Rate this Novel
Episode 22
سبھی میرج حال پہنچ چکے تھے، اور بارات کا انتظار کر رہے تھے۔ امرحہ عائشہ کو گاڑی سے نکال رہی تھی، وہ مکمل تیار تھی اسے لے کر وہ برائیڈل روم میں آ گئی۔
“اف تھک گئی” امرحہ عائشہ کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔
“برائیڈل میک اپ میرا ہوا ہے، اتنا بھاری جوڑا میں نے پہنا یے، اور تھک تم گئی” عائشہ اسے کندھے پر تھپر مارتے ہوۓ بولی۔۔
“عاشی میں تمہیں بہت مس کروں گی، آئی لو یو یار” امرحہ اسکے کندھوں کے گرد دونوں بازو لپیٹتے ہوۓ نم لہجے میں بولی۔
“میں کون سا کسی دوسرے ملک جا رہی ہو، یہی ہوں اور یونی بھی آؤں گی، اور تم لوگوں کا جب دل کرے آجانا ملنے” عائشہ مسکرا کر بولی۔
“اب تمہیں اس بدتمیز کی آجازت لینی پڑے گی، اور تمہیں کیا لگتا ہے بلاج اس گھر میں ہم سب کو جانے دے گا یا خود جاۓ گا، اور جیسے ہم پہلے دیر رات تک گھومتے تھے اب وہ بھی نہیں ہو پاۓ گا” امرحہ افسردہ لہجے میں بولی۔ عائشہ کو اسکی بات سچ لگی۔
“میں کیوں روکوں گا، وہ گھر اب عائشہ کا بھی ہے، ہم جائیں گے تو عائشہ کے گھر نا کہ اس راحیل کے گھر، اور دوسری بات عائشہ کو کسی کی آجازت لینے کی کیا ضرورت ہے، خود کی مرضعی چلاۓ گی، جب جہاں جانا ہو گا جاۓ گی کیوں عائشہ” بلاج ہارون اور حسام کے ساتھ اندر داخل ہوتے ہوۓ بولا وہ تینوں آف وائٹ خوبصورت سی شیروانیاں پہنے ہوۓ تھے۔ عائشہ اسکی بات پر ہلکا سا مسکرائی۔ تبھی باہر بارات آنے کا شور ہوا۔ عائشہ کے چہرے کی مسکراہٹ سمٹی۔ وہ چاروں وہی اسکے پاس بیٹھے باتیں کرتے رہے اور اسکو ہنساتے رہے۔ چونکہ نکاح تو ہو چکا تھا۔ تو کھانے کے بعد عائشہ کی اینٹری کروائی گئی راحیل نے جب اسے چل کر اسٹیج کی طرف آتے دیکھا ، تو اسکی دل کی دھڑکن تیز ہوئی، وہ جیسے سانس لینا بھول گیا، سامنے سے وہ لڑکی چل کر آ رہی تھی، جسکے لیے وہ پہلے ساری دنیا سے لڑ سکتا تھا، اسکی محبت پر وہ مان کیا کرتا تھا، اسکے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا، اسکی آنکھوں میں خود کے لیے محبت دیکھ کر وہ جیا کرتا تھا، اور آج جب وہ اسے دیکھتا تو سب بے معانی سا لگتا، نا اسکی آنکھوں میں وہ چمک دکھتی، نا اسکے چہرے ہر سچی مسکراہٹ دیکھتی، اور وہ خود اسے وہ سب دکھ دے رہا تھا جس سے بچانے کے لیے ہو کچھ بھی کر سکتا تھا۔ آنکھیں جھکاۓ وہ چل کر اسکی طرف آ رہی تھی، جب وہ اسٹیج تک پہنچ گئی تو راحیل نے اپنا ہاتھ اگے بڑھایا، آنکھیں جھکاۓ اسنے اپنا کانپتا سرد ہاتھ اسکے بھاری ہاتھ پر رکھا، راحیل نے اسکے ہاتھ پر پکڑ مضبوط کی، اتنی کے اسکی ہلکی سی چیخ نکلنے لگی پر اسنے روک لی، پر آنکھوں میں ہلکا سا پانی بھر آیا۔ جسکو مشکل سے پیچھے دکھیلتی وہ اسٹیج پر چڑھی، اور اسکے برابر کھڑی ہوئی ابھی تک اسکا ہاتھ اسکے ہاتھ میں اسی طرح موجود تھا۔ عائشہ نے نظریں اُٹھا کر دیکھا تو سامنے ایک طرف اسکے ماں باپ اور بھائی بھابھی موجود تھے، اور دوسری طرف اسکے دوست کھڑے مسکرا کر اسے دیکھ رہے تھے۔ سامنے فوٹوگرافر تصاویر بنا رہا تھا۔ وہ دونوں اسٹیج پر رکھے خوبصورت صوفے پر براجمان ہوۓ۔
سبھی فنگشن انجواۓ کر رہے تھے، بلاج کے ماتھے پر بے تحاشہ بل نظر آ رہے تھے، آدھا فنگشن گزر چکا تھا اور ابھی تک میرال نہیں آئی تھی اور نا اسکا فون اُٹھا رہی تھی۔ وہ کئی میسج کر چکا تھا۔
“میرال! تم ا گئی، اوپس میں تو ناراض تھی” مشی اپنی دوستوں کے ساتھ کھڑی تھی، جب اسکی نظر سامنے مین دروازے سے اینٹر ہوئی، سمپل بلیک کلر کی فراک، ریڈ کلر کا ڈوپٹہ گلے میں ڈالے، ہاتھوں میں بلیک اور ریڈ کلر کی چوڑیاں پہنے، بالوں کو سٹریٹ کر کے تھوڑے سے اگے اور باقی سارے کمر پر بکھرے، پاؤں میں بلیک ہی ہیل پہنے ہلکا سا میک اپ کیے وہ مکمل تیار وہاں کھڑی تھی۔ یہ سب اسنے اپنی روم میٹ سے لیا تھا کیونکہ اسکے پاس تو فنگشن پر جانے کے لیے کوئی سوٹ نا تھا۔ یہاں آکر اسے یہ بھی بہت سمپل لگ رہا تھا۔ سبھی بہت زیادہ بھاری سوٹ پہنے ہوۓ تھے۔ مشی کی بات پر وہ ہلکا سا مسکرائی وہ اسکی عادت سے واقف تھی۔ اور جانتی تھی اسے کیسے منانا ہے۔ بلاج کی نظر ان دونوں پر پڑی۔ وہ ریلکس ہوا چلو آ تو گئی۔ اب۔ بات کیسے کرنی یے وہ دیکھنا پڑے گا۔
“سوری یار” وہ اگے برھی اور اسکو گلے سے لگایا۔ مشی نے تھوڑا نخرہ دیکھایا پھر مان گئی۔
“چلو تمہیں مما سے ملواتی ہوں” وہ میرال کو لے کر سمائرہ بیگم کے پاس آئی جو کہ ۔ اسماء کے ساتھ اسکے دوستوں سے مل رہیں تھیں۔ بھی میرال بہت اچھے سے سمائرہ بیگم سے ملی انہوں نے بھی بہت اچھے سے جواب دیا۔ اور پھر ایکسیوز کرتی وہ وہاں سے دوسرے مہمانوں کے پاس چلی گئیں۔
“تم یہاں کسی عام سی پارٹی میں آئی ہو؟” اسماء اسکے عام سے کپڑوں کو دیکھتے ہوۓ بولی۔ اس دن ڈرامہ کلب میں ہوئی اپنی بے عزتی وہ ابھی بھولی نا تھی ابھی اسے موقع مل گیا اسے بےعزت کرنے کا۔
“کیا مطلب؟” میرال کو اسکی بات سمجھ تو آ گی پر وہ اسکے منہ سے سننا چاہتی تھی۔
“مطلب صاف ہے، ایسی ڈریسنگ تو ہمارے نوکر بھی نہیں کرتے، جیسی تم کر کے میرے بھائی کے فنگشن پر آئی ہو” اسماء نے بھرپور طنز مارا۔ میرال کا چہرہ ایک دم اترا۔ دور کھڑا بلاج اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“یہ کیا بول رہی جو اسے اتنا برا لگ رہا ہے” بلاج سامنے دیکھتے ہوۓ بڑبڑایا۔ حسام نے اسکی بات سن لی اور سامنے کی طرف دیکھا۔ امرحہ اور ہارون دونوں آپس مین باتیں کر رہے تھے۔
“ارے میرال بھا۔۔۔۔ سوری میرال جی آئیں ہیں روکو مل کر تو آؤں، میرال جی سے” حسام دانت بکالتے اسے بھابھی بولنے لگا جب بلاج نے اسے گھورا تو وہ بات بدل گیا۔
“کون کس کی بات کر رہا ہے؟” امرحہ اسکی بات سن کر سوالیہ انداز میں بولی۔
“میرال آئی ہے ہماری پلے کی میڈیم چلو مل کر آتے ہیں، لگتا ہے ہمارے میڈیم جی کو ہماری دشمن تنگ کر رہی یے” حسام اسماء کو مسلسل بولتے ہوۓ دیکھ چکا تھا تبھی بولا۔ وہ چاروں اسکی طرف بڑھے۔
“اپی بس کرو” مشی کو اسماء کا اتنا زیادہ بولنا پسند نا آیا۔ وہ میرال کا اترا چہرہ دیکھ کر بولی۔
“تم مجھے کیوں چپ کروا رہی ہو، ایسی دوستیں بناؤ ہی مت جو ہماری سوسائٹی کو بِی لونگ ہی نا کرتی ہوں، لُک ایٹ ہر، اسکی ڈریسنگ دیکھو، کتنی بری لگ رہی ہے، بالکل جوکر لگ رہی ہے” اسماء اپنے بال جھٹکتے ہوۓ طنزیہ انداز میں ہنس کر بولی۔ اسکے دوست بھی ہنسنے لگ گے۔ میرال کی آنکھوں میں ایک دم پانی بھر آیا۔
“کس نے بولا وہ بری لگ رہی ہے، مجھے تو کہی سے نہیں لگ رہا وہ اس فنگشن میں فٹ نہیں ہو رہی، میرے خیال میں اس حال میں اگر کوئی سادگی میں بھی اتنا خوبصورت لگ رہا ہے تو وہ میرال ہی ہے” بلاج میرال کے برابر کھڑا ہوتے ہوۓ بولا۔ سبھی کی ہنسی ایک پل میں تھم گئی۔ میرال نے نم نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔ بلاج نے بھی اسکی طرف دیکھا پلکیں چھپکا کر اسنے جیسے یہ کہا کہ میں ہوں فکر مت کرو۔ اور واپس اسماء کی طرف پلٹا۔ جو اسکو سب کے سامنے یوں جواب دینے پر غصے میں تھی۔
“اور مس اسماء اچھا ہو گا، تم اپنے اندر کا گندہ اپنے تک ہی رکھو، بلاوجہ اپنے اندر کا گندہ زبان کے رستے دوسروں پر مت نکالو، ویسے بھی اگر تم جیسا لباس پہن کر کوئی اچھا لگ سکتا ہے تو میرا نہیں خیال میرال کو یہ سب پہنے کی ضرورت ہے، جسم کی نمائش تم ہی کر سکتی ہو، میرال جیسی لڑکی نہیں” بلاج نے سخت لہجے میں اس پر بھر پور طنز کیا۔ اسکی زبان جیسے تالو سے چپک کر رہ گئی۔ وہ اسکی کتنی بے عزتی کر رہا تھا۔ حسام نے ایمپریس ہونے والے انداز میں بلاج کو دیکھا۔ وہ کیسے سبکے سامنے اسکی بے عزتی کر رہا تھا۔
“بلاج تم اس لڑکی کی خاطر میری انسلٹ کیسے کر سکتے ہو، میں اسکو چھوڑوں گی نہیں” اسماء غصے سے کہتی میرال کی طرف بڑھنے لگی جب بلاج اسکے سامنے آیا۔
“اسماء عالم بہت اچھا ہو گا اپنی حد میں رہو گی، ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا” وہ انگلی اُٹھا کر وارنگ دیتے ہوۓ بولا۔ اسماء سب کو گھورتی پاؤں پھٹکتی وہاں سے چلی گئی اسکے دوست بھی چلے گے۔
“میرال ایم سوری میری بہن نے بہت غلط بولا” اسکے جاتے ہی مشی بلاج کے پیچھے چھپی میرال کے پاس آکر بولی۔ بلاج ایک سائیڈ پر ہوا۔ میرال نے ہاتھ سے آنسوں صاف کیے۔
“رونے کا کیا فائدہ، اسکے سامنے تمہاری زبان کہاں تھی، دو لفظ منہ سے نکال نہیں سکتی تھی، ویسے میرے سامنے تمہاری زبان بری چلتی ہے، کسی اور کے سامنے بھی چلا لیا کرو” بلاج کو اسکا مضلوموں کی طرح رونا بالکل پسند نا آیا وہ جانتا تھا وہ اچھے سے اسماء کو خود چپ کروا سکتی ہے۔
“بہت شکریہ بلاج صاحب آپ نے آ کر مجھے مزید بے عزت ہونے سے بچایا، پر اب بلاوجہ مجھ پر چلانے کی ضرورت نہیں چلو مشی” میرال کو اسکا یوں سبکے سامنے چلانا بالکل پسند نا آیا تبھی ہاتھ جوڑ کر بولتی مشی کے ساتھ وہاں سے چلی گئی۔
“یہ کیا میں نے غلط کیا بولا؟” بلاج اسکے یوں جانے پر چڑتے ہوۓ بولا۔
“کچھ نہیں تم لڑکیوں کو نہیں سمجھ سکتے چھوڑو” حسام نے بات ختم کرنی چاہی۔
“ویسے بڈی تھینکس” ہارون ہلکا سا مسکرا کر بولا۔
“کس لیے؟” بلاج کو سمجھ نا آیا۔
“تو اب مزید میرال کو نا پسند نہیں کرتا، سبکے سامنے اسکا ساتھ دیا مجھے اچھا لگا” ہارون مسکراتے ہوۓ بولا۔ حسام کی ہنسی چھوٹ گئی، بلاج نے اسے گھورا۔ جبکے امرحہ گہری سوچ میں تھی۔
“تو کس مراقبے میں چلی گئی؟” حسام نے امرحہ کو ہلاتے ہوۓ کہا۔
“مین سوچ رہی ہوں، اچانک بلاج اس میرال کی سائیڈ کیوں لے رہا ہے، کہی معاملا کچھ اور تو نہیں بلاج کہی تجھ وہ پسند تو نہیں آگئی؟” امرحہ کی بولتے بولتے آنکھیں پھٹتی جا رہیں تھی۔ ہارون کی سانسیں تھم سی گئیں، وہ اسکا جواب سننا چاہتا تھا۔ اور بلاج کا چہرہ ایک دم پیلا پڑا۔ اور حسام کا قہقہ اسکی شکل دیکھ کر بامشکل نکلنے سے رُکا۔
“واٹ! پسند ، کیا بول رہی ہو پاگل ہو، نہیں بالکل نہیں، ارے یار ہماری کلاس فیلو ہے اگر اسکی جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو اس اسماء چڑیل سے ضرور بچاتا” بلاج جلدی جلدی بولا۔ ہارون نے گہرا سانس لیا۔ جیسے ایک بوجھ اترا ہو، حسام کا رُکا ہوا قہقہ بلند ہوا۔ وہ ہنستے ہوۓ اسکے گلے لگا۔
“بچ گیا” حسام ہولے سے اسکے کان میں بولا۔
“امرحہ ہارون چلو عائشہ کے پاس چلتے ہیں، اور بلاج تم زرا دو گلاس بوتل لانا، چلو تم دونوں” حسام بولتا ان دونوں کو لے کر اسٹیج کی طرف بڑھا۔ بلاج کو موقع مل گیا۔ اسنےا دھر اُدھر نظر دوڑائی۔ ایک طرف ہاتھ میں جوس کا گلاس پکڑے میرال کھڑی تھی ساتھ میں مشی بھی تھی۔ وہ چلتا ہوا انکے پاس آیا۔
“مشی تمہاری موم بلا رہی ہیں جاؤ” اسنے جیسے مشی کو بھگانا چاہا۔ میرال نے جوس کا ایک سپ لیا اور ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔
“میرال میں آتی ہوں” مشی بول کر چلی گئی
“کیسی ہو؟” وہ ہولے سے بولا۔
“جیسی بھی ہوں تم سے مطلب تم غصہ کرو جتنا کر سکتے ہو” وہ ناراضگی بھرے لہجے میں بولی۔ بلاج کو اسکا یوں ناراض ہونا بھی پسند آیا۔
“تو میڈیم ناراض ہیں، ویسے ناراض تو مجھے ہونا چاہیے” وہ اسکے ہاتھ سے گلاس لے کر ایک سپ لیتے ہوۓ بولا۔ میرال نے گہرا سانس لیا۔ کسی نے دور سے یہ منظر دیکھا۔
“کیوں تمہیں کیوں؟” میرال اسکی بات نا سمجھی۔
“کل تم آئی نہیں اور آج بھی لیٹ آئی، میری کالز اور میسج کا جواب بھی نہیں دیا” وہ ایک اور سپ لیتے ہوۓ بولا۔
“کل میرا موڈ نہیں تھا، اور آج اصل میں موبائل سائلنٹ پر تھا۔ اسی لیے جواب نہیں دیا مجھے تمہیں ایک بات بتانی ہے، یہی بتا دوں” میرال ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ بولی۔
“ہاے چشمش ایک بار پھر اظہارے محبت کرنے لگی ہو جو اسطرح پوچھ رہی ہو بولو میں سن رہا ہوں” وہ دل پر ہاتھ رکھتے ہلکا سا جھک کر بولا۔
“بالکل نہیں وہ ایک دفع ہی تھا اب دوبارہ نہیں کروں گی، بات اور ہے” میرال اسکے ہاتھ سے گلاس واپس لے کر ایک سپ لیتے ہوۓ بولی۔
“تو بولو کیا ہے؟ سن رہا ہوں” بلاج اسے اپنی نگاہوں میں بھرتے ہوۓ بولا۔
“بات اصل میں مجھے تمہیں پہلے ہی بتا دینی چاہیے تھی ایویں اتنی دیر کی” میرال اب پریشان نظر آئی۔ بلاج بھی ایک دم سیدھا ہوا۔
“کیا بات ہے؟ بولو”
“وہ کافی دنوں سے میرے نمبر پر انجان نمبروں سے بہت کالز میسجز موصول ہو رہے ہیں میں بلاک کر کر کے تھک گئی ہوں، نئی سم لینے کا بھی وقت نہیں ملا، اج بھی بہت سے نمبرز سے میسج آ رہے تھے، باسط نے میرا نمبر لیک کر دیا ہے، اسکے بھی بہت دھمکیوں بھرے میسج آ رہے تھے، اسی لیے کل میں نے ہاسٹل سے نا نکلنے کا فیصلہ کیا” میرال ہاتھ رگڑتے ہوۓ اسے سب بتا رہی تھی۔ بلاج بہت صبر سے سب سن رہا تھا۔ اسے اس پر غصہ ایا پہلے کیوں نہیں بتایا۔
“موبائل دو ادھر” بلاج نے اسکے ہاتھ میں پکڑے موبائل کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔ میرال نے اسے موبائل پکڑا دیا۔ بلاج نے اسکے موبائل میں سے سم نکالی اور اپنے وائلٹ میں رکھ لی۔
“پر میں کونسی سم یوز کروں گی؟” میرال اسے یوں سم نکالتے دیکھ بولی۔
“صبر کرو بتاتا ہوں” بلاج نے اپنا موبائل نکالا اور اس میں دو سم تھیں اس میں سے ایک نکال کر اسکے موبائل میں ڈالی۔
“میرے پاس دو تھیں، ایک ہی استعمال کرتا ہوں، یک نمبر کسی کے پاس نہیں، تم آج سے یہ استعمال کرو” وہ اسکا موبائل اسے دیتے ہوۓ بولا۔
“تھینکس” میرال نے جیسے شکر ادا کیا جان چھوٹی۔
“میرال” وہ جوس کا آخری سپ لے رہی تھی جب بلاج نے پُکارا
“ہممم” وہ گلاس کو ایک طرف رکھے ٹیبل پر رکھ کر مُڑی۔
“آئندہ اگر کوئی بات ہو، اتنا لمبا چھپانا مت، اسی وقت بتا دینا” اسکے لہجے میں واضع ٹینشن تھی۔
“ٹھیک ہے بتا دوں گی” ۔میرال ہلکا سا مسکراتے ہوۓ بولی۔ بلاج کے موبائل پر حسام کی کال آئی۔
“تجھے دو منٹ سکون نہیں” بلاج اسکے فون اُٹھاتے ہوۓ بولا۔۔
“میرے یار مجھے سکون یے، پر تو ہوش کر بری دیر ہو گئی میرال کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا ہے اگر کسی کی نظر پر گئی پھر نا کہنا حسام تو نے میری رکھوالی نہیں کی میں جان ہتھیلی ہر رکھ کر کب سے تیری رکھوالی کر رہا ہوں، دو تین دفع سبکو بہانے سے ادھر اُدھر بھیجا ہے، اگر مجھے زندہ دیکھانا چاہتا ہے تو جلدی آجا یہ نا ہو تیرے آنے تک میری جان اللہ کو پیاری ہو جاۓ” حسام فر فر بولے جا رہ رہا تھا۔
“بس کر نوٹکنی آ رہا ہوں” بلاج چرتے ہوۓ بولا۔ اور فون کاٹ دیا۔
“کیا ہوا؟”
“کچھ نہیں تم اکیلی مت رہو حیات کے پاس جاؤ، میں حسام لوگوں کے پاس جا رہا ہوں” بلاج بولتا اگے بڑھ گیا کیونکہ حسام کی دوبارہ کال آ رہی تھی۔ میرال بھی مشی کے پاس چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد رخصتی ہوئی، عائشہ اپنی کی دعائیوں کے زیرے اثر رخصت ہوئی۔ سبھی اپنے اپنے گھر کی اُور نکل گے۔
عالم ولا میں عائشہ کا بہت ہی بھرپور انداز میں استقبال ہوا۔ تھوری رسموں اور فوٹوشیش کے بعد اسے راحیل کے کمرے میں لا کر بیٹھا دیا گیا۔ وہ بہت تھک چکی تھی۔ سبکے جانے کے بعد وہ اُٹھی ٹھنڈی زمین پر پاؤں رکھے تو جیسے راحت سی محسوس ہوئی۔ دائیں طرف رکھے ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آکر اسنے اپنا ڈوپٹہ آزاد کیا، اور ساری جیولری اتاری۔ وہ الماری کی طرف بڑھی، اسکے سارے کپڑے وہاں ترتیب سے ٹنگے ہوۓ تھے، اسنے کھلی بلیک جینز پکڑی،اور ساتھ بلیک ہی شرٹ پکڑے واشروم میں چلی گئی۔ فریش ہو کر وہ باہر نکلی۔ اور گیلے بالوں میں برش کیا۔
“اتنے بھاری کپڑے جان چھوٹی” لہنگے کو الماری میں ٹھیک سے رکھتے ہوۓ وہ مُڑی، لائیٹ آف کی ہلکی سی یلو لائیٹ آن کی۔ اور بیڈ پر آ کر لیٹ گئی۔ کمفرٹر خود پر لیتی وہ سونے کی تیاری میں تھی۔ اتنی تھکاوٹ کی وجہ سے اگلے پانچ منٹ میں وہ سو گئی۔۔۔
ایک گھنٹے بعد راحیل کمرے میں داخل ہوا، سامنے اسکو یوں سوتے دیکھ اسکے ماتھے پر بل پڑے، اسنے دروازہ لاک کیا اور اپنے کپڑے لیے وہ واشروم میں گیا اور فریش ہو کر باہر آیا۔ وہ یونہی سوئی ہوئی تھی۔ بالوں کو تولیے سے رگڑتے راحیل کی نظر اسکے سوۓ ہوۓ چہرے پر پڑی۔ سکون سے سوتے ہوۓ وہ معصوم سی پری لگ رہی تھی۔ وہ سر جھٹکتا سوئیچ بوڈ کی طرف بڑھا۔ اور ساری لائیٹس آن کر دیں۔ کمرہ ایک دم جگمگا اُٹھا۔ وہ ڈسٹرب سی ہوئی اسکا پتہ اسکی ہلتی پلکیں بتا رہین تھیں۔ راحیل چلتا ہوا اسکی سائیڈ پر آ کر کھڑا ہوا، سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ سے پانی گلاس میں ڈالا، اسے پینے کی بجاۓ اسکے چہرے پر انڈھیل دیا۔ عائشہ ایک دم اُٹھ کر بیٹھی۔
” دماغ خراب ہے؟ پاگل ہو گے ہو سوۓ ہوۓ انسان پر کون پاگل پانی پھینکتا ہے؟” وہ اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتی سامنے کھڑے راحیل کو دیکھ چلا کر بولی۔۔
“شش چپ آواز نیچی” وہ لال انگارے بھرتی نظروں سے اسے گھورتا اسکی طرف جھک کر بولا۔
“کیوں چپ رہوں، تم پاگل ہو” عائشہ دوبارہ چلانے لگی۔ راحیل نے گلاس زمین پر پھینکا، اور اپنا ایک پاؤں بیڈ پر رکھتے ہاتھوں کی مدد سے اسکا چہرہ اور بال دبوچے۔
“شش ایک لفظ مزید نہیں، تم اب راحیل عالم کی قید میں ہو، قید سمجھتی ہو کیا ہوتی ہے، جیسا میں بولوں گا ویسا ہی کرو گی، میں بولوں گا تو اُٹھو گی میں بولوں گا تو سو گی۔ جہاں میں بولوں گا وہاں جاؤ گی، جہاں میں نے منع کر دیا وہاں قدم بھی نہیں رکھو گی اور تمیز سے بات کرو گی، اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے آنے سے پہلے چینج کرنے کی، ابھی تو میں نے تمہارا اس حسن کو خراجے تحسین بھی پیش نہیں کیا تھا۔” وہ اسکے بالوں کو مزید دبوچتے ہوۓ، بولا۔ عائشہ کو اسکی لال انگارے بھرتی آنکھوں سے خوف آنے لگا۔ پر خود پر قابو کرتے اسنے اسکے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی۔
“یہ سب تمہارا خواب ہے میں بالکل ایسا نہیں کروں گی” وہ اسے دھکہ دیتے ہوۓ بولی۔
“ٹھاہ!” راحیل کا ہاتھ اُٹھا اور اسکی گال پر نشان چھوڑتا چلا گیا۔ وہ اُندھے منہ بیڈ پر گِڑی۔
“جیسا میں نے بولا ہے ویسا ہی کرو گی، تمہیں برا غرور ہے نا خود پر، برا غرور ہے تمہیں ان کمینوں کی دوستی پر، اس بلاج کی دوستی کو تم نے عائشہ خان تم نے اوپر رکھا تھا، میری محبت کو اس دن تم نے دو کوڑی کا کر دیا تھا، مجھے دو کوڑی کا کر دیا۔ صرف اس بلاج کی دوستی کا ساتھ دینے کے لیے تم نے ہماری محبت کو قربان کیا تھا۔ سچائی انصاف، کی مورت بننے چلی تھی۔ اب میں تمہیں بتاؤں گا انہی دوستوں کی نظر میں تمہیں گڑاؤں گا، تم وہی کرو گی جو میں کہوں گا، جیسے مجھے تم نے اسمان سے پکڑ کر زمین پر پٹخا تھا۔ ویسے ہی تمہیں وہی ازیت دوں گا جو میں نے محسوس کی اور اسکی شروعات آج سے ابھی سے ہو گی” راحیل اسکے بالوں کو دبوچتے ہوۓ نفرت بھرے لہجے میں بولا۔
“راحیل!” نم نظروں س عائشہ نے راحیل کی طرف دیکھا۔ اسکی انکھوں سے جو نفرت ٹپک رہی تھی۔ عائشہ کو لگا وہ اسکی جان لے لے گی، آج پہلی بار اسنے راحیل کی آنکھوں میں نفرت کا ایسا لیول دیکھا تھا۔ کہی دل میں جو ایک امید سی تھی کہ شائد وہ کچھ کر پاے گی، آج وہ امید بھی ختم ہو گئی۔اسے یوں محسوس ہوا جیسے اسکے سامنے کوئی اجنبی کھڑا ہے، وہ راحیل ہے ہی نہیں جسے ایک زمانے میں وہ جانتی تھی۔ ابھی تو سامنے انتقام کی آگ میں جلتا کوئی شخص کھڑا تھا۔۔
“کیا راحیل، ہنہہ تمہیں کیا لگتا ہے میں اپنی مجرم کو معاف کر دوں گا اس دن سبکے سامنے تم نے تھپر مارا تھا اور بولا تھا تم سے برا جھوٹا میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا اور کیا بولا تھا ہاں محبت جیسے لفظ کو اپنی زبان پر مت لانا کتنے بے شرم انسان ہو۔۔۔ یہ سب بولا تھا نا عائشہ خان، تو زرا بتانا مجھے میں نے کون سا جھوٹ بولا تھا؟ اور کیا میں نے تم سے محبت نہیں کی تھی۔ اپنی جان سے زیادہ چاہا تھا۔ اور تم نے کیا کِیا مجھے میری محبت چننے کی بجاۓ تم نے اس کمینے کی دوستی کو چُنا بولو ” وہ درد بھرے لہجے مین بولتا آخر میں چلایا۔ تھا۔ عائشہ اندر تک کانپ گئی۔ اسکے بال ابھی تک اسکے ہاتھ میں تھے۔
“مجھے کچھ نہیں کہنا” عائشہ نے اپنے بال چھرؤانے کی کوشش کرتے ہوۓ کہا۔وہ نہیں جانتی تھی اسکے الفاظوں سے راحیل کا غصہ مزید بڑھا تھا۔ اسنے اسے زور سے دھکہ دیا اور وہ پیچھے کو گڑی۔ وہ اس پر جھکا۔
“عائشہ راحیل عالم تم نے اس دن مجھے جو اذیت دی تھی، اسکا احساس تمہیں آج ہو گا، جب تم ساری زندگی یہ اذیت بھول نہیں پاؤ گی۔ جو تذلیل میں نے محسوس کی تھی، وہی تذلیل تم محسوس کرو گی، ہر دن ہر پل” وہ سخت لہجے میں بولتا، اس پر جھکا، عائشہ اسکی بات کا مطلب سمجھتی خود کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی پر سب بے سود رہا۔۔۔۔ راحیل عالم اپنے غصے اور نفرت کی آگ میں سب برباد کر گیا۔ اسنے یہ سب اسے احساس کروانے کے لیے کیا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا۔ وہ اسکی روح کو اذیت میں مبتلا کر گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔
