Yaaron Ki Yaari Season 1 By Fatima Tariq Readelle50127 Episode 20 Pt.1
Rate this Novel
Episode 20 Pt.1
“عائشہ کل رات کو اگر یہ سب ہوا تھا تو تم نے تبھی کیوں نہیں بتایا؟” امرحہ عائشہ کے پاس بیٹھی سوال کر رہی تھی، جو انہیں مختصر سا سب بتا چکی تھی۔
“میں کافی تھک چکی تھی تو سو گئی، سوری میں نے تم سبکو نہیں بتایا” وہ ان چاروں کو اپنے سامنے اتنا پریشان کھڑا دیکھ کر بولی، جانتی تھی وہ سب اسکے لیے کتنے پریشان تھے۔
“اس کمینے نے رخصتی کی بات کی؟” بلاج اپنا غصہ بامشکل کنٹرول کرتے ہوۓ بولا۔
“نکاح تو ہو ہی چکا تھا ظاہر سی بات ہے رخصتی بھی ہونی ہی تھی، آج ہو یا بعد میں ایک ہی بات ہے” عائشہ نے نظریں چڑاتے ہوۓ کہا۔ وہ نہیں چاہتی تھی بلاج راحیل کو کچھ بھی بولے کیونکہ بات بڑھ جاتی۔
“عائشہ کیسی باتیں کر رہی ہو، جب اس شخص کے ساتھ تمہیں زندگی گزارنی ہی نہیں تو یہ رخصتی کیوں کر رہی ہو؟ انکل آنٹی سے بات کر کے خلع کے پیپرز بھجواؤ” امرحہ نے غصے سے کہا۔
“میں ایسا نہیں کر سکتی” وہ بس اتنا ہی بولی۔
“کیوں؟” امرحہ اسکے اس جواب پر تپی تھی۔
“بس بولا نا نہیں کر سکتی تو بس ” وہ چلائی تھی۔
“فائن تم نہیں کر سکتی تو ٹھیک ہے میں بہت کچھ کر سکتا ہوں، سب سے پہلے تو اس راحیل کی ہڈیاں توڑوں گا پھر اس شادی کو کینسل کرواؤں گا، دیکھتے جاؤ تم سب ” بلاج اپنی شرٹ کے کف فولڈ کرتا غصے سے کہتا کمرے سے باہر نکل گیا۔
“حسام ہارون پلیز اسے روکو وہ کچھ غلط کر دے گا” عائشہ اپنا جوتا پہنتی باہر کو بھاگی، وہ چاروں جب تک باہر پہنچے بلاج گاڑی لے کر جا چکا تھا، انہوں نے دوسری گاڑی پکڑی اور اسکے پیچھے لگائی۔ بلاج تیز رفتار میں گاڑی چلا رہا تھا،ابھی دس کا وقت ہو رہا تھا۔ وہ جانتا تھا راحیل جم جا رہا ہو گا، اسنے اپنی گاڑی اسکے جم کی طرف موڑی۔ تھوڑی دیر میں وہ جم پہنچ گیا۔ اسکی نظر راحیل پر پڑی جو کہ اپنی گاڑی کے پاس کھڑا فون پر کسی سے ہنس ہنس کر بات کر رہا تھا۔ جم سوٹ پہنے ہاتھ میں پروٹین شیک پکڑے وہ بات کر رہا تھا۔ بلاج نے وہی گاڑی روکی،اور باہر نکل کر غصے سے چلتا اسکی طرف ایا۔ وہ مگن سا بات کر رہا تھا۔ جب بلاج نے اسکی کالر پکڑی اور رخ اپنی طرف کرتے کھنچ کر اسکے چہرے پر پنچ مارا۔ وہ اس افتار کے لیے بالکل تیار نا تھا تبھی وہ لڑکھڑایا اسکے ہاتھ میں پکڑا پڑوٹین شیک اور فون زمین پر گڑا۔
“تو نے اپنا اوقات دیکھا دی، جب کسی پر بس نا چلا تو لڑکی پر آ گیا” بلاج نے ایک اور پنچ مارتے ہوۓ کہا۔
“کیا بکواس کر رہا ہے؟ حد میں رہ” راحیل نے بھی پلٹ کر پنچ مارتے ہوۓ کہا۔
“بکواس! ہنہہ اب تو تجھے سب بکواد ہی لگے گا، ایک لڑکی کی زندگی برباد کر رہا ہے” بلاج نے اسکو کالر سے پکڑتے ہوۓ چلاتے ہوۓ کہا۔ حسام نے گاڑی روکی، سامنے دونوں کو لڑتے دیکھ وہ سب انکی طرف بھاگے۔ راحیل کی نظر اس چاروں کی طرف پڑی۔ اسے سمجھ آ گیا وہ کیوں اتنا ہائیپر ہو رہا ہے۔
“سالے جس لڑکی کی تو بات کر رہا ہے وہ میری بیوی ہے، پورا حق رکھتا ہوں، جب چاہے رخصتی کروا سکتا ہوں اور کوئی مجھے روک نہیں سکتا اور تُو تو بالکل نہیں، اور لڑکی کی زندگی برباد کرنے کی تو بات کر رہا ہے، ہنہہہہ واٹ آ جوک بھول گیا دو سال پہلے تو نے کیا کِیا تھا بول” راحیل اسکے پیٹ میں گھٹنا مارتے ہوۓ اسی کے انداز میں چلایا تھا۔ بلاج اتنے زبردست وار پر پیچھے ہٹا۔
“بلاج روک جا بس کر” بلاج دوبارہ سے اسے مارنے والا تھا جب حسام اور ہارون نے اسے روکا۔
“اسکو میں زندہ نہیں چھوڑو گا” بلاج غصے سے اسکی طرف بڑھا۔
“تو کوئی نہیں ہوتا مجھے روکنے والا آئی سمجھ کوئی نہیں ہوتا، اور آئندہ میرا گِریبان پکڑا نا وہی تیری ٹانگیں توڑ دوں گا، پھر ساری زندگی ویل چیر پر گزارنا، ویسے بھی تیری کوئی فیملی تو ہے نہیں جو تجھے سھنمبال سکے، ویسے بھی تجھ سے تیرے اپنے تو سھنمبالے جانتے نہیں، اپنے باپ تک کو روک نہیں سکتا برا آیا مجھے روکنے والا” راحیل نے انگلی اُٹھا کر وارنگ دیتے ہوۓ کہا۔ اور آخر میں وہ بھرپور طنزیہ انداز میں بولتا بلاج کو تپا گیا۔ بلاج اسکی باتوں کا بہت اچھے سے مطلب سمجھ رہا تھا۔
“اج تجھے زندہ نہیں چھوڑؤں گا” بلاج لال انگاڑے بھرتی نظروں سے اسے گھورتا ہارون اور حسام سے اپنا اپ چھڑواتا اسکی طرف بڑھا۔ تبھی عائشہ درمیان میں آ گئی۔
“بس کرو تم دوں بس کرو” وہ اونچی آواز میں چلائی۔ بلاج وہی رک گیا۔
“بلاج تم میرے دوست ہو، یہ میرا شوہر ہے، اسنے سچ بولا وہ جب چاہے رخصتی کروا سکتا ہے ،اور میں اس میں کچھ نہیں کر سکتی، کیونکہ میرے ہاتھ تو بندھے ہوۓ ہیں، میں چاہ کر بھی اسے کھول نہیں سکتی، بلاج تم میرے دوست ہو نا تم ہم سب کو اپنی فیملی کہتے ہو نا تو پلیز یہ میرے جوڑے ہاتھوں کو دیکھ لو پلیز میرے اور راحیل کے درمیان جُرے اس رشتے پر کچھ مت کرو، جو ہو گا میں دیکھ لوں گی” عائشہ ہاتھ جوڑ کر روتے ہوۓ بولی۔ بلاج نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔
” فائن جو دل میں آتا ہے کرو” بلاج غصے سے کہتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھا اور وہاں سے چلا گیا۔ امرحہ نے روتی ہوئی عائشہ کو گلے سے لگایا۔
“چلو گھر چلیں” امرحہ عائشہ کو اپنے ساتھ لگاتے گاڑی کی طرف بڑھی۔ حسام اور ہارون بھی اسکے ساتھ چلے گے۔ گاڑی میں بیٹھے سے پہلے عائشہ نے مڑ کر راحیل کو دیکھا جو اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگاۓ اسکی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔ عائشہ نے نفرت سے نگاہیں پھیر لیں، اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔ آج پھر اسکے اس انداز سے راحیل عالم کو لگا اسکا دل بند ہو جاۓ گا، وہ اپنی شرٹ کے دو بٹن کھولتا گہری سانس لیتا گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
حسام ہارون عائشہ اور امرحہ کو اسکے گھر پر چھوڑ کر یونی پہنچے، بلاج کی گاڑی پہلے ہی باہر کھڑی نظر ا چکی تھی۔
میرال کینٹین میں مشی کے ساتھ لنچ کر رہی تھی جب اسکے موبائل پر بلاج کا میسج آیا، وہ اسے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے گارڈن میں بلا رہا تھا۔
“اسکو کیا ہو گیا؟” میرال نے اسکا میسج پڑھتے ہوۓ سوچا۔
“مشی میں آتی ہوں” وہ ہاتھ میں برگر اور کوک پکڑے کھڑی ہو کر بولی۔
“ارے کہاں جا رہی ہو” مشی اسکے یوں اُٹھ کر جانے پر بولی۔ پر وہ ضروری کام کہتی وہاں سے چلی گئی۔
“حد ہے” مشی نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا پھر مزے سے اپنا برگر کھانے لگی۔
میرال اسکی بتائی جگہ پر پہنچی، وہاں کافی سٹوڈینٹس بیٹھے باتیں کر رہے تھے کوئی پڑھ رہا تھا وہی ایک طرف بنے بینچ پر بلاج اپنا سر پکڑے بیٹھا تھا۔ وہ کافی پریشان لگ رہا تھا۔ وہ چلتی ہوئی اسکے پاس آئی اور پنچ پر اسکے برابر بیٹھی۔
“کیا ہوا؟ تم پریشان لگ رہے ہو؟ اتنی ارجنٹ میں کیوں بلوایا؟” وہ بیٹھتے ہی فوراً بولی تھی۔ اسکی آواز پر بلاج نے اسکی طرف دیکھا۔
“اتنا غصہ آ رہا ہے دل کر رہا ہے کسی کو بہت زیادہ ماروں” بلاج اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے دباتے ہوۓ بولا۔
“تو کیا تم نے اپنا غصہ نکالنے کے لیے مجھے یہاں بلایا ہے مجھے مارو گے” میرال اسکی اُوٹ پٹانگ بات سن انکھیں بری کرتے ہوۓ بولی۔ بلاج نے اسکی بات پر اسکی طرف دیکھا۔
“مانا پاگل ہوں پرابھی اتنا بھی پاگل نہیں ہوا، جو تمہیں ماروں” بلاج ہلکا سا ہنس کر بولا۔
“اچھا، بتاؤ کیا ہوا؟ تم لوگ عائشہ کے گھر گے تھے، وہ ٹھیک تو ہے نا؟” میرال کو یاد ایا وہ چاروں صبح عائشہ کے گھر گے تھے۔ بلاج نے گہرا سانس لے کر ہلکے پھلے لفظوں میں میرال کو صبح کا واقع بتایا۔
“مجھے نہیں پتہ پاسٹ میں تم سب کے درمیان ایسا کیا ہوا جو تم سب ایک دوسرے سے اتنی نفرت کرتے ہو، پر تم اس بات کو جٹھلا نہیں سکتے، دونوں کا نکاح ہو چکا ہے، اور اگر عائشہ خود یہ رخصتی ہونے دینا چاہتی ہے تو تمہیں بلاوجہ درمیان میں نہیں آنا چاہیے” میرال نے سب سن کر اسے سمجھانا چاہا۔
“میں تو درمیان میں آؤں گا وہ میری دوست ہے، جب مجھے اپنے دوستوں کی ضرورت تھی تب وہ کھڑے ہوۓ تھے، اور اب اگر میری دوست بے وقوفی کرنے جا رہی یے تو اسے ہر ممکن حد تک روکوں گا، اس راحیل کو میں چھوڑوں گا نہیں” بلاج دانت پیسے ہوۓ بولا۔ میرال نے گہری سانس لی۔
“بلاج اگر تمہارے دوست نے کوئی فیصلہ کیا ہے، تو ظاہری سی بات ہے سوچ سمجھ کر ہی کیا ہو گا، تمہیں اسکو سپوٹ کرنا چاہیے، میں نہیں کہتی تم راحیل سے اچھے سے بات کرو پر عائشہ کو ابھی تم سب کی سپورٹ ضرورت ہے، کیا پتہ کسی وجہ سے اسنے شادی کے لیے ہاں بولا ہو، اسکے فیصلے کی رسپکٹ کرو، ہو سکتا ہے وہ ابھی بھی اس سے پیار کرتی ہو، ایک چانس دینا چاہتی ہو” میرال کو جتنا سمجھ میں آ رہا تھا وہ اسے سمجھا رہی تھی تاکہ اسکا غصہ کم ہو سکے۔
” نہیں کوئی محبت نہیں ہے اسے نفرت کرتی ہے وہ اور اسکا ثبوت تم دیکھ چکی ہو اس دن والا تھپر تو یاد ہی ہو گا” بلاج نے اسکی نفی کرتے ہوۓ کہا۔ میرال نے نفی میں سر ہلایا۔
” تو پھر بلاج حمدانی تمہاری انکھیں کمزور ہیں، تم نے اس دن والا تھپر تو دیکھ لیا پر عائشہ کی آنکھوں میں چھپے محبت کے درد کو دیکھ نہیں پاۓ، وہ غصے میں تھی، اور ویسے بھی محبت اتنی اسانی سے ختم تھوڑی ہوتی ہے” میرال نے اسکی بات کی نفی کرتے ہوۓ کہا۔ بلاج نے اسکی طرف دیکھا اور کچھ پل خاموش رہا۔
“اچھا! تمہیں برا محبت کے بارے میں پتہ ہے، کبھی ہوئی؟” بلاج اسکے ہاتھ میں پکڑا آدھا برگر لے کر ایک بائیٹ لیتے ہوۓ بولا۔ میرال اسکے یوں اچانک ٹاپک سے ہٹ کر سوال کرنے پر گھبڑائی اور سامنے دیکھنے لگی۔
“بولو اب خاموش کیوں ہو گئی؟” بلاج اسکے خاموش ہونے پر بولا۔
“نہیں” وہ بس اتنا ہی بولی۔ بلاج اسکے جواب پر ہلکا سا مسکرایا۔
“جھوٹی ” وہ ایک اور بائیٹ کھاتے ہوۓ بولا۔
“تھیکنس میرے بلانے پر آ گئی، اور یہ برگر کافی ٹیسٹی تھا” وہ برگر کی آخری بائیٹ لیتے ہوۓ اسکے ہاتھ میں پکڑی کوک کو بھی پی گیا۔
” بُھکر” میرال ہولے سے بولی۔ بلاج نے سن لیا۔
“چلو اب میں چلتا ہوں” وہ کھڑا ہو کر موبائل پر حسام کو میسج کرتے ہوۓ بولا۔ اور جانے لگا جب میرال نے اسے روکا۔
“ہمم” وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے انہیں سیٹ کرتے ہوۓ پلٹا۔
“بلاج اپنے غصے پر پلیز کنٹرول کیا کرو، تم بہت ہائپر ہو جاتے ہو اور تمہیں پتہ ہی نہیں چلتا کیا بولتے ہو اور کیا کرتے ہو، اسکی وجہ سے کسی دن تم برے پھنسو گے” میرال چل کر اسکے پاس آتے ہوۓ نرم لہجے میں بولی۔ بلاج نے اسکے لہجے میں چھپی فکر کو اچھے سے محسوس کیا۔
“میں دھیان رکھوں گا، اوکے چشمش” وہ ہلکا سا جھک کر بولتا پلٹ کر چلا گیا۔ میرال اسے تب تک دیکھتی رہی جب تک وہ اسکی آنکھوں سے اُجھل نا ہوا۔ وہ اسی بینچ پر بیٹھ کر اسکے بارے مین سوچتی رہی۔
جاری ہے۔
