Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 25)

Basil by Huma Waqas

روزین کے جواب پر وہ مسکرا کر پلٹی ۔ گہری نیلی مکیسی میں ہلکی گندمی رنگت کے چہرے پر سلیقے سے کیے میک اپ اور چمکتی سیاہ آنکھوں کے ساتھ مسکراتی ہوئی وہ منفرد اور پرکشش لگ رہی تھی ۔

” روزین تمھارے باس کا نام ہٹلر ہونا چاہیے تھا خیر پریشان نہ ہو کچھ نہیں کہیں گے ۔ “

مسکراہٹ کو مزید گہرا کیا ۔ روزین پوری بتیسی نکالے ہنس دی ۔ جویریہ انگلش اٹک کر بولتی تھی لیکن روزین با آسانی اس کی بات سمجھ جاتی تھی ۔

” وہ بہت اچھے ہیں بس غصے کے تیز ہیں ۔ “

ہاتھ باندھے روزین نے شرارت سے ناک بھینچ کر دران کی تعریف کی ۔ وہ مسکراہٹ کو مزید گہرا کئے آگے بڑھی ۔ میکسی بہت خوبصورت تھی لیکن کندھوں پر سکارف یا دوپٹہ نہ ہونا خالی پن محسوس کروا رہا تھا ۔ ڈریسنگ روم میں موجود الماری کھولے اس نے ایک بھرپور نگاہ ایک قطار میں لٹکتے ملبوسات پر ڈالی ۔

” اچھا پھر یہ شال فر والی۔ میرے خیال سے یہ تو بہتر رہے گی ۔ اسے کندھوں پر ڈال لیتی ہوں ۔ اگر ہٹلر تم پر ناراض ہو تو کہہ دینا کہ مجھے سردی لگ رہی تھی ۔ “

سرخ رنگ کی گرم شال تھی ۔ جو اس نے الماری سے باہر نکالی اور روزین کی طرف پلٹی ۔ جانتی تھی اس کی تیاری کی ذمہ داری دران نے روزین کے سر پر ڈالی ہے اور کسی بھی بات پر پوچھ گچھ بھی اسی سے ہی کی جائے گی ۔

” جی یہ اچھی لگے گی ۔ “

پیچھے سے شال کو کندھوں پر گھما کر وہ بازؤں پر درست کرتے ہوئے روزین کی بات پر مسکرائی ۔ گہری نیلی میکسی پر یہ جدید طرز کی سرخ شال جہاں اس کے کندھوں کو ڈھانپ رہی تھی وہاں اس کے سنگہار کا حصہ ہی لگ رہی تھی ۔

” اب ؟ “

شال کو دونوں اطراف میں بازؤں میں ڈالے سوالیہ نگاہوں سے روزین کی طرف دیکھا۔

” بہت اچھی لگ رہی ہیں ۔ “

روزین نے ستائشی چمکتی نگاہوں کو اوپر سے نیچے اس کے سراپے پر ڈالتے ہوئے جواب دیا تو جویریہ نے گہری سانس باہر انڈیلی ۔

” چلیں پھر چلتے ہیں لان میں ۔ “

سر کو آہستگی سے دائیں بائیں جنبش دیتے ہوئے کہا ۔ روزین نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سر ہلایا اور اس سے چند قدم آگے ہو کر کمرے کے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔

لان میں سب لوگ اب اُسی کا انتظار کر رہے تھے ۔ جن میں وہ خود بھی سیاہ کوٹ پینٹ میں ملبوس اس پوری تقریب کا دل بن کر دھڑک رہا تھا ۔ جویریہ کے لان کی راہداری میں قدم رکھتے ہی سب کی نگاہیں ایک ساتھ اس پر اُٹھی اور پھر ٹھہری تھیں ۔ کیمروں کے رخ اس کی طرف مڑ گئے تھے ۔ لان ایک دم اندھیرے میں ڈوب گیا تھا اور سپاٹ لائٹ میں صرف وہی چمک رہی تھی ۔

پر اعتماد چھوٹے چھوٹے ڈگ بھرتی وہ شال کو بڑے سلیقے سے دونوں اطراف سے بانہوں کے سہارے جکڑے ہوئے تھی ۔ دران کی ہدایت کے مطابق دھیمی سی مسکراہٹ کو چہرے پر مزین کیے آگے بڑھ رہی تھی ۔

