Rate this Novel
Episode 38
ازقلم فاطمہ طارق
سبھی اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو چکے تھے، راحیل اپنے غصے کو دبانے کی کوشش کر رہا تھا، عائشہ گاڑی میں خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی، اسکی طبعیت بھی تھوڑی خراب ہو رہی تھی۔ وہ چاہ کر بھی اس سے بات نہیں کر پا رہی تھی کیونکہ جانتی تھی، وہ بری طرح پھٹے گا۔ گاڑیاں عالم ہاؤس میں آ کر رکیں، اسماء خاموشی سے اپنے کمرے میں آ گئی اور آتے ہی دروازہ بند کر دیا۔ مشی بھی اپنے کمرے میں آ گئی۔ راحیل اپنا اور عائشہ کا سامان نکال کر کمرے میں آیا۔ وہ بھی اسکے پیچھے پیچھے آئی۔
“راحیل!” اسنے ڈرتے ڈرتے اسے مخاطب کیا۔
“ہممم” اپنی گھڑی اُتارتا ماتھے پر بل ڈالے وہ بولا تھا۔۔
“آپ ٹھیک ہو؟ آئی مین” وہ اپنی انگلیاں مڑورتے ہوۓ اسکے قریب آ کر بولی۔ جانتی تھی وہ کافی اپ سیٹ یے۔بات کر کے اسکا موڈ۔ ٹھیک کرنا چاہتی تھی۔
“ٹھیک ہنہہہ تمہاری اس خبیث دوست کم بھائی نے مجھے ہماری فیملی کو اس قابل کہاں چھوڑا ہے کہ ہم ٹھیک ہو سکیں” وہ طنزیہ انداز میں بولا اور الماری کی طرف بڑھا اپنا نائیٹ سوٹ نکالتے پلٹا۔
“وہ پہلے دن سے اسماء سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا، اور یہ تو اچھی بات ہے، اسماء کی لائف خراب ہونے سے بچ گئی” عائشہ نے اسے سمجھانا چاہا
“کیا بولا تم نے لائف خراب ہونے سے بچ گئی، ہنہہ کیا تم بھول گئی دو سال قبل وہ میری بہن کی زندگی خراب کر چکا ہے، اس پر داغ لگا چکا ہے، اور اب منگنی بھی ٹوڑنے کا داغ لگا دیا اب کیا کرے گی میری بہن بولو۔۔۔۔ ” وہ دانت پیستے ہوۓ گرجا تھا۔ عائشہ دو قدم پیچھے ہوئی۔
“راحیل کتنی بار کہوں وہ بے قصور۔۔۔۔۔۔” عائشہ نے بولنے کی کوشش کی۔ تبھی راحیل نے ہاتھ میں پکڑا نائیٹ سوٹ بیڈ پر پھینکا۔ اور غصے سے دو قدم اسکی طرف بڑھا۔
“کتنی بار کہاں ہے، اس کمینے کی طرفداری میرے سامنے مت کیا کرو، ویسے تمہاری باتوں سے تو ایسا لگ رہا ہے اس معاملے میں تم بھی شامل تھی، کہی تم نے ہی تو انکا نکاح تو نہیں کروایا تا کہ اسکو میری بہن سے شادی نا کرنی پڑے” وہ اسکو شک کے دائرے میں لا چکا تھا۔
“راحیل بس کریں کچھ بھی بولے جا رہے ہیں، میں ایسا کیوں کروں گی، مجھے اس بارے میں علم۔ ہی نہیں” وہ بھی اسکے الزام پر چیخی تھی۔
“ہنیہہ بس کرو یہ ڈرامے بہت اچھے سے تم سبکو جانتا ہوں، اس کمینے کی خاطر ان تینوں نے اور تم نے میرا ساتھ چھوڑا تھا، ہمیشہ اسے ہی مجھ پر چنا تو اس دفع بھی یہی کیا ہو گا، آخری کو تم پانچوں دوست کم فیملی زیادہ ہو۔۔۔۔” وہ غصے میں آۓ سب بولے جا رہا تھا۔ وہ حیرانگی سے اسکی باتیں سن رہی تھی۔
