Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 06)
Rate this Novel
Basil (Episode 06)
Basil by Huma Waqas
کراچی کے بہت پرانے متوسط طبقے کے رہائشی علاقے میں دو منزلہ ملک ہاوئس میں اب دوسری پیڑھی اپنی زندگی کے ماہ و سال گزار رہی تھی ۔
ملک ہاوئس دو بھائیوں بختاور ملک اور سخاوت ملک کی مشترکہ ملکیت تھا ۔ بختاور ملک بڑے تھے اور ان کے دو بچے تھے ایک بیٹا نوین ملک اور بیٹی شازیہ ملک جبکہ چھوٹے بھائی سخاوت ملک کے چار بچے تھے ۔ بڑا بیٹا اسفند اس سے چھوٹی عصمت پھر یاور اور سب سے چھوٹی بیٹی طلعت ۔
بختاور ملک اور ان کی زوجہ اپنی بیٹی شازیہ کی شادی کے بعد ہی یکے بعد دیگرے اس دار فانی سے کوچ کر گئے تھے اور پھر ان کے بعد ان کا اکلوتا بیٹا نوین ملک بھی بھری جوانی میں اس دنیا کو الوداع کہہ گیا ۔
سخاوت ملک کے گزرجانے کے بعد اب ملک ہاؤس کی پہلی پیڑھی میں سے صرف سخاوت ملک کی زوجہ دستگیر بیگم ہی اس گھر میں سب سے بڑی تھیں جو اپنے دو بیٹوں اسفند اور یاور کے ساتھ یہاں مقیم تھی ۔
ملک ہاؤس میں آئے دن کسی نا کسی بات پر جھگڑا معمول کی بات تھی کیونکہ اسفند ملک کو کاروبار میں نقصان ہو رہا تھا اور یاور ملک معمولی ملازمت کرتا تھا ۔ گھر میں کمانے والے دو اور کھانے والے زیادہ تھے مگر یہاں مالی پریشانی کے علاوہ اور بھی بہت مسئلے مسائل تھے اور اب اس وقت بھی لاؤنج سے تھوڑا آگے اس کمرے سے ابھرتی آوازیں پورے گھر میں گونج رہی تھیں آج چھٹی کے دن صبح سے لگا یہ تماشہ رات گئے تک جاری تھا ۔
یہ اسفند اور روبی کا کمرہ تھا ۔ روبی کے جہیز میں آیا لکڑی کا بیڈ , سنگہار میز اور ایک عدد چھوٹا سا پلنگ اس کمرے میں رکھے گئے تھے ۔ اس وقت کمرے کے وسط میں یاور غصے میں بپھرا کھڑا بیڈ پر بیٹھے اسفند ملک کو اپنے دوپہر کو لیے گیے فیصلے سے آگاہ کر رہا تھا ۔
بیڈ کے ایک کنارے پر روبی اپنے جبڑوں کو سختی سے پیوست کئے اپنے غم و غصے پر ضبط کی عکاسی کر رہی تھی جبکہ تین سالہ دران اسفند کے گھٹنے کے پاس بیڈ پر اور دو سالہ برھان پلنگ پر سو رہا تھا ۔
” تم دران کو گود لینا چاہتے ہو!!!! یہ کیا بات ہوئی ؟ دران نوین بھائی کا بیٹا ہے ہمارے خاندان کا خون ہے پھر اس کو گود لینے کی کیا تُک بنتی ہے سب اس کا خیال رکھتے تو ہیں “
اسفند ملک کی پیشانی پر یاور کی بات کو لے کر انگنت ناسمجھی کے شکن نمودار ہوئے ۔ یاور ملک دران کو قانونی طور پر گود لینا چاہتا تھا ۔
” بھائی بس کریں کیا خاک خیال رکھتے ہیں , کوئی دھیان نہیں دیتا اس پر , کپڑوں کے نام پر یہ نیکر اور نہ کوئی منہ دھلائے نہ کچھ , کام والی آئے تو نہلا دے نہیں تو ہفتہ بھر ایسے ہی گندہ پھرتا ہے بیچارا ” یاور نے بازو کو لمبا تانے ہاتھ کے اشارے سے اسفند کی توجہ دران کی طرف دلائی
اسفند نے گردن کو ہلکا سا خم دیا وہ معصوم شہزادوں سی صورت والا بدنصیب بچہ اس وقت پرانی سی پھٹی نیکر پہنے سو رہا تھا ۔ کراچی میں آجکل رات کو خنکی بڑھ جاتی تھی لیکن کسی کو یہ زحمت نہیں ہوتی تھی کہ رات کے وقت ہی اسے شرٹ پہنا دی جائے ۔
آئے دن دران پر بڑھتے ظلم اب یاور کی برداشت سے باہر تھے وہ ایک سال سے یہی سب کچھ دیکھ اور برداشت کر رہا تھا ۔
یاور کی گود لینے والی بات پر روبی کو دوپہر سے ہی پریشانی لاحق تھی کیونکہ اگر یاور اس معاملے میں سنجیدہ ہو گیا تو کیا اس کی بہن کو دران کو گود لینا پڑے گا ۔ وہ تنک کر آگے ہوئی
” یاور زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے , سونی کیا نئی نویلی دلہن آ کر اس کو سنبھالنے میں لگ جائے گی ؟ ” روبی نے نروٹھے لہجے میں شکوہ کیا
سونی اور یاور کی تین سال پہلے پسندیدگی کی بنا پر نسبت طے ہوئی تھی ۔ یہ پسندیدگی روبی اور اسفند کی شادی سے ہی شروع ہوئی تھی اور پھر بات اتنی بڑھی کہ یاور کی ضد پر سب کو روبی کی بہن سونیا کا رشتہ یاور کے لیے لینا پڑا لیکن اب جب شادی قریب آنے والی تھی تو یاور کی یہ بات کہ وہ دران کو اپنا نام دے کر اپنا بیٹا بنائے گا کسی طور پر روبی کو ہضم نہیں تھی ۔
” ہاں سونی سنبھالے گی ۔۔۔ ظاہر سی بات ہے بھابھی , میں جب اَسے گود لوں گا , اپنا نام دوں گا , تو میری بیوی کو اَسے قبول کرنا ہو گا ” یاور ملک نے کندھے اچکائے اور اپنے فیصلے کو اٹل قرار دیا ۔
” سونی نہیں کرے گی یہ سب ” روبی نے ناک پھلا کر یاور سے کہا اور غصے سے اسفند ملک کی طرف پلٹی
” اسفی میری بات سنیں ۔ یاور بات کو فضول میں بڑھاوا دے رہا ہے ۔ ہم سب دران کا جتنا ہو سکتا ہے خیال رکھتے ہیں۔ اب اپنے بھی سو کام ہوتے ہیں سو بکھیڑے ہوتے ہیں ۔ اس کو گود میں اُٹھائے اُٹھائے تو نہیں پھر سکتے ” روبی نے ماتھے پر شکن کی تعداد بڑھاتے ہوئے شوہر کو صفائی پیش کی
کرتی بھی کیوں نہ دران کو لانے والا اور یہاں رکھنے پر بضد ہونے والا اسفند ملک ہی تو تھا ۔
” اٹھائے اٹھائے پھرنے کا کون کہہ رہا ہے آپ سے بھابھی , ان سو کاموں اور سو بکھیڑوں میں آپ برھان کا اور عصمت باجی فائقہ کا دھیان رکھتی ہیں نہ؟ تو اسے کیوں بھول جاتے ہیں آپ سب ” یاور کا پارہ تو آج کسی صورت کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔
وہ ایسا ہی تھا ڈٹ جانے والے اور لڑ جانے والا اس کا منہ بولتا ثبوت سونی تھی جس کے لیے دستگیر بیگم کسی صورت نہیں مان رہی تھیں اور پھر یاور کی ضد کے آگے ہار ماننی پڑی ۔
” تم گھر ہوتے ہو جو تمہیں پتا ہو ہم کتنا دھیان رکھتے ہیں یا کتنا نہیں ” روبی نے ناک چڑھا کر ترکی با ترکی جواب دیا
” بھابھی میں لڑنا نہیں چاہتا ہوں آپ سے ” یاور نے نظریں چرائیں
” تم بات بھی غلط کر رہے ہو ۔ سونی ہر گز آتے ہی ایک تین سال کے بچے کی ماں نہیں بنے گی۔ میری بہن کوئی گری پڑی ہے جو یوں تم اس کے سر پر بچہ مسلط کرو گے ” روبی نے ہاتھ ہوا میں گھمائے فیصلہ سنایا ۔
” ٹھیک ہے مت بنے دران کی ماں , پھر میری بیوی بھی نہیں بنے گی ” یاور کے دو ٹوک لہجے میں کہے گئے جملے پر اسفند اور روبی ایک ساتھ دم بخودہ ہوئے
” یاور بکواس بند کرو سونی کو تم یوں فضول کی بات پر چھوڑ دو گے کیا؟ , دران نوین بھائی کا بیٹا ہے ۔ وہ ہمارے چچا زاد تھے۔ اس لحاظ سے اب دران کی ذمہ داری ہم سب پر ہے نا کہ صرف تم پر ” اسفند ملک کی رعب دار گرج پر بھی یاور کی پلک تک نہیں جھپکی
” بھائی اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں اسے گود نہ لوں تو پھر میری ایک بات مانیں دران کو شازیہ آپا کہ پاس بھیج دیں وہ سگی پھپھو ہیں اس کی شائد وہ ہی۔۔۔ ” یاور نے گہری سانس لیتے ہوئے اپنی اگلی شرط سے آگاہ کیا
اسفند اس کی اس بات پر سٹپٹا کر سیدھا ہوا چہرے پر غصے کے آثار ایک دم سے بڑھے
” ہاں تاکہ وہ تایا کی باقی بچی کھچی جائیداد بھی دران کے بہانے ہم سے لے اڑے ۔ ہے نہ ؟ وہ کہے گی نوین کا بچہ میں پال رہی ہوں تو اس کے حصے کی جائیداد بھی میں لوں گی ” اسفند ملک نے دانت پیستے ہوئے اسے نوین کی بہن شازیہ کے ارادوں سے آگاہ کیا
” لالچ میں آپ سب ایک بچے کی زندگی برباد کر رہے ہیں اور کچھ نہیں , بھائی آپ کو نہیں پتا وہ کتنی مار کھاتا ہے سارا دن ” یاور نے چیختے ہوئے کہا اور غصیلی نگاہ روبی پر ڈالی
