Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 40)Part 1
Rate this Novel
Basil (Episode 40)Part 1
Basil by Huma Waqas
دران ملک سے درانگ کا سفر دراصل ایک کٹھن مگر پوری طرح طے شدہ سفر تھا ۔ وہ اے ۔ این ۔ ایف کا بینادی تحقیقاتی ایجنٹ باسل تھا ۔ جس کو یہاں پہنچانا آئی ۔ ایس آئی کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا ۔
پلک جھپکتے ہی یہ پانچ سال پر لگا کر گزرے لیکن ان پانچ سالوں میں دران عرف درانگ یعنی کے باسل اس فلمی نگری میں نہ صرف مضبوطی سے اپنے قدم جما چکا تھا بلکہ بہت سے معلومات اے۔ این ۔ ایف ایجینسی تک پہنچا چکا تھا ۔ جیسے ہی وہ ایک معمولی اسٹنٹ مین سے ایک فلمی ستارہ بنا اس نے سب سے پہلے انل کو اور پھر اسفند ملک کو یہاں اپنے پاس بلا لیا تھا ۔ ملک ہاؤس کے مکین جو نوین کی تمام جائیداد کا دکھ اب تک نہیں بھولے تھے اور اٹھتے بیٹھتے دران کو کوستے تھے۔ اب دران کی اس کامیابی پر اور پھر اسفند اور روبی کو اپنے پاس بلانے پر جہاں دنگ تھے وہاں خوشی سے پھولے نہ سمائے ۔
دران کی دیکھا دیکھی روبی کو لگا کہ برھان بھی باقی سب چھوڑ دران کے اثر و رسوخ کے ذریعے انڈسٹری میں قدم جما لے تو کیا پتا وہ بھی دران کی طرح شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جائے اور اسطرح برھان بھی پڑھائی چھوڑ اداکاری کرنے لگا لیکن وہ ہالی وڈ فلم نگری میں قدم نہیں جما سکا اس لیے چار سال سے وہ مختلف ٹی شو میں چھوٹے موٹے کردار نبھا رہا تھا ۔
اس کے برعکس دران پوری فلم نگری میں اپنی الگ پہچان اور نام بنا چکا تھا ۔ وہ اس ادکاری کی آڑ میں فلم نگری سے تعلق رکھنے والی بہت سی چھوٹی مچھلیوں کو جو اس گھناؤنے جرم میں سر گرم تھیں جلد ہی پکڑوا چکا تھا لیکن کچھ ایسی بڑی مچھلیاں اور مگر مچھ تھے جو اب بھی پوشیدہ تھے ۔
دران یہاں بینادی ایجنٹ باسل بن کر کوئی واحد ایک ایجنٹ نہیں تھا ۔ وہ ایک مکمل گروہ کی صورت میں موجود تھے جو ایک دوسرے کے کام آسان کرتے تھے ۔
دران کی طرح ہمیشہ بنیادی ایجنٹوں کو رہنماؤں کے ساتھ گروپس میں تشکیل دیا جاتا ہے ، یہ رہنما براہ راست کنٹرولر کو رپورٹ کرسکتے ہیں۔ یہ بنیادی ایجنٹوں میں معلومات فراہم کرتے ہیں اور مقامی موضوع کے بارے میں جاسوسی یا مہارت کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ تعلق میں رہتے ہیں اور بینادی ایجنٹ کے راستے ہموار کرتے ہیں ۔
اس کے علاوہ بنیادی گروپ میں “ایگزیکٹو ایجنٹ” بھی شامل ہوتے ہیں ، جو تخریب کاری اور قتل و غارت گری اور بوقت ضرورت نئے قابل یقین ایجنٹوں کو بھرتی کرتے رہتے ہیں ۔ دران یہاں ایک بینادی ایجنٹ بن کر آیا تھا اور اس کے علم سے بھی زیادہ یہاں اس کے معاون ایجنٹ موجود تھے جو اس کے راستے ہموار کرنے میں مدد گار تھے تاکہ وہ یہاں بنا کسی شک کے ہر قسم کی معلومات تک رسائی پا سکے ۔
