Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 34)
Rate this Novel
Basil (Episode 34)
Basil by Huma Waqas
تحیر سی سیاہ پتلیوں والی آنکھیں کھولے وہ دران کے چہرے پر چھائی اداسی کو دیکھ رہی تھی۔ دران کے وجہیہ چہرے کا عکس سکڑتی پتلیوں میں بدل کر ایک یاد کو واضح کر رہا تھا ۔
یہ وہی اداسی تھی جو آج سے سات سال پہلے اس نے چھت پر اس کے چہرے پر دیکھی تھی ۔ وہ جو اس کے لیے ایک تکمیل تھا ۔ اس کے سامنے بیٹھا یہ کہہ رہا تھا کہ وہ اس کے قابل نہیں ہے ۔
” یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ میرے قابل نہ ہوں ۔ میری نظر سے کبھی خود کو دیکھیں تو آپ کو خود سے عشق ہو جائے ۔ “
وہ پل بھر کو منجمند ہوئی لیکن اگلے ہی لمحے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پرعزم لہجے میں جواب دیا ۔ دران نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا ۔ محبت کی دعوی دار بہت دیکھیں تھیں لیکن دل آج اس کے اظہار پر اتنی خوشی کیوں محسوس کر رہا تھا ۔ آہ ۔۔۔۔ لیکن وہ انجان تھی ہر بات سے , ایسی ہر بات سے جس میں وہ خود سے بھی نگاہ ملاتے خوف کھاتا تھا ۔
” اور میری نظر سے اگر مجھے دیکھو گی تو مجھ سے دور ہو جاؤ گی ۔ مجھے چھوڑ دو گی ۔ اپنے فیصلے پر پچھتانے لگو گی ۔ “
دران کی آواز کا ٹھہراؤ اب کرب میں تبدیل ہو ا ۔ جہاں دل جویریہ کے اقرار پر جھوم رہا تھا وہاں ذہن آنے والے وقت سے ڈر کر انگنت وسوسے اٹھا رہا تھا ۔
” ایسا کبھی ہو نہیں سکتا کہ میں خود سے آپ کو چھوڑ جاؤں لیکن اگر آپ یہ رشتہ ختم کر دیں گے تو شاید الگ ہو جاؤں گی پر دل سے محبت ختم نہیں ہو گی ۔”
وہ سر جھکائے زکام زدہ لہجے میں اپنے دل کی ہر بات آج اسے بتا رہی تھی ۔ وہ کتنی بہادر تھی ہر بات کہہ رہی تھی ۔ وہ نہیں تھا بہادر ۔ وہ بظاہر آہن کی طرح مضبوط نظر آنے والا مگر ایک بزدل شخص تھا۔
” میری حقیقت میں ایسی کڑواہٹ ہے کہ تم اسے برداشت نہیں کر سکو گی ۔ “
الم میں کہتا وہ نگاہیں بے اختیار اس کی اٹھتی نگاہوں سے چرا گیا ۔
” میں نے کب کہا کہ مجھے آپ کو برداشت کرنا ہے ۔ مجھے تو آپ کے ساتھ رہنا ہے بس ۔ “
” جانتی ہو میرا غصہ کیسا ہے ؟ “
دران نے لب بھینچے پھر سے آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا ۔ وہ کیا اسے اپنے ساتھ سے ڈرا رہا تھا ۔ آخر کو وہ چاہتا کیا تھا ۔ الجھن بڑھنے لگی ۔
” جانتی ہوں ۔ “
وثوق سے جواب دیا ۔ نگاہیں پھیریں اور سپاٹ لہجے میں گویا ہوئی ۔
