Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 39)

Basil by Huma Waqas

سردی کا زور پکڑتی یہ رات امریکہ میں اس کی آمد کے بعد سے نوین کے گھر پر ساتویں رات تھی ۔ امریکہ کے مہنگے ترین علاقے میں بنا نوین ملک کا یہ چھوٹا مگر انیس دہائی کی جدت لیے خوبصورت گھر تھا ۔

نوین اور کنز پارکر عرف کنزی نامی اس کی بیوی دونوں کماتے تھے لیکن یہ گھر صرف نوین کی ملکیت تھا ۔ کنز پارکر بہت حسین ہونے کے ساتھ بہت سلجھی ہوئی اور خاموش طبع خاتون تھی ۔ اگرچہ ان سات دنوں میں اس رات کی ملاقات کے بعد اس کی کنز سے زیادہ بات چیت نہیں ہوئی تھی لیکن اس کی ملازمت سے واپسی پر کنزی اپنے ڈنر کے ساتھ اس کا ڈنر بھی تیار کر چکی ہوتی تھی ۔

ڈنر کے بعد وہ دونوں اپنے اپنے کمروں میں چلے جاتے تھے ۔ نوین کی آمد رات کے کس پہر ہوتی اسے خبر نہیں ہوتی تھی ۔ البتہ ہر صبح جب وہ ملازمت کے لیے نکلنے لگتا تو نوین اسے جاگنگ ٹریک پر لازمی ملتا ۔ اسی طرح سات دن گزر گئے اور اس کی کمپنی کی طرف سے اس کی رہائش کا انتظام ہوتے ہی اس نے نوین کے گھر سے رخصت ہو جانے کا فیصلہ کیا ۔

نوین کیونکہ رات کو بہت دیر سے واپس آتا تھا اس لیے وہ اس سے مل کر ہی نکلنا چاہتا تھا ۔ آج گھر میں واپس آنے سے لے کر کچھ بھی معمول کے مطابق نہیں تھا ۔ گھر میں کنز موجود تھی لیکن آج اس نے نہ تو خود ڈنر کیا اور نہ ہی اسے ڈنر کے لیے کمرے سے باہر آنے کے لئے کہا ۔ شام کے سات بجے سے لے کر رات کے بارہ بجنے کو تھے لیکن وہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی ۔

وہ اپنا سامان باندھنے میں مصروف تھا جب باہر لاؤنج سے آوازیں سنائی دینے لگیں ۔ شاید نوین واپس آ گیا تھا اور اب یہ آوازیں اس کی اور کنز کی آپس میں گفتگو کی تھیں ۔ آوازیں آہستہ آہستہ تیز ہو رہی تھیں ۔ وہ کمرے میں موجود تھا مگر دروازہ کھلا ہونے کے باعث ان کی گفتگو با آسانی سن رہا تھا ۔

” مجھے تم جیسے جھوٹے انسان کے ساتھ ایک سکینڈ کے لیے بھی نہیں رہنا ۔ “

یہ چیختی آواز کنز کی تھی ۔ اس کی اتنی غصیلی آواز وہ آج سن رہا تھا ۔ وہ بہت دھیما بولتی تھی ۔

” تو کھڑی کیوں ہو جاؤ پھر ۔ نکلو میرے گھر سے ۔ “

نوین اس سے بھی زیادہ اونچی آواز میں چیخا ۔ اسفند کے کان ایکدم سے کھڑے ہوئے یہ کوئی معمولی گفتگو نہیں تھی وہ دونوں جھگڑ رہے تھے ۔

” اس کی بھی فکر مت کرو ۔ چلی جاؤں گی کچھ دن میں ۔ “

” کیا کچھ دن میں ؟ نہیں تم ابھی اور اسی وقت نکلو میرے گھر سے ۔ “

اسفند نے ہاتھ میں رکھی شرٹ کو اسی طرح واپس بیڈ پر رکھا اور دروازے کے پاس آ گیا ۔ ان دونوں کی آوازیں اب اور اونچی ہو رہی تھیں ۔

” تم بد دماغ ہونے کے ساتھ ایک ظالم شخص بھی ہو ۔ تم ہر احساس سے عاری ہو چکے ہو ۔ تمہیں شرم آنی چاہیے تھی اس معاملے میں سچ چھپاتے ہوئے ۔ “

” ہاں ہوں میں یہ سب ۔ تمہیں اب میں سب کچھ لگوں گا کیونکہ تمہیں صرف اس چیز کی طلب ہے جو واحد میں تمہیں نہیں دے سکا ۔ “

” وہ بات اگر اس جھوٹ تک نہ پہنچتی تو میں ساری زندگی تم سے گلا نہ کرتی مگر بات صرف اتنی سی ہے کہ تمہیں اب مجھ سے محبت ہی نہیں رہی۔ “

” مجھے ۔۔۔۔ مجھے تم سے محبت نہیں ہے ۔ محبت کے بارے میں تم جانتی ہی کیا ہو ؟ “

” جانتی ہوں میں سب تم نہیں جانتے ہو ۔ “

” نہیں جانتا میں ۔ یہ سب جو بھی کیا ۔ جو کر رہا ہوں کس کے لیے ہاں ۔ کیا تھی تم اور کیا بنا دیا میں نے ۔ “

نوین کی آواز میں غم اور غصہ دونوں شامل تھے ۔ ان دونوں کے چلانے کی آوازوں سے صاف ظاہر تھا کہ معاملہ سنگین ہے ۔

” ہاں کیا بنا دیا تم نے مجھے اس احسان جتانے کی کمی تھی بس پر مجھے تمھارے ساتھ حسین مورت بن کر نہیں رہنا صرف ۔ مجھے سکون چاہیے ۔ فیمیلی چاہیے ۔ “

اسفند نے قدم کمرے سے باہر نکالے ۔ وہ دونوں سامنے لاؤنج میں لگے صوفوں کے پاس ہی کھڑے تھے ۔ نوین نے ابھی اوپری کوٹ بھی پہن رکھا تھا ۔ ہاتھ میں ایک کاغذ تھامے وہ سرخ چہرے کے ساتھ پیشانی پر شکن ڈالے کھڑا تھا ۔

” پتا ہے اس سب کی وجہ کیا ہے ؟ تم ایک حسین مغربی عورت ہو لیکن تمھارا ذہن ایک دقیانوسی مشرقی عورت جیسا ہے ۔ “

نخوت سے ناک چڑھائے وہ خود بالکل مشرقی مردوں کی طرح اپنے سامنے کھڑی مغربی عورت پر برس رہا تھا ۔

” مغربی عورت بھی عورت ہی ہوتی ہے ۔ پپٹ نہیں ہوتی ۔ میں دقیانوس نہیں ہوں ۔ تم دولت کمانے کی دھن میں مجھے ایک پپٹ سمجھ بیٹھے ہو ۔ جس میں نہ تو کوئی احساسات ہیں اور نہ ہی خواہشات ۔ میں پھر بھی تمھارے ساتھ چلنے کو تیار تھی لیکن یہ جھوٹ جو تم نے مجھ سے بولا ۔ یہ میں برداشت نہیں کر سکتی ۔ “

