Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 45)

Basil by Huma Waqas

وہ جو نوین کے بارے میں اتنے بڑے انکشاف پر دنگ کھڑا تھا ۔ کنز کے یوں اچانک گلے لگ جانے پر سٹپٹا گیا لیکن اس وقت وہ جس صورت حال سے گز رہی تھی ۔ اسے واقعی سہارے کی ضرورت تھی ۔

کنز بے تحاشہ ہچکیوں میں روتے ہوئے اس کے گلے لگی تھی ۔ وہ اپنی مرضی سے نوین سے الگ ہو کر بھی ماتم کناں تھی ۔

اسفند نے جھجکتے ہوئے آہستگی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔ انداز حوصلہ دینے والا تھا ۔ وہ ایک ایسی لڑکی تھی جو اس پوری دنیا میں تنہا رہ گئی تھی ۔ ایک نوین تھا جسے کل تک وہ اپنی کل کائنات مانتی تھی لیکن حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ وہ تن تنہا رہ گئی ۔

چند پل یونہی گزرے , اس کا رونا تھما تو اسے احساس ہوا وہ اس وقت کس حالت میں ہے ۔ نادم سی اسفند سے الگ ہوئی اور آنسو صاف کرتی کمرے کی طرف بڑھ گئی جبکہ وہ وہیں افسردہ اور نوین کے انکشاف پر دنگ کھڑا تھا ۔

☆☆☆☆

سیاہ کار اپنی رفتار کو سست کرتے ہوئے آہستگی سے مٹی اڑاتی سڑک پر رکی ۔ ویران کچی سڑک کے بائیں طرف گیٹ تھا ۔ یہ بہت بڑا لوہے کا بوسیدہ , زنگ آلودہ اور کہیں کہیں سے جھلکتے سلیٹی رنگ پینٹ والا گیٹ تھا ۔ گیٹ کے ارد گرد کھنڈر ہوتی اونچی قلعہ نما دیواریں کسی پرانے جیل کی سی معلوم ہوتی تھیں ۔

شیون کے جویریہ کے ساتھ بھیجے ہوئے دونوں آدمیوں کو ختم کرنے کے بعد وہ اور زک شیون کے حکم پر فوراً ہوٹل سے بھیس بدل کر اور جویریہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے تھے ۔

وہ اس جگہ کا سارا راستہ پہلے ہی جویریہ کے ذریعے ٹریس کر چکے تھے ۔ اس لیے اب با آسانی اور بنا کسی رکاوٹ کے یہاں موجود تھے ۔ یہ بہت دور ویرانے میں وسیع پیمانے پر بنایا گیا ایک خفیہ اڈا تھا ۔ گیٹ کے باہر کسی گارڈ یا کسی پہرے دار کا نام و نشان تک نہ تھا ۔ کوئی انجان اگر کبھی یہاں پہنچ بھی جائے تو اس عمارت کو باہر سے دیکھ کر یہی سمجھے گا کہ شاید یہ عمارت صدیوں سے بند پڑی ہے ۔

یہ کھنڈر جیسی عمارت اور یہ بوسیدہ نظر آنے والا گیٹ دراصل یہ جدید ٹیکنالوجی پر بنا ہوا تھا۔ اسے صرف شیون کے آدمی ہی کھول سکتے تھے ۔ اس نے اپنے ہر آدمی کو ایک کارڈ دے رکھا تھا جس کو سکین کرنے کے بعد ہی وہ گیٹ کے اندر داخل ہو پاتے تھے ۔

زک نے گاڑی کو روکا اور گردن گھما کر دران کی طرف دیکھا ۔ دونوں اس وقت شیون کے آدمیوں کے بھیس میں تھے ۔ زک ڈرائیونگ نشست پر جبکہ دران پیچھے جویریہ کے ساتھ بیٹھا تھا ۔

زک اس سے اگلے لائحہ عمل کے لیے اشارہ مانگ رہا تھا او پھر دران کی گردن کے ہلکے سے خم پر ہی زک سرعت سے گاڑی سے اترا اور گیٹ کی طرف بڑھ گیا ۔

دران نے اور اس نے صبح فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد اس مقصد کی کامیابی کے دعا کی تھی ۔ بے شک دران کا ساتھ اور اللہ پر بھروسہ اس مقصد میں اس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کافی تھا لیکن اندر سے وہ ایک صنف نازک ہی تھی , جس کا دل اب بھی ایک چڑیا کی طرح لرز رہا تھا کیونکہ اسے اب خود سے زیادہ دران کی فکر تھی ۔

زک گیٹ کے ایک طرف دیوار پر نصب جھاڑیوں میں چھپے لاک کی پیڈ کو بغور دیکھ کر واپس آیا اور گاڑی کی پچھلی کھڑکی سے سر اندر کیا ۔

” تم ٹھیک کہہ رہے تھے ۔ گیٹ لاک صرف انٹری کارڈ کے سوائپ پر نہیں کھلے گا ۔ “

وہ بھنویں سکیڑے دران کو گیٹ کے تالے کو کھولنے کے بارے میں آگاہ کر رہا تھا ۔ وہ لوگ ان دونوں آدمیوں کے انٹری کارڈ لائے تھے لیکن اب زک کہہ رہا تھا کہ گیٹ پر تین قسم کے کوڈ لگے ہیں اور صرف کارڈ سوائپ کرنے سے کام نہیں بنے گا ۔

اب کیا کریں گے پھر ۔ جویریہ نے پریشان ہوتے ہوئے باری باری دونوں کے چہروں کی طرف دیکھا لیکن وہاں پر اس کی پریشانی جیسے کوئی آثار نہیں تھے ۔

” ہوں ۔ تو نکالو پھر ۔ “

دران نے پرسکون لہجے میں زک سے کہا جس پر وہ فوراً گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور اپنے پیروں کے نیچے فٹ پیڈ کو ہٹایا , چھوٹا سا سیاہ بریف کیس نکالا اور گود میں رکھ کر کھولا ۔ جویریہ بڑے انہماک سے سب دیکھنے میں مصروف تھی ۔ زک کی گود میں رکھا بریف کیس وہ پچھلی نشست پر بیٹھی با آسانی دیکھ سکتی تھی ۔

زک نے جیسے ہی بریف کیس کو کھولا وہ جو انہماک سے سب دیکھنے میں مگن تھی ۔ بریف کیس کے اندر نظر پڑتے ہی سانس رک گیا , وہ ایک دم چیخ دیتی اگر دران فوراً اس کے منہ پر ہاتھ نہ رکھ دیتا۔ بریف کیس کے اندر پلاسٹک بیگ میں چار عدد خون میں لتھ پتھ آنکھوں کے ڈیلے اور دو کٹے ہوئے انگوٹھے پڑے تھے ۔ زک نے انگوٹھے پلاسٹک بیگ سے نکالے اور ایک چھوٹی سی سکین مشین کے اوپر باری باری انگوٹھوں کو رکھا , انگوٹھے رکھتے ہی سکین مشین کے نیچے بنے سورخ سے دو عدد جھلی نما سٹیکر برآمد ہوئے۔ زک نے یہ پیاز کے چلکھے جیسی پتلی سی تہہ والا ایک ٹرانسپیرنٹ سٹیکر اٹھا کر اپنے انگوٹھے پر چپکایا اور ایک دران کی طرف بڑھا دی ۔

دران اب تک جویریہ کے منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا جو پھٹی آنکھوں سمیت اب دران کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ دران نے اس کے منھ پر سے ہاتھ اٹھایا اور اس چپکنے والی جھلی کو اپنے انگوٹھے کی پور پر چپکا نے لگا ۔ جویریہ اب گہری گہری سانس لیتے ہوئے دونوں کی طرف دیکھ رہی تھی ۔

زک نے بریف کیس بند کیا اور گاڑی سے اتر گیا ۔ زک کے جانے کے بعد دران نے اپنے برابر ہونق بنی بیٹھی جویریہ کی طرف دیکھا وہ لٹھے کی مانند سفید تھی اس کی حالت پر دران بے ساختہ مسکرا دیا ۔

ایجینسی کی اجازت پر وہ جویریہ کو اپنے خفیہ نام سے لے کر مقصد کی تمام معلومات دے چکا تھا ۔ ایسا اب اس لیے ضروری تھا کیونکہ جویریہ اب ان کا انجان مہرہ نہیں تھی بلکہ ایجینسی کے رکن یعنی اس کی بیوی کے ساتھ ساتھ ایجنسی کی سویلین ہیلپر تھی لیکن اس سب کے باوجود وہ کیا کچھ کرنے والے ہیں اس کے بارے میں جویریہ کو کچھ نہیں پتا تھا , اس لیے اب بریف کیس میں رکھی آنکھوں کے ڈیلوں اور کٹے ہوئے انگوٹھے دیکھ کر وہ اپنے خوف کو چھپا نہ سکی ۔

” مسز باسل اتنی سی ہمت ہے بس ۔ “

دران نے مسکراہٹ دباتے ہوئے آہستگی سے اس کے قریب ہو کر سرگوشی کی تو وہ سٹپٹائی اور تھوک نگل کر چہرے کا رخ دران کی طرف موڑا ۔

” ہمت بہت ہے لیکن ہوں تو انسان ہی , وحشی تو نہیں ہوں ۔ “

” مطلب تم یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ میں وحشی ہوں۔ “

دران نے اس کی بات پر خفیف سا قہقہ لگایا

” کچھ کم بھی نہیں ہیں ۔ یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ ان دونوں آدمیوں کی آنکھیں اور اف۔ف۔ف “

وہ زور سے آنکھیں میچ گئی ۔

” اچھا تو کیا ان دونوں کی آنکھوں اور انگوٹھوں کو لانے کے بجائے ان کی پوری پوری لاش اٹھا لاتے ۔ “

دران اب بھی مسکرا رہا تھا ۔ اب کی بار وہ کچھ نہیں کہہ سکی ۔ گیٹ لاک سے لے کر اندر موجود تمام کوڈ ڈبل سے ٹرپل لاک پر مشتمل تھے ۔ تھم سکین , ریٹینا سکین اور کارڈ سوائپ ۔ کارڈ تو وہ ساتھ لے آئے تھے لیکن ان کے ریٹینا اور تھم سکین کے لیے جلدی میں یہی کرنا پڑا ۔ وہ اپنی داہنی آنکھ کی پتلی پر ان دونوں آدمی کا نقلی ریٹینا لینز بھی لگا چکے تھے ۔

وہ اب بھی سر کو بریف کیس کے منظر سے جھٹک رہی تھی جب زک نے واپس آ کر ڈرائیونگ نشست سنبھالی ۔ گاڑی سلائیڈ کی طرح کھلتے گیٹ کے اندر داخل ہو رہی تھی ۔ گیٹ کے اندر کی دنیا باہر کی ویرانی سے یکسر مختلف تھی ۔ جہاں انگنت اسلحہ سے لیس آدمی گھوم رہے تھے ۔ قطار در قطار ہزاروں کی تعداد میں لگی گاڑیوں میں ان کی اندر داخل ہوتی گاڑی کی طرف کوئی متوجہ نہیں تھا ۔

” پریشان مت ہونا ۔ ابھی ہم تم سے الگ ہو جائیں گے لیکن ہم یہیں پر ہیں ۔ ہمارے سارے کام پورے ہونے تک تمہیں شیون کو الجھائے رکھنا ہے ۔ “

دران اس کی طرف بنا دیکھے سمجھا رہا تھا ۔ وہ کن اکھیوں سے گاڑی کے شیشوں کے پار جائزہ لینے میں مصروف تھا ۔

” مہ۔۔ میں کیسے الجھائے رکھوں گی اسے ۔ دران آپ نے مجھے کہا تھا آپ یہاں میرے ساتھ ہوں گے ۔ “

دران کی بات پر وہ گھبرا گئی ۔ یہاں داخل ہونے سے پہلے تک کی ہمت اور اب کی ہمت میں زمین آسمان کا فرق آ چکا تھا ۔

” گھبراؤ مت میں ساتھ ہی ہوں گا ۔ تمہیں کچھ نہیں ہو گا ۔ چلو اترو اب ۔ “

جویریہ کو اترنے کا حکم دیتا وہ خود بھی گاڑی سے نیچے اترا ۔ زک نے پیسوں سے بھرا بریف کیس دران کو تھمایا ۔ دران نے جویریہ کے بازو کو پکڑا اور آگے بڑھنے لگا ۔

وہ لوگ ابھی چند قدم ہی آگے بڑھے تھے جب دو سیاہ فام تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے ان کی طرف بڑھے , ان کو ایسے بڑھتا دیکھ کر دران نے اس کے بازو پر دباؤ ڈالے رکنے کو کہا ۔

وہ اندر تک لرز گئی ۔ ایک پل کو ایسا لگا جیسے وہ دران کو پہچان گئے ہوں ۔ دونوں آدمی پاس آئے , ایک نے دران کے ہاتھ سے بریف کیس پکڑا جبکہ دوسرے نے اس کا بازو کھینچا , وہ جھٹکا کھا کر آگے بڑھتی بھی بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہی تھی ۔ وہ کوگ اسے دران سے الگ کر کے لے جا رہے تھے ۔

دران نے آہستگی سے آنکھوں کو بند کر کے کھولا , اشارہ تسلی دینے والا تھا ۔ وہ نم ہوتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی مگر لرزتے دل کی ہر دھڑکن اس کے لیے دعا گو تھی ۔

☆☆☆☆☆

بیورلی ہلز کی اس اونچی این لا سینیگا بلوڈ اپٹ عمارت کے پیچھے سورج آہستگی سے ڈوب رہا تھا ۔ شام کے پھیلتے سائے مضافات میں ایک بوجھل پن پیدا کر رہے تھے ۔ عمارتوں کی جلتی بتیاں اس شربتی سے منظر کو فسوں خیز بنا رہی تھیں ۔ اسی عمارت کے ایک فلیٹ میں دو نفوس اس فسوں خیز منظر کا حصہ لگ رہے تھے ۔

انل کے فلیٹ کے لاؤنج میں لگے صوفوں پر انل اور جیسیکا آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔ ہلکے انگوری رنگ کی میکسی میں ملبوس , وہ حسین چہرے والی دوشیزہ اس وقت متورم آنکھوں اور سرخ ہوتی ناک سمیت انل کے سامنے بیٹھی تھی ۔ انل پریشانی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا جو بار بار اپنی گال پر بہتے آنسو صاف کر رہی تھی ۔

وہ آج پھر صبح ہوتے ہی انل کے فلیٹ پہنچ گئی تھی ۔ سارا دن انل کی دیکھ بھال میں لگایا اور سر شام وہ اسے اپنی زندگی کی تلخیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے بری طرح رو دی ۔

بظاہر ہنستی کھیلتی جیسیکا اندر سے دکھوں اور اکیلے پن کا شکار لڑکی تھی ۔ وہ جو دران کی اجازت کے بنا اسے کچھ بھی نہ بتانے کا تہیہ کر چکا تھا اب اسے سب سچ بتا دینا چاہتا تھا ۔ وہ اسے ہرگز اتنا بڑا دھوکا نہیں دینا چاہتا تھا ۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ دران کس صیح وقت کے انتظار میں اس سے سب حقیقت چھپائے ہوئے تھا لیکن آج اس سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔

” جیسیکا۔ا۔ا۔ا مجھے تمہیں کچھ سچ بتانا ہے ۔ “

انل کی آواز نے اچانک ماحول کی خاموشی میں خلل پیدا کیا ۔ جیسیکا نے نم آنکھوں اور مترنم چہرے سمیت سوالیہ اس کی طرف دیکھا ۔ وہ ہلکی گرے ٹی شرٹ اور نیلی جینز میں ملبوس بے چین سا لگ رہا تھا ۔ ایسے جیسے کچھ کہنا چاہتا بھی ہے اور نہیں بھی ۔

خاموشی کا دورانیہ طویل ہو رہا تھا اور انل اب چپ تھا لیکن جیسے ہی اس نے لب کھولے وہ سرعت سے اس سے کچھ کہنے سے پہلے ہی گویا ہوا ۔

” دیکھو جیسکا , تم جو ۔۔۔۔۔ سب کچھ سمجھ رہی ہو , ویسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ “

رک رک کر الفاظ ادا کرتا وہ الجھا ہوا تھا اور سامنے بیٹھی جیسیکا سے نظریں چرا رہا تھا کیونکہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے جلتے دیے وہ دیکھ چکا تھا ۔ وہ اس مختصر عرصے میں اس کے لیے بے پناہ جذبات پنپ چکی تھی ۔

ایک تنہا اور ٹوٹا ہوا شخص ایسا ہی ہوتا ہے ۔ وہ تنہائی کے اندھیروں میں نا چاہتے ہوئے بھی کسی روشنی کے انتظار میں ہوتا ہے ۔ انل وہی روشنی بن کر آیا تھا ۔ وہ بہت خوش اور پرسکون تھی لیکن انل کا یہ الجھا انداز اسے الجھا گیا تھا ۔

” مطلب ؟ “

کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ بھنویں سکیڑ کر گویا ہوئی ۔ انل نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں ملایا اور لبوں پر رکھتے ہوئے سر کو نیچے جھکایا ۔

” مطلب یہ کہ ۔۔”

وہ رکا , چہرہ اوپر اٹھایا اور ایک گہری نگاہ سامنے بیٹھی حیران سی جیسیکا پر ڈالی ۔ نہیں میں مزید اسے دھوکے میں نہیں رکھ سکتا ہوں ۔

” جیسیکا میں نہ تو تمہیں وہ پیسے بھیجتا تھا اور نہ ہی میں تمھارا کوئی خفیہ چاہنے والا ہوں ۔ “

ایک ہی سانس میں وہ ٹھا ٹھا اس پر بم پھوڑ چکا تھا ۔ وہ دنگ ہوئی , چھوٹی آنکھوں کے اندر کی پتلیاں پھیل گئیں ۔

” دیکھو ۔۔ تمہیں پیسے میں نہیں میرا باس بھیجتا ہے , فلم سٹار درانگ ۔ وہی وہ اصل شخص ہے جو تمہیں پیسے بھیجتا ہے ۔ “

” کیا ؟ “

اب کی بار وہ پھیکی سی آواز میں کہتی ہوئی اور زیادہ پریشان لگ رہی تھی ۔ چہرے پر بے یقینی تھی ۔ درانگ کو کون نہیں جانتا تھا ۔ اسے تو اس بات پر بے انہتا خوشی تھی کہ اس سے محبت کرنے والا لڑکا کوئی معمولی انسان نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑے فلم سٹار کا پی اے ہے لیکن یہ انکشاف تو اس کے ہوش اڑا گیا تھا کہ اسے پیسے بھیجنا والا انل نہیں بلکہ وہ خود ہے ۔

” ہاں یہ سچ ہے اور حقیقت تمھاری سمجھی جانے والی حقیقت سے بالکل مختلف ہے ۔ وہ کوئی تمھارا خفیہ چاہنے والا نہیں ہے ۔ “

وہ اب بھی ساکن بیٹھی تھی ۔ ہم تن گوش , حیرت سے انل کی طرف دیکھتی ہوئی ۔ انل نے ایک سکینڈ کے توقف کے بعد پھر سے بات شروع کی ۔

” بلکہ وہ یہ پیسے تمھیں تمھاری ماں کی وجہ سے بھیجتا ہے ۔ “

” ماں کی وجہ سے ؟ “

اب وہ چپ نہیں رہ سکی تھی ۔ متحیر لہجہ اور پھٹی آنکھیں , اس کی حیرت اب انتہا کو چھونے لگی تھی ۔

” ہاں تمھاری ماں کی وجہ سے ۔ دراصل کنز پارکر یعنی کہ تمہاری ماں اس کی بھی ماں ہے ۔ درانگ تمھارا سوتیلا بھائی ہے ۔ “

سامنے بیٹھی جیسیکا کے چہرے پر موجود تاثرات بالکل ایسے تھے جیسے اس خبر کے ملنے پر کسی کے بھی ہو سکتے تھے۔

☆☆☆☆☆

رات کا اندھیرا پھیلتے ہی اس بھیانک کھنڈر میں جیسے دن چڑھ آیا تھا ۔ عمارت باہر سے جتنی بھیانک اور ویران لگ رہی تھی اند ایک روشن , چمکتی دمکتی عریانی , شباب , شرب اور منشیات کے نشے میں بے ہنگم ہوئے لوگوں سے آباد تھی ۔

رات ہوتے ہی یہاں سے سیکس ورکر کی روانگی کی تیاری اور شراب کا دور دوہ چل نکل تھا ۔ تقریباً گاڑیاں اور سیکس ورکر وہاں موجود شیون کے آدمیوں کے ہمراہ شہر کے لیے روانہ ہو چکی تھیں ۔

باقی بچے کچھے لوگوں کو بے آواز انجیکٹ مشین گن سے آہستہ آہستہ ختم کرتے ہوئے وہ دونوں اب مین ہال تک پہنچ چکے تھے ۔ وہ دونوں ان کے ہی آدمیوں کے بھیس میں تھے اس لیے کسی کو ان پر شک نہیں گزرا تھا ۔ وہ جیسے جیسے آگے بڑھ رہے تھے وہاں کے آدمیوں کے کارڈ اور کوڈ لے کر آگے جا رہے تھے ۔

اب وہ جس جگہ پہنچے تھے یہاں شیون کے بہت خاص آدمی , اس کی سکیس ورکرز ہی جا سکتی تھیں ۔ دران اور زک نے اندر داخل ہوتے ہی مین ہال کے کوڈ کو بدل دیا تھا تاکہ باہر کے لوگ اب اندر نہ آسکیں ۔ دران کا اشارہ ملتے ہی زک نے پام ٹاپ کو ہتھیلی پر کھولا اور اس پر انگلیاں چلائیں ۔ وہ ہر کیمرے کے پچھلے ایک دن کے بہت سے کلپ کاپی کر چکا تھا اب کیمروں میں اب کی ویڈیو کے جگہ کل والے کلپ چلانے تھے ۔ زک نے کچھ دیر انگلیاں چلائیں اور پھر اینٹر کی کو دبایا ۔

پینک روم میں لگے کیمروں کو پچھلے دن کے کلپ میں تبدیل کرنے کے بعد زک نے دران کو ہاتھ سے اوکے کا اشارہ دیا ۔ زک کا اشارہ ملتے ہی اب دونوں کو ایک دوسرے سے الگ ہو جانا تھا ۔ اب وہ دونوں مخالف سمت میں مڑ گئے تھے ۔

☆☆☆☆☆☆

سیاہ فام اس کا بازو تھامے تیز تیز چلتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا ۔ صبح سے ایک کمرے میں بند رکھنے کے بعد اب اسے نکالا گیا تھا اور شیون کے پاس لے جایا جا رہا تھا ۔ وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ارد گرد دیکھ رہی تھی کہ شاید اسے کہیں دران نظر آ جائے لیکن وہ کہیں نہیں تھا ۔ چند منٹ راہداری میں چلنے کے بعد وہ شیون کے آفس نما کمرے میں اس کے سامنے کھڑی تھی ۔

شیون نے اس کی طرف دیکھا اور ہاتھ سے پاس کھڑے آدمی کو کمرے سے باہر جانے کا اشارہ کیا ۔

وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور خباثت سے ٹھوڑی پر ہاتھ پھیرتا ہوا اس تک آیا ۔

” ایلکس کو تو خوش کیا تم نے ۔ اب میری باری ہے ؟ “

جویریہ کے پاس آکر بدبو کے بھبکے اڑاتا وہ اس وقت نشے میں دھت تھا ۔ وہ جو شیون کے پاس آنے پر گھبرا گئی تھی اچانک کانوں میں آتی دران کی آواز پر سانس بحال ہوئی ۔

” جویریہ اس کو اس آفس سے باہر لے جانا ہے کسی بھی طریقے سے ۔ صرف تین منٹ ہے تمھارے پاس “

دران اسے شیون کو آفس سے باہر لے جانے کا کہہ رہا تھا ۔ اسے اس وقت کچھ نہیں سوجھا تو فوراً زبردستی مسکرا دی ۔ شیون جو اس کی اکڑ کو ختم کرنے کے لیے اسے ہراساں کرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا ۔ اس کے مسکرانے پر حیرت سے آنکھیں کھول کر ساکن ہوا ۔

” یہ کیا دیکھا میں نے ؟ “

سر کو جھٹکنے کی ادکاری کرتا وہ اب حیرت سے استفسار کر رہا تھا ۔

” تم مسکرائی ۔ ہاں تم مسکرائی تھی ابھی ؟ “

حیرت سے بھنویں سکیڑے اس نے پھر سے جویریہ سے پوچھا ۔ جویریہ نے آہستگی سے لبوں کے پٹھوں کو پھر سے مسکراہٹ کی شکل میں کھینچا ۔ وہ پاگلوں کی طرح جھوم اٹھا اور بلند و بانگ قہقے لگانے لگا ۔

” بس یہ تھی تمھاری اکڑ۔ تمھارے وہ تیور ۔ ایک ہی رات میں سب ختم ۔ حیرت ہے “

وہ لگاتار قہقے لگا رہا تھا اور پھر ایک دم سے بے خود ہو کر قریب ہوا تو جویریہ نے فوراً اس کے اور اپنے بیچ ہاتھ حائل کیا ۔

” یہاں نہیں “

” اوہ پھر کہاں ؟ “

” تمہارے کمرے میں ۔ “

” ہاں یہ بھی سہی ہے ۔ یہ بھی سہی ہے ۔ “

وہ خباثت سے سر ہلاتا ہوا الگ ہوا اور پھر فوراً اس کا بازو تھاما اور جھٹکے سے قریب کیا ۔

” چلو چلتے ہیں ۔ اب اور انتظار ممکن نہیں ۔ مجھے دیکھنا ہے وہ کیا ہے تم میں جو دیوانہ بناتا ہے سب کو ۔ “

وہ اسکو کھینچتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا اسی لمحے کمرے کے بالکل باہر زک بہت احتیاط سے راہداری کو عبور کرتا ہوا شیون کے آفس تک پہنچا ۔

” باسل میں رائٹ پوزیشن پر ہوں ۔ “

دران کو اپنے پہنچ جانے کی خبر دینے کے بعد وہ اب اندر موجود جویریہ کے باہر آنے کا منتظر تھا ۔ انہیں شیون کے اس آفس سے ہی سب معلومات نکالنی تھی ۔ شیون ایک جھٹکے سے جیسے ہی جویریہ کو لے کر آفس سے باہر نکلا زک نے فوراً رخ پھیرا ۔ وہ زک کی طرف متوجہ ہوئے بنا تیزی سے آگے بڑھ گیا ۔

زک نے آنکھیں چندھی کیں اور اس کے آفس کے لاک کو دیکھا ۔ اسے اب یہ لاک ڈی کوڈ کرنا تھا

دوسری طرف دران اب راستے میں آتے سب آدمیوں کو ختم کرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا ۔ جبکہ تیسری طرف جویریہ شیون کے کمرے میں پہنچ چکی تھی ۔ شیون کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر اس کی سانس خشک ہو رہی تھی ۔ دران کی طرف سے خاموشی جان نکال رہی تھی۔ شیون شیطان کا روپ دھارے آگے بڑھ رہا تھا۔

” دران آپ کہاں ہیں ؟ “

پھیکی سی کانپتی آواز میں وہ دران کو آواز دیتی سب ادکاری بھول چکی تھی ۔ شیون کی کم ہوتی دوری اور دران کا نا پہنچنا اس کی گھبراہٹ کا سبب بن رہا تھا۔ شیون نیم برہنہ ہوتا سب ہوش و حواس کھو چکا تھا اس کو اپنے پاس آتا دیکھ کر وہ مخالف سمت کو بھاگی ۔

” اے کیا ہوا اب ؟ “

وہ جھنجلا کر دانت پیستا ہوا پلٹا ۔ جویریہ تقریباً بھاگتی ہوئی کمرے کے دروازے تک پہنچی ۔ دروازے کا لاک وہ کسی صورت نہیں کھول سکتی تھی ۔ وہ یونہی لاک کے ساتھ الجھ رہی تھی جب ایک دم سے شیون نے اسے کندھوں سے تھام کر اپنی طرف موڑا ۔

” چھوڑو مجھے ۔ دران ۔ن۔ن۔ن۔ “

وہ شیون کو دھکا دیتے ہوئے چیخ پڑی ۔ شیون نے ایک بھنویں چڑھا کر زہریلی مسکراہٹ کو لبوں پر سجایا ۔

” یہ فلم نہیں ہے میری جان ۔ تمھارا ہیرو یہاں کبھی نہیں پہنچ سکتا ۔ “

وہ لپک کر جویریہ تک پہنچا تھا ۔

” دران ۔ن۔ن۔ن۔ن “

وہ پاگلوں کی طرح چیختی ہوئی دران کو پکار رہی تھی ۔ جبکہ وہ قہقے لگاتا اپنی گرفت مضبوط کر رہا تھا ۔ وہ بے خودی میں اتنا دھت تھا کہ دروازہ کھلنے کی آواز تک سنائی نہیں دی ۔ دروازہ کھولتے ہی دران ایک جست میں اس تک پہنچا اور اسے گردن سے دبوچ کر اپنی طرف موڑا ۔ ایک جھٹکے سے ماسک کو چہرے پر سے اتارا ۔

وہ جو پوری طرح شیطانیت میں دھت تھا دران کو یوں سامنے دیکھ کر گنگ ہوا ۔ آنکھوں کو بار بار جھپک کر وہ اس بات کا یقین کر رہا تھا کہ اس کے سامنے کھڑا شخص وہی ہے جسے جویریہ پکار رہی تھی ۔

دران کے جبڑے اور بند ہوتی مٹھی کے نیچے بازو کی رگیں ایک ساتھ تن کر ابھر گئی تھیں ۔ ہوا میں اٹھا مکا اس کے جبڑے پر کاری ضرب لگاتا اس کے زمین پر گرا چکا تھا ۔

☆☆☆☆☆

لفٹ کا دروازہ کھلتے ہی دران نے ایک جھٹکے سے اسے زمین پر پھینکا ۔ شیون نے حواس باختہ ہو کر اردگرد دیکھا ۔ وہ تہہ خانے کی گیلری میں اوندھے منھ لیٹا تھا ۔ وہ نیم برہنہ حالت میں تھا ۔ ہاتھ پیچھے باندھ رکھے تھے اور منہ پر بھی سیاہ پٹی باندھ رکھی تھی ۔

دران اسے گیلری میں گھسیٹتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا اور تمام لڑکیاں حیرت سے بھاگ بھاگ کر سلاخوں تک آ رہی تھیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *