Rate this Novel
Episode 32
وہ دونوں اس وقت میرج حال میں موجود تھے، راحیل نے اسے سب سے انٹروڈیوس کروایا، عائشہ ڈائریکٹر کی بیوی رخسار کے ساتھ کھڑی تھی ، انڈسٹری کے کافی مشہور لوگ وہاں پر موجود تھے، عائشہ اپنے ڈیڈ کے ساتھ کافی فنگشن اور پارٹیز اٹینڈ کر چکی تھی، پر یوں انڈسٹری کے لوگوں کا فنگشن وہ پہلی بار اٹینڈ کر رہی تھی۔ راحیل دور انڈسٹری کے لوگوں میں کھڑا تھا۔ عائشہ رخسار کے سوالوں کا ہلکا پھلکا جواب دے رہی تھی، پھر وہ ایکسیوز کر کے چلی گئیں، عائشہ نے ادھر اُدھر راحیل کو ڈھونڈا وہ اسے دور کھڑا مسکرا کر باتیں کرتا دیکھائی دیا۔ تبھی اسکے پاس ایک سٹائلیش سی لڑکی آئی، جو اس پروجیکٹ میں مین فی میل لیڈ کا رول نِبھا رہی تھی۔ وہ اب مسکرا مسکرا کر راحیل سے باتیں کرنے لگی، عائشہ کو بالکل اچھا نا لگا۔
دور کھڑے راحیل نے اسکی طرف دیکھا جسکے چہرے سے ہی بےزاری واضع نظر آ رہی تھی، وہ جانتا تھا وہ کتنا بور ہو رہی ہے۔
“راحیل میں نے سنا تم اپنی وائف کو لاۓ ہو کہاں ہے ملوایا نہیں” اسکی کو ایکٹر مناہل بولی۔
“ہممم ملواتا ہوں” راحیل نے اسکی طرف دیکھتے ہاں میں سر ہلایا۔ اور عائشہ کی طرف بھر گیا۔ پیچھے مناہل بھی آئی عائشہ انہیں اپنی طرف آتا دیکھ چکی تھی
“عائشو کچھ کھایا؟” وہ اسکے پاس آ کر اسکے کندھوں کے گرد بازو لپیتے ہوۓ بولا۔ عائشہ نے اسکی حرکت پر اسے گھورا۔ کئی کے دل جلے تھے۔
“نہیں، بھوک نہیں ہے” وہ عام سے انداز میں بولی راحیل نے بازو ہٹایا، کہی غصے میں وہ یہی کچھ سر پر نا دے مارے۔
“مناہل میٹ مائی وائف عائشہ ، اینڈ عائشہ یہ مناہل ہے اس پروجیکٹ میں کو ایکٹریس ” راحیل نے دونوں کو ملوایا۔ مناہل نے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔ عائشہ نے اس سے ہاتھ ملایا۔ مناہل نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔
” میں سوچتی تھی، راحیل کو اتنی بھی کیا جلدی پڑی جو اتنی چھوٹی عمر میں شادی کر لی، ابھی تو کرئیر کا آغاز تھا۔ دنیا میں اور بھی بہت لڑکیاں تھیں، آس پاس دیکھتا تو کافی ملتیں، پر تمہیں دیکھ کر سمجھ گئی ہوں، بات تو ہے تم میں”وہ اپنے بال ایک ادا سے جھٹکتے ہوۓ بولی۔ عائشہ کو اسکی باتیں سن کر غصہ آیا۔
“اصل میں انکو مجھ سے بہت زیادہ محبت تھی، مجھے اپنی زندگی میں شامل کرنا انہوں نے مناسب سمجھا، مجھ سے دور رہنا برداشت نہیں کر پاتے، اسی لیے مجھے اپنی نظروں کے سامنے رکھنا چاہتے تھے، اور شادی سے زیادہ خوبصورت رشتہ تو کوئی ہو نہیں سکتا اور ویسے بھی اپنے شوہر کو جانتی ہوں کرئیر تو انکا بہت اوپر جاۓ گا، انفیکٹ جا رہا ہے، اور دوسری بات لڑکیاں سچ میں بہت ہیں، اور آس پاس بھی ہیں، پر انکی نظر میرے سے ہٹ کر کسی پر نہیں جا سکتی، چاہیے دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی سامنے آجاۓ، کیونکہ وہ میں نہیں ہوں گی جس سے یہ بے انتہا محبت کرتے ہیں” راحیل کا بازو پکڑتے وہ کانفیڈینس سے جواب دیتے سامنے والی کا کانفیڈینس ہلا چکی تھی۔ اور راحیل حیرانگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“ہممم راحیل میں آتی ہوں تم اپنی وائف کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرو” مناہل کو اسکی باتیں بالکل پسند نا آئیں اسی لیے وہ وہاں سے چلی گئی۔ اسکے جاتے ہی راحیل نے گردن عائشہ کی طرف موڑی۔ جسنے اسکا بازو اب چھوڑ دیا تھا۔
“کیا بات ہے، پرانی والی عائشو کی جھلک نظر آ ہی گئی” راحیل نے شوخ لہجے میں بولا۔
“پرانی والی عائشہ کا قتل تو تم نے خود کیا تھا، وہ واپس کہاں سے آۓ گی” وہ گہرا سانس لے کر بولی۔ راحیل دو منٹ کے لیے چپ کر گیا۔
عائشہ کو ایک دم سے بہت زور کا چکر آیا، وہ لڑکھڑائی، راحیل نے جھٹ سے اسے پکڑا۔
“کیا ہوا؟ تم ٹھیک ہو نا؟” وہ ایک دم پریشان سا ہو گیا۔ اسے پاس پڑی کرسی پر بیٹھایا۔ عائشہ نے نفی میں سر ہلایا
“میں نے بولا تھا میری طبعیت خراب ہے پھر بھی ضد کر کے لے آۓ، سر بھاری ہو رہا ہے، چکر آ رہے ہیں” وہ روندھے لہجے میں بولی۔ اسکا چہرہ ایک دم پھیکا سا ہو رہا تھا۔ راحیل کو اسکی طبعیت کافی خراب لگی، اور خود پر غصہ بھی آیا۔ نا لاتا تو اچھا تھا وہ گھر پر آرام کرتی۔ اسنے جلدی سے پانی کا گلاس پکڑا اور عائشہ کو پلایا۔ رخسار انکی طرف آئیں۔
“کیا ہوا؟ عائشہ تم ٹھیک تو ہو؟”
“اصل میں عائشہ کی طبعیت تھوڑی خراب ہے، مجھے لگتا ہے ہمیں گھر جانا چاہیے، ویسے بھی فنگشن ختم ہونے والا ہے” راحیل نے انہیں بتایا۔
“کوئی بات نہیں تم لوگ جاؤ” انہوں نے انہیں جانے کی آجازت دے دی۔
“عائشو چلو” راحیل نے اسے پکڑ کر اُٹھایا، اور باہر کی طرف بڑھا، گاڑی میں آ کر اسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھایا۔ بیٹھتے ہی عائشہ نے اپنا سر سیٹ کی بیک پر ٹِکا دیا۔ اسکی طبعیت مزید خراب ہو رہی تھی۔ راحیل کافی پریشان ہو گیا۔ اسنے اسکی کلائی پکڑی جو کافی ٹھنڈی ہو رہی تھی۔ اسنے نبض چیک کی، بی پی بھی کافی لو لگ رہا تھا۔ اسنے گاڑی ہسپتال کی طرف موڑ دی۔
“مجھے ہسپتال نہیں جانا گھر جانا ہے” وہ راحیل کی طرف دیکھ کر بولی۔
“اپنی حالت دیکھو، ہمیں ہسپتال جانا پڑے گا” راحیل نے گاڑی کی سپیڈ مزید تیز کرتے ہوۓ بولا۔
“تم کبھی میری بات نہیں مانتے بولا نا گھر جانا ہے تو جانا ہے، مر نہیں رہی، ویسے بھی بہت سخت ہوں یوں مروں گی نہیں، چاہ کر بھی نہیں” وہ سامنے بھاگتی گاڑیوں کو دیکھتے ہوۓ خود پر ہنس کر بولی۔ اسکے الفاظ راحیل کو تقلیف دے رہے تھے۔ اسکے ہاتھ سٹرینگ پر مظبوط ہوۓ، اسنے گہرا سانس لیا اور گاڑی کی سپیڈ تھوڑی اور تیز کی۔ دو منٹ میں وہ لوگ ہسپتال آ گے۔ وہ اسے زبردستی اندر لایا۔ ایک لیڈی ڈاکٹر بیٹھی ہوئی۔ اور اسکا چیک اپ کرنے لگی۔ دو تین ٹیسٹ بھی کرواۓ۔ دونوں اس وقت ڈاکٹر کے کیبن میں بیٹھے ہوۓ تھے۔ ڈاکٹر ریپورٹس پڑھ رہیں تھیں۔ اور کافی پریشان لگ رہی تھیں۔
“کیا ہوا ڈاکٹر؟ ” راحیل سے مزید انتظار نا ہوا وہ بول پڑا۔ عائشہ بے فکری سے سامنے کھڑکھی کو دیکھ رہی تھی۔
” آپکی وائف پریگنٹ ہے ” ڈاکٹرنے ریپورٹس سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بتایا۔ دونوں کی انکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ایک پل کے لیے عائشہ کا دل بند سا ہوا۔ وہ یہ کیا سن رہی تھی۔ اسنے راحیل کی طرف دیکھا جو اب خود ریپورٹس دیکھ رہا تھا۔ ڈاکٹر نے باہر سے ایک نرس کر بلوایا۔
“مِسز راحیل آپ یہ ڈرپ لگوا لیں، مجھے اپکے ہزبینڈ کو اپکا ڈائیٹ چاٹ سمجھانا ہے” ڈاکٹر نے پرچی نرس کی طرف بڑھائی، عائشہ اسکی بات سن کر اپنی جگہ سے اُٹھی اور اسکے ساتھ چلی گئی۔ راحیل ابھی تک ریپوٹس دیکھ رہا تھا۔ اسکے چہرے پر اب ایک بھرپور مسکراہٹ تھی۔
“راحیل، یہ بات میں آپکی وائف کے سامنے نہیں کر سکتی تھی، آپکی وائف کی ریپورٹس اچھی نہیں آئی ہیں” عائشہ کے جاتے ہی ڈاکٹر راحیل سے مخاطب ہوا۔
“کیااا مطلب ؟” راحیل حے ناسمجھی سے ڈاکٹر کو دیکھا۔
“آپکی وائف مینٹلی اور فیزیکلی بہت زیادہ ویک ہیں، اسکی وجہ سٹریس ہے، اسی وجہ سے یہ پریگینسی انکی لائف کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے” ڈاکٹر نے کھلے الفاظوں سے اسے سمجھایا۔ راحیل کو لگا اسکی سانسیں بند ہو جائیں گی۔ کچھ دیر پہلے ملی خوشی کا بھیانک رخ دیکھ وہ کانپا تھا۔
“کیا اسکا کوئی حل نہیں مطلب اگر وہ خوش رہے اور ڈائیٹ اچھی رکھے، تب کچھ ہو سکتا ہے؟” راحیل نے ایک امید بھری نظروں سے ڈاکٹر کو دیکھتے پوچھا۔
“سوری راحیل ایسا ممکن نہیں، تم دونوں کو جلد ہی کوئی سٹپ لینا پڑے گا، ورنہ یہ اسکی جان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے” ڈاکٹر کے الفاظ راحیل کو پوری طرح تور گے۔۔وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
“”““”””“””” “تو سچ میں یہ کرنا چاہتا ہے؟” حسام بلاج کی بات سن کر پوری آنکھیں پھیلا کر بولا۔ “ہاں یہی بہتر ہے” اسنے سر ہلا کر جواب دیا۔ “وہ پہلے ہی تم سےا تنی ناراض ہے یہ سب کرنے کے بعد تمہاری شکل بھی دیکھنا گوارہ نہیں کرے گی” حسام نے اسے سمجھانا چاہا۔ “دیکھ لوں گا، ابھی فل حال یہ سب تیرے گھر پر ہو گا، مولوی کا انتظام تم کرو گے، اور مشی سے بھی بات تم کرو گے کہ وہ میرال کو لے کر تمہارے گھر آۓ، اسکے لیے تم جو چاہو بہانا لگا سکتے ہو” بلاج موبائل پر ملائکہ کو ایڈریس میسج کرتے ہوۓ بولا۔ اور حسام۔ منہ کھولے اسکی سن رہا تھا۔ “سب میں کروں گا تو تم کیا کرو گے؟” وہ غصے سے بولا۔ “نکاح نامے پر سائن” بلاج دانت نکالتے ہوۓ بولا۔۔ “ہاہاہا دانت اندر کر اس وقت جو تیری حالت میرال کرے گی میں وہ سب سکون سے بیٹھ کر دیکھوں گا” حسام اسکا منہ بند کرواتے ہوۓ بولا۔۔ “اس نک چڑھی کو تو دیکھ لوں گا” بلاج اپنے تصور میں میرال کا غصے سے بھرا چہرہ دیکھ کر مسکرایا۔ “تو میں عائشہ ہارون امرحہ کو بھی بتا کر آتا ہوں” حسام اگے برھتے ہوۓ بولا۔ تبھی بلاج نے اسے روکا۔ “کسی کو کچھ نہیں بتانا، کل بتا دیں گے، پتہ نہیں ہارون کیسے ری ایکٹ کرے گا” بلاج نےا سے روک دیا۔ حسام کندھے اچکاتے مشی کو ڈھونڈنے لگا۔ بلاج باقی سب انتظام کرنے چلا گیا۔ سامنے سے مشی ہاتھ میں برگر پکڑے تبھی حسام ایک طرف گھاس پر بیٹھ گیا، اور اداس چہرہ بنا لیا۔ چلتے ہوۓ مشی کی نظر اس پر پڑی۔ “تمہیں کیا ہوا یوں منہ لٹکا کر کیوں بیٹھے ہو؟” برگر کی بائیٹ لیتے ہوۓ بولی۔ “بس زندگی اجکل بہت اداس ہے” وہ گہری سانس لے کر بولا۔ مشی کی اسکی بات سن کر ہنسی نکل گئی۔ “تم ایک اداس شخص کا مزاق اُڑا رہی ہو؟” حسام نے حیرانگی سے پوچھا۔ “تم اور اداس ہنہ واٹ آ جوک ” وہ طنزیہ انداز میں ہنس کر بولی۔ “بس سب کو لگتا ہے، میں ہنستا رہتا ہوں بولتا رہتا ہوں میرے کوئی دکھ نہیں، بیٹھو ادھر تمہیں اپنی دکھ بھری زندگی کی داستان سناتا ہوں” حسام نے بولتے اسے اپنے ساتھ بیٹھایا۔ “حسام بکواس مت کرو بچپن سے جانتی ہوں، یوں منہ لٹکا کر تم نے ضرور کوئی بات منوانی ہوتی تھی ابھی بھی وہی کرنے والے ہو” مشی اسکا پلین فیل کر رہی تھی۔ حسام نے چہرے پر مزید اداسی بیچھائی۔ “تم تو دو سال پہلے ہمارا ساتھ چھوڑ چکی ہو، تو تمہیں کیا پتہ گروپ مین سب کی زندگی کیسی ہے، میں اداس اس لیے ہوں کیوںکہ میرے سب دوست اداس ہیں، عائشہ کو تمہارے منحوس بھائی نے اداس کر کے رکھا ہے، ہارون بچارے کا دل ٹوٹا ہے وہ دیوداس بنا پھرتا ہے، امرحہ بچاری اپنے ماں باپ کی وجہ سے آۓ دن اداس ہوتی ہے، اور بلاج اسکی تو مت پوچھو” حسام۔ نے گہرا سانس لیتے سب کے دکھ بتاۓ۔ مشی بھی اب دھیان سے سن رہی تھی۔ “ہاں یہ بات تو ہے، سبھی کی لائف میں کچھ نا کچھ ہوتا ہے، تو تم ان سب کی وجہ سے پریشان ہو، ویسے بلاج کو کیا ہوا وہ کیوں اداس ہے؟” وہ بھی اب اسکی باتوں میں آ رہی تھی، حسام اپنے پلین کو کامیاب ہوتے دیکھ خوش یوا۔ “ہاں مشی میں ان سب کو اداس نہیں دیکھ سکتا پر مین کچھ کر بھی نہیں سکتا، اور بلاج بچارہ تمہاری بیسٹ فرینڈ میرال کی وجہ سے پریشان ہے سب تو تم جانتی ہو، وہ اسے معاف نہیں کر رہی، کنول آنٹی کے اچانک انتقال کے بعد وہ مزید بکھر گیا ہے، اوپر سے میرال بھی بات نہیں کر رہی ہر وقت اسکا چہرہ لٹکا رہتا ہے” حسام مزید دکھی ہوتے ہوۓ بولا۔ “ہاں میرال بھی ایسے ہی اداس اداس سی رہتی ہےپر ہم کیا کر سکتے ہین یہ انکی لائف ہے” مشی سامنے دیکھتے ہوۓ بولی۔ حسام نے اسکی طرف دیکھا وہ کتنی جلدی اسکی باتوں میں آ گئی، وہ اسکی رگ رگ سے واقف تھا اسی لیےا سنے اسے ایموشنلی طور پر استعمال کیا۔ “تو تمہیں نہیں لگتا ہمیں کچھ پلین کرنا چاہیے تا کہ وہ دونوں آپس میں مل کر بات کر سکیں” حسام نے موقع دیکھتے ہی اپنے مطلب کی بات کی۔ “کر تو سکتے ہیں پر کریں کیا؟” وہ سوچتے ہوۓ بولی۔ “تم میرال کو آج چھٹی کے بعد میرے گھر لے آنا وہی وہ دونوں بات کر لیں گے” حسام نے جھٹ سے اپنے مطلب کی بات کی۔ مشی نے تیکھی نظروں سے اسے گھورا حسام کو لگا پکڑا گیا۔ “پر میرو نہیں مانے گی” اسنے اپنا مسلہ بتایا۔ حسام کی رکی ہوئی سانس چلی۔ “اسکو مت بتانا کہنا کسی دوست کے گھر جا رہے ہیں” حسام اپنے ہاتھ جھاڑتے کھڑا ہو کر بولا۔ “ٹھیک ہے” مشی بھی مان گئی۔ “ہارون سن” حسام نے دور سے آتے ہارون کو ہاتھ ہلا کر اپنی طرف اشارہ دیا اور مسکراتے ہوۓ اسکی طرف بڑھا “حد ہے ابھی تو ایسے اداس ہو رہا تھا جیسے ابھی دکھ سے مر جاۓ گا اور ابھی دیکھو کیسے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا ہے” مشی نے دور ہارون اور حسام کو ہنستے ہوۓ دیکھ کر بولا۔ اور کندھے اچکا کر اندر کی طرف بڑھی۔ “”*
سکندر صاحب اپنے آفس میں بیٹھے ہوۓ تھے، وہ اپنے کام میں مصروف تھے، تبھی دروازہ کھول کر اسماء اندر آئی۔
“ہیلو انکل” آنکھوں سے گلاسس نکالتے بالوں کو کندھے پر جھٹکتے وہ ٹک ٹک چلتی سکندر صاحب کے ٹیبل کے پاس آئی۔
“ہیلو! بیٹھو ” انہوں نے ایک نظر اسے دیکھتے لیپ ٹاپ بند کیا۔ اور اسکی طرف متوجہ ہوۓ۔ وہ انکے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔ انہی کے کہنے پر وہ آج ان سے ملنے آئی تھی
“جی تو کیا بات کرنی تھی ؟” اپنا بیگ دوسری کرسی پر رکھتے بولی۔
“اپنی ہونے والی بہو سے گفتگو کیے کافی وقت گزر چکا تھا، اسی لیے بلوایا ہے، اور مجھے بلاج کے بارے میں بھی بات کرنی ہے” سکندر صاحب اپنے گلاسس اتارتے ہوۓ بولے۔
“جی بولیں کیا بات کرنی ہے؟” بلاج کا نام سنتے ہی وہ ایکٹو ہو کر بیٹھی۔
” بلاج سے تو میں کافی اپ سیٹ ہوں، ہر وقت مار پیٹ کرتا رہتا ہے، پہلے راحیل کے ساتھ کرتا تھا، اور اب سر پر بھی ہاتھ اُٹھا دیا، اسکے بی ہیویر سے میں کافی پریشان ہوں، گھر بھی چھوڑ چکا ہے، لگا تھا ایک ہی رستہ ہے اگر تھوڑی سختی کروں تو واپس آجاۓ گا مگر۔۔۔۔” بولتے بولتے وہ رکے تھے۔
“وہ یہ سب ایک لڑکی کی وجہ سے کر رہا ہے” اسماء نے شروعات کی۔ اسکی بات پر سکندر صاحب حیران ہوۓ۔
“کیا مطلب؟”
“یونی میں ایک لو کلاس کی لڑکی ہے میرال وہ اسے پسند کرتا ہے، اسکے پیچھے کافی پاگل ہے، میرے ساتھ ہوئی انگیجمنٹ کو تو سِراے سے بھول گیا ہے، پر میں آپکو بتا دوں میں اسے بھولنے نہیں دوں گی” اسماء نے غصے میں سب بتایا۔ اسکی بات سنتے ہی سکندر صاحب کے ماتھے پر بل پڑے۔ میرال کے نام پر انہیں وہ یاد آئی، آفس میں وہ ملے تھے۔
“تم فکر مت کرو، وہ چاہے مجھے اپنا باپ نا مانتا ہو۔ پر میں اسکا باپ ہوں، وہ وہی کرے گا جو میں کہوں گا ،شادی وہ تم سے ہی کرے گا، اسکا ایک ہی حل ہے جلد ہی تم دونوں کا نکاح کر دیا جاۓ، اسکے بعد رخصتی پڑھائی کے بعد ہو جاۓ گی لیکن اس سے پہلےا س لڑکی کو بلاج سے دور کرنا ہے، اور یہ کام تم ہی کرو گی، مجھے اپنا بیٹا واپس چاہیے کیا تم یہ کر پاؤ گی” سکندر صاحب نے بھوریں اچکاتے ہوۓ اس سے پوچھا۔ انکی بات پر وہ ہولے سے مسکرائی۔
” میں اسماء عالم ہوں یہ سب میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، آپکو اپنا بیٹا چاہیے تو اسکے بدلے مجھے کچھ چاہیے” وہ ٹیبل پر انگلیاں بجاتے ہوۓ کرسی کو ہلکا ہلکا ہلا رہی تھی چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی جیسے بہت کچھ سوچا ہو۔
“تم جو مانگو گی ملے گا اسکے بدلے مجھے بلاج چاہیے”
“تو ٹھیک ہے بلاج کو اس لڑکی سے دور کرنا اور اسکو آپکی طرف بھیجنا میرا کام ہے آپ بس میرے لیے ایک ریسٹورینٹ میرے نام کر دیں۔ آئی نو یہ آپکے لیے مشکل کام نہیں” اسنے اپنی شرط بتائی۔
“فائن ہو جاۓ گا” سکندر صاحب بھی مسکراۓ۔ انہیں بلاج ہر حالت میں واپس چاہیے تھا،
پر ہم جا کہاں رہے ہیں؟” میرال کب سے مشی سے پوچھ رہی تھی۔ پر وہ انکار کیے گاڑی کو چلاۓ جا رہی تھی۔
“سرپرائیز ہے شاک ہو جاؤ گی” مشی دانت نکالتے ہوۓ بولی۔ میرال نے اسے گھورا اور چہرہ موڑ کر راستوں کو دیکھنے لگی۔
اگلے دس منٹ میں وہ لوگ حسام کی جگہ پر موجود تھے۔ وہ میرال کو ساتھ لیتے لفٹ میں چڑھی۔ اور ابھی وہ دونوں حسام کے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑیں تھیں۔ میرال بے زاری سے ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔ تبھی دروازہ کھلا مشی نے دروازہ دکھیلا اور میرال کو لیے اندر داخل ہو کر دروازہ بند کیا۔ حسام دروازہ کھول کر چھپ گیا تھا۔
“ہیلو ” بلاج اسکے سامنے آیا۔ میرال نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔ اور پر مشی کو گھورا۔
“ہم یہاں کیا کر رہے ہیں” وہ مشی پر غصہ ہوئی۔
“تم سے کوئی ملنا چاہتا ہے” بلاج نے اسے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔
“مجھے کسی سے نہیں ملنا چلو مشی تمہیں تو بعد میں دیکھتی ہوں” وہ غصے سے بولتی پلٹی بلاج فوراً اسکے سامنے ایا۔ اسے رکنا ہی پڑا۔
” تمہاری آپی یہاں ہیں وہ تم سے بات کرنا چاہتی ہیں” بلاج نے اسے اصل بات بتا دی۔ میرال نے حیرانگی سے ادھر اُدھر دیکھا تو صوفے پر ملائکہ بیٹھی ہوئی تھی، اور اپنا چہرہ چادر سے صاف کر رہی تھی۔
“مجھے کسی سے نہیں ملنا اور ویسے بھی کریکٹر لیس لڑکیوں سے ملنا نہیں چاہیے” وہ ملائکہ کو ایک نظر دیکھ غصے سے بولی۔ اور جانے لگی مشی نے بھی حیرانگی سے پہلے ملائکہ اور پھر حسام کو دیکھا۔ جو ایک طرف کھڑا تھا۔
” مجھے معاف کر دو میرال مجھے بہت بری غلط فہمی ہو گئی تھی” ملائکہ روتے ہوۓ بولی۔
“آپی پلیز گھر جاؤ، میں جہاں ہو خوش ہوں” وہ چڑتے ہوۓ بولی ملائکہ کو بہت دکھ ہوا وہ اُٹھ کر اسکے پاس آئی۔
“ایسے مت کرو، اپنی بری بہن کو معاف نہیں کرو گی، جس دن سے تم گئی ہو ایک دن بھی چین سے نہیں رہی، ہر وقت دل۔ بے چین رہتا تھا، امی تمہاری ذمہ داری مجھے دے کر گئیں تھیں اور دیکھو مین نے کیا کیا۔ اس باسط کی باتوں میں آ کر تمہیں۔۔۔۔” بولتے بولتے ملائکہ دوبارہ رو دی۔ میرال کی انکھوں میں بھی آنسوں تھے وہ نا جانے کیسے کنٹرول کر رہی تھی۔ امی کے نام پر اسکی انکھوں میں رکے آنسوں بہہ گے۔ پر وہ کچھ بولی نہیں چہرہ جھکا دیا۔ ملائکہ آگے بڑھی اور اسے سینے سے لگایا۔
“غلطی بھی نہیں گناہ کیا تھا میں نے اپنی بہن کے کردار پر شک کیا، تم جو سزا دو گی میں مان لوں گی” روتے ہوۓ ملائکہ بول رہی تھی۔
حسام کی نظر مشی پر پڑی وہ بھی رو رہی تھی۔
“چوہیا تمہیں کیا ہوا؟” وہ اسکے پاس آکر بولا۔
” دونوں رو رہی ہیں اسی لیے ” وہ آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولی۔ حسام ہلکا سا مسکرایا، وہ اسکے نرم دل اے اچھی طرح سے واقف تھا۔
“آپ بہت بری ہیں ایک دفع بھی میری بات نہیں سنی، اور مجھے نکال دیا پتہ کتنا روئی تھی، امی کے بعد آپ ہی تو میری اپنی تھی اور آپ نے بھی مجھے پرایا کر دیا، مجھے ہاسٹل سے بھی نکال دیا گیا کیونکہ میرے پاس پیسے نہیں تھے، اس دن میرا دل کیا میں مر جاؤ، پر مشی نے مجھے سہارا دیا مجھے اپنے گھر لے کر گئی، اگر وہ لے کر نا جاتی تو کہاں جاتی میں سوچا ہے آپ نے” وہ اب شکوے شکایتیں کرتے بالکل بچی لگ رہی تھی۔ ملائکہ کو پھر خود پر غصہ آیا۔ اسنے اسکا چہرہ صاف کیا۔ اور اسے دوبارہ سے گلے سے لگایا۔ میرال اس سے مزید شکوے کر رہی تھی، آہستہ آہستہ وہ ٹھیک ہو گئی۔
” ملائکہ آپی اگر شکوے شکائیتیں ہو گئیں تو کام کی بات کریں، کافی دیر ہو رہی ہے، سبکو جانا ہے” حسام نے ملائکہ کو یاد کروایا وہ یہاں کیوں آۓ ہیں۔ ملائکہ نے بلاج کو اور پھر میرال کو دیکھا۔
“ہمم، میرال میرے ساتھ چلو مجھے بات کرنی ہے” ملائکہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اندر کمرے کی طرف لے جاتے ہوۓ بولا۔ میرال کنفیوز تھی اسے اور کیا بات کرنی ہو گی۔
” چل بیٹا دعائیں شروع کر دے، وہ مان جاۓ ورنہ دو منٹ بعد اسکے ہاتھ میں گملا ہو گا اور سیدھا تیرے سر پر مارے گی” حسام بلاج کے پاس آکر بولا جو بند کمرے کے دروازے کو ہی دیکھ رہا تھا۔
“بندے کی شکل اچھی نا ہو تو بات اچھی کر لیتا ہے” بلاج نےا سے گھورتے ہوۓ بولا۔
“وہ کیا بات کرنے گئیں ہیں؟ اور تم کیا بول رہے ہو؟ بات کیا ہے؟ ” مشی ان دونوں کی باتیں سنتی انکے پاس آئی۔
“اصل میں وہ دونوں اپنی ساری پراپرٹی مجھے دینے والے ہیں، اسی بارے میں ڈسکس کرنے گے ہیں” حسام سیریس ہو کر بولا۔
“ہی ہی ہی فیری فنی اصل بات بتاؤ، کیا چل رہا ہے؟ ” مشی ایکسرے کی نظروں سے اسے گھورتے ہوۓ بولی۔ حسام نے بلاج کو دیکھا جو ادھر اُدھر چکر لگا رہا تھا۔ اور کافی پریشان تھا۔
“ملائکہ آپی چاہتی ہیں، بلاج اور میرال کا نکال ہو جاۓ” حسام نے اسکے سر پر بم پھوڑا، مشی منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔
“کیا؟” وہ زور سے چلائی” حسام نے اپنے کانوں میں انگلیاں گھسائیں۔
“پاگلوں کی طرح کیوں چلا رہی ہو”
“تمہارا دماغ خراب ہے، بلاج میری بہن سے انگیجڈ ہے” وہ اب غصے سے بولی۔ اسکی بات بلاج بھی سن چکا تھا۔ اسکے ماتھے پر بل پڑے۔ حسام نے اسے دیکھا اور چپ رہے کا اشارہ کیا۔ اور مشی کو پکڑ کر ایک طرف لے گیا۔
“کون سی انگیجمنٹ ہممم کون سی انگیجمنٹ جو زبردستی ہوئی تھی، تمہاری اس بہن کی وجہ سے میرے دوست نے بہت فیس کیا ہے، اور تم بچی نہیں ہو سب کچھ جانتی ہو پھر بھی شروع سے جان کر بھی انجان بننے کا ناٹک کر رہی ہو، صر ف اپنی اس دھوکے باز بہن کے لیے” حسام غصے میں بول رہا تھا مشی نےا سے پہلی دفع اتنا سیریس دیکھا یہ اس ہنستے ہوۓ حسام سے بالکل مختلف تھا۔
“جو بھی وہ وہ میری بہن ہے اور بلاج اسکا منگیتر ہے” مشی نے ہمت کر کے بولا۔
” بس کرو مشی بہت ہوا تمہارا بھی، پچپن سے تم بھی ہمارے ساتھ ہی رہ رہی ہو کبھی ایک دفع بھی تمہیں بلاج اتنا گھٹیا انسان لگا، دو سال پہلے تم نے اس سے دوستی توڑی تھی میں نے نہیں، اور میں میرے دوست کا ہر مشکل میں ساتھ دوں گا اسکے اچھے دنوں میں بھلے میں ساتھ نا ہوں، اسکے برے دنوں میں ہمشہ اسکے ساتھ ہوں گا، اور تم بھی جان بوجھ کر خود کو انجان مت دیکھاؤ جیسےتمہیں تمہاری اس بہن کی اصلیت پتہ نا ہو” حسام نے غصے سے بولا اور اسے شرمندہ کرتا بلاج کے پاس آیا۔ جو چکر کاٹ رہا تھا۔۔
یہ کیا بول رہی ہیں ایسا کچھ نہیں ہو سکتا” میرال تو ملائکہ کی بات سنتے ہی ہتے سے اکھڑ گئی۔
“اس میں غلط کیا ہے نکاح کر لو، تا کہ میں پرسکون ہو سکوں، جتنا تم باسط کو جانتی ہو وہ اس سے کئی گنا گھٹیا انسان یے، وہ تمہیں بالکل نہیں چھوڑے گا” ملائکہ اسکے پاس آکر بولی۔
“جو بھی ہو میں دیکھ لوں گی پر یہ سب نہیں کروں گی” میرال نے کندھے اچکاتے ہوۓ بولا۔
“وہ کسی دن بھی تمہیں اُٹھوا کر زبردستی نکاح کر سکتا ہے اور یہ بات میں نے اپنے کانوں سے سنی ہے، میرے جوڑے ہاتھوں کو دیکھ لو پلیز ہاں بول دو” ملائکہ نے مجبور ہو کر اسے اصل وجہ بتائی جو اسنے بلاج کو بھی نہیں بتائی تھی۔ میرال کا منہ کھلا کیا کھلا رہ گیا۔
” اچھا تو اس ڈر سے میں نکاح کر لوں بالکل نہیں ” میرال غصے سے بولی۔
” میرال اگر مجھے اپنی بہن مانتی ہو تو میری بات مانو، ورنہ میں تم سے کبھی زندگی میں بات نہیں کروں گی، یہ سب میں تمہاری ہی بھلائی کے لیے کر رہی ہوں، بلاج تمہارا اچھے سے خیال رکھے گا، وہی انسان ہے جو تمہیں اس باسط سے بچا سکتا ہے تمہیں امی کی قسم مان جاؤ” ملائکہ اب سخت لہجے میں بول رہی تھی۔ میرال خود کو بے بسی کی آخری حدوں پر محسوس کر رہی تھی۔
“بس ایموشنل بلیک میل کروالو سب سے ” وہ پیر پٹختے ہوۓ بولی اور دروازہ کھول کر کمرے سے باہر نکلی۔ چہرے پر بے انتہا غصہ تھا اور اسی غصے سے وہ بلاج کو گھور رہی تھی، وہ اسے دیکھتے ہی ادھر اُدھر دیکھنے لگا میرال کا دل کیا ابھی اسکو کہی گھاڑ دے۔
“حسام بلواؤ مولوی کو” ملائکہ باہر نکلتے ہی بولی۔ حسام کے دانت دوبارہ نکلے وہ جلدی سے ڈرائینگ روم کی طرف گیا۔ جہاں مولوی اور ایک بندہ بیٹھا تھا۔ حسام نے اسے باہر بلوایا۔ اور صوفے پر بیٹھایا۔ سب وہی صوفوں پر بیٹھ گے۔ میرال تو اپنا غصہ بامشکل کنٹرول کر رہی تھی۔ اور بلاج تو من ہی من بہت خوش تھا پر چہرے پر سنجیدگی تھی۔ مولوی نے نکاح پڑھانا شروع کیا، اور تھوری ہی دیر میں میرال احمد سے میرال بلاج حمدانی بن گی۔ قبول ہے کہتے وقت اسے غصے سے بلاج کو گھورا تھا۔ وہ مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ مشی چہرہ جھکاۓ بیٹھی تھی، وہ یہاں خود کو بہت مس فٹ محسوس کر رہی تھی۔ حسام نےا یک نظر اسے دیکھا اور پھر اگنور کر دیا۔ اور بلاج۔ مبارک باد دینے لگا۔ نکاح کے بعد حسام مولوی اور ملائکہ کو چھوڑنے چلا گیا۔
جاری ہے۔
