Rate this Novel
Episode 21
مہندی کا فنگشن میرج حال میں کمبائن تھا، سبھی مہمان پہنچ چکے تھے۔ تھوری ہی دیر میں فنگشن شروع ہونے والا تھا۔
“یار اسطرح تو اکیلے مزہ نہیں آۓ گا،یہ میرا بھی نا میری بات سنتی ہی نہیں اتنا بولا پھر بھی انکار کر دیا۔ حد ہوتی ہے، میں اسکو چھوڑوں گی نہیں کیا کروں” مشی مکمل تیار لہنگا کُرتی پہنے، پاؤں میں خوسہ، ڈوپٹے کو گلے میں ڈالے فل میک اپ کیے ادھر اُدھر چکر لگا رہی تھی۔ وہ میرال کے نا آنے پر کافی اپ سیٹ تھی۔
“گائیز روکو میں آتا ہوں” حسام جو کہ ہارون اور بلاج کے پاس کھڑا تھا مشی کو ادھر اُدھر چکر لگاتے دیکھ اسے چھیڑنے کے لیے اسکے پاس آنے لگا۔
“کہاں جا رہا ہے؟” ہارون نے اسے روکتے ہوۓ پوچھا۔
“اپنے شکار کو کھانے جا رہا ہوں” وہ ہاتھوں دے ایکٹنگ کرتے ہوۓ بولا۔ اور مشی کی طرف بڑھا۔ ہارون نے نفی میں سر ہلایا۔ بلاج بار بار موبائل کو دیکھ رہا تھا جہاں واٹس اپ پر میرال کا نمبر اوپن تھا وہ اسکے میسج کا انتظار کر رہا تھا، آج جو کچھ اسنے بولا تھا وہ ڈر رہا تھا کہی اسے برا تو نہیں لگا۔
“بڈی تو پریشان لگ رہا ہے کیا ہوا؟ ؟” ہارون کی نظر اب اس پر پڑی۔ بلاج نے جلدی سے موبائل دوسری طرف کر لیا۔
“اہممم کچھ نہیں، بس عائشہ کی شادی کو لے کر ہی “وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا۔
” چوہیا! تم بھٹکتی ہوئی آتماؤں کی طرح ادھر اُدھر کیوں کود رہی ہو” حسام اسکے پاس آ کر بولا۔ پاس سے گزرتے ویٹر کے ہاتھ سے جوس کا گلاس پکڑا، اسکے یوں آنے سے مشی چونکی اور منہ بسورا۔ جیسے اسکا آنا بہت ہی نا پسند آیا ہو۔
“اپنے منہ کو اتنا ہی بگاڑو جس سے ڈائین نا لگو، ہاہا” وہ بولتے بولتے ہنس دیا۔
“تم سے مطلب جاؤ اپنا کام کرو، میرے پاس کیوں کھڑے ہو اپنے دوستوں کے پاس جاؤ” مشی نے غصے سے کہا۔ اور ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔
“تو مجھے ڈسٹرب کرنا بند کرو” وہ ہولے سے بولا اور جوس کا ایک سپ لیا۔
“او ہیلو میں نے کب ڈسٹرب کیا کچھ بھی ہنہہ” مشی اسکی بات کو سنتے ہی فوراً بولی۔
“بتاؤ کیا پریشانی ہے؟” حسام نے بات پلٹ دی۔
“تمہیں کیوں بتاؤ تم سارے زمانے میں جا کر بتا دو گے، اب تم کون سے پہلے والے حسام ہو، جو سب بتا دوں” مشی بولتے بولتے افسردہ ہوئی،
“آہ مین ایموشنل ہو گیا کیسی باتیں کر دیں مجھے رونا ا گیا” حسام اسکی بات سنتے ہی فوراً جھوٹ موٹ کی روتے ہوۓ بولا۔ مشی کو اسکی حرکت پر بہت غصہ آیا۔
“حد ہے کہاں پھس گئی میں ایک تو میرال کی بچی وہ بھی نہیں آئی” وہ پاؤں پٹھکتے ہوۓ بولی۔
“او میرال میڈیم نہیں آئیں میں بھی کہوں کچھ ادھورا ادھورا ہے، تبھی تو ماحول اتنا اداس ہے” وہ سامنے بار بار موبائل کو دیکھتے بلاج کو دیکھ کر بولا۔ جو مضطرب نظر آ رہا تھا۔
“ہنمم کیا بول رہے ہو سمجھ نہیں آیا” مشی کو اسکی کچھ ہی باتیں سنائی دیں۔
