Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 47)
Rate this Novel
Basil (Episode 47)
Basil by Huma Waqas
بیورلی ہلز میں رات کے اس آخری پہر میں بھی این لا سینیگا بلوڈ اپٹ کی اس عمارت کے بہت سے اپارئٹمنٹس جگمگا رہے تھے ۔ انہی بیش قیمت شیشے کی طرح چمکتے اپارٹمنٹس میں سے ایک اپارئٹمنٹ اس وقت دو نفوس کتنے گھنٹوں سے ایک ہی حالت میں براجمان تھے ۔
جیسیکا انل کے سامنے والے صوفے پر دم سادھے, ہم تن گوش بیٹھی تھی اور انل اس کو دران کے متعلق بتا رہا تھا ۔ اس کے خواب توڑ رہا تھا ۔ وہ خواب جو ایک ہفتے سے اس کی آنکھیں جاگتے ہوئے بھی دیکھ رہی تھیں ۔
اس نے جو کچھ بھی سوچا تھا واقعی ہی پس پشت کہانی بہت مختلف تھی ۔ انل کوئی اس کا خفیہ چاہنے والا شہزادہ نہیں تھا ۔ وہ تو بس کسی کے کہنے پر یہ سب کر رہا تھا ۔ لاؤنج کی خاموشی میں انل کی گھمبیر آواز گونج رہی تھی ۔
” دران اپنی ماں سے اپنی محرمیوں کے بارے میں سوال کرنا چاہتا تھا ۔ ان سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اسے یوں چھوڑ دینے کی آخر کیا وجہ تھی ؟ پاکستان سے اپنے انکل کی جائیداد کے کاغذات کے ساتھ اسے اپنی ماں کے بارے میں جو تھوڑی بہت معلومات ملیں اسی پر یہاں آ کر ان کی تلاش شروع کر دی ۔ “
جیسیکا بار بار نگاہ اٹھاتی اس کی طرف دیکھتی اور پھر جھکا لیتی ۔ اس کے بولنے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا تھا , تب سے لے کر اب تک صرف انل ہی بول رہا تھا ۔
” ایک سال کی انتھک محنت کے بعد جب تم لوگ اسے ملے تو تم لوگوں کے حالات اور اپنی ماں کی صحت دیکھ کر اس نے اسطرح چھپ کر مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ “
جیسیکا کی نگاہوں میں بیتے ہوئے پلوں کے سارے منظر گھوم گئے ۔ وہ حالات واقعی ہی اس کی زندگی کے مشکل ترین اور درد ناک حالات تھے ۔
کنز کی حالت برتر سے برتر ہو چکی تھی ۔ اس کے پاس نہ تو اس کی دوا کے لئے پیسے تھے اور نہ ہی نشے کے لئے ۔ ایک کمرے کا چھوٹا سا اپارئٹمنٹ تھا جسکا کرایہ لینے کے لئے روز مالک ان کے گھر کے چکر لگاتا اور بدتمیزی کرتا تھا ۔ تب اچانک سے سب بدل گیا تھا ۔ اس کی ملازمت ہو گئی تھی اسے پیسے ملنے لگے تھے ۔ پرانی باتیں یاد کرتے ہوئے اس کی آنکھوں کی پتلیوں میں بھی آنسو جھلملانے لگے ۔ انل متواتر بول رہا تھا ۔
” تمہاری بیکری میں جاب , تمھاری ماں کے ہسپتال میں علاج سے لے کر تمہیں ہر ماہ پیسے بھیجوانے تک , سب دران کرتا رہا ہے ۔ “
وہ ہلکا سا چونکی تھی ۔ ہاں وہ اتنی بڑی بیکری میں اپنی ملازمت ہو جانے پر حیران تو بہت ہوئی تھی لیکن یہ سوچ کر خاموش ہو گئی تھی کہ وہ ملازمت کے لیے اتنی جگہوں پر درخواست بھیج چکی ہے شاید کسی نے بیورلی ہلز میں اس کی درخواست منتقل کر دی ہو گی ۔
” اس دن کیفے میں بھی ہم دونوں وہاں موجود تھے اور تمہیں اس لڑکے سے بچانے کے لئے مجھے دران نے ہی کہا تھا ۔ “
انل کی بات پر جیسیکا نے گہرا سانس لیا ۔ اچھا تو وہ سب بھی انل دران کے کہنے پر ہی کرتا رہا تھا ۔ پتا نہیں سب کچھ جاننے کے بعد بھی دل میں انل کے لیے پنپتے جذبات تبدیل نہیں ہوئے تھے ۔ سامنے بیٹھا یہ شخص اب بھی دل دھڑکنے کا سبب کیوں لگ رہا تھا ۔ انجانے میں ہی سہی لیکن وہ اس سے محبت کرنے لگی تھی ۔
آہ لیکن سامنے بیٹھا یہ شخص ۔۔۔۔ وہ کتنے آرام سے کہہ گیا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا ہے ۔
” دیکھو مجھے نہیں پتا کہ تم اب دران کے بارے میں کیا سوچ رہی ہو ۔ لیکن یہ سچ ہے کہ وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے ۔ اس کی ماں نے ایک سال بعد ہی باپ کے سپرد کر دیا , باپ نے اپنا پیار تو کیا نام تک نہیں دیا ۔ یہاں آیا تو پتا چلا کہ تم اس کی بہن ہو , تمہیں بیکری کے شیشے سے پار گھنٹوں بیٹھ کر دیکھتا تھا ۔ تمھاری ضرورت کی ہر چیز تمہیں دستیاب رہے اور کوئی پریشانی نہ ہو اس لئے تمہیں ہر ماہ پیسے بھیجتا تھا ۔ “
” مجھے ان سے ملنا ہے ۔ “
جیسیکا نے اچانک اس کی بات کاٹی تو وہ دفعتاً خاموش ہوا اور پھر چند سکینڈ کی خاموشی کی بعد مضطرب لہجے میں گویا ہوا ۔
” جسیی میں یہ سب کچھ۔۔۔۔ جو تمہیں بتا رہا ہوں ۔ دران اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا ہے ۔ دراصل اس نے مجھے تمہیں کچھ بھی بتانے سے منع کر رکھا تھا ۔ وہ ابھی تمہیں اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتانا چاہتا تھا ۔ دراصل وہ تمہیں باقی رشتوں کی طرح کھونا نہیں چاہتا , اسے یہ لگتا ہے جس بھی رشتے کو اس کے بارے میں پتا چلتا ہے وہ اس سے دور ہو جاتا ہے ۔ “
انل نے دلگیر لہجے میں وضاحت دی اور پھر التجائی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا ۔
” تم وعدہ کرو تم ابھی اسے کچھ نہیں بتاؤ گی ۔ “
انل کے التجائی لہجے پر وہ سنجیدگی سے سر ہلاتے ہوئے ایک دم اپنی جگہ سے اٹھی ۔ سرعت سے صوفے کے بازو پر پڑا اپنا کوٹ اٹھایا اور آستئین چڑھانے لگی ۔ انل نے حیرانگی سے بھنویں سکیڑیں اور صوفے کی پشت سے ٹیک ہٹاتا آگے ہوا ۔
” کہاں جا رہی ہو ؟ “
” جہاں سے آئی تھی ۔ “
بہت مختصر اور روکھا جواب تھا ۔ وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ اب اپنے کندھے پر بیگ کو لٹکا رہی تھی ۔
” رات بہت ہو گئی ہے ۔ صبح چلی جانا ۔ “
انل اس کی بے رخی اچھے سے محسوس کر گیا تھا ۔ ہاتھوں پر وزن ڈالتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھا ۔
” نہیں صبح بہت دیر ہو جائے گی ۔ مجھے بیکری وقت پر پہنچنا ہے ۔ “
” یہاں سے بیکری زیادہ نزدیک ہے ۔ “
” مجھے میرے گھر جانا ہے ۔ “
اب کی بار اس کے لہجے میں سختی در آئی تھی ۔ وہ انل سے نظریں نہیں ملا رہی تھی ۔ یہاں رکنا اب محال تھا ۔ کل تک جس اپارٹمنٹ میں وہ بڑے حق سے دندانتی اس غلطی فہمی پر گھستی تھی کہ انل اسے دل و جان سے چاہتا ہے لیکن اب یہ پتا چلنے پر کہ دل و جان کیا وہ تو اسے چاہتا ہی نہیں ہے ۔ اندر کچھ چیخ رہا تھا ۔ وہ رونا چاہتی تھی ۔ چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی ۔ اتنے برسوں بعد ایک احساس نے اسے خوشی دی لیکن اب اس احساس کے ٹوٹنے کی کرچیاں سینے میں پیوست ہو کر اس کا دم گھوٹنے لگی تھیں ۔
” رکو جانا بہت ہی ضروری ہے تو میں چھوڑ آتا ہوں ۔ “
” چھوڑ دیا ہے تم نے ۔ “
سپاٹ لہجے میں کہتی وہ تیز تیز قدم داخلی دروازے کی طرف بڑھا چکی تھی ۔ انل جو اس کے آخری جملے کی چبھن کو محسوس کرتا ہوا وہاں جامد کھڑا تھا تیزی سے ایک طرف رکھا اوپری کوٹ اُٹھاتا اس کے پیچھے بھاگا ۔ اتنی رات کو وہ اسے کسی صورت بھی اکیلے جانے نہیں دے سکتا تھا ۔ پتا نہیں کیوں اس لمحے وہ اس کے لیے یہ سب دران کی بہن ہونے کے ناطے نہیں کر رہا تھا کچھ اور تھا لیکن کیا تھا ؟ وہ سمجھنے سے قاصر تھا ۔
☆☆☆☆
لکڑی کے سیاہ دروازہ کے تالے کی باہر سے کھلنے کی آواز ابھری اور کمرے میں گونج اٹھی ۔ پلنگ پر کمبل میں لپٹا وجود تھوڑ سا کسمسایا ۔ کتنے گھنٹوں کی خاموشی کے بعد یہ آواز سنائی دی تھی ۔ کلک کی آواز پر دروازہ کھلا اور ایک بیس , بائیس سال کے لگ بھگ لڑکا کھانے کے لوازمات کی ٹرالی گھسیٹتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا ۔
یہ چھوٹا اور بالکل بند ڈربہ نما کمرہ تھا , جس میں ایک عدد پلنگ , لکڑی کی میز پر رکھی پانی کی بوتل اور ایک طرف باتھروم کمورڈ کے علاوہ اور کچھ موجود نہیں تھا ۔ جیسے ہی لڑکا ٹرالی کو گھسیٹتا ہوا آگے بڑھا ۔ پلنگ پر لیٹا وجود ایک جھٹکے سے کمبل کو اپنے اوپر سے اُٹھاتا ہوا اٹھ بیٹھا ۔
وہ برھان تھا ۔ بکھرے بال اور پریشان حال چہرہ , وہ پچھلے دو دن سے اس کمرے میں قید تھا ۔ ہاروی اور بروس نے اسے اچانک فلم کی شوٹنگ سے واپسی پر اٹھوا لیا تھا اور لا کر یہاں بند کر دیا تھا ۔ وہ لوگ خود بھی یہیں چھپے ہوئے تھے ۔
ہاروی کو دران پر پہلے سے ہی شک تھا کہ وہ عام انسان نہیں ہے اور اب جویریہ کے لئے اس نے جیسے سب کچھ تہس نہس کر دیا تھا , وہ گھبرا گیا تھا ۔
وہ دونوں یہاں چھپ تو گئے تھے لیکن یہ کافی نہیں تھا ۔ انہیں اپنی حفاظت کے لئے کچھ اور اقدامات بھی کرنے تھے اور برھان کا اغوا اسی بات کے پیش نظر تھا ۔
” کیا میں پوچھ سکتا ہوں ؟ آخر کو کیوں بند کر رکھا ہے مجھے یہاں ؟ “
پلنگ پر سے اٹھتا , وہ لڑکے پر چیخا تھا ۔ اس نے کل سے کچھ کھایا بھی نہیں تھا ۔ بھوک سے برا حال تھا لیکن اس وقت اسے اس قید کی وجہ جاننے میں زیادہ دلچسپی تھی ۔ اس کا موبائل چھین لیا گیا تھا ۔ کتنے گھنٹوں سے وہ بھوکا پیاسا یہاں بند تھا ۔
لڑکا اس کی بات کا کوئی بھی جواب دیے بنا واپس پلٹنے لگا تو اس نے ایک جھٹکے سے اسے کندھے سے پکڑ کر اپنی طرف موڑا ۔
” مجھے ہاروی اور بروس سے ملنا ہے ۔ ان کو بلاؤ یہاں ۔ مجھے کیوں قید کیا ہے یہاں ؟ کوئی کچھ بتاتا کیوں نہیں ۔ “
اب کی بار وہ اتنی زور سے چیخا تھا کہ سامنے کھڑے لڑکے نے آنکھیں میچ لیں اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا ۔ ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا اور بروس تلملاتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔ برھان کے ہاتھ کی گرفت لڑکے کے کندھے پر سے ڈھیلی ہوئی اور وہ سرعت سے نگاہ اٹھائے پوری طرح بروس کی طرف متوجہ ہوا ۔
” چیخ کیوں رہے ہو؟ “
” مجھے یہاں کیوں بند کر رکھا ہے ۔ کیا یہ صلہ ہے تم لوگوں کی مدد کا ؟ “
برھان نے پیشانی پر بل ڈالے شکوہ کیا ۔ بروس نے لڑکے کو جانے کا اشارہ کیا اور خود پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسے غصے سے گھورتا ہوا آگے بڑھا۔
” بکواس بند کرو اپنی ۔ تم نے ہماری کوئی مدد نہیں کی ہے بلکہ اپنے بھائی کی مدد کی ہے ۔ بیوقوف سمجھ رکھا ہے کیا ہمیں ؟ “
بروس کی بات پر برھان نے حیرانگی سے بھنویں سکیڑ کر آنکھیں پھیلائیں ۔
” مطلب ؟ یہ ۔۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہو ؟ میں اس کی مدد کیوں کروں گا ؟ ایک منٹ ۔ ۔۔۔”
برھان نے ذہن پر زور ڈالتے ہوئے ہاتھ کھڑا کیا ۔
” لڑکی تم لوگوں کو مل گئی ۔ سب کام اچھے سے ہو گیا پھر ایسا کیسے کہہ سکتے ہو اور مجھ پر الزام کیوں لگا رہے ہو ؟ “
” الزام ۔ یہ الزام نہیں ہے ۔ تم نے ہماری کوئی مدد نہیں کی بلکہ ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ۔ دران نے اور تم نے مل کر ہمارے ساتھ گیم کھیلا اور اب پولیس جگہ جگہ ہمیں تلاش کر رہی ہے ۔ “
بروس کا چہرہ پریشانی کی عکاسی کر رہا تھا ۔ برھان اسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔ اس کی باتیں سمجھ میں آنے تک وہ اور الجھ گیا ۔
” ک۔۔کیا مطلب ؟ “
” مطلب یہ کہ دران نے شیون کو مار دیا ہے ۔ ہمارے گروہ سے جڑے ہر بندے کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ ہمارا سارا نظام تباہ ہو گیا ہے ۔ اب ہمارا کیرئیر تو ایک طرف ہماری باقی کی زندگی تک خطرے میں ہے ۔ “
” در۔۔۔دران ۔ن۔ن۔ نے کیا یہ سب! ل۔۔لیکن میں کچھ نہیں جانتا اس بارے میں اور میں نے اس کی کوئی مدد نہیں کی ہے ۔ تم لوگ مجھے یوں مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے ہو۔ مجھے جانے دو یہاں سے میری بیوی اور والدین پریشان ہو رہے ہوں گے ۔ “
برھان نے ضبط سے لال ہوتے چہرے کے ساتھ کہا اور چند قدم آگے بڑھا۔
” نہیں تم نہیں جا سکتے اور ہم تمہیں تب تک نہیں چھوڑیں گے , جب تک دران گرفتاری کی فہرست میں سے ہمارے نام کو تلف نہیں کرواتا ۔ “
بروس کا لہجہ دو ٹوک تھا ۔ برھان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ۔ وہ لوگ عام لوگ نہیں تھے ۔ جس کام کو وہ معمولی سمجھ کر لالچ میں آ گیا تھا اب اندازہ ہو رہا تھا وہ سب کتنے خطرناک تھے اور وہ کہاں پھنس چکا ہے ۔
” دران ۔ن۔ن۔ ۔۔ دران ایسا کیوں کرے گا ؟ وہ میرے لئے کچھ بھی نہیں کرے گا ۔ تم لوگ پاگل ہو گئے ہو کیا ؟ تم لوگوں نے جو کہا میں نے کیا اس کے بدلے میں تم لوگوں نے مجھے فلم دی بس ہمارا ساتھ یہیں تک تھا ۔ تم لوگوں کی اب اگلی کہانی کیا ہے ؟ میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا اور نہ مجھے جاننے میں دلچسپی ہے ۔ مجھے یہاں سے جانا ہے بس ۔”
برھان ناک کو بھینچے تیزی سے آگے بڑھا ہی تھا کہ بروس کے جھٹکے نے اسے لڑکھڑا کر رکنے پر مجبور کر دیا ۔
” چپ چاپ وہاں بیٹھو سمجھے اور دران کو تمھارے لئے یہ سب کرنا ہی ہو گا , نہیں تو ہمارے ساتھ ساتھ تمہیں بھی ساری زندگی جیل کی ہوا کھانی ہو گی ۔ سمجھے , چل اب لگا اپنی بیوی کو فون اور بول اس سے کہ دران سے کہے کہ وہ یہ سب کرے ۔ “
بروس نے ایک جیب سے بندوق نکال کر اس پر تانی اور دوسرے ہاتھ سے عجیب و غریب سے موبائل کو ہتھیلی پر رکھ کر اس کے آگے کیا ۔ چند سکینڈ تو وہ حیرت میں ڈوبا کھڑا بروس کی طرف دیکھتا رہا اور پھر کانپتے ہاتھوں سے بروس کی ہتھیلی پر سے موبائل اٹھا لیا۔
دران کبھی اس کی مدد کے لئے نہیں آئے گا , الٹا دران کو یہ سب پتا چلا جائے گا کہ جویریہ کے اغوا میں وہ ملوث تھا ۔
اس کی پیشانی پر پسینے کے ننھے قطرے چمک رہے تھے , ہاتھ کانپ رہے تھے ۔ وہ بہت برا پھنسا تھا ۔ دوسری طرف دوسری ہی گھنٹی پر فون اٹھا لیا گیا ۔
☆☆☆☆☆☆
دروازے پر بجتی مسلسل گھنٹی کے باعث وہ تیز تیز قدم اٹھاتی دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی ۔ اسفند سے شادی کئے اسے دو ہفتے ہو گئے تھے ۔ اس نے اسفند کی مدد نہ صرف اس سے شادی کر کی تھی بلکہ اس کو اپنے ہی کیفے میں ملازمت بھی دلوا دی تھی اور اب وہ دونوں پچھلے دو ہفتوں سے ایک ہی فلیٹ میں رہ رہے تھے ۔
آج چھٹی کا دن تھا ۔ اسفند کچھ دیر پہلے ہی کسی کام سے گھر سے باہر گیا تھا ۔
اس کے جانے کے کچھ دیر بعد ہونے والی گھنٹی پر وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ دروازے پر اسفند ہی ہے لمبے لمبے ڈگ بھرتی وہ دروازے پر پہنچی اور عجلت میں بنا پوچھے دروازہ کھول دیا ۔ دروازہ کھلتے ہی اسے ایک زور کا دھکا ملا ۔ وہ لڑکھڑا کر ایک طرف ہوئی ۔ گھر میں داخل ہونے والا نوین تھا ۔ غصے میں لال چہرہ شیو بڑھی ہوئی ۔ وہ ایک پل کے لئے ششدر ہوئی ۔
” یہ کیا بدتمیزی ہے نوین ؟ “
وہ چیختی ہوئی پلٹی جبکہ نوین لاؤنج کے وسط میں کمر کے دونوں اطراف پر ہاتھ رکھے غصے میں لال پیلا کھڑا تھا ۔
” بدتمیزی! اور تم جو کرتی پھر رہی ہو ؟ اسے کیا نام دو گی ہاں “
اسے نہ صرف اس فلیٹ کا پتا چلا تھا بلکہ یقیناً اس کی اور اسفند کی شادی کی خبر بھی ہو چکی تھی ۔ کنز نے گہری سانس لی اور چند قدم آگے بڑھ کر اس کے مقابل آ کھڑی ہوئی ۔
” تم بھول رہے ہو شاید کہ تم مجھے چھوڑ چکے ہو ۔ رعب کس بات کا چلا رہے ہو ۔ میں تمھاری ملکیت نہیں ہوں اب ۔ “
” ہاں چھوڑ دیا ہے لیکن کیا تم اس کی سزا کے طور پر مجھے جلانے کے لئے اور میری ضد میں آ کر , میرے بھائی سے شادی کر لو گی ۔ “
” میں نے اسفند سے تمہیں جلانے کے لئے یا ضد میں شادی نہیں کی کی ہے ۔ اس نے مشکل میں میری مدد کی تھی ۔ میں نے اس کی کر دی ۔ “
” میری ضد میں کی ہے میں جانتا ہوں ۔ “
” تمھاری ضد میں کرنی ہوتی تو مارٹن سے کرتی جو آج بھی مجھ سے شادی کرنے کے لئے تیار ہے اور محبت کرتا ہے مجھ سے۔ “
” تم مارٹن سے مل رہی ہو ! تم اس کے پاس کیوں گئی ؟ “
اب کی بار تو نوین کے غصے میں اضافہ ہو چکا تھا ۔ وہ دانت پیستا ہوا اس پر جھکا تھا ۔
” کیا میں تمہیں جواب دہ ہوں ؟ “
کنز نے غصے سے گھورتے ہوئے لب بھینچے ۔
” تم ہو ۔ “
” میں نہیں ہوں ۔ میں جس سے بھی ملوں جس سے بھی شادی کروں یہ اب تمھارا مسئلہ نہیں ہے نوین اور نہ ہونا چاہیے ۔ “
” تم مارٹن کی نیت سے واقف ہو نہ ؟ تم نے مجھے تو میری ایسی غلطی کی سزا دے دی جو میں نے انجانے میں بہک کر سر انجام دے دی اور خود مارٹن جیسے گھٹیا انسان سے ملنا جلنا شروع کر دیا ۔ “
” تمہیں کیوں اتنی فکر ہے اب میری اور تم سے اچھا ہی ہے وہ بلکہ دنیا کا ہر مرد تم سے اچھا ہے ۔ “
کنز نے چہرے کو آگے کرتے ہوئے زہر خندہ لہجے میں اس پر تیر برسائے ۔ وہ جھنجلا گیا تھا ۔ حالت سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اس کے بنا ٹوٹ چکا ہے لیکن اس محبت کو لے کر وہ کیا کرتی جب اسے احساس نہیں تھا اور اس کی خاطر وہ سب نہیں چھوڑ سکتا تھا جو وہ چاہتی تھی ۔
” کنزی تم مجھ سے محبت کرتی ہو ۔ “
” کرتی تھی ۔ اب نہیں کرتی ۔ اب میں نفرت کرتی ہوں تم سے ۔”
نفرت کے لفظ پر اس کی کنپٹی کی رگیں تن گئی تھیں ۔ اس نے ایک جھٹکے سے کنز کو اپنے قریب کیا اور اس کا گلا دبوچ لیا ۔
” جھوٹ ۔۔۔ بالکل جھوٹ بول رہی ہو ۔ تم مجھ سے نفرت نہیں کر سکتی ہو۔ “
” نوین چھوڑو مجھے ۔ مجھے درد ہو ۔۔۔ رہ۔۔ رہا ہے ۔ “
کنز کی گھٹتی آواز اور ہاتھ پاؤں مارنا ناکام جا رہا تھا ۔ نوین غصے میں بھرا اس کی حالت سے بے خبر ہاتھ کی گرفت کو مضبوط کر رہا تھا جب اچانک دروازہ کھلا اور اسفند جو کسی کام سے واپس لوٹا تھا سامنے کا منظر دیکھ کر حیرت سے پل بھر کو ساکن ہوا پھر پاگلوں کی طرح بھاگتا ہوا دروازے سے لاؤنج تک پہنچا ۔
” نوین بھائی یہ کیا کر رہے ہیں آپ ؟ “
قریب آ کر وہ نوین پر جھپٹ پڑا تھا ۔ نوین نے ایک جھٹکے سے دور کیا ۔ اسفند لڑکھڑا کر پھر سے آگے بڑھا اور اب کی بار زیادہ قوت سے اس کے بازو کو جھٹکا ۔
” نوین بھائی چھوڑیں انہیں ۔ “
نوین کے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی کنز بری طرح لڑھک کر اسفند کے گلے لگی۔ وہ بری طرح کھانس رہی تھی جبکہ اسفند اس کی پشت سہلا رہا تھا ۔ نوین آنکھیں چندھی کئے اب سامنے کے منظر کو دیکھ رہا تھا ۔
چند سکینڈ یونہی گزرے جب اچانک تالی بجنے کی آواز گونجی ۔ اسفند نے چونک کر نگاہ اوپر اٹھائی ۔
” اوہ ۔۔۔ خوب ۔۔۔ اب سمجھا میں سب ۔ “
نوین تالی بجاتا استہزائیہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے ہوئے تھا۔
” تم ٹھیک کہہ رہی تھی کنزی ۔ تم نے مجھے جلانے یا میری ضد میں شادی نہیں کی بلکہ محبت میں شادی کی ہے ۔ دونوں کا اکٹھے میرے گھر سے نکلنا اور پھر ایک ساتھ رہنا ۔ “
نوین انگشت کو ہوا میں دائیں بائیں جھلاتا طنزیہ لہجے کے ساتھ بات کرتا ہوا چند قدم آگے بڑھا ۔ وہ دونوں ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے ۔
” واہ کیا منصوبہ تھا ۔ داد دینی پڑے گی تم دونوں کو ۔ “
نوین نے استہزائیہ لب باہر نکالے اور پھر غصے سے پھنکارتا ہوا اسفند کی طرف متوجہ ہوا ۔
” اور تم ۔۔۔ “
غصے سے انگلی اسفند کی طرف تانی جبکہ کنز اب سانس بحال کرتی ہوئی اسفند کے دائیں طرف کھڑی تھی ۔
” گھٹیا انسان تم تو میرے بھائی تھے ۔ میری ہی بیوی پر گندی نظر رکھی ۔ شرم نہیں آئی تمہیں ۔ “
” نوین بھائی ۔ غلط بات مت کریں ایسا کچھ بھی نہیں جیسا آپ سوچ رہے ہیں ۔ “
اسفند نے تذبذب میں اپنی صفائی پیش کرنی چاہی لیکن وہاں معاملہ بہت سنگین ہو چکا تھا ۔ اس سے پہلے کہ وہ نرمی سے نوین کو سمجھاتا ہوا آگے بڑھتا ۔ نوین نے ایک دم سے جیب سے بندوق نکال کر ا س پر تان دی ۔
” اچھا کیسا ہے پھر بتاؤ ۔ “
” نوین ۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہو ؟ “
کنز ایک دم چیخ کر آگے ہوئی ۔
” میں اسے مار دوں گا ۔ “
نوین نے زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ ایک نگاہ کنز کی طرف دیکھا اور پھر جبڑے بھینچتا ہوا اسفند کی طرف متوجہ ہوا جو تاسف سے نوین کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
” نوین نیچے کرو گن , گولی چل جائے گی ۔ پاگل مت بنو ۔ “
کنز اور اونچی آواز میں چیخی تھی لیکن اس پر تو جیسے کوئی اثر نہیں تھا ۔
” مار دوں گا میں اس کو ۔ “
” ٹھیک ہے پہلے مجھے مارو پھر اسے مارو اور جاؤ “
کنز ایک دم سے بازو پھیلاتی اسفند کے آگے کھڑی ہوئی ۔ وہ غصے سے کانپ رہی تھی جبکہ اسفند اب بھی ساکن کھڑا تھا ۔
ایک ۔۔۔ دو ۔۔۔ تین۔۔۔۔ سکینڈ
” تم۔۔۔ “
نوین نے غصے سے لب بھینچ کر بندوق نیچے کی اور جیب میں ڈال لی ۔
” میری بات کان کھول کر سنو ۔ چپ چاپ پاکستان واپس لوٹ جاؤ نہیں تو اگلی بار گولی تم دونوں کو چیرتی ہوئی آگے جائے گی ۔ “
نوین نے انگلی اسفند کی طرف کرتے ہوئے دھمکی دی اور پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔ کنز سرعت سے پلٹی اور اسفند سے لپٹ گئی ۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔
اسفند نے بے اختیاری میں اپنی بانہوں کا گھیرا اس کے گرد حائل کیا ۔ وہ اس وقت تکلیف میں تھی , بے تحاشہ تکلیف اور اسفند کا یوں اس کے گرد بانہوں کو حائل کر دینا جیسے جلتے اعصابوں پر مرحم کی طرح تھا ۔
وہ تھکن سے چور تھی اور اسفند کا یہ شفقت بھرا ساتھ اسے تقویت بخش گیا ۔ یہ کمزور لمحہ انہیں سب بھلا گیا تھا ۔
رات کا پہر دھیرے سے سرکتے ہوئے دونوں کے بیچ وہ لمحہ لے آیا تھا جس کے بارے میں دونوں نہیں سوچا تھا ۔ یہاں دلوں میں محبت نہیں تھی بس ایک رشتہ , ایک لمحہ یا پھر ایک دوسرے کی تکلیف کا احساس تھا ۔
☆☆☆☆☆
کراچی کا موسم گرم تھا لیکن ائیر کنڈیشن کمرے میں ماحول ٹھنڈا اور خوشگوار تھا ۔ جویریہ نے آہستگی سے مسکراتے ہوئے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی جبکہ سنانا کی کھنکتی ہنسی پورے کمرے میں گونج رہی تھی ۔
” مجھے تو اب ہنسی آ رہی ہے سوچ سوچ کر ۔ یاد ہے جب پہلی دفعہ دران بھائی کو دیکھا تھا ؟ بارش میں بھیگتے ہوئے اف۔۔۔۔ “
” ہاں وہ لمحہ کیسے بھول سکتی ہوں ۔ “
وہ دلکش مسکراہٹ کو گہرا کر گئی ۔ پاکستان پہنچے آج دوسرا دن تھا وہ سیدھا سنانا کے گھر آئی تھی ۔ سنانا کا شوہر اس کا بھی کذن تھا اور وہ بہت اچھا انسان تھا ۔ سنانا اپنے گھر میں بہت خوش تھی ۔ اس کی بیٹی کے بعد اب ایک بیٹا تھا ۔ گھر کے حالات بہت اچھے تھے ۔
دو ماہ پہلے جان اس دنیا سے رخصت ہو گیا تھا لیکن اسے کسی نے خبر نہیں دی تھی ۔ اب سنانا سے پتا چلنے پر وہ کل سے رو رو کر اپنا برا حال کر چکی تھی ۔ اب جا کر سنانا نے دران کی باتیں کرتے ہوئے اس کے ذہن کو بانٹنے کی کوشش کی تھی ۔
” جوی میں بہت بہت خوش ہوں تمھارے لئے اور ابا تم سے ناراض نہیں تھے ۔ جاتے ہوئے انہوں نے مجھے پاس بلا کر تمھارے بارے میں پوچھا تھا کہ کیسی ہے وہ ؟ کہاں ہے ؟ “
سنانا نے محبت سے دیکھتے ہوئے آہستگی سے اسے بتایا ۔ سنانا کی باتوں پر پل بھر میں ہی اس کی موٹی آنکھوں میں آنسو چمک گئے ۔
” ہوں ۔ “
وہ بمشکل ہنکارہ بھر سکی اور آنسو گال پر لڑھک گئے ۔
” پھر سے رونا شروع ۔ اوہ میرے خدا میں نے کیوں ذکر کیا ۔ “
سنانا تاسف سے اسے ڈانٹتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھی, اس کی طرف بڑھی ہی تھی جب جویریہ کے موبائل پر بجتی گھنٹی پر متوجہ ہوئی ۔ موبائل پر دران کا نام جگمگا رہا تھا ۔
” مجھے دو ذرا ۔ “
اس سے پہلے کہ جویریہ فون اٹھاتی اس نے اچک کر موبائل اس کے ہاتھ سے لیا اور جھٹ سے کان سے لگایا ۔
” ہیلو ۔ دران بھائی کیسے ہیں سنانا بات کر رہی ہوں ۔ “
فون اٹھاتے ہی وہ پر جوش انداز میں تڑاخ تڑاخ بول گئی تو دوسری طرف چند سکینڈ کی خاموشی کے بعد آواز ابھری ۔
” جی میں ٹھیک ہوں ۔ جانتا ہوں آپکو ۔ “
” جی لیکن آپ یہ نہیں جانتے کہ آپ کی بیوی نے یہاں آ کر ابھی تک رونے کے سوا اور کوئی کام نہیں کیا ۔ بس روئے چلے جا رہی ہیں ۔ میں نے تو بہت سمجھایا ہے لیکن میری بات تو آج تک نہیں مانی انہوں نے۔ اب آپ ہی سمجھا کر دیکھ لیں ۔ “
ٹر ٹر بولتی وہ ایک ہی سانس میں جویریہ کی گھورتی نظروں سے بے نیاز دران کو اس کی شکائت لگا گئی ۔ دران بے ساختہ مسکرا دیا ۔ آؤٹ ڈور کا دروازہ کھولا اور باہر آ گیا ۔
” لیں بات کریں اپنی بیوی سے اور سمجھائیں اسے کہ تھوڑے عرصے کے لیے یہاں آئی ہے روتی رہے گی کیا ؟ “
سنانا نے چہکتے ہوئے کہا اور فون خفا سی بیٹھی جویریہ کی طرف بڑھایا ۔ جویریہ نے اسے گھورتے ہوئے فون پکڑ کر کان سے لگایا اور آہستگی سے گویا ہوئی ۔
” ہیلو ۔ “
” رو رہی تھی ؟ “
دوسری طرف فوراً رعب جھاڑا گیا ۔ سوئمنگ پول کے گرد چکر لگاتے ہوئے وہ واقعی اس کے رونے پر پریشان دکھائی دے رہا تھا ۔
” نہیں تو ۔ “
لبوں کو آپس میں ملائے صاف جھوٹ بولا اور شرارت سے دیکھتی سنانا کو گھور کر دیکھا ۔
” میں تو یہ سمجھ رہا تھا کہ میری یاد تمہیں اور کچھ نہیں کرنے دے گی لیکن تم تو پاکستان جا کر ایسے بھولی ہو کہ ایک کال تک نہیں کی۔ “
دران کے شکوے پر وہ واقعی رونا بھول کر ایکدم سے سیدھی ہوئی ۔
” دران ہر آدھے گھنٹے بعد تو بات ہو رہی ہے ہماری ۔ “
” ہاں ہو رہی ہے لیکن فون تو میں کر رہا ہوں نہ ہر بار ۔ “
” تو ایک ہی بات ہوئی آپ کریں یا میں کروں ۔ “
محبت سے کہہ کر دران کو لاجواب کر دیا ۔ وہ دلکش انداز میں مسکرا دیا ۔
” ہوں پوائنٹ ۔ “
وہ مسکرائی جبکہ دران اب خفگی سے اگلا شکوہ کر رہا تھا ۔
” میں تو یہ سمجھ رہا تھا کہ اب تمھاری آنکھوں میں کبھی آنسو نہیں آئیں گے لیکن میں غلط تھا ۔ میں تمہیں ہر خوشی دینے میں کامیاب نہیں ہوں ۔ “
وہ ایک دم سے سنجیدہ ہوئی ۔ آنکھوں میں پھر سے آنسو چمکنے لگے ۔ ہاں وہ سچ کہہ رہا تھا ۔ دنیا میں کوئی بھی انسان آپ کے ماں باپ کا نعم البدل نہیں ہو سکتا پھر چاہے وہ بہت چاہنے والا شوہر ہی کیوں نہ ہو ۔
” دران مجھے ابا بہت یاد آ رہے ہیں ۔۔۔ میں اماں سے ملنا چاہتی ہوں ۔ جووت کو گلے لگانا چاہتی ہوں اور میِری کو چومنا چاہتی ہوں ۔ “
” بس اتنی سی خواہش ۔ “
دران کی بات پر وہ آنسو صاف کرتی مزید رو دی ۔
” میں آتا ہوں تو دونوں ملنے جائیں گے ۔ جووت وہی ہے نہ چھوٹا ؟ پارک میں کرکٹ کھیلا کرتا تھا ؟ “
” ہاں وہی ہے ۔ “
” تم اسے لینے آتی تھی نیچے ۔ “
” آپ کو یاد ہے ؟ “
رونا بھول کر حیرت سے سوال کیا ۔ دران نے شرارت سے لب بھینچے ۔
” ہاں تم گھورتی بہت تھی اس لئے یاد ہے ۔ “
دران کی بات پر بے ساختہ اس کا منہ کھل گیا ۔ جبکہ وہ اب شرارت سے ہنستے ہوئے اس کے جواب کا منتظر تھا ۔
” جی نہیں ۔ ایسا بالکل نہیں تھا ۔ “
” جی ہاں ۔ ایسا ہی تھا ۔ بہت گھورتی تھی ۔ میں سوچتا تھا اس لڑکی کو کیا مسئلہ ہے ایسے کیوں دیکھتی ہے مجھے ۔ ہاں مانا خوبصورت ہوں لیکن کیوں گھورتی ہے مجھے ۔ “
” آپ شرمندہ کر رہے ہیں مجھے ۔ “
خفگی بھرے لہجے میں کہتی وہ اس کی شرارت کو ہوا دے گئی ۔
” تمھارے کام شرمندہ ہونے والے ہی تھے ۔ “
” کیا ۔۔۔۔ “
اب کی بار تو وہ چیخ اٹھی ۔ دران کا قہقہ گونج رہا تھا۔ وہ مصنوعی خفگی سے کشن کو گھور رہی تھی ۔
” ہاں وہ یاد نہیں چھت پر کیسے چمٹ گئی تھی ۔ “
اب کی بار تو وہ واقعی شرمندہ ہوئی اور چیخ کر کہا
” دران۔ن۔ن۔ن کیا ہے آپکو ۔ “
” بہت پیار ۔ “
برجستہ اس کے جواب پر چہرہ گلال ہوا ۔ وہ اب آوٹ ڈور میں رکھی کرسی کو دیکھ رہا تھا جہاں وہ بیٹھی قرآن پڑھتی دکھائی دے رہی تھی ۔
” مجھے یقین ہے ۔ “
” آہ شکر ہے یقین آیا ۔ بس تم واپس آؤ گی تو تجوید سکھاوں گا ان شا الّلہ اور پڑھانے کی فیس بھی لوں گا ۔ “
دران کے شکر ادا کرنے پر اور اگلے معنی خیز جملے پر وہ شرماتے ہوئے فوراً بات بدل گئی ۔
” کب آئیں گے لینے مجھے ؟ اور کیا بنا برھان کے مسئلے کا؟ “
” ان لوگوں نے کال کروائی ہے برھان سے ۔ ٹریس نہیں ہو سکی لیکن اب اگلی کال پر ہم مکمل تیاری کر چکے ہیں اگلی کال ٹریس ہو جائے گی۔ “
وہ بھی فوراً سنجیدہ ہوا ۔
” ان شا اللہ ۔ “
” ان شا اللہ ۔ چلو پھر بند کرتا ہوں ۔ تم بھی گپ شپ کرو اپنی بہن سے ۔ “
” جی ۔ “
” رونا مت ۔ اب نہیں رونا بس ۔ “
” ہوں ۔ “
” آئی لو یو ۔ “
دران اب جواب کے انتظار میں خاموش تھا ۔ وہ لجاجت سے منمنائی
” سنانا پاس ہے ۔ “
دران کا قہقہ جاندار تھا وہ اس کے قہقے کی آواز کو اپنے اندر اتارتی سر شار ہوئی ۔
” اوکے اوکے ۔ بائے ۔ “