دراصل آپریشن ایجنٹوں اور ضمنی گروپ دونوں بنیادی ایجنٹوں کی حمایت کے کردار میں خفیہ ہوتے ہیں ۔ وہ آئی ۔ ایس ۔ آئی کے خفیہ افسر ہو تے ہیں ۔ یہ اضافی کاموں میں سر گرم ہوتے ہیں جیسے کے ایجنٹ کی معلومات بروقت ایجینسی تک پہنچانا ۔ ایجنٹ کو مختلف بات چیت کے ذرائع مہیا کرنا جیسے کہ مواصلات ، جس میں خفیہ ریڈیو ٹرانسمیشن ، سلیپرز ، کورئیرز ، اور محفوظ ریڈیو نشریات کے لیے مختلف مقامات کی تلاش وغیرہ جیسے کام شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ دیگر اضافی کاموں میں بھی وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو کور جاب والے ایجنٹوں کو “قانونی حیثیت” دے سکتے ہیں , اور ایسے ماہر جو دستاویزات کو جعلی بنا سکتے ہیں یا اصل ذریعہ سے غیر قانونی کاپیاں حاصل کرسکتے ہیں۔
سیف ہاؤسز ، سیف میل ڈراپز اور سیف ٹیلیفون دوسرے اضافی کام ہیں جو وہ لوگ بینادی ایجنٹ کے لیے سر انجام دیتے ہیں ۔
بینادی ایجنٹ کے علاوہ ایک ایجنٹ رسائی ایجنٹ ہوتا ہے ۔ انٹیلیجنس ویلیو کے مادے تک رسائی ایجنٹ کے پاس قابل ذکر رسائی نہیں ہوتی ہے ، لیکن ان لوگوں سے رابطہ ہوتا ہے جو خود ہر ضرورت کے وقت اس سے رابطہ کرتے ہیں۔
ایسا شخص ایجنٹ کے لیے فوجی اڈے کے باہر حجام جتنا آسان ہوسکتا ہے ، یا تھنک ٹینک یا علمی ماہر (یعنی حکومت سے باہر) جتنا پیچیدہ ہوسکتا ہے , جو حساس مواد تک رسائی کے ساتھ سرکاری اہلکاروں کے ساتھ باقاعدگی سے تمام معاملات پر بات چیت کرتا ہے۔
حساس مواد کو سنبھالنے والی نجی اور عوامی تنظیموں کے اندر ، انسانی وسائل کے کارکنان ، استقبالیہ دینے والے ، اور بظاہر کم سطح کے دیگر عملے حساس افراد تک رسائی کے حامل لوگوں کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔
کچھ ملازمین ، جیسے محافظ اور چوکیدار ، جن کی باضابطہ رسائی نہیں ہے ، پھر بھی وہ محفوظ کمرے اور کنٹینر تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ایک رسائی ایجنٹ اور بینادی ایجنٹ کے درمیان ایک دھندلا سا علاقہ ہوتا ہے جو اپنے کلکٹر کو کسی علاقے میں با آسانی جانے دیتا ہے ۔ اسی طرح دران کے آگے پیچھے بہت سے معاون اور رسائی ایجنٹ موجود تھے ۔
وہ اس وقت درانگ ولاس کے خفیہ کمرے میں موجود تھا ۔ جہاں اس کے رابطے کے تمام مواصلات وغیرہ موجود تھے ۔ یہ وہ تمام ٹرانسمیشن کے آلات تھے جس سے وہ ایجینسی سے تو نہیں البتہ ایگزیکٹو ایجنٹ سے براہ راست بات چیت کرتا تھا اور اپنے اگلے لائحہ عمل کے بارے میں معلومات لیتا تھا ۔ یہ کمرہ ایک پوشیدہ دیوار کے ذریعے درانگ ولاس کے تہہ خانے میں موجود تھا ۔ یہ ایک کشادہ کمرہ تھا جہاں دران کی ضرورت کی ہر چیز کے ساتھ ساتھ تمام مواصلاتی آلات موجود تھے ۔ مدھم روشنی میں غرق اس کمرے اس وقت لیپ ٹاپ سکرین جگمگا رہی تھی ۔
دران سیاہ ہڈ پہنے کانوں پر ہیڈ فون لگائے ۔ گھومنے والی سیاہ کرسی پر بیٹھا , نگاہوں کو چندھے کیے سامنے سکرین پر جمائے ہوئے تھا ۔ جہاں اس کے گروہ کا ایگزیکٹو ایجنٹ اس سے مخاطب تھا ۔ وہ کچھ اسطرح سکرین پر موجود تھا کہ کندھوں سے اوپر اس کا چہرہ اندھیرے میں ڈوبا تھا جو دران کو نظر نہیں آ رہا تھا ۔
” لسٹ میں نیا مشکوک پروڈکشن ہاؤس ایڈیٹ کر دیا گیا ہے ۔ اگلی پروڈکشن جس کو مشکوک پروڈکشن کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ وہ ہاروی پروڈکشن ہے ۔ “
سامنے بیٹھا رسائی ایجنٹ اسے معلومات فراہم کر رہا تھا ۔ چھوٹی مچھلیوں کی پکڑ کے بعد اب ہاتھ بڑی مچھلیوں پر ڈالا جا رہا تھا ۔ جس میں لسٹ میں سب سے اوپر نام ہاروی پروڈکشن کا تھا ۔ ہاروی پروڈکشن ہالی وڈ کی نامی گرامی پروڈکشن تھی لیکن وہ اس وقت شک کی فہرست میں سب سے اوپر اور سرخ نشان کی حامل پرڈوکشن تھی ۔
” یس سر ۔ “
دران نے اثبات میں سر کو جنبش دی اور دھیمی آواز میں حامی بھری ۔ اگرچہ وہ اس وقت جس کمرے میں موجود تھا وہ مکمل طور پر ساؤنڈ پروف تھا لیکن ان لوگوں کو ٹریننگ میں آواز کو حد درجہ دھیما رکھ کر ایک خاصے درجے پر گفتگو کی مشق کروائی گئی تھی ۔ اس لیے اس وقت ان دونوں کی گفتگو کی پچ بھی وہی تھی ۔ دران بھرپور توجہ سے ایگزیکٹو ایجنٹ کی بات سن رہا تھا ۔
” یہ پروڈکشن اپنے نئے میگا پروجیکٹ کے لیے شوٹنگ کا کچھ حصہ کسی غیر ملک میں سر انجام دینے جا رہے ہیں ۔ ملک کا نام تو ابھی معلوم نہیں ہوا ہاں البتہ بہت جلد یہ تمہیں اس میگا پروجیکٹ میں سائن کی پیش کش کرنے آئیں گے ۔ “
” مجھے کیا کرنا ہو گا سر ۔ “
” ایکسیپٹ اٹ ۔ “
” یس سر ۔ “
دران نے لب بھینچے اور سر اثبات میں ہلایا ۔
” اوکے جوان ہماری ملاقات اب اس معلومات کے بعد ہو گی ۔ لیکن تمھیں اس بار بروقت رابطے کے لیے ایک کوڈ دیا جا رہا ہے ۔ جس سے تم معاون ایجنٹ سے کسی بھی لمحے رابطہ کر سکتے ہو۔ “
وہ متوازن لہجے اور رفتار میں لفظ ادا کرتے ہوئے اپنی بات مکمل کر چکا تھا ۔ دران نے سر کو اثبات میں جنبش دی ۔
” یس سر ۔ “
” باسل بیسٹ آف لک “
سکرین ایک دم سے سیاہ ہوئی تھی ۔ دران نے ہیڈ فون کو کانوں پر سے اتارا اور سر کو کرسی کی پشت سے ٹکا دیا ۔ کرسی دھیرے دھیرے جھول رہی تھی ۔
ملک کی ہر خفیہ اور ظاہر ایجنسی میں جاسوسوں کو متعدد طریقوں سے بھرتی کیا جاتا ہے۔ کچھ اپنے آبائی ممالک کی انٹیلیجنس ایجنسیوں میں شامل ہوجاتے ہیں ، تربیت حاصل کرتے ہیں اور ایجنسی میں ملازمتوں میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اگر ان کا پس منظر اور تربیت کسی خاص پروفائل پر فٹ بیٹھتی ہے تو ، انھیں بیرون ملک بھیج دیا جاتا ہے تاکہ وہ ایک پوشیدہ شناخت لے سکیں ۔
بہترین فیلڈ ایجنٹ وہ ہیں جو اعلی ممالک کے عہدیداروں تک رسائی رکھتے ہیں یا دوسرے ممالک میں خفیہ معلومات رکھتے ہیں۔ جاسوس ایجنسیاں بھرتی کرنے والے افراد ، ایسے افراد کو ملازمت دیتے ہیں جو دوسرے ممالک کے شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ جو اپنے وطن کے خلاف ہو جاتے ہیں اور جاسوس بن جاتے ہیں۔
یہ عیب دار انمول جاسوس ہیں ، کیونکہ ان کا وہ ملک پہلے ہی احاطہ ہوتا ہے اور وہ فوری طور پر معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔ ہر ملک میں بہت سے عوامل ایسے ہوتے ہیں جو کسی کو عیب دار شہری بننے اور جاسوس بننے کا سبب بن سکتے ہیں ۔ یہاں بھی زک نامی ایجنٹ آئی ۔ ایس ۔آئی کا عیب دار انمول ایجنٹ تھا ۔
دران کرسی پر سے اٹھا ۔ ایک بٹن کو ہاتھ لگاتے ہی تمام نظام ایک ہی دفعہ میں بند ہوا وہ سیڑھاں چڑھتا ہوا اوپر جا رہا تھا اور پھر ایک دروازے پر پہنچتے ہی اس نے خفیہ لاک پر لگے چند ٹچ بٹن دبائے ۔
☆☆☆☆☆
مونٹیج میں روشنیوں کی چمک اور موسیقی کے جلترنگ کے ساتھ تقریب اپنے عروج پر تھی ۔ سب کچھ بہت پرسکون دکھائی دے رہا تھا ۔ ڈنر قیمتی برتنوں میں پیش کیا جا چکا تھا ۔ سب لوگ باتوں میں مصروف قہقے لگاتے کھانے سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔
دران کی چھٹی حس کسی بالکل غیر متوقع ہو جانے والے لمحے کا پیغام دے رہی تھی ۔ اسے یقین تھا کہ اس بار ہاروی اور بروس نے معمولی پلاننگ نہیں کی ہو گی ۔ بظاہر سب کچھ پرسکون دکھائی دینے کے پیچھے ضرور کوئی طوفان چھپا تھا ۔
محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو آپ کو محبوب کے معاملے میں بہت کمزور کر دیتا ہے ۔ وہ بھی خود کو اس لمحے بہت کمزور محسوس کر رہا تھا ۔
جویریہ کے لیے محبت کے جذبات اجاگر کرتے ہوئے وہ کس آسانی سے اس بات کو فراموش کر گیا تھا کہ ہاروی پروڈکشن کی فلم شوٹنگ کے دوران ہونے والے عجیب و غریب واقع میں ایجینسی نے جویریہ کی ملک واپسی پر پابندی کیوں لگائی تھی ۔
انہوں نے کیوں جویریہ کو باقی لڑکیوں کی طرح پاکستان نہیں بھیجا تھا بلکہ اسے اپنے ساتھ لے جانے اور جھوٹی شادی کے لیے کہا تھا ۔
ہاروی پروڈکشن کے بارے میں تحقیقات نے اچانک ہی ایک ایسا موڑ لیا کہ سب کچھ بدل گیا تھا ۔ اے ۔ این ۔ ایف کو فوراً آئی ۔ ایس آئی کی کرائم ایجنسی سے رابطہ کرنا پڑا تھا ۔ انہوں نے پورے پاکستان میں آپریشن کیے اور چائنہ سے بھی لڑکیاں بازیاب کرائیں ۔ جویریہ کو دران کے گھر میں مکمل سکیورٹی فراہم کی گئی ۔ کیونکہ ہاروی پروڈکشن پر شک ابھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تھا لیکن ان کے متعلق کسی بھی قسم کی قابل قدر معلومات نہ ملنے پر ایجنسی نے خاموشی اختیار کی ۔
