۔ میں تمہیں کیسے چھوڑ سکتا ہوں ۔ میں نے تو ایجینسی کو بھی ہمارے رشتے کے بارے میں بتادیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مجھے تمہیں سب بتانے کی اجازت دے دی تھی۔ “

وہ محبت سے اسے سمجھا رہا تھا لیکن وہاں تو کسی بھی صفائی کا جیسے کوئی اثر نہیں تھا ۔ رونے کی رفتار مزید تیز ہو چکی تھی ۔ وہ مضبوط اعصاب کی مالک لڑکی اس کی محبت میں کتنی کمزور تھی ۔

آنکھیں میچ کر مسلسل آنسو بہاتی نمکین سے حسن کی مالک , اس کی محبت اس کے جذبات کی واحد حق دار تھی ۔ اس کی لانبی پلکیں آنسوؤں سے تر تھیں ۔ گھنگرالے بالوں کی چند لٹیں چہرے کے گرد کانوں سے نیچے گردن کی ہڈی کو چھو رہی تھیں ۔ وہ اسے کھونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ اس کے سب غموں کو خود میں سمیٹ لینے والی , اس کے روم روم میں محبت کے جذبات بھر دینے والی , عزیز جان تھی وہ ۔ دران نے بے اختیار اپنے چہرے کو اس کے چہرے کے قریب کیا ۔

” لگتا ہے تمہیں ایسے یقین نہیں آئے گا ۔ کوئی اور طریقہ آزمانہ چاہیے ۔ “

دران کی شوخ مگر خمار آلودہ آواز پر اس نے بھیگی پلکیں بے یقینی سے اوپر اٹھائیں ۔ وہ چہرہ اس کے چہرے کے بہت قریب کئے ہوئے تھا ۔ آنکھیں جیسے ہی اٹھیں اس کی نگاہوں سے جا ملیں جہاں سر اٹھاتے انگنت جذبے اس کو سمٹنے پر مجبور کر گئے ۔ دران کا یہ روپ اس کی آنکھوں میں جذبات کی گہرائی وہ رونا بھول گئی ۔

” تمہیں اس رشتے کی سچائی اور محبت کی سچائی پر یقین دلانے کے لئے اب بس وہی طریقہ استعمال کرنا ہو گا ۔ چاہتا تو یہ تھا جب تم پاکستان سے آؤ گی تب لیکن اب مجبوری بن گئ ہے ۔ “

دران نے اس کی کھلی آنکھوں میں محبت سے جھانکتے ہوئے معنی خیز جملہ ادا کیا تو وہ جھینپ کر نگاہیں جھکا گئی ۔ اب پلکیں گالوں پر لرز رہی تھیں , دل سینے میں دھڑک رہا تھا اور ریڑھ کی ہڈی میں عجیب سا ارتھ نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے سفر طے کرنے لگا ۔

دران نے آہستگی سے اس کا چہرہ چھوڑ کر کمر کے گرد بازؤ حائل کئے قریب کیا تو وہ سمٹ کر چھوئی موئی ہو گئ ۔ نگاہیں اب بھی جھکی تھیں ۔

” پوچھو گی نہیں وہ طریقہ کیا ہے ؟ “

دران کی سرگوشی پر چہرے پر اڑتی ہوائیاں مزید گہری ہوئیں ۔ وہ تو جیسے اس کے ہر انداز سے محظوظ ہو رہا تھا یا پھر خود ہوش سے مفلوج تھا ۔

” پوچھو ؟ “

دران نے کان کی لو کو چھوتے ہوئے رعب سے کہا تو وہ بےساختہ اکھڑتی سانسوں میں فرمابرداری سے سوال دہرا گئی۔

” کیا ہے وہ طریقہ ؟ “

بمشکل حلق سے آواز نکلی ۔ وہ جو بے خود ہو رہا تھا اس کے سوال پر خود ہی خجل ہو گیا ۔ مبہم مسکراہٹ نے لبوں کو گھیراؤ کیا ۔ اس کی کمر سے گرفت ختم ہوئی اور چند قدم پیچھے ہوا ۔

وہ جو اس لمحے کے طلسم میں یاقوت ناسفتہ کی مانند سرخ کھڑی تھی دران کے یوں خاموش ہونے اور پیچھے ہونے پر سراسیمگی سے لرزتیں پلکیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔ وہ نچلے لب کو دانتوں میں دبائے اس لمحے کی گدگدی پر خود بھی شرما رہا تھا ۔

جویریہ کے دیکھتے ہی خجل ہوتے ہوئے جلدی سے پیشانی سہلائی انداز ایسا تھا جیسے کچھ بھی سجھائی نہ دے رہا ہو ۔ وہ رونا بھولے اب مجسم ہوئی اس لمحے میں قید تھی جس کا سحر وہ کچھ دیر پہلے پھونک چکا تھا اور اب خود ہی شرما رہا تھا ۔

چند سکینڈ گزرنے کے بعد جویریہ نے جیسے ہی قدم پلٹنے کے لیے آگے بڑھائے دران کے ہاتھ کی گرفت اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامے قدم روک چکی تھی ۔ وہ جس کو دل برسوں پہلے دے دیا تھا آج اس حسین رشتے کی شروعات میں اسے کیسے روک دیتی یا کیونکر خفگی میں گنوا دیتی ۔ وہ ایسی گستاخ ہوتی بھی تو اس کی قربت کے آگے ایک نہ چلتی وہ دران تھا ۔

نیلگوں پردوں والی کھڑکی کے کھلے پٹ سیاہ رات کی آغوش میں چاندی سے چمکتے چاند کا منظر دکھا رہے تھے ۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے آسمان پر یہ چاند بھی کمرے کے منظر کو دیکھ کر شرما کر مسکرا رہا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *