55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

“تو بتاؤ آج مزہ ایا” بلاج نے ہنستے ہوے سب کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
“مزہ آ بہت آیا، اسکی ساری اکڑ اسی پل نکل گئی ،جب اسکے اوپر کیچر کی بارش ہوئی اسکا چہرہ یوں شاک تھا” امرحہ ہنستے ہوۓ میرال کی نکل کر کے سب کو دیکھا رہی تھی۔ وہ پانچوں اس وقت ہارون کے گھر کے چھت پر بیٹھے ہوۓ اج کے کارنامے پر ہنس رہے تھے۔
“جب یوں اچانک آ کر بلاج نے کہا، تم سب شرم کرو نئی اسٹوڈنٹ ہے، اسکو تنگ مت کرو چلو اپنی اپنی جگہ پر بیٹھو، آئی واز لائیک اسکو کیا ہو گیا، یہ وہی لڑکا جو ان سب معاملوں میں سب سے اگے ہوتا ہے اور آج دیکھو کیسے، پھر جب میری نظر حسام اور امرحہ کے مسکراتے چہروں پر پڑی تب مجھے سمجھ آئی میرا دوست بدلا نہیں، بس چڑیا کو پکڑنے سے پہلے اسکو دانہ ڈال رہا ہے” عائشہ بھی ہنستے ہوۓ بلاج کے الفاظ دہرا رہی تھی۔
“گائیز مجھے لگتا ہے، اب اسکو سزا مل چکی ہے تو مزید کچھ نا ہی کریں، اگر دوبارہ اس نے کچھ کیا تو دیکھ لیں گے” ہارون ان سب کو ایک نظر دیکھ کر بولا۔ سبھی نے اسکی طرف دیکھا۔
“نہیں ابھی اسے عقل نہیں آئی، ایک سزا اور بنتی ہے، اور سزا بھی ایسی ساری زندگی یاد رکھے گی، اسنے( ایس میٹ) سے پنگہ لیا ہے، ایک سزا سے وہ سُدھرنے والی نہیں” بلاج اپنی پاکٹ سے سگرٹ نکالتے ہوۓ سنجیدہ لہجے میں بولا۔ ہارون نے خاموش رہنا ہی رہنا بہتر سمجھا۔
“بلاج ٹھیک بول رہا ہے، کل دیکھیں گے، اسکے بعد چھوڑ دیں گے، یار اتنے دنوں بعد بہادر لڑکی دیکھی ہے، اسے مزہ تو چکھانے دو” حسام بھی درمیان میں بولا۔
“چلو کچھ کھانے چلتے ہیں، پھر مجھے اپنے باپ سے دو دو ہاتھ کرنے ہیں، مجھے یقین ہے میرے گھر بیٹھا ہو گا” بلاج سگرٹ ختم کرتے کھڑا ہوا۔
“جو بھی ہو سکندر حمدانی تمہارے والد ہیں، تہذیب سے بات کیا کرو” وہ بولا تھا کہ جاوید صاحب ہاتھ میں میکرونی کی ٹرے پکڑے اوپر آتے اسکے الفاظ سن چکے تھے وہ تھوڑا غصے سے بولے۔ پانچوں فوراً الرٹ ہوۓ۔
“جی انکل آئندہ خیال رکھوں گا، آپ یہ مجھے دیں” بلاج ایک پل میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور فوراً جاوید صاحب کے ہاتھ سے ٹرے پکڑی۔
“ہاہ کاش وہ دن ا ہی جاۓ جس دن تم میری باتوں پر عمل کرنے لگ جاؤ” انہوں نے نفی میں سر ہلاتے بلاج کو دیکھتے ہوۓ کہا جو ایسے بی ہیو کر رہا تھا جیسے اس سے فرمابردار کو شخص نہیں۔
“انکل یہ کمینہ نا سہی ہر میں تو اپکی ہر بات مانتا ہوں، تبھی تو اپکا فیورٹ بیٹا ہوں، حسام فوراً کھڑا ہوا اور بلاج کے ہاتھوں سے میکرونی کا بول پکڑ کر ٹیبل پر رکھا اور کھانا شروع کر دیا۔
” حسام تم اس بلاج کو بھی تھوری تمیز سیکھا دو، اسے پتہ ہی نہین چلتا کون سا کام کرنا ہے اور کون سا نہیں، صبح میں نے تمہاری ویڈیو دیکھ لی تھی، بہت ہی نالائق ہو پتہ نہیں کتنا اپنے باپ کا نام ڈبو گے” جاوید صاحب وک صبح سے ہی بلاج کی حرکت پر غصہ تھا۔ اور وہ انکے ہاتھ بھی لگ گیا۔ اب وہ شرافت سے سر جھکاۓ چہرے پر شرمندگی طاری کیے کھڑا تھا۔ ایک جاوید صاحب ہی تھے جنکے سامنے وہ یوں شریف ہوتا تھا۔
“بیٹے جانتا ہوں جو ہوا تھا بہت غلط ہوا تھا پر اسکا مطلب یہ نہیں اب تم ہر جگہ اس چیز کا تماشا لگاتے پھرو۔ خود ہی بے وقوف لگو گے” جاوید صاحب اسکے قریب آۓ اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ انکی بات پر اسنے صرف ہاں میں سر ہلا دیا۔ جو وہ ہمشہ سے کرتا تھا۔
“پاپا اسکے سامنے جو مرضعی بول دو یہ نہیں سُدھرنے والا، اور آپ چلیں جاکر ارام کریں، یقیناً ابھی بی پی کی دوائی بھی نہیں کھائی ہو گی” ہارون اپنی جگہ سے کھڑا ہو کر انہوں کندھوں سے پکڑاتا سیرھیوں کی طرف بڑھا۔
“سارا اکیلے کھا رہا ہے ہٹ سائیڈ پر” انکے جاتے ہی بلاج حسام کو دھکہ دیتا میکرونی کا بول اپنی طرف کھسکاتے ہوے بولا۔ جو وہ مگن انداز میں کھاۓ جا رہا تھا۔۔۔۔
اس گھر میں ہارون اور اسکے والد جاوید صاحب ہی رہتے تھے۔ ہارون کی والدہ کا انتقال کچھ سال قبل ہوا تھا، جسکے بعد ہارون ڈیپریشن میں چلا گیا، جاوید صاحب اور اسکے دوستوں نے اسے اس ڈیپریش سے نکالا، جاوید صاحب، اور سکندر حمدانی کافی گہرے دوست تھے۔ اس لیے وہ ان پانچوں کے بارے میں سب کچھ جانتے تھے۔
*
میرال کل کا واقع بھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ابھی بھی وہ کینٹین میں بیٹھی مِشی کا انتظار کر رہی تھی جس نے اسکو کینٹن میں آنے کا کہا اور اب خود لیٹ تھی۔
“ہاۓ میرو ” وہ ٹیبل پر دونوں ہاتھ رکھے، اسکا انتظار کر رہی تھی جب اسکے کندھے پر مِشی نے ہاتھ مارتے ہوۓ زور سے پکارا۔
“آہ مِشی پاگل ہو اتنی زور سے لگا، اور میں ادھے گھنٹے سے تمہارا انتظار کر رہی تھی اور تم اب آ رہی ہو” میرال نے اسے گھورتے ہوۓ کہا۔
“چل کیوٹی ابھی فل حال کچھ منگوا لتے ہیں بہت بھوک لگی ہے” مِشی نے کہتے ہوۓ کاونٹر پر جا کر دو پڑاٹھے اور چاۓ کا آڈر دیا اور واپس آکر میرال کے ساتھ باتیں کرنے لگی۔
“ہیلو! نیو قمر” وہ دونوں باتیں کر رہیں تھیں جب کینٹین میں داخل ہوتا بلاج اونچی آواز میں بولا، باقی چاروں اسکے پیچھے تھے۔ میرال نے اسکی آواز پر پلٹ کر دیکھا۔ وہ پانچوں ایک ساتھ چلتے ہوۓ انکے سامنے والے ٹیبل پر بیٹھ گے۔میرال نے انکو اگنور کیا اور مِشی سے باتیں کرنے لگی۔
“چھوٹو ایک کڑک سی چاۓ پلا دے، اور باقی ہمارا سب کا ناشتہ لے آ” بلاج نے اونچی آواز میں کینٹین میں کام کرتے لڑکے کا کہا۔ یہ روز کا معمول تھا تو وہ سب کے بارے میں جانتا تھا۔
“ویسے عائشہ کل کا نظارہ کتنا مزے کا تھا” حسام عائشہ کی طرف چہرا موڑ کر بولتے میرال کو چڑا رہا تھا۔ مِشی نے میرال کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے ریلکس رہنے کا کہا۔
“ہاں بالکل مجھے تو لگا کسی پر گندے پھولوں کی بارش ہوئی ہے ہاہاہاہا” عائشہ ہنستے ہوۓ بولی۔ باقی سب کا بھی قہقہ بلند ہوا۔ میرال نےبامشکل اپنا غصہ کنٹرول کیا وہ صبح ہی صبح کوئی تماشا نہیں چاہتی تھی۔
“مس نیو قمر کیا ہوا؟ ساری بہادر فر ہو گئی؟” بلاج اسے یوں خاموش دیکھ کر طنزیہ انداز میں بولا۔ میرال نے غصے سے اسکی طرف دیکھا۔ تبھی چھوٹو میرال اور مِشی کا پڑاٹھا اور چاۓ لے کر آ گیا۔ انکو سرو کر کے وہ واپس چلا گیا۔ میرال اور مِشی نے خاموشی سے اپنا ناشتہ کرنا چاہا۔
میرال نے پڑاٹھے کا نوالہ توڑ کر منہ میں ڈالا۔ اسے یوں محسوس ہوا لال تیخی مرچی کا چمچ بھر کر اسنے منہ میں ڈال لیا ہوا۔ وہ بری طرح کھاسنے لگی۔ میٹھی چاۓ پکڑ کر اسکا گھونٹ بھرا، اسے زمین پر تھوکنا پڑا کیونکہ وہ انتہائی کڑوی تھی۔
“کیا ہوا میرال؟” مِشی اسکے یوں تھوکنے اور کھاسنے پر فوراً بولی۔ کیونکہ اسکا پڑاٹھا اور چاۓ بالکل ٹھیک تھی۔
“مرچی۔۔پانی۔۔۔ ” وہ کھانستے ہوۓ بامشکل بولی۔ مِشی نے پاس پڑی پانی کی بوتل پکڑی اور اسے دینا چاہی جب کسی نے اسکے ہاتھ سے بوتل لے لی۔ لینے والا اور کوئی نہیں بلاج ہی تھا۔
“اتنی بھی کیا جلدی ہے مس حیات عالم” وہ مشی کو تیز نظروں سے گھورتے ہوۓ بولا۔میرال بری طرح سے کھانس رہی تھی۔
“اتنی ہمدردی مت دیکھا اگر بھول گئی ہو تو یاد دلوا دوں تم نے بھی ایسا کیا ہوا ہے” حسام نے سخت لہجے میں مشی کو کہا۔ اسکا مطلب وہ اچھے سے سمجھ چکی تھی۔
“تو مس نیو قمر آئی نو مرچی کھا لی بہت تیخی تھی۔ چلو کوئی نا تمہیں پانی چاہیے نا تو میں دیتا ہوں، مانا میں برا ہوں پر اتنا بھی نہیں مرتے ہوۓ کو پانی نا دوں روکو ایک منٹ ” وہ بولتا ہوا مڑا اور شیشے کا گلاس پکڑا اسنے تھوڑا سا پانی ڈالا۔ اور میرال کی طرف بڑھا۔
“یہ لو” اسنے گلاس آگے کیا، میرال نے پکڑنا چاہا تبھی اسنے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ پانچوں کی ہنسی چھوٹ گئی۔وہ بری طرح کھانس رہی تھی انکھوں سے آنسوں نکل رہے تھے۔ اسنے نم نظروں سے اپنے سامنے کھڑے ان پانچوں کو دیکھا جو کسی کی بے بسی پر ہنس رہے تھے۔
“میری دادی کہا کرتی تھیں، جب مرچی لگی ہو تو پانی میں کچھ چیزیں مکس کر کے پینا چاہیے دو منٹ میں ٹھیک ہو جاتے ہیں روکو میں بنا کر دیتا ہوں” بلاج چھوٹو کو اشارہ کرتے ہوۓ بولا وہ ایک ٹرے لے کر آیا جس میں کچھ چیزیں رکھیں ہوئیں تھیں۔ کینٹین میں کافی لوگ اکھٹے ہو گے تھے۔
” تو یہ گیا پانی میں تھوڑا سا نمک، اسنے نمک کا چمچ بھر کر پانی میں ڈالا، اور یہ رہا تھوڑا سا لیموں، یہ تھوڑی سی ہری مرچ، اور ہاں سب سے اہم یہ تھوری سی کالی مرچ ، لو بھائی لوگ یہ بن گیا ہماری نیو قمر جی کے لیے پانی یہ لو پی لو ٹھیک ہو جاؤ گی” بلاج نے پانی کا بھرا گلاس اب میرال کی طرف کیا۔
“میرال یہ لو پانی پیو” مِشی نے کانٹر سے پانی کی بوتل لا کر میرال کو دینی چاہی جب اسے امرحہ نے پکڑ لیا۔
“حیات عالم ہمارے معاملات میں ٹانگ مت اڑاؤ ورنہ بہت برا ہو گا، تو مس نیو قمر لو پی لو” بلاج اسے دوبارہ سے وارنگ دیتے ہوۓ بولا۔ میرال نے کھانستے ہوۓ اپنی لال ہوتی انکھوں سے بلاج کو دیکھا اور پھر اسکے ہاتھ میں پکڑے کلاس کو دیکھا۔ اسے کھڑے ہو کر وہ گلاس پکڑا
“سمجھ دار ہو ” اسکے گلاس پکڑنے پر وہ مسکرا کر بولا۔ لیکن اگلے ہی پل اسکی مسکراہٹ سمٹی تھی کیونکہ میرال نے گلاس میں بھرا پانی بلاج کے منہ پر مارا۔ سبھی نے شاک سے اسے دیکھا۔
“اپنے دادی اماں کے نسخے والا پانی تم ہی پیو، ابھی میں تم لوگوں کی کل والی حرکت نہیں بھولی اور آج پھر سے تم سب نے اپنا گندا چہرہ دیکھا ہی دیا۔ مجھے کمزور مت سمجھنا اور اپنے یہ گھٹیا پلانز اپنے پاس ہی رکھو، بے وقوف” وہ پانی پھیکنتے چختے ہوۓ بولی تھی۔ اور آخر مین وارنگ دیتے اپنا بیگ پکڑتے مشی کو ساتھ لیے وہ اگے برھنے لگی۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی” جب عائشہ نے اگے بڑھ کر اسکا بازو ضرور سے پکڑتے ہوۓ غصے سے کہا۔
” میرا بازو چھوڑو” وہ تیز آواز میں چلائی۔ عائشہ نے اسکا بازو مڑورا۔
“جانے دو اسے ” بلاج کی آواز پر سبھی نے اسکی طرف دیکھا۔ جو سپاٹ چہرہ لیے بول رہا تھا۔ عائشہ نے اسکا بازو چھوڑ دیا۔ وہ دونوں وہاں سے نکل گئیں۔
پچھے وہ پانچوں انتہائی غصے میں تھے، بلاج کیٹین سے باہر نکلا وہ سب بھی اسکے پیچھے بھاگے۔۔۔۔ کچھ دیر میں وہ پانچوں یونی سے جا چکے تھے۔
*
“واہ میری چیتی بہت اچھا کیا ان سب کو ایسے ہی سبق سیکھانا چاہیے اس بلاج کی شکل دیکھی تھی” باہر آے کے بعد میرال نے پانی کی پوری بوتل پی پھر کہ جا کر اسکا منہ ٹھیک ہوا۔
“تم نے انکی حرکت دیکھی شرم نام کی چیز نہیں، ایک لقمے سے میرا اتنا برا حال کو گیا پڑاٹھے کے اندر فل مرچی بھری ہوئی تھی ایسا لگ رہا تھا مرچ کا پڑاٹھا ہے، اوپر سے اس بلاج، جاہل کی حرکت دیکھ میرا تو دل کیا ایک گھوسہ ماروں اسکا چہرا بگار دوں سب ہنس تو ایسے رہے تھے جیسے کومیڈی کا سین چل رہا ہو پاگل کہے کے” وہ غصے میں پاگل ہو چکی تھی اسکا بس نہین چل رہا تھا انہیں اس یونی سے ہی نکال دے۔
“وہ سب ایسے ہی ہیں، یہ تو ابھی کچھ بھی نہیں اس سے بھی زیادہ گھٹیا حرکتیں کی ہوئیں ہیں” مِشی کو ماضعی کی کافی باتیں یاد آئیں۔
” اب بس ایک ہی حل ہے” کچھ سوچ کر وہ کھڑی ہوئی اور داگے کی طرف برھی۔
“کہاں جا رہی ہو؟” مشی اسکے پیچھے بھاگی۔
“بتاتی ہوں” وہ بولتی تیزی سے چلتی پرنسپل آفس میں آئی۔ اور اندر جانے لگی جب مشی نے اسکا ارادہ دیکھ کر اسے ایک طرف کھینچا۔
“پاگل ہو، بلاج کے فادر اس یونی کے اونر ہیں اور تم افس میں انہی کے بیٹے کی کمپلین کرنے جا رہی ہو۔ ایسی بہت سی کمپلینز ہو چکی ہیں پر کسی پر بھی ایکشن نہیں لیا گیا۔ تم نے اس پر پانی پھینک کر اسکی آدھی اکڑ تو وہی نکال دی اب میرے ساتھ چلو کلاس شروع ہونے والی ہے۔ یہ چاکلیٹ کھا لے منہ کا ذائقہ مزید اچھا ہو جاۓ گا” مشی نے اسے کھینچتے ہوۓ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھی اور بیگ سے چاکلیٹ نکال کر اسے دی۔
“ٹھیک ہے” میرال نے بھی ہاں مین سر ہلاتے ہوۓ چاکلیٹ پکڑی اور کلاس کی طرف بڑھ گئی۔


“اسکی اتنی ہمت خود کو سمجھتی کیا ہے؟ “بہن جی کہی کی امرحہ کو وہ سب برداشت نہیں وہ رہا تھا۔ وہ پانچوں اس وقت حسام کے گھر پر موجود تھے کیونکہ بلاج ابھی اسی لے ساتھ رہ رہا تھا۔ اور حسام کراچی میں اکیلا ہی رہتا تھا۔ بلاج واشروم میں نہا رہا تھا یا یوں مانو اپنے دماغ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
” تم لوگوں نے اسکے ساتھ کون سا اچھا کیا اسکا ری ایکشن ہی نکلا” ہارون ان سب کو دیکھ کر صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔ تینوں نے غصے سے اسکو دیکھا۔
“کیا ہے؟ کچھ غلط نہیں کہا” وہ کندھے اچکا کر بولا۔
“کیا بات ہے ہارون تو اسکی بری ترفداری کر رہا ہے کہی پسند تو نہیں آ گئی؟” واشروم سے بالوں کو تولیے سے رگڑتا بلاج باہر نکلتے ہوۓ بولا۔
“کیا؟ نہیں تو، کیا بکواس کر رہا ہے” ہارون تو ایک دم سے صوفے سے کھڑا ہوا اسکے چہرے کا رنگ اُڑ چکا تھا۔سبھی نے اسکی حالت پر اپنی بے ساخہ ہنسی کنٹرول کی۔
“تو پھر چپ کر کے بیٹھ جا، اسنے جو حرکت اج کی ہے، اس سے اسنے بلاج کے اندر کے برے انسان کو جگا دیا ہے، میں ابھی تک بہت اچھے سے پیش آرہا تھا۔ اب میں اس لڑکی کو بتاؤں گا بلاج سے پنگہ لینے کا انجام کیا ہوتا ہے” بلاج نے ڈریسنگ ٹیبل سے برش لے کر بالوں مین پھیر کر اسے واپس ٹیبل پر پھینکتے ہوۓ سخت لہجے میں کہا۔
“لمنٹ میں رہ کر جو مرضعی کرو مجھے کیا” ہارون واپس صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔
“اب کچھ لمنٹ میں نہیں ہو گا اب سب لمنٹ لیس ہی ہو گا” وہ اپنے بالوں کو سیٹ کرتے ہوۓ بولا۔
“بالکل ٹھیک اب تو اسے اچھے سے مزہ چکھانا پڑے گا” امرحہ نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔
“میرے پاس ایک پلین ہے ہم کل اسے ایگزیکیوٹ کریں گے” بلاج اپنی کھڑی کو بند کرتے ہوۓ پراسرا مسکراہت چہرے پر سجا کر بولا۔
“کیسا پلین؟” عائشہ نے فوراً کہا۔ بلاج نے سب کو پلین بتایا۔
“واٹ دیکھو میری بات۔۔ ” ہارون انہین روکنے کے لیے بولا۔
” تم چپ رہو ایک لفظ نہیں” حسام نے اسے فوراً ٹوکا تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