ایجنسی کی طرف سے ایکدم مکمل خاموشی پر دران یہ سمجھا تھا شاید ہاروی پروڈکشن منشیات فروشی کے شک سے نکل چکا ہے ۔ اسی دوران جویریہ سے محبت ہو جانا ایک بالکل بے اختیار عمل تھا ۔
وہ بہت خوش تھا ۔جویریہ اس کی زندگی میں آ جانے والی ایک انوکھی خوشی تھی لیکن چند دن پہلے ایک ساتھ اس کے سر پر دو دھماکے ہوئے اور سب خواب سجنے سے پہلے ہی چکنا چور ہو گئے ۔
جہاں سبرینا نے اسے ہاروی پروڈکشن کے برھان کے ساتھ مل کر بنائے گئے منصوبے سے آگاہ کیا وہیں ایجنسی کی طرف سے بھی پھر سے آپریشن کی تیاری کا حکم جاری ہو گیا ۔ وہ حکم نہیں تھا دران کے لیے ایک روح پرور خبر تھی ۔
اے ۔ این ایف کی ہاروی پروڈکشن کے خلاف چل رہی دوسری ٹیم کی مخبری مکمل ہونے کے بعد یہ بات سامنے آ چکی تھی کہ ہاروی پروڈکشن بہت بڑے پیمانے پر چائنہ اور دوسرے ممالک سے نہ صرف منشیات اسمگل کرتا ہے بلکہ اس کے ساتھ غیر قانونی طور پر عورتوں کو اود جسم کے اعضا کو بھی اسمگل کر رہا ہے ۔
اس ساری معلومات میں اس بات نے دہلا کر رکھ دیا کہ انہی عورتوں کے جسم کے اندر رکھ کر وہ منشیات کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ اسمگل کرتے ہیں ۔ بین الاقوامی سطح پر منشیات کی اس طرح کی اسمگلنگ کو ملچر کہا جاتا ہے ۔
۔ منشیات کے انفرادی پیکٹ عام طور پر کوکین یا ہیروئن پہلے واٹر پروف مواد میں لپیٹے جاتے ہیں ۔ جیسے لیٹیکس دستانے کی انگلیاں یا کنڈوم ، اور پھر ان کو نگل لیا جاتا ہے ۔
وہ اس طرح کی جسمانی پیکنگ کو پوری دنیا کے متعدد بڑے شہروں میں منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ کے ایک اہم وسیلہ کے طور پر استعمال کر رہے تھے ۔
غیر قانونی منشیات کی نقل و حمل کے معاملے میں نگل جانے کے عمل کے علاوہ وہ لوگ چھوٹے پیمانے پر چلنے والے آپریشن کے ذریعے بھی زیادہ عمر کی اور جسمانی حسن سے بیکار ہو جانے والی عورتوں کے جسم میں منشیات کے پیکٹ رکھ کر ان کو اسمگل کر رہے تھے ، جس میں ایک کورئیر ایک ٹکڑا یا بہت چھوٹی مقدار کو وہ ایک عورت کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتے تھے ۔ ان کے اسمگلنگ کے اس طریقے کو وہ لوگ آنٹ ٹریڈ کے نام سے پکارتے تھے جس میں وہ تیز منشیات کو کم مقدار میں ایک جگہ سے دوسری جگہ اسمگل کرنے میں کامیاب تھے ۔
