Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil by Huma Waqas

سیاہ فراری نرم روی سے چارکول میں لپٹی شفاف سڑک پر چل رہی تھی ۔ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھا انل اپنے ساتھ بیٹھے دران کو کافی دیر سے جانچ رہا تھا ۔
وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔ وہ لوگ رات کو آٹھ بجے شوٹنگ سے پہلے معمول کی شاپنگ کے لیے گھر سے نکلے تھے ۔ کل صبح چائنہ کے لیے فلائٹ تھی اس لیے ضروری سازو سامان آج ہی خریدنا تھا ۔
دُران متحوش سی کیفیت میں غیر مرئی نقطے پر نگاہیں مرکوز کئے ہوئے تھا ویسے تو اُسے طویل وقت تک خاموش رہنے کی عادت تھی لیکن انل سے کبھی کبھار اس کی یہ عادت برداشت سے باہر ہو جاتی تھی اور اب بھی دران کو دیکھ کر اس کا کچھ ایسا ہی حال تھا ۔
" کیا ہوا ۔۔۔ پریشان کیوں لگ رہے ہو؟ " پوری طرح اس کی طرف رخ موڑے سوال کیا ۔
دران نے چہرہ موڑا اور گہری نگاہوں سے انل کی طرف دیکھا بھنویں ہنوز کسی گہری سوچ کے باعث پیشانی پر اکھٹی ہو کر افقی شکن بنائے ہوئے تھیں ۔
" تمہیں ہاروی عجیب نہیں لگتا ؟ " انل کی بات کا جواب دینے کے بجائے اس سے سوال پوچھ لیا
یہ اس کی عادت تھی سوال پر جواب کے بجائے سوال کرنا اور دوسرے انسان کو خود سے جواب تلاش کرنے پر مجبور کرنا ۔
لیکن اس وقت کیا گیا سوال عجیب تھا کہ اس کو ہاروی کیوں عجیب لگا حالانکہ آج تک سب کو وہ ہی عجیب لگتا تھا ۔
" مطلب ۔۔۔۔ ؟ " انل نے کندھے اچکائے
" مطلب مجھے کچھ عجیب لگتا ہے " پر تجسس لہجہ
انل نے نا سمجھی نگاہوں میں سموئے دیکھا , سیم گاڑی کو سرخ بتی جلنے کے باعث سگنل پر روک چکا تھا ۔
"ہاروی کے پاس کتنی سپر ہٹ فلیمیں ہیں ؟ " پھر سے اسی انداز میں حیران بیٹھے انل سے سوال کیا
انل نے بھنویں اٹھائیں اور لبوں کو گولائی رخ گھماتے ہوئے چند سکینڈ سوچا پھر ناکام ہو کر اس کی طرف دیکھا اب وہ ہاروی کی سپر ہٹ فلموں کی گنتی تو ہر گز نہیں جانتا تھا ۔
" سب سپر ہٹ ہیں اور یہ والی بھی سپر ہٹ ہی جائے گی کیوں ایسا کیوں پوچھ رہے ہو " متوازن لہجے میں جواب دے کر تشویش ظاہر کی
" لیکن میرے حساب سے پھر بھی کچھ گڑبڑ ہے اس کے پاس اتنی دولت کی ریل پیل صرف چند سپر ہٹ فلمیں دے کر وہ کیسے بہت ساری پروڈکشنز کمپنی کو پیچھے چھوڑے ہوئے ہے یہ " دران نے ٹھوڑی سہلائی اور آنکھوں کو سکوڑا ۔
انل نے گہری سانس لی اچھا تو وہ تب سے ان سوچوں میں مگن تھا ۔ سگنل کھل چکا تھا گاڑی پھر سے چلنے لگی تھی ۔
" دران ن۔ن۔ن۔ تم ہمیشہ سے آگے کی سوچ کیوں رکھتے ہو؟ میری تو سمجھ سے یہ بات بالاتر ہے , اس کی دولت سے ہمیں کیا لینا دینا؟ " انل نے اس کی بات پر حیرت ظاہر کی
" ہوں۔ں۔ں ۔۔۔۔ سہی چلو تم کہتے ہو تو چھوڑ دیا " زبردستی کی مسکراہٹ کے ساتھ لبوں کو پھیلایا ۔
ایسی مسکراہٹ جو مسکراہٹ خود بخود چہرے پر آتی ہے وہ تو شائد کبھی اس کے چہرے پر آئی نہیں تھی۔ لیکن اس دنیا میں مسکراہٹ نامی چیز اکثر جگہوں پر استعمال کرنی پڑتی ہے اس لیے اس نے ایک جھوٹی مسکراہٹ لبوں پر سجانا سیکھ لیا تھا جسے بوقت ضرورت وہ استعمال کرتا تھا ۔
اس مسکراہٹ کا ساتھ اس کی آنکھیں کبھی نہیں دیتی تھیں ۔ موبائل کی بجتی رنگ ٹون پر انل نے چونک کر ہاتھ میں پکڑے موبائل کی طرف دیکھا ۔
" رینا کال کر رہی ہے بار بار تم چینجنگ روم میں تھے تب بھی آئی تھی کال "
انل نے موبائل پر ہی نگاہیں جھکائے ساتھ بیٹھے دران کو بتایا
" تم بار بار کاٹتے رہو " سپاٹ لہجے میں ترکی با ترکی جواب دیا ۔
" اٹس ناٹ فئیر درانگ۔گ۔گ۔گ ۔۔۔۔ شی لوز (loves ) یو "
انل نے مصنوعی آنکھیں نکالیں ۔
رینا بریولی ہلز میں میں ایک مشہور دولت مند بزنس مین کی بیٹی تھی اور درانگ پر بری طرح فدا تھی کوئی بھی شوبز تقریب ہو یا کچھ بھی وہ ہر جگہ موجود رہتی تھی اس کے اثر و رسوخ اتنے تھے کہ وہ دران کے پیشہ ور فون نمبر تک رسائی پا چکی تھی اور اب آئے دن کالز کرتی رہتی تھی ۔
" اگر اس طرح کے لو (love ) کا خیال رکھنے بیٹھ گیا , تو بس پھر گیا میں " متوازن لہجے میں جواب دیا اور اچک کر سیدھا ہوا ۔
نگاہیں سڑک کی دائیں طرف موجود مونگلیا بیکری پر جم گئی تھیں ۔ یہ بیورلی ہلز کی مشہور بیکری تھی جو اپنے ٹیسٹ کی وجہ سے مشہور تھی ۔
" بیکری کے پاس روکو " دران نے لبوں پر انگلیاں رکھتے ہوئے ڈرائیور کو حکم صادر کیا
ڈرائیور حکم سے پہلے ہی گاڑی کو ایک طرف لگا رپا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اس سڑک سے درانگ کبھی رُکے بنا نہیں گزرتا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *