55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

آج انکا آخری پیپر تھا، پیپر دینے کے بعد سبھی بہت خوش تھے، اتنا لمبا پیپر کرنے کے بعد بہت بھوک لگی تھی، اسنے اپنے بیگ سے پیسے نکال کر ساتھ بیٹھی مشی کو پکڑاۓ تاکہ وہ کچھ کھانے کو لا سکے۔ اپنا وائلٹ بیگ میں واپس رکھتے ہوۓ وہ ٹھٹکی۔
“میں کچھ کھانے کے لیے لے کر آتا ہوں، چل ہارون” حسام اپنی جگہ سے کھڑا ہوتے ہوۓ ہارون کو ساتھ لے کر چلا گیا۔ عائشہ اور امرحہ ایک ساتھ باتیں کر رہین تھیں دوسری طرف بلاج خاموش سا اپنا موبائل چلا رہا تھا۔
“یہ کیا ہے؟” وہ اچانک رک سی گئی، بیگ سے خاکی رنگ کا لفافہ نکلا۔ صبح تو یہ اسکے بیگ میں نہیں تھی اسی کشمکش میں اسنے لفافے کو اوپری طرف سے کھولا، اور اندر جھانک کر دیکھا۔ اسنے لفافہ مکمل پھارا۔ بہت ساری تصاویر اسکی گود اور زمین پر گڑیں۔ ان تصاویر کو دیکھ کر اسکے چہرے کا رنگ اُڑا۔ تصاویر بہت نا مناسب تھیں، اسکے چہرے کا استعمال کیا گیا تھا۔ اسنے جلدی سے آس پاس دیکھا۔ کلاس تقریباً خالی تھی، جو سٹوڈینٹس تھے وہ باتوں میں مصروف تھے۔ اسنے جلدی سے تصاویر اُٹھائیں۔ اور بیگ میں ڈالیں
“یہ کیا ہے؟” بلاج اپنے موبائل میں گُم تھا، تبھی اسکے پاؤں کے قریب تصویر اُڑتے ہوۓ آئی۔ اسنے جھک کر تصویر کو پکڑا۔ اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ میرال نے اسے تصویر کو یوں دیکھتے ہوۓ دیکھ لیا وہ فوراً اُٹھی اور اسکے ہاتھ سے تصویر کھینچ لی۔ بلاج اسکی طرف پلٹا۔ اسکی انکھیں لال ہو رہیں تھیں، چہرے کا رنگ اُڑا ہوا تھا اور چہرے پر پسینہ آ رہا تھا۔ وہ بنا اسے دیکھے اپنا بیگ دونوں ہاتھوں میں تھامے کلاس سے باہر کی طرف بھاگی۔ بلاج بھی ایک سیکنڈ ضائع کیے بنا اسکے پیچھے بھاگا۔
“میرال رُکو!” وہ اسکے سامنے آکر رُکا۔ میرال کا چہرا اب رونے کی وجہ سے بھیگا ہوا تھا۔
” مجھے بااات نہیںننن کرنینن گھر جانا ہےے” وہ ہکلاتے ہوۓ بولی۔ اور سائیڈ سے نکلنے لگی۔
“بات سنو میری، گھر جا کر کیا کرو گی، پہلے مجھے ساری بات بتاؤ، چلو میرے ساتھ” بلاج اسے بازو سے پکڑ کر گارڈن میں ایک طرف لایا اور اسکے ساتھ گھاس پر بیٹھ گیا۔
” یہ تصاویر کب ملیں؟ کس نے بھیجیں؟ ” بلاج نے بیٹھتے ہی سوال کیا۔
“ابھی ملیں، مجھے نہیں پتہ کس سے بھیجیں، میں ایسی نہیں ہوں” وہ اپنا چہرہ ہاتھوں پر گڑاۓ روتے ہوۓ بولی۔
“میرال تصویریں ایڈیٹ تھیں، رونا بند کرو” بلاج اسے یوں روتا دیکھ کر بولا۔ وہ مسلسل روۓ جا رہی تھی۔
“کوئی میری بات کا یقین نہیں کرے گا، جب آپی نے میرا یقین نہیں کیا تو یہ تو تصاویر ہیں، سبھی سچ مان لیں گے، سب انکھوں دیکھا سچ مانتے ہیں کوئی اسکے پیچھے چھپے جھوٹ کو نہیں دیکھا” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔
“میرو ادھر دیکھو میری طرف، میں تمہارا یقین کرتا ہوں، مجھے پتہ ہے تم کیسی ہو، مجھے تمہارے کردار پر خود سے زیادہ بھروسہ ہے” بلاج اسکے چہرے سے ہاتھ ہٹاتے ہوۓ مظبوط لہجے میں بولا۔ میرال ایک پل کے لیے چپ سی ہو گئی، اور نم آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا۔ تبھی اسکے موبائل پر میسج آیا۔ وہ چونکی اور بیگ سے موبائل نکالا۔ میسج کو پڑھتے ہوۓ اسکی آنکھیں پھٹیں لی پھٹیں رہ گئیں۔ بلاج نے اسکے ہاتھ سے موبائل پکڑا اور میسج پڑھا۔
“اگر چاہتی ہو یہ تصاویر یونی کی ویب سائیٹ پر اپلوڈ نا ہوں، تو جیسا میں بولو ویسا ہی کرو، میرے اگلے میسج کا انتظار کرو” میسج کو پڑھتے ہی بلاج کی دماغ کی نسیں ابھریں۔ پر اسنے خود پر کنٹرول کیا۔
“اب کیا ہو گا؟ یہ کون ہے جو یہ سب کر رہا ہے؟ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے” میرال کانپتے ہوۓ بولی۔
“ایسے ڈرو گئی تو پھر سامنے والے سے کیسے لڑو گئی، شیرنی بنو، یہ ڈرپوک چوہیا مت بنو، میری چشمش بن کر دیکھاؤ” بلاج نے اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے بولا۔ اور آج کافی دنوں بعد چشمش کہ کر پکارا اسکے یوں میری چشمش کہ کر بولنے پر میرال کو وہ سب یاد آیا۔
” مجھے تمہاری مدد نہیں چاہیے میں خود دیکھ لوں گا، تم سے مدد لینے سے بہتر ہے میں زمانے میں زلیل ہو جاؤں” وہ اپنا موبائل اسکے ہاتھ سے پکڑتے ہوۓ تلخ لہجے میں بولی۔ بلاج اسکے یوں ایک دن بدلنے پر چپ سا ہو گیا۔
” فل حال ہمارے درمیان جو بھی ہوا تھا اسکو ایک طرف رکھو،جو بھی ہو سب سے پہلے مجھے بتانا اکیلے کچھ مت کرنا پلیز” بلاج جانتا تھا اگر ابھی کچھ اور بات کی تو وہ غصے میں آ کر بے وقوفی کر جاۓ گئی۔ اسی لیے وہ خود پرسکون ہو کر اسے سمجھا رہا تھا۔
“میری تو ویسے بھی زندگی جہنم بنی ہے، اپنی زندگی پر میرے اختیارات تو ہے نہیں، کسی کا برا تو آج تک نہیں چاہا پھر بھی سب میرے پیچھے پڑے رہتے ہیں” وہ موبائل بیگ میں ڈال کر کھڑی ہوتے ہوۓ بولی۔
“میرال! پلیز، جو ہو مجھے بتانا” بلاج اسکے سامنے کھڑا ہو کر بولا۔ میرال نے ایک نظر اسے دیکھا اور وہاں سے چلی گئی۔ بلاج وہی کھڑا ابھی ہوئی سچویشن کے بارے میں سوچنے لگا۔


وہ مشی کے ساتھ گھر آ گئی تھی، اور بہت زیادہ پریشان تھی۔ کافی دیر کمرے میں بند رہنے کے بعد وہ بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر کمرے سے نکلی۔ اور باہر آئی۔ سامنے عائشہ صوفے پر سر پکڑ کر بیٹھی تھی۔ اسکے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا۔
“عائشہ کیا ہوا تم ٹھیک ہو؟” وہ بھاگ کر اسکے پاس آئی۔
“پانی” وہ اپنے بالوں کو دبوچتے ہوۓ بولی۔ میرال بھاگ کر کیچن مین گئی اور پانی لائی۔
“میرال میں کچھ میڈیسن لکھ کر دیتی ہوں پلیز لا دو پھر میں ٹھیک ہو جاؤں گئی” عائشہ کانپتے ہاتھوں سے سائیڈ میں پڑی کاپی پینسل پکڑ کر کچھ میڈیسن کے نام لکھنے لگئی۔
” تم پانی پیو میں لا دیتی ہوں” میرال اسکو پانی کا گلاس پکڑاتے ہوۓ بولی۔
“تمم تمم جاؤ لا کر دو میں ٹھیک ہو جاؤں گیی پلیز جاؤ، ورنہ میرا سر پھٹ جاۓ گا میری سانسیں بند ہو جائیں گئی” عائشہ نے اسکو پیپر پکڑایا اور بایر کی طرف دھکہ دیا۔ میرال کو یہ سب عجیب لگا۔ وہ اس وقت ایک پاگل سی نظر آ رہی تھی۔ وہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“جاؤ منہ کیا دیکھ رہی ہو جلدی جاؤ” عائشہ نے ایک دفع پھر اسے باہر کی برف دکھیلا۔
“یہ کیا ہو رہا ہے؟” تبھی ہاتھ مین کوٹ پکڑے راحیل اندر داخل ہوتے سامنے کا منظر دیکھ کر بولا۔ راحیل کو دیکھتے ہی عائشہ کے چہرے کا رنگ مزید پھیکا پڑا
“کچھ نہیں ہو رہا، میرال تم پلیز جاؤ” عائشہ نے بات کو سھنمبالنا چاہا تا کہ اسے پتہ نا چلے ہو میڈیسن منگوا رہی تھی۔ راحیل اگے بڑھا اور میرال کے ہاتھ سے پیپر پکڑ کر اسکے اوپر لکھے میڈیسن کے ناموں کو دیکھ کر پیپر کو پھاڑا۔
“تم پاگل وہ کیوں ہھاڑا تم تو لا کر نہیں دیتے وہ لا دے گئی، اسکو کیوں جانے سے روکا، تم مجھے پاگل کرنا چاہتے ہو، تم تو چاہتے ہو میں ہاگل ہو جاؤ مر جاؤں” وہ شیرنی کء طرح اگے بڑھی اور اسکو کالر سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوۓ بولی۔
“میرال تم کمرے مین جاؤ اسے میں سھنمبال لیتا ہوں” راحیل نے اسکے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر میرال کو بولا وہ ہاں میں سر ہلاتی کمرے کی طرف بڑھی۔
“میرال روکو، پلیز لا دو یہ مجھے مار دے گا، میں رم جاؤں گئی، مجھے میڈیسن کی ضرورت ہے، خدا کا واسطہ ہے لا دو” وہ اونچی اونچی چلا رہی تھی۔ راحیل اسے بازورں میں اُٹھاۓ کمرے میں لایا۔ اور بیڈ پر بیٹھایا۔
“عائشہ! ریلیکس بس کرو” وہ اسے کنٹرول میں لانے کی کوشش کر رہا تھا۔ پر وہ آپے سے باہر ہو رہی تھی۔
“سب تمہاری وجہ سے ہوا میں پاگل ہو رہی ہوں، میرے دماغ کو کچھ ہو رہا ہے، تم نے مجھے پاگل کر دیا۔ اور اوپر سے مجھ پر ظلم کر رہے ہو مجھے میرے میڈسن بھی نہیں دے رہے تم بہت برے ہو آئی ہیٹ یو ، آئی ہیٹ یو، راحیل عالم مجھے تم سے شدید نفرت ہے شدید نفرت” وہ اونچی اونچی بول رہی تھی ساتھ ہی ڈریسنگ ٹیبل کا سارا سامان زمین پر پھینک رہی تھی۔ راحیل اسکی یہ حالت دیکھ کر بہت پریشان ہو گیا تھا۔ اسنے اگے بڑھ کر اسے روکنا چاہا۔ پر وہ آپے سے باہر تھی اور چیزیں پھینک رہی تھی۔ راحیل نے اسکے اپنے سینے سے لگایا۔
“ہوش میں آؤ عائشو، بس کرو، مزید خود کو تقلیف مت دو، پلیز” وہ اسے سینے سے لگاۓ چپ کروانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہی وہ اسکے سینے پر مُکے مارے جا رہی تھی۔
“تم نے مجھے برباد کر دیا راحیل، تم نے مجھے برباد کر دیا، مجھ جیسی لڑکی کو کیا سے کیا بنا دیا۔ محبت دی تو اتنی کے مجھے اپنا آپ ملکہ کی طرح لگنے لگ پڑا اور پھر نفرت کی تو اسطرح کہ مجھے دو کوڑی کا بنا دیا۔ مجھے خود کی نظر میں گِڑا دیا، اور جب مجھے وہ دوائیاں سکون پہنچانے لگیں تو مجھ سے وہ بھی چھین لیا” وہ روتے روتے اسکے سینے پر مکے برساتے اپنا سر اسکے سینے پر ٹکا کر بولی۔ اسکے الفاظ راحیل کو چھب رہے تھے۔
“مانتا ہوں بہت برا ہوں، مجھ سے برا کوئی نہیں، پلیز چپ کر جاؤ یوں رو کر مجھے اذیت مت دو” راحیل اسکا سر سہلاتے ہوۓ بولا۔
” تمہیں کیا ہی بولو بولنے کے لیے اب کچھ بچا ہی نہیں” وہ اسکا حصار توڑ کر بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ ماتھے کو دباتے ہوۓ بولی۔
” ٹھیک ہے، ابھی ریلکس ہو جاؤ، جو کہنا ہو گا بعد میں بول دینا میں تمہارے سامنے بیٹھ کر ساری شیکایتیں سنوں گا، تھوڑی دیر آرام کر لو” راحیل اسے بیڈ پر لٹاتے ہوۓ اسکے اوپر کمبل دیتے ہوۓ بولا۔ عائشہ نے کروٹ بدلی اور اپنے سر تک کمبل لے لیا۔ راحیل نے گہرا سانس لیا اور کمرے کا حشر دیکھا۔ جہاں سامان بکھرا ہوا تھا۔ وہ الماری کی طرف بڑھا۔ اور وہاں سے ایک فائل نکالی اور کمرے سے باہر چلا گیا۔


عائشہ کو اسطرح ری ایکٹ کرتے اسنے پہلی دفع دیکھا تھا۔ وہ کمرے میں ادھر اُدھر چکر لگا رہی تھی۔ جب اسکے موبائل پر میسج آیا۔
“گھر کے باہر کھڑا ہوں باہر آؤ، کچھ بات کرنی ہے” بلاج کا میسج پڑھ کر اسنے گہرا سانس لیا۔ ناچاہتے ہوۓ بھی اب اسے اس سے بات کرنی پڑ رہی تھی۔ اسنے پلٹ کر بیڈ سے ڈوپٹہ لیا اور اسے سر پر لے کر نیچے آئی۔ باہر آئی تو ایک طرف بائیک پر بیٹھا وہ سگرٹ پی رہا تھا۔ وہ چلتی ہوئی اسکے پاس آئی۔
“کیا بات کرنی ہے؟” وہ اسکے سامنے آ کر بولی۔ اور اپنی ناک پر ہاتھ رکھا۔ سگرٹ کی بو اسے بہت بری لگی۔
“اپنا موبائل دو” بلاج نے اپنا ہاتھ اگے بڑھایا میرال نے موبائل اسکو پکڑایا۔ سگرٹ کو منہ میں دباۓ اسنے اسکے موبائل سے سم نکالی اور ایک نئی سم اسکے موبائل میں ڈالنے لگا۔
“مجھے نہیں پتہ تھا تم سموگنگ بھی کرتے ہو کتنج بری بات ہے” میرال نے نفی میں سرہل ہلاتے ہوۓ بولا۔ بلاج نے آنکھیں اوپر کر کے اسے دیکھا اور سگرٹ کو منہ سے نکالا۔
“حکم کرو ابھی چھوڑ دیتا ہوں” وہ وہی سگڑیٹ والا ہاتھ سینے پر رکھ کر ہلکا سا جھک کر بولا۔
“میں کون ہوتی ہوں حکم کرنے والی، تمہاری مرضعی ہے جو دل چاہے کرو” وہ اپنا ڈوپٹہ صحیح کرتے ہوۓ عام سے لہجے میں بولی۔
“تم چشمش ہو میری چشمش، سارے حق تمہارے ہی ہیں، ایک دفع میرا معافی نامہ قبول کر دو اسی دن سب چھوڑ دوں گا جو تمہیں نا پسند ہو” وہ ہلکا سا مسکراتے ہوۓ نرم لہجے میں بولا۔ میرال نے اسکی بات پر اسکی طرف دیکھا تو کچھ پل بول نا پائی۔ اور پھر نظریں پھیر لیں۔
” فضول باتیں بند کرو، کام ہو گیا تو موبائل واپس دو” میرال نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ بولا۔
“روکو!” بلاج نے سم اسکے موبائل میں ڈال کر اسے موبائل دیا۔
“میں نے اپنی سم واپس لے لی ہے، اور یہ نئی سم ڈال دی ہے، اب کوئی مسیج نہیں آۓ گا، سبھی میسج اب اس سم پر میرے موبائل پر آئیں گے، ویسے عجیب بات ہے میرا نمبر کیسے اسکو ملا، اور تمہارے بیگ میں لفافہ کیسے ڈالا؟ مطلب کوئی یونی میں سے ہی ہو گا، خیر جو بھی ہے جلد ہی مل جاۓ گا، تم پریشان مت ہو میں اس مسلے کو حل کر لوں گا، اور اسکو پکڑ لوں گا جو یہ سب کر رہا ہے، تم فکر مت کرو ” بلاج نے اسے مطمین کرنے کی کوشش کی۔
“بار بار سم تبدیل کرنے سے کیا ہو گا؟ جسکو تمہاری سم والا نمبر بھی مل گیا جو کسی کے پاس نہیں تھا تو یہ بھی مل ہی جاۓ گا” میرال نے اسکے ہاتھ سے موبائل لیتے ہوۓ کہا۔
“یہی تو دیکھنا ہے، اگر اسے یہ نمبر بھی مل گیا، پھر یقین ہو جاۓ گا جو یہ سب کر رہا ہے وہ آس پاس ہی ہے” وہ گہرا سانس لیتے ہوۓ بولا۔ میرال پلٹ کر جانے لگی۔
“جا رہی ہو، روکو کچھ دیر بات کرتے ہیں” اسکے یوں بنا کچھ بولے پلٹ کر جانے پر وہ فوراً سیدھا کھڑا ہوا۔ میرال اسکی بات پر پلٹی۔
“کیا بات کرنی ہے؟ ساری باتیں ہو گئیں” وہ بول کر واپس پلٹی۔
“ویسے ہی کچھ باتیں کرتے ہیں، واک پر چلیں، کافی دن ہو گے تم سے بات نہیں کی پلیز” وہ اکسے سامنے آ کر بولا۔ میرال نے اسکی طرف دیکھا۔
” دیکھو بلاج اگر تم سچ میں میری مدد کرنا چاہتے ہو اور یہ بھی چاہتے ہو میں اکیلی سب مینج نا کرو تو پلیز یہ فضول کی باتیں مت کرو، کل بات ہو گئی” وہ دو ٹوک بول کر اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔ وہ وہی بے بسی سے اسے جاتا ہوا دیکھا رہا۔ جب وہ گھر کے اندر داخل ہو گئی، وہ پلٹا بائیک پر بیٹھا اور چلا دی۔


وہ سیدھا حسام کے گھر پہنچا، اپنے وائلٹ سے میرال کی پہلے والی اور اب والی دونوں سمز کو موبائل میں ڈالا۔ اور اپنی سم دوسرے موبائل میں ڈالی۔ اسنے موبائل آن کیا۔ پہلی سم کافی دیر سے بند تھی۔
“حیرانگی والی بات ہے، اس دن سے ایک بھی میسج یا فون کال نہیں آئی، یہ کیسے ممکن ہے؟” بلاج نے کال لاگز چیک کیے سب کلیر تھا۔ ان باکس بھی صاف تھا۔ یہ معاملا کافی پیچیدہ لگ رہا تھا۔ تبھی اسکے دوسرے موبائل پر کال آئی۔ اسنے نمبر دیکھ کر کال اُٹھائی۔ اور سننے لگا۔
“تو اب وہ کہاں جاب کر رہا ہے؟” بلاج نے باسط کی ابکی ساری ڈیٹلیز نکلوانے کے لیے ایک بندہ کام پر لگایا ہوا تھا۔
“سر اپکے والد صاحب کی کمپنی میں مینیجر ہے، پچھلے دو سالوں سے وہ وہاں پر کام کر رہا ہے، اور اسکی ریپوٹیشن بھی بہت اچھی ہے، انفیکٹ اپکے والد کو اس پر کافی بھروسہ ہے ” اگے سے جواب آیا۔
“ٹھیک ہے اسکا پیچھا کرو، اس پر مکمل نظر رکھو کہاں جاتا ہے؟ کس سے ملتا ہے؟ سب معلوم ہونا چاہیے” بلاج نے اسے کام بتایا اور موبائل بند کر دیا۔ اور پیچھے بیڈ پر لیٹ گیا میرال کا چہرہ اسکے سامنے آیا۔ آج جیسے وہ ڈری تھی، اسکا ڈرا ہوا چہرہ اسکے سامنے بار بار آ رہا تھا۔ وہ یونہی پڑا رہتا آگر دروازے پر بیل نا ہوتی۔ اسنے اگنور ہی کرنا مناسب سمجھا، پر بار بار بیل کی آواز سے وہ اُٹھا اور دروازے کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھولا تو سامنے حسام اور اسکے ساتھ عمیر کھڑا تھا۔ بلاج نے غصے سے دروازہ بند کرنا چاہا جب عمیر نے پاؤں درمیان میں رکھتے ہوۓ روک دیا اور اندر داخل ہوا۔
“بتا دو اگر تمہیں میں بوجھ لگ رہا ہو، اسی وقت چلا جاتا ہوں بار بار زلیل تو تو کرو” اسنے غصے سے حسام کو بولا۔۔
“عمیر بھائی نے بہت ریکویسٹ کی تو میں لے آیا، ورنہ تم جانتے ہو میں تمہارا کتنا سچے والا دوست ہو ایک دم سچا” حسام نے اگے بڑھ کر بات سھنمبالنا چاہا۔ بلاج نے اپنے ڈھیٹ دوست کو گھورا جو ابھی بھی چہرے پر معصومیت سجاۓ اپنے آپ کو بے قصور ثابت کر رہا تھا۔ پر وہ اسکی رگ رگ سے واقف تھا۔ وہ جانتا تھا۔ وہ عمیر کے ایک دفع کہنے پر ہی مان گیا ہو گا۔
“اپنی یہ ڈراونی نظروں سے کسی اور کو گھورا کر، مجھے گھورنے کی ضرورت نہیں” وہ مسلسل اسے غصے سے گھور رہا تھا تبھی حسام کچن کی طرف چلا گیا۔
“بیٹھ جاؤ! دو منٹ ہی بات کروں گا” عمیر نے نرم لہجے میں بولا۔
“ابھی بھی آپکو اگر اپنے ابا اور دادا کا پیغام پہنچانا ہے تو جائیں یہاں سے مجھے کچھ نہیں سننا” بلاج نے صاف بات کرنے سے منع کر دیا عمیر نے اسکی طرف دیکھا اور نفی میں سر ہلایا۔ وہ اسکے سامنے کھڑا ہوا۔
“موم کو بلڈ کینسر ہے، لاسٹ سٹیج ” عمیر کے منہ سے نکلنے والے الفاظ بلاج پر بجلی کی صورت گِڑے۔ وہ شاک کے عالم میں عمیر کو دیکھ رہا تھا۔
“کیا مطلب؟ کب؟ کیسے؟” وہ ہکلاتے ہوۓ بولا۔ چہرے کی ہوائیاں اُڑئیں ہوئیں تھیں یون اچانک اپنی ماں کی اتنی بری بیماری کا سن کر وہ شاک میں تھا اسے سمجھ ہی نا آئی کیا بولے کیا پوچھے
“جس دن تم گے تھے اس دن گھر جا کر موم بے ہوش ہو گئیں، انہیں ہسپتال لے کر گے وہاں سارے ٹیسٹ ہوۓ، تب پتہ چلا انہیں۔۔۔۔۔۔۔” بولتے بولتے عمیر رو دیا۔۔ اور وہی صوفے پر بیٹھے اپنا سر ہاتھوں پر گڑا دیا۔ حسام بھی یہ سب سن کر حیران تھا۔
“وہ تمہیں بہت یاد کرتی ہیں، ہر وقت تمہارا اور حسن کا نام انکی زبان پر ہوتا ہے، وہ تم سے ملنا چاہتی ہیں، پلیز ان سے مل لو یہ نا ہو دیر ہو جاۓ” عمیر اپنے آنسوں پر بامشکل کنٹرول پاتے یوۓ بولا۔ بلاج ویسے ہی کھڑا اسکی بات سن رہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہوا اسکی سانس اٹک رہی ہے۔
“جس دن سے حسن گھر چھوڑ کر بھاگا ہے، اس دن سے میں نے موم کو ہر روز رات کو اسکے کمرے میں جا کر اسکی چیزیں چوم کر روتے ہوۓ ہی دیکھا ہے، مانا اس دن تمہارا کسی نے یقین نہیں کیا تھا۔ پر اسکی اتنی بری سزا مت دو موم کو ان سے مل لو انکے پاس بہت کم دن ہیں” عمیر اسکے پاس آ کر اسکا رخ اپنی طرف موڑ کر بولا۔ اسکی نظر بلاج کے چہرے پر پڑی جو آنسوں ضبط کرنے کی وجہ سے لال ہو رہا تھا۔
“موم کہاں ہیں؟” وہ بس اتنا ہی بولا۔ عمیر نے اگے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا۔
“چلو” اسکا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے اپاٹمنٹ سے باہر لے گیا حسام وہی رک گیا۔ وہ چاہتا تھا وہ کچھ وقت اکیلا اپنی موم کے ساتھ گزارے۔
تھوڑی ہی دیر بعد وہ ہسپتال پہنچے۔ سب سے پہلے عمیر کنول بیگم کے کمرے میں داخل ہوا، یہ ایک وئ ائی پی کمرہ تھا، سامنے بیڈ پر کنول بیگم لیٹیں تھیں ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی۔ سکندر صاحب ایک طرف رکھے صوفے پر بیٹھے موبائل چلا رہے تھے۔ انکے ساتھ ہی منیر صاحب بیٹھے ہوۓ تھے وہ اس دن کے ادھر ہی تھے۔
“عمیر بلاج کہاں ہے؟ اسے لاۓ؟ تم وعدہ کر کے گے تھے اسے لاؤ گے؟ ” عمیر کو دیکھتے ہی کنول بیگم نم لہجے میں بولیں۔ انہوں نے کہنی کی مدد سے اُٹھنے کی نا کام کوشش کی ، عمیر نے جلدی سے انہیں پکڑا۔ تبھی انکی نظر دروازے میں سر جھکاۓ اپنے اوپر ضبط کرتے بلاج پر پڑی۔
“بلاج میرے بچے ادھر آؤ” انہوں نے روتے ہوۓ اسے پکارا۔ اسنے بہت مشکل سے قدم اگے کی طرف بڑھاۓ اور انکے پاس پہنچا۔
“موم!” بیڈ پر بیٹھتے ہی اسنے کنول بیگم کو سینے سے لگایا۔ کنول بیگم زورو کتار رونے لگئیں۔ اور وہ بھی بنا آواز کیے آنسوں بہانے لگا۔
“شکر ہے میرے مرنے سے پہلے تم ایک دفع مل لیے، مجھے لگا میں ایسے ہی مر جاؤں گئی” کنول بیگم اسکا چہرا اپنے کانپتے ہاتھوں سے پکڑتے، اسکے آنسوں سے بھرے گال صاف کرتے ہوۓ بولیں۔ عمیر یہ منظر دیکھ کر اپنے آنسوں کو کنٹرول نا کر پایا۔
” کیسی باتیں کر رہی ہیں، آپکو کچھ نہیں ہو بہت جلد آپ ٹھیک ہو جاؤ گئی، بھول گئی آپ میری موم ہو، اور میری موم کبھی اتنی آسانی سے ہار نہیں مان سکتیں” بلاج نے انکے کانپتے ہاتھوں کو اپنے مظبوط ہاتھوں میں لیا، اور انہیں عقیدت سے چومتے ہوۓ بولا۔ کنول بیگم مسکرا دیں۔
” کبھی کبھی انسان ہار نہیں ماننا چاہتا پر حالات اسے ہارنے پر مجبور کر دیتے ہیں میرے بچے” وہ نم لہجے میں مسکرا کر بولیں۔ بلاج نے انہیں واپس لٹایا۔ اور انکا ہاتھ پکڑ کر وہی کرسی پر بیٹھ گیا۔
“مجھے بہت نیند آ رہی ہے تھوڑی دیر سو جاؤ” کنول بیگم نیند کی وجہ سے آنکھوں کو بند کرتے ہوۓ بولیں۔ بلاج نے ہاں میں سر ہلایا۔ اور تھوڑی ہی دیر میں وہ سو گئیں۔ یہ دوائیوں کا اثر تھا۔
” عمیر میری میٹنگ ہے میں چلتا ہوں تم ابا کو گھر چھوڑ آؤ، انکی طبعیت خراب ہو جاۓ گئی” سکندر حمدانی کھڑے ہوۓ بولے۔ بلاج کنول بیگم کو ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ اسے ایک نظر دیکھ کر باہر چلے گے۔ عمیر بھی منیر صاحب کو چھوڑنے چلا گیا۔ بلاج وہی بیٹھا رہا۔۔۔
عمیر دو گھنٹے بعد واپس آیا تو سامنے کا منظر دیکھ کر نم انکھوں سے مسکرا دیا۔ سامنے کنول بیگم سو رہیں تھیں اور بلاج کسی چھوٹے بچے کی طرح انکا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں مظبوطی سے پکڑے، جیسے ابھی وہ ہاتھ چھڑوا کر کہی چلی نا جائیں، وہ اس انداز میں بیڈ پر سر رکھے شائد سو گیا تھا۔ عمیر اگے بڑھا۔ اور اپنا کوٹ اتار کر اسکی کمر پر پھیلایا۔ اور اسکے بالوں کو سہلایا۔
“بالکل چھوٹے بچے ہو، بس برا بننے کی کوشش کرتے رہتے ہو، اندر سے تم وہی دس سال والے بلاج ہو، جو اپنی قیمتی چیز کو یونہی مظبوطی سے پکڑے رکھتا تھا۔ تا کہ کوئی چھین نا لے” وہ اسکے بال سہلتے ہوۓ بولا۔ اور پھر پلٹ کر صوفے پر جا کر بیٹھ گیا۔


اگلی صبح وہ کنول بیگم سے مل کر ہسپتال سے نکلا۔ وہ سیدھا حسام کے گھر آیا۔ فریش ہو کر وہ یونی کی طرف نکلا۔ ابھی اسنے بائیک یونی کے باہر پارک ہی کی تھی۔ کہ اسکے موبائل پر کال آنا شروع ہوئی۔ ان نو نمبر دیکھ کر وہ کچھ سیکنڈ رُکا اور پھر موبائل کو کان سے لگایا۔
“ہیلو! جی کون!” اسنے کان سے لگاتے ہی سوال کیا۔
“بلاج حمدانی بات کر رہے ہو؟” اگے سے ایک لڑکی کی آواز آئی۔ آواز ڈری سہمی سی تھی جیسے کوئی چھپ کر بات کر رہا ہو۔
“جی بات کر رہا ہوں آپ کون؟” اسنے فوراً جواب دیا۔
“میں میرال کی بری بہن ملائکہ بول رہی ہوں، ابھی زیادہ سوال مت کرنا، میں تمہیں ایک جگہ کا ایڈریس سینڈ کرتی ہوں، مجھے آج دوپہر دو بجے وہاں ملو، بہت ضروری بات کرنی ہے” اگے سے جواب سنتے ہی وہ حیران ہوا بھلا میرال کی بری بہن کو اسکا نمبر کہاں سے ملا۔ ابھی وہ مزید کچھ کہتا ملائکہ نے کال کاٹ دی۔ اور اگلے ہی پل اسنے ایک پارک کا ایڈریس سینڈ کیا۔ وہ کافی حیران ہوا۔ یہ سب ہو کیا رہا ہے ، اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ وہ یونی کے اندر چلا گیا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