“بس کریں راحیل خدا کے لیے بس کریں، کب تک دو سال پرانی بات میں اٹکے رہیں گے،اس بات کا پیچھا چھوڑ دیں، پتہ ہے، آپ کو صرف اپنی فکر کے، میری یا ہمارے دوستوں کی فکر تو کبھی تحی ہی نہیں، ہم سب ایک گروپ کا حصہ تھے نا، تو اس وقت اپکی یہ رسپونسبیلٹی تھی آپ بلاج کا ساتھ دیتے، پر اپنے کیا کیا؟ صحیح کون غلط کون سبکو ایک سائیڈ پر رکھ کر آنکھیں بند کر کے اپنی بہن کو چنا نا، کیونکہ دوستی سے بھی پہلے بہن ضروری تھی، پر میں نے ایسا نہیں کیا، میں نے تب یہ نہیں دیکھا کون دوست ہے، یا کون محبت اس وقت مجھے میرے مطابق جو سچا لگا میں نے اسکا ساتھ دیا۔ اور آپ بری محبت کی باتیں کرتے تھے، تب آپ نے میرے سامنے شرط کیوں رکھی، کہ اگر اسکو چنو گی تو مجھے کھو دو گی بولیں،،،،، پتہ کیوں کیونکہ آپ سیلفش انسان ہو، صرف اپنے بارے میں سوچا اس وقت آپ چاہتے تھے، وہ پوری دنیا میں اکیلا رہ جاۓ، اور سب آپکا۔۔۔۔۔” وہ بولتے بولتے چپ سی ہو گئی۔ کیونکہ سامنے کھڑے راحیل نےسائیڈ ٹیبل سے لیمپ پکڑ کر سامنے شیشے پر دے مارا تھا، ٹھاہ کی آواز پر شیشہ چکنا چوڑ ہو کر زمین پر بکھرا تھا۔ اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے وہ دو قدم پیچھے ہوئی۔
“بس کرو اپنی بکواس، تمہارے مطابق تو میں دنیا کا سب سے برا انسان ہوں، نا تو کیوں میرے ساتھ رہ رہی ہو، جاؤ چھوڑ دو میرا ساتھ، اور اپنے اس گھٹیا دوست کا ساتھ دو، مجھ سے بڑھ کر تو وہ ہے نا، بس بہت ہوا نکلو میرے گھر سے مزید میں تمہاری کوئی بکواس نہیں سننا چاہتا” وہ غصے میں اسکی کلائی پکڑتا حال کی طرف بڑھا، اور وہ انکھوں میں حیرانگی لیے اسکے پیچھے چلتی گئی۔ شیشے کے ٹوٹنے کی آواز پر گھر والے باہر نکلے۔
“راحیل یہ کیا کر رہے ہو؟ ” سمائرہ بیگم اگے برھ کر دونوں کو رکتے ہوۓ بولیں۔
“آپ درمیان میں مت آئیں آج فیصلہ ہو گیا جسے مجھ سے محبت نہیں اسے میرے ساتھ رہنے کا حق بھی نہیں” وہ غصے سے بولتا اسے لیے باہر گاڑی کی طرف بڑھا اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا، سمائرہ بیگم اور مشی اسے روکتیں رہیں پر وہ کسی کا سنے بغیر گاڑی کو روڈ پر ڈال چکا تھا۔۔۔۔ اور گاڑی کو تیزی سے چلا رہا تھا۔ وہ پیچھے بیٹھی ہوئی تھی، اپنی کلائی کو ہاتھ میں لیے، وہ اس پر پڑے انگلیوں کے نشانوں کو دیکھ رہی تھی، ابھی آج صبح تک تو اسے لگا رہا تھا زندگی اب بدل سی گئی ہے، خوبصورت سی لگنے لگی تھی، اور ابھی اسنے کیسے اپنی زندگی سے نکال پھینکا تھا۔ گاڑی ایک دم سے رکی، وہ اترا اور اسکی طرف کا دروازہ کھول کر اسے باہر نکالا۔ عائشہ نے بے یقینی سے اسکی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں مان ٹوٹنے کے آنسوں تھے۔
” میں نے بہت چاہا ہمارا رشتہ ٹھیک ہو جاۓ پر تم شائد یہ چاہتی ہی نہیں تو اب عائشہ خان ہمارا رشتہ یہی ختم ہوا” اسے اسکے گھر کے سامنے کھڑا کرتے اسنے سخت لہجے میں بولتے اسکا ہاتھ چھوڑا تھا۔ اور پلٹ کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا، عائشہ نے اپنی کلائی کی طرف دیکھا، تبھی گاڑی چلنے کی آواز آئی وہ بنا رکے گاڑی بھگا لے گیا تھا۔ عائشہ گم صم وہی کھڑی رہی، اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔ گاڈ راحیل کی گاڑی کو جاتا دیکھ عائشہ کے پاس آیا۔
“میڈیم اندر چلیں کافی رات ہو چکی ہے، ایسے کھڑے رہنا مناسب نہیں” وہ برے ادب سے بولا۔ پر وہ سنتی کہاں، تب سنتی جب وہ یہاں موجود ہوتی، اسنے کوئی جواب نا دیا۔ اور بس اپنی کلائی کو دیکھتی رہی۔ گاڈ کو اسکی ذہنی حالت پر شبہ ہوا اسنے جلدی سے انٹر کام پر روبینہ بیگم کو اسکے آنے کی خبر دی۔ وہ جلدی سے باہر آئیں۔
“عائشہ میری جان کیا ہوا؟ اتنی رات کو یہاں کیا کر رہی ہو؟” وہ بھی کچھ دیر پہلے ہی پہنچیں تھیں۔ وہ اپنی ماں کی آواز پر بھی نہیں چونکی تھی۔ اسی طرح اپنی کلائی کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔ اکبر صاحب بھی باہر آگے گے۔
“عائشہ کیا ہوا یہاں کون چھوڑکر گیا ہے؟ راحیل کہاں ہے؟” اکبر صاحب اسے یوں حواس باختہ دیکھ گھبڑاۓ تھے، تبھی گاڈ نے انہیں سب بتایا۔ وہ اسے یہاں چھوڑ کر گیا ہے۔
“عائشہ بچے چلو اندر۔۔۔ چل کر بات کرتے ہیں” روبینہ بیگم نے اسے کندھوں سے پکڑ کر بولا۔ پر وہ یہاں ہوتی تو کوئی جواب دیتی اسکے کانوں مین تو ابھی تک اسکے سخت الفاظ گھونج رہے تھے، ٹھیک دو سال پہلے بھی ایسے ہی بول کر گیا تھا۔ اسے اپنے آس پاس آکسیجن کی کمی ہوتی محسوس ہوئی۔ اسنے گہرے گہرے سانس لینے شروع کیے، اکبر صاحب اور روبینہ بیگم کے چہروں کے رنگ اُڑے۔
“عائشہ بیٹے ریکس چلو اندر چلتے ہیں طبعیت خراب ہو جاۓ گی” روبینہ بیگم نے اسکا دھیان بٹانے کی کوشش کی۔ پر وہ گہری گہری سانس لگ رہی تھی۔ مزید اس سے کھڑا بھی نا ہوا گیا۔ انکھوں کے سامنے گہرا اندھیرا سا چھانے لگا، ماں باپ کی اوازیں کم ہونا شروع ہوئیں۔ اور اگلے دس سیکنڈ میں وہ اپنی ماں کے بازوں میں لہرا کر گڑی۔ جسم ڈھیلا پڑ گیا، وہ چیختے رہ گے، اکبر صاحب نے جلدی سے گاڑی نکالنے کا کہاں، اسے گاڑی مین ڈالا اور ہسپتال کی طرف بھاگے۔۔