” اسفی یہ بدتمیز اتنا ہے کیا کریں , برھان اور فائقہ کو مارتا ہے, گند ڈالتا ہے , اب برھان بھی تو ہے اس سے چھوٹا ہے پر مجال ہے کچھ الٹا سیدھا کرے اور یہ ۔۔۔۔ یہ تو آفت کا پرکالا ہے ۔ جب اتنے کام الٹ پلٹ کرے گا تو ظاہر سی بات ہے مار بھی کھائے گا, اس کی جگہ برھان یا فائقہ ہوں تو وہ بھی اتنی ہی مار کھائیں گے ” روبی نے تنک مزاجی سے جواب دیا
” بھابھی آپ تو چپ ہی کریں بس ” یاور نے ہاتھ سیدھا کھڑا کرتے ہوئے روبی کو بولنے سے روکا
” ایک منٹ چپ کرو تم دونوں ۔۔۔۔ یہ طلعت کیا کرتی رہتی ہے سارا دن اس کو بلاؤ ذرا , روبی بلانا ذرا اسے ” اسفند نے طلعت کا پوچھا اور ساتھ ہی روبی کو اسے لانے کا اشارہ کیا
روبی ایک خون آشام نگاہ یاور پر ڈالتی اور منہ میں بُڑبڑُاتی باہر نکلی ۔ یاور ناک پھلا کر اسفند کی طرف متوجہ ہوا
” بھائی طلعت نے کیا کرنا ہے وہ بھی گاہے بگاہے اس کارے عظیم میں اپنا حصہ ڈالتی ہے, جب دل چاہتا ہے مارتی ہے اس کو ” یاور نے سر ہوا میں مارتے ہوئے طلعت کے بارے میں اسفند کو آگاہی دی
” جی بھائی ۔۔۔” طلعت نے دروازے پر ہاتھ رکھے تیکھی سی آواز میں پوچھا اونچے سے قمیض شلوار میں کھلے بال چھوڑے جدید سے فیشن سے لیس بیس سالہ طلعت حیرت سے کمرے کے گرم ماحول کو دیکھتے ہوئے اندر داخل ہوئی روبی بھی اس کے پیچھے ہی کمرے میں داخل ہوئی ۔
” طلعت تم بھی دران کو مارتی ہو , افسوس ہوا مجھے یہ جان کر مطلب یہاں اس گھر میں ان پڑھ اور پڑھے لکھے سب برابر ہیں ” اسفند نے تاسف سے آنکھیں پھیلائیں ۔
” بھائی میں کب مارتی ہوں دران کو ؟ ” طلعت صاف مکرتے ہوئے اب یاور کو گھور رہی تھی ۔
یاور سے تو اس کی ایک پل کے لیے نہیں بنتی تھی ۔
” جھوٹ مت بولو تم یاد کرو وہ پرسوں کیسے مار رہی تھی تم اسے ” یاور نے کمر پر ہاتھ رکھے سر کو ہلاتے ہوئے اسے یاد دہانی کروائی جو مکمل طور پر بھولے کھڑے تھی ۔
” وہ اس دن تو اَس نے میری اتنی مہنگی کریم ساری اپنی ٹانگوں پر لگا کر ضائع کر دی تھی تو میں نے تھوڑی سی سزا دی تھی اس کو بس ” طلعت نے اسفند کی طرف دیکھتے ہوئے بیچارگی سے اپنی صفائی دی
” تھوڑی سی سزا ۔۔۔۔اوہ میرے خدا کسی قدر جھوٹی ہے یہ لڑکی , بھائی اس نے پتا کیا حرکت کی تھی , دران کو بالوں سے پکڑ کر اس کے گال پر تھپڑ مار رہی تھی ” یاور نے اس کے جھوٹ پر اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑ لیا ۔
” بھائی میں ہلکی ہلکی چپت لگا رہی تھی , میں صرف ڈرا رہی تھی اسے زور سے کب مار رہی تھی ” طلعت نے پھر سے صفائی دی
” ہاں تھپڑ کی آواز مجھے اسی لیے لاؤنج میں بھی سنائی دے گئی ؟ ” یاور نے چیختے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں
” طلعت ۔۔۔ تم سے یہ توقع نہیں تھی مجھے کم از کم تم تو دران کی دیکھ بھال کر سکتی ہو نہ ؟” اسفند نے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے کہا
” بھائی میں کہاں کر سکتی ہوں , کالج سے آتی ہوں تو اتنی تھکی ہوئی ہوتی ہوں اور شام کو عصمت باجی اور بھابھی نے سارے کام میرے سر پر ڈال دیے ہیں “
طلعت نے ناک بھینچے اس ذمہ داری سے ہاتھ کھڑے کئے
طلعت کے سفید جھوٹ پر روبی کا منہ پورا کھل گیا وہ جو ابھی تک بھائی اور بہن کی لڑائی میں دل ہی دل ہنس رہی تھی تنک کر آگے ہوئے
” بس کرو طلعت تم تو , کالج سے آ کر کمرے میں ایسی بند ہوتی ہو کہ پوچھو مت , کام تو پھر دور کی بات ہے ” روبی نے ہاتھ نچاتے ہوئے اسے آئینہ دکھایا
” چپ کرو تم لوگ خدا کا واسطہ چپ کرو ” اسفند نے جھنجلا کر دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے
روبی اور طلعت نے زبردستی لب بھینچے اور سانس اندر کھینچتی ضبط سے سیدھی ہوئیں ۔
” طلعت کل سے تم گھر کے کوئی کام نہیں کرو گی تم دران کو سنبھالو گی صرف ” اسفند نے انگشت انگلی تان کر حکم صادر کیا