یہ سب معلومات نے ایک دن میں اس کے سارے خواب نوچ لیے ۔ اے ۔ این ۔ ایف اب جویریہ کو اپنے مشن کے لیے ایک انجان مہرے کی طرح استعمال کرتے ہوئے ۔ اس خفیہ طور پر تباہی مچا دینے والی جڑ تک پہنچنا چاہتی تھی۔ وہ خفیہ جڑ ایک تیر سے دو شکار کر رہ تھی ۔جسم فروشی , منشیات فروشی , جسم کے اعضا کی فروخت اور جسموں کے اندر رکھ کر مشیات فروشی ۔ اے ۔ این ایف نے اب نہ صرف یہ معاملا تحقیق تک چھوڑا تھا بلکہ وہ ان کے گریبانوں تک پہنچنا چاہتے تھے ۔ دران کی بہت بحث کے باوجود وہ کسی بھی اور نتیجے پر نہیں پہنچ رہے تھے ۔ زک کے ذریعے انہیں مونٹیج میں تیار کیے گئے جال کے بارے میں سب پتا چل گیا تھا جو دران نے صرف جویریہ کے لیے ان سے مخفی رکھ لیا تھا ۔ وہ ان سے جویریہ کو بیچ میں نہ لے کر آنے پر راضی کرتا رہا لیکن ایسا ممکن نہیں تھا ۔
کل تک یہ مشن دران کے لیے ایک حب الوطنی کے جذبے سے جڑا تھا لیکن آج وہ اس کی زندگی سے جڑ گیا تھا ۔ اسے ہر حالت میں جویریہ کو ان تک پہنچا کر واپس لانا تھا اور اگر وہ جویریہ کو وہاں سے واپس نہ لا سکا تو۔۔۔۔۔
سانس رکنے لگتی تھی ۔ پورا جسم ٹھنڈا پڑ جاتا تھا ۔ وہ باسل تھا ۔ باسل مطلب بہادر اے ۔ این ایف نے اس کی پروفائل رینک کے مطابق اسے اس مشن کے لیے منتخب کیا تھا اور بہادر کا لقب دیا تھا ۔
فلم نگری میں وہ درانگ تھا ۔ یعنی چیر دینے والے , پھاڑ دینے والا جو اپنی مضبوط جسم اور نڈر اسٹنٹ کی وجہ سے مشہور تھا لیکن درحقیقت وہ اس انجان لڑکی کے لیے دران تھا ۔ ایک عام انسان ۔ تمام انسانوں کی طرح جذبے رکھنے ولا , دل رکھنے والا انسان جس کا نام دران تھا ۔ مطلب موتی ۔ ایک قیمیتی موتی سیپ سے نکلا نایاب موتی ۔ وہ جو کل تک موت سے نہیں گھبراتا تھا ۔ آج اس کو خود سے دور کرنے پر گھبرا رہا تھا ۔
وہ پچھلے ایک ہفتے سے سو نہیں سکا تھا ۔ جویریہ سے شدید محبت تھی لیکن وہ اسے اور خود کو اس سب کے چنگل سے نکال بھی نہیں سکتا تھا ۔ کبھی دل کرتا وہ یہ سب چھوڑ کر یہاں سے اسے لے کر بھاگ جائے ۔ وہاں جہاں کوئی بھی نہ ہو صرف وہ دونوں ہوں مگر ایسا ممکن نہیں تھا ۔ وہ لوگ جویریہ کا پیچھا کسی صورت نہیں چھوڑ رہے تھے اور اب تو معاملا اور ہی صورت اختیار کر گیا تھا ۔
مونٹیج کے شاندار ہال میں ڈنر تقریباً اختتام پر تھا ۔ وہ خیالوں میں غرق جویریہ کے قریب کھڑا بے ساختہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے چکا تھا ۔ جویریہ نے اس کے یوں ہاتھ تھامنے پر سٹپٹا کر اس کی طرف دیکھا ۔ وہ بے بسی سے اس کے چہرے پر نرم نگاہیں جمائے ہوئے تھا ۔
محبت , عشق , چاہت اور اس کے سنگ جینے کی انگنت خواہشات کیا کچھ نہیں تھا دران کی آنکھوں میں ۔ وہ کیوں ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اسے خود میں سمیٹ لینا چاہتا ہوں ۔ دران نے کی آنکھوں کے جذبوں نے اس کے پورے جسم میں میٹھی سی سوئیاں چبھو دی تھیں ۔ دران نے بمشکل کچھ کہنے کو لب کھولے کہ اچانک اٹھنے والے شور پر سب چونک گئے ۔
” بیک سٹیج آگ لگ گئی ہے ۔ مہربانی سے سب لوگ ہال سے نکل جائے فوراً “
ایکدم سے ایک چیخ نما آواز ابھری تھی سب نے چونک کر دیکھا اور اسی لمحے ہال کے سٹیج پر موجود پردوں پر تیز آگ کی لپٹیں بھڑک اٹھیں اور سٹیج کے اوپر موجود فانوس ایک دھماکے سے پھٹا ۔
” مہربانی سے جلدی ہال سے نکل جائے ۔ ہوٹل انتظامیہ آگ پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہے ۔ “
اناؤنسمنٹ کے ساتھ ہی ایک دم پورے ہال میں بھگدڑ مچ گئی ۔ کھچا کھچ بھرے ہال میں لوگوں نے چیخ و پکار کے ساتھ ہال کے داخلی دروازے کی طرف دوڑ لگائی ۔ دران نے جویریہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور داخلی دروازے کی طرف قدم بڑھائے ۔ آگ بہت بری طرح بھڑک کر پھیل رہی تھی پردوں کے ساتھ لگے سجاوٹی بلب دھماکوں سے پھٹنے لگے ۔ لوگوں کی چیخ و پکار تیز ہو گئی تھی ۔
وہ جویریہ کا ہاتھ تھامے تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا جب کوئی ان دونوں کے تھامے ہاتھوں کے ساتھ زور سے ٹکرایا ۔ یک لخت جویریہ کا ہاتھ اس کے ہاتھ کی گرفت سے چھوٹا ۔ اسی لمحے ہال میں ایک دم سے گھپ اندھیرا چھا گیا ۔ اندھیرا ہونے سے چیخ و پکار اور تیز ہوئی دران نے پاگلوں کی طرح آنکھیں کھول کر جویریہ کو دیکھنے کی ناکام کوشش کی ۔
” جویریہ ۔۔ ۔۔ “
وہ پوری قوت سے چلایا ۔ مگر جواب کے طور پر اس کی کوئی آواز نہیں آئی تھی ۔ اندھیرے میں لوگ مزید بھونچکا گئے تھے اور ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے تھے ۔
ایک منٹ سے کم عرصے میں پھر سے سب روشن ہوا ۔ دران نے پاگلوں کی طرح نگاہ اردگرد دوڑائی لیکن وہ کہیں بھی نہیں تھی ۔
آہ وہ لوگ اسے لے جا چکے تھے ۔ دران کے چہرے کی رنگت پل بھر کو زرد ہوئی ۔ وہ ساکن لوگوں کے ہجوم میں ایک مجسم کی طرح کھڑا تھا ۔ مختلف لوگ اس سے ٹکرا رہے تھے ۔
” باسل کہاں گم ہو ہوش میں آؤ ۔ “
کان میں گونجتی آواز پر وہ چونکا ۔ وہ زک تھا جو اس وقت اس کے ساتھ رابطے میں تھا اور اسی ہال میں کہیں موجود اس سے خفیہ ہیڈ فون کے ذریعے بات کر رہا تھا ۔ مطلب یہاں ان کے گروہ کے اور لوگ بھی موجود تھے ۔
” یس ۔ کہیں نہیں ٹھیک ہوں میں ۔ وہ لوگ جویریہ کو لے جا چکے ہیں ۔ “
کسی کنویں میں سے آتی مریل آواز تھی ۔
” بہترین ۔ تم نارمل مت دکھائی دو ۔ جویریہ کو تلاش کرنے کا ناٹک کرو ۔ “
زک نے سپاٹ لہجے میں حکم جاری کیا ۔ دران نے تیزی سے ارد گرد نگاہ دوڑائی ۔ جویریہ کا سنہری پرس کچھ فاصلے پر فرش پر پڑا تھا ۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور پرس کو اٹھایا ۔
” دران یہاں کیوں کھڑے ہو ۔ چلو باہر ۔ “
انل کے کندھا جھنجوڑنے پر وہ سٹپٹا کر پلٹا ۔ انل شاید باہر سے پھر سے وآپس اسے لینے کے لیے آیا تھا ۔