دوسری طرف وہ جانتا تک نا تھا اپنے غصے اور انا کے ہاتھوں وہ کیا کچھ کھو چکا ہے۔
وہ آوازیں سن کر کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے وہ بیڈ کی دائیں طرف زمین پر بیٹھا ہوا تھا، سائیڈ ٹیبل پر ساری پرفیومز، اب زمین پر بکھریں ہوئیں تھیں، اور وہ زمین پر بیٹھا ایک گھٹنے پر بازو رکھے بکھرے حلیے کے ساتھ بے دھیانی میں سامنے بالکنی میں پڑے ٹیبل کو گھورے جا رہا تھا۔ چہرے ایک دم سنجیدہ تھا، کانوں میں ہارون کے الفاظ گھونج رہے تھے، اسے یوں بکھری حالت میں دیکھ اسکا اپنا فل کٹا وہ ہمشہ اسکے سامنے مسکراتا ہی رہتا تھا اسے چھیرتا ہی رہتا تھا وہ اگے بڑھی۔ اور اسکے پاس آ کر جھکی۔
“اگر غصہ ختم ہو گیا ہو، تو یہ سارا گند سمٹنے میں مدد کرو میں اکیلی یہ سب نہیں کروں گی” وہ ہلکا سا جھک کر بولی۔۔اسکی آواز پر وہ چونکا اور اسکی طرف دیکھا۔ خالی نظروں سے اسکی عینک کے پیچھے چھپی آنکھوں میں وہ بنا پلکیں جھپکاۓ دیکھے جا رہا تھا۔
“کیا ہوا؟ چلو اُٹھو کام کرو میرے ساتھ” اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجاتے وہ بولی تھی۔ اور سامان سمیٹنے جانے لگی۔ جب اسکی کلائی بلاج کے ہاتھ میں آ گئی اسکا دل ایک دم دھڑکا وہ پلٹی۔
“دس منٹ میرے پاس بیٹھ جاؤ پلیز” اسکی آواز میں ایک التجا سی تھی۔ وہ بنا کچھ بولے اسکے پاس ہی زمین پر بیٹھ گئی۔ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے وہ انگھوٹے سے ہاتھ کی پشت سہلا رہا تھا، اور اسی طرح اس بے معنی نقطے کو دیکھے جا رہا تھا، وہ ہولے سے اسکے کندھے پر سر رکھ گیا۔ وہ خاموش سی بیٹھی رہی۔ وہ تب چونکی جب اسے اپنا کندھا گیلا گیلا محسوس ہوا۔ کچھ پل تو اسے یہ سمجھنے میں لگے وہ رو رہا ہے۔
“بلاج، تم رو۔۔۔۔۔ ” اس سے بولا بھی نا گیا۔ آج پہلی بار اسنے اسے روتے ہوۓ دیکھا تھا۔
“میرو تمہیں معلوم ہے، میری زندگی میں میرے دوست میری جان سے بھی زیادہ معنی رکھتے ہیں، ہم سب ایک فیملی کی طرح تھے، کچھ سمجھ نہیں آ رہی غلطی کہاں ہوئی، کہاں سے اتنے سوالات اسکے دماغ میں آ گے، میرا ساتھ دینے پر آج وہ پچھتا رہا ہے” وہ ہولے سے بولنا شروع کر گیا۔ میرال نے اسکا گال سے آنسوں صاف کیے۔
“سوچوں گے تو معلوم یو جاۓ گا غلطی کہاں ہوئی” اسکے ہاتھ کو سہلاتے ہوۓ بولی۔
“تم بتاؤ نا ایسا کیا ہو گیا جو سب بکھر گیا؟” وہ بہت پریشان اور بے بس لگ رہا تھا۔ میرال کو اسکا ٹوٹنا رولا رہا تھا۔ پر ابھی وہ ہمت کر کے بیٹھی ہوئی تھی۔
” تمہارا پہلا قدم ہی غلط تھا، اگر تمہیں تمہارے دوست کی فیلنگ کا پتہ چل گیا تھا تو تمہیں وہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا۔ تم نے اس دن مجھے اور اپنے دوست دونوں کو ناراض کیا تھا، دوسری بار تم تب غلط چلے گے جب ہمارا نکاح ہوا، اس دن میں نے تمہیں بولا تھا یہ سب مت کرو،،،،، خیر مجھے ابھی تک یہ بات سمجھ نہیں آئی جب حسام کو ہمارے نکاح کا معلوم ہو سکتا ہے تمہارے باقی دوستوں کو کیوں نہیں!” وہ جیسے اس سوال کا جواب خود بھی جاننا چاہتی تھی۔ اسکے سوال پر وہ نظریں چڑا گیا۔
“مجھے لگا اسے دکھ ہو گا” وہ نظریں پھیرتے ہوۓ بولا۔
“اور جو تقلیف اسے اب ہوئی اسکا کیا؟ اسکی باتیں اگر تم نے غور سے سنی ہوں تو معلوم ہو جاۓ گا وہ بس ناراض ہے، اگر تم اسے منانے کی پوری کوشش کرو گے وہ مان جاۓ گا، اوکے ” وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی تھی۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور بالکنی میں آیا، وہاں پر رکھے برے سے جھولے پر بیٹھا وہ بھی اسکے پیچھے ہی چل دی، اسنے اسے اپنے ساتھ بیٹھایا۔
“چشمش!” وہ اسلی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔ ۔
“ہممم ” وہ چونک کر بولی۔ اور اسکی طرف مڑی۔
“ایم سوری فار ایوری تھنگ چشمش کیا ہم سب بھول کر نئی شروعات نہیں کر سکتے” ایک امید کے ساتھ وہ پوچھ رہا تھا۔
“میرے پاس کیا یہ حق ہے؟” وہ پھیکا سا مسکرا کر بولی۔
“افکورس سارے حق تمہارے پاس ہی ہیں، دیکھو میرال میں جانتا ہوں نکاح جس سچویشن میں ہوا غلط تھا پر مجھے تمہاری فکر تھی تمہیں ہر حال میں اپنی نظروں کے سامنے رکھنا چاہتا تھا” وہ اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بولا۔
“مجھے معلوم ہے، پتہ ہے بلاج جب مجھے تم سے محبت ہوئی تھی نا مجھے ایک یقین تھا کچھ بھی ہو جاۓ یہ شخص کبھی دھوکہ نہیں دے گا، کیونکہ یہ سچا انسان ہے، مجھے لگا تھا تم باہر سے جتنے سخت بنو اندر سے بالکل معصوم بچے کی طرح ہو جو اپنی پیاری چیز کھو جانے کے بعد غصہ کرتا ہے، میں نے تمہارے اوپر چڑھے کھول کے پار تمہارے اصل کو دیکھا تھا، مجھے تب تم سے محبت ہوئی تھی، جس دن تم نے سب ڈرامہ بول کر رشتہ ختم کیا تھا اس دن میرا سارا مان چکنا چوڑ ہوا تھا، زندگی ایک دم پھیکی بے رونک سی ہو گئی۔ بھروسہ ٹوٹنے کا درد کیسا ہوتا ہے اس دن معلوم ہوا، مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔ پتہ ہے بہت دیر بعد کسی پر یقین کیا تھا ایسے ٹوٹے کا کبھی سوچا بھی نا تھا” وہ بولتے بولتے رو دی۔۔۔
“ایم سوری میری جان، میں تو ہوں ہی بے وقوف بہت غلطیاں ہوئیں ہیں تم جتنا وقت لینا چاہو لے لو، اگر دل نا مانے تو چھوڑ۔۔۔۔۔” اس سے بات بھی مکمل نا ہو پائی۔ جب میرال کا تھپڑ اسکے کندھے پر پڑا۔۔۔
“مجھے بس تھوڑا سا وقت چاہیے، ہمیں اب میچوریٹی سے سب ہینڈل کرنا پڑے گا، ایموشنز میں آ کر کوئی فیصلہ نہیں لے گے اوکے ” وہ اسکی انکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی، اسکی آنکھوں میں چھپا ڈر وہ اچھے سے محسوس کر پا رہا تھا۔ جو بات اسکے لیے اتنی بری نا تھی، شائد وہی بات میرال کے لیے بہت بری تھی، وہ جس طرح سب جلدی سے ٹھیک کرنا چاہتا تھا ویسا کرنا میرال کے لیے مشکل تھا۔ اسے وقت کی اور اسکے پیار دونوں کی ضرورت تھی۔
“ٹھیک ہے جیسا تم چاہو گی ویسا ہی ہو گا، بس تب تک مجھ سے روڈلی بات مت کرنا، پلیز” وہ اسکے کندھوں کے گرد بازو لپیٹتے اپنے سینے سے لگا گیا۔ وہ بھی خاموشی سے آنکھیں بند کر گئی۔ اور وہ بس گہرا سانس لے کر رہ گیا، شائد اب اسے احساس ہو رہا تھا وہ کہاں کہاں غلط گیا۔
وہ موبائل کو سائلنٹ کر کے بس بے فضول سا گاڑی چلاتا رہا، اور اب اسنے گاڑی ایک سائیڈ پر لگائی اور خود باہر نکل آیا، گاڑی سے ٹیک لگا کر وہ وہی بیٹھ گیا۔ اسے اسکے گھر کے دروازے کے باہر چھوڑے اسے تین گھنٹے ہو گے تھے، دور سے فجر کی اذان کی بھی آواز آرہی تھی۔ وہ پاس کھلے ڈھابے میں گیا جہاں سے چاۓ کی مہک آ رہی تھی، اسنے چاۓ پکڑی اور وہی چارپائی پر بیٹھ گیا۔ سر مسلسل درد کر رہا تھا۔
“کیا ہوا صاحب؟ سر درد ہو رہا یے تو دوا ہے چاہیے” تبھی ڈھابے والا اسکے پاس آ کر بولا۔ جو پچاس سال کا لگ رہا تھا۔
“ارے نہیں چچا اب دوائیں کہاں کام آئیں گئی، یہ تو عمر بھر کا روگ لگ گیا ہے” وہ گہرا سانس لے کر بولا اور چاۓ کی ایک چسکی بھری۔
“صاحب کیسی باتیں کرتے ہو، اتنی سی عمر میں کون سا روگ پال لیا” وہ اسکے سامنے پڑی چارپائی پر بیٹھ گیا۔
” بس چچا محبت سے برا روگ تو پوری دنیا میں نہیں، اور محبت بھی اپنی بیوی سے” وہ افسردہ لہجے میں بولا۔
” محبت روگ تھوڑی ہوتی ہے، محبت تو خوبصورت سا احساس ہوتا ہے، جس میں کبھی حد سے زیادہ خوشی ملتی ہے، اور کبھی حد سے زیادہ دکھ، پر ایک بات گرینٹی ہے محبت امتحان بہت لیتی ہے، اور جو بندہ اس امتحان کو تحمل سے پار کر لے وہ محبت پا لیتا ہے اور جو تھک کر رک جاۓ وہ ہار جاتا ہے، محبت کو بھی اور محبت کرنے والی کو بھی آئی سمجھ” وہ مسکرا کر بول رہا تھا۔ راحیل خاموشی سے سن رہا تھا آخر میں وہ پھیکا سا مسکرایا۔ چاۓ کا کپ ختم ہو چکا تھا اور اسکی کہی بات بھی۔۔۔۔۔وہ اس سے مل کر گاڑی میں آکر بیٹھا۔ اور گاڑی کو روڈ پرڈالا۔ اسکا رخ عالم۔ولا کی طرف تھا۔ ابھی تھوڑا ہی رستہ پار ہوا کہ اسکا موبائل جگمگایا، پہلے تو اسنے اگنور کیا پر اسکی نظر عالم صاحب کے نمبر پر پڑی اسنے موبائل پکڑا۔ جہاں مشی سمائرہ بیگم، اکبر صاحب، اور عالم صاحب کی ڈھیروں کالز اور مسجیز تھے، اسنے مشی کا میسج اوپن کیا۔
“بھائی کہاں ہو جلدی ہسپتال آؤ، بھابھی ہسپتال میں ایڈمٹ ہے، انکا مس کیرج ہو گیا” یہ میسج پڑھتے ہی گاڑی کی بریک پر اسکا پیر گیا۔ بے یقینی سے اسنے کئی بار میسج پرھا اور پھر مشی کو کال ملا دی۔ جسنے اُٹھاتے ہی اسے سب بتایا۔ جب اکبر صاحب اور روبینہ بیگم اسے ہسپتال لائیں، تب اسکی طبعیت کافی خراب تھی۔۔۔ ڈاکٹر کو اسکی جان بچانی پڑی۔۔وہ گاڑی کی سپیڈ حد سے زیادہ بڑھاتا ہسپتال پہنچا، بھاگتا ہوا وہ روم میں آیا جہاں عائشہ ایڈمٹ تھی، وہی کمرے میں سمائرہ ، روبینہ بیگم، اکبر، عالم صاحب اور مشی موجود تھے۔ عائشہ کو ہوش آچکا تھا وہ خاموش سی کمرے کی چھت کو گھور رہی تھی۔
“مما یہ سب کیسے ہوا؟” وہ حواس باختہ کمرے میں داخل ہوتے سمائرہ بیگم سے پوچھا۔ انہوں نے نفرت سے چہرہ موڑ لیا، سبھی اس سے ناراض تھے۔ وہ چلتا ہوا عائشہ کے پاس آیا۔
“عائشو یہ سب ” وہ نم لہجے میں بولا۔ اور اسکا ہاتھ پکڑ کر پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گیا۔
“موم کیا آپ ہمیں تھوڑی دیر اکیلا چھوڑ سکتے ہیں؟” عائشہ نے گردن گھما کر روبینہ بیگم سے کہا۔ وہ سبھی باہر چلے گے۔
“بولیں کیا۔ کہنا ہے؟” وہ عام سے لہجے میں بولی۔
“عائشہ ہمارا بچہ۔۔۔۔۔۔ یہ سب کیسے ہوا؟” وہ ابھی تک نا سمجھا یہ سب کیسا ہوا۔
“ہنہہہ واؤ مطلب کوئی انسان اتنا بے شرم کیسے ہو سکتا ہے، اور کس حق سے آپ مجھ سے یہ سب سوال کر رہے ہیں؟ ابھی کچھ گھنٹے پہلے ہی تو ہمارا رشتہ ختم ہوا تو اب کیا بات کروں” وہ افسردہ لہجے میں بولی۔
“یار سب غصے میں بول دیا ایم سوری” وہ معافی مانگنے لگا۔ وہ پھیکا سا ہنسی۔
“کیا کچھ غصے میں کریں گے ،گھر سے نکال دیا غصے میں، رشتہ ختم کر دیا غصے میں، ایک بات بولی تھی میں نے، اگر یہ بچہ نہیں رہے گا تو ہمارا رشتہ ختم، کچھ دیر پہلے آپ نے رشتہ ختم کیا تھا نا تو مسٹر راحیل تم اور تمہاری محبت جاۓ بھاڑ میں اب زندگی میں مجھے دوبارہ اپنا چہرہ مت دیکھانا موم ڈیڈ” وہ اسے سخت لہجے میں بولتی اپنا ہاتھ زور سے چھڑواتے باہر کھڑے روبینہ بیگم اور اکبر صاحب کو آواز دی۔ وہ سب اندر آۓ۔
“ہاں بچے”
“ڈیڈ مجھے گھر جانا ہے، اگلے دس منٹ مجھے یہاں سے جانا ہے” وہ اکبر صاحب سے مخاطب ہوئی۔ جنہوں نے ہاں میں سر ہلاتے باہر کا رخ کیا۔ کسی کو ان دونوں کے درمیان ہوے جگھڑے کے بارے میں کچھ نہیں پتہ تھا کہ جھگڑا کیوں ہوا۔ بس یہ جانتے تھے کہ جھگڑا ہوا۔
“عائشو پلیز میری بات سنو” وہ اسکے گال پر ہاتھ رکھتے ہلکا سا جھک کر التجاہی انداز میں بولا۔عائشہ نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“ہمارا رشتہ کبھی ٹھیک سے چلا ہی نہیں ہم ہمشہ لڑتے رہے، اور اگے بھی لڑتے رہیں گے، تو بہتر یہی یے سب یہی ختم کر دیا جاۓ یہ آپکے لیے اور میرے لیے بھی ٹھیک ہو گا” وہ اسکا ہاتھ پیچھے کرتے ہوۓ ہولے سے بولتے چہرہ موڑ گئی جو بس وہی سن پاۓ۔ اسکی آنکھوں سے آنسوں نکل کر اسکے ہاتھ پر گِرے۔ وہ چونکی۔ پر پلٹ کر اسے نا دیکھا۔ وہ پیچھے ہوا اور بنا کسی کی طرف دیکھے اپنی آنکھیں صاف کرتا کمرے سے باہر چلا گیا۔ عائشہ نے درد سے آنکھیں میچ لیں، کچھ دیر میں ڈاکٹر نے چھٹی سے دی اور وہ گھر آ گئی، ایک کے غصے نے اچھا خاصہ بنتا رشتہ خراب کر دیا۔
“تم نے یہ سب کر کے بہت غلط کیا، تم صرف میرے ہو، صرف میرے، ہاہہاہا تمہیں کیا لگا تم مجھے اسطرح دھوکہ دو گے تو میں تمہیں معاف کر دوں گی؟ نہیں بلکل نہیں” وہ اپنے سامنے کھڑے بلاج کو دیکھتے اسکی طرف غصے سے برھتے ہوۓ بولی۔
“تم کچھ بولو گے کہ نہیں بولو کیون کیا؟ کیا وہ مجھ سے زیادہ خوبصورت ہے، یہ دیکھو میں نے تمہاری پسندیدہ لپ سٹک بھی لگا لے اب بتاؤ کون خوبصورت ہے؟ تم بہت برے ہو ہمارے درمیان اسکو کیوں لاۓ، جب میں تم سے محبت کرتی تھی تو وہ ہمارے درمیان کیا کرنے آیی میں اسے مار دوں گی ختم کر دوں گی بالکل ایسے ہاہاہا” وہ اپنے ہاتھ میں پکڑی نائیف سے پاس پڑے کشن کو کاٹ رہی تھی اور ساتھ قہقے لگا رہی تھی۔
” تم وہاں کیوں کھڑے ہو، پلیز بولو نا تم نے وہ سب ڈرامہ کیا تم صرف مجھ سے محبت کرتے ہو، وہ میرال زبردستی ہمارے درمیان آ رہی ہے، آئی نو یو لو می” وہ اگے بڑھی اور اسکے گلے سے لگ گئی۔
“افکورس آئی لو یو، وہ سب تو ڈرامہ تھا” اسکے بال سہلاتے وہ بولا۔
” میں جانتی تھی۔ ، ہاہاہا میں جانتی تھی تم مجھے کبھی دھوکہ دے ہی نہیں سکتے میں جانتی تھی۔۔ہاہاہاہہاہاہاہہایا” وہ اونچی اونچی ہسنتے ہوۓ بس یہی بول رہی تھی۔ اور گول گول گھوم رہی تھی۔ جب اسنے آنکھیں کھولیں تو سامنے کھڑا بلاج اب غائب ہو چکا تھا۔
“پھر سے بھاگ گے، بہت برے ہو پر کل دیکھنا سب ٹھیک کر دوں گی، اسکو ہماری زندگی سے نکال باہر پھینکوں گی، پر اسکے لیے مجھے ابھی سونا ہو گا” وہ خوشی سے جھومتی بیڈ پر جا کر لیٹ گئی۔ اور تکیے کو گلے سے لگا کر سو گئی۔
جاری ہے۔