کنز بھی اس سے کم غصے میں نہیں تھی ۔ اس کی اسفند کی طرف پیٹھ تھی اس لیے وہ اسفند کی آمد سے بے خبر تھی ۔

” میری برداشت ختم ہو چکی ہے ۔ اب مجھے یہ رشتہ ختم کرنا ہے بس ۔ “

وہ دو ٹوک لہجے میں گویا ہوئی ۔ ایک دم سے قبرستان جیسی خاموشی چھائی ۔ نوین گہرے سانس اندر باہر انڈیلتا ضبط کے مرحلے سے گزر رہا تھا اور پھر وہ غرایا ۔

” جب رشتہ ختم تو پھر سب ختم ہے ۔ نکلو میرے گھر سے ابھی اور اسی وقت ۔ “

غصے میں غراتے ہوئے اس نے نگاہ گھمائی تو سیدھی اسفند پر پڑی ۔ اسفند خفت سے سٹپٹایا اور پھر تیزی سے آگے بڑھا ۔

” نوین بھائی کیا ہوا کیوں جھگڑ رہے ہیں آپ دونوں ۔ “

نوین نے اسفند کی بات کا جواب دینے کے بجائے نگاہ پھر سے دوسری جانب کی اور کنز کی طرف متوجہ ہوا ۔

” سنا نہیں تم نے نکلو میرے گھر سے ۔ “

” چیخ کیوں رہے ہو میں جا رہی ہوں کبھی نہ واپس آنے کے لیے ۔ “

وہ ایک دم غصے میں پلٹی ۔ اسفند ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے فکرمندی سے آگے بڑھا ۔

” نوین بھائی کیا ہوا ؟ ایسے کیوں کہہ رہے ہیں انہیں ؟ “

” اسفی تم کچھ نہیں جانتے ۔ تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ جانے دو اسے ۔ “

” بھائی ایسے اتنی رات کو وہ کہاں جائیں گی ۔ “

نوین کے غصے اور لاپرواہی سے کہے گئے جملے پر وہ فکرمندی ظاہر کرتا ہوا آگے بڑھا ۔

” کچھ نہیں ہو گا اسے یہ پاکستان نہیں ہے ۔ تم اپنے کمرے میں جاؤ ۔ “

نوین نے اپنی پیشانی کو سہلاتے ہوئے بیزار لہجے میں اسے جانے کے لیے کہا۔ اسفند نے لب بھینچے کچھ دیر خاموشی سے دیکھا اور پھر پلٹا ۔ وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہے تھے اسے ان کے نجی معاملے میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے ۔

وہ آہستگی سے چلتا ہوا ابھی کمرے کے دروازے کے پاس ہی پنہچا تھا جب اسے کنز سوٹ کیس سمیت اپنے کمرے سے نکلتی ہوئی نظر آئی ۔ اسفند نے پریشانی سے نوین کی طرف دیکھا جو اسے دیکھتے ہی بے رخی سے دوسری جانب رخ موڑ چکا تھا ۔ کنزی اب بیرونی دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی ۔ وہی بھورا کوٹ اس پر اون کا مفلر گلے میں ڈالے , سرخ ناک اور گال سمیت مضطرب حالت میں وہ تیز تیز چلتی اب لاؤنج سے آگے راہداری میں پہنچ چکی تھی ۔

” بھابھی ۔۔۔ “

اسفند نے دور سے ہی آواز لگائی اور پھر تیزی سے واپس پلٹ کر نوین کے پاس آیا ۔

” نوین بھائی روکیں انہیں وہ سچ میں جا رہی ہیں ۔ “

نوین نے غصے سے گھور کر دیکھا مگر جواب نہیں دیا ۔ کنز اب بیرونی دروازہ کھول چکی تھی ۔

” بھابھی رک جائیں پلیز ۔ “

اسفند تقریباً بھاگتا ہوا اس تک پہنچا تھا اور اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے اس کا راستہ روکا ۔

” میں کوئی بھابھی نہیں ہوں تمھاری ۔ اپنے کام سے کام رکھو سمجھے تم اور اب راستہ چھوڑو میرا ۔ “

وہ غصے میں اسفند پر چلائی ۔ اسفند اس پورے ہفتے میں آج پہلے دن اس حسین مورت کو یوں غصہ کرتے ہوئے اور چلاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔

” اسفی ہٹ جاؤ جانے دو اسے ۔ “

نوین نے غصیلے لہجے میں وہیں کھڑے ہانک لگائی ۔ اسفند نے نوین کی آواز کو ان سنی کرتے ہوئے پھر سے غصے میں بھری کھڑی کنز پارکر کی طرف دیکھا ۔

” نہیں آپ نہیں جائیں گی اس وقت ۔ “

” اسفی جانے دو اسے ۔ تم کچھ نہیں جانتے۔ “

نوین اب غصے میں چلاتا ہوا آگے بڑھا ۔

” نوین بھائی یہ ٹھیک نہیں ہے ۔ آپس میں چاہے جتنا بھی جھگڑا ہو لیکن انہیں روکیں وہ گھر سے جا رہی ہیں وہ بھی اس وقت ۔ “

” تم ہمارے معاملے میں مت پڑو اسفی ۔ “

نوین نے سختی سے اسفند کو پکڑ کر اس کے راستے سے ہٹایا اور پھر دانت پیستے ہوئے کنزی پر غرایا ۔

” کھڑی کیوں ہو تم ؟ جاتی کیوں نہیں اب ؟ جاؤ۔و۔و۔و۔۔۔”

کنزی نے ایک تاسف بھری نگاہ نوین پر ڈالی اور پھر ناک پھلائے , گردن تانے اوپری ہینڈل والے سیاہ سوٹ کیس کو گھسٹتے ہوئے دہلیز سے پار قدم رکھ دیے ۔

وہ اب تیز تیز قدم اٹھاتی سرخ روش پر آگے بڑھ رہی تھی ۔ نوین نے غصے میں اپنے بالوں کو جکڑا اور کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔ اسفند نے ایک نگاہ نوین کی پشت پر ڈالی اور پھر تیزی سے بیرونی دروازے سے باہر کنزی کے پیچھے دوڑ لگائی ۔ وہ روش سے آگے سڑک پر پہنچ چکی تھی جو رات کے بارہ بجے سنسان تھی ۔ بس ان خوبصورت گھروں میں سے اکا دکا گھروں کی باہر کی بتیاں اور سڑک میں لگے لیمپ روشن تھے ۔

” بھابھی ۔ بھابھی رک جائیں۔ دیکھیں میں نہیں جانتا آپ لوگوں کا جھگڑا کس بات کو لے کر ہے لیکن آپ دونوں ہی یوں غصے میں آئیں گے تو بات بگڑ جائے گی ۔ “

اکھڑی سانسوں سمیت وہ بمشکل اپنی بات مکمل کرتا ہوا کنزی کے قدموں کے ساتھ قدم ملا رہا تھا جو اب گالوں پر بہتے آنسوؤں سے بے نیاز بس چلتی جا رہی تھی ۔

اسفند ایک دم اس کے سامنے آ کھڑا ہوا ۔ کنزی نے ڈبڈبائی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا ۔

” تم کچھ نہیں جانتے ۔ مجھے مت روکو ۔ “

” میں جاننا چاہتا ہوں ۔ “

” آخر کو تم ہو کون ؟ راستہ چھوڑ دو میرا ۔ “

اس نے غصے میں کہا اور اس کے اطرف سے نکلتی ہوئی پھر سے سڑک پر چلنے لگی ۔

“میں آپ کا کچھ نہیں لیکن میں اتنا ضرور سن چکا ہوں کہ آپ نوین بھائی سے کچھ دن کی مہلت مانگ رہی تھیں ۔ مطلب کہ آپ اب اس وقت کہاں جائیں گی ؟”

اسفند اب پھر اس کے تیز تیز قدموں کے ساتھ قدم ملائے ہوئے تھا ۔

” کہیں بھی جاؤں تم سے مطلب ؟ تم آخر کو کیوں اتنے پریشان ہو رہے ہو ؟ “

” آپ میرے کذن کی بیوی ہیں اس لیے ۔ “

” نہیں ہوں میں اس کی بیوی ۔ بہت جلد الگ ہو جائیں گے ہم ۔ “

” جذبات اور غصے میں آ کر یوں فیصلے نہیں لیے جاتے ۔ “

اسفند پھر سے اچانک اس کے سامنے آیا تو دونوں ٹکراتے ٹکراتے بچے ۔ وہ بنا سوچے سمجھے باہر نکل آیا تھا اور اب ٹھنڈی ہوا غلطی کا احساس دلا رہی تھی ۔ وہ اب سڑک سے آگے پہنچ چکے تھے جہاں قطار میں مئے خانے اور کافی شاپ بنے تھے ۔ سامنے موجود گولڈن بار نامی مئے خانے میں رات کے اس وقت بھی گہاگمہی تھی ۔

” اچھا ایک منٹ ۔ آپ گھر مت جائیں ۔ ایسا کرتے ہیں ۔ ہم کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔ کچھ دیر ۔ اتنی دیر میں آپ دونوں کا غصہ ختم ہو جائے گا ۔ “

” اب ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا ۔ “

” ہو گا ضرور ہو گا ۔ وہ سامنے بار میں چلتے ہیں ۔ “

اسفند نے سڑک کے اطراف میں بنے مئے خانے کی طرف اشارہ کیا۔ کنزی اسی طرح سپاٹ چہرہ لیے کھڑی تھی ۔

” پلیز ۔ “

اسفند کے لہجے میں التجا تھی ۔ اب کی بار وہ کندھے ڈھلکا چکی تھی ۔ مطلب وہ راضی تھی ۔ اسفند نے جلدی سے ہاتھ اس کے سوٹ کیس کی طرف بڑھایا ۔

” تھنکیو بات ماننے کے لیے ۔ لائیں یہ مجھے دیں ۔ “

اس کے سوٹ کیس کو تھامے اس کے آگے چلتا ہوا وہ مئے خانے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ وہ بھی سر جھکائے اس کے پیچھے چلتی ہوئی وہاں تک پہنچی ۔ سرمئی روشنیوں میں ڈوبے مئے خانے میں اس وقت بھی رونق لگی تھی ۔ اسفند نے نگاہ گھماتے ہوئے ایک کونے میں لگی کرسی میز کی طرف اشارہ کیا ۔ وہ اس کی تقلید کرتی ہوئی اپنا اوپری کوٹ اتار رہی تھی ۔ مئے خانے میں چلتے گرم ہیٹرز نے باہر کی خنکی کو مات دے رکھی تھی ۔

” یہاں بیٹھیں اور غصہ ٹھنڈا کریں ۔ “

اسفند نے سوٹ کیس ایک طرف رکھتے ہوئے بڑے احترام سے کرسی کو پیچھے کیا ۔ اور خود ہاتھ مسلتا ہوا سامنے کرسی پر براجمان ہوا ۔

” مجھے غصہ نہیں ہے۔ بس دکھ ہے ۔ “

بے تاثر لہجے میں کہتی ۔ وہ کرسی پر بیٹھی اور نگاہیں ارد گرد گھمائیں ۔

” نوین بھائی آپ سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ “

اسفند کے جملے پر اس نے چونک کر اسفند کی طرف دیکھا اور استہزائیہ مسکراہٹ سمیت گھورا ۔

” اچھا جو بات مجھے پچھلے تین سالوں میں نہیں پتا چل سکی تمہیں چار دن میں پتا چل گئی ۔ “

” نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔ اندازہ ہو جاتا ہے ۔ “

” ہاں وہ کرتا تھا مجھ سے محبت ۔ بہت کرتا تھا لیکن اب میری جگہ کسی اور نے لے لی ہے ۔ “

کرب ناک لہجے میں کہتے ہوئے وہ پھر سے نظریں گھما کر ارد گرد مسکراتے لوگوں کو دیکھنے لگی ۔

” مہ ۔ ۔۔ میں سمجھا نہیں کیا وہ کسی اور لڑکی ۔۔ ۔ “

” لڑکی نہیں ۔ اس پر پیسہ کمانے کی دھن سوار ہے ۔ وہ مجھے بھول گیا ہے ۔ وہ تین سال پہلے والا نوین نہیں ہے ۔ “

” اوہ کوئی لڑکی نہیں ہے تو پھر آپ ایسا کیوں کر رہی ہیں ۔ وہ یہ سب آپ کے لیے ہی تو کر رہے ہیں ۔ “

” وہ یہ سب میرے لیے نہیں صرف اپنے لیے کر رہا ہے ۔ وہ جھوٹا ہے ۔ “

وہ ایک دم سے بھڑک اٹھی میز پر زور سے ہاتھ مارتی آگے جھکی اور پھر ایک دم سے سینے پر ہاتھ باندھے گہری سانس خارج کی ۔

” اس نے مجھ سے جھوٹ بولا مجھے دھوکا دیا ۔ “

” کیا دھوکا ؟ “

اسفند کے برجستہ استفسار پر اس نے خاموشی اختیار کی ۔ اسفند اب سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔ وہ بیزار سی کہنیاں میز پر ٹکائے خاموش بیٹھی تھی ۔

” وہ ہماری آپس کی بات ہے اور ویسے بھی اب سب ختم ہے ۔ کیوں , کیا , کیسے سب بے جواز ہے ۔ “

” سب ایسے ختم نہیں ہوا کرتا ۔ آپ دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں اور پیار یوں ختم نہیں ہوا کرتا ہے ۔ “

