Rate this Novel
Episode 10
ازقلم فاطمہ طارق
“کیا ہوا عائشہ؟” وہ ایک دم سے چکرا کر گرنے والی تھی، جب امرحہ نے فوراً اسے سھنمبالا۔ وہ اپنا سر پکڑے پاس پڑی کرسی پر بیٹھی۔
“کچھ نہیں بس ایک دم سے چکر آ گیا” عائشہ نے اپنا سر دباتے ہوۓ کہا۔
“تم نے صبح سے کچھ کھایا بھی کہ نہیں ” امرحہ پچھلے دو دن سے نوٹ کر رہی تھی وہ بیمار رہنے لگی تھی۔
“شائد پتہ نہیں” عائشہ نے اپنے بالوں کو پیچھے کرتے ہوۓ کہا۔ جیسے وہ اپنے بارے میں نہیں کسی اور کے بارے میں بات کر رہی ہو۔
“حد ہے رک میں کچھ کھانے کو لاتی ہوں” امرحہ اسکی بے پرواہی دیکھ کر غصے سے بولی اور کھانا لینے چلی گئی۔ عائشہ وہاں سے اُٹھی اور اندر ہوٹل کے روم میں بنے واشروم میں گئی۔ کچھ دیر بعد وہ اپنا چہرہ پونچھتے واشروم سے نکلی۔ جبھی وہ آنے والی شخصیت کو دیکھ کر روکی۔
“کیسی ہو؟ مس عائشہ” راحیل دو قدم چلتا اسکے پاس آ کر بولا۔ عائشہ کے ماتھے پر بل سے پڑے۔ وہ بنا کوئی جواب دیے وہاں سے جانے لگی۔
“لگتا ہے میرا پکارنا اچھا نہیں لگا؟ ایم سو سوری، تو اچھے طریقے سے پکارتا ہوں تو کیسی ہو مسز راحیل عالم” وہ بولا تو اسکی آواز اور آنکھوں میں ایک سرد پن تھا۔ عائشہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی محسوس ہوئی۔
“میرا نام عائشہ خان ہے، تو بہتر ہو گا میرے نام کے ساتھ کوئی بھی فالتو نام لگانے کی جُرات مت کریں مسٹر راحیل عالم” وہ انگلی اُٹھا کر وارنگ دیتے ہوۓ بولی، بیڈ پر رکھا اپنا پاوچ پکڑ کر جانے لگی۔
“ہنہہہ تو اب میرا نام فالتو ہو گیا، واؤ عائشہ خیر میں بھی کس سے پوچھ رہا ہو، جو شائد ساری زندگی میری نہیں ہو سکتی تھی، جس نے محبت نام کا دم تو بہت برھا تھا پر کھوکھلی نکلی” راحیل نے سختی سے اسکا بازو پکڑتے ہوۓ شدید غصے سے کہا وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بول رہا تھا۔
“چھوڑو مجھے درد ہو رہا ہے” عائشہ نے مارے ضبط سے کہا آنکھوں سے آنسو بس نکلنے ہی والے تھے۔ اب یہ درد بازو کو زور سے پکڑنے کی وجہ سے ہو رہا تھا یا اسکے سخت الفاظوں کی وجہ سے۔۔۔ راحیل نے ایک جھٹکے سے اسکا بازو چھوڑا وہ دو قدم پیچھے کو لڑکھڑائی۔
” محبت نبھانے کا دم نا ہو تو محبت کرنی نہیں چاہیے، اور تمہیں تو بالکل نہیں کرنی چاہیے” وہ طنزیہ لہجے میں بولتا کمرے سے باہر نکل گیا۔ آج دو سال بعد وہ اس سے مخاطب ہوا تھا۔ ورنہ ان دو سالوں میں دونوں ایک دوسرے سے مکمل لاتعلق بنے گھوم رہے تھے۔ وہ اپنے چہرے پر بکھرے آنسوں کو صاف کرتی کمرے سے باہر چلی گئی۔
“حد ہے عائشہ کہاں چلی گئی تھی؟” امرحہ کب سے اسے ڈھونڈ رہی تھی وہ اسکے لیے کھانا لے کر آ چکی تھی۔
“یہی تھی” عائشہ نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے۔ نظریں چُراتے ہوۓ کہا۔ امرحہ مے زبردستی اسے کھانا کھیلایا۔
“تم کون ہو اور اس پارٹی میں کیا کر رہی ہو، بتاؤ جلدی تمہیں پہلے کبھی تو نہیں دیکھا” حسام اپنے سامنے ہاتھ میں کھانے کی پلیٹ لیے کھڑی مشی کو گھورتے ہوۓ بولا۔
“کیوں اندھے ہو نظر نہیں آتا مشی ہوں” مشی چلاتے ہوۓ بولی۔
“نظر تو پورا آتا ہے پر تم حیات کیسے ہو سکتی ہو، وہ جسکو ہم نا چاہتے ہوۓ بھی روز دیکھتے ہیں وہ تو لڑکوں کے گیٹ اپ مین لڑکی تھی۔ پر تم تو پہلی لڑکی لگ رہی ہو” وہ ہنستے ہوۓ بولا۔
“ہنس کیوں رہے ہو اچھی نہیں لگ رہی، مما کو بولا تھا مجھے یہ نہیں پہننا، اور تمہاری اطلاع کے لیے میں مشی ہی ہوں لڑکوں والے گیٹ اپ والی بھی اور یہ بھی دونوں میں ہی ہوں ” وہ ایک دم سے رونے والی ہو گئی تھی۔
“ہاہ نا کرو یار کون مشی وہ جو ہماری کلاس میں جھلی سی لڑکی پڑھتی ہے، جسکو دیکھ کر یہ لگتا ہے بچاری کو گھر میں کوئی پوچھتا نہیں لگتا ہے سارا پیسہ نکما بھائی اپنے اوپر لگاتا ہے، اور اس بیچاری کو بچے کچے پھٹے پرانے کپڑے دے دیتا ہے، صحیح بتاؤ دل بر ا دکھتا ہے اس کو دیکھ کر ” وہ فل ڈرامائی انداز میں بول رہا تھا۔ اورآخر میں نکلی آنسو صاف کیے۔ مشی کا ضبط کے مارے بُرا حال تھا۔
“حسام اپنی حد میں رہو ورنہ” وہ ایک دم غصے میں آئی۔ اور بنا اسکا جواب سے دیے پیر پٹختے ساتھ سے نکل گئی۔
“میرال تیری بھلائی اسی میں وہ گی یہاں سے بھاگ لے ورنہ اگر باسط بھائی نے دیکھ لیا تو گھر میں بہت بوال ہو جاۓ گا” وہ پچھلے دس منٹ سے مسلسل چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“میرال میرے پیچھے کیوں چھپ رہی ہو؟ کیا ہے یار” مشی کافی دیر سے اسکی حرکتیں نوٹ کر رہی تھی اب وہ چڑ کر بولی۔
“چھپ کر لُڈو کھیل رہی ہوں کھیلو گی” میرال کو اسکی بات پر غصہ ایا۔
“اچھا چھپ کر کھیلنے کی کیا ضرورت ہے مل کر کھیلتے ہیں” مشی اسے چھیرتے ہوۓ بولی۔ اور اسکی طرف مڑی۔۔
“مشی مجھے لگتا ہے اب میری بھلائی اسی میں ہے یہاں سے چلی جاؤ ویسے بھی یار بہت دیر ہو گی” میرال کافی پریشان تھی۔
“اچھا ٹھیک ہے، چلو میں تمہیں چھوڑ آتی ہوں” مشی بھی اب سیریس ہوئی۔
“مشی یہاں آؤ” وہ دونوں باہر کی طرف جا رہیں تھیں جب مشی کو اسکی بہن اسماء نے بلا لیا۔
“میرال تم پارکنگ میں جاؤ میں دو منٹ میں آتی ہوں” مشی نے اسماء کی آواز سنتے ہوۓ کہا۔ میرال ہاں میں سر ہلاتی باہر کی طرف جانے لگی۔ تبھی اسے پیچھے سے آواز آیی۔
“تم میرال ہو نا یہاں کیا کر رہی ہو؟” باسط نے شائد اسے دیکھ لیا تھا تبھی وہ بولا۔ میرال نے ہلکا سا پیچھے مڑ کر دیکھا پھر اسنے اپنی سپیڈ پکڑ اور پارگنگ مین آکر ہی سانس لیا۔
“یا اللہ باسط بھائی کی میموری کو ختم کر دو انہیں یاد ہی نا رہے انہوں نے کس کو دیکھا ہے آپی سے وہ کچھ ان بولیں” پارگنگ میں آتی وہ مسلسل پیچھے دیکھ رہی تھی کہ کہی باسط پیچھے تو نہیں آگیا۔ تبھی وہ کسی سے ٹکڑائی اور زمین پر گِڑی۔
“اندھے ہو نظر نہیں آتا دیکھ کر نہیں چل سکتے؟” وہ کھڑی ہو سامنے کھڑے بلاج پر چلاتے ہوۓ بولی۔ بلاج تب کا گاڑی کے پاس کھڑا سگڑیٹ پر سگڑیٹ پھونک رہا تھا تاکہ اپنا غصہ کم کر سکے۔
“نہیں اصل میں آنکھیں کراۓ پر دے دی ہیں، یہ تو بٹنز لگاۓ ہیں، ویسے تمہارے پاس بھی دو ہی آنکھیں ہیں تم دیکھ کر نہیں چل سکتی” بلاج نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔
” میں پیچھے دیکھ کر چل رہی تھی کہ کہی باسط بھائی تو نہیں آ گے” وہ ابھی بھی پریشانی میں مڑ کر واپس دیکھ رہی تھی۔۔
“واؤ میڈیم خود پیچھے دیکھ کر چل رہی تھیں اور اندھا مجھے کہ رہی ہیں واؤ، ویسے میڈیم جب بھی ایک نارمل انسان چلتا ہے تو وہ پیچھے دیکھنے کی بچاۓ آگے دیکھتا ہے، او سوری پر تم تو نارمل ہو ہی نہیں” بلاج طنزیہ اندز میں بولا۔
“ہاہا سو فنی نارمل تو ساری دنیا میں سب تم ہی ہو، جو انسان ہر وقت غصے میں رہتا ہے وہ مجھے ابنارمل بول رہا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے جب تم پیدا ہوۓ وہ گے تب بھی تم نے ڈاکٹر کو غصے سے دیکھا ہو گا۔ ” وہ بھی جواباً طنزیہ انداز میں بولی۔ ابھی کچھ دیر پہلے بلاج نے جو اسکے ساتھ بدتمیزی کی تھی وہ ابھی بھولی نہیں تھی۔
“ہممم نہیں میری میموری اتنی زیادہ تیز نہیں کہ پہلے دن کی بات یاد رکھوں کہ نرس کو غصے سے دیکھا ہو گا کہ نہیں” وہ ہلکا سا ہنس کر بولا۔کیونکہ اسکو اسکی بات بچکانی سی لگی۔
“ایک تو مشی پتہ نہیں کہاں رہ گئی، ضرور اپنی بہن کے ساتھ باتوں میں لگ گئی ہو گی” میرال اسکی باتیں اگنور کیے پیچھے دیکھتے ہو مشی کو ڈھونڈرہی تھی کہ کہی سے تو وہ آ جاۓ۔اور اسماء کا ذکر سنتے ہی بلاج کے ماتھے پر بل پڑ گے۔ وہ اپنی گاڑی کی بیگ پر چڑھ کر بیٹھ گیا اور سگڑیٹ کے کش لگانے لگا۔
“میرال بھی چپ کر کے وہاں کھڑی ہو گئی کیونکہ اندھیرا تھا تو وہ اگے جانے سے ڈر رہی تھی تو وہ وہی مشی کا انتظار کرنے لگی۔
” یا اللہ یہ کیا ہوا؟” میرال کی نظر ایک دم سے بلاج کے ہاتھ کے زخم پر پڑی۔
“کیا ہو گیا کیوں چلا رہی ہو؟” وہ یوں اسکے ایک دم سے چلانے پر بولا۔
“یہ تمہارا ہاتھ” میرال نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
“ہاں یہ، چھوڑو”۔ وہ کندھے اچکاتے ہوۓ بولا۔ میرال کو اسکی لا پروائی پر غصہ سا آیا۔ اسنے اپنا چشمہ صحیح کرتے چہرہ موڑا۔
” ویسے تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ تمہارے دوست کہاں ہیں؟” میرال کو وہ یوں اکیلا پارگنگ میں ملا تو وہ تھوڑا حیران ہوئی کیونکہ اتنے دنوں میں اسنے ان سب کو ہر جگہ ساتھ دیکھا تھا۔ بلاج نے اسکا سوال اگنور کیا اور چپ کر کے سگریٹ پینے لگا۔ میرال نے بھی کندھے اچکا دیے۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی۔
” چشمش ایک بات کا جواب دو گی؟” بلاج نے اسکی چشمہ اوپر کرنے والی حرکت برے غور سے دیکھی تو بے ساختہ چشمش نام نکلا۔وہ اسکی طرف دیکھ کر بولا۔ میرال کو کافی حیرت ہوئی یہ آگ کا گولا ایک دم سے ٹھنڈا کیسے ہو گیا۔ ہر وقت غصہ کرنے والا یوں ارام سے کیسے بات کر رہا ہے۔
“پوچھو” میرال نے بنا مُڑے جیسے احسان جتاتے ہوۓ کہا تھا۔
“کبھی لائف میں اگر تمہیں یوں لگے جیسے سارے کے سارے رستے بند ہو چکے ہیں، ڈھونڈنے سے بھی کوئی رستہ نا ملے تم حد سے زیادہ مجبور ہو جاؤ تب تم کیا کرو گی” وہ دور نظر اتے درخت کو دیکھتے کھوۓ ہوۓ لہجے میں بولا۔
“ہممم، ایک دفع میرے ساتھ ایسا ہوا تھا جب مجھے محسوس ہوا اب میری زندگی ختم ہو گئی، ٹھیک اسی طرح لگا تھا جیسے سارے دروازے بند ہو گے ایک دم زندگی میں اندھیرا سا ہو گیا تھا۔ پر پھر مجھے اپنی امی کی ایک بات یاد آئی، لائف میں جب ایک در بند ہوتا ہے تو آٹومیٹکلی دوسرا در کھول جاتا ہے بس ہمیں سوچ سمجھ کر وہ در ڈھونڈنا پڑتا ہے، اسکے بعد میں نے اپنا دوسرا دروازہ دھونڈا خود کو مصروف کیا۔” میرال چہرے پر مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولی۔ بلاج اتنی سی لڑکی کے منہ سے ایسی گہری بات سن کو چونکا تھا۔
“اور تمہیں ایسا کب لگا کہ زندگی ختم ہو گئی ہے؟” وہ بے ساختہ بولا تھا۔ نا جانے کیوں وہ اسکی اتنی بری بات کے پیچھے کی وجہ جاننا چاہتا تھا۔
“جب میری امی فوت ہوئیں” وہ مڑ کر بولی تھی۔ اور بلاج شاک سا ہو گیا۔
“میرال ایم سوری چلو اس گاڑی میں جانا ہے ڈرائیور انکل ا گے ہیں” وہ کچھ بولتا اس سے پہلے مشی کی آواز آئی۔
“یہ اپنے ہاتھ باندھ لینا” میرال نے اپنے پاوچ سے رومال نکال کر اسکے قریب گاڑی پر رکھا۔ اور فوراً مشی پاس چلی گئی۔ بلاج اسے جاتا ہوا بس دیکھتا رہ گیا۔
عالم ہاؤس میں پانچ لوگ رہتے تھے، عالم صاحب انکی بیوی سمائرہ بیگم اور انکے تین بچے سب سے بری اسماء اسکے بعد راحیل اور حیات دونوں ٹونیز تھے۔ اسماء ان سے دو سال بری تھی۔
پارٹی ختم ہو چکی تھی سبھی اپنے گھر کو روانہ ہو چکے تھے۔
“راحیل میرے ایڈمیشن کا پراسس پورا ہوا” اپنے ہاتھ اور پاؤں پر کریم لگاتی اسماء بولی تھی۔
“ہاں ہو گیا پر آپ نے کیا۔ سچ میں دو سال چھوڑا؟، لندن میں کیا پرھتیں تھیں؟” راحیل کو تھوڑا سا عجیب تو لگا وہ دو سال اب کچھ نہیں کر رہی تھی تولندن کی یونی میں کیا کرنے جاتی تھی۔
“ہاں چھوڑا تھا جب میں یہاں سے گئی تھی تو میرے بی بی اے کے فرسٹ سمسٹر کے فائنل ہونے والے تھے جو میں نے مس کر دیے کیونکہ مجھے یہاں سے جانا پڑا۔ وہاں جا کر یونی میں فیشن ڈیزائینگ کا کورس کیا۔ پر اب میں بور ہو چکی ہوں اسی لیے اپنی سٹڈی پوری کرنے واپس آ گئی” وہ بہت ہی عام سے لہجے میں بول رہی تھی راحیل نےبھی سب سن کر کندھے اچکا دیے۔
“مام کل صبح پہلے میں شوٹ پر جاؤں گا اسکے بعد دل کیا تو یونی جاؤں گا” راحیل اُٹھ کر کہتا اپنے کمرے کی طرف برھا۔
“اف شکر ہے اس پھندے سے تو جان چھوٹی آج تو ایسا لگ رہا تھا، میں بس تھوڑی دیر میں مرنے والی ہوں” مِشی اپنے کمرے سے ہلکے پھلکے کپڑے پہن کر باہر آئی اور اسماء کے پاس آ کر اسکے کندھوں کے گرد بازو پھیلا کر بیٹھ گی۔۔ سمائرہ بیگم اور اسماء مسکرا دیں تینوں آج کی پارٹی کی باتیں کرنے لگیں۔
جاری ہے۔