“کچھ نہیں چلو تمہاری دوست کو لاتے ہیں، ویسے بھی ابھی فنگشن شروع ہونے میں آدھا گھنٹہ ہے” حسام اسکی طرف پلٹ کر بولا۔
“کیسے؟ وہ آنا ہی نہیں چاہتی تو کیسے لائیں گے؟” مشی کو اسکی بات سمجھ نا آئی۔
“جب حسام پاس ہو تو ٹینشن لینی نہیں چاہیے حسام کے پاس سبھی مسلوں کا حل موجود ہے تم چلو اگلے آدھے گھنٹے میں ہم یہاں تمہاری دوست کے ساتھ موجود ہوں گے، اوکے” حسام گلاسس لگاتے ہوۓ سٹائل سے بولا۔ مشی کندھے اچکا کر اسکے ساتھ چل دی۔
حسام مشی کو لے کر ہاسٹل پہنچا، مشی واڈن سے آجازت لے کر میرال سے ملنے چلی گئی، واڈن مشی کو جانتی تھی کہ وہ عالم صاحب کی بیٹی ہے۔ اسی لیے وہ اسے کچھ نا کہتی۔
میرال دوپہر میں ایک انٹر ویو دینے گئی تھی، جہاں سے اچھا رسپونس نہیں ملا، اسی وجہ وہ کافی پریشان تھی، اس وقت وہ کتابیں کھولے سوچ رہی تھی کیا کرے تبھی دروازے پر دستک ہوئی، اس وقت اپنے دروازے پر دستک سن کر وہ حیران ہوئی آمنہ تو سو چکی تھی، وہ اُٹھی اور دروازہ کھولا۔ سامنے فل تیار مسکراتی ہوئی مشی کھڑی تھی۔
“مشی تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” اپنے سامنے مشی کو دیکھ وہ کافی حیران ہوئی۔
“تمہیں لینے آئی ہوں چل جلدی سے تیار ہو جا، جانا ہے” وہ اندر داخل ہوتے ہوۓ بولی۔
“میں نے بولا تھا میں کل آجاؤں گی، پھر کیوں آئی؟” میرال کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا بولے
“دیکھ کل بھی تو آۓ گی، تو آج بھی چل میرے ساتھ، یار بالکل مزہ نہیں آ رہا، اپنے سامنے ایکس میٹ کے گروپ کا برداشت کرنا بہت مشکل ہے، تو میرے ساتھ ہو گی تو مزہ آۓ گا” مشی اسکی الماری کھولتے ہوۓ بولی۔ میرال نے گہرا سانس لیا۔ وہ اب اسے کیا بتاتی وہ کیوں نہیں جانا چاہتی۔
“مشی میری بات سنو، تمہاری ضد کی وجہ سے میں کل آؤں گی، پر آج نہیں جاؤں گی، تم میری بات پلیز سمجھو، میں کمفرٹیبل فیل نہیں کرتی سو پلیز مجھے مجبور مت کرو، تمہارے بھائی کی شادی ہے تو اچھے سے انجواۓ کرو” میرال اسکے دونوں ہاتھ پکڑے پیار سے بولے تا کہ وہ سمجھ جاۓ۔
“میں کتنی دور سے آئی صرف تمہیں لے کر جانے لے لیے اور تم تب بھی نہیں آ رہی یہی دوستی ہے” مشی کا چہرہ اتر گیا۔ وہ سوچ رہی تھی میرال اسکے ساتھ چلی جاۓ گی۔
“ارے میری جان! ایسے اداس مت ہو ایم سو سوری میں نہیں جا سکتی میری مجبوری ہے پلیز میں تمہیں بتا نہیں سکتی، پلیز تم اپنا موڈ خراب مت کرو جاؤ اور اچھے سے فنگشن اٹینڈ کرو، میں کل ضرور آؤں گی یہ میرا وعدہ رہا اوکے” میرال اسے گلے سے لگا کر بولی مشی کو وہ اداس نہیں کرنا چاہتی تھی پر کیا کرتی۔
“فائن مت آؤ، کل بھی مت آنا ” مشی اس سے علحیدہ ہوتے ہوۓ بولی اور بنا اسے دیکھے کمرے سے چلی گئی۔ میرال نے اسے روکنے کی بھی کوشش نا کی، وہ دروازہ بند کر کے اپنی سٹڈی ٹیبل پر آکر بیٹھی۔ اور اپنی آنکھ کا کنارہ صاف کیا۔ اور اپنے موبائل کی طرف دیکھا جہاں ایک نمبر سے گھٹیا میسج آیا تھا میرال نے وہ نمبر بلاک کیا۔ وہ نا جانے اب تک کتنے ہی نمبر بلاک کر چکی تھی۔ جس دن کا ملائکہ نے اسے گھر سے نکلالا تھا اسکےا گلے دن سے باسط نے اسکا نمبر لیک کر دیا تھا اسکو تب سے الگ الگ نمبرز سے میسجز کالز موصول ہو رہیں تھیں۔ اج بھی وہ نئی سم نکلوانا بھول گئی۔
حسام باہر ان دونوں کا انتظار کر رہا تھا جب مشی کو اکیلے ہی آتے ہوۓ دیکھا وہ گاڑی میں آ کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اور حسام کو چلنے کا کہا۔ اسنے گاڑی چلا دی
“وہ آئی کیوں نہیں” حسام نے خود ہی پوچھ لیا مشی تو چپ کر کے بیٹھی ہوئی تھی۔
“مجھے اسکے بارے میں بات نہیں کرنی بہت بدتمیز ہے میرے کہنے پر بھی نہیں آئی،اب سے میں اس سے بات نہیں کروں گی” مشی غصے سے بولی۔ اسے میرال ہر بہت غصہ آرہا تھا۔
“اوکے” حسام بس اتنا ہی بولا۔ اور گاڑی میرج حال کے سامنے روکی۔
“تھینکس” مشی اتنا بول کر دروازہ کھولتی باہر نکل گئی۔ حسام چلتا ہوا بلاج کے پاس آیا۔ جو ایک طرف کھڑا عمیر اور کنول بیگم سے بات کر رہا تھا۔
“ہیلو آنٹی، کیسی ہیں؟” وہ کنول بیگم سے ملتے ہوۓ بولا۔
“بالکل ٹھیک تم سب بتاؤ، تمہارا دوست گھر نہیں اتا کم ازکم تم سب ہی اسکو لے کر آجایا کرو، یہ تو اپنی ماں کو مکمل بھول ہی گیا ہے” کنول بیگم شکوہ کرتے ہوۓ بولیں۔ عمیر ایکسیوز کرتے ہوۓ کرتا اپنے بزنس پاٹنر سے ملنے چلا گیا۔
“ارے آنٹی اسکا بہترین حل میں دیتا ہوں، اپ بھی اپنے اس نالائق کی شادی کر دو اور اسکی بیوی کو اپنے گھر سکندر ولا لے جاؤ، پھر تو یہ وہاں ضرور جاۓ گا” حسام بلاج اسکی ٹانگ کھینچتے ہوۓ بولا۔ بلاج نے اسے گھوری سے نوازا۔
“ابھی نہیں ابھی اسے خود کو تو عقل آ جاۓ پھر شادی کروں گی، میں تو چاہتی ہوں خود ہی گھر ا جاۓ یہ سب نا کرنا پڑے، پر سمجھتا ہی نہیں اپنی ماں کو دکھ دینے میں مزہ آتا ہے، جانتا نہیں میری زندگی تو ویسے ہی دکھوں سے بھری پری ہے” کنول بیگم اداس لہجے میں بولیں۔ بلاج نے انکی طرف دیکھا۔ اور پھر حسام کو گھورا۔
“میری مام کو تو موقع چاہیے سینٹی ہونے کا اور تو آ گیا اپنے بہترین پلین لے کر” بلاج نے حسام کو ڈانٹا۔
“اسکو کیا بول رہے ہو، اسنے غلط کیا بولا۔ تمہیں ابھی میری تقلیف کا اندازہ نہیں ہو رہا، ایک دن ضرور ہو گا، اور میں چاہتی کیا ہوں میرے بچے میرے پاس رہیں، ایک تو ویسے ہی چھوڑ کر چلا گیا۔ تم دونوں ہی میری زندگی جینے کا مقصد ہو، تم میری بات نہیں مانتے، تمہیں اپنی ماں سے محبت ہی نہیں جو اسکے دکھ کا احساس ہو”اب کنول بیگم کا لہجہ غمگین ہو گیا تھا۔ وہ لوگوں کا خیال کرتے کم ہی بول رہیں تھیں۔ بلاج نے انکی باتیں سن کر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ حسام کو لگا یہ تو ماحول خراب ہو گیا۔ وہ تو ہنسانا چاہتا تھا بلاج اگے بھرا اور کنول بیگم کو اپنے بازوں کے حصار میں لیا۔۔
” ایسی بات نہیں مام کون سا بیٹا اپنی ماں سے محبت نہیں کرتا، پر بس کبھی کبھی حالات ایسے ہو جاتے ہیں، نا چاہتے ہوۓ بھی اولاد کی وجہ سے ماں کا دل دکھ جاتا ہے، اپکو اچھے سے معلوم ہے میں کیوں نہیں آتا، پر اپکو کس نے روکا ہے، ا جائیں میرے فلیٹ پر، وہاں آ کر رہیں، جو ہو گا دیکھا جاۓ گا” وہ کنول بیگم کا موڈ ٹھیک کرنا چاہتا تھا۔
“ہاں وہاں تمہارے ڈیڈ تو جانے دیں گے نا، تم دونوں باپ بیٹے کے درمیان میں پھنس گئی ہوں” کنول بیگم علحیدہ ہوتے اپنی آنکھ کا کنارہ صاف کرتے ہوۓ بولیں۔ سکندر صاحب کے ذکر پر بلاج کے ماتھے پر بل پڑے۔ تبھی اسکی نظر اپنی دائیں طرف پڑی۔ جہاں سکندر صاحب اسکو ہی دیکھ رہے تھے۔ بلاج نے چہرہ موڑ لیا۔
“آنٹی اپ نے ٹاپک پورا بدل دیا۔ میں بات اپنے دوست کی شادی کی کر رہا تھا۔ ویسے اپکو اپنے بیٹے سے پوچھنا چاہیے، کیا پتہ یہ بھی صاحب شادی کرنا چاہتے ہوں کیا پتہ کوئی پسن۔۔۔۔ ” حسام ابھی بول رہا تھا۔ جب بلاج نے اسے گردن سے دبوچا۔
“موم اشنا آنٹی اپکو ہی بلا رہی ہیں وہ دیکھیں” بلاج نے فوراً بات بدل دی۔ کنول بیگم نے دوسری طرف دیکھا تو واقعی اشنا اسے اشارہ کر رہیں تھیں۔ وہ انکی طرف بڑھ گئیں۔
“بول سالے کیا بکواس کر رہا تھا” بلاج نے اسکا گلا چھوڑتے ہوۓ کہا۔
“ارے یار ایک بات بتا تیری کوئی بہن تو ہے نہیں تو ہمیشہ مجھے سالا سالا کیوں کہتا ہے” وہ اپنی گردن کو سہلاتے ہوۓ بولا۔ جو بلاج کے پکرنے سے لال ہو گئی تھی۔
“بکواس نا کر اگر تجھے سب بتایا ہے تو اچھا ہو گا اپنے تک رکھ یہ بلاوجہ ہر جگہ چونچ مت مارا کر” بلان نے اسے وارنگ دیتے ہوۓ کہا۔ حسام نے اپنے دانتوں کی نمائش کی۔
“ابھی کچھ دیر پہلے تیرے چہرے پر جو افسردگی تھی اسی کو دور کرنے کے لیے میں اور حیات ہاسٹل گے،حیات نے اس سے بات کی کہ آ جا پر وہ مانی نہیں بات کیا ہے تیرا جھگڑا ہوا ہے؟” حسام نے دو لائنوں میں اسے سب بتایا۔
“تو کیوں گیا مت جاتا، اسنے پہلے ہی بول دیا تھا نہیں آنے والی” بلاج کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔ تھوڑی ہی دور اپنی دوستوں کے ساتھ کھڑی اسماء نے اسکے منہ سے یہ الفاظ سن لیے وہ تھوڑا سا انکی طرف ہوئی تا کہ ساری بات سن سکے۔
“ارے میرے دوست کے چہرے پر پریشانی تھی تو اسکا حل ڈھونڈنے نکلا تھا” حسام اسکا گال کھینچتے ہوۓ بولا۔ بلاج نے اسے گھورا۔
” کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے، یہاں بات نا ہی کریں تو بہتر ہے ریکویسٹ ہے ” بلاج نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ کہا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کوئی انکی باتیں سنے حسام بھی سمجھ گیا۔ وہ بھی چپ ہو گیا۔ اسماء واپس اپنی دوستوں کے پاس آئی۔ وہ اب جاننا چاہتی تھی وہ کس لڑکی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
راحیل انڈسٹری کے لوگوں کے پاس کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ تبھی مشی اسے اپنے ساتھ لے کر عائشہ کے پاس آئی۔ دونوں کی اینٹری ہونی تھی۔ راحیل نے عائشہ کی طرف دیکھا۔
وہ گرین کلر کا گرارا ، اور ہیلو شرٹ پہنے ساتھ میں یلو ہی ڈوپٹہ سیٹ کیے، پھولوں کا خوبصورت زیور پہنے، خوبصورت میک اپ کیے چہرہ جھکاۓ کھڑی تھی۔ اسکے چہرے پر یلو کلر کا جالی دار ڈوپٹہ تھا جس سے اسکا چہر صحیح سے دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔ یہ اسنے اپنی دادی کے کہنے پر کیا تھا۔ وہ ویسے بھی جوائن فنگشن کے لیے بالکل رضا مند نا تھیں، اسی لیے عائشہ نے انہیں خوش کرنے کے لیے ڈوپٹہ چہرے ہر لے لیا۔ ہر وہ یہ نہیں جانتی تھی وہ اسطرح بے حد دل کو چھو جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہیں تھیں۔ راحیل نے نظریں چُرائیں۔
“اینٹری ضروری ہے ویسے ہی اوپر جا کر بیٹھ جاتے ہیں” راحیل اب مشی پر غصہ ہوتے ہوۓ بولا۔
“بھیو، آپ کی اکلوتی شادی ہونی ہے تو اچھا ہے سب گرینڈ ہو، اوکے اپنے چہرے پر خوبصورت سی سمائل لائیں اور چلیں اینٹری کرتے ہیں” مشی فل ایکسائیٹڈ ہوتے ہوۓ بولی۔ راحیل نے گہرا سانس لیا۔ پھر دونوں کی اینڑی ہوئی، دونوں کو سٹیج پر بیٹھایا گیا۔ سبھی نے باری باری رسم ادا کی۔
“سو گائیز یہی رسم کی ادائیگی ختم ہوتی ہے، اور آپ سب تو جانتے ہیں میں ہوں حسام، ہماری پیاری سی دلہن عائشہ کا بیسٹ بڈی، ہاں ہاں یہان بیسٹ بڈی کہنے پر تین لوگ بہت غصے میں ہوں گے، پر ہارون، امرحہ اور بلاج کچھ بھی کر لو میں ہی عائشہ کا بیسٹ بڈی رہوں گا” حسام مائک پکڑ کر ڈانس فلور پر آ کر بولا۔ اسکی بات پر سبھی کی ہنستی چھوٹی۔ راحیل اور عائشہ کو سامنے ایک صوفے پر بیٹھایا تھا باقی کئی دانس فلو سے تھوڑا دور نیچے بیٹھے ہوے تھے اور کچھ دور کھڑے تھے۔
“یہ بہت بولتا ہے، اب میری باری” تبھی بلاج نے اسکے ہاتھ سے مائیک پکڑتے ہوۓ کہا۔ حسام ارے ارے کرتا رہ گیا۔ ہارون اور امرحہ بھی انکے پاس آ کر کھڑے ہوۓ۔
“اگر ہماری دوستی کی بات کریں تو بچپن سے ہم سب ساتھ ہیں، جب ہمیں دوستی کا مطلب بھی معلوم نہیں تھا، ہمیشہ دوسرے کی خوشی کو اپنی خوشی اور غم کو اپنا غم سمجھ کر جیا ہے، اگر سوچیں تو ابھی اتنا وقت بھی نہیں گزرا بالکل کل ہی بات لگتی ہے، جب ہم سب اکھٹے سکول جایا کرتے تھے، اور ابھی ہماری ایک دوست اتنی بری ہو گئی کہ آج اسکی شادی ہے” بلاج ہلکا سا مسکرا کر بولا۔ عائشہ کی آنکھوں میں آنسوں آ گے۔ وہاں کھڑے کتنے ہی لوگوں کی انکھیں نم ہوئیں تھیں، جن مین سٹیج پر کھڑے وہ چاروں بھی شامل تھے۔
ہنہ نوٹنکی!” راحیل نے اپنے دانت پیستے ہوۓ چہرہ موڑتے ہوۓ کہا۔ بلاج نے اسکا ایسا کرنا دیکھ لیا۔ پر یہاں فرق کسے پڑ رہا تھا۔ ق
“یہ دنوں ہی زیادہ بولتے ہیں، کوئی کسی سے کم نہیں تو اچھا ہے ہم اپنی ہرفامنس شروع کریں، بلاوجہ ہماری دلہن کو ایموشنل کر دیا” ہارون بلاج کے ہاتھ سے مائیک لیتے ہوۓ ہارون بولا۔ اور مائیک واپس ڈی جیے کو پکڑایا۔ اور سونگ پلے کرنے کا بولا۔
سونگ پلے ہوا، اور چاروں نے بہت ہی غصب کا ڈانس کیا۔ یوں مانو ماحول بنا دیا۔ آخر میں یارا تیری یاری والے گانے پر ڈانس کرتے پرفامنس ختم کی۔ ہوتنگ اور تالیوں کے ساتھ انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ اسکے بعد مشی، اسماء نے اپنی پرفامنس دی۔ جو کہ انہوں نے تیار کی تھی۔ یوہنی فنگشن ختم ہوا۔۔۔۔۔۔۔
★★★★
بلاج ایک بجے کے قریب گھر پہنچا، وہ فریش ہو کر اپنے بیڈ پر لیٹا، اور موبائل ہاتھ میں لیا۔ یونہی کچھ سوچ کر اسنے میرال کے نمبر پر ہیلو کا میسج کیا، اسے لگا سو گئی ہو گی۔ پر کچھ ہی دیر بعد میسج پر دو نیلی ٹک ہوئیں مطلب وہ اُٹھی تھی۔
” السلام علیکم ” تھوڑی ہی دیر بعد اسکا میسج آیا۔ جسے پرھ کر بلاج کے یونٹوں پر مسکراہٹ بکھری۔ اسنے کال ملا دی۔ اور بیڈ پر لیٹ گیا۔ میرال نے کال پک کی۔
“ہممم” وہ کال اُٹھاتے ہی بولی۔
“چشمش ابھی تک کیوں اُٹھی ہو سب ٹھیک تو ہے نا؟” بلاج کو اتنے دیر تک اسکا اُٹھنا سمجھ نا ایا۔ کیونکہ وہ گیارہ بجے تک سو جاتی تھی۔
“ویسے ہی نیند نہیں آ رہی تھی تو پڑھنے بیٹھ گئی ” وہ ہولے سے بولی۔ پر اسکا لہجہ چغلی کھا رہا تھا۔
” اچھا لگ تو نہیں رہا، آواز کیوں بھاری ہے؟” بلاج کو لگا جیسے وہ رو رہی تھی۔ تبھی وہ بولا۔ کیونکہ اسکا لہجہ بھاری لگ رہا تھا جیسے ابھی ابھی رو رہی تھی۔
“زُکام ہے تو اسی لیے” میرال نے بہانہ بنانا چاہا۔
“چشمش تم جھوٹ بولنے میں بلکل ماہر نہیں تو بتاؤ کیوں رو رہی تھی کوئی پرابلم ہے، کسی نے کچھ کہا؟” بلاج پریشان سا ہو گیا۔ اسکے یوں پوچھنے پر میرال کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“امی کے یوں جانے کے بعد ، اور ملائکہ آپی کے سلوک کے بعد مجھے لگ رہا تھا، میں اس دنیا میں بہت اکیلی ہوں، اسی لیے آج خود کو بے بس سی محسوس کر رہی تھی، سوچ رہی تھی اگر امی زندہ ہوتیں تو آج میں یوں اکیلی نا ہوتی، اور زندگی کے اس برے سفر کو بہت اچھے سے مسکرا کر اپنی امی کا ہاتھ پکڑ کر کاٹتی، جانتے ہو نا ماں کی آغوش ہی اپکے سارے غم یوں چٹکیوں میں کے لیتی ہے،
پر تمہیں پتہ بلاج ابھی ابھی مجھے کیا محسوس ہوا” وہ نم لہجے میں بول رہی تھی اور بولتے بولتے روکی۔
“کیا؟” بلاج جو اسکی باتیں غور سے سن رہا تھا۔ وہ بے اختیار بولا۔
“ابھی ابھی مجھے محسوس ہوا، جسکا اس دنیا میں کوئی نہیں ہوتا، اسکا اللہ ہوتا ہے، دنیا کے لوگ تو بندے کو مشکل وقت مین چھوڑ دیتے ہیں پر اللہ کبھی اپنے بندے کو مشکل وقت میں نہیں چھوڑتا، وہ کسی نا کسی طریقے اپنے بندے کی مدد کر دیتا ہے، ابھی میں کتنی اداس تھی اور دیکھو تم نے مجھ سے بات کر لی۔ اور جس طریقے سے تم نے مجھ سے پوچھا نا مجھے لگا میں اس دنیا میں اب کبھی اکیلی نہیں رہوں گی، کوئی ایسا شخص ہے جو ہمیشہ میری فکر کرتا ہے۔ جسکو اگر میں اپنی تقلیف نا بھی بتاؤ تو اسے میری آواز سے معلوم ہو جاتا ہے میں تقلیف میں ہوں” وہ بولتے بولتے رو دی۔۔ بلاج کے لب ہلکے سے مسکراۓ۔ وہ کس انداز میں اسکا صبح پوچھے جانے والے سوال کا جواب دے گئی۔ یہ شائد اسے خود کو معلوم نا تھا۔
“میرال! رو مت، میں ہوں تمہارے ساتھ، اور ہمیشہ رہوں گا وعدہ کرتا ہوں” وہ اسے چپ کروانے کی کوشش میں بولا
“اگر میرا ساتھ چھوڑا نا بلاج حمدانی کبھی زندگی میں معاف نہیں کروں گی، میں نے زندگی میں ایک بار پھر خود میں ہمت پیدا کر کے کسی پر بھروسہ کیا لے، ورنہ تمہاری حرکتیں تو ایسی نہیں” میرال اپنے آنسوں صاف کرتے ہوے بولی۔ اب جب وہ ڈھکے چھپے الفاظوں میں بول ہی چکی تھی، تو اب واضع الفاظ بولنے میں کیا جاتا ہے۔ اسکے انداز پر بلاج کا قہمقہ بلند ہوا۔
“اچھا جی میری حرکتوں کو کیا ہوا؟” بلاج اسکے بات سن کر بولا۔
“میں بھولی نہیں جس طرح تم سب نے اور خاص کر تم نے یونی میں میری زندگی اجیرن کی تھی، اور جتنے تم غصے میں رہتے تھے، ابھی بھی یاد آۓ تو بہت غصہ آتا ہے، پر اسکے بعد ایک بات تو ماننی پڑے گی۔ تم اوپر سے چاہے جیسے بن جاؤ جتنا مرضعی غصہ دکھا لو اندر سے تم بہت ہی نرم دل کے ہو” وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔
” اے چشمش یہ نرم دل والی بات ہماری سیکرٹ ہے، کسی کو معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ غصے والا بلاج میرال کے آگے اتنا نرم ہو سکتا ہے اور دوسری بات میرال تمہیں جس دن لگا بلاج حمدانی اپنے کہے سے مُکر گیا ہے ،وہی تمہیں آجازت ہے تم میری جان بھی لینا چاہو تو لے لینا، اف نہیں کروں گا” بلاج فل فلمی سٹائل میں بولا۔ میرال ہلکا سا مسکرائی۔
“برے آۓ فلمی ہیرو، ڈائیلگ پلے میں بولنے ہیں، میرے سامنے نہیں”
“اب ہیرو اپنی ہیروئن کے سامنے ہی ڈائیلگ بولے گا نا، ” بلاج اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ مسکرا کر بولا۔
“اچھا چلو بہت دیر ہو چکی ہے سونا بھی ہے صبح یونی جانا ہے” میرال اپنے بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔
“اُو چشمش، خود کا دل ہلکا ہو گیا تو نیند یاد آگئی میرا حالِ دل تو پوچھا ہی نہیں” وہ پھر فلمی انداز میں بولا۔
“بس اللہ حافظ سو جاؤ” میرال مسکراتے ہوۓ بولی اور کال کاٹ دی۔ اور وہی بیڈ پر لیٹ گئی۔ اور اوپر چھت کو دیکھنے لگی۔ دوسری طرف اب بلاج کو کہاں نیند آنے والی تھی صبح سے اسکی سانس اٹکی تھی۔ کہ وہ کیا جواب دے گی۔ اب کہی جا کر اسے سکون ملا۔ وہ بلاج جو کسی کی پرواہ نہیں کرتا تھا آج میرال کے جواب کو سننے کے لیے وہ پریشان رہا۔