” تم نے کیا ہے کبھی کسی سے پیار ؟ “

اچانک سے وہ الٹا اسفند سے سوال کر گئی ؟ لہجہ طنز بھرا تھا ۔ اسفند نے بھنویں اٹھائیں اور پھر ایک دلفریب سی مسکان نے لبوں کا گھیراؤ کیا ۔

” جی کیا ہے ۔ “

اسفند کی مسکراہٹ پر وہ جو غصے میں اس سے سوال کر رہی تھی پیشانی کے بل کم ہوئے ۔

” بہت بہت کرتا ہوں ۔ اسی لیے تو سمجھا رہا ہوں یہ سب لڑائی یہ سب کچھ چلتا رہتا ہے لیکن پیار ۔۔۔”

” کیا تم اس سے شادی کر چکے ہو ؟ “

کنزی اس کی بات کو پھر سے کاٹے اگلا سوال کر رہی تھی لہجہ اب بھی سپاٹ تھا ۔

” شادی ۔۔۔ ام۔م۔م۔ نہیں ایک قسم کی شادی ہی سمجھ لیں ۔ میں اس کے ساتھ نکاح کر چکا ہوں مگر ابھی ہم ایک ساتھ نہیں رہتے ؟ “

” کیا مطلب شادی ہے بھی نہیں بھی ؟ “

وہ ناسمجھی سے دیکھ رہی تھی ۔ امریکہ آنے سے پہلے وہ اپنی محبت کو گھر والوں کی مرضی سمیت اپنا چکا تھا ۔

“آپ کو کیسے سمجھاؤں ۔ یہ مکمل شادی نہیں ہوتی ۔ اس میں لڑکی اپنے والدین کے ہی گھر میں ہوتی ہے لیکن آپ کے نکاح میں ہوتی ہے ۔ پھر بعد میں آپ اس کو اپنے گھر لاتے ہو ۔ “

” اوہ اچھا میں سمجھ گئ ۔ “

اسفند کے تفصیل سے بتانے پر وہ تائید میں سر ہلا گئ۔

” اچھا لگا سن کر ۔ “

” آپ کو دیکھنا ہے اسے ؟ “

اسفند کی آنکھوں میں ایک دم سے چمک ابھری لبوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی ۔

” میں یقیناً دیکھنا چاہوں گی ۔”

کنزی تمام وقت میں پہلی دفعہ مسکرائی ۔ اسفند نے بتیسی نکالتے ہوئے ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالا اور سیاہ رنگ کے پرس سمیت باہر نکالا پرس کو کھول کر کنزی کی طرف بڑھایا ۔

” یہ دیکھیں ۔ “

کنزی نے ہاتھ بڑھا کر پرس کو تھاما اور اشتیاق سے نگاہیں تصویر پر جمائیں ۔ یہ کسی لڑکی کی تصویر تھی جو مسکرا رہی تھی ۔

” بہت خوبصورت ہے ۔ کیا نام ہے ؟ “

” روبی ۔۔ روبینہ نام ہے ۔ “

” خوبصورت نام ہے بالکل اس کی طرح ۔ “

” شکریہ ۔ “

اسفند مسکرایا ۔ کنزی نے پرس اسفند کی طرف بڑھایا اور ستائشی نگاہیں اس کے چہرے پر جمائے ہوئے کہا ۔

” تم بھی خوبصورت ہو ۔ “

اسفند نے بے ساختہ قہقہ لگایا پھر قہقے سمیت برجستہ جوابی تعریف کی ۔

” دراصل آپ بہت خوبصورت ہیں ۔ اس لیے آپ کو ہر کوئی خوبصورت لگتا ہے ۔ “

اس کی تعریف پر وہ پھیکی مسکراہٹ لبوں پر سجائے سر جھکا گئی ۔

” جس دن پہلے دن آپ کو دیکھا ایسا لگا کہ زندگی میں پہلی دفعہ کوئی پری دیکھی ہے ۔ سچ میں پریاں زمین پر رہتی ہیں ۔ “

اسفند کی اگلی تعریف پر وہ کھلکھلا کر ہنس دی ۔

” سچ کہہ رہا ہوں ۔ نوین بھائی ایسے ہی دیوانے نہیں آپ کے ۔ “

اب کی بار اسفند کی بات پر اس کی مسکراہٹ پھر سے غائب ہوئی ۔ چند سکینڈ کی گہری خاموشی تھی ۔

” وہ دیوانہ تھا ۔ اب نہیں ہے ۔ “

چہرے پر پھر سے اداسی پھیل گئی ۔

” کہاں ۔۔۔ مطلب کیسے ملے تھے آپ دونوں ؟ “

اسفند نے اس کے چہرے پر پھیلتی اداسی کو دیکھتے ہوئے جلدی سے موضوع بدلہ ۔ وہ خاموش رہی اور پھر نگاہ مئے خانے کی کھڑکی سے پار سڑک پر جمائی ۔

” آج سے چار سال پہلے ۔ ہم دونوں ایک ہی کیفے میں ملازمت کرتے تھے ۔ “

اسفند مسکرایا ۔ کنزی نے رخ موڑ کر اس کی طرف دیکھا ۔ وہ کھوئی سے لہجے میں اسے اپنی پہلی ملاقات کا بتاتے ہوئے بہت اداس لگ رہی تھی ۔

” وہ مجھے پسند کرنے لگا اور پھر پورا ایک سال مجھے پرپوز کرتا رہا ۔ “

وہ سر کو ہلاتے ہوئے اسی لمحے کی یاد میں دلکش ہنسی ہنس دی ۔

” پھر ؟ “

اسفند کے تجسس پر اس نے گہری سانس لی اور میز پر سے کہنیاں ہٹائے پیچھے ہوئی ۔

” مجھے بھی اس سے محبت ہو گئی۔ میں بچپن سے اپنے باپ کے ساتھ اکیلی رہتی تھی ۔ انہوں نے مجھے بنا ماں کے اکیلے پالا وہ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے ۔ جب انہیں میری محبت کا علم ہوا ۔ وہ بہت ناراض ہوئے ۔ وہ میرے کسی مسلمان سے شادی کرنے پر راضی نہیں تھے ۔ “

وہ اب میز پر نگاہیں جمائے ہوئے تھی اور اسفند اس کے حسین چہرے کی اداسی پر ۔

” پھر ؟ “

“پھر میں نے گھر چھوڑ دیا اور نوین کے پاس آ گئی اور دو سال پہلے میرے والد کا انتقال ہو گیا ۔ “

” معافی چاہتا ہوں ۔ بہت افسوس ہوا سن کر ۔ “

اسفند نے ندامت سے اس کی آخری بات پر افسوس کیا ۔ وہ ویران آنکھوں سمیت مسکرا دی ۔

” کوئی بات نہیں ۔ مجھے اکیلے رہنے کی عادت ہو چکی ہے ۔ “

” ایسے مت کہیں ۔ اکیلے کیوں نوین بھائی ہیں نہ آپ کے ساتھ ۔”