” بھائی مجھ سے نہیں ہو پائے گا یہ بہت شرارتی ہے ” طلعت نے خشمگیں نگاہوں سے دران کو گھورتے ہوئے صاف انکار کیا
” بچے شرارتی ہی ہوتے ہیں , وہ بچہ ہے صرف تین سال کا ہے ابھی نا سمجھ ہے ” اسفند نے حیرت سے پیشانی پر افقی شکن ابھارے
” یہ بات ان کی موٹی عقلوں میں جائے تب نہ , بھائی آپ کو جو کرنا ہے کریں لیکن میرا فیصلہ اٹل ہے میں دران کو لیگلی طور پر گود لوں گا ” یاور کی سوئی وہیں اٹکی تھی وہ ڈٹا ہوا تھا اپںے فیصلے پر
” نہیں ایسا کچھ نہیں ہو گا ہم میڈ رکھ لیتے ہیں مل کر دران کے لیے ” اسفند نے اگلا حل پیش کیا
روبی کا منہ کھل گیا آنکھیں اور لب ایک ساتھ سکوڑتی وہ اسفند کی طرف بڑھی
” واہ ۔۔۔ بہت خوب کہی , اتنی ہی کوئی لاٹری نکل آئی ہے تو بیوی کے کام کے لیے رکھ دیں میڈ , یہ نواب زادہ بہت عزیز ہے آپکو جو اس کے لیے رکھیں گے ” روبی کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
” کچھ نہیں ہو سکتا یہاں کچھ نہیں ہو سکتا ” یاور نے کمر پر دھرے ہاتھ افسوس سے ہوا میں اٹھائے ۔
دستگیر بیگم آہستہ آہستہ چلتیں چھڑی کے سہارے کمرے کے دروازے میں آئیں۔ وہ کب سے لاؤنج کے پلنگ پر کروٹ بدل رہی تھیں لیکن کمرے کا شور کہاں سونے دے رہا تھا ۔ ان سب میں فقط عصمت نہیں تھی کیونکہ وہ رات کو فائقہ کو لے کر اوپر چلی جاتی تھی ۔
” اسفی ۔۔۔ میں کہے دیتی ہوں پہلی فرصت میں بچے کی سنت پوری کرواؤ پہلے , اس انگریز بڈھی کو تو اسلام کا کچھ پتہ نہیں تھا تم لوگوں کو تو ہے , پلیت کہیں کا کبھی کسی برتن کو چھوتا کبھی کہاں کبھی کہاں “
دستگیر بیگم کا ایک ڈیڑھ سال سے وہی راگ تھا اور آج بھی وہ اسی بات کو دہرا رہی تھیں ۔ دران جب اس گھر میں آیا تھا ڈیڑھ سال کا تھا ۔ آج کل کرتے وہ تین سال کا ہونے کو آیا تھا مگر وقت نہیں ملا تھا کسی کو یاور پڑھائی کے لیے پنجاب میں تھا ۔
دستگیر بیگم کے اپنے ہی مسئلے تھے ایک تو انہیں دران انگریز ماں کا بیٹا ہونے کی وجہ سے کَھلتا رہتا تھا اوپر سے ان کو دران کے نوین کا خون ہونے پر بھی شک تھا ۔
” یاور اسے لے جاتے ہیں آج ڈاکٹر کے پاس ” اسفند نے دران کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے یاور کی طرف دیکھا
“وہ میں کر لوں گا بھائی , بے فکر رہیں میں نے اس کی دیکھ بھال کے لیے چھٹی لی ہے آفس سے ” یاور نے تسلی دلائی
” ٹھیک ہے اور تم اسے گود نہیں لے رہے ہو۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے آج کے بعد کسی نے بھی دران کو ہاتھ بھی لگایا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ” اسفند نے گردن گھما کر سب کو گھورتے ہوئے تنبہیہ کیا
سب ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے مگر جانتے تھے یہاں اس پر عمل مشکل تھا ۔ پھر آہستہ آہستہ سب کمرے سے جانے لگے تھے ۔ اسفند ملک نے دران کو بیڈ پر سے اٹھایا اور ایک طرف لگے پلنگ پر برھان کے ساتھ لیٹا دیا اور وہ ایک نیکر میں ملبوس پھولے سے گالوں , سفید رنگت اور گہری آنکھوں والا دران ملک روز اپنی زندگی کے بدلتے فیصلوں سے بے خبر سو رہا تھا ۔
صبح اٹھتے ہی اس کو کام ہی اتنے ہوتے تھے ۔ وہ بولتا کم اور کھاتا زیادہ تھا ۔ وہ ہر وقت کسی نا کسی کھوج میں رہنے والا اور مار پیٹ کرنے والا بچہ تھا ۔ وہ کتنی دیر تک خاموش یک ٹک سوچ میں ڈوبے رہنے والا بچہ تھا , کسی کو دیکھتا تو گہری نگاہوں سے دیکھتا تھا اور ٹکٹکی باندھے دیکھے ہی جاتا تھا , کچن سے نکالو تو لاؤنج میں پڑی الماری کے درازوں میں سر گھسایا ہوتا وہاں سے ہٹاؤ تو برھان کو نیچے لیٹائے اس کے منہ پر پنچ مار رہا ہوتا تھا , برھان کو بچاؤ تو فائقہ کے بال کھینچ دیتا تھا ۔
