55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

ازقلم فاطمہ طارق
“بالکل نہیں، تمہارا دماغ خراب ہو چکا ہے ، میں نہیں جاؤں گی، میرا جانا بنتا بھی نہیں” جیسے ہی بلاج نے اسے اپنے ساتھ عمیر کی شادی کے لیے گاؤں چلنے کا بولا۔ وہ تبھی بھڑک اُٹھی۔
“بنتا کیوں نہیں، میرے نکاح میں ہو، بیوی ہو میری، جانا تو بنتا ہے، مجھے شاپنگ کرنا آتا تو نہیں تمہارے لیے دو دن کے ڈریسز اور باقی چیزیں لے لی ہیں تمہارے کمرے میں موجود ہیں پیکنگ کر لو” وہ آرام سے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔ میرال کچن کو جاتی رکی تھی اور واپس پلٹی۔
“بلاج سکندر حمدانی صاحب جی یہ جو نکاح ہے اسکا صرف کچھ گِنے چنے لوگوں کو پتہ ہے، تو پلیز یہ بیوی والی بات تو میرے سامنے دھرانا بھی مت، میں نہیں جاؤں گی یہ فائنل ہے” وہ غصے سے بولتی واپس پلٹی تھی۔ جب اسکی کلائی بلاج کی گرفت میں تھی اسنے جھٹکا دے کر اسکا رخ اپنی طرف کیا اسکی کلائی پر پکڑ سخت ہو رہی تھی میرال نے اپنی کلائی چھڑوانے کی بہت کوشش کی
“مجھے زندگی میں دوبارہ کبھی میرے باپ کے نام کے ساتھ مت بُلانا، میں بھول جاؤں گا، تم میری محبت ہو” وہ سرد انداز میں بولتا میرال کو چپ کروا گیا۔ وہ حیرانگی سے اپنے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھ رہی تھی، جو آج دوسری دفع اسطرح کے موڈ میں آیا تھا۔ اسکا ریزن اسے معلوم نا تھا۔
“چھوڑو مجھے درد ہو رہا ہے” وہ اسکے ہاتھ کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔
“میرا موڈ برباد کرنے میں بہت مزہ آتا ہے نا، مبارک ہو میرے موڈ کا ستیاناس تم کر چکی ہو، مجھے مزید کوئی بحث نہیں کرنی صبح چھے بجے تیار رہنا ہم سب ساتھ نکلیں گے” اسکی کلائی کو جھٹکے سے چھوڑتے سخت لہجے میں کہتا وہ اوپر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
“اسے ہو کیا جاتا ہے بدتمیز کہی کا ” میرال اپنی لال کلائی کو مسلتے ہوۓ بولی۔ اور کچن میں آ گئی۔ کھانا بنا کر وہ باہر آئی تو ایک گھنٹے سے اوپر ہو گیا تھا وہ اسی طرح کمرے میں بند تھا۔ وہ اُٹھ کر اسکے کمرے کے پاس آئی۔ دروازہ کھٹکھٹانے کا سوچ کر وہ اگے بڑھی پھر نا جانے کیوں رک گئی اور نیچے اپنے کمرے میں آگئی۔ کھانا تو اب اس سے بھی نہیں کھایا جانا تھا۔


عائشہ چلو دیر ہو رہی ہے، رات کو مہندی کا فنگشن ہے اتنا لمبا سفر ہے” راحیل اپنا بیگ پیک کرتے جیولری ڈھونڈتی عائشہ سے بولا۔ جو کافی مصروف لگ رہی تھی۔
“ہممم رکو، ہاں یہ والی” وہ ایک دم سے خوشی سے چلائی جیسے اپنی من پسند چیز مل گئی ہو۔ راحیل اسکی حرکت پر مسکرایا۔اسے اپنے بیگ میں رکھا اور جوتا پہنا۔ وہ سامان لے کر باہر آیا۔ گاڑی میں سامان رکھا، باقی سب بھی ریڈی تھی۔
“بتا تو دو جا رہی ہو کہ نہیں رپلائی دو جلدی” مشی بار بار میرال کو میسجز کر رہی تھی۔ راحیل کی گاڑی میں مشی بیٹھ رہی تھی، اسماء دوسری گاڑی ڈرائیو کرنے والی تھی، کیونکہ عالم صاحب کی طبعیت کچھ خراب تھی۔ وہ پیچھے سمائرہ بیگم کے ساتھ بیٹھے تھے۔
“سوری گائیز آئی نو میں کباب میں چھوٹی سی ہڈی ہوں پر کیا کرو، سکون سے جانا چاہتی ہوں، ورنہ اس گاڑی میں تو ڈیڈ کی بزنس کالز سن کر سارا رستہ پک جانا تھا” مشی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔ اسنے اپنے ساتھ ایک ہینڈ بیگ رکھا تھا جسکے اندر بس کھانے کی چیزیں تھیں،
“تم چھوٹی سی نہیں بہت موٹی والی ہڈی ہو” راحیل سیٹ بیلڈ باندھتے ہوۓ اسے چڑا گیا۔
“کچھ بھی بولو میں تو یہی بیٹھوں گی” وہ سیٹ پر پاؤں پھیلا کر لیز کھولتے ہوۓ بولی۔۔ راحیل نے نفی مین سر ہلایا، ابھی وہ گھر سے نکلے بھی نا تھے اور وہ ابھی سے کھانا شروع کر چکی تھی، جانتا تھا پورا رستہ وہ تنگ کرتی رہے گی۔ عائشہ فون پر میسج کر رہی تھی۔
دوسری طرف امرحہ کے والدین ایک گاڑی میں تھے، امرحہ تو مر کے بھی انکے ساتھ نا بیٹھتی سارا رستہ لڑائی ہی سننی پڑتی۔ وہ ہارون اور جاوید صاحب کے ساتھ بیٹھی۔ جاتے وقت ہارون کو حسام نے پک کیا۔
مریم بیگم حرا عمیر اور سکندر حمدانی کل ہی گاؤں چلے گے تھے۔


وہ مکمل تیار ہو کر نیچے آیا، میرال کہی نہیں تھی، وہ کمرے میں آیا تو وہ تیار ہو رہی تھی۔
“تیار ہو تو چلیں” وہ اندر داخل ہوتے ہوۓ بولا۔ میرال نے چادر اپنے اوپر لی۔ اور پلٹی۔
“میں یونی جا رہی ہوں، تم جاؤ” اپنا بیگ کندھے پر ڈالتے چادر کو مزید درست کرنے لگی۔ بلاج کا دماغ بھک سے اُڑا، وہ اگے بڑھا اور ایک بیگ نکلا اور اس میں کل کے لاۓ کپڑے جلدی جلدی رکھنے لگا۔
“کرتے رہو میں جا رہی ہوں” وہ غصے سے بولتی کمرے کے دروازے کی طرف بڑھی۔
“اوکے فائن نہیں جانا مت جاؤ میں بھی نہیں جاؤں گا، تو کیا ہو گیا بھائی کی ہی تو شادی ہے، نہیں دیکھوں گا” بلاج وہی بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ ایموشنل ہو کر بولا۔ میرال وہی رک گئی اور پلٹی۔ اسکی یہ ایموشنل شکل دیکھ کر اسنے نفی میں سر ہلایا
“تم بچے نہیں ہو جو ایسی ایموشنل بلیک میلنگ کرو گے اور میں مان جاؤں گی، میں جا رہی ہوں پلیز تم بھی جاؤ گھر کی ایکسٹر کی میرے پاس ہے” میرال بول کر جانے لگی، بلاج کو اپنی پلینگ فیل ہوتی نظر آئی وہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور جلدی سے اسکے سامنے آتے اسکا رستہ روکا۔
“واٹ بلاج ” وہ چڑتے ہوۓ بولی۔
“ہاۓ چشمش ایسے نام لو گی تو قسم سے یہی خوشی سے مر جاؤں گا” وہ اپنے دل ہر ہاتھ رکھتے آہ نکالتے ہوۓ بولا۔ میرال نے اسے بس گھورا،
“میرال میری بات غور سے سننا اسکے بعد تمہارا جو بھی فیصلہ ہو گا مجھے منظور ہے” وہ دو قدم اگے بڑھا اور اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے مظبوط ہاتھوں میں لیا۔ اسکے اس انداز پر نا جانے کیوں میرال کی دھڑکنیں بے ربت ہوئیں۔ وہ کچھ بول ہی نا پائی۔
“میری لائف میں میرے بھائی کے بعد تم ہی ایسی انسان ہو جو مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے، میں نے اور میرے بھائی نے زندگی میں زیادہ خوشی کے پل نہیں دیکھے، وہ آج بہت خوش ہیں جس سے محبت کرتا تھا اس سے شادی ہو رہی ہے، اور مجھے میری بھائی کی ہر خوشی میں بھر چڑھ کر شریک ہونا ہے، اور میں چاہتا ہوں، تم ہر پل میرے ساتھ ہو، سالوں بعد میں خوشی کو محسوس کر رہا ہوں، کیا تم میرا ساتھ نہیں دو گی؟’ وہ اسکی آنکھوں میں انکھیں ڈالے مدہم لہجے میں بول رہا تھا اسکے ایک ایک الفاظ سے سچائی کی مہک آ رہی تھی۔
” لیکن میں کیسے تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔ مطلب عجیب لگے گا سب کیا سوچیں گے” میرال نے اپنے دل کی بات زبان پر لائی۔
“فکر مت کرو، بیوی بنا کر نہیں لے جا رہا، دوست کہ کر ہی انٹروڈیوس کرواؤں گا، تو اب چلو گی چشمش” وہ ہلکا سا جھکا اور اسکا چشمہ نکال کر پکڑ لیا۔
“اف بلاج میری نظر بہت ویک ہے نظر نہیں آرہا تھا” میرال نے اس سے چشمہ لینا چاہا۔
“پہلے چلنے کے لیے ہاں بولو” وہ اپنا ہاتھ اونچا کرتے ہوۓ بولا۔ جانتا تھا وہ پکڑ نہیں پاۓ گی۔
“اوکے فائن چلتی ہوں چشمہ دو اب” وہ ہاں بھرتے ہوۓ بولی۔ بلاج کی خوشی کا کوئی ٹھیکانا نہیں تھا۔
“او گاڈ چشمش تمہاری نظر تو کافی ویک ہے، اتنی ویک ہونا اچھی بات نہیں آ کر سب سے پہلے تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر چلوں گا” چشمہ پہن کر اسنے چیک کیا تو معلوم ہوا اسکی نظر بہت ویک ہے۔ وہ فکرمندی سے بولا۔
” میں جانا کینسل کر دوں گی” وہ چڑتے ہوۓ بولی۔
“ہاہا اب انکار کیا تو اُٹھا کر لے جاؤں گا” وہ چشمہ واپس کرتے ہوۓ بولا۔ میرال نے اسے گھورا اور کمرے میں واپس گئی، جلدی سے پیکنگ کی، اور باہر آئی۔ بلاج نے اسکا اور اپنا بیگ گاڑی کی ڈکی میں رکھا۔ اور فرنٹ سیٹ کر دروازہ کھول کر اسے بیٹھایا اور پھر خود بیٹھا۔ اسکے یہ چھوٹی چھوٹی باتیں میرال کو اچھی لگ رہیں تھیں۔
وہ سب ایک بجے کے قریب گاؤں پہنچے، میرال اور بلاج سب سے آخر میں پہنچے۔ میرال کو کافی گھبڑاہٹ ہو رہی تھی۔ گاڑیاں حویلی کے اندر داخل ہوئیں۔ حویلی کافی بری تھی۔ سبھی گاڑیوں سےا تر رہے تھے۔ لمبے سفر نے سبکو ہی تھکا دیا تھا۔
اسماء گاڑی سے نکلی گلاسس اتارتے تو اسکی سیدھی نظر بلاج پر پڑی۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرائی پر اسکی مسکراہٹ تب سمٹی جب بلاج کی گاڑی کی فرنٹ سیٹ سے میرال اپنا دوپٹہ صحیح کرتے اترتی۔ وہاں کھڑے کافی لوگوں کو میرال کا یوں اکیلے بلاج کے ساتھ پورے حق سے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر آنا کھٹکا تھا۔ ان میں سے ایک سکندر حمدانی بھی تھے جو کہ مہمانوں کو رسیو کرنے آۓ تھے۔
“کمینی کتنی میسجز کیے ایک کا بھی جواب نہیں دیا اور اب اسکے ساتھ آ بھی گئی مجھے بتایا بھی نہیں رات کو تو برا بول رہی تھی میں نے نہیں جانا” مشی کو تو تپ چڑھ گئی تھی وہ سارا رستہ میرال کے نمبر پر میسجز اور کالز کرتی آئی تھی پر اسکا نمبر بند تھا۔
“سوری مشی صبح موبائل گڑ کر ٹوٹ گیا۔ سکرین خراب ہو گئی، اسی لیے میں نے الماری میں رکھ دیا”
“اوو تم نے مجھے بتایا نہیں ہم۔آتے وقت لے آتے” میرال بتا مشی کو رہی تھی جواب بلاج نے اسکے پاس آکر دیا۔ وہ ان دونوں کے پاس آ کر بولا۔
“ہیلو مسٹر بلاج جی کیا آپ آہستہ بول سکتے ہیں اگر ایسے ری ایکٹ کرو گے تو اپکا بھانڈا پھوٹ جاۓ گا” مشی آس پاس دیکھتی اہستہ آواز میں بولی۔ میرال نے آس پاس دیکھا اسماء اسے گھور رہی تھی، اسکی نظر سکندر حمدانی پر پڑی انکی نظروں سے ناجانے کیوں میرال کو خوف سا آیا۔
“حیات صاحبہ ہم اتنے کچے نہیں جو یوں آرام سے پکڑے جائیں ، کیوں بیگم ” وہ گاڑی کی بونٹ کے ساتھ ٹیک لگا کر ہلکا سا میرال کی طرف جھک کر مسکرایٹ دباتے ہولے سے بولا۔
“بلاج پلیز یہاں پر یہ سب نہیں” میرال اسے گھور کر کہتی مشی کا ہاتھ پکڑتی اگے بڑھ گئی۔ اسکی گھبڑاہٹ پر بلاج کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ دور کھڑے سکندر صاحب نے اسکی آنکھوں کی چمک اور ہونٹوں کی پراسرار مسکراہٹ دور سے ہی محسوس کر لی، یہ اور کسی والد کے لیے تو خوشی کی بات ہوتی پر سکندر صاحب کے لیے یہ خطرے کی گھنٹیاں تھیں۔ کچھ فیصلہ کرتے وہ مہمانوں کو اندر لے گے۔
“اہمممم بری بات ہے، آج تو شوہر صاحب پورے حق سے بیوی کو لے کر آۓ ہیں” وہ میرال کو جاتے دیکھ رہا تھا جب پاس سے حسام کی آواز آئی۔ وہ چونکا اور سھنمبلا۔
” دوست کے حق سے لایا ہوں بیوی کے نہیں ابھی وقت ہے” وہ بالوں کو مخصوص انداز میں سیٹ کرتے ہوۓ بولا۔
“واہ، خیر میری بات سن ہارون کو پتہ نہیں کیا ہوا ہے، آج بھی سارا رستہ منہ بنا کر ہی آیا ہے، بات کا صحیح جواب نہیں دیتا، اور میں نے اسے یونی میں راحیل سے بھی بات کرتے دیکھا ہے، اور ایسا دو سال میں پہلی دفع ہوا ہے مجھ لگ رہا ہے معاملہ کافی سیریس ہے ہمیں اس سے بات کرنی ہو گی” حسام اب سیریس ہو کر اسے سب بتا رہا تھا۔
“او تو اس سب کے پیچھے راحیل ہے، وہ ہماری دوستی جو توڑنا چاہتا ہے، اسکو تو ٹھیک کرنا ہو گا” راحیل کی حرکت سن کر بلاج کے ماتھے پر بل پڑے۔
“رات کو مہندی کے بعد ہارون سے بات کرتے ہیں، راحیل کو شادی کے بعد دیکھ لیں گے بدمزگی نا ہو” حسام اسکے غصے کو جانتا تھا تبھی اسنے بات سھنمبالی۔ اور اسکے ساتھ اندر آیا۔۔ سامنے عمیر سب سے مل رہا تھا۔
“بھائی جان مبارک ہو” باہیں کھول کر وہ دونوں بھائی ایک دوسرے سے ملے۔ عمیر تھوڑا سا ایموشنل ہوا۔ کنول بیگم کی یاد آ گئی۔ بلاج محسوس کر چکا تھا وہ بنا کچھ بولے کافی دیر اسکے گلے لگا رہا، منیر صاحب صوفے پر بیٹھے دونوں کو دیکھ کر نم ہوۓ تھے۔ عمیر کی شادی حرا سے کروانے کا فیصلہ انہی کا تھا، کیونکہ کنول بیگم نے انہیں سب بتا دیا تھا، اور وعدہ بھی لیا تھا۔ سکندر صاحب نے بہت منع کیا۔ پر وہ بھی اپنی ضد پر اڑے رہے، اور شادی کی تاریخ رکھ دی۔ مریم بیگم کی سارے رشتے دار بھی آ گے تھے۔ سبھی مہمانوں کو انکے کمرے دیکھاۓ جا رہے تھے۔
“میاں ہم سے بھی مل لو” جن کافی دیر تک وہ خود ملنے نا آیا تو منیر صاحب نے اونچی اواز میں بولا۔
“بھائی میں کافی تھک گیا ہوں کافی لمبی ڈرائیو تھی، میں فریش ہونے اپنے کمرے۔ میں جا رہا ہوں، کچھ دیر میں آتا ہوں” انکو مکمل طور پر اگنور کرتے وہ عمیر سے بولتا اوپر راہدری کے آخری کمرے کی طرف بڑھا۔ شہر جانے سے پہلے اسکے بچپن کے نو سال یہی گزرے تھے۔ اسکے اگنور کر کے جانے پر منیر صاحب کو برا لگا۔


سب لڑکیاں ایک ہی جگہ پر مہندی کے لیے تیار ہو رہیں تھیں، اور میرال اپنا جوڑا پکڑے شاک کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھی۔۔ جوڑا کافی بھاری اور مہنگا تھا اتنے مہنگے ڈریسز اسنے لائف میں کبھی دیکھے ہی نا تھے۔ وہ چینج کر کے روم میں آئی۔ بنا میک کئے بھی کئی نظریں اس پر ٹھریں۔
سبز رنگ کا کھلا غرارا،اسکے اوپر پیلے رنگ کی کُرتی تھی، جسکے اوپر موتیوں کا کام ہوا تھا۔ اسکے ساتھ پیلا ہی ڈوپٹہ تھا جسکا باڈر سبز تھا اسکے اوپر موتی لگے تھے۔ پاؤں میں اسنے پیلا خصہ پہنا تھا۔۔
“واؤ میرو اتنا پیار ا ڈریس کتنی پیاری لگ رہی ہو” مشی اسکے پاس آ کر چہک کر بولی۔۔
“زیادہ اُور نہیں ہو گیا، بہت بھاری ہے” میرال کے چہرے پر واضع پریشانی تھی۔
“ارے اُور کہاں ہے، حمدانی ہاؤس کی چھوٹی بہو ہو تمہارے شانِ شایان ہی بلاج نے ڈریس لیا ہے ” مشی اسکے کان کے قریب آ کر ہولے سے بولی۔ میرال نے آس پاس دیکھا اور اسے چپ رہنے کا بولا۔۔
“سنو اسکا میک اپ پہلے کرو اور کمال کا میک اپ کرنا پرنسس لگنی چاہیے” مشی نے اسے ایک میک اپ آرٹسٹ کے سامنے بیٹھایا۔ میرال بار بار منع کر رہی تھی۔ مشی کے فورس کرنے پر اسے میک اپ کروانا پڑا۔۔
خود مشی نے سمائرہ بیگم کی ڈانٹ کے بعد لہنگا کرتی پہنا تھا۔ اور اب دل پر پتھر رکھ کر میک اپ کروا رہی تھی۔
“مشی موم نے تمہاری جیولری بھیجی ہے یہ لو کبھی خود بھی اپنی چیزوں پر دھیان دیا کرو میں تمہاری نوکر نہیں ہوں ” اسماء مکمل تیار ہوئی، لہنگا کرتی پہنے کمرے میں آکر مشی کو جیولری پکڑاتے ہوۓ بولی۔ تبھی اسکی نظر میرال پر پڑی۔ جو کہ ہاتھوں میں بلاج کی ہی لائی پیلی اور سبز چوڑیاں پہن رہی تھی، گلے میں ہلکا سا پنڈٹ پہنا تھا اور کانوں میں چھوٹے چھوٹے ٹاپس۔ بالوں کا خوبصورت سا سٹائل بنا ہوا تھا۔۔وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔ اسکی خوبصورتی کو دیکھ اسماء کا دل جلا۔۔وہ اسکے پاس آئی۔
“ویسے تم۔یہاں کیا کر رہی ہو، شادی عمیر کی ہے نا تم اسکی دوست نا رشتے دار تو یہاں کیا کر رہی ہو، اور اتنا اُور تیار ہوئی ہو شادی تمہاری نہیں یے پینڈو لڑکی” وہ اکسے سامنے کھڑی زہر اُگل رہی تھی۔ میرال ایک دم گھبڑائی اب وہ کیا جواب دے وہ یہاں کس کے کہنے پر آئی ہے۔
“آپی میرال میری دوست ہے، میں اسے لائی ہوں اور آپ پلیز اس سے ایسے بات مت کریں، مجھے اچھا نہیں لگا، اور وہ بالکل اُور تیار نہیں ہوئی شادی پر سبھی ایسے ہی تیار ہوئیے ہیں” مشی ایک دم درمیان میں آئی۔ تا کہ بات نا بگڑے
“یہ کپڑے بھی تم نے ہی لے کر دیے ہوں گے، اتنا یہ آفوڈ تو کرنے سے رہی، ویسے مشی تمہارا یہ چیرٹی کرنے کا شوق نا جانے کب ختم ہو گا تیار ہو کر نیچے آؤ” وہ مشی کو غصے سے بول کر چلی گئی۔ اسکی باتیں میرال کو کافی بری لگیں اور چیرٹی والی بات اسے ہرٹ کر گئی۔
“سوری میرال، تیار ہو تو چلیں نیچے سب جا چکے ہیں” مشی نے بات بدلی تا کہ وہ زیادہ اداس نا ہو۔
“تم کیوں سوری بول رہی ہو، تمہاری غلطی نہیں ہے، اور مشی تھینکس ” میرال ہلکا سا مسکرا کر بولا
“تھینکس کس لیے؟”
“تمہیں پتہ امی کے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہاری صورت میں مجھے سچی دوست دی۔ جو میرا بھلا ہی چاہتی ہے، ایک سچی دوست، تم میری دوست نہیں میری ہمت ہو تھینکس” وہ گلے لگ کر نم لہجے میں بولتی مشی کو بھی ایموشل کر گئی۔
اپنی بہن کے اوپر مشی نے دوستی چنی تھی۔ اسکا ساتھ دیا تھا۔ ہر قدم پر اسکے ساتھ رہی، اور یہ بات ہی میرال کے لیے کافی تھی۔ جہاں اتنے لوگ برے ملے وہی ایک مشی جیسی لڑکی ملی جسنے اسے سچی دوستی کا مطلب سمجھایا
“او ہیلو میرو ایموشنل کر دیا کسی نے روتے دیکھ لیا تو میری ساری ایمج برباد ہو جانی ہے، چلو نیچے چلتے ہیں” مشی اسے کھینچتی نیچے لے آئی۔