” نہیں ہے ۔ وہ پچھلے دو سال سے میرے پاس ہوتے ہوئے بھی میرے پاس نہیں ہے ۔ وہ بہت مصروف ہو گیا ہے ۔ اس کے پاس میرے لیے وقت نہیں ہے ۔ “

اس کا لہجہ دلگیر تھا اور بنا سوچے سمجھے وہ سارے شکوے اسفند کے سامنے کر رہی تھی پھر ایک دم احساس ہونے پر خاموش ہوئی ۔ خاموشی کا دورانیہ بڑھتا جا رہا تھا ۔ اسفند چاہتا تھا وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال دے وہ مکمل طور پر دل صاف کر لے لیکن شاید یہ ممکن نہیں تھا ۔

” میرا خیال ہے مجھے چلنا چاہیے ۔ “

” کہاں جائیں گی آپ ؟ “

کنزی کے اچانک سٹپٹا کر اٹھنے پر اسفند بھی ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھا ۔

” کہیں کسی ہوٹل میں روکوں گی پھر جہاں ملازمت کرتی ہوں ان سے رہائش کے انتظام کا کہوں گی ۔ “

کندھے پر اپنے پرس کی سٹریپ درست کرتی وہ پھیکی سی مسکراہٹ سمیت بتا رہی تھی ۔ اسفند نے نفی میں سر ہلایا ۔

” نہیں آپ واپس چلیں میرے ساتھ گھر ۔ “

” میں اس گھر میں نہیں جاؤں گی اب ۔ تم معاملے کی سنگینی کو نہیں سمجھتے ہو ۔مجھے جانے دو ۔ “

” اچھا رکیں ۔ میں سامان پیک کر چکا تھا مجھے بھی نکلنا تھا ۔ میں اپنا سامان ابھی لے آتا ہوں ۔ اگر آپ کو برا نہیں لگے تو میرے ساتھ میرے فلیٹ چلیں ۔ “

اسفند نے پیش کش کی تو وہ پرسوچ نگاہیں جھکائے کچھ پل کے لیے ساکن ہوئی اور پھر آہستگی سے سر اثبات میں ہلاتی گویا ہوئی ۔

” اوکے ۔ “

اسفند نے اس کے مان جانے پر خوشی سے سر ہلایا ۔ رشتے کے لحاظ سے وہ اسے یوں اکیلے بھٹکنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔

” چلیں پھر میں سامان لے آؤں ۔ “

وہ پرجوش لہجے میں کہتا ہوا اسے ساتھ چلنے کا کہہ رہا تھا ۔ کنز نے سر اثبات میں ہلایا اور اس کے ساتھ قدم ساتھ بڑھا دیے ۔

☆☆☆☆☆

بیورلی ہلز کی حسین رات مونٹیج نامی ہوٹل کے اس ہال میں حسین چہروں اور قیمتی ملبوسات پہنے ہالی وڈ کے ستاروں کو کھینچ لائی تھی ۔ سفید چمکتے ملائم فرش اور سنہری فانوس سے سجا یہ ہال کسی اور ہی دنیا کا منظر پیش کر رہا تھا ۔ ایک طرف موسیقی کے جلترنگ تھے تو دوسری طرف کچھ لڑکیاں رقص کر رہی تھیں ۔

برہان نے اپنے فلمی کیرئیر کی شروعات ایک اونچے بجٹ کی فلم سے کی تھی ۔ چھوٹے پردے سے بڑے پردے پر یہ قدم اس کے لیے بہت خوشی کا باعث تھا ۔ اس جھلملاتی تقریب میں اسفند اور روبی کے چہروں کی چمک دمک برھان سے کسی صورت بھی کم نہیں تھی ۔

برہان بڑی شان سے قیمتی لباس میں ملبوس میزبانی سر انجام دے رہا تھا ۔ ان گنت فلمی ستاروں کے ساتھ ساتھ فلم نگری کو ساپنسر کرنے والے بڑے ادارے بھی اس تقریب میں شریک تھے ۔ سب پہنچ چکے تھے لیکن جس کا انتظار تھا وہ ابھی تک نہیں پہنچے تھے ۔

انگنت چھپی اور ظاہر نگاہیں مونٹیج ہال کے داخلی دروازے پر ٹکی تھیں اور پھر وہ لمحہ آ ہی گیا ۔ ہال کے کھلے دروازے سے داخل ہوتے دران عرف درانگ کے ساتھ ہمقدم جویریہ اور ان کے پیچھے انل ہال میں داخل ہو رہے تھے ۔ دران اپنے ساتھ کوئی گارڈز نہیں لے کر آیا تھا ۔

سنہری فانوس والے اس سفید ہال میں وہ سنہری جوڑے میں ملبوس دران کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہال کے داخلی دروازے سے اندر آ رہی تھی اس بات سے انجان کہ وہ اس وقت کتنی ہی چھپی اور ظاہر نظروں کا مرکز ہے ۔

بہت سے لبوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں فتح جیسی چمک ابھری ۔ سبرینا جو برہان کے ساتھ ساتھ میزبانی سر انجام دے رہی تھی اچانک چہرے کی رنگت ایک پل کو سفید پڑی اور پھر خوف سے اردگرد دیکھتے ہوئے اس نے دران کے ساتھ قدم ملا کر چلتی جویریہ کی طرف دیکھا ۔

برہان ایک آبرؤ اٹھائے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھا وہ یقیناً دران کا خیر مقدم کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا تھا ۔ سبرینا نے اضطرابی کیفیت میں قدم برھان کے ساتھ آگے بڑھائے ۔

” ویلکم ۔ “

برھان نے گرم جوشی سے خوش آمدید کیا اور پھر جویریہ کی طرف دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا ۔

” آہ۔ہ۔ہ۔ ویلکم بھابھی دیکھیں ۔ آخر کار میری یہ پارٹی آپکو درانگ ولاس سے نکال ہی لائی ۔ “

بہت معنی خیز جملہ تھا ۔ سبرینا نے بے چینی سے دران کی طرف دیکھا جو اطمینان سے اردگرد کا جائزہ لینے میں محو تھا ۔

” کانگریجولیشن ۔ “

جویریہ دلکشی سے مسکرائی ۔ برھان نے مؤدبانہ سینے پر ہاتھ رکھا اور جھکا ۔

” شکریہ چلیں کسی کو احساس ہے کہ میری اس کامیابی پر مبارک باد دینی چاہیے۔ خیر ایکدم سے کوئی آپ کے مقام کے برابر آ جائے یہ بات برداشت کرنا کافی مشکل ہوتا ہے ۔ چلیں پھر آپ انجوائے کریں ۔ میں تھوڑا مصروف ہوں ۔ “

مغرور انداز میں گردن اٹھائے اس نے جتاتے ہوئے دران کی طرف دیکھا جبکہ وہ نہ تو اس وقت اسے سن رہا تھا اور نہ ہی اس کی کسی بات کا جواب دیا ۔ برھان پلٹا لیکن پریشان حال سبرینا اب بھی وہیں جمی کھڑی تھی ۔ وہ الجھی سی دران کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی ۔