دران جو پل بھر کو اسے اپنے پسندیدہ رنگ میں دلکشی کا سماں بنے دیکھ کر غیر متحرک ہوا کسی کیمرے کی روشنی نے حواس میں آنے پر مجبور کیا ۔

چند قدم آگے بڑھا اور ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا ۔ ہر طرف سے تالیوں کی آوازیں جویریہ کے خیر مقدم میں گونجی تھیں ۔

دران اس کا ہاتھ تھامے لوگوں کے بیچ آ رہا تھا اور وہ ہمہ وقت اپنے اعتماد اور بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کو بحال رکھنے میں کوشاں تھی۔ بہت سے چہرے تھے ۔چمکتے دمکتے , روشن جدید لباسوں میں ملبوس وجود , کنھکتے قہقوں کے جلترنگ , مہنگے پرفیوم کی معطر , کیمروں کی روشنیاں , تعریفوں بھرے جملے , ایک لمحے کو اسے اپنے آپ بجھا سا اور کمتر لگا ۔

دل کے ڈوبنے جیسا احساس تھا لیکن کیوں ؟

دران اس کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا ۔ لوگوں کے آگے بڑھ کر خوش آمدید کہنے کا جواب دے رہا تھا ۔ لوگوں کی نگاہوں میں حسرت تھی , رشک تھا , جلن تھی , حسد تھا , بہت سی آنکھیں تھیں جن کو وہ نگاہیں گھماتے ہوئے جانچ رہی تھی ۔

مدھم سی مسکراہٹ کچھ گہری ہوئی ۔ گہری سانس کے ساتھ دل کی بے خوفی کو ختم کیا ۔ یہ سب لوگ اس بات سے انجان تھے کہ کچھ بھی اس کا نہیں ہے ۔ نہ ساتھ کھڑا یہ خوبرو , دولت مند , مشہور فلمسٹار اور نہ یہ محل جیسا درانگ ولاس ۔ اسے لوگوں کی آنکھوں میں جھلکتی حسرتوں , نفرتوں پر ہنسی آ رہی تھی ۔

دران اس کا ہاتھ چھوڑے ایک طرف بڑھ گیا تھا جبکہ وہ اپنے سامنے کھڑی موم کی گڑیا جیسی انگیریز لڑکی کی چٹر پٹر انگیریزی زبان سن رہی تھی ۔ وہ اسے اپنی اور دران کی کسی فلم کا قصہ سنا رہی تھی ۔ وہ اس کے قصے کو سن رہی تھی جب عقب سے آتی آواز کانوں میں پڑی ۔

” ویسے ہیرا اصل جوہری کے ہاتھ میں آئے تو ہی اس کی اصل قیمت اور چمک کا اندازہ ہوتا ہے ۔ “

عقب سے آتی مردانہ آواز میں کہے گئے جملے پر وہ پلٹنے پر مجبور ہوئی ۔ برھان ہاتھ میں مشروب کا گلاس تھامے کھڑا مسکرا رہا تھا ۔

” ہائے ۔ کیسی ہیں بھابھی ۔ “

جلدی سے گلاس کو بائیں ہاتھ میں منتقل کرتے ہوئے وہ سلام کے لیے ہاتھ آگے بڑھائے ہوا تھا ۔ جویریہ نے بلا جواز کندھوں پر شال درست کرتے ہوئے نگاہیں چرائیں ۔ برھان کے ساتھ اس دن کی ملاقات یاد آئی ۔ کچھ دوری پر روبی اور اسفند ملک بھی نک سک سے تیار ہوئے موجود تھے ۔ وہ لوگ شائد اب تقریب میں شامل ہوئے تھے ۔

” دیکھیں بھابھی غلط مت سمجھیے گا۔ وہ اس دن پہلی ملاقات تھی اور میں اول فول بک گیا۔ “

برھان کا شرمندہ سا لہجہ اور پیشانی سہلانا وہ اس دن کی نسبت یکسر مختلف لگ رہا تھا ۔ جویریہ نے نگاہ اس کی طرف اٹھائی۔ وہ دوستانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہوئے تھا ۔

” میں اپنی اس دن والی باتوں کے لیے معافی مانگتا ہوں ۔ ” بڑا مؤدبانہ لہجہ تھا ۔

” اٹس اوکے ۔ “

آہستگی سے کہا اور زبردستی مسکراہٹ کو گہرا کیا ۔

” ہاؤ سویٹ ۔ آپ حسین ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سویٹ بھی ہیں مطلب آپ کتنا سریلا بولتی ہیں ۔ “

برھان نے آنکھیں پوری کھولے تعریف میں زمین آسمان ایک کیا ۔ ہاں اس کی آواز بہت خوبصورت تھی لیکن برھان کا یوں تعریف کرنا ۔۔۔ وہ تذبذب حالت میں چہرے کے بدلتے رنگ کو چھپانے لگی ۔

” تھنکس ۔ “

آہستگی سے کچھ نہ سمجھ آنے پر شکریہ ادا کیا جس پر برھان کا خفیف سے قہقہ گونجا ۔ برھان کا نہ صرف رویہ بدلہ ہوا تھا بلکہ اس کے ہر انداز میں بھی وہ آج اپنے لیے احترام محسوس کر رہی تھی ۔ وہ اس کے لیے قائم کی ہوئی اس دن کی رائے کو بدلنے پر مجبور ہو گئ تھی ۔ برھان اب اسے اپنے بارے میں بتا رہا تھا ۔ اپنے ٹی وی ایکٹر ہونے اور اپنے کیریر کے بارے میں ۔ وہ برھان کی باتوں پر مسکراتی ہوئی کچھ دور کھڑے دران کی گھورتی نگاہوں سے بالکل انجان تھی ۔

وہ جو کچھ لوگوں سے ملنے کے بعد پلٹا تھا سامنے برھان کو جویریہ کے پاس یوں قہقہ لگاتے دیکھ کر ناک کے نتھنے ہلکے سے پھول گئے ۔ آنکھیں ایک سکینڈ کے بارہویں حصے میں چندھی ہوئیں ۔ غیر ارادی طور پر وہ اگلے ہی لمحے وہاں موجود تھا ۔

” جویریہ فوٹو شوٹ ہے آؤ ۔ “

پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے رعب سے کہا ۔ وہ دونوں ایک ساتھ چونکے ۔ دران سپاٹ چہرہ لیے پاس کھڑا تھا ۔ پینٹ کی دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے پیشانی پر افقی رخ شکن ڈالے ۔

” کانگریجو لییشن برو۔ ۔۔۔ یو آر لکی مین ۔ شی از بیوٹی ۔۔۔”

بڑے جوشیلے انداز میں برھان بانہیں پھیلائے اس کی طرف بڑھا جب ایک دم سے دران کا پینٹ کی جیب میں سے نکلا ہاتھ ان دونوں کے بیچ حائل ہوا ۔ دران کے بھینچے جبڑے اس کے غصے پر ضبط کی نشانی تھے ۔ برھان نے فوراً خود کو اس صورت حال کے مطابق درست کیا اور مسکرا کر لبوں کو گول کرتا ہوا پیچھے ہوا۔ دران نے ایکدم سے جویریہ کی کمر کے گرد بازو حائل کیا اور اس کے ہمراہ پلٹا ۔ بڑی بے ساختہ حرکت تھی جس پر وہ اس کے مضبوط بازو میں لڑکھڑا کر سنبھلی ۔

” بھابھی ایک فیمیلی فوٹو کے بعد ایک فوٹو دیور بھابھی کی بھی ہونی چاہیے ۔ کیا خیال ہے ؟ “

برھان کی چہکتی سی آواز عقب سے سنائی دی ۔ دران نے اس کی کمر پر رکھے ہاتھ کے ذریعے ایک جھٹکے سے اپنے اور قریب کیا ۔

” اس سے دور رہنا سمجھی ۔ “

کان کے قریب دانت چباتی سرگوشی تھی ۔ اسے شائد غصہ تھا یا پھر جویریہ کو ایسا محسوس ہوا رہا تھا ۔ کمر کے گرد اس کی گرفت عجیب طرح سے سختی لیے ہوئے تھی ۔

” جی “

دھیمی سی آواز حلق سے برآمد ہوئی ۔ فوٹو گرافر کو تو دران نے خود اپنی طرف بلایا تھا ۔ مطلب کوئی فوٹو شوٹ نہیں تھا ۔ وہ جان بوجھ کر برھان سے الگ کر کے لایا تھا اسے ۔ یہ بات اس کی سمجھ سے بالا تر تھی یہ گھر اس کا تھا ۔ یہاں ایک پتا بھی اس کی مرضی کے بنا نہیں ہلتا تھا۔ پھر وہ گھر کے باقی مکین کو گھر میں رکھ کر برداشت کیوں کر رہا تھا ۔ ایسی کیا مجبوری تھی ۔

فوٹو گرافر ایک نہیں تھا بے تحاشہ تھے ۔ چھپاک چھپاک کی آوازیں ارد گرد سے گونجنے لگی تھیں اور بہت سے کیمروں کی روشنیاں اس کے اور دران کے مختلف مناظر قید کر رہی تھیں ۔ چند تصاویر کے بعد ہی دران نے ہاتھ کھڑا کیا اور ایک طرف چل دیا ۔

میزوں پر رنگا رنگ کھانے سج چکے تھے ۔ بیش قیمت پتھر کے برتنوں میں رکھے کھانوں کی تمام ڈیشز دنیا کے مختلف ممالک کے مشہور کھانوں پر مشتمل تھیں۔ دران اسے روزین اور کچھ لڑکیوں کے پاس چھوڑ کر خود ایک طرف چل دیا ۔ وہ اور انل میزبانی بھی سر انجام دے رہے تھے ۔

” بروس نہیں آیا ۔ تمھارا اندازہ درست ثابت ہوا ۔ “

انل کی پاس سے آتی آواز پر دران نے ایک طرف ٹکی نگاہ ہٹائی ۔ ایک نظر انل پر ڈالی اور پھر نگاہوں کا زاویہ کچھ دیر پہلے کے ہی نقطے پر جما دیا ۔ لان میں بجتی مدھر سی موسیقی کے ساتھ لوگ کھانے سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔

” کیا دیکھ رہے ہو ؟ “

انل نے ڈرنک کے گلاس کو لبوں پر سے ہٹائے بھنویں اکھٹی کیں ۔

” ہاروی کی بے چینی ۔ “

بنا نگاہ ہٹائے جواب دیا ۔ کھوجتی سی نگاہیں تھیں ۔ انل نے نگاہوں کا تعاقب کیا سامنے واقعی ہاروی بظاہر تو اپنے ساتھ کھڑے شخص کے ساتھ باتوں میں مگن تھا لیکن کن کن اکھیوں سے بار بار جویریہ کا جائزہ لے رہا تھا ۔

” مطلب ؟ “

” شیون بھولا نہیں اس کو ۔ مطلب اس کی جان نہیں چھوڑے گا ۔ “

دران نے جویریہ کی طرف دیکھا ۔ وہ ہاتھ میں پلیٹ تھامے کسی عورت کے ساتھ باتوں میں محو تھی ۔ کھانا آہستگی سے چباتے ہوئے بار بار ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا رہی تھی ۔

” ہمارا مقصد پورا ہوتے ہی ۔ اسے پاکستان بھجوا دینا ہے ۔ “

دران یک ٹک جویریہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔

” لیکن وہاں بھی تو اس کو خطرہ ہو سکتا ہے نہ ؟”

” یہ ہمارا مسئلہ تو نہیں ہو گا ۔ “

لبوں کو سختی سے آپس میں ملائے انل کی طرف دیکھا ۔ لہجہ حد درجہ بے اعتنائی لیے ہوئے تھا ۔ ہاتھ میں پکڑے گلاس کو لبوں سے لگایا ۔

” ہاں ۔۔ صیح کہہ رہے ہو ۔ “

انل نے سر اثبات میں ہلاتے ہوئے تائید کی ۔ پھر بے ساختہ ہنس دیا ۔

” ہنس کیوں رہے ہو ؟ “

دران نے ایک آبرو اچکائے ۔ انل مسکراہٹ دبا تا ہوا سامنے دیکھ رہا تھا ۔ مشروب کا بھرا گھونٹ جلدی سے حلق میں انڈیلا ۔

” دیکھ رہا ہوں تم نے اس ڈرپوک سی لڑکی کو بھی پوری ایکٹریس بنا دیا ہے ۔ “

پوری بتیسی نکالے آنکھ کے کونے کو ہلکا سا دبایا ۔ جویریہ پر اعتماد انداز میں مختلف لوگوں کے ساتھ بات کرتی انل کو حیران کر رہی تھی ۔

” وہ ڈرپوک نہیں ہے ۔ بہت مضبوط لڑکی ہے ۔ “

” آہم ۔م۔م۔م ۔۔”

دران کے برجستہ جواب پر بے ساختہ وہ گلا کھنکار گیا ۔ دران کا اس کو بار بار دیکھنا تو پہلے سے ہی شک میں مبتلا کر رہا تھا اوپر سے یوں وہ کسی کی تعریف کر دے بات حلق میں ہی پھنس کر رہ گئی تھی ۔

” اور ایک نمبر کی سر پھری اکڑ والی اور بدتمیز بھی ہے ۔ ” انل کے شوخ ہونے سے پہلے ہی وہ سپاٹ لہجے میں اپنی اگلی بات کر گیا ۔ انل جو کچھ کہنے جا رہا تھا رکا ۔ پھر آنکھیں شرارت سے چمکیں ۔

” مطلب تمھارے جیسی ہے ۔ “

شرارت سے کہتے ہوئے دران کی گھوری سے بے نیازی برتی اور اس کے ہاتھ سے خالی گلاس تھاما ۔

” میں ڈرنک لے کر آتا ہوں ۔ “

مسکراہٹ کو بمشکل دبائے وہ ایک طرف چل دیا جبکہ دران نے پھر سے ایک بھرپور نگاہ اس پر ڈالی جو مخروطی انگلیوں والے ہاتھ کو چہرے پر رکھے کسی بات پر بے ساختہ ہنس رہی تھی ۔

میرے جیسی نہیں ہے وہ ۔ اس کی مسکراہٹ بہت خوبصورت تھی ۔ اس کے مسکرانے پر اسے اپنے اندر کچھ عجیب سا سکون اترتا ہوا محسوس ہوتا تھا ۔ وہ جو یوں اسے محو ہو کر دیکھ رہا تھا اچانک جویریہ کے دیکھنے پر فوراً نگاہوں کا زاویہ بدل لیا ۔

☆☆☆☆☆

کی بورڈ پر سفید مخملی سی انگلیاں تیزی سے چل رہی تھیں ۔ سنہری بالوں والی لڑکی کمپیوٹر کے میز کے آگے بیٹھی تھی ۔ یہ چھوٹا سا کمرہ تھا جہاں ایک قطار میں بہت سے کمپیوٹر رکھے ہوئے تھے جن پر مختلف ریکارڈنگ چل رہی تھیں۔ یہ ریکارڈنگز کسی بیکری کی مختلف جگہوں کی تھیں ۔

ایک دم سے لڑکی کے سامنے موجود کمپیوٹر سکرین پر ریکارڈنگ چلنے لگی ۔ یہ بیکری کے باہر کے دروازے کی ریکارڈنگ تھی ۔ سیاہ ہڈی پہنے ایک لڑکا بیکری میں داخل ہو رہا تھا جس نے اپنا چہرہ مکمل طور پر ڈھانپ رکھا تھا ۔ وہ بار بار سکرین پر اسی ویڈیو کو آگے پیچھے کر کے دیکھ رہی تھی ۔

” کیا ہوا جیسیکا ؟ “

عقب سے ابھرتی آواز پر وہ چونک کر پلٹی اور پھر گہری سانس خارج کی ۔ گارڈ سوٹ میں ملبوس پول اس کے پیچھے کھڑا حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔

” کچھ نہیں سر ؟ “

مایوسی سے گہری سانس خارج کی , کی بورڈ پر انگلیاں چلائیں اور سکرین بند کر دی ۔

” تم آج پھر ریکارڈنگ چیک کر رہی ہو۔ بتاؤ کیا پریشانی ہے ؟ شائید میں کوئی مدد کردوں تمھاری ۔ “

” نہیں سر فلحال تو نہیں لیکن بتاؤں گی “

مسکرا کر کہا , کرسی کے بازؤں پر وزن ڈالے اٹھی اور پھر اپنی ٹوپی کو سر پر جماتی کمرے سے باہر نکل گئی ۔ دو سال سے لگاتار اسے کسی شخص کی طرف سے مالی مدد مل رہی تھی لیکن حیرت کی بات تھی وہ خود کو مخفی رکھے ہوئے تھا ۔ وہ ہر مہینے کسی مخصوص دن یا وقت پر نہیں آتا تھا اور ہمیشہ کسی کسٹمر کے ذریعے ایک پیکٹ اس تک پہنچتا تھا جس میں بھاری رقم ہوتی تھی ۔

☆☆☆☆☆

درانگ ولاس صبح کے سات بجے مکمل خاموشی میں ڈوبا تھا ۔ جویریہ نے کمرے سے باہر راہداری کو عبور کیا لیکن اوپر جاتے زینوں کے پاس آکر رک گئی ۔ مسٹرڈ فراک پر رات والی سرخ شال اچھی طرح کندھوں کے گرد لیپیٹے تھکے سے چہرے کے ساتھ وہ گردن ادھر اُدھر گھما کر دیکھ رہی تھی جب عقب سے آواز سنائی دی ۔

” کچھ چاہیے آپکو ۔ “

وہ سرعت سے پلٹی ۔ انل جاگنگ سوٹ میں ملبوس پیچھے کھڑا تھا ۔ کمر کے دونوں اطراف پر ہاتھ رکھے حیرت سے پوچھ رہا تھا ۔

” مجھے وہ کچن میں جانا ہے ۔ “

اردگرد متلاشی نگاہیں دوڑاتے ہوئے جواب دیا ۔ رات دیر تک چلنے والی تقریب کی وجہ سے وہ اپنی نیند پوری نہیں کر پائی تھی اور اب سر میں شدید درد نے چائے کی طلب کو اتنا بڑھا دیا کہ وہ بنا سوچے سمجھے کمرے سے باہر آ گئی ۔

” کچھ چاہیے تھا تو روزین کو انٹرکام کر دیتیں ۔ “

” نہیں وہ تو شائد نو بجے اٹھتی ہے ۔ اچھی بات نہیں اپنے چھوٹے سے کام کے لیے اسے جگاؤں۔ “

مبہم سی مسکراہٹ سجائے فوراً سے انل کے مشورے کو رد کیا ۔

” گڈ ۔ چلیں دائیں طرف ہے کچن میں لے چلتا ہوں ۔ “

انل نے ہاتھ کے اشارے سے آگے بڑھنے کے لیے کہا ۔ وہ سر اثبات میں ہلائے فوراً اس کی تقلید میں آگے بڑھی ۔ لاؤنج سے ڈائنگ ھال گزرتے ہوئے وہ کچن کے دروازے کے سامنے رکا ۔

” کچن ۔ “

ہاتھ کا اشارہ کچن کے دروازے کی طرف کیا جبکہ وہ تو پہلے ہی آنکھیں پوری کھولے کچن کے آگے مجسم کھڑی تھی ۔ کچن تھا یا کیا ! جدید طرز پر تیار ہر طرح کی سہولت سے لیس سفید ٹائلز والا شیشے کی طرح چمکتا خوبصورت کچن تھا ۔

” تھنکیو “

تشکر آمیز نگاہوں سے انل کی طرف دیکھ کر خوشی سے کہا ۔ وہ اثبات میں سر ہلا کر پلٹا ۔

” اوہ رکیں چائے پیں گے آپ ؟ “

جویریہ کی پکار پر وہ رکا اور پھر سے پلٹا اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا وہ مصومیت سے التجا کر گئی ۔

” پلیز پی لیں۔ دراصل مجھے لان میں جا کر پینی ہے ۔ آپ ساتھ ہوں گے تو جھجک نہیں ہو گی ۔ “

تیزی سے التجا کی وضاحت دی تو انل بے ساختہ ہنس دیا ۔ وہ کتنے دن سے لان میں جانے کی خواہش مند تھی جس کی جھجک رات تقریب کی وجہ سے قدرے کم ہوئی لیکن اب بھی اکیلے جانا عجیب لگ رہا تھا ۔

” بنا لیں میں منہ ہاتھ منہ دھو کر آتا ہوں ۔ “

انل نے مسکراتے ہوئے حامی بھری تو وہ خوشی سے پوری بتیسی نکالے ہنس دی ۔

” تھنکیو ۔ ابھی بناتی ہوں آپ جلد سے آ جائیں ۔ “

پرجوش انداز میں وہ ڈی فریزر اور فریج کی لگی قطار کی طرف بڑھ گئی جبکہ انل کچن سے باہر جا رہا تھا ۔

☆☆☆☆

” پھر دران نے بتایا کہ آپ اُسے کیسے ملی تھیں اور اس دن جذبات میں آ کر کیے جانے والے اس کے فیصلے سے اسے کیسے روکا تھا ۔ “

انل نے مسکراتے ہوئے بات مکمل کی ۔ لان میں سوئمنگ پول کے پاس لگی سفید کرسیوں پر وہ آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔ قالین کی طرح بچھی سبز گھاس پر شبنم چمک رہی تھی۔ سوئمنگ پول کا نیلا پانی یخ چلتی ہوا کے ساتھ اپنی تہہ پر لہریں بنا رہا تھا ۔

” بہت مشکل سے بچایا تھا میں نے انہیں ۔ مت پوچھیں کیا ہوا تھا ۔ مجھے اٹھا کر بلڈنگ سے نیچے پھینکنے والے تھے ۔ “

جویریہ کی بات پر جہاں انل کی حیرت سے آنکھیں پوری کھلیں وہیں بے ساختہ قہقہ امڈ آیا ۔

” کیا؟ ” بمشکل ہنسی کو بریک لگاتے ہوئے سوال کیا ۔

” ہاں سچ کہہ رہی ہوں ۔ میں نیچے نہیں جا رہی تھی ان کا بازو نہیں چھوڑ رہی تھی تو وہ مجھے اٹھا کر نیچے پھینکنے جا رہے تھے ۔ “

اب کی بار تو انل کی ہنسی کا نہ رکنے والا دورانیہ تھا ۔ جویریہ نے مسکراہٹ کو گہرا کیے غور سے دیکھا ۔ وہ دل سے قہقہ لگا رہا تھا حتی کے اس کے کندھے بھی ہل رہے تھے ۔ وہ آج پہلی دفعہ انل کو ہنستے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔

” آپ ہنستے بھی ہیں ؟ “

بھنویں اچکائے عجیب سا سوال پوچھا ۔ انل نے ہنسی کو قابو کیے حیرت سے دیکھا ۔ وہ سنجیدہ بیٹھی تھی۔

” مطلب ؟ ہاں ہنستا ہوں ۔ “

” اچھا مجھے لگا دران کے اتنا قریب رہنے والا انسان کیسے ہنس سکتا ہے ؟”

کندھے اچکائے سپاٹ لہجے میں کہا اور پھر ٹانگ پر رکھی ٹانگ کو ہلکا سا جھلاتے ہوئے چائے کا گھونٹ بھرا ۔

” وہ بھی ہنستا ہے ۔ انفیکٹ اس کی ہنسی بہت خوبصورت ہے ۔ “

انل نے حیرت سے اس کی بات کی تردید کی ۔ وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ نفی میں سر ہلا گئی ۔

” مجھے تو لگتا ہے دو کام زندگی میں انہوں نے کبھی نہیں کیے ۔”

سر جھکائے آہستگی سے کہا اور پھر چہرہ اوپر اٹھائے انل کی حیرت سے کھلی آنکھوں میں دیکھا ۔

” ہنسنا اور رونا ۔ انہیں صرف غصہ کرنا آتا ہے ۔ “

” نہیں تو دران ہنستا ہے ۔ “

انل نے وثوق سے نفی کی ۔

” اور روتا ؟ “

لبوں کو آپس ملائے برجستہ سوال پوچھا ۔

” مطلب کیا رویا ہے کبھی وہ ؟ “

فوراً اپنے سوال کی وضاحت دی جبکہ انل ابھی بھی ناسمجھی اور حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔

” مجھے ایسا لگتا ہے وہ اگر کبھی ہنسے بھی ہوں گے تو دل سے نہیں ہنسے ہوں گے ۔ ان کو رونا چاہیے ۔ “

سر کو ہلاتے ہوئے مشورہ دیا ۔ انل کی پیشانی پر یک لخت شکن ابھرے اور چہرے پر سنجیدگی طاری ہوئی ۔

” وہ بہت مضبوط انسان ہے ۔ مضبوط انسان کبھی نہیں روتے اور میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ میں کبھی اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھوں۔ “

” میں دیکھنا چاہتی ہوں ۔ “

پر اعتماد لہجہ ۔ انل کی بھنویں مزید اکٹھی ہوئیں ۔

” جس انسان نے آپکی زندگی میں آنسو چن لیے ہوں آپ اسے روتا دیکھنا چاہتی ہیں ۔ سٹرینج ۔۔۔”

انل نے لب باہر نکالے حیرت کا اظہار کیا ۔

” آپکو کیوں لگتا ہے آنسو کوئی بری چیز ہیں ؟”

انل نے جواب دینے کے بجائے چائے کا گھونٹ بھرا اور جواب طلب نگاہوں سے اسی کی طرف دیکھا ۔

” آنسو اللہ نے بنائے ہیں اور ہمارے جسم کے نظام میں ان کا بہت اہم کردار ہے ۔ آنسو دل کے زخموں کو ناسور نہیں بننے دیتے ۔ “

کپ کو دونوں ہاتھوں کی گرفت میں دھیرے سے گھماتے ہوئے وہ بڑے اعتماد سے اور ٹھہرے سے لہجے میں کہہ رہی تھی۔

” جو لوگ اپنے دکھ , درد ارور تکلیف میں آنسو بہا دیتے ہیں۔ اللہ ان کے دلوں کو نرم کر دیتا ہے ۔ ان کے اندر کا سارا غبار , تکلیف آنسوؤں کی شکل میں بہہ جاتی ہے اور دل شفاف ہو جاتا ہے ۔ “

مسکرا کر انل کی طرف دیکھا جس کی پیشانی پر پڑے بل آہستہ آہستہ کم ہو رہے تھے ۔

” زرخیز گیلی مٹی جیسا نرم جس میں غم کے بعد آنے والی نئی خوشیوں کے بیج میں سے با آسانی کونپلیں پھوٹ پڑتی ہیں ۔ “

سامنے لان کے ایک طرف موجود سرسبز گھاس میں لپٹی پہاڑی کی طرف دیکھ کر کھوئے سے لہجے میں کہا ۔ کپ میز پر رکھا اور اپنی جگہ سے اٹھی ۔

” اور جو لوگ اپنے غم میں آنکھیں نم نہیں کرتے ان کے دل بنجر ہو جاتے ہیں ۔ ایسے بنجر دلوں میں آنے والی خوشیاں سر پٹخ پٹخ واپس لوٹ جاتی ہیں ۔ “

رخ پھیر کر وسیع لان کے ایک طرف لگے پھولوں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔ انل اب بھی خاموش بیٹھا تھا۔ ہاتھوں میں کپ تھامے ۔

” اور اگر کبھی بھولے سے ان کے دل میں کوئی کونپل کھلنے بھی لگے تو وہ نوچ دیتے ہیں ۔ آپکے دوست کا دل بھی بنجر ہو چکا ہے ۔ آپ اُسے لاکھ ہنساتے ہوں گے لیکن بنجر دلوں کے ساتھ صرف لب ہنسا کرتے ہیں آنکھیں نہیں ۔ “

دو ٹوک لہجے میں کہتی ہوئی وہ پلٹی انل اس کی بات پر مجسم اسے دیکھ رہا تھا ۔ شال کو کندھوں کے گرد مزید لیپٹتی وہ قدم اب اندرونی ہال کی طرف بڑھائے ہوئی تھی جبکہ انل اسی طرح بیٹھا تھا ۔ مجسم کپ تھامے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *