Rate this Novel
Episode 14
“کیا سوچ رہی ہو؟” اسماء اپنے کمرے کی بالکنی پر کھڑی ہاتھ میں پکڑے کپ سے چاۓ پیتے ڈھلتے سورج کو دیکھ رہی تھی۔ جب راحیل اسکے پاس آکر بولا۔ وہ چونکی تھی اپنے خیالوں سے نکل کر اسنے راحیل کو ایک نظر دیکھا اور دوبارہ وہی منظر دیکھنا شروع کر دیا۔
“تم کچھ بات کرنے آۓ ہو؟ بولو” وہ اسی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔ راحیل نے بھی بات کو اگنور کرنے پر کندھے اچکاۓ۔ وہ اسکی نیچر کو اچھے سے جانتا تھا۔
“کچھ پوچھنے آیا ہوں، یوں دو سال بعد واپس آنا، اور اسی یونی میں جہاں سے ایک طرح سے بھاگ کر گئی تھی، اور ایک ایسے سبجیکٹ کو پڑھنا جس میں تمہارا ایک پرسنٹ بھی انٹرسٹ نہیں، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تم کرنے کیا آئی ہو؟ تمہارا مقصد کیا ہے؟” راحیل نے سوالیہ انداز میں پوچھا یہ سوالات وہ کب سے پوچھنا چاہتا تھا۔
“میرا مقصد تمہارے مقصد سے تھوڑا سا مختلف ہے، تم جس گروپ کو الگ کرنا چاہتے ہو میں بس اس گروپ کے ہیڈ بلاج سکندر حمدانی جس انسان نے سب کے سامنے میری عزت دو کوڑی کی کر دی تھی، میں بس اس انسان سے شادی کرنے ائی ہوں” وہ چاۓ کا ایک گھونٹ بھرتے ہوۓ کڑوۓ لہجے میں بولی۔۔
” اسماء اس بلاج نے اتنا برا کیا تھا اسکے باوجود تم اس کمینے سے شادی کیوں کرنا چاہتی ہو؟ دنیا میں بہت اچھے اچھے لڑکے ہیں، میں خود تمہارے لیے اچھا انسان ڈھونڈؤ گا” راحیل کو اسکی باتوں پر غصہ آرہا تھا۔
“راحیل! آئی نو تم میرے بھائی ہو تمہیں میری فکر ہے، پر تم بھی یہ بات اچھے سے جانتے ہو جو ہوا تھا اسکے بعد میں اس سے کیوں شادی کرنا چاہتی ہوں، مجھے اسکی زندگی خراب کرنی ہے، اسکا سکون چھیننا ہے جیسے اسنے میرا چھینا تھا،اور تم میرے بھائی ہو کر میرا ساتھ نہیں دے رہے” اسماء روتے ہوۓ بولی۔ راحیل کو اپنے لہجے پر غصہ ایا۔ وہ آگے بڑھا اور اسے چپ کروانے کی کوشش کی۔
“ایم سو سوری، مجھے ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی بس تم یوں اچانک ا کر یہ سب کرنا شروع ہو گئی تو مجھے عجیب لگا” راحیل نے اسے چپ کرواتے ہوۓ معافی مانگی۔ اسماء نے اپنا چہرہ صاف کیا۔۔
“اوکے تو مجھے تمہارا ساتھ چاہیے، مجھے باقی سب سے کوئی مطلب نہیں تم ان سب کو ہینڈل کر لو، مجھے بلاج چاہیے، کسی بھی قیمت پر مجھے اس سے شادی کرنی ہے”
“ٹھیک ہے، تمہاری خاطر میں اس بلاج کو برداشت کر سکتا ہوں، پر مجھے انکی وہ دوستی وہ گروپ توڑنا ہے بری طرح سے توڑنا ہے تا کہ انہیں پتہ چلے جو دوستی دوستی کی وہ دھائیاں دیتے ہین وہ کتنی کو سچی ہے” راحیل دو کا سوچتے ہوۓ بولا، وہ جانتا تھا اسے کیا کرنا ہے اسماء نے ہاں میں سر ہلایا۔ دونوں آپس میں پلینز بنانے لگے۔
اب انکے پلینز چلنے تھے؟ یا تقدیر کے انوکھے فیصلے چلنے تھے؟ یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔
★*
“میرال اب مجھے بلاوجہ ایڑیٹیٹ مت کرو بولو، کیا یہ وہی آدمی تھا جو تمہیں بلیک میل کر رہا تھا؟” بلاج ایک دفع پھر بولا۔ اور ابکی بار لہجے میں واضع غصہ تھا۔
“ہاں وہی تھا” میرال روتے ہوۓ سر ہاں میں ہلاتے ہوۓ بولی۔
“تم نے گھر میں کسی کو نہیں بتایا وہ تمہیں بلیک میل کر رہا ہے” وہ گاڑی چلاتے ہوۓ ایک نظر اسے دیکھتے ہوۓ بولا جو کہ رونے میں ہی مصروف تھی۔
“نہیں” وہ نفی میں سر ہلا کر بولی بلاج کو ایک دن اس پر غصہ آیا۔
“میں بالکل بھی غلط نہیں ہوں تم ہو بے وقوف، اگر پہلے گھر میں بتا دیتی، تو بات یہاں تک نا آتی” وہ طنزیہ انداز میں بولا۔ میرال کو اسکا طنز برا نا لگا۔
“ٹھیک کہا میں سچ میں بے وقوف ہوں، پر اس میں بھی میری غلطی نہیں، وہ شخص میری باجی کا دیور ہے، پہلے بھی کئی دفع اسنے میرے ساتھ بدتمیزی کی ہے، میں نے کسی کو نہیں بتایا کیونکہ کوئی میرا یقین نا کرتا کیونکہ اسنے سب کے سامنے اپنی امیج بہت اچھی بنائی ہے، اتناگھٹیا انسان ہے بیوی اور بچے کے ہوتے ہوے اتنی گھٹیا سوچ رکھتا ہے،اور اگر مین بتا بھی دیتی تو میری باجی جا گھر خراب ہو جاتا انکی ساس انہیں چین سے رہنے نا دیتیں اسی لیے چپ رہی سوچا خود ہی ہینڈل کر لوں گی۔ ” میرال اپنا چہرہ صاف کرتی آہستہ اہستہ اسے سب بتا رہی تھی۔ جسے سن کو بلاج کو بھی غصہ ا رہا تھا
“ہاں دیکھ لیا میں نے بہت ہی اچھے سے ہینڈل کیا، یہ بتاؤ وہ بلیک میل کیوں کر رہا تھا سمجھ نہیں آئی مجھے” بلاج نے کچھ سوچتے ہوۓ پوچھا تھا۔ میرال کچھ دیر چپ رہی، اور پھر بولی۔
” پارٹی والے دن وہ بھی وہاں آیا تھا، میں اسے دیکھتے ہی بھاگی تھی، اور پارکنگ میں مشی کا انتظار کرنے کے لیے تمہارے پاس کھڑی تھی، اسنے ہم دونوں کی کچھ تصویریں لین تھیں اسی پر مجھے بلیک میل کر رہا تھا کہ گھر دیکھا دوں گا اور گندے طریقے سے بتاؤں گا” میرال نے ہاتھ مڑورتے اصل وجہ بتائی۔
” تو کیا ان تصاویر میں کچھ غلط تھا؟ اگر ہم دونوں کھڑے باتیں کر رہے تھے تو اس میں بری بات کیا ہے، اگر تم اس مین غلط نہیں تھی تو تمہیں ڈر کس بات کا؟” وہ موڑ کاٹتے ہوے بولا تھا اسے میرال کا یوں اتنی سی بات پر بلیک میل ہو جانا سمجھ نہیں آرہا تھا۔
“میری غلطی تھی میں اس پارٹی مین اپنی آپی کو بنا بتاۓ گئی، اور اگر کوئی آ کر میری اپی کے سامنے الٹی سیدھی باتیں کرے گا، یہ کہے کہ میں اسپیلشی کسی امیر لڑکے کے ساتھ اس پارٹی میں تھی تو میرا نہین خیال وہ تصویریں دیکھ کر آپی یا کوئی بھی میرا یقین کرے گا” میرال نے اب اسے تفصیل میں سمجھانا چاہا۔
“کیا پتہ یہ صرف تمہاری سوچ ہو تمہاری باجی کی الگ سوچ ہو” بلاج نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ سوال کیا تھا میرال تلخیہ سا مسکرائی۔
” لوگ چاہے اپکے سگے ہو یا پراۓ وہ اسی بات پر یقین کرتے ہیں جنکا ثبوت انکے سامنے ہو، اگر اس میں آپ واضع طور پر غلط دیکھ رہے ہو تو کوئی اپکی ایک بھی بات پر یقین نہیں کرتا، وہ مجرم اپکو ہی ٹھہراتے ہیں، چاہیے اپ کتنے ہی سچے کیوں نا ہو اور سامنے والا سر سے لے کر پاؤں تک جھوٹا کیوں نا ہو، یہ حقیقت ہے اور بہت ہی تلخ حقیقت ہے” وہ اسکی طرف دیکھتے تلخیہ لہجے میں بولی۔ بلاج کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا، وہ کچھ پل پرانی یادوں میں چلا گیا
“صحیح کہا، بالکل صحیح کہا” وہ کھوۓ ہوے لہجے میں بولا، میرال نے محسوس ضرور کیا۔ خود کو ان خیالات سے نکالتا، اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اسنے گاڑی ہاسٹل کے سامنے کھڑی کی۔
“تم پلیز اس واقع کا ذکر کسی سے مت کرنا” میرال نے اسکی طرف دیکھ کر کہا جس نے ہاں مین سر ہلایا وہ دروازہ کھول کر باہر نکلنے لگی۔
“چشمش!” وہ دروازہ کھولے باہر نکلنے لگی جب بلاج کی آواز پر رک گئی۔
“اس شخص کو میں دیکھ لوں گا تم بس یوں بے وقوفوں کی طرح کسی کے کہنے پر اسکے ساتھ چلنا بند کر دو جاؤ اب” بلاج سامنے دیکھتے ہوۓ بولا۔ میرال تھوڑی سی حیران ہوئی یہ ایڈوائیس تھی یا طنز تھا۔ وہ اوکے کہتی باہر نکلی اور ہاسٹل کے اندر داخل ہوئی اسکے جاتے ہی بلاج نے گاڑی چلا دی۔
گاڑی چلاتے اسنے ایک نمبر ملایا۔
“تم ابھی وہی وہ یا چلے گے؟” اگے سے کال پل ہوئی تو وہ فوراً بولا۔
“سر مجھے جانا پڑا ہم پھر کسی دن ملے گے، اللہ حافظ” وہ جلدی جلدی میں بولا اور کال کاٹ دی۔ بلاج کو بہت غصہ ایا آج کتنے سالوں بعد اسے ایی امید دکھی تھی اور وہ بھی بجھ گئی۔ پر اب وہ کیا کر سکتا تھا۔
وہ آج اپنے ساتھ ہوے حادثے کی وجہ سے سو نہیں پا رہی تھی۔ وہ انہی سوچوں مین گم تھی جب اسکے موبائل پر کسی کی کال آئی، ان نو نمبر دیکھ کر میرال سوچ میں پڑ گئی، یہ کون ہو سکتا ہے، باسط کا خیال دل میں اتے ہی اسکے کال کاٹ دی۔ اسکی دل کی دھڑکنیں ایک دم بڑھ گئیں۔
“اللہ جی بچانا یہ دوبارہ سے کیوں کال کر رہا ہے” ایک بار پھر سے کال آتے دیکھ وہ رو دینے کو تھی پھر خود میں ہمت پیدا کر کےا سنے کال اُٹھائی۔
“ککککوننننن؟” ہکلاتے ہوۓ بولی۔
“کیا میں کسی مریض سے بات کر رہا ہوں جو یوں ہکلا کر بول رہا ہے؟”اگے سے بلاج کی اواز سن کر میرال کو حیرانگی کا بھرپور جھٹکا لگا۔
” تم؟ تمہیں مریا نمبر کس نے دیا؟” وہ حیرانگی سے بولی۔
“نہیں چشمش ایک بات بتاؤ ساری زبان میرے سامنے کھلتی ہے، کسی اور کے سامنے تو تمہارے منہ پر الفی لگ جاتی ہے” وہ طنزیہ انداز سے بولا۔
“بکواس بند کرو بتاؤ کس سے لیا نمبر؟” میرال کو اسکی اُوٹ پٹانگ باتوں پر غصہ آیا تھا۔
” یہ ہوئی نا بات یہ ہو تم ایک دم غصے والی، پہلے تو ایسے لگ رہا تھا کسی ڈرپوک کو نمبر ملا لیا” وہ ہنستے ہوۓ بولا۔
“تمہارے دانت کچھ زیادہ نہیں نکل رہے، بتاؤ کس سے نمبر لیا؟ ” وہ غصے سے بولی
“تمہارے ابھی نئے نئے بنے دوست ہارون کے موبائل سے لیا، ویسے ایک بات بتاؤ تم لوگ سچ میں دوست بن گے” بلاج نے
“واہ تم تو نمبر چور نکلے، ائی نو تم مجھے بالکل پسند نہیں کرتے، مین تنہیں زہر لگتی ہوں، پر ہارون اچھا لڑکا ہے، اسنے نمبر مانگا تو مین نے دے دیا، کچھ نوٹس مانگے وہی سینڈ کیے” میرال نے تفصیل سے اسے بتایا، کہی وہ اسے ہارون سے بات کرنے پر ڈانٹ نا دے کیونکہ وہ کچھ دن پہلے اسے روک چکا تھا۔
“ہمم خیر میں مے اس لیے کال کی تم مجھے باسط کی تصویر اور اسکا نمبر سینڈ کر دو” بولتے ہی بلاج نے کال کاٹ دی۔ میرال نے حیرانگی سے موبائل کو دیکھا۔ اسے اکسا لہجہ جو پہلے ہنس رہا تھا اچانک بے گانہ سا لگا۔
“حد ہے ایسے کون فون بند کرتا ہے” وہ اسکی حرکت پر چڑ سی گئی۔ اسنے گیلری سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایک تصوریر نکالی اور اسے سینڈ کی اور ساتھ میں نمبر بھی، پھر وہ لیٹ کر سو گئی، اسے ایک دم نیند آگئی جیسے کندھوں سے بوجھ اتر سا گیا ہو
“****
” ہیلو جی کی حال چال برے دن بعد دیکھا” تقی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف جا رہا تھا جب ایک دم سے سامنے آ کر امرحہ نے اسکا رستہ روکا۔ جو اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر پنجابی اور اُردو کو مکس کر کے بول رہی تھی۔ ۔ تقی کے ماتھے پر بل پر گے۔
“امرحہ ہٹو سائیڈ پر مجھے کلاس کے لیے لیٹ ہو رہی ہے” تقی نے اس پاس دیکھتے ہوۓ کہا۔
“ہاۓ قسم سے تمہارے منہ سے اپنا نام سن کر میں تو۔ قربان جاؤں” وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو تالی کی شکل میں جوڑتی مسکرا کر بولی یہ اس امرحہ سے بال الگ تھی جو باقی سب کے سامنے ہوتی تھی، یہ بالکل اسکے اپوذیٹ تھی۔
“تم کیوں ہر دوسرے ہفتے اپنی انسلٹ کروانے میرے سامنے آ جاتی ہو، اور یہ بلاوجہ میرا رستہ روکنا بند کرو” تقی سخت لہجے میں بولا وہ لڑکا جو ہر کسی سے آرام سے نرم لہجے میں بات کرتا تھا امرحہ کو دیکھتے ہی اسے غصہ اتا تھا اب اسکی کیا وجہ تھی وہ وہی جانتا تھا۔
” دیکھ لو تم بھی کیا یاد کرو گے زندگی میں ایسی بھی لڑکی سے ملاقات ہوئی جو تمہاری ہر تلخ بات کو ہنس کر سنتی تھی، بار بار انسلٹ کرنے پر تمہارے سامنے آ جاتی تھی۔ کیونکہ وہ محبت کرتی تھی، امرحہ شاہ تقی سے محبت کرتی تھی” وہ اسکی انکھوں میں آنکھیں ڈالے مسکر اکر بولی۔ تقی نے نظریں چُرائیں۔
“دیکھو امرحہ پلیز میں آخری بار کہ رہا ہو مجھے سے دور رہو یہ تمہارے لیے بھی اچھا ہے اور میرے لیے بھی” وہ خود پر کنٹرول کرتے ہوۓ بولا۔ اور وہاں سے آگے بڑھ گیا، امرحہ اسے جاتا ہوا دیکھتی رہی۔
“محبت تو ہو گی تمہیں اور بہت جلد ہو گی، اس بات ہر مجھے یقین ہے” وہ عزم سے بولی تھی اور مسکراتی ہوئی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف برھ گئی۔ جہاں کوریڈور میں اسکے دوست اسکا انتظار کر رہے تھے۔
جاری ہے۔۔