” سبرینا تمہیں بھی کانگریجولیشن ۔ “

جویریہ نے رسانیت سے کہا تو سبرینا جو ہونق بنی دران کی طرف دیکھ رہی تھی چونکی اور پھر فوراً زبردستی کی مسکراہٹ لبوں پر سجائی ۔

” تھنکیو بھابھی ۔ آپ چاچو سے مل لیں وہ بار بار پوچھ رہے تھے آپ کا ۔ “

سبرینا نے کچھ دور کھڑے اسفند ملک کی طرف اشارہ کیا اور پرسرار نگاہوں سے دران کی طرف دیکھا ۔ جویریہ نے سوالیہ دران کی طرف دیکھا جو اب بھی اس کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا ۔ دران نے آہستگی سے اس کے ہاتھ پر گرفت ڈھیلی کر دی ۔ بنا کہے ہی انداز ایسا تھا کہ تم جاؤ مل لو مجھے نہیں ملنا ۔

جویریہ نے لب بھینچ کر مسکراہٹ کو گہرا کیا اور قدم ملک اسفند کی جانب بڑھا دیے ۔ جویریہ کے جاتے ہی سبرینا نے فوراً دران کی طرف گردن گھمائی ۔

” آپ جویریہ کو ساتھ لے آئے! “

حیرت اور خوف کے ملے جلے تاثر میں پوچھتی وہ آواز کو حد درجہ دھیما رکھے ہوئے تھی ۔ دران نے ایک نظر انل کی طرف دیکھا پھر جویریہ کی طرف اشارہ کیا ۔ انل سر ہلاتا ہوا جویریہ کے پیچھے چل پڑا ۔

” آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ میں نے سب بتا تو دیا تھا آپکو ۔ “

” وہ لوگ یہاں پر کیا کرنے والے ہیں ؟ کچھ اندازہ ہے تمہیں ؟ “

دران نے اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کیا ۔

” نہیں ۔ آگے کا مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے ۔ جتنا پتا تھا وہ سب بتانے کا بھی کیا فائدہ ہوا ۔ آپ جویریہ کو سب جاننے کے باوجود اس خطرے میں لے آئے ۔ “

” پریشان مت ہو ۔ “

دران نے طمانت سے کہا اور پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے گہری سانس خارج کی ۔ سبرینا اس کے اطمینان پر حیرت سے ساری آنکھیں کھول کر آگے ہوئی ۔

” میں پریشان نہ ہوں ۔ سیریسلی! ۔ یو شڈ سیف ہر ۔ “

” وہ میری بیوی ہے ۔ مجھے پتا ہے مجھے کیا کرنا ہے ۔ تم جاؤ یہاں سے برھان تمہیں دیکھ لے گا تو شک ہو گا اسے ۔ “

دران نے نگاہیں اردگرد گھماتے ہوئے دھیمے لہجے میں سمجھایا ۔

” اس سے اچھا تھا میں ڈائریکٹ جویریہ سے بات کرتی ۔ کم از کم وہ خود یہاں نہ آتی ۔ “

سبرینا نے تاسف سے گردن دائیں بائیں گھماتے ہوئے افسوس ظاہر کیا ۔ دران نے یکایک اس کی طرف دیکھا اور پھر دانت پیستا ہوا گویا ہوا ۔

” اسے ابھی کچھ نہیں بتاؤ گی تم سمجھی ۔ وہ بلاوجہ گھبرا جائے گی اور سب کے سب منصوبے پر پانی پھر جائے گا ۔ “

” اوکے نہیں بتاتی لیکن انہیں کچھ نہیں ہونا چاہیے ۔ میں کوشش کرتی ہوں مجھے کچھ پتا چلے پھر میں آپکو میسج کرتی ہوں ۔ “

سبرینا نے فکرمندی سے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا اور پھر دران کی طرف بنا دیکھے قدم دوسری جانب بڑھا دیے ۔

ہاں یہ سفید لباس میں ملبوس آگے بڑھتی لڑکی سبرینا ملک ہی تھی ۔ اس نے جس دن امریکہ کی سرزمین پر قدم رکھا اور درانگ ولاس کے اندر داخل ہوئی تھی تو اس کی سوچ آج کے اس ردعمل سے بالکل برعکس تھی ۔ دران پر کئے ہوئے ہر ظلم , ہر زیاتی کے باوجود وہ دران کو ہی قصور وار اور ظالم قرار دیتی تھی ۔ دران سے نفرت اور اس کی محبت یعنی جویریہ نامی لڑکی سے وہ شدید نفرت کرنے لگی تھی ۔

برھان حق پر لگتا تھا کیونکہ دران کے دل کو اسی تکلیف سے آشانہ کروانا بنتا تھا جس تکلیف سے وہ گزری تھی ۔ وہ برھان کے ساتھ ہی تھی ۔ جویریہ کو دیکھا تو نفرت میں مزید اضافہ ہوا ۔ معمولی نقوش رکھنے والی لڑکی دران کی زندگی میں اس مقام پر تھی جہاں ہونے کے خواب اس نے اس وقت سجائے تھے جب ابھی اسے صیح سے کھلی آنکھوں سے دیکھنے والے خوابوں کا مطلب تک نہیں پتا تھا ۔

یہ سب کچھ اس دن سے پہلے تک من عن ایسا ہی تھا ۔ اس دن جویریہ کی باتوں نے اسے جھنجوڑ کر رکھ دیا ۔ سب کچھ بدل گیا تھا اور پھر وہ چاہ کر بھی اس گناہ کا شریک نہیں رہ سکی اور دران کو برھان اور ہاروی نامی اس پروڈیسر کی ساری حقیقت سے آگاہ کر دیا ۔

دل سے بوجھ ختم ہو گیا تھا لیکن یہ کیا دران تو جویریہ کو خود اس خطرے میں گھسیٹ لایا تھا ۔

پریشان سی نگاہ دور کھڑی جویریہ پر ڈالی جو ملک اسفند کی کسی بات پر ہنس رہی تھی ۔ وہ عام ہو کر بہت خاص تھی ۔ اس سے ملنے کے بعد اس کو جاننے کے بعد کوئی شخص بھی اسے معمولی نہیں کہہ سکتا تھا ۔

اس دن کی ملاقات ذہن کے پردوں پر گھوم گئی ۔

☆☆☆☆

یہ ٹھنڈی سرمئی شام درانگ ولاس کے لان کے حسن کو دوبالا کر رہی تھی ۔ سبرینا نے جیسے ہی لاؤنج کے داخلی دروازے سے آگے قدم رکھے تو قدموں کی رفتار سامنے کے منظر کو دیکھ کر سست ہوئی ۔ اپنے مخصوص انداز میں تنگ ٹی شرٹ اور جینز میں ملبوس وہ دلکشی کا سامان بنی ہوئی تھی ۔