” انل جویریہ کہاں ہے ؟ “
” وہ تو تمھارے ساتھ تھی نہ کہاں ہے ؟ باہر سب کے ساتھ تو نہیں ہے ۔ “
ہوائیاں اڑے چہرے کے ساتھ انل نے اس سے الٹا سوال کیا اور متلاشی نگاہیں اردگرد دوڑائیں ۔
” ابھی ایک منٹ پہلے تک یہاں تھی ۔ میرے ساتھ اور جیسے ہی لائٹ واپس آئی وہ غائب ہو گئی ۔ “
” اوہ خدا دران اس کا مطلب ہے۔ وہ لوگ اسے لے گئے ہیں ۔ سبرینا کی معلومات درست تھیں ۔ تم نہیں بچا سکے اسے “
انل نے تاسف اور گھبراہٹ سے پیشانی پر ہاتھ رکھا ۔ ان تمام دنوں میں وہ انل کو جیسیکا میں الجھا کر اس سے چھپ کر جویریہ کی مکمل سکیورٹی کے انتظامات کرتا رہا تھا ۔ انل بس اتنا جانتا تھا کہ اس تقریب میں کچھ برا ہونے والا ہے اور دران اسی کے ذریعے بروس کو رنگے ہاتھوں پکڑنا چاہتا ہے ۔
” جویریہ ۔۔۔۔۔ جویریہ ۔۔۔۔ “
وہ دونوں اب مختلف سمت میں اس کا نام چیخ چیخ کر پکار رہے تھے ۔ ہال اب تقریباً تمام لوگوں سے خالی ہو چکا تھا اور آگ مکمل طور پر بے قابو ہوئے بھڑک رہی تھی جس پر آگ بھجانے والے شاور کوئی اثر نہیں کر رہے تھے ۔ ہوٹل انتظامیہ کے مطابق ان کے انتظامات میں خرابی آنے کی وجہ سے وہ آگ پر قابو پانے میں ناکام تھے ۔
” سر آپ لوگ باہر جائے پلیز ہال کو خالی کر دیں ۔ “
حفاظتی عملہ وردی میں ملبوس اب لوگوں کو بحفاظت ہال سے باہر نکال رہا تھا ۔
” نہیں میری بیوی یہی تھیں ۔ مجھے اسے تلاش کرنا ہے ۔”
” سر یہاں کوئی نہیں ہے ۔ وہ باہر چلی گئی ہوں گی پلیز آپ باہر چلیے یہاں خطرہ ہو سکتا ہے آپکو ۔ “
وہ زبردستی دران کو اور انل کو باہر نکال رہے تھے ۔ حفاظتی عملا گھسیٹتے ہوئے اسے اور دران کو باہر لا رہا تھا جبکہ دران اونچی آواز میں چلا رہا تھا ۔
” میری بیوی اندر ہے ۔ وہ ابھی میرے پاس تھی باہر نہیں ہے ۔ “
لان میں ایک ساتھ کھڑے اسفند ملک , روبی اور برھان تیزی سے بھاگتے ہوئے ۔ دران اور انل تک پہنچے تھے ۔
” دران کہاں ہے جویریہ باہر تو نہیں ہے ۔ “
اسفند ملک نے فکر مندی سے پوچھا ۔ دران نے لب بھینچ کر ان کی طرف دیکھا
” نہیں اندر بھی نہیں ہے ۔ “
” اس کا فون لگاؤ جلدی سے ۔ یہیں کہیں ہو گی ۔ بھگدڑ میں پتا نہیں چلا ہو گا ہمیں “
” فون اس کے پرس میں تھا ۔ “
دران نے ہاتھ میں پکڑا سنہری پرس اوپر کیا ۔ لہجہ سپاٹ اور پریشان تھا ۔ برھان نے ایک لمحے کو نگاہیں چرائیں جب کہ سبرینا کا منہ تکلیف سے کھل گیا تھا ۔
” پولیس آ چکی ہے ۔ فوراً اناؤنسمنٹ کرواتے ہیں ۔ تم پریشان نہ ہو وہ مل جائے گی ۔ “
اسفند ملک نے پریشان لہجے میں اسے تسلی دی اور ایک طرف کھڑے پولیس انسپکٹر کی طرف بھاگے ۔ دران اور انل بھی ان کی تقلید میں پیچھے بھاگے ۔ صرف برھان تھا جو کن اکھیوں سے اردگرد کا جائزہ لے رہا تھا ۔
