55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

ازقلم فاطمہ طارق
“بلاج آنٹی کیسی ہیں؟” وہ کلاس میں داخل ہوا، تو امرحہ اور ہارون اسکے پاس آۓ۔ حسام نے انہیں آتے ہی کنول بیگم کی طبعیت کے بارے میں بتایا تھا، تقریباً ساری کلاس کو ہی بتا چل گیا تھا۔
“ہممم ٹھیک ہیں” وہ ہلکا سا سر ہلاتے ہوۓ بولا۔
“بلاج کیا ہم ان سے مل سکتے ہیں؟” امرحہ بولی۔
“ہاں بارہ بجے جسکو ملنا ہو مل لینا” بلاج انہیں بول کر اپنی جگہ پر آ کر بیٹھا۔ وہ خاموش رہنا چاہتا تھا۔ کل سے وہ بہت پریشان تھا۔ کچھ دیر اکیلے خاموش بیٹھ کر وہ خود کو نارمل کرنا چاہتا تھا۔ ابھی تک وہ کنول بیگم کی بیماری کو ایکسیپٹ نہیں کر پایا تھا۔ میرال نے بھی اسکی ماما کا طبعیت کا سنا تھا۔ وہ اگے بڑھ کر پوچھنا چاہتی تھی۔
“بلاج بہت افسوس ہوا، آنٹی کی بیماری کا سن کر، خیر جب جاؤ تو مجھے بھی ساتھ لے جانا، آخر کو میری ہونے والی ساس ہیں، حال احوال تو پوچھنا ہی پڑے گا” اسماء بلاج کے پاس آ کر بولی، میرال اپنی جگہ پر واپس بیٹھ گئی۔ بلاج نے موبائل نکالا اور ہینڈ فری نکال کر کان میں لگا لیے،اور سر پیچھے کرسی پر ٹِکا کا آنکھیں موندھ لیں۔ وہ اسکی باتیں سننا ہی نہیں چاہتا تھا۔اور نا ابھی وہ کسی سے لڑنا چاہتا تھا۔ اسماء ہلکا سا ہنس کر واپس پلٹ کر اپنی جگہ پر آئی۔ راحیل آج یونی نہیں آیا تھا اور عائشہ کا بھی دل نہیں کیا اسی لیے وہ گھر پر ہی تھی۔
سبھی آپس میں باتیں کر رہے تھے، جب سر امجد کلاس میں داخل ہوۓ، پر انکے ساتھ کوئی اور بھی تھا۔
“کلاس، یہ اپکے سبجیکٹ کے نیو ٹیچر ہیں، میں کچھ دنوں کے لیے ملک سے باہر جا رہا ہوں، تو تب تک باسط آپکو پڑھائیں گے، یہ ہماری یونی کے بہت ہی قابل سٹوڈینٹس میں سے ایک تھے، مجھے پورا یقین ہے، آپ سب انکا احترام کریں گے، اور اچھے سے پڑھیں گے، چلیں باسط اب یہ کلاس اپکے حوالے” سر امجد نئے ٹیچر کا تعارف کرواتے کلاس سے باہر چلے گے، ساری کلاس اب نیۓ ٹیچر سے سوالوں جواب کرنے میں مگن تھی۔ میرال اپنے سامنے باسط کو کھڑا دیکھ آنکھیں پھارے اسے دیکھ رہی تھی آنکھوں کے سامنے وہ سارے واقعات آۓ جسکی وجہ سے وہ کتنا ذلیل ہوئی تھی۔
سامنے باسط بلیک پینٹ اور بلیک ہی پرنٹ شرٹ پہنے،چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ میرال کو ہی دیکھ رہا تھا۔ میرال کو تو جیسے سانپ ہی سونگھ گیا۔ وہ ہلکا سا کانپنے لگی۔ اسنے جھٹ سے بلاج کو دیکھا جو ابھی تک سر کرسی پر ٹِکاۓ آنکھیں موندھے بیٹھا ہوا تھا۔ باسط نے کلاس کے ایک دو سوال کا جواب دیا اور بلاج کی طرف دیکھا۔ اسکو دیکھتے ہی اس دن سڑک پر پڑنے والی مار یاد آئی، تو چہرے پر سخت تاثرات ابھرے وہ چلتا ہوا بلاج کے پاس آیا، اور اسکے کان سے کھینچ کر ہینڈفری نکالے، ساری کلاس خاموش ہو گئی، بلاج جو کہ نیند میں جا رہا تھا۔ اچانک کانوں سے کھنچ کر نکالے جانے والی ہینڈ فری، پر اسنے آنکھیں کھولیں،آیا کس میں اتنی ہمت ہے جو اسطرح کی بدتمیزی کرے۔ پر سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھ وہ بھی حیران ہوا۔
“یہ کلاس ہے، تمہارا گھر نہیں جہاں آرام سے گانے سنتے سو رہے ہو” اسکے آنکھیں کھولنے پر باسط نے غصے سے بولا۔ اور ہینڈفری کو اسکے اوپر پھینک دیا۔ ساری کلاس اب بلاج کے پھٹنے کا انتظار کرنے لگی۔ بلاج نے ایک نظر اسے اور پھر ایک نظر اپنے اوپر پھینکے جانے والے ہینڈفری کو دیکھا اسکے ماتھے پر لکیریں واضع ہوئیں۔
“میری کلاس کے وہی رولز ہوں گے جو میں بناؤں گا، کسی امیر باپ کے بگڑے بچوں کو اپنی من مانی کرنے کی آجازت نہیں ہو گئی، کیونکہ امیر باپ کے بگڑے امیرذادوں کو ٹھیک کرنا مجھے بہت اچھے سے آتا ہے” باسط بولتا ہوا اپنی جگہ پر جا کر کھڑا ہو گیا بلاج نے غصے سے مُٹھیاں بھیچیں اسنے گردن موڑ کر میرال کو دیکھا، جسکے چہرے کا رنگ اُڑا ہوا تھا۔ اور اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اسنے اپنے آپ کو کنٹرول کیا۔
“ارے سر آتے ہی کیوں ہائپر ہو رہے ہیں، ویسے بھی کسی میں اتنا دم نہیں وہ امیر باپ کے بگڑے امیرذادوں کو ٹھیک کر سکے، ہاں امیر باپ کا بگڑا امیرذارہ گلی کے آوارہ کتوں کو ضرور ٹھیک کر سکتا ہے، اسکا ایک نمونہ تو یاد ہی ہو گا” بلاج چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ طنزیہ انداز میں بولتے باسط کو چپ کروا گیا۔ اسکی بات پر کلاس میں دبی دبی ہنسی چھوٹی۔ حسام سے کنٹرول نا ہوا وہ کھل کر ہنسا۔ باسط کا غصے سے برا حال تھا۔
“ابھی کے ابھی کلاس سے دفع ہو جاؤ” باسط نے غصے پر کنٹرول کرتے ہوۓ بولا۔ بلاج مسکرا دیا۔
“اووو ہووو سر اتنا ہائپر مت ہوں ویسے بھی بورنگ کلاس لینے میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں” وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتے ہوۓ بولا۔
“مجھے بھی” تبھی ہارون حسام اور امرحہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوۓ۔
“تم سب دفع ہو جاؤ” باسط نے غصے سے کہا۔ وہ چاروں کلاس سے باہر چلے گے۔ انکے جاتے ہی باسط نے میرال کو گھورا۔ میرال سے اب وہاں پر بیٹھنا مشکل تھا۔
“میری طبعیت ٹھیک نہیں میں باہر جا رہی ہوں” وہ اپنا موبائل پکڑ کر اپنی جگہ سے کھڑی ہوتے ہوۓ بولی۔ اور بنا کسی کی کوئی بات سنے کمرے سے باہر کی طرف بھاگی۔
“بلاج تو اسے جانتا ہے؟” باہر آتے ہی حسام نے پوچھا۔
“تجھے ایسا کیوں لگا؟” بلاج نے بات دبانی چاہی۔
“تیری باتوں سے جسطرح تو بات کر رہا تھا، ایسا لگ رہا تھا تو جانتا ہے” حسام نے وجہ بتائی۔
“ہاں یار وہ بس ہلکی سی مار پیٹ ہوئی تھی” اسنے بات گول کر دی۔ اسکے دماغ میں کل والی باتیں گھوم رہیں تھیں۔
“تو وہ تم ہی تھے جسنے تصویریں بھیجنے کی گھٹیا حرکت کی” وہ اپنے دل میں بولا۔
یونہی بارہ بج گے۔ اسکے لیکچر کے بعد باقی کے دو لیکچر سب نے لیے، اور بارہ بجے سبھی ہسپتال کے لیے نکل گے۔
“اف مشی یار کہاں لے کر جا رہی ہو” مشی میرال کو اپنے ساتھ گاڑی میں لیے اب گاڑی کو فل سپیڈ میں چلا رہی تھی۔
“تھوڑی دیر میں پتہ چل جاۓ گا، ابھی چپ بیٹھو” وہ گاڑی چلاتے ہوۓ بولی۔ میرال کو ناچارہ چپ بیٹھنا پڑا
بلاج ان تینوں کو لیے ہسپتال آ گیا تھا۔ عائشہ کو امرحہ نے بتایا تو وہ بھی وہاں پہنچ گئی تھی۔ اس وقت وہ پانچوں انکے کمرے میں بیٹھے ان سے باتیں کر رہے تھے۔ عمیر اور منیر صاحب پہلے ہی وہاں موجود تھے۔ تبھی دروازہ کھول کر ایک ہاتھ میں بُکے لیے اور دوسرے ہاتھ میں میرال کا ہاتھ پکڑے مشی اندر داخل ہوئی۔
“ہیلو آنٹی! میں آ گئی، آئی نو اپکو میری بہت یاد آئی ہو گئی، مجھے بھی آپکی بہت یاد آئی، کیسی ہیں” مشی اندر داخل ہوتے ہی اونچی آواز میں بولی۔ کنول بیگم بیڈ پر ٹیک لگاۓ بیٹھیں تھیں، سامنے مشی اور ساتھ انجان لڑکی کو کھڑے دیکھ مسکرائیں۔ پر مسکراہٹ دبا بلاج نے حیرانگی سے میرال کو دیکھا۔
“لو بن بلاۓ مہمان بھی آ گے” حسام درمیان میں نا بولے ایسا ہو سکتا تھا۔ میرال کو بہت انکمفرٹیبل فیل ہو رہا تھا۔
“درمیان میں چونچ لڑانے والوں پر مشی کا شراپ، وہ جلد ہی خوفناک حد تک بوڑھے ہو جائیں گے” مشی حسام کو گھورتے ہوۓ بولی۔
“بس کرو اب لڑنا مت شروع ہو جانا، مشی کیسی ہو؟” عمیر درمیان میں بولا وہ ان دونوں کو بہت اچھے سے جانتا تھا۔
” ایک دم خوبصورت، پیاری، اور معصوم ہوں” مشی اپنے چہرے کے دونوں طرف ہاتھ رکھتی کیوٹ سا چہرہ بنا کر بولی۔ اسکی بات پر حسام کا قہقہ بلند ہوا۔ مشی نے اسے گھورا اور کنول بیگم کی جانب بڑھی اور انہیں ہگ کیا
” کیسی ہیں؟” وہ انکے گلے لگ کر بولی۔
“ٹھیک ہوں پر تم تو مجھے بھول ہی گئی تھی، کتنے مہینوں بعد آئی ہو” وہ اسکے گھونگھرالے بالوں کو سہلاتے ہوۓ بولیں۔
“سوری بس مصروف تھی” وہ کان پکڑ کر بولی۔
“سارا ملک یہی چلاتی ہے” حسام کی زبان پر پھر کھجلی ہوئی۔
“تم پھر بولے” عمیر نے غصے سے اسے گھورا۔ وہ منہ بند کر کے بیٹھ گیا۔ کنول بیگم نے ہنس کر حسام کی طرف دیکھا تبھی انکی نظر بلاج پر پڑی جو کہ سامنے کھڑی میرال کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا، کنول بیگم نے اسکی نظر کے تعاقب میں میرال کو دیکھا۔ پنک شلوار قمیض پہنے، بالوں کو پونی میں قید کیے، سر پر ہم رنگ ڈوپٹہ لیے، میک سے آری چہرے کے ساتھ وہ سادگی میں بھی دل کو چھو جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔
“ارے بیٹا تم وہاں کیوں کھڑی ہو، یہاں آؤ” کنول بیگم نے اسکو گم صم کھڑا دیکھا تو بولیں۔ سبھی نے اسکی طرف دیکھا۔
“آنٹی یہ میری نئی دوست ہے میرو،سوری میرال احمد” مشی اسکا ہاتھ پکڑ کر کنول بیگم کے پاس لاتے ہوۓ بولی۔
” السلام علیکم! کیسی ہیں؟ ” میرال نے ہولے سے سلام کیا۔ کنول بیگم کو حیرت ہوئی ان سب میں سے کسی نے آج تک سلام نہیں کی تھی۔
” وعلیکم السلام! بالکل ٹھیک ہوں” کنول بیگم ہلکا سا مسکرا کر بولیں۔ عمیر نے دو کرسیاں انکو دیں مشی اور میرال دونوں بیٹھ گئیں۔ کنول بیگم میرال سے باتیں کرنے لگیں، وہ بھی اب کمفرٹیبل ہو کر جواب دے رہی تھی۔ عمیر سبکے لیے جوس اور سینڈویچ لے آیا تھا،
” آنٹی کافی دیر ہو گئی اب ہمیں چلنا چاہیے۔” ایک گھنٹے بعد میرال اپنی جگہ سے کھڑی ہو کر بولی۔ اور مشی کو بھی اشارہ کیا جو کہ منیر صاحب کے پاس بیٹھے اپنے دکھ سنا رہی تھی۔
“اتنی جلدی کیا ہے بیٹھ جاؤ” کنول بیگم نے اسے رُکنا چاہا انہیں وہ کافی پسند آئی تھی۔
“بہت دیر ہو گئی ہے، میں پھر آپ سے ملنے آؤں گئی” میرال نے مسکرا کر جواب دیا، بلاج نے کچھ بولنا چاہا۔
” میرال بیٹھ جاؤ، کیا پتہ کوئی تمہاری وجہ سے اتنے اچھے سے بی ہیو کر رہا ہو، ورنہ اتنی دیر کسی کے سامنے بیٹھنا، وہ بھی اسکے سامنے جس سے لڑائی ہوئی ہو” حسام میرال کے پاس آکر بولا۔ کنول بیگم نے بھی سن لیا تھا۔ میرال نے بلاج کی طرف دیکھا۔ جو انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔
“کس کی بات کر رہے ہو؟” کنول بیگم نے پوچھنا چاہا۔
” ہٹو مجھے آنٹی کو راز کی بات بتانے دو” حسام کے پیٹ میں اب درد ہو رہا تھا۔ میرال وہاں سے مشی کے پاس آئی۔
“موم یہ پاگل ہے کچھ بھی بولتا ہے، چلو سب بہت دیر ہو گئی ہے، ڈاکٹرز کو چیک اپ بھی کرنا ہے چلو شاباش” بلاج حسام کے کچھ بولنے سے پہلے ہی اسے کندھے سے پکڑ چکا تھا۔ اور سبھی کو جانے کا بولا۔ سب کنول بیگم اور منیر صاحب سے مل کر چلے گے۔ بلاج کو کنول بیگم نے روک لیا تھا۔
“یس موم کیا بات ہے؟” وہ انکے ہاس آکر بیٹھا۔ منیر صاحب صوفے پر بیٹھے ہوۓ تھے۔
“کیا مجھے اتنا حق ہے کہ جو میں اب تمہیں دوں گئی تم اسے قبول کرو گے، اور میری بات مانو گے؟” کنول بیگم اسکی طرف دیکھ کر سنجیدہ انداز میں بولیں
” بولیں کیا بات ہے؟” وہ انکے ہاتھوں کو چوم کو بولا۔ کنول بیگم نے عمیر کو اشارہ کیا۔ اسنے ایک فائل اور دو چابیاں انکے حوالے کئیں۔
” بلاج میری زندگی کا اب کوئی بھروسہ نہیں کیا پتہ رات کے بعد دن دیکھنا نصیب میں ہو کہ نا ہو، تو میرے دل میں جو پریشانی ہے میں اسے ختم کر کے اس دنیا سے جانا چاہتی ہوں” کنول بیگم ہولے سے بولیں۔
“موم کیسی باتیں۔۔۔” بلاج نے بولنا چاہا جب انہوں نے درمیان میں کاٹا۔
“میں نہیں چاہتی میرے مرنے کے بعد میرا بچہ در در کی ٹھوکریں کھاتا پھرے، تمہاری اپنے ڈیڈ سے جو شکایات ہیں، میں انہیں ختم کرنے کے لیے نہیں بول رہی، بس تم میری خاطر یہ کچھ چیزیں قبول کر لو، یوں سمجھو میری آخری خواہش سمجھ کر اپنا لو” کنول بیگم کا لہجہ بولتے بولتے نم ہوا۔ بلاج نے سر جھکایا ہوا تھا۔
“موم! میں ڈیڈ کے پیسوں سے ایک بھی چیز نہیں لے سکتا پلیز” وہ چہرہ جھکاۓ ہی بولا تھا۔
“اگر میں کہوں یہ میرے پیسے ہیں، تمہارے نانا نے یہ سب مجھے دیا تھا، اور اب میں یہ تمہیں دے رہی ہوں، بس میرے دل کو سکون مل جاۓ کہ تم ایک محفوظ جگہ پر رہ رہے ہو مجھے جاتے وقت تو سکون سے جانے دو پہلے ہی حسن نہیں بھولتا، ناجانے کہاں ہو گا میرا بچہ ” کنول بیگم اسکے بالوں کو سہلاتے ہوۓ بولیں اور آخر میں حسن کا نام لیتے ہی رو دیں حسن کا نام سنتے تو منیر صاحب کی آنکھیں بھی نم ہوئیں۔
” موم پلیز روئیں نا طبعیت خراب ہو جاۓ گئی، آپ جو بولیں گئی میں وہ لے لوں گا” بلاج انہیں سینے سے لگاتے ہوۓ بولا۔
“ٹھیک ہے تو آج کے آج تم اس گھر میں شفٹ ہو جاؤ، یہ گھر کے پیپرز ہیں جو میں نے تمہارے نام کر دیے ہیں، یہ گاڑی بھی تمہارے نام پر ہے، اور یہ سارے کریڈیٹ کارڈ بھی سب تمہارے نام پر ہے، تمہارے نانا نے مجھے جتنی پراپرٹی دی تھی وہ سب تمہیں دے رہی ہوں، تم اپنے زندگی جیسے چاہو میرے بچے ویسے گزارو، خود کو زیادہ تقلیف مت دینا، دل کرے تو اپنے ڈیڈ کو معاف کر دینا، اور عمیر سے ملتے رہنا، دونوں بھائی سکون کی زندگی گزارنا، اور جس سے دل مانے اسی سے شادی کرنا،زبردستی کسی سے شادی نا کرنا، یہ بات اپنے دل سے نکال دو، کہ اس دن میں نے تمہاری بات پر یقین نہیں کیا تھا۔ مجھے میرے بچے پر میری تربعیت پر بہت بھروسہ ہے، ” کنول بیگم اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیے روتے ہوۓ بولیں۔ اور آخری بات ہولے سے بولی۔ فائل چابیاں اور کریڈیٹ کارڈ اسکے ہاتھ پر رکھے انکی ایسی باتیں بلاج سے سنی نہیں جا رہیں تھیں، اسکا دل بے چین ہو رہا تھا۔ جیسے وہ ابھی اسکا ہاتھ چھوڑ کر چلی جائیں گئی۔ وہ لاکھ کنٹرول کرتے ہوۓ بھی رو دیا۔
“موم ریلکس ایسی باتیں مت کریں، اپکو کچھ نہیں ہو گا” عمیر ان دنوں کو سینے سے لگاتے ہوۓ بولا۔ منیر صاحب نے اپنی آنکھیں صاف کیں۔ کنول بیگم کا روتے روتے سانس اُکھڑنے لگ گیا۔
“موم کیا ہوا، موم” کنول بیگم کی بگڑتی حالت کو دیکھتے دونوں بھائی چلاۓ، باہر سے ڈاکٹر اندر بھاگے۔ دونوں کو دور ہو کر کھڑا ہونے کو بولا۔ اور جلدی سے کنول بیگم کو آئی سی یو میں شفٹ کیا۔ بلاج وہی آئی سی یو کے باہر کھڑا اندر جھانکے کی کوشش کر رہا تھا۔ پر اندر سے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ سکندر صاحب بھی عمیر کی کال پر ہسپتال پہنچ گے تھے۔ اور اب ڈاکٹر سے بات کر رہے تھے۔
“دیکھیں کینسر کا پہلے ہی لاسٹ سٹیج پر پتہ چلا ہے، انکی حالت کافی سیریس ہے، ہم اپنی پوری کوشش کریں گے پر چانسسز بہت کم ہیں” ڈاکٹر نے صاف صاف سکندر صاحب کو انکی حالت بتائی۔ بلاج سب سن کر وہی آئی سی یو کے دروازے کے پاس نیچے بیٹھتا گیا۔ ابھی کچھ دیر پہلے کنول بیگم کی دی ہوئی فائل دو چابیاں اور کریٹ کاڈز اسکے ہاتھ میں تھے۔ وہ دھندلی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں کے سامنے کنول بیگم کے ساتھ سخت رویے رکھنے والے واقعات آۓ، اور کئی خوشگوار لمحے بھی آۓ۔ وہ ناجانے کتنی دیر وہاں بیٹھا رہا ، عمیر بار بار فارمیسی پر جاتا اور ڈاکٹر کی بتائی دوائیاں لا کر دیتا۔ منیر صاحب وہی ایک طرف بیٹھے اپنی بہو کی زندگی کی دعائیں کرنے لگے، سکندر صاحب بھی وہی سر پکڑے بیٹھے تھے۔ عمیر نے حسام کو کال کر کے بتایا تو وہ ہارون اور امرحہ کے ساتھ یسپتال آ گیا بلاج کو آئی سی یو کے سامنے گھٹنوں میں سر دیے بیٹھے دیکھا تو فوراً اسکے پاس آۓ۔۔
“بڈی” ہارون نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پکارا۔ بلاج نے نم آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا وہ بہت ٹوٹا ہوا لگ رہا تھا۔
“کچھ نہیں ہو گا” وہ اسے سینے سے لگاتے ہوۓ بولا۔۔ تبھی آئی سی یو کا دروازہ کھول کر ڈاکٹر باہر آیا۔ سبھی اسکی برف متوجہ ہوۓ۔
“ایم سوری ہم انہیں نہیں بچا سکے” ڈاکٹر نے افسردہ لہجے میں یہ خوفناک خبر سنائی۔ جو سبکے سر پر بم کی صورت میں گِڑی۔ ابھی دو گھٹنے پہلے تو وہ ہنس کر بات کر رہیں تھیں، ایک ہفتے پہلے تک وہ بالکل ٹھیک تھیں ایک ہفتے کے اندر اندر وہ بیماری انہیں نگل گئی۔ بلاج کے ہاتھ سے ساری چیزیں زمین پر گِڑیں۔ جو کچھ دیر پہلے کنول بیگم نے اسے دیں تھیں۔
“موم” عمیر روتے ہوۓ بلاج کو گلے سے لگایا جو گم صم سا کھڑا تھا۔ اور یہ زہریلی خبر سن کر پتھر سا ہو گیا تھا۔ انکھوں سے آنسوں بہ رہے تھے پر منہ سے ایک لفظ نہیں نکل رہا تھا۔
ایک گھنٹے بعد کنول بیگم کی باڈی کو ایمبولینس میں ڈال کر حمدانی ولا لایا گیا، یہ خبر پورے شہر میں پھیل گئی۔ بہت لوگ حمدانی ہاؤس پہنچے۔ میرال مشی کے ساتھ وہاں آئی۔ کچھ گھنٹوں پہلے ہی وہ ان سے ملی تھی۔ کچھ گھنٹوں بعد انکو غسل دیا گیا۔ اور تھوڑی دیر بعد انکی تدفین کر دی گئی۔ صبح پانچ کا وقت تھا۔ جب کنول بیگم کو قبر میں اتارا جا رہا تھا۔ ہلکی ہلکی سی بارش بھی ہو رہی تھی۔ دفنانے کے بعد سبھی ایک ایک کر کے وہاں سے رخصت ہو رہے تھے، عمیر سکندر صاحب بلاج، حسام ، ہارون اور راحیل وہی کھڑے تھے۔ بارش نے انہیں ہلکا سا بھیگا دیا تھا۔
“موم! اتنی جلدی کیوں چلی گئیں، اچھا نہیں کیا” بلاج وہی قبر پر گھنٹنے ٹکا کر روتے ہوۓ بولا۔ وہ قبر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔۔وہ کافی دیر یونہی روتا رہا۔
” بلاج، چل” حسام اور ہارون نے اسے کھڑا کیا اور بہت مشکل سے قبرستان سے واپس کے کر آۓ۔
وہ گھر داخل ہوا، اسکی حالت کافی بری تھی، بارش میں بھیگا، ہاتھوں اور گھٹنوں پر مٹی لگی ہوئی، اور رونے کی وجہ سے چہرہ لال تھا۔ اسکی حالت دیکھ کر میرال کے دل کو کچھ ہوا۔ کچھ مہینوں پہلے جب اسکی امی کا انتقال ہوا تب وہ بھی اسی طرح بکھری تھی۔
خاندان کی خواتین حال میں بیٹھیں ہوئیں تھیں۔ لندن سے مریم خالہ اور انکی بیٹی حرا بھی آ گئیں تھیں۔ مریم بیگم کی کنول بیگم کے ساتھ بہت اٹیچمنٹ تھی۔ وہ انکا یوں اچانک چلے جانا برداشت نہیں کر پا رہیں تھیں حرا سے وہ سھنمبل نہیں پا رہیں تھیں، مسلسل رونے کی وجہ سے انکا بی پی لو ہو رہا تھا۔
“خالہ! بس کریں اپکی طبعیت خراب ہو جاۓ گئی، چلیں تھوری دیر آرام کر لیں” عمیر خود کو بھی با مشکل سھنمبال رہا تھا، وہ اگے بڑھا اور مریم بیگم کو پکڑ کر کمرے میں لے گیا۔ حرا اسکے پیچھے کمرے میں چلی گئی۔ انکو بیڈ پر لٹا کر سر درد کی دوا کے ساتھ نیند کی گولی بھی کھلا دی، تھوڑی دیر بعد انکی آنکھیں بھاری ہونے لگی اور وہ سو گئیں۔۔
“عمیر!” وہ کمرے سے جا رہا تھا کہ حرا بولی۔ وہ رک گیا۔
“ہمم” وہ پلٹ کر بولا۔ حرا نے اسکی طرف دیکھا۔ اور نفی میں سر ہلایا۔ عمیر کمرے سے چلا گیا۔۔۔۔
سبھی آہستہ آہستہ اپنے اپنے گھر چلے گے۔ حسام ہارون امرحہ یہی رکے، بلاج اپنے کمرے کا دروازہ بند کیے اندر اکیلا بیڈ کے قریب زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ لاکھ کوشش کے باوجود حسام دروازہ نا کھلوا پایا۔
“”””””””**”””””””””
کنول بیگم کی وفات کو دو ہفتے گزر چکے تھے، وقت کا کام ہے گزرنا وہ چپکے سے گُزر جاتا ہے، کسی کے جانے سے زندگی رکتی نہیں سب اپنے اپنے کاموں پر واپس چل دیتے ہیں۔ سکندر صاحب دوبارہ آفس جانا شروع ہو گے، عمیر بھی انکے ساتھ جاتا، مریم بیگم اور حرا ابھی تک یہی موجود تھیں، وہ ابھی مزید دو ہفتے یہی رہنے والی تھیں، بلاج ایک ہفتہ حمدانی ولا میں رُکا اور پھر حسام کے پاس چلا گیا۔ وہ دو ہفتوں سے یونی نہیں جا رہا تھا۔ آج حسام اور ہارون اسے زبردستی یونی لاۓ تھے۔ وہ انکے ساتھ کلاس میں داخل ہوا۔
نیلی جینز کے ساتھ کالی ٹی شرٹ پہنے کندھے پر بیگ ڈالے وہ کمرے میں داخل ہوا۔ آج اسکے بال ہمیشہ کی طرح سیٹ نہیں تھے۔ چہرے پر بھی رونق نہیں تھی۔ وہ بہت اداس سا لگ رہا تھا۔ وجہ تو سب جانتے ہی تھے۔ میرال کی نظر اس پر پڑی، دو ہفتوں بعد وہ اسے دیکھ رہی تھی۔ ان دو ہفتوں میں کئی دفع اسنے کوشش کی کہ میسج کر کے اسکا حال پوچھ لے، پر ناجانے کیوں ہمت نہیں ہوئی۔ ابھی وہ اپنی جگہ پر جانے ہی والا تھا کہ کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف متوجہ کیا۔ وہ پلٹا تو سامنے اسماء کھڑی تھی، جینز شرٹ پہنے فل میک اپ کیے بالوں کو کھلا چھوڑے وہ اسکے سامنے کھڑی تھی۔
“آنئی کے بارے میں معلوم ہوا، ایم ریلی سوری میں آ نہیں پائی تم ناراض تو نہیں ہو” وہ اسکے گلے لگتے ہوۓ بولی۔ میرال کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ بلاج نے جھٹکے سے اسے دور کیا وہ اتنا تیز جھٹکا لگنے کی وجہ سے پیچھے کو لڑکھڑائی۔
“اپنی حد میں رہو” وہ دانت چبا کر بولا۔ مارے کوفیت کے اسماء اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئی۔
“بے وقوف” بلاج نے غصے سے کہتے اپنا بیگ دوسری کرسی پر رکھا اور اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔۔
” رضوان ایک کپ جاۓ لا دو” مشی کا سر درد سے پھٹ رہا تھا تبھی ساتھ بیٹھے رضوان سے مخاطب ہوئی۔ جو ایماب کے ساتھ بات کر رہا تھا۔ جو کہ ایک مہینے بعد یونی آئی تھی وہ لندن گئی ہوئی تھی۔
” اپنی نئی دوست کو بھیجو مجھے کیوں نوکر بنا رکھا ہے” رضوان چڑتے ہوۓ بولا۔ مشی نے اسکی طرف دیکھا۔ وہ نوٹ کر رہی تھی دو دن سے وہ چڑتے ہوۓ جواب دے رہا تھا۔
“کیوں تم بھی تو میرے دوست ہو اور کافی پرانے ہو چلو جاؤ پلیز لا دو” مشی اب منت کرتے ہوۓ بولی۔
” ہماری اب وہ اوقات کہاں جو میرال میڈیم کی ہے، ہم تو اب پرانے دوست ہی بن کر رہ گے ہیں” وہ اپنا موبائل نکال کر بلاوجہ اسے چلاتے ہوۓ بولا۔
“او پلیز یہ فضول بکواس مت کرو جاؤ نا لا دو سر درد کر رہا ہے” مشی چڑتے ہوۓ بولی۔
“اوکے فائن لا دیتا ہوں” وہ بھی اب ناراضگی سائیڈ پر رکھتے ہوۓ بولا۔ اسکا چہرہ دیکھ کر ہی لگ رہا تھا۔ وہ بیمار ہے۔ وہ کینٹین کی طرف چلا گیا۔ وہ بس ناراض تھا کیونکہ مشی اب اسے اور ایماب کو وقت نہیں دیتی تھی وہ زیادہ تر میرال کے ساتھ ہی نظر آتی تھی۔۔
جاری ہے