ویسے تو وہ مسوائے اسفند اور یاور کے ملک ہاؤئس میں سب کا ناپسندیدہ فرد تھا مگر روبی کی نفرت اس کے لیے اس لیے بھی عجیب تھی کہ وہ اکثر رات کو پلنگ پر سے اٹھ کر اسفند ملک اور اس کے درمیان میں لیٹ جاتا تھا ۔ اسے اس بات سے بے حد کوفت ہوتی تھی ۔ یہ حرکت اپنے بچے کی تو کوئی بھی ماں با آسانی برداشت کر لیتی ہے مگر دران کی یہ حرکت روبی کے تن بدن کو جلا دیتی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆☆
جیسے ہی پارک کے گیٹ سے اندر قدم رکھے اور جووت کی تلاش میں نگاہیں دوڑائیں تو آنکھیں سامنے کے منظر کو دیکھ کر پھٹ کے باہر آئیں ۔ ہلکے نیلے رنگ کے لمبے فراک اور چوڑی دار پاجامے پر دوپٹہ گلے میں سکارف صورت ڈالے وہ پورا منہ کھولے ساکن کھڑی تھی ۔
شام ہوئے کافی دیر ہو گئی تھی مریم کے کہنے پر وہ جووت کو لینے نیچے آئی تھی مگر یہاں جووت کو دو بڑے لڑکوں کے ساتھ گتھم گتھا دیکھ کر اس کی سانس اٹک گئی ۔ دونوں لڑکے بری طرح جووت کو مار رہے تھے وہ اُس سے عمر میں بڑے تھے اس لیے جووت کی ان کو مارنے کی ہر کوشش ناکام تھی ۔
” ارے ارے چھوڑو میرے بھائی کو کیوں مار رہے ہو ” ہاتھ کھڑا کیے وہ دور سے ہی اونچی آواز میں چیخی اور تقریباً بھاگتی ہوئی آگے بڑھی
سامنے لڑائی تو بڑھتی ہی جا رہی تھی لڑکوں نے اسے نہ تو دیکھا تھا اور نہ ہی سنا تھا ۔ جوی تیز تیز بھاگتی اپنے اور ان کے درمیان کا فاصلہ ختم کر رہی تھی اور نگاہیں بلکل سامنے جووت پر کچھ یوں ٹکی تھیں کہ دائیں بائیں کا کوئی ہوش نہیں تھا , ان دونوں میں سے ایک لڑکے نے جووت کا گریبان تھام کر اسے زور سے زمین پر پٹخا , جوی کی دلخراش چیخ ابھری ۔
” چھوڑو اسے شرم نہیں آتی تم سے چھوٹا ہے وہ ” وہ پھٹی آواز میں چیختی ہوئی بھاگ رہی تھی ۔
اس سے پہلے کہ وہ وہاں پہنچ کر ان لڑکوں پر جھپٹتی اچانک سے وہ ایک طرف سے نمودار ہوا , نیلی پرانی سی جینز اور گرے ٹی شرٹ میں ملبوس اور ایک سکینڈ کے بارہویں حصے میں پتا نہیں کیسے اتنی تیزی سے ان لڑکوں کو پنچ اور ٹانگیں ماریں کہ دونوں لڑکے جو جووت کو مار رہے تھے اب زمین پر اپنے چہرے اور پیٹ پکڑے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے ۔ جوی اس کی پشت سے ہی اسے پہچان گئی تھی ۔ وہ وہی بہرہ لڑکا تھا ۔
زمین پر لیٹے لڑکوں نے اُٹھ کر مزاحمت کرنے کے بجائے پارک کے گیٹوں کی طرف دوڑ لگا دی ۔ دونوں کی آنکھوں میں اس لڑکے کے لیے خوف تھا ۔ جووت اب کپڑے جھاڑتا اور گریبان درست کرتا بڑے زعم میں مسکرا رہا تھا اور پھر وہ پلٹا جس نے ایک پل میں دونوں لڑکوں کو زمین بوس کر دیا تھا ۔
اتنی جلدی اس نے ایسا کیسا پنچ مارا تھا کہ دونوں ہٹے کٹے لڑکے جو جووت کو دبوچ کر کھڑے تھے۔ ایک ساتھ زمین پر گرے تھے۔ وہ ابھی اس حیرت سے باہر نہیں آئی تھی کہ اگلا دھماکہ تو اسے دنگ کر گیا ۔
” شکریہ دران بھائی ” جووت مسکراتا ہوا اس لڑکے سے کہہ رہا تھا اور لب بھینچے اس سے ہاتھ ملا رہا تھا ۔
” کیا یہ سن سکتا ہے ” حیرت کا شدید ترین جھٹکا آنکھیں بنا جھپکے وہ سامنے جووت کے ساتھ کھڑے اس لڑکے کو دیکھ رہی تھی ۔
وہ پلٹا اور شرٹ کے بازو درست کر تا جووت کے قریب ہوا , وہی چہرہ جو اس کے حلیے سے کسی طرح بھی میل نہیں کھاتا تھا ۔ ویسے ہی بھورے سیدھے بکھرے بال , اداس آنکھیں اور پھر وہ بولا ۔
” کیا ہوا تھا ۔۔۔؟”
اس کی آواز بلکل اس کی شخصیت سے میل کھاتی بھاری , رعب دار , بیزار , کھارے پانی جیسی کھردری ۔ وہ جووت سے لڑکوں کے مارنے کی وجہ پوچھ رہا تھا اور وہ اس کی آواز کی بازگشت میں جکڑی ششدر کھڑی تھی ۔
” بھائی ہمیں کھیلنے نہیں دیتے یہ لڑکے یہاں , کہتے ہیں وہ کونے میں جاؤ , زیادہ جگہ ہم لیں گے , مجھے آج غصہ آ گیا میں جھگڑ پڑا ان کے ساتھ ” جووت اسے اپنے جھگڑے کی وجہ بتا رہا تھا ۔
” ہم۔م۔م۔ دوبارہ کچھ کہیں تو بتانا مجھے ” اس نے جووت کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بڑے وثوق سے کہا
جووت نے مسکرا کر خوشی سے سر ہلایا اور وہ آگے بڑھا اور جوی سے بے نیاز اس کے قریب سے سر جھکائے گزر گیا جیسے وہ یہاں موجود ہی نہ ہو ۔
پل سمٹ کر سست روی سے چلنے جیسا احساس تھا ۔ جوی ہلکا سا منہ کھولے اس کے چہرے اور پتھر جیسی گہری آنکھوں کو دیکھ رہی تھی مگر وہ گزر گیا ۔ جووت نے قریب آ کر اسے ہلایا تو جیسے وہ مجسم سے محرک ہوئی ۔
” یہ ۔۔۔ یہ سن سکتا ہے کیا ؟” اپنی ہی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی ۔
” ہاں تو سن بھی سکتا ہے بول بھی سکتا ہے, ویسے اس کو بولنا پسند نہیں زیادہ مارتا ہے بس ۔۔۔ آپ کو کیا ہوا یہ انو بھائی کا دوست ہے , فائٹنگ دیکھی اس کی سکول میں بھی ایسے ہی پکڑ کر پٹخ دیتا تھا لڑکوں کو , یہ پنچ مارتا ہے منہ پر دانت توڑ دیتا ہے ” جووت جوش سے ہاتھ کے اشارے بناتے ہوئے چہک چہک کر اُسے اس لڑکے کی خوبیاں بتا رہا تھا ۔
وہ اب کھوئی کھوئی اس کی پشت کو تاک رہی تھی جو پارک کے گیٹ سے باہر نکل رہا تھا ۔
” ان سے سکول میں سب ڈرتے تھے , ایک دفعہ پرنسپل کے بیٹے تک کی دھلائی کر دی تھی ۔ او ۔ہو۔ہو۔ ہو ۔۔۔۔ کیا مارا تھا ۔ باپ رے سر ہی پھوڑ ڈالا تھا ” جووت تو اس کا بہت بڑا مداح لگ رہا تھا ۔
جوی پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے ۔ وہ جسے بہت مظلوم , بہت کمزور اور دُکھی تصور کر رہی تھی وہ تو کچھ اور ہی نکلا تھا ۔
” ایسا ہے کیا وحشی سا ؟ ” کھوئے سے لہجے میں سوال کیا ۔
وہ اب یونہی لمبے لمبے ڈگ بھرتا بہت دور جا چکا تھا نگاہوں سے اوجھل ہو رہا تھا ۔
” وحشی سا کیا مطلب!!!!! آپا فائٹر کہو فائٹر , پورے سکول میں سب بھائی بولتے تھے ان کو ” جووت نے اس کے وحشی کہنے پر خفگی سے اس کی بہادری کی مزید وضاحت دی
” کیوں تو پھر غنڈا ہے کیا کوئی؟ ” جوی نے پھر سے بھنویں سکیڑ کر سوال کیا
انداز وہی تھا سراسیمگی کی حالت میں جووت کے ہمقدم اس کا ہاتھ تھامے عمارت کے زینے چڑھ رہی تھی ۔
” ارے نہیں تو غنڈا کیوں , چمپئین ہے ” جووت نے ہاتھ جھلاتے ہوئے پھر سے جوش میں جواب دیا
اور پھر بے ساختہ وہ جووت سے وہ سوال پوچھ بیٹھی تھی جو شائد دماغ نے پرکھ کر زبان تک نہیں پہنچایا تھا ۔
” مسلم ہے کیا ؟ “
سانس اٹکی , پل تھما , کان سماعت کے لیے کھڑے ہوئے
” ہاں مسلمان ہے “
ناجانے کیوں پر جووت کے جواب پر دل بجھ گیا۔ ایسے جیسے کوئی پھانس اٹک جائے سینے میں اور بوجھ سا محسوس ہو , حالانکہ اسے پہلے سے اندازہ تھا کہ وہ مسلم ہی ہے مگر پھر بھی ناجانے کیوں اس پل دل نے بیتابی سے ایک خواہش کی تھی کہ کاش وہ مسلم نا ہو ۔
جووت فلیٹ کا دروازہ کھول چکا تھا اور اندر بھی جا چکا تھا جبکہ وہ بجھے دل کے ساتھ قدم اٹھاتی اندر آئی ۔
مریم کچھ پوچھ رہی تھی اس سے وہ خالی الذہن وہاں سے گزر گئی , جووت کی پھر سے کلاس ہو رہی تھی ۔ مگر اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا ۔ یونہی ایک ٹرانس کی کیفیت میں وہ واش روم میں گھس گئی ۔
واش بیسن کا نل چلائے منہ پر چھپاک چھپاک پانی کے چھینٹے مارے مگر وہ پھر بھی پاس سے گزر رہا تھا ۔ بار بار پاس سے گزر رہا تھا ۔
اس نے رگڑ رگڑ کر اپنا چہرہ دھو ڈالا آنکھیں کھول کر اس میں پانی کے چھینٹے مارے مگر وہ پھر بھی پاس سے گزر رہا تھا ۔
” او۔۔۔۔ گاڈ ۔۔۔ یہ کیا ہو رہا ہے ” وہ خوف سے سامنے لگے شیشے میں خود کو دیکھ رہی تھی ۔
گہری رنگت , عام سے نقوش , چہرے پر انگنت مہاسے اور ان کے داغ , گھنگرالے بے رونق بال ” ہاں تو اس کا یوں بے نیازی سے گزر جانا بنتا تھا “
” مجھ میں ایسا ہے بھی کیا وہ کیوں پہچانتا کہ میں نے اس کو ایک دفعہ انو کے گھر نا ہونے کا بتایا تھا , ایک دفعہ سیڑھیوں پر ٹکرائے تھے ” دوپٹے کے پلو سے چہرہ خشک کیا اور باہر آئی
جووت کو اب اماں سے مار پڑ رہی تھی ۔ وہ بے دل سے وہاں سے گزرتی بالکنی کی طرف بڑھ گئی ۔ عقب سے سنانا کی ہانک تھی جسے وہ ان سنا کر چکی تھی ۔
” کہاں جا رہی ہو ۔۔۔ تمھاری باری ہے آج چائے کی “
☆☆☆☆☆☆☆
شھنگائی سٹی ہوٹل کی شاندار عمارت کا علیشان کمرہ, کمرہ کیا ہال کہیں تو بھی غلط نہیں ۔ بیش قمیت فرنیچر شیشے کی طرح چمکتا فرش اور دیواریں کمرے کے حسن کو بڑھا رہی تھیں ۔
ہاروی پروڈکشن نے اپنے تمام عملے کو شھنگائی میں شوٹنگ کے دوران اسی ہوٹل میں رہائش دی تھی ۔ دران اور کارلہ کا کمرہ لیگژری رومز میں آتا تھا ۔
اس وقت شام کے سات بج رہے تھے اور آج دن کی شوٹنگ کے بعد وہ کچھ دیر پہلے ہی واپس ہوٹل آئے تھے ۔ انل کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھا تھا , وہ رات کو سونے کے لیے بس الگ کمرے میں جاتا تھا ۔ اس کے بلکل برابر میں دران پچھلے دو گھنٹے سے بھنویں اکٹھی کئے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ہوئے پتا نہیں کس کھوج میں محو تھا ۔
شوٹنگ سے واپس آتے ہی وہ ڈھیلے سے ٹرائیوزر اور ہلکی پھلکی سی ٹی شرٹ کو زیب تن کر چکا تھا ۔ اب وہ لیپ ٹاپ کو گود میں رکھے بیٹھا تھوڑی تھوڑی دیر بعد آنکھوں کو سکوڑ کر لیپ ٹاپ پر کچھ پڑھ رہا تھا اور کبھی بالوں میں ہاتھ پھیر کر ماتھے پر آئے بال پیچھے کر رہا تھا ۔
” واہ منگیوئے ہوٹل میں ڈنر وہیں ون نائٹ سٹے ہاروی پروڈکشن تو کمال ہے بھئی ” انل نے ہاتھ ہوا میں اٹھائے اور لبوں کو ستائشی باہر نکالتے ہوئے توصیفی کلمات کہے ۔
ہاروی پروڈکشن اپنی گولڈن جوبلی پر ایک بہت بڑی پارٹی کا اہتتام کر رہی تھی چونکہ وہ ابھی اپنے میگا پروجیکٹ کی شوٹنگ پر تھے اس لیے انہوں نے یہ پارٹی بھی شھنگائی کے سب سے مہنگے ترین ہوٹل میں رکھی تھی اور نا صرف یہ تھا بلکہ اپنے پورے عملے کو وہاں ایک رات کی رہائیش بھی دینے جا رہے تھے ۔
انل تو ہاروی پروڈکشن کے اتنے بڑے پیمانے پر کئے جانے والے اہتتام پر خوشگوار حیرت ظاہر کر رہا تھا لیکن اس کے بلکل برعکس دران ماتھے پر بل ڈالے لیپ ٹاپ پر پتا نہیں کیا کرنے میں مصروف تھا ۔
انل جو مشروب سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہاروی پروڈکشن کی شان میں قیصدے پڑھ رہا تھا ۔ اچانک اسے دران کے انداز پر کٹھکا ہوا , ایک دم سے چہرے پر سنجیدگی عود آئی اور کھسک کر آگے ہوا گردن موڑے تشویش سے اسے گھورا جو اب دونوں ہاتھوں کو آپس میں ملائے اپنے لبوں پر رکھے سکرین کو گھورتے ہوئے کسی گہری سوچ میں غرق تھا ۔
” کیا سوچے جا رہا ہے؟ سب ٹھیک ہے نا کیا ہاروی کی سوچ ۔۔۔ ” انل نے سوالیہ نگاہیں اس پر گاڑے اپنی بات کو ادھورا چھوڑا
وہ ایسا بے چین تب ہی ہوتا تھا جب وہ کسی کی سوچ پڑھ لیتا تھا اور اب بھی شائد کچھ دیر پہلے جو وہ لوگ شوٹنگ کے بعد ہاروی سے ملے تھے اور دران ہاروی کو غور سے صرف دیکھے جا رہا تھا ۔ وہ یہی وجہ تھی ۔
” بہت برا پھنسانے کا سوچ رہے ہیں ” دران کی آواز گونجی , متوازن بے فکر لہجہ
دران نے گہری سانس لی اور لیپ ٹاپ بند کیا ایک طرف رکھا اور سگریٹ کیس اٹھایا جبکہ انل کے ہر بار کی طرح چھکے چھوٹ گئے تھے ۔
” مطلب ۔۔۔ کیا سرچ کر رہے تھے تم تب سے , کیا سوچے بیٹھے ہیں وہ لوگ ” انل نے الجھ کر سوال کیا
دماغ سائیں سائیں کرنے لگا تھا اور ایک سو اسی کی رفتار سے دوڑتے ہوئے بہت سے لمحے ذہن کے پردوں پر تیزی سے اوراق کی طرح پلٹے کھانے لگے ۔
” یہ مجھے کیا پتہ کیا کرنے والے ہیں , پر کچھ بہت برا ۔۔۔ ” دران نے لبوں میں سگریٹ پھنسائی کندھے اچکاتے ہوئے لاپرواہی سے کہا
” کس کے ساتھ برا ؟ ” انل نے اب کی بار گھور کر اس کی طرف دیکھا
” میرے ساتھ اور کس کے ساتھ , امیج بلڈنگ گرانے کا سوچ رہے ہیں جہاں تک مجھے شک ہے ” خفیف سی استہزائیہ مسکراہٹ سجائے اپنا شک ظاہر کیا ۔
انل کی پیشانی پر شکن مزید بڑھ گئے اور چہرے پر اب غصہ تھا جبکہ وہ اب مکمل طور پر مطمئن سگریٹ کے کش لگا رہا تھا ۔
” ہاروی پروڈکشن کی گولڈن جوبلی کی تاریخ پارٹی کی تاریخ سے بہت دور ہے پھر کیا وجہ ہے کہ وہ یہ پارٹی اتنی جلدی یہاں چائنہ میں میری ہی فلم کے دوران رکھ رہے ہیں , یہ سب کچھ میرے لیے کر رہے ہیں ” وثوق سے کہا گیا
” اوہ ۔۔۔۔ آئی سی میں بھی کہوں کہ واہ ہاروی تو بڑا لیگژری اہتمام کر رہا ہے اور درانگ کو سپیشل پروٹوکول , کیا بات ہے ” انل نے پر سوچ لہجے میں کہتے ہوئے ٹھوڑی سہلائی
” ٹھیک ہے ہم نہیں جائیں گے ” انل نے سر جھٹک کر فیصلہ سنایا اور ایک جھٹکے سے اپنی پشت کو صوفے سے جوڑا اور کان اگلی بات کی سماعت کے لیے کھڑے کئے
” جائیں گے ” پر اطمینان آواز ابھری
انل نے لب بھینچے , جانتا تھا وہ یہی کرے گا ہر بار کی طرح , گھور کر دیکھا پر وہاں کوئی اثر نہیں تھا ۔
” دران ہر دفعہ کی طرح بلکل نہیں , تم جانتے ہو یہ رسک ہے , ہمیں لینا ہی نہیں بھئ , یہ پاکستان یا بیرولی ہلز نہیں ہے ہم چائنا میں بیٹھے ہیں ” انل نے سخت اور دو ٹوک لہجے میں منع کیا
” یہ پاکستان یا بیرولی ہلز نہیں ہے پر میں دران ہی ہوں ” وہی طمانت بھرا پرسکون لہجہ
ٹانگوں کو کراس شکل دی اور سگریٹ کو ایش ٹرے کے کنارے سے ٹکرایا , آنکھوں میں وہی سکوت طاری تھا
” میں تمہیں جانے ہی نہیں دوں گا ” انل نے ضد باندھی
” میں بھی جاؤں گا اور تم بھی اب بس چپ ” انگشت انگلی لبوں پر ٹکا کر ڈھیٹ پن کا بھرپور مظاہرہ کیا ۔
ڈھیٹ پن تو اس کی رگ و پے میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا ۔
” یاررر دران ۔۔۔ پتہ نہیں کیا گیم کرنے والے ہوں گے وہ لوگ ” انل نے جھنجلائے انداز میں کہا
” یہی تو دیکھنا ہے کیا گیم کرنے والے ہیں وہ لوگ ” بلا کی دلچسپی تھی
وہ اب کھلاڑی ہو چکا تھا اس چیز کے ساتھ , سوچ پڑھنا اور پھر اسے پرکھنا کہ وہ کہاں تک سچا تھا ۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں اب سکڑ رہی تھیں ایک گہری نگاہ انل پر ڈالی جو اب پریشان حال پیشانی کو سہلا رہا تھا ۔
” اب تم یہ سوچنا بند کرو کہ تم کس طرح مجھے وہاں جانے سے روک سکو گے “
قہقہ تھا ایک جاندار قہقہ مگر کھوکھلا قہقہ , بے رونق , بوجھل قہقہ
انل نے چونک کر دیکھا آج کتنے عرصے بعد وہ قہقہ لگا رہا تھا۔ انل اب بھنویں اچکائے خفگی سے گھور رہا تھا۔ اس کے قہقے میں کتنے شکوے چھپے تھے یہ صرف وہ جانتا تھا ۔ دران کا اور اس کا ساتھ آج کا نہیں تھا پوری دنیا میں ایک واحد وہ تھا جو جانتا تھا وہ معمولی نہیں ہے وہ بہت خاص ہے بہت ۔۔۔۔
نگاہ اٹھائے اس کی طرف دیکھا جو اب ٹرایوزر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سامنے پوری دیوار میں نصب کھڑکی کی طرف جا رہا تھا ۔ سامنے ہنگپو میں روشن کشتیاں اس کے ظاہری اطمنیان جیسی چل رہی تھیں ۔ لیکن اندر کیسا طوفان تھا وہ جانتا تھا یا اس کے پیچھے بیٹھا اس کی پرچھائی جیسا دوست ۔