” دیکھیں میں نے آپ کو اپنی کمزوری سے اس لیے آگاہ نہیں کیا کہ آپ میرے حوصلے پست کریں ۔ مجھے آپ کا غصے آپ کی کڑواہٹ سب برداشت ہے ۔ میں نے کب کہا کہ جیسی محبت میں آپ سے کرتی ہوں ۔ مجھے آپ سے بھی ویسی ہی محبت اور توجہ کی طلب ہے ۔ “
اس کے لہجے میں ایکدم سختی عود آئی ۔
” آپ کیوں مجھے یہ بتا رہے ہیں کہ آپ میرے قابل نہیں ہیں ۔ میں نے کب آپ سے پوچھا ؟ میں تو بس بھیک مانگ رہی ہوں آپ سے۔ آپ کے ساتھ کی ۔ آپ کے نام کی اور کچھ بھی نہیں چاہیے ۔ “
جویریہ پیشانی پر شکن ڈالے کانپتی آواز میں کہہ رہی تھی ۔ وہ جو ذہن میں اٹھتے وسوسوں کی وجہ سے دل کے جذبات کو دبا رہا تھا اس کی کانپتی آواز پر بے اختیار گویا ہوا ۔
” لیکن میں تمہیں اس ساتھ اور نام کے علاوہ اور بہت کچھ دینا چاہتا ہوں ۔ “
گھمبیر آواز پر جویریہ نے چونک کے سر اوپر اٹھایا ۔ وہ پہلے والی سنجیدگی بھلائے اب گہری محبت پاش نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔
” پوچھو اب اپنا سوال کہ باہر میں نے تمہیں گلے کیوں لگایا تھا ؟ “
آہستگی سے سوال پوچھنے کا حکم دیتا وہ اس کی رہی سہی ہمت کو ختم کر رہا تھا جو اس کی معنی خیز نگاہوں سے کم ہو رہی تھی ۔ وہ گنگ اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
سکارف کی گرفت گلے پر ڈھیلی ہو چکی تھی بالوں کی آوارہ سی لٹ اب گال چھو رہی تھی ۔ دران کی نگاہوں میں امڈتا محبت کا سمندر ایک سحر میں جکڑ رہا تھا ۔
” پوچھو بھی ۔ “
دران نے اس کی گال پر جھولتی لٹ کو انگلی کی پور سے چھو کر آہستگی سے سرگوشی کی تو وہ کسی روبوٹ کی مانند سرعت سے گویا ہوئی ۔
” آپ نے مجھے گلے کیوں لگایا تھا ؟ “
” تکلیف ہوئی تھی ۔ “
برجستہ جواب دیا ۔ نگاہیں جویریہ کے چہرے کا نرماہٹ سے طواف کر رہی تھیں ۔ وہ پلکیں اٹھائے بت کی مانند بیٹھی تھی ۔ یہ لمحہ اتنا دلفریب تھا کہ دل دماغ کے ہر خوف کو بھول کر بس ان جذبات کی رو میں بہنے لگا ۔
” کس بات کی تکلیف ؟ “
پھیکی سی آواز میں بمشکل سوال کرتی وہ پلکیں لرزاتی اب اس کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر رہی تھی ۔ ان انوکھے احساسات میں عجیب لذت تھی ۔
” تمھاری آنکھ سے بہتے آنسو نے مجھے تکلیف دی ۔ “
ہاتھ بڑھا کر آہستگی سے اس کی لرزتی پلکوں کو انگوٹھے کی پور سے چھوا ۔ جویریہ کا گلال ہوتا چہرہ , لرزتی پلکیں اور گھبرائی سے کیفیت ۔ آج سے پہلے اسے کبھی اس روپ میں نہیں دیکھا تھا ۔
” کیوں ؟ “
گھٹی سی آواز میں وہ بمشکل اس سے تکلیف ہونے کا سبب پوچھ رہی تھی ۔
” انل نے کہا مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے ۔ “
مبہم سی مسکراہٹ نے دران کے لبوں کا گھیراؤ کیا ۔
” جھوٹ ۔ “
مجسم میں سے فوراً لرزتی آواز آئی ۔
” میں جھوٹ صرف ادکاری کرتے ہوئے بولتا ہوں اور یہاں اس وقت کوئی کیمرہ نہیں ۔ “
ہلکی سی شرارت سے کمرے کی تنہائی پر نگاہ دوڑائی ۔
” انل کو لگا یہ محبت ہے اور آپ مان گئے ۔ کیا پتا آپ کو صرف ترس آ رہا ہو مجھ پر ۔ “
بے یقین لہجہ ۔
” ترس تو میں خود پر بھی کبھی نہیں کھاتا اور ترس تو کمزور پر کھایا جاتا ہے تم کمزور تو نہیں ہو ۔ “
” مگر اب تو ہوں ۔ “
اداس لہجے میں جواب دے کر سر مزید جھکا لیا۔ گلال چہرے پر چھائی اداسی دران کے دل پر بوجھ بڑھانے لگی۔
” دیکھو نہ تم کتنی بہادر ہو آرام سے اظہار کر گئی اور مجھے تو یہ تک نہیں پتا محبت کا اظہار کیسے کیا جاتا ہے ؟ اس سے پہلے کبھی کسی سے کی ہی نہیں ۔ “
سچے جذبات میں ڈوبا لہجہ تھا۔ معصومیت کی انتہا تھی ۔
” فکر نہ کریں ہو جائے گی اور جب ہو گی تو اظہار خود بخود ہو جائے گا ۔ “
اداس سے لہجے میں سر جھکائے دران کی محبت پر مکمل بے یقینی کی مہر لگائی ۔ دران نے ایکدم سے اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے چہرہ اوپر اٹھایا ۔
” ہو تو گئی ہے اور کیسے ہوگی ۔ “
اب کی بار لہجے میں کسی قسم کی کوئی بھی ہچکچاہٹ نہیں تھی ۔ آخر کار دل جیت گیا ۔ جذبات کے ابھرتے سمندر نے ذہن کے وسوسوں کو سمندر کی تہوں میں دھکیل دیا ۔
” نہیں یہ محبت نہیں ہے ۔ “
دران کی ہاتھ پر دھرے چہرے پر نگاہیں اٹھانے کی ہمت نہیں تھی اور محترمہ اب بھی محبت پر یقین سے انکاری تھیں ۔ وہ آہستگی سے مسکرایا ۔ پھر اس کے چہرے کو یونہی تھامے جذب میں کہا ۔
“یقین نہیں کیا ؟ “
” نہیں ۔ “
مجسم فوراً بول اٹھا ۔
” مجھے تو دلانا بھی نہیں آئے گا ۔ “
” تو مت دلائیں ۔ “
” کیوں نہ دلاؤں ۔ “
بے ساختہ مسکراہٹ دبائی ۔
” کیونکہ مجھے نہیں آئے گا یقین ۔ مجھ پر یہ احسان بہت ہے کہ آپ مجھے نہیں چھوڑیں گے ۔ اپنی ربردستی کی محبت کا قرض دار مت کریں ۔ “
سپاٹ لہجے میں جواب دے کر آہستگی سے دران کا ٹھوڑی کو تھاما ہاتھ ہٹایا۔ نہ جانے کیوں مگر دل واقعی یقین نہیں کر رہا تھا ۔
” میں محبت کر کے تم پر کوئی احسان تو نہیں کر رہا اور محبت زبردستی بھی ہو سکتی ہے آج پتہ چلا ۔ “
مصنوعی حیرت ظاہر کی ۔ جویریہ کا یہ خفا سا لہجہ اچھا لگ رہا تھا ۔
” لیکن مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے کہ آپ زبردستی میری محبت پر محبت جتا رہے ہیں ۔ آپ کیسے مجھ جیسی معمولی لڑکی سے محبت کر سکتے ہیں!”
وہ اب بھی خود کو معمولی سمجھ کر محبت سے انکاری تھی ۔ اب اسے کیسے سمجھائے کہ وہ اسے ایک پل کے لیے معمولی نہیں لگی وہی تو خاص ہے ۔ پوری دنیا میں ایک واحد وہی تو ہے جس کی سوچ کو وہ نہیں پرکھ سکا ۔
” میرے اختیار میں ہوتا تو محبت کبھی نہ کرتا ۔ صرف اس لیے نہیں کہ تم معمولی ہو بلکہ اس لیے کہ میں کمزور نہیں ہونا چاہتا تھا مگر یہ سب اب میرے اختیار میں نہیں رہا ۔ تم اگر مجھ سے میرے ساتھ کی بھیک مانگ رہی ہو تو یقین کرو میں خود تمہیں خود سے الگ کرنے کی ہمت نہیں جتا پا رہا تھا ۔ “
پرعزم مگر سنیجیدہ لہجے میں جواب دیا ۔ وہ سر مزید جھکا گئی ۔ یہ یقیناً کوئی خواب تھا ۔ وہ اس کے سامنے بیٹھا اس سے بے پناہ محبت کا دم بھر رہا تھا ۔
اف دل یقین کرتا بھی کیسے ؟ وہ دران تھا ۔ دران ملک جس کے ہر ہر نقش سے لے کر ہر ہر ادا نرالی تھی ۔ وہ ہیرا تھا تو وہ چاندی بھی نہیں تھی ۔
” اب یقین آیا ؟ “
دران نے چہرہ جھکا کر سوال کیا ۔ وہ آہستگی سے سر نفی میں ہلا گئی ۔ دران نے گہری سانس اندر انڈیلی
” کیسے آئے گا پھر ؟ “
” پتا نہیں ۔ “
گھٹی سی آواز میں جواب دیا ۔
” ہاتھ پکڑ لوں اجازت ہے کیا ؟ “
کتنی اپنایت اور احترام تھا اس کے لہجے میں وہ کچھ دن پہلے والا وہ بدتمیز دران تو ہر گز نہیں تھا ۔ جویریہ نے آہستگی سے سر اثبات میں ہلایا ۔
” مجھے کچھ وقت چاہیے تمھارا یقین جیتنے کے لیے ۔ کیا دو گی وقت ؟ “
دران نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو اس کی انگلیوں میں الجھا کر پوچھا ۔ وہ اب نگاہیں دران کے ہاتھوں پر جمائے ہوئے تھی ۔ دل ایک سو اسی کی رفتار سے دوڑ رہا تھا ۔ گال دھکنے لگے ۔ لجاجت سے سر ہلایا
” ہاں ۔ “
” تھنکیو۔ “
دران نے ہاتھ پر ہلکا سا دباؤ بڑھا کر شکریہ ایسے ادا کیا جیسے اس نے وقت دے کر بہت بڑا احسان کیا ہوا ۔
” مجھے فجر کی نماز پڑھنی ہے ۔ “
آہستگی سے دران کے ہاتھ کی گرفت سے اپنے ہاتھ کو پیچھے کھینچتی وہ اب بھی بے یقینی کی کیفیت میں تھی ۔
” او ہاں شئیور ۔ “
دران نے خجل ہوتے ہوئے اس کے ہاتھ کو چھوڑا ۔ وہ لجاجت سے سکارف کو درست کرتی اپنی جگہ سے اٹھ رہی تھی ۔ گال اب بھی گلال ہو رہے تھے ۔
دل ایک انوکھی لے میں دھڑک رہا تھا ۔ وہ حیرت سے پیچھے ہوتا اسے دیکھ رہا تھا جو اب نماز کی نیت کے بعد ہاتھ باندھ رہی تھی ۔
نہیں میں اسے کبھی نہیں بتاؤں گا کہ میں کیا ہوں ۔ مجھے اسے نہیں کھونا ہے ۔ اب اسے ہر گز نہیں کھونا ہے ۔ آہستگی سے پلٹ کر رخ واش روم کی طرف بڑھ گیا ۔
☆☆☆☆☆
بوجھل سی ڈوبتی شام , کراچی کے سمندر کی تھکی سی ساحل سے ٹکراتی لہریں ایک اور دن کو الوداع کہنے کو تیار تھیں ۔ ملک ہاؤس کے لاؤنج میں سفید بلب جل رہا تھا اور اس وقت گھر کا ہر بڑا وہاں موجود تھا ۔
وہ واپس آیا تھا ۔ پورے دو سال بعد لاہور سے واپس وہ سیدھا ملک ہاؤس آیا تھا لیکن یہاں ان کو محبتیں لٹانے یا ان کی اخبار کے چھوٹے سے کالم میں لکھی ہوئی محبتوں کا جواب دینے نہیں بلکہ ایک دھچکا دینے ۔
سیاہ پینٹ کوٹ میں ملبوس , نکھرا پر اعتماد چہرہ لیے وہ سب کے بیچ بیٹھا اپنی بات کہہ گیا تھا۔
اس نے آتے ہی نوین ملک کی تمام جائیداد بیچنے کا فیصلہ سنا کر سب کو بھونچکا دیا۔ وہ سب تو اس سے دو سال پہلے کے گلے شکوے کر کے اسے شرمندہ کرنے کے موڈ میں تھے لیکن یہاں تو وہ کایا پلٹ کیے بیٹھا تھا۔
وہ دو سال پہلے ملک ہاؤس چھوڑ جانے والا دران ملک ہر گز نہیں تھا ۔ وہ مضطرب سا دران اب ایک پر اعتماد مگر بدتمیز دران میں تبدیل ہو چکا تھا ۔ آج نہ تو وہ جھجک رہا تھا ۔ نہ صفائیاں دے رہا تھا اور نہ کسی کا لحاظ کر رہا تھا ۔
” چلو ۔۔۔۔ دو سال بعد آیا بھی تو کس لیے ایک نیا دکھ دینے ۔ ایک اور تکلیف دینے ۔ “
دستگیر بیگم کی بوڑھی لغزش زدہ آواز پر دران نے ضبط سے لب بھینچے مگر ان کی طرف دیکھا نہیں ۔
” اس سنپولے کو پال پوس کر بڑا کیا تھا ۔ آج جڑیں کاٹنے آن پہنچا ہماری ۔ ارے تجھ پر اتنا پیسہ لگایا پالا پوسا تو کیا یہ سب سننے کو ۔”
” اماں آپ چپ رہیں مت بولیں اتنا طبیعت پہلے ٹھیک نہیں ہے ۔ “
اسفند ملک نے پیشانی پر شکن ڈالے دستگیر بیگم کو چپ رہنے کے لیے کہا اور پھر گہری سانس خارج کرتا ہوا دران کی طرف متوجہ ہوا ۔
” دران تم یہ جو بھی کر رہے ہو سراسر غلط ہے ۔ یوں ساری جائیداد اونے پونے بیچ دینا یہ کہاں کی عقل مندی ہے ۔ اتنی آسانی سے تھوڑی بنتا ہے سب کچھ ۔ نوین بھائی نے اپنی عمر لگائی ہے یہ سب بنانے میں ۔ “
اسفند ملک نے حد درجہ تحمل میں اپنی بات سمجھائی ۔
” میں پاکستان ہمیشہ کے لیے چھوڑ رہا ہوں تو یہاں جائیداد رکھ کر کیا کروں گا ۔ “
” تم امریکہ جا کر کرو گے کیا ؟ “
” اپنی ماں کو تلاش ۔ “
سر اوپر اٹھائے پر اعتماد , پر عزم لہجے میں جواب دیا ۔ ایکدم سے پورے کمرے خاموشی چھائی ۔
” تمہیں اس ماں کی فکر ہے جو اپنی عیاشیوں کے لیے تمہیں یہاں پاکستان چھوڑ گئی تھی ۔ ہماری کوئی فکر نہیں ہم نے کیسے تمہیں پالا , پڑھایا لکھایا ۔ “
روبی نے چیخ کر خاموشی کو توڑا ۔ چیختی بھی کیوں نہ ایک دم سے اتنا کچھ ہاتھ سے جا رہا تھا ۔
” نہیں کوئی فکر نہیں ۔ “
برجستہ روبی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا اور پھر جبڑے سختی سے بھینچ کر کمرے میں موجود تمام نفوس پر نگاہ دوڑائی ۔
” آپ سب نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا۔ جو بھی کیا آج اسی دن کے لیے کیا ۔ میں کچھ بھی نہیں بھولا ۔ “
” احسان فراموش ہو تم ۔تمہیں تو یاور کی روح تک کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ “
سونیا نے غصے سے کانپتے ہوئے گفتگو میں اپنا حصہ ڈالا ۔
” میں یہاں آپ لوگوں کی جذباتی باتیں سننے نہیں آیا ہوں۔ مجھے میری دوکانوں کے کاغذات چاہیے بس۔ میں کسی کو بھی عدالتوں میں نہیں گھسیٹنا چاہتا ۔ “
دران نے دو ٹوک لہجے میں کہا تو عدالتوں کے لفظ پر سب کی آنکھیں پھٹ کر باہر آ چکی تھیں ۔
” شرم تو نہیں آتی تمہیں ۔ اسفند بتائیں اسے اس کی اصل حقیقت ۔ “
روبی نے غصے سے بپھرتے ہوئے اسفند ملک سے کہا جس پر وہ اچھل کر کھڑے ہوئے اور گھور کر روبی کی طرف دیکھا جو دران کی اس بدتمیزی پر آگ بگولہ ہو رہی تھی ۔
” میں کہہ رہی ہوں بتائیں اس بدتمیز کو حقیقت کہ یہ نوین بھائی کا بیٹا نہیں ہے ۔ “
” روبی چپ کر کے بیٹھو میں بات کر رہا ہوں نہ ۔ “
اسفند ملک نے چیخ کر اسے چپ کروانے کی ناکام سعی کی ۔
” آپ کیا بات کریں گے اس سے میں کر رہی ہوں نہ ۔ سنو دران تمہارا نوین بھائی کی جائیداد پر کوئی حق نہیں کیونکہ تم ان کے بیٹے نہیں ہو ۔ “
روبی تنک کر دران کے سر پر آ کھڑی ہوئی جو بڑے پرسکون انداز میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے صوفے پر ایسے بیٹھا تھا جیسے یہ ساری حقیقت وہ پہلے سے جانتا ہو ۔
” تم نوین بھائی کی بیوی کے بیٹے ہو لیکن اپنی ماں کے ناجائز تعلقات کی وجہ سے وجود میں آئے ایک گند ہو جسے ہم نے نام دیا ۔ سہارا دیا پالا پوسا ۔ نہیں تو آج تم پاکستان یا امریکہ کے کسی یتیم خانے میں ہوتے ۔ “
روبی اس کے سر پر کھڑی زہر اگل رہی تھی ۔
” دیکھا میں نہ کہتی تھی شروع سے یہ ہمارا خون ہو ہی نہیں سکتا یہ تو کوئی گند ہے ۔ “
درستگیر بیگم کی پھیکی سی کانپتی آواز برآمد ہوئی۔
” دران یہ سب بکواس کر رہی ہے اس کی باتوں کی طرف توجہ مت دینا ہر گز ۔ “
” نہیں دے رہا توجہ ۔ “
بڑے آرام سے کہا اور پرسکون انداز میں ٹانگ پر جمائی ٹانگ اتاری ۔
” تو نکلو پھر یہاں سے کوئی کاغذات نہیں ملیں گے جب تم ہمارے خاندان کا خون ہی نہیں ہو تو ۔ “
روبی نے پھنکار کر کہا ۔ دران ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھا ۔ ہاتھ سے کوٹ کی آستئین کے شکن درست کیے اور پھر سر اوپر اٹھایا ۔
” نکل تو میں رہا ہوں ۔ لیکن جائیداد اب میں نہیں چھوڑوں گا ۔ “
مصنوعی استہزائیہ مسکراہٹ چہرے پر سجائی ۔
” آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے کہ میں نوین بھائی کا بیٹا نہیں ہوں ؟ “
بھنویں اٹھائے بڑے آرام سے پوچھا ۔ سب ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہے تھے۔
” نہیں ہے نہ ۔ “
کندھے اچکائے اور پھر اسفند ملک اور اپنے درمیان کا فاصلہ ختم کیا ۔
” مسٹر اسفند ملک ۔ مجھے نوین ملک کی تمام جائیداد کے کاغذات چاہیے اگر آپ شرافت سے نہیں دیں گے تو میں عدالتی کاروائی کروں گا ۔ “
سپاٹ مگر رعب دار لہجے میں دھمکی دی ۔
” میں جا رہا ہوں ۔ اب پرسوں کاغذات لینے ہی آؤں گا ۔ “
وثوق سے کہا اور سب کو حیرت میں گھورتے چھوڑ کر لاؤنج سے باہر نکل آیا ۔
کوئی اسے بالکنی سے دیکھ رہا تھا جانتا تھا وہ سبرینا ہے لیکن اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں تھا ۔ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ ملک ہاؤس کا گیٹ پھر سے پار کر گیا ۔
☆☆☆☆☆
” یہ تو بہت اچھی خبر سنائی کہ اس لڑکی تمھاری بیوی سے بہت اچھی دوستی ہو گئی ہے ۔ مزید گھیرا تنگ کرو “
بروس فون کے دوسری طرف سے چہک رہا تھا ۔ فون کان کو لگائے برھان نے مسکراہٹ کو گہرا کیا ۔ وہ اسے سبرینا اور جویریہ کی بڑھتی ہوئی نزدیکی کے بارے میں آگاہ کر رہا تھا۔
سٹیون کی فلم کی شوٹنگ شروع یو چکی تھی جہاں وہ اس وقت اپنی وین میں بیٹھا تھا ۔ ایک عجیب سا نشہ تھا جس میں اب وہ دران کو بہت نیچے لے جانا چاہتا تھا اور خود اس کی طرح اونچائی پر جانا چاہتا تھا ۔
” اب اسے کسی طریقے سے گھر سے باہر لانے کی کوشش کرو ۔ “
بروس کی اگلی بات پر اس کے لبوں کی مسکراہٹ ایکدم سے غائب ہوئی ۔
” یہ بہت مشکل کام ہے ۔ “
پیشانی پر بل ڈالے کہا ۔ دوسری طرف بروس کے پوچھنے سے پہلے ہی وضاحت دی ۔
” وہ درانگ سے بھی عجیب ہے ۔ مطلب اس کی کوئی عام لڑکیوں جیسی خواہشات ہی نہیں ۔ باہر نہیں جاتی , شاپنگ نہیں کرتی ۔ بہت الگ لڑکی ہے ۔ “
” یہ تو مسئلہ ہے پھر ۔ اس کے باہر نکلنے کا انتظار ہے پھر کام آسان ہو جائے گا ۔ “
بروس نے اپنی بات پر زور دیا ۔
” اپنی بیوی سے کہو وہ دران کا اعتماد بھی جیتنے کی کوشش کرے اور پھر کسی طریقے سے ۔ بس کسی طرح اسے درانگ ولاس سے باہر لے آئے ۔ “
” ہوں ۔۔۔”
برھان نے ٹھوڑی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پرسوچ ہنکارا بھرا ۔ ذہن تیزی سے دوڑ رہا تھا ۔
☆☆☆☆☆
انل کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا ۔ گاڑی کو ایکدم سے بریک لگائی اور سڑک کے کنارے پر روک دیا ۔ ٹائر ایک دم سے چرچرا اٹھے ۔ وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا اور دران اس کے برابر کی نشست پر براجمان تھا ۔
” تم نے۔۔۔۔ محبت کا اظہار کیا ؟ “
حیرت میں ڈوبا بے یقین لہجے میں وہ منہ کھولے دران سے پوچھ رہا تھا جو بڑے آرام سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
آج وہ دوپہر کو تین بجے اٹھا تھا ۔ جویریہ کمرے میں نہیں تھی وہ شاید سبرینا کے کمرے میں تھی ۔
اسے آج کسی نئی فلم کے سکرپٹ کے لیے میٹنگ پر جانا تھا جہاں سے واپسی پر اس نے اپنی طرف سے بڑے پرسکون لہجے میں انل کو اپنے اور جویریہ کے اظہار کے بارے میں بتایا لیکن اس کی حیرت پر اب وہ پریشان تھا ۔
” ہاں خود ہی تو کہا تھا ۔ تو کر دیا اظہار اب اس میں اتنا حیران کیوں ہو رہے ہو ؟ “
آبرؤ اچکائے۔ سیاہ لیدر جیکٹ پر سیاہ چشمہ آنکھوں پر ٹکائے وہ یعنی کے دران ۔ اسے یہ بتا رہا تھا کہ اس نے رات جویریہ سے محبت کا اظہار کر دیا اور وہ حیران بھی نہ ہوتا ۔
” مطلب تم نے واقعی اس سے محبت کا اظہار کیا اور اس نے بھی کیا ؟”
پھر سے سوال دہرایا ایسے جیسے یقین نہ ہو ۔ دران نے گہری سانس خارج کی اور سر ہوا میں تاسف سے مارتے ہوئے ڈیش بورڈ پر رکھا سگریٹ کیس اٹھایا ۔
” رات اسے میرے اظہار پر یقین نہیں آیا اور اب تمہیں میری بات پر یقین نہیں ۔ “
دران نے لبوں میں سگریٹ دبائے سنجیدگی سے جواب دیا ۔
” کیا مطلب ؟ “
دران نے اس کے سوال پر سگریٹ کو شعلہ دیتے ہوئے آنکھیں اٹھائیں ۔ پھر لائٹر بند کیے سامنے دیکھا ۔
” مطلب یہ کہ محترمہ کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ میں اس سے محبت کر سکتا ہوں ۔ “
” کیوں ؟ تم نے کیا کہا تھا اسے ؟ “
” میں نے کہا انل کو لگتا ہے مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے ۔ “
انل نے تجسس میں کھلا منہ بدمزگی سے بند کیا اس سے اس طرح کے اظہار کی ہی توقع تھی ۔
” یہ کہا تم نے ؟ اتنے بکواس طریقے سے اظہار کرتا ہے کوئی ؟ کہ بھئی میرے دوست کو لگا مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے ۔ “
” نہیں نہیں اس کے بعد اور بھی بہت کچھ کہا لیکن نہیں مانی ۔ “
انل نے حیرت سے سوالیہ دیکھا ۔ چہرے کے تاثرات اب بھی بدمزگی والے تھے ۔
” ہاں وہ خود کو میرے قابل نہیں سمجھتی اس کو لگتا ہے کہ میں بہت بڑا فلمسٹار ہوں اور وہ ایک عام سی لڑکی جس پر شاید میں ترس کھا رہا ہوں ۔ “
” اوہ ۔۔۔ پھر اب کیسے یقین دلانا ہے اسے ۔ “
اب کی بار چہرے کے تاثرات بہتر ہوئے ۔
” کیسے دلاتے ہیں یقین ؟ “
دران نے الٹا اس سے سوال کیا تو وہ لبوں کو آپس میں ملائے سوچ میں پڑ گیا ۔ پھر اچانک اس کی طرف پہلو بدلہ
” کوئی گفٹ دے سکتے ہو بہت مہنگا سا ۔ “
” وہ گفٹ سے امپریس ہونے والی لڑکی نہیں ہے ۔ “
دران نے سگریٹ کا کش لگا کر مشورہ رد کیا ۔
” اچھا پھر ایک شاندار طریقے سے پرپوز کر دو اسے ۔ “
انل نے مزے سے چہکتے ہوئے مشورہ دیا ۔
” وہ بیوی ہے میری ۔ “
دران نے غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا تو انل نے خجالت سے بتیسی نکالی
” اوہ ہاں ۔۔۔۔ بھول گیا تھا ۔ “
خجل ہوتے ہوئے لبوں کو آپس میں ملایا اور پھر سے سوچ کے گھوڑے دوڑائے کیونکہ سامنے بیٹھا دران ہر چیز میں ماہر ہو سکتا تھا لیکن اس کے اظہار محبت سے اس بات پر یقین ہو گیا وہ اس میں بہت اناڑی ہے ۔
” اچھا پھر تو ایک ہی طریقہ ہے ۔ “
سٹیرنگ پر انگلیاں ٹپٹپاتے ہوئے کہا ۔ دران نے سوالیہ دیکھنے پر اکتفا کیا ۔
” اسے گھمانے لے جا کسی ایسی جگہ جہاں چاروں طرف محبت کے رنگ بکھرے ہوں ۔ کوئی بہت ہی حسین جگہ وہاں جہاں بن کہے ہی سب محبت کو محسوس کر لیتے ہیں ۔ مطلب ہنی مون “
انل نے بھنویں نچاتے ہوئے مشورہ دیا ۔ دران نے گھور کر اسے دیکھا ۔
” یہ طریقہ کام کرے گا ؟ “
