55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

“میرال کیا میں تم سے ایک منٹ بات کر سکتا ہوں؟” وہ جلدی میں کلاس کی طرف جا رہی تھی جب پیچھے سے ہارون کی آواز آئی۔ میرال نے مڑ کر اسکی طرف دیکھا۔ آج پہلی بار ایکس میٹ کا کیوئی ممبر اتنے پولائیٹ لہجے میں اس سے مخاطب ہو رہا تھا چونکنا تو بنتا تھا۔
“کیا ابھی کچھ باقی ہے جو توڑنا ہے؟” میرال نے سخت لہجے میں کہا۔ ہارون شرمندہ سا ہوا۔
“ایم سوری! ہماری وجہ سے تم اتنے دنوں سے پریشان ہو رہی ہو” وہ شرمندگی سے بھرے لہجے میں بول رہا تھا۔
“ہارون مجھے نہیں معلوم تم سب میرے پیچھے کیوں پڑے ہو، خیر جو بھی ہوا میں بھول چکی ہوں تم بھی بھول جاؤ، اور شرمندہ مت ہو” میرال نے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر کہا۔
“میرا وعدہ ہے آئندہ تمہیں کوئی تنگ نہیں کرے گا، بلاج نے تمہاری مما کا آخری گفٹ توڑا اسکے لیے پھر سے سوری ” ہارون کو بریلسٹ والی بات یاد آئی تو اسکے لیے بحی سوری بول دیا یہی بات اسے سب سے زیادہ بری لگ رہی تھی۔
“تمہیں کیسے پتہ وہ آخری گفٹ مطلب؟” میرال بولتے بولتے چپ سی ہو گئی۔
“کل جب تم حیات کے سامنے رو رہی تھی تب میں نے سب سنا تھا، میرا انٹیشن سننے کا نہین تھا بس ہم بلاج کے پیچھے جا رہے تھے، تو رستے میں۔۔۔۔” وہ ایک دفع پھر شرمندہ ہوا تھا۔
“ایٹس اوکے ” میرال نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
“میں چلتی ہوں سر آنے والے ہیں ” میرال نے ہاتھ میں بندھی گھڑی سے وقت دیکھتے ہوۓ کہا۔ ہارون نے ہاں میں سر ہلایا۔ میرال چلی گئی۔ وہ بھی اسکے پیچھے ہی کلاس میں داخل ہوا۔ جہاں حسام، امرحہ اور عائشہ کرسیوں پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ وہ چپ سا انکے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
“ہاۓ گائیز! ” راحیل موبائل پر کسی کو میسج کرتا مشی لوگوں کے پاس آ کر بولا۔ ایماب مشی کو پارٹی کی پلانگ بتا رہی تھی، مشی، رضوان بچارے پچھلے آدھے گھنٹے سے اسکی پلانگ سن رہے تھے۔ جس میں وہ اپنی پارٹی کی تیاری سے زیادہ خود کے کپڑے اور جوتوں کا زیادہ بتا رہی تھی۔ میرال چپ سی انکی باتیں سن رہی تھی۔ تبھی بلاج کلاس میں داخل ہوا۔ وہ ان چاروں کو دیکھتا انکے پاس آ کر بیٹھا ہارون نے چہرہ موڑ لیا۔ بلاج کو کافی برا لگا۔
“ویسے میرال میں نے سنا تو نے کسی کو پنچ مارا” راحیل اپنی رو میں بیٹھی میرال کو دیکھتے سوالیہ انداز میں بولا۔ میرال نے فوراً بلاج کی بیک سائیڈ دیکھتی وہ سامنے دیکھ رہا تھا۔
“مشی سر امجد کی اسائمنٹ والے نوٹس دینا” میرال نے راحیل کو سوال پورا اگنور کیا۔
“جو اسطرح کی حرکت کرے اسے ایک ہی بجاۓ تین چار پنچ مارنے چاہیں تا کہ انکی عقل تو ٹھیکانے اۓ” راحیل نے دونوں بازو سر کے پیچھے باندھتے ہوۓ اونچی آواز میں کہا۔ بلاج نے اپنا سر کرسی کے بیک پر ٹکا دیا۔
“راحیل مجھے بہت ہی اچھا لگے گا اگر تم میرا نام اپنی لڑائی میں شامل مت کرو” میرال نے غصے سے کہا کیونکہ وہ اب ان چیزوں سے تنگ آ چکی تھی۔ حسام کا قہقہ بلند ہوا وہ اپنی سیٹ سے کھڑا ہوا اور اونچی اونچی ہنسنے لگا۔ راحیل کے ماتھے پر بل پڑے۔
“سالے پہلے اپنا گروپ تو بنا لے پھر ہم سے پنگا لینا، تیرے گروپ کا ایک ممبر کچھ کہتا ہے اور دوسرا کچھ، رک تجھے میں سمجھاتا ہوں، دیکھ گروپ میں دوستی ہونی بہت ضروری ہے، او شیٹ میں تو بھول گیا تجھ میں تو دوستی کا د بھی موجود نہیں تو کیا گروپ بناۓ گا تجھے بس اُڑ اُڑ کر دوسرے کے بارے میں باتیں کرنی ہیں” حسام پہلے ہنستا پھر سنجیدگی سے بولا۔
“ہنہہ دوستی! خیر میرا منہ مت ہی کھلوا یہ دوستی وستی کی باتیں کم از کم میرے سامنے تو مت کر، بہت پہلے ہی میں نے سیکھ لیا تھا، دنیا میں دوستی وُوستی والی چیز کچھ نہیں ہوتی” راحیل نے اپنی ٹانگیں سامنے والی کرسی پر سیدھی رکھتے ہوۓ کہا۔
“اس دنیا میں تو آخری انسان ہو گا جو کوئی سبق سیکھے گا، ایک نمبر کا بےوقوف ہے” حسام کو نا جانے کیوں اس پر غصہ آ رہا تھا۔ راحیل اسکا جواب دیتا تبھی امجد سر آ گے۔ سبھی کلاس لینے میں مصروف ہو گے۔


“نہیں مشی بالکل نہیں، بالکل بھی نہیں میں کسی پارٹی میں نہیں جا رہی” وہ دونوں اس وقت کوریڈول میں کھڑیں تھیں جب مشی نے اسے پارٹی میں ساتھ چلنے کا کہا۔
“کیا یار میرال میں وہاں بہت بور ہو جاؤں گی، پلیز چلو نا، اس ایماب کی باتین سن سن کر ادھا دماغ تو یہی خرچ ہو گیا ہے، باقی کا وہ پارٹی میں کر دے گی” مشی نے اسے منانےکی کوشش کی۔
“مشی یار میں کیا کروں گی وہاں جا کر میں انوائیڈ بھی نہیں ہوں، کتنا عجیب لگے گا ایسے کسی بھی پارٹی میں چلے جانا نو مجھ سے نہیں ہو گا” میرال اسے مسلسل ٹالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ کیونکہ وہ جانتی تھی یہ ہائی کلاس لوگوں کی پارٹی ہے اور وہاں اسکا جانا بہت عجیب لگے گا۔
“میں نے کہ دیا نا تم چلو گی تو چلو گی اور میری گیسٹ بن کر چلو گی کسی کی ہمت نہیں مشی عالم کی گیسٹ کو کچھ کہے اب چلو مما کب سے ویٹ کر رہیں ہیں” مشی اسے بازو سے پکڑ کر باہر کی طرف بڑھی اور میرال بچاری کو مجبوراً اسکے ساتھ جانا پڑا۔ وہ دونوں آدھے گھنٹے میں گھر پہنچیں۔


وہ پانچوں اس وقت ڈرامہ روم میں بیٹھے ہوۓ تھے، یہاں کم ہی کسی کا آنا جانا تھا روم کافی برا تھا جہاں ہر سال ہونے والے ڈرامہ ایونیٹ کے کاسٹیموم، ایک ریہرسل کے لیے چھوٹا سا سٹیج اور مائیکس وغیرہ پڑے تھے۔
“اب کیا کوئی کچھ بولے گا یا یونہی ایک دوسرے کا منہ دیکھنا ہے” عائشہ نے سب کو کافی دیر تک چل دیکھا تو بولی۔
“واٹ از دس یار کیا اب ہمارے درمیان کسی لڑکی کی وجہ سے لڑائیاں ہوں گی، کیا یہی دوستی باقی بچ گئی ہے، ایک دوسرے کو باتیں سناؤں اور مار پیٹ کرو کیا ہمارا گروپ ایسا تھا” امرحہ کو بلاج اور ہارون پر بے تحاشہ غصہ آیا۔
“گائیز امرحہ ٹھیک بول رہی ہے، ہم سب نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا تھا کبھی ایک دوسرے سے لڑئیں گے نہیں، اگر کوئی بات ہو بھی جاۓ تب بھی ایک دوسرے سے بات کر کے صحیح کریں گے” حسام سنجیدگی سے بولا۔ اس نے کرسی پر چپ چاپ بیٹھے ہارون کو اور کھڑکھی کے پاس کھڑے بلاج کو دیکھتے ہوۓ کہا۔
” میں نے کچھ غلط نہیں کہا، وہی بات کہی جو شائد مجھے اپنے دوست کو بولنی چاہیے تھے” ہارون کندھے اچکاتے ہوۓ بولا۔
“بلاج تو کچھ بولے گا” کب سے چپ کھڑے بلاج کو دیکھتے ہوۓ حسام بولا۔
“ایم سوری! میں غلط تھا مجھے تجھے مارنا نہی۔ چاہیے تھا۔ ٹھیک ہے اب سے میں اس لڑکی کو کچھ نہیں بولوں گا” بلاج نے وہی کھڑے گہرا سانس لیتے ہوۓ کہا۔ وہ کافی تھکا ہوا لگ رہا تھا۔
“کیا بات ہے بڈی تو ٹھیک تو ہے؟” حسام ایک دم اسکے پاس آکر اسکا ماتھا چیک کرتے ہوۓ بولا۔
“کیا کر رہے ہو ، میں ٹھیک ہوں” وہ ایک دم اسکی حرکت پر چڑا تھا۔
“نہیں میرا مطلب ہے بلاج حمدانی نے آج پہلی بار خود سے اپنی غلطی ایکسیپٹ کی” حسام ہنستے ہوۓ بولا۔ بلاج کا دل کیا ابھی اسکے منہ پر پنچ مارے۔
“سوری یار! میں پہلے ہی غصے مین تھا اوپر سے تیری باتوں پر مزید غصہ آیا، سوری تو جانتا ہے میرے لیے تم سب ہی کیا معانی رکھتے ہو” بلاج ہارون کے پاس آکر بولا۔ اسکے لہجے سے احساس ہو رہا تھا وہ واقع شرمندہ ہے۔ ہارون ایک دم سے اسکے گلے لگا۔
“ایم سوری ٹو میں بھی بہت زیادہ بول گیا” ہارون بھی معافی مانگتے ہوۓ بولا۔
“اُو میرے دو انمول رتن، ایموشنل کر دیا” حسام اپنی جھوٹے موٹھے آنسوں کو پونچھتے ہوۓ بولا۔
” لو جی موم کا بار بار میسج آ رہا ہے گھر آؤ گھر آؤ” امرحہ منہ بسورتے ہوۓ بولی۔
“کیوں؟” عائشہ نے سوالیہ نظروں سے کہا۔
“وہ آج نازلی آنٹی کی گھر کوئی پارٹی ہے وہی زبردستی لے کر جا رہی ہیں” وہ اکتاۓ ہوۓ لہجے میں بولی۔
“ہاں وہاں تو مجھے بھی پاپا کےساتھ جانا ہے” ہارون کو بھی یاد آیا۔
“مجھے بھی” عائشہ نے بھی ہاتھ اونچا کرتے ہوۓ کہا۔
“کیا؟ حد ہو گئی اب تو مت بول دینا تجھے بھی جانا ہے، ایک میں ہی رہ جاؤں گا” حسام نے بلاج کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا، جو کہ چہرہ جھکا کر کھڑا تھا۔
“بلاج کسی ایسی پارٹی میں نہیں جاتا جہاں اسکے فادر ہوں، یہ تو ہم سبھی جانتے ہیں” ہارون نے بلاج کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔
“مجھے جانا پڑے گا” بلاج کی آواز پر سب نے چونک کر اسکی طرف دیکھا۔
“کیا مطلب؟ ایسا کیوں؟” وہ چاروں ایک ساتھ بولے۔
“کیوں ؟ کیسے ؟ یہ سب چھوڑو گھر چلتے ہیں پارٹی پر ملیں گے” بلاج نے بات کو ٹالنا چاہا اور مڑ گیا۔
“رک بلاج میں بھی تیرے ساتھ پارٹی میں جاؤں گا، یار اب اکیلا کیسے گھر بیٹھ جاؤ جب مجھے پتہ ہے میرے جگری دوست مزے کر رہے ہیں تو میں کیسے چپ رہ سکتا ہوں میں تیرا گیسٹ بن کر جاؤں گا تیرے گھر پر ہی تیار ہوتے ہیں” حسام بھاگتا ہوا اسکے کندھوں پر لہرایا۔ وہ پانچوں ہنستے ہوۓ باہر چلے گے۔
*
مشی میں اپنا کوئی ڈریس بھی نہیں لانے دیا اب میں کیا پہنوں گی؟” میرال الماری میں گھسی مشی کو دیکھ کر بولی۔ وہ الماری سے نا جانے کیا تلاش کر رہی تھی۔
“یس مل گیا میں یہ پہن کر جاؤں گی” مشی نے الماری سے پینٹ شرٹ نکالتے ہوۓ کہا۔
“واٹ مشی تمہارا دماغ خراب ہے، تم پارٹی میں جا رہی ہو کہی کونسٹ پر نہیں، کوئی پیاری سی ڈریس پہوں پرنسس والی میرا مطلب ہے فراک، یا ساڑھی، یا میکسی ایسا کچھ پہن لو” میرال نے اسکے ہاتھ سے پینٹ شرٹ پکڑ کر صوفے پر پھیکنتے ہوۓ کہا۔
“شکر ہے اس حیات کو کوئی تو ایسی لڑکی ملی جسے کپڑوں کی پہنچان ہے” تبھی سمائرہ بیگم کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولیں۔
” السلام علیکم ! آنٹی” میرال نے انہیں دیکھتے ہی سلام کیا انہوں نے مسکرا کر سلام کا جواب دیا۔
“یہ ڈریس آج تم پارٹی میں پہنوں گی” سمائرہ بیگم نے ہاتھ پر پکڑی میکسی بیڈ پر اچھے سے لکھی۔
“نو مما مین یہ نہیں پہنوں گی، یہ کتنی بھاری ہو اسکو تو دیکھتے ہی چکر آ رہے ہیں نو پلیز میں اسے پہنتے ہی بے ہوش ہونے والی ہو اور ویسے بھی کونسی میری شادی ہو رہی ہے جو اتنی بھاری میکسی پہنوں، ایک چھوٹی سی پارٹی تو ہے” مشی نے فوراً رونے والا منہ بنا کر کہا۔ میرال کو اسکی شکل دیکھ کر ہنسی آئی۔
“کوئی چھوٹی پارٹی نہیں ہے بہت بری پارٹی ہے فیمس بزنس مینز کی فیملیز آ رہی ہیں اور تم کیا چاہتی وہ تمہارے ڈیڈ کی انسلٹ ہو جاۓ، لوگ کیا بولیں گے، کیسی بیٹی ہے ٹھیک سے کپڑے بھی پہننے نہیں آتے اوٹ پٹانگ ڈریس پہن کر آ جاتی ہے، ڈریس پہنوں بیوٹیشن کو تمہارے کمرے میں بھینتی ہوں” انہوں نے اچھی خاسی ڈانٹ لگائی تھی۔ مشی صرف منہ ہی بسور سکی اب وہ جانتی تھی یہ ڈریس تو پہنا پڑے گا۔
“اف کیا عذاب ہے” وہ پاؤں پٹکتی ڈریس کی طرف بڑھی اور اسے لے کر واشروم مین چکی گئی۔ میرال نے اسکے کمرے کی طرف دیکھا جو کہ کافی برا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی وہ چونکی تھی وہ نہیں جانتی تھی مشی اتنے برے گھر مین رہتی ہے وہ کافی کنفیوز ہو گئی تھی کہی مشی کی مما اس سےاچھے سے بات نا کریں پر انکا بی ہیویر دیکھ کر وہ پر سکون ہو چکی تھی۔ تھوڑی دیر بعد مشی ہانپتی باہر نکلی۔
“ؤاؤ مشی بہت پیار لگ رہی ہو” میرال نے اسے دیکھتے ہی دل سے تعریف لی رائیل بلو میسکی جس ہر ہلکا سا موتیوں کا بہت ہی نفاست سے کام ہوا تھا ، اس پر بہت جچ رہا تھا۔
“پتہ نہی۔ کیسے کیری کروں گی، وہ بولتی ہوئی دوبارہ الماری کی طرف گئی اور الماری کی ایک سائیڈ کھولی جس مین اسکے سارے فینسی کپڑے تھے۔
” واؤ مشی یہ سب تمہارے ہیں” میرال نے اتنے زیادہ اور خوبصورت سے کپڑے دیکھتے ہوۓ کہا۔
“ہاں مما اکھٹا کرتی رہتی ہین کہ کبھی تو میری بیٹی یہ سب پہنے گی پر میں نے آج تک نہین پہنے اب تم آ گئی یہ والی فراک پہن لو بہت خوبصورت لگو گی” مشی نے پنک کلر کی ایک خوبصورت سی فراق نکال کر اسے پکڑائی۔
“مشی یہ زیادہ ہیوی نہی۔ وہ جاۓ گی مطلب میں تو تمہارے ساتھ جا رہی ہوں تو اتنی ہیوی اچھی نہیں لگے گی” میرال نے انکار کرنا چاہا
“اچھا ابھی تھوڑی دیر پہلے تو بری باتیں رک رہی تھی اب یہی پہننا پڑے گا” مشی اسے زبردستی واشروم میں بھیجا۔ تب تک بیوٹیش بھی ا گئی وہ مشی کو تیار کرنے لگی۔ میرال بھی ڈریس پہن کر باہر آ گئی۔
“ؤاؤ میرال تم تو صرف ڈریس پہن کر ہی اتنی پیاری لگ رہی ہو میک کی تو ضرورت ہی نہین لگ رہی پر پھر بھی کروانا پڑے گا” مشی نے شیشے سے نظر آتے اسکے عکس کو دیکھتے ہوۓ کہا۔
“میں ویسے میک اپ نہیں کرنے والی، مین نے کبھی میک اپ نہیں صرف کاجل اور لپ گلوس لگاؤں گی اور اب تم مجھے فورس نہیں کروں گی” میرال بولتی ہوئی اسلے پاس آئی اور کاجل پکڑ کر انکھوں میں لگایا اور لپ گلوس ہونٹوں پر لگایا۔ اتنے سے ہی اسکا سفید ملائی جیسا چہرا چمکنے لگا۔ اور پنک کلر میں اسکے چہرے کا رنگ اور خوبصورت لگ رہا تھا۔ تھوڑی دیر تک مشی تیار ہوئی اسنے زبردستی میرال کے بال کھلوا دیے اسکے بال کمرے تک پھیلے ہوۓ تھے، دنوں تیار ہو کر نیچے آئیں جہا سمائرہ بیگم خوبصورت ساڑھی پہنے صوفے پر بیٹھیں تھیں اور راحیل انکے پاس ہی بالکل تیار بیٹھا تھا۔
“نا کرو ماما یہ کون سی مخلوق ہے ہماری مشی کہاں ہے” راحیل سامنے سے چلتی ہوئی آتی مشی کو دیکھتا ہوا بولا۔
“کیا مجھے پتہ تھا میں عجوبہ ہی لگ رہی ہوں گی مما نےا تنی پیٹنگ کروا دی” وہ بالکل رونے والی ہو گی۔
“ارے ارے رونا نہیں پہلے چڑیل لگتی تھی اور اب ” راحیل جلدی سے اسکے پاس اتے ہوۓ بولا۔ سمائرہ بیگم نے اپنی مسکراہٹ روکی۔
“اور اب کیا لگ رہی ہو؟” مشی نم لہجے میں بولی۔
“اب تو پرنسس لگ رہی ہو” راحیل نے اسے مزید تنگ کرنا مناسب نا سمجھا۔
“بہت پیاری لگ رہی ہو” سمائرہ بیگم نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ کہا۔
میرال اس پیاری سی فیملی دیکھ کر ایک دم نم سی ہوئی، اسکے پاس تو یہ سب کچھ نا تھا نا ہی ماں نا باپ نا بھائی اور جو ایک بہن تھی وہ اسکےساتھ بھی نہیں رہ سکتی تھی۔
“چلیں ڈیڈ کی کافی کالز آ چکی ہیں، وہ پہنچ بھی چکے ہیں” راحیل نے تینوں کو کہا وہ چاروں باہر گاڑی کی طرف بڑھے آدھے گھنٹے میں وہ سبھی پارٹی کی لوکیشن پر پینچ گے۔ یہ ایک برا سا حال تھا جہاں اتنی بری پارٹی کا انتظام کیا گیا تھا۔ میرال مشی کے ساتھ اندر گئی۔ جہاں پورے حال میں مرد اور عورتیں تھیں۔ میرال انکے ڈریس دیکھ کر پریشان ہوئی، کافی نا زیبہ ڈریسنگ کی گئی تھی۔ مشی اسے لیے رضوان اور ایماب کے پاس آئی۔


بلاج اور حسام پارٹی کی لوکیشن پر پہنچے، ایک طرف ہارون لوگ کھڑے تھے وہ دونوں وہاں ا گے۔
“بلاج یہاں آؤ” وہ امرحہ سے کچھ بات کر رہا تھا جب کنول بیگم کی آواز آئی۔ اسنے مڑ کر دیکھا وہ کچھ ہی فاصلے پر کھڑیں تھیں، اسکے ماتھے پر واضع بل پڑے۔ پر وہ چلتا ہوا انکے پاس آیا۔۔
“واٹ یہ کیا ہے؟” وہ چاروں ہی حیران ہوۓ تھے۔ کیونکہ اج سے پہلے تو ایسا کبھی نہین ہوا تھا وہ اپنی ماں کے کہنے پرکبھی انکے پاس نہیں گیا تھا۔
“جی بولیں” وہ ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ بولا۔
“چلو سمائرہ اور اسکی فیملی سے مل لو” کنول بیگم نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا۔ بلاج نے ایل جھٹکے سے ہاتھ چھروایا۔
“مجھ سے اتنا زیادہ بھی اسپیکٹ مت کریں جسے میں پورا نا کر سکوں، اپنی فالتو سہیلوں کی فیملیوں سے مجھے دور رکھیں” وہ آہستہ مگر سخت لہجے میں بولا۔
“تمیز سے بلاج” کنول بیگم نے غصے سے کہا۔ وہ بنا انکی سنے واپس حسام لوگوں کے پاس آ گیا۔


“میرال تم یہی روکو میں اتی ہوں” مشی کو اپنی پرانی دوست نظر آئی تو اسکی طرف برھی۔
گائیز مین آتا ہوں” ہارون نے دور سے میرال کو اکیلے دیکھا تو وہ ان سب کو بولتا اسکی طرف بڑھا۔ اسکے یوں جانے پر بلاج نے مڑ کر دیکھا تو وہ میرال کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ میرال کو یوں ادھر دیکھ کر بلاج کے ماتھے پر بل پڑے۔
“تم اکیلی کیوں کھڑی ہو؟” ہارون ہاتھ میں جوس کے دو گلاس پکڑتے ہوۓ بولا اور ایک میرال کو پکڑایا۔
“وہ مشی کسی دوست سے ملنے چلی گئی اسی لیے” میرال نے جوس کا ایک گھونٹ بھرتے ہوۓ بولا۔
“مجھے تمہیں ایک بات بتانی تھی آج بلاج نے ہم سب سے وعدہ کیا ہے وہ اب سے تمہیں تنگ کرے گا تمہین اب اسکی وجہ سے کوئی پریشانی نہیں ہو گی ” ہارون نے کچھ یاد آنے پر کہا۔
“اوو اچھا یہ تو اچھی بات ہے ” میرال نے مسکرا کر کہا۔ تبھی اسکی نظر خود کو گھورتے بلاج پر پڑی۔
“اچھا ہارون مجھے مشی کو ڈھونڈانا ہے، تم اپنے دوستوں کے پاس جاؤ” میرال نے کہا اور اگے برھ گئی ہارون بھی مسکراتا واپس چلا گیا۔
“میں آتا ہوں” بلاج ہاتھ مین پکڑا گلاس وہی ٹیبل پر رکھتا ایک طرف برھا۔
“یہ مشی کہاں چلی گئی بولا بھی تھا مجھے یہاں نہیں آنا” میرال ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ بولی۔
“ہیلو بیوٹی فل گلر کیا تم میرے ساتھ ڈانس کرو گی” تبھی ایک لڑکا اسکے سامنے آتے ہوۓ بولا۔ میرال ایک دم سے ڈرتے ہوے پیچھے ہوئی۔
“نہیں تم جاؤ” وہ اپنے پرس کو زور سے پکڑتے ہوے بولی۔ تبھی وہ لڑکا اسکا ہاتھ پکڑنے لگا جبھی کسی نے اس لڑکے کا بازو زور سے پکڑا۔ میرال نے انے والے کو دیکھا۔
“دفع ہو جاؤ یہاں سے” بلاج نے غصے سے کہا تھا وہ لڑکا وہاں سے چلا گیا۔ وہ بھی بھاگنے لگی۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو” تبھی بلاج اسکے سامنے آتے بولا تھا۔
” میں یہاں کچھ بھی کروں تمہیں اس سے کیا” میرال نے غصے سے کہا۔
میں بھی نا مجھے پہلے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا تم نے سوچا ہو چلو چلتے ہیں امیروں کی پارٹی دیکھتے ہیں، امیر دوست تو بنا ہی لی ہے اب امیروں کا لائف سٹائل دیکھتے ہیں” بلاج نے بھرپور طنز مارا تھا۔
” تمہیں سچ میں لگتا ہے میں نے مشی کو اس لیے دوست بنا؟” میرال نے اسکی باتین سن کر سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھ کر کہا۔
“افکورس! تم جیسی مڈل کلاس فیملی سے بلونگ کرتی ہوئی لڑکیاں ایسا ہی تو کرتی ہیں، یا تو امیر لڑکی کو دوست بنا کر عیش کی اور یا ایک امیر لڑکے سے دوستی کر لی ، اپنے کپڑوں کی طرف دیکھو یہ بھی یقیناً مشی کے ہوں گے” وہ طنزیہ ہنستے ہوۓ بولا۔ میرال نے نفی مین سر ہلاتے اسے دیکھا
“مجھے پتہ تھا تم ایک ہاٹ لیس انسان ہو پر تمہاری سوچ اتنی گھٹیا ہے یہ آج پتہ چلا، تم دوستی کو پیسوں سے تولتے ہو گے میں نہیں، کیونکہ میرے ماں باپ نے ایسی تربعیت نہیں کی” بولتے بولتے اسکی انکھیں نم سی ہو گئی۔ بلاج کچھ سیکنڈ کے لیے اسکی نم آنکھوں کو دیکھتا رہ گیا۔
“آپی! ” تبھی مشی کی چیخ ہال میں گھونجی” میرال اور بلاج نے مڑ کر مشی کو دیکھا۔ جو کہ ایک لڑکی اور آپی کہتی اسے گلے سے لگی ہوئی تھی۔میرال مشی کے پاس چلی گئی۔ بلاج اپنے دوستوں کے پاس آگیا۔
“مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا آپ آ گئی، اور تو مما نے یہ سرپرائیز دینا تھا” مشی سے تو اپنی خوشی سھنمبالے نہیں سھنمبل رہی تھی۔
“مجھے بھی بہت خوشی ہوئی تم سے مل کر” اسماء نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا۔
“اپی میٹ مائی نیو فرینڈ ” مشی نے میرال کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔
السلام علیکم! میرال نے مسکرا کر کہا۔
“ہمم مشی میں سے اور اپنے منگیتر سے مل کر اتی ہوں انتظار کر رہے ہوں گے” وہ میرال کو اگنور کر کے اگے بڑھ گئی میرال کو اسکا انداز کافی برا لگا۔
“تم برا مت ماننا وہ لندن رہتی ہیں اسی لیے ایسی ہو چلی ہیں ورنہ نیچر کی وہ بہت اچھی ہیں” مشی نے میرال کا اترا چہرہ دیکھتے ہوۓ کہا۔ اسنے ہاں مین سر ہلا دیا۔
“او شیٹ یہ باسط بھائی یہاں کیا کر رہے ہیں؟” میرال نے ایک کونے میں کچھ لوگوں کے ساتھ کھڑے باسط کو دیکھتے ہوۓ کہا۔
“کون باسط؟” مشی نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ کہا۔
“مشی میں نے آپی کو یہاں آنے کا نہیں بتایا تھا اگر باسط بھائی نے بتا دیا تو آپی بہت ڈانٹے گی” میرال ایک دم سے پریشان سی ہو گئی تھی۔
“ارے کچھ نہیں ہو گا میں تمہاری آپی سے بات کر لوں گی چلو کچھ کھا لیتے ہیں” مشی بے فکری سے بولی اور اسے لیے کھانے کی ٹیبلز کی طرف برھی۔
اسماء سمائرہ بیگم اور راحیل سے مل کر اب اپنے منگیتر کی طرف بڑھی۔
“آئی مسڈ یو سو مچ ہنی، کیسے ہو؟” وہ ہر لحاظ باے طاق رکھتی اپنے منگیتر کے گلے لگی۔
“دور رہو بے شرم لڑکی” اسنے ایک دم سے اسے خود سے دور کیا تھا۔ اسکے ماتھے پر لا تعداد بل پڑے۔ وہ لڑکھڑائی۔
“کیا ہوا؟ بلاج سکندر حمدانی لگتا ہے ابھی تک دماغی طور پر تم نے مجھے اپنی منگیتر نہیں مانا” اسماء معصوم سا چہرہ بنا کر بولی۔ جیسے ساری معصومیت اسی پر ختم ہو رہی ہو۔ بلاج نے ہاتھ میں پکڑے گلاس پر دباؤ برھایا۔ گلاس چھن کی آواز پر ٹوٹا تھا۔ اور اسکا ہاتھ زخمی کر گیا۔ کافی لوگوں نے چونک کر اسے دیکھا۔
میرے پیچھے مت آنا” وہ چاروں کو کہتا مڑ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ اور کوئی اسکے پیچھے نہیں گیا۔
“ہنہہ” اسماء طنزیہ انداز مین مسکراتی ان چاروں کو دیکھتی وہاں سے چلی گی۔ ان چاروں کے چہروں پر بھی غصہ واضع تھا۔
جاری ہے۔