Basil by Huma Waqas NovelR50529 Last updated: 18 February 2026
Rate this Novel
Basil (Episode 02)Basil (Episode 01)Basil (Episode 03)Basil (Episode 04)Basil (Episode 05)Basil (Episode 06)Basil (Episode 07)Basil (Episode 08)Basil (Episode 10)Basil (Episode 11)Basil (Episode 12)Basil (Episode 13)Basil (Episode 14)Basil (Episode 15,16)Basil (Episode 17)Basil (Episode 18)Basil (Episode 19)Basil (Episode 20)Part 1Basil (Episode 20)Part 2Basil (Episode 21)Basil (Episode 22,23)Basil (Episode 24)Basil (Episode 25)Basil (Episode 09)Basil (Episode 26)Basil (Episode 27)Basil (Episode 28)Part 1Basil (Episode 28)Part 2Basil (Episode 29)Basil (Episode 30)Basil (Episode 31)Basil (Episode 32,33)Basil (Episode 34)Basil (Episode 35)Basil (Episode 36)Basil (Episode 37)Basil (Episode 38)Basil (Episode 39)Basil (Episode 40)Part 1Basil (Episode 40)Part 2Basil (Episode 41)Basil (Episode 42)Basil (Episode 43)Basil (Episode 44)Basil (Episode 45)Basil (Episode 46)Basil (Episode 47)Basil (Episode 48,49)Basil (Episode 50)Basil (Episode 51)Basil (Last Episode)
Basil by Huma Waqas
سیاہ فراری نرم روی سے چارکول میں لپٹی شفاف سڑک پر چل رہی تھی ۔ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھا انل اپنے ساتھ بیٹھے دران کو کافی دیر سے جانچ رہا تھا ۔
وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔ وہ لوگ رات کو آٹھ بجے شوٹنگ سے پہلے معمول کی شاپنگ کے لیے گھر سے نکلے تھے ۔ کل صبح چائنہ کے لیے فلائٹ تھی اس لیے ضروری سازو سامان آج ہی خریدنا تھا ۔
دُران متحوش سی کیفیت میں غیر مرئی نقطے پر نگاہیں مرکوز کئے ہوئے تھا ویسے تو اُسے طویل وقت تک خاموش رہنے کی عادت تھی لیکن انل سے کبھی کبھار اس کی یہ عادت برداشت سے باہر ہو جاتی تھی اور اب بھی دران کو دیکھ کر اس کا کچھ ایسا ہی حال تھا ۔
" کیا ہوا ۔۔۔ پریشان کیوں لگ رہے ہو؟ " پوری طرح اس کی طرف رخ موڑے سوال کیا ۔
دران نے چہرہ موڑا اور گہری نگاہوں سے انل کی طرف دیکھا بھنویں ہنوز کسی گہری سوچ کے باعث پیشانی پر اکھٹی ہو کر افقی شکن بنائے ہوئے تھیں ۔
" تمہیں ہاروی عجیب نہیں لگتا ؟ " انل کی بات کا جواب دینے کے بجائے اس سے سوال پوچھ لیا
یہ اس کی عادت تھی سوال پر جواب کے بجائے سوال کرنا اور دوسرے انسان کو خود سے جواب تلاش کرنے پر مجبور کرنا ۔
لیکن اس وقت کیا گیا سوال عجیب تھا کہ اس کو ہاروی کیوں عجیب لگا حالانکہ آج تک سب کو وہ ہی عجیب لگتا تھا ۔
" مطلب ۔۔۔۔ ؟ " انل نے کندھے اچکائے
" مطلب مجھے کچھ عجیب لگتا ہے " پر تجسس لہجہ
انل نے نا سمجھی نگاہوں میں سموئے دیکھا , سیم گاڑی کو سرخ بتی جلنے کے باعث سگنل پر روک چکا تھا ۔
"ہاروی کے پاس کتنی سپر ہٹ فلیمیں ہیں ؟ " پھر سے اسی انداز میں حیران بیٹھے انل سے سوال کیا
انل نے بھنویں اٹھائیں اور لبوں کو گولائی رخ گھماتے ہوئے چند سکینڈ سوچا پھر ناکام ہو کر اس کی طرف دیکھا اب وہ ہاروی کی سپر ہٹ فلموں کی گنتی تو ہر گز نہیں جانتا تھا ۔
" سب سپر ہٹ ہیں اور یہ والی بھی سپر ہٹ ہی جائے گی کیوں ایسا کیوں پوچھ رہے ہو " متوازن لہجے میں جواب دے کر تشویش ظاہر کی
" لیکن میرے حساب سے پھر بھی کچھ گڑبڑ ہے اس کے پاس اتنی دولت کی ریل پیل صرف چند سپر ہٹ فلمیں دے کر وہ کیسے بہت ساری پروڈکشنز کمپنی کو پیچھے چھوڑے ہوئے ہے یہ " دران نے ٹھوڑی سہلائی اور آنکھوں کو سکوڑا ۔
انل نے گہری سانس لی اچھا تو وہ تب سے ان سوچوں میں مگن تھا ۔ سگنل کھل چکا تھا گاڑی پھر سے چلنے لگی تھی ۔
" دران ن۔ن۔ن۔ تم ہمیشہ سے آگے کی سوچ کیوں رکھتے ہو؟ میری تو سمجھ سے یہ بات بالاتر ہے , اس کی دولت سے ہمیں کیا لینا دینا؟ " انل نے اس کی بات پر حیرت ظاہر کی
" ہوں۔ں۔ں ۔۔۔۔ سہی چلو تم کہتے ہو تو چھوڑ دیا " زبردستی کی مسکراہٹ کے ساتھ لبوں کو پھیلایا ۔
ایسی مسکراہٹ جو مسکراہٹ خود بخود چہرے پر آتی ہے وہ تو شائد کبھی اس کے چہرے پر آئی نہیں تھی۔ لیکن اس دنیا میں مسکراہٹ نامی چیز اکثر جگہوں پر استعمال کرنی پڑتی ہے اس لیے اس نے ایک جھوٹی مسکراہٹ لبوں پر سجانا سیکھ لیا تھا جسے بوقت ضرورت وہ استعمال کرتا تھا ۔
اس مسکراہٹ کا ساتھ اس کی آنکھیں کبھی نہیں دیتی تھیں ۔ موبائل کی بجتی رنگ ٹون پر انل نے چونک کر ہاتھ میں پکڑے موبائل کی طرف دیکھا ۔
" رینا کال کر رہی ہے بار بار تم چینجنگ روم میں تھے تب بھی آئی تھی کال "
انل نے موبائل پر ہی نگاہیں جھکائے ساتھ بیٹھے دران کو بتایا
" تم بار بار کاٹتے رہو " سپاٹ لہجے میں ترکی با ترکی جواب دیا ۔
" اٹس ناٹ فئیر درانگ۔گ۔گ۔گ ۔۔۔۔ شی لوز (loves ) یو "
انل نے مصنوعی آنکھیں نکالیں ۔
رینا بریولی ہلز میں میں ایک مشہور دولت مند بزنس مین کی بیٹی تھی اور درانگ پر بری طرح فدا تھی کوئی بھی شوبز تقریب ہو یا کچھ بھی وہ ہر جگہ موجود رہتی تھی اس کے اثر و رسوخ اتنے تھے کہ وہ دران کے پیشہ ور فون نمبر تک رسائی پا چکی تھی اور اب آئے دن کالز کرتی رہتی تھی ۔
" اگر اس طرح کے لو (love ) کا خیال رکھنے بیٹھ گیا , تو بس پھر گیا میں " متوازن لہجے میں جواب دیا اور اچک کر سیدھا ہوا ۔
نگاہیں سڑک کی دائیں طرف موجود مونگلیا بیکری پر جم گئی تھیں ۔ یہ بیورلی ہلز کی مشہور بیکری تھی جو اپنے ٹیسٹ کی وجہ سے مشہور تھی ۔
" بیکری کے پاس روکو " دران نے لبوں پر انگلیاں رکھتے ہوئے ڈرائیور کو حکم صادر کیا
ڈرائیور حکم سے پہلے ہی گاڑی کو ایک طرف لگا رپا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اس سڑک سے درانگ کبھی رُکے بنا نہیں گزرتا تھا ۔