سامنے سوئمنگ پول کے برابر میں لگی سفید کرسیوں میں سے ایک کرسی پر جویریہ ہلکے گلابی رنگ کے فراک میں ملبوس سکارف کو سر پر لیے کتاب پڑھنے میں محو تھی ۔ پرسکون چہرہ اور ہاتھ میں تھامی اسلامی کتاب ہمیشہ کی طرح وہ سبرینا کے تن بدن میں آگ لگا گئ ۔

سبرینا کچھ دیر پہلے ہی سو کر اٹھی تھی اور کافی کا آرڈر دینے کے بعد لان میں آئی تو سامنے بیٹھی جویریہ کو دیکھ کر بدمزہ سا منہ بنایا ۔ برھان کے کہنے پر وہ بمشکل اس کے ساتھ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتی تھی جبکہ اس کو دیکھ کر دل تک جل جاتا تھا۔

آنکھیں چندھی کئے آہستہ آہستہ چلتی وہ جویریہ کے بالکل پاس آ کھڑی ہوئی ۔ وہ انہماک سے مطالعہ میں محو تھی کہ اسے احساس تک نہ ہوا کہ اس کے قریب کھڑی سبرینا اسے نفرت آمیز نگاہوں سے گھور رہی ہے ۔

” کیا کر رہی ہیں آپ ؟ “

سبرینا کے اچانک سوال پر اس نے چونک کر سر اوپر اٹھایا ۔ پھر اس کو دیکھتے ہی مسکرا دی ۔ پر اعتماد مسکراہٹ ۔ سبرینا کے دل میں دھواں بھرنے لگا ۔

” کچھ نہیں ۔ آؤ بیٹھو کھڑی کیوں ہو ۔ “

وہ مسکراتے ہوئے بیٹھنے کا اشارہ کر رہی تھی جبکہ سبرینا اس کے ہاتھ میں پکڑی کتاب کے کور ورق کو دیکھ رہی تھی ۔ پھر اسی طرح اندرونی جلن کو ضبط کرتی اس کے سامنے والی کرسی پر براجمان ہوئی ۔

جویریہ اب کتاب بند کر چکی تھی۔ اسے جویریہ کا نماز اور قرآن پڑھنا سب دران کو متاثر کرنے کا ایک ڈرامہ لگتا تھا ۔ اتنا تو وہ جان گئی تھی کہ وہ پہلے مسلمان نہیں تھی اور اس بات کا یقین تھا کہ اس نے دران سے شادی کی خاطر ہی اسلام قبول کیا ہے ۔

” کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ؟ “

جویریہ کے سوال پر وہ چونک کر خیالات سے باہر آئی ۔ پتا نہیں کیوں لیکن آج خوش اسلوبی کا لبادہ اوڑھنا مشکل ہو رہا تھا ۔ دران کے منہ سے جویریہ کے لیے کل شام نکلی تعریف نے تن بدن میں آگ لگا رکھی تھی ۔

” دران کو تو اسلام میں اتنی دلچسپی نہیں ہے تو آپ کیوں اس کو متاثر کرنے کے اتنے جتن کرتی ہیں ؟ “

بے ساختہ وہ خود کو یہ سب کہنے سے نہ روک سکی ۔ اشارہ جویریہ کی گود میں دھری کتاب کی طرف تھا ۔

” میں سمجھی نہیں کیا کہنا چاہ رہی ہو ؟ “

” اگر میں غلط نہیں ہوں تو آپ پہلے کریسچن تھیں ۔ “

سبرینا نے آبرؤ چڑھائے کہا ۔ جویریہ جو اس کے اکھڑے , روکھے لہجے پر پریشان تھی ۔ اس کے سوال پر ایک لمحے کو خاموش ہوئی اور پھر مسکرا دی ۔

” ہاں میں کریسچن تھی لیکن میں نے اسلام اس وقت قبول کیا تھا جب میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میری شادی دران سے ہو جائے گی اور یہ بات بھی بالکل غلط ہے کہ میں اسلام کے علم کا حصول دران کی خوشنودی کے لیے یا اسے متاثر کرنے کو حاصل کر رہی ہوں ۔ “

وہ اسے پر اعتماد لہجے میں سچائی بتا رہی تھی جبکہ سبرینا دل میں استہزائیہ ہنس رہی تھی۔

” میری جستجو , میری محنت اور اسلام سے محبت سب میرے اللہ کی خوشنودی کے لیے ہے ۔ “

” اوہ اچھا لگا یہ جان کر کہ آپ اتنی اچھی اور سچی مسلم ہیں لیکن کیا آپکو نہیں علم کے دران تو خود کو مسلم کہنے کا روادار نہیں ۔ “

” جانتی ہوں لیکن یہ سب تو ان کی اللہ سے وقتی دوری ہے ۔ مجھے یقین ہے ایک دن ان کے دل پر پڑے سارے بوجھ اور اللہ سے سارے شکوے دور ہو جائیں گے ۔ “

جویریہ نے اطمینان سے اس کے تلخ لہجے میں پوچھے سوال کا جواب دیا تو وہ پہلو بدل کر رہ گئی ۔ سبرینا آج کچھ نہیں بلکہ بہت بدلی ہوئی لگ رہی تھی ۔ ہاں اسے شک تو تھا کہ وہ اس سے محبت کا صرف دکھاوا کرتی ہے لیکن آج اس کا یہ کٹیلا لہجہ اور طنزیہ سوالات سب عجیب تھا ۔

” ایک بات پوچھوں ؟ “

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد سبرینا کی پھیکی مگر نفرت آمیز آواز پھر ابھری ۔ جویریہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکا وہاں سیاہ دھواں اور نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا ۔

” ہوں پوچھو ۔ “

آہستگی سے اجازت دی ۔ سبرینا کی یہ نفرت دیکھ کر دل کو شدید دکھ ہوا ۔

” میری بات کو غلط مت سمجھیے گا ۔ آپ کو کبھی یہ ڈر نہیں ہوا کہ آپ عام سی ہیں اور اگر دران کی زندگی میں کوئی آپ سے خوبصورت آ جائے تو وہ آپ کو چھوڑ دیں گے ۔ “

وہ سوال نہیں کر رہی تھی ۔ طمانچہ مار رہی تھی ۔ وہ بظاہر چہرے کے تاثرات بہت حد تک متوازن رکھے ہوئے تھی لیکن اس کی آنکھوں میں سے نکلتے نفرت کے انگارے جویریہ سے مخفی نہیں تھے ۔

” نہیں کبھی نہیں لگا ۔ “

سب جان لینے کے باوجود مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔ اوہ تو سبرینا تم آج بھی دران کو بھول نہیں سکی ۔ روبی کی زبانی وہ یہ تو جان چکی تھی کہ دران نے سبرینا کو ٹھکرا دیا تھا لیکن یہ آج پتا چلا تھا کہ وہ دران سے اب بھی محبت کرتی ہے یا پھر بدلہ لے رہی ہے ۔

” اتنا اعتماد ۔ اتنا اعتماد تو مجھے بھی نہیں ہے ۔ “

استہزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ اس نے اگلا تیر برسایا ۔ جویریہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔

” تمہیں اس لیے نہیں ہے کیونکہ شاید تمہیں یہ لگتا ہے برھان تمھارے حسن سے محبت کرتا ہے ۔ تمھاری صورت سے محبت کرتا ہے ۔ “

” مطلب ؟ “

جویریہ کے اس جواب پر وہ اپنی پیشانی پر امڈ آنے والے بل مخفی نہ رکھ سکی ۔

” مطلب یہ کہ مجھے اس بات پر یقین ہے کہ دران کو میری صورت سے محبت نہیں ہے ۔ وہ جب میری آنکھوں میں جھانکتا ہے اس کی نگاہوں میں بننے والا عکس میرے چہرے کا نہیں میری روح کا ہوتا ہے ۔ “

” ایک عام صورت ہو کر بھی آپ دران کی محبت کو لے کر کتنی پر اعتماد ہیں ۔ مجھے یقین نہیں آ رہا اس بات پر ۔ “

وہ طنز کے تیر برسانے پر اب ہر حد پار کر رہی تھی ۔ شاید اسے جویریہ کا مثال دینا اچھا نہیں لگا تھا ۔

” میرے خیال میں تو یہ اعتماد ہر مسلمان کو ہونا چاہیے ۔ پہلی بات تو یہ کہ میں ہر گز بھی خود کو کسی لحاظ سے عام صورت اور کم صورت نہیں سمجھتی ۔ الحمد اللہ میرے اللہ نے مجھے ایک مکمل صورت عطا کی ہے جس میں کوئی کمی نہیں ہے ۔ مجھے آنکھوں سے دکھائی دیتا ہے ۔ کانوں سے سنائی دیتا ہے اور زبان سے بول سکتی ہوں میرے خیال میں ان سب کا شکر ادا کرنے کے لیے یہ زندگی کم ہے ۔ ہاں ایک وقت تھا جب یہ شکوہ کبھی میری زبان پر آتا تھا لیکن اب نہیں کیونکہ میں جان گئی ہوں صورت کا حسین ہونا اور کم ہونا میرے اللہ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔ “

سبرینا کے چہرے کے بدلتے رنگ اس کے اعتماد کو اور بڑھا رہے تھے۔

” اگر اللہ نے خوشیاں , قسمت اور محبتیں حسن کی بیناد پر بانٹی ہوتی تو آج ہر خوبصورت چہرہ دکھ سے نہ آشانہ اور ہر عام نقوش والا چہرہ دکھ, تکلیف میں مبتلا ہوتا لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ میرے اللہ کے نزدیک بہتر وہ ہے جس کے تقوی کا معیار اونچا ہے ۔ وہ نہیں جس کی صورت حسین ہے ۔ “

اب طمانچے وہ مار رہی تھی ۔ وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی ۔ وہ مکمل حسن رکھنے کے باوجود دران کی محبت کو ترستی ہی رہ گئی تھی جبکہ سامنے بیٹھی یہ لڑکی نہ صرف اس کی بیوی تھی بلکہ اس کے دل کی ملکہ تھی ۔ جویریہ ٹھہرے لہجے میں بولتی جا رہی تھی اور سبرینا کی زبان تالوے سے جا لگی تھی۔

” اس چہرے کے گوشت پوست کے نیچے جو ڈھانچہ ہے وہ تو سب کا ایک جیسا ہے ۔ لیکن اہمیت نہ تو اس گوشت کی ہے جو ہڈیوں پر چڑھا ہے اور نہ ہڈیوں کے اس ڈھانچے کی ہے جو اس گوشت کے نیچے ہے ۔ اہم ہے تو اس ڈھانچے کو اور گوشت کو زندہ لوگوں میں شمار کرنے والی روح کی ہے ۔ “

وہ بول رہی تھی اور اس کا لفظ لفظ سچ تھا ۔

” اللہ سے جا ملنے والی اور دائم تو صرف روح ہے اور جس نے اپنے محبوب کی روح سے محبت کی تو جان لو اس کی محبت دائمی ہے ۔ کیونکہ صورت بدل جاتی ہے اور بدن بوڑھا اور لاغر ہو جاتا ہے مگر روح کی کوئی عمر نہیں ہوتی وہ ہر دم جوان رہتی ہے ۔ “

وہ مسکراتی اس پر منوں مٹی ڈال رہی تھی ۔

” اب آتی ہوں تمھارے اس سوال کی طرف کہ مجھے کسی خوبصورت چہرے سے دران کو چھین لینے کا ڈر کیوں نہیں لگتا ۔ “

مسکراہٹ مزید گہری کی اور چہرے پر گلال رنگ پھیل گیا ۔

” میرا ایمان ہے کہ یہ زندگی عارضی ہے اور یہاں موجود ہر احساس ہر چیز عارضی ہے مسوائے نکاح کے پاک بندھن میں بندھی روحوں کے ۔ اسی لیے میری اللہ سے بس یہی دعا ہے کہ مرتے وقت میں ایمان کی حالت میں اور دران کے نکاح میں ہوں ۔ اس دنیا میں دران کا ساتھ جیسا بھی ہو برداشت کر لوں گی صرف اس کی دائمی محبت اور ساتھ پانے کے لئے۔ مطلب جنت میں اس کے تخت کی ملکہ بننے کے لیے ۔ “

وہ بہت خوش تھی ۔ پرسکون , سر شار , پر یقین ۔ یہ وہ لمحہ تھا جب سبرینا کو لگا وہ بہت بہت بدصورت ہے اور سامنے بیٹھی لڑکی واقعی ہی اس دنیا کی حسین ترین لڑکی ہے ۔ دران کو اس سے سچی محبت ہے اور یہ محبت کوئی معمولی محبت نہیں اگر اس لڑکی کو کچھ بھی ہوا تو وہ آرام سے نہیں بیٹھے گا وہ پاتال کی گہرائی تک جائے گا ۔ کچھ تھا جو سانس میں اٹکنے لگا ۔ دران کی نظروں میں ایک دفعہ پھر بے وقعت ہو جانے کا خوف ۔ سامنے بیٹھی اس پاکیزہ لڑکی کو ان درندوں کے حوالے کر دینے کہ گناہ کا خوف ۔

وہ ایک جھٹکے کے ساتھ اپنی کرسی پر سے اٹھی ۔ جویریہ نے چونک کر چہرہ اوپر اٹھایا ۔ وہ شاید اسے کچھ زیادہ ہی کھری کھری سنا گئی فوراً اسے سبرینا کے دل کو دکھانے کا احساس ہوا ۔

” کیا ہوا ؟ میری کوئی بات بری لگی ہے کیا ؟ “

” نہیں تو جو برا لگا ہے وہ آپ کی باتیں نہیں ہیں۔ “

سرعت سے جواب دے کر وہ پلٹی اور پھر وہاں رکی نہیں تھی لمبے لمبے ڈگ بھرتی لاؤنج کے دروازے سے اندر غائب ہو گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *