Rate this Novel
Episode 25
اگلا پورا دن وہ اپنے ڈرامہ کی ریہرسل کرتے رہے، اور آخر وہ دم آ ہی گیا جسکے لیے انہوں نے اتنی محنت کی تھی۔ صبح سے سبھی یونیورسٹی میں موجود تھے۔ سواۓ بلاج کے۔ پروگرام دو بجے شروع ہوا، ایک ایک کر کے سبھی اپنا ڈرامہ کر رہے تھے۔
“ہارون اپنے دوست کو کال کرو کہاں ہے؟ اگلی باری ہماری ہے” میرال مکمل تیار ہو کر ایک طرف کھڑے ہارون اور حسام۔ کے پاس آئی۔ جو خود کب سے اسکا نمبر ملا رہے تھے۔
“میں کر رہا ہوں، وہ فون نہیں اُٹھا رہا” ہارون دوبارہ کال ملاتے ہوۓ بولا۔
“ہمیشہ کی طرح چھپ گیا ہو گا” راحیل انکے قریب آ کر طنزیہ لہجے میں بولا۔
“بکواس بند کر ،اپنی منحوس شکل لے کر جا یہاں سے” حسام اس وقت اسکی باتیں نہیں سننا چاہتا تھا۔
“شٹ اپ گائیز، ہر وقت پر لڑتے رہتے ہو، ابھی اسکو ڈھونڈو، ورنہ اتنے دنوں کی محنت بے کار ہو جاۓ گی” میرال اپنا ماتھا مسلتے ہوۓ بولی۔ خود اسکی طبعیت کافی خراب تھی کل سے ہلکا ہلکا بخار ہو رہا تھا، دوائی لینے سے بھی فرق نہیں پڑ رہا تھا، اور اس وقت وہ بہت مشکل سے سب سھنمبال رہی تھی۔
“میرال سب تیار ہے؟ کسی چیز کی کمی تو نہیں رہی؟” سٹیج سبھی کے لیے ٹینٹ نما شکل میں بناۓ گے رومز تھے میم فرحت انکے روم میں داخل ہوئیں۔ میرال کے چہرے کی ہوائیاں اُڑیں ہوئیں تھی۔
“وہ میممم سب تیار ہے بس بلاج ابھی تک نہیں آیا” وہ ہچکچاتے ہوۓ بولی۔ جانتی تھی ابھی میم کا غصہ اسکے اوہر نکلنے والا ہے۔
“واٹ! ابھی تک وہ آیا نہیں، حد ہو گئی، اسکے بعد تم لوگوں کی پرفامنس ہے، اور ابھی تک مین لیڈ ہی نہیں آیا، کتنی لا پرواہ ہو تم پہلےنہیں بتا سکتی تھی” میم فرحت کا تو غصے سے برا حال تھا میرال بے بسی سے اپنی انگلیاں مڑور رہی تھی۔
“لیٹ ہو گیا سوری” تبھی ماتھے پر رومال رکھے بلاج ٹینٹ کا پردہ ہٹاتے ہوۓ اندر داخل ہوا۔ میرال کی پہلی نظر ہی اسکی بکھری حالت پر گئی۔ ماتھے پر رکھا رومال شرٹ کہنی سے پھٹی ہوئی، جگہ جگہ مٹی کے نشان دیکھ وہ گھبڑائی۔
“اوۓ یہ کیا ہوا؟” سبھی ایک دم اسکے پاس آۓ۔ میرال بھی اگے بڑھنے لگی تبھی وہ رک گئی۔ بلاج نے اسکا رکنا محسوس کیا۔
“ایک کام تھا اسی کو پورا کر کے بائیک پر جلدی جلدی آ رہا تھا تبھی چھوٹا سا ایکسیڈینٹ ہو گیا۔ ٹھیک ہوں بس معمولی سی چوٹ لگی ہے” وہ سبھی کو پریشان دیکھتے ہوۓ فوراً بولا آج صبح وہ حمنہ کو بوڈینگ سکول نہم میں ایڈمیشن کروا کے سارا پراسس پورا کرتے وہ اسے وہاں چھوڑ کر آیا تھا۔ گھر سے بائیک پکڑی اور جلدی جلدی یونی پہنچانا چاہی وہی چھوٹا سا ایکسیڈینٹ ہو گیا۔
” بڈی تو ٹھیک ہے نا ہسپتال چلیں” ہارون اسکے ماتھے سے رومال ہٹا کر زخم دیکھتے ہوۓ بولا۔
ارے ٹھیک ہوں دیر ہو رہی ہے میں تیار ہو جاؤں” وہ مسکرا کر بولا۔
“میم آپ فکر مت کریں پرفامنس بہت اچھی دیں گے” میرال نے میم فرحت کی پریشانی دور کی وہ دوبارہ سب دیکھ کر باہر چلی گئیں۔ بلاج تیار ہونے چلا گیا۔
تھوڑی ہی دیر بعد انکے نام کی اناؤسمینٹ ہوئی۔ سبھی نے اپنا اپنے ڈائیلاگز بولے۔ بہت ہی اچھے طریقے سے سارا ڈرامہ پورا ہوا۔ سبھی کی پرفارمنس بے حد اچھی تھی۔
“واؤ راحیل اور بلاج تم دونوں کی ایکٹنگ کمال کی تھی، ویسے تو میں جانتی ہوں تم دونوں کمال کے ایکٹرز ہو پر آج تو لیول کی الگ تھا بہت اچھا کیا” میم فرحت پرفامنس ختم ہونے کے فوراً بعد انکے ٹینٹ میں آئیں جہاں وہ سب موجود تھے۔
“اب میم میں تو سٹار ہوں تو ایسی چھوٹی موٹی پرفامنسز تو بہت اچھے سے کر سکتا ہوں” راحیل اتراتے ہوۓ بولا۔
“ایک اور بات میرال اور بلاج تم دونوں نے جو ڈائیلگ بولے مجھے تو لگا جیسے ڈرامہ نہین دیکھ رہی حقیقت ہے، بہت ہی خوبصورت، دل چھو لیا” میم فرحت میرال کو گلے سے لگاتے ہوۓ بولی۔ بلاج نے انکی بات پر میرال کی طرف دیکھا، جو چپ تھی۔
“ابھی تو مزہ آنا باقی ہے” راحیل سیٹی بجاتے گاڑی کی چابی کو انگلیوں پر گھماتے ہوۓ بولا۔
“کیا مطلب ؟” تبھی اسکے پاس کھڑی اسماء بولی۔ راحیل نے پلٹ کر اسے دیکھا اور کچھ سوچ کر مسکرایا۔
“ویٹ کرو تمہیں بھی پتہ چل جاۓ گا۔ انفیکٹ تم بہت خوش ہو گی، مخالفین کی ٹیم ٹوٹنے والی ہے” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔ اسماء نے کندھے اچکا دیے۔
“حسام سارا انتظام کو گیا نا؟” ہارون حسام کے پاس آ کر ہولے سے بولا۔
“سب ہو گیا میں نے چیک کیا بہت اچھے سے ڈیکور ہوا ہے” امرحہ ہولے سے جواب میں بولا۔
“کس چیز کی تیاری کیا بات ہو رہی ہے؟” بلاج انکی ہلکی ہلکی اوازیں سن کر انکی طرف پلٹ کر بولا۔
“یہ میرال سے اظہارے محبت کرنے والا ہے، اسی کے لیے ایک اسپیشل جگہ ڈیکوریشن کروائی ہے۔ ” حسام نے تفصیل سے اسے بتایا۔ اظہارے محبت سن کر ہی بلاج کی مسکراہٹ سمٹی۔
“اچھا! گُڈ بڈی، بیسٹ آف لک ” وہ گلا کھنگال کر بولا۔ اور ہارون کو گلے سے لگایا۔ تبھی اسکی نظر سر کو دباتے میرال پر پڑی۔ جو مشی کے پاس کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی اور سر پیچھے بیک پر ٹکا دیا تھا۔
جتنے والی ٹیم کی اناؤنس منٹ ہونے والی تھی سبھی باہر کھڑے تھے اسٹیج پر پرنسپل کھڑے تھے۔
“آج کا مقابلہ کافی سخت تھا سبھی بچوں نے کافی محنت کی، پر وینر تو ایک ہی ہو سکتا ہے، تو اس سال کے ڈرامہ مقابلے میں جسکی ٹیم فرسٹ پوزیش پر آئی ہے وہ ہے۔۔۔” پرنسپل بولتے بولتے جان بوجھ کر رُکے۔ سبھی کے دل کی دھڑکنیں بڑھ گئیں تھیں۔
” میرال احمد کی ٹیم پہلی پوزیشن لیتی ہے” پرنسپل نے مسکراتے وۓ اناؤس کیا۔ سبھی نے شور ڈالنا شروع کر دیا۔ میرال اور باقی سب اسٹیج پر پہنچے اور پرائیز لیا۔۔۔۔۔ تصاویریں بھی بنائیں۔
آہستہ اہستہ فنگشن ختم ہوا۔۔۔
“سو گائیز ونر تو ہم ہو ہی چکے ہیں تو کیا کہتے ہو اگر آج سبھی مل کر پارٹی کریں” حسام نے سبھی کو دیکھتے ہوۓ بولا۔ کیونکہ اسی طرح میرال انکے ساتھ جا سکتی تھی۔
بالکل پارٹی تو بنتی ہے” مشی چہک کر بولی۔
“تم سب کے ساتھ پارٹی کرنا تو نہیں چاہتا پر اس ٹرافی پر میرا بھی حق ہے، تو پارٹی پر بھی ہونا چاہیے میں چلوں گا” راحیل نے احسان جتاتے ہوۓ منظوری دی۔ انکے ساتھ تو وہ جانا چاہتا تھا۔ کس مقصد کے لیے یہ وہی بہتر جانتا تھا اب جب راحیل مان چکا تھا تو باقی کسی کا انکار کرنا بنتا نہیں تھا۔
“گائیز میری طبعیت تھوڑی خراب ہے کافی تھک گئی یوں ہاسٹل کر آرام کروں گی تم سب جاؤ” میرال نے جانے سے انکار کر دیا۔
“ارے ہماری ٹیچر ہمارے ساتھنہیں جاۓ گی تو مزہ کس بات کا آۓ گا آخر کو ہماری ٹیچر نے اتنی محنت کی تو آج ہم اس مقام پر پہنچ پاۓ کہ پارٹی کرنے جا رہے ہیں ورنہ ہم جیسے لوگوں کو پارٹی کہاں نصیب ہونے والی تھی” حسام جھک کر بولا۔ میرال کو تو اس پر پہلے ہی بہت غصہ تھا۔ بلاج کے ساتھ وہ بھی تو ملا ہوا تھا
“میرو چل نا یار پلیز” مشی نے اب فورس کیا۔ تو نا چاہتے ہوۓ بھی وہ مان گئی۔
“کہاں جانا ہے؟” عائشہ نے حسام سے پوچھا۔
“فالو می گائیز ” وہ اپنی کالر ٹھیک کرتے ہوۓ بولا۔ اور اگے کو چل پڑا۔ اسکے پیچھے سبھی چل دیے۔ اور کچھ ہی دیر بعد سبھی حسام کی بتائی جگہ پر پہنچ گے۔ شام کے چھے بج رہے تھے، سورج غروب ہو رہا تھا۔ یہ ایک کھلے میدان میں بنایا گیا ریسٹورنٹ تھا۔ جہاں کھلے اسمان کے تلے جگہ جگہ پر کرسیاں ٹیبل لگے ہوۓ تھے۔ ہلکی ہلکی سی ہوا چل رہی تھی اور بہت ہی پرسکون ماحول بنا ہوا تھا۔ بہت ساری لائیٹنگ ہوئی تھی۔ وہ سب ایک ٹیبل پر آکر بیٹھے۔
“ویسے یقین نہیں آ رہا میں اپنے دشمنوں کے ساتھ بیٹھا کھانا کھانے والا ہوں” راحیل کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بولنے سے نا چُکا۔
“دیکھا زندگی میں کبھی کبھی ایسے کام بھی کرنے پڑجاتے ہیں جسکے لیے ہم دوسروں کو ہزار باتیں سنا دیتے ہیں” عائشہ اسکی طرف جھک کر طنزیہ انداز میں بولی۔
“آہ بولی بیگم، اگر کام اہنے فائدے کے ہوں تو کرنے میں بالکل ہچکچاہٹ نہیں ہوتی” راحیل اسی کے انداز میں اسکی طرف جھک کر بولا۔ عائشہ کو اسکی بات بالکل سمجھ نا آئی۔ اسنے سر جھٹک کر سامنے دیکھا میرال اور مشی ایک ساتھ بیٹھی ہوئیں تھیں۔
“ہیلو منگیتر!” اسماء بلاج کے بگل مین رکھی کرسی ہر بیٹھتے ہوۓ بولی۔ بلاج سے اب مزید برداشت نہیں ہوا وہ اُٹھنے لگا جب اسماء نے اسکا بازو پکڑکر واپس بیٹھایا وہ دیکھ چکی تھی کہ میرال انکی طرف ہی دیکھ رہی یے۔۔
“ارے کہاں جا رہے ہو میرے پاس ہی بیٹھو” وہ محبت بھرے لہجے میں بولی اسکا یہ انداز بلاج کو زہر لگا۔ اسنے ایک جھٹکے میں بازو چھڑوایا۔ اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔ اور حسام کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ حسام نے کھانا آڈر کیا۔ کھانے سے فارغ ہو کر سبھی چہل قدمی کرنے لگے۔ ہلکا ہلکا اندھیرا ہو رہا تھا۔
ہارون نے ادھر اُدھر دیکھا تو ایک طرف خاموش سی کھڑی میرال نظر آئی جو سامنے بے معنی سے پتھر کو دیکھتے یوۓ نا جانے کیا تلاش کر رہی تھی۔
“وش می لک گائیز” ہارون کافی گھبرا رہا تھا، تبھی ہمت کر کے بولا۔
“جا کچھ نہیں ہوتا، اچھے سے بات کرنا ” حسام نے اسے تسلی دی۔ وہ گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کرتا اسکی طرف بڑھا۔ حسام گلاس میں پانی ڈال کر بلاج کے پاس آیا۔ جو موبائل پر بے مقصد انگلیاں چلا رہا تھا۔ یوں مانو ساری سچویشن سے بچنا چاہ رہا ہو۔
“ہارون گیا ہے، تجھے کیا لگتا ہے کیا ہو گا۔ ہاں بولے گی یا نا” حسام اسکے پاس ہی کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوۓ بولا۔ بلاج نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا۔ ہارون میرال کے پاس کھڑا تھا
“جو مرضعی بولے مجھے اس سے کیا” وہ کندھے اچکا کر بولا حسام اسکی بات سن کر ہنسا۔
” میں تو دعا کرتا ہوں ہاں بول دے” حسام پانی کا گھونٹ پیتے ہوۓ بولا۔ بلاج نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ پر بولا کچھ نہیں۔
“میرال مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے” ہارون اسکے پاس کھڑا ہو کر ہمت کرتے ہوۓ بولا۔
“ہاں بولو ہارون کیا بات ہے؟” میرال اسکی طرف متوجہ ہوئی۔
“وہ اصل میں، بات یہ ہے کہ۔۔۔” ہارون نے بولنے کی ہمت کی پر الفاظ ہی نہیں نکل رہے تھے۔
“کیا بات ہے کھل کر بولو کوئی پریشانی ہے؟” میرال کو لگا شائد وہ کسی بات سے پریشان ہے۔
“نہیں! اصل میں۔۔۔” وہ بولتے بولتےرُکا، اور گہرا سانس لے کر اپنی پاکٹ میں سے ایک لال ڈبی نکال کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ بلاج ایک دم اپنی جگہ سے کھڑا ہوا آج پہلی بار اسکا دل ایک دم خوف میں مبتلا ہوا۔ کسی کے ہمشہ چھن جانے کے خوف میں
“آئی لو یو میرال، جب سے تم یونی میں آئی ہو، اس دن سے مجھے تم اچھی لگنے لگی، پر اسکا احساس بہت دیر بعد ہوا، آج ہمت کر کے میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں، کیا تم میری محبت کو اپناؤ گی” وہ جلدی جلدی میں بول رہا تھا اسکا ہاتھ کانپ رہا تھا میرال شاک میں تھی اسنے ادھر اُدھر دیکھا سبھی اسکی طرف متوجہ ہو گے۔ بائیں طرف کھڑے بلاج پر نظر پڑی تو وہ تھم گئی۔ بلاج نے چہرہ موڑ لیا۔
“واؤ انٹرسٹنگ” راحیل ایکسائیٹ ہوا۔ یہ بات وہ نہیں جانتا تھا۔
“ہارون کھڑے ہو” میرال نے اُسے کھڑا ہونے کا کہا وہ اسکی بات سنتا کھڑا ہوا۔
“دیکھو تم نے اپنی فیلنگز بتائیں، مجھے اچھا لگا تم نے اپنے دل میں کوئی بات نہیں رکھی، پر ایم سوری میں یہ ایکسپٹ نہیں کر سکتی، میں اس سب میں پڑنا نہیں چاہتی، تم پلیز مائینڈ مت کرنا” میرال اپنی انگلیاں مڑورتے ہوۓ اسے انکار کر رہی تھی۔ اسکا انکار سن کر ہارون کو کافی دکھ پہنچا۔
“دیکھو پلیز برا مت ماننا ، میں تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتی، پر یہ سب میرے ہاتھ میں نہیں” میرال کو اسکا اترا ہوا چہرہ بالکل اچھا نہیں لگا۔ تبھی سبھی کے موبائل پر ایک میسج کی ٹون بجی۔ سبھی نے چونک کر اہنے موبائل اوپن کیے۔
یہ کیا؟” حسام ان نو نمبر سے ملنے والے میسج کو دیکھتے ہوۓ بولا۔ سبھی اپنے موبائل پر آۓ میسج کو دیکھنے لگے، جو کی ایک ویڈیو تھی۔
“مجھے یقین نہیں آرہا تم میرے ساتھ ایسا کرو گے” میرال کو جیسے اپنے الفاظ سنائی دیے۔ وہ چونکی، اسنے اپنا موبائل اوپن کیا، ہارون نے بھی اہنے موبائل سے میسج دیکھا۔وہ ایک ویڈیو تھی، اس دن میرال بلاج اور حسام کے درمیان ہوئی ساری باتیں ریکاڈ تھیں۔ ویڈیو دیکھتے ہوۓ ہارون کو لگا جیسے اسکے پاؤں تلے کسی نے زمین کھینچ لی ہو، باقی سبکا حال بھی ویسا ہی تھا۔ بس راحیل اور اسماء کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ تھی۔ میرال نے نفی میں سر ہلاتے بلاج کو دیکھا۔ اسے لگا یہ کام اسکا ہے۔
“بلاج یہ سب کیا ہے؟” ہارون بلاج کے پاس آکر موبائل کی سکرین اسکی طرف کرتے ہوۓ بولا۔ بلاج کے چہرے کی ہوائیاں اُرئیں ہوئیں تھیں۔
“وہ۔۔بڈی تو غلط۔۔۔ سمجھ رہا۔۔۔” بلاج نے کچھ بولنا چاہا۔ تبھی ہارون نے اسکے چہرے پر پنچ مارا۔
“تم اتنا کیسے گڑ سکتے ہو؟” ہارون نے اسے کالر سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوۓ چِلا کر کہا۔ اسکی آنکھیں ہلکی ہلکی بھیگی ہوئیں تھیں۔۔
“ہارون بس کر، بعد میں بات کریں گے، ابھی یہاں بہت سے لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں” حسام نے اگے بڑھ کر ہارون کا ہاتھ چھڑوایا۔ اور اسے پیچھے کیا۔
“حسام اگر تو مجھ سے بچنا چاہتا ہے تو دور رہ اس سب میں تو بھی ملا ہوا تھا” ہارون نے سخت لہجے میں بولتے حسام کو دور کیا۔ اور وہاں سے چلا گیا۔
“میرو چل ہاسٹل چلتے ہیں، بہت تماشا لگ گیا” مشی اکیلی کھڑی میرال کے پاس آ کر بولی۔ جسکا چہرہ آنسوں سے بھرا ہوا تھا۔ اور وہ سامنے کرسی پر بیٹھے ہاتھوں میں چہرہ گڑاۓ بلاج کو دیکھ رہی تھی۔
“ہمم” مشی کی آواز سنتے ہی اسنے چہرہ صاف کیا اور اسکے ساتھ جانے لگی۔ سب کے سامنے اپنی ذات کا تماشا وہ مزید بنوانا نہیں چاہتی تھی۔
“بلاج تیرا دماغ خراب ہے، یہ شرط کی بات کب ہوئی تھی مجھے تو کچھ یاد نہیں اور حسام تم نے اتنی گھٹیا بات کیوں کی۔” امرحہ ان دونوں کے پاس آ کر غصے سے بولی اسے انکی حرکت بالکل پسند نا آئی۔
بعد میں بتاتا ہوں ابھی چپ کر جاؤ اور چلو یہاں سے” حسام نے غصے سے بولا۔
“آج سالوں بعد اتنا سکون مل رہا ہے، بیگم دیکھو تمہاری نظروں کے سامنے تمہارے سو کالڈ دوست کیسے بکھر رہے ہیں، بولا تھا نا اپنی بات کا پکا ہوں، الگ کر دوں گا دیکھتی جاؤ” راحیل عالم پریشان سی کھڑی عائشہ کے پاس آ کر ہولے سے بولا۔ عائشہ اسکی بات پر چونکی۔
“تو یہ ویڈیو تم نے بھیجی ہے” عائشہ کو یقین نا ہوا وہ ایسا کر سکتا ہے۔ راحیل نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔
“راحیل تمہیں ہو کیا گیا ہے، بالکل بدل گے ہو” عائشہ اسے دیکھتے ہوۓ عجیب سے لہجے میں بولی۔ جیسے اسے یقین ہی نا آ رہا ہو سامنے کھڑا وہی شخص ہے جو کبھی ان سب کو اپنی زندگی سے زیادہ اہمیت دیتا تھا سب کی مسکراہٹ کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا اور آج وہ خود ان سب کی مسکراہٹ کو چھیننا چاہتا تھا۔
“بیگم کچھ نہیں ہوا، بس عقل آ گئی ہے، چلو یہاں سے” وہ ہلکا سا ہنس کر اسکا ہاتھ پکڑتے کھینچ کر گاڑی کی طرف بڑھا۔
“مجھے بلاج سے بات کرنی ہے ۔۔” عائشہ نے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا۔راحیل نے اسے گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھایا اور کھٹاک سے دروازہ بند کیا۔
“کیا بدتمیزی ہے مجھے اس سے بات کرنی یے وہ پریشان ہے” عائشہ نے دروازہ کھولنا چاہا پر راحیل لاک لگا چکا تھا۔
“بیگم ابھی گھر چلو، مجھے شوٹ پر جانا ہے، صبح دیر کو آؤں گا” راحیل گاڑی چلاتا بات کو بدل گیا۔ عائشہ غصے کو ضبط کرتی رہ گئی۔
“
میرال مشی کے ساتھ اپنے کمرے میں آئی، اسے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا۔ وہ وہی بیڈ پر لیٹ گئی، بخار کی وجہ سے بھاری ہوتی نم آنکھوں کو اسنے بامشکل کھولا۔ کچھ دیر پہلے والا واقع اسکی آنکھوں کے سامنے آیا۔
“مشی کیا میں دنیا کی سب سے بری بے وقوف ہوں؟” میرال نے اوپر چھت کو دیکھتے ہوۓ کھوۓ ہوۓ لہجے میں پاس بیٹھی مشی سے پوچھا آنسوں اسکی آنکھوں کے کنارے سے بہے۔
“ایسی بات نہیں ہے، وہ بلاج ایسا ہی ہے” مشی نے اسکے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔
“اف میرو تمہارا ہاتھ تمہیں اتنا تیز بخار ہے” مشی اب اسکا ماتھا چھو کر بولی۔ جو تپ رہا تھا۔
“روکو ایک منٹ میرا موبائل۔۔۔ ” میرال نے اسکی بات اگنور کرتے ہوۓ بھاری سر کو اُٹھا کر سائیڈ میں رکھے بیگ سے موبائل نکالا۔
“کس کو کال کرنے لگی ہو؟” مشی اسکی عجیب حرکتیں دیکھ کر بولی میرال نے نم آنکھوں سے بلاج کا نمبر نکالا اور اسے کال ملائی۔۔۔
“بلاج جو کہ حسام اور عائشہ کے ساتھ ہارون کے گھر کے پہنچا تھا۔ موبائل پر اس وقت میرال کی کال دیکھ کر چونکا۔ اور وہی رک کر اسکی کال اُٹھائی۔
” تم نے ایسا کیوں کِیا؟” اگے سے بھاری اور نم لہجے میں میرال بولی۔۔ بلاج کو لگا اب الفاظ ختم ہو گے، اب وہ کیا بولے اسنے وہی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا لی۔ اور چپ رہا۔
“بولو!” میرال نے اسکی طرف سے کوئی جواب نا سن کر پھر کہا۔
“تمہیں پتہ ہے، میں نے زندگی میں اپنی ماں کے بعد پہلی بار کسی پر اعتماد کیا، زندگی حسین لگنے لگی تھی، لگا غم ختم ہو جائیں گے، تم اپنے اپنے سے لگنے لگے تھے، اور تم نے کیا کِیا، ایک پل میں مجھے میرے اعتماد ، محبت سبکو ایک جھٹکے میں توڑ دیا، تمہیں پتہ مجھے کتنی گھٹن ہو رہی ہے ایسا لگ رہا ہے سانس بند ہو جاۓ گا، لگ رہا ہے میرے دل میں ہو رہے درد کی وجہ سے دل پھٹ جاۓ گا” وہ بولتے بولتے رو دی۔ اسکے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے، بلاج کو لگا وہ خود بھی سانس نہیں لے پا رہا، اسکی آنکھ سے بھی آنسو نکل کر گال پر بہے۔
“میرا۔۔” اس سے اسکا نام بھی پورا نا لیا گیا۔ حسام اور امرحہ اسکے پاس کھڑے زندگی میں پہلی بار اسکو روتا ہوا دیکھ رہے تھے۔
” تم نے محبت کے اوپر دوستی کو چُنا” میرال کے اگے الفاظ اسے پتھر کا کر گے، وہ بنا کہے سب سمجھ گئی تھی، وہ سمجھ چکی تھی کہ بلاج نے اس دن سب جھوٹ بولا تھا۔ جب ہارون نے اس سے اظہارے محبت کیا اس وقت وہ سب سمجھ گئی تھی۔
“میرال کیا ہوا آنکھیں کھولو۔۔۔” وہ بات کرتے کرتے بے ہوش ہو گئی،۔ مشی گھبڑا گئی۔ مشی کی آواز سن کر بلاج چونکا۔
“میرال کیا ہوا تمہیں۔۔؟” بلاج چلایا۔
“وہ اسکو بہت تیز بخار۔۔ اور بے ہوش۔۔۔وہ گئی” مشی ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بولی۔
“تم دونوں کہاں ہو ابھی” بلاج گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوۓ بولا۔
“ہاسٹل میں” مشی نے جلدی سے بتایا۔
“میں اتا ہوں” بلاج کال بند کر کے گاڑی میں بیٹھنے لگا
“میں جاتا ہوں، تو اور امرحہ ہارون کے پاس جاؤ” حسام نے اسے روک دیا۔
“اب مزید نہیں” وہ بولتا ہوا گاڑی میں بیٹھا۔ اور گاڑی کو ہاسٹل کی طرف موڑ دیا۔۔۔۔ امرحہ اور حسام ہارون کے کمرے کی طرف بڑھے۔
وہ سامنے بیڈ پر سر ہاتھوں میں گِراۓ بیٹھا تھا۔
“ہارون بات سن لے ” حسام کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولا۔ اسکی آواز سن کر ہارون کا غصہ مزید بڑھا۔
“حسام اگر زندہ رہنا چاہتا ہے تو ایک منٹ کے اندر یہاں سے دفع ہو جا” ہارون نے غصے سے کہا۔۔
“ہارون ریلکس بات تو سن لے” امرحہ اگے بڑھ کر بولی۔
“بات کیا بات سنو، ان دونوں کو پہلے ہی روکا تھا دیکھو ابھی کیا کِیا؟ کیا ہم س اتنے گھٹیا ہیں اتنی نیچ حرکت پر اتر آئیں گے، اگر ایسی بات ہے تو مجھے تم لوگوں کے ساتھ کوئی دوستی نہیں رکھنی نکلو یہاں سے ” ہارون کوئی بات سننے کو تیار نا تھا
“پوری بات سن اسکے بعد جو مرضعی ہو کرنا” حسام نے اسے پکڑ کر صوفے پر بیٹھاتے ہوۓ غصے سے کہا۔
“سچ بولنا اگر بولنا ہے ورنہ دفع ہو جاؤ” ہارون نے وارنگ دیتے ہوۓ کہا۔
“سچ ہی بتاؤ گا، اب مزید اس پاگل کا ساتھ نہیں دوں گا” حسام نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔
“کیا مطلب؟” امرحہ کو سمجھ نا آئی۔
“بات یہ ہے کہ۔۔۔” اور پھر حسام نے دونوں کو شروع سے لے کر اب تک کی ساری باتیں بتا دیں۔
“یہ کیا بکواس ہے، اسنے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے” ساری بات سن کر ہارون تو تلملا اُٹھا
“میں تو خود اسے روکنا چاہتا تھا پر ولیمے والے دن تمہارے منہ سے میرال کا نام سن کر اسےسمجھ نا آیا کیا کرے، وہ تجھے دکھی نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے خود پر اتنا برا ظلم ڈھا لیا” حسام گہرا سانس خارج کرتے ہوۓ بولا۔
” تو جو بھی کہے یہ بے وقوفی ہے، میں اسے معاف نہیں کروں گا اور تم دونوں پلیز جاؤ یہاں سے مجھے اکیلا رہنا یے” ہارون کو سمجھ ہی نا آ رہا تھا کیا ہو رہا ہے، وہ اپنا سر پکڑ کر بولا۔ حسام اور امرحہ نے نکلنا ہی بہتر سمجھا۔
بلاج ہاسٹل پہنچا اور مشی کو کال کی۔ مشی نے واڈن کو میرال کی حالت بتائی اور اسکی مدد سے وہ اسے نیچے گاڑی تک لائی۔ اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر وہ اسکے ساتھ بیٹھ گئی۔ میرال مکمل بے ہوش نا تھی بخار کی وجہ سے وہ نیم بے ہوش تھے۔ بلاج نے گاڑی چلا دی اور پانچ منٹ کے بعد وہ ہسپتال پہنچے، اسے جلدی سے ٹریٹ منٹ ملا۔ بخار اور ذہنی ٹینشن کی وجہ سے وہ بہت کمزور ہو گئی تھی۔ ڈاکٹر نے اسے ایڈمٹ کر لیا تھا۔ بلاج نے مشی کو گھر بھیج دیا تھا وہ خود وہی رُکا۔ وہ جانتا تھا میرال کی اپنی کوئی فیملی نہیں۔ وہی اسکے پاس بیٹھا اسکی حالت دیکھ وہ خود کے کیے گے فیصلے پر پچھتا رہا تھا۔ پہلے ہی ہارون کو سب بتا دیتا تو اتنا تماشا نا لگتا اور شائد وہ بھی سب سن کر خود پیچھے ہٹ جاتا پر اب وہ خود ہار گیا۔ دوست اور محبت دونوں کھو دیے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
