55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

بلاج اتنا کچھ بول کر سکندر ولا سے نکل آیا تھا وہ گاڑی کا فل سپیڈ پر ڈالے اندھا دھند چلا رہا تھا، کافی دفع اسکا ایکسیڈینٹ ہوتے ہوتے بچا وہ اپنے ایریہ سے بہت دور نکل آیا تھا۔ وہ انتہائی غصے میں اسی طرح گاڑی چلاتا رہتا اگر موبائل کی بیل کی آواز نا گھونجتی، اسنے پاکٹ سے موبائل نکلا اور نام دیکھ کر تھورا سا حیران ہوا بھلا اسے اس وقت کیا کام پڑ گیا۔ اسنے کال اٹھائی اور فون کان سے لگایا۔گاڑی کی سپیڈ کافی زیادہ تھی، تبھی سامنے بُرقع پہنے لڑکی آئی، وہ بلاج نے جلدی سے گاڑی کا رخ بدلنے کی کوشش کی پر تب تک لڑکی گاڑی سے ٹکڑا گئی۔ پسیڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے گاڑی سھنمبالی نا گئی اور سیدھی درخت سے ٹکڑا گئی، گاڑی کے سامنے کا شیشہ ٹوٹ کر اندر کو گڑا، بلاج نے جھٹ سے اپنے دونوں چہرے کے آگے کیے، بہت سے لوگ اس وقت اکھٹے ہو گے تھے، بلاج نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکلا، وہ جلدی سے اس لڑکی کے پاس آیا، جو زمین پر بے ہوش پڑی تھی۔ ایمبولینس آ چکی تھی، وہ اسے ایمبولینس میں ڈال کر لے گے، بلاج پریشان سا کھڑا تھا، وہ دوبارہ گاڑی کی طرف آیا اور موبائل پکڑا جس پر کال ابھی بھی چل رہی تھی۔
“ہیلو!” بلاج نے موبائل پکڑتے ہی کہا۔
“کیا ہووااا؟ میں نے آوازیں سنیں تھیں کیا ہوا؟” آگے سے میرال نے ہکلاتے ہوۓ پوچھا۔
“ایکسیڈینٹ۔۔۔” بلاج ابھی اسکے علاوہ مزید بتانے لگا۔کہ میرال بول پڑی۔
“کیا؟ ایکسیڈینٹ! یا اللہ ، تم تم ٹھیک تو ہو نا، تمہیں چوٹ تو نہیں آئی، اور کسی کو چوٹ تو نہیں آئی بولو بولتے کیوں نہیں” میرال نے روتے ہوۓ پوچھا تھا ایکسیڈینٹ کے نام پر ہی اسے رونا آ گیا، ان معاملوں میں وہ کافی حساس معلوم ہو رہی تھی وہ وہی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا،
“تم بولنے دو گی تو ہی بولوں گا، کچھ نہیں ہوا بس معمولی سی چوٹیں آئیں ہیں، کسی کو مت بتانا، بس غصے میں گاڑی چلا رہا تھا، سپیڈ زیادہ تھی سامنے ایک لڑکی آ گئی، وہ کافی زخمی ہوئی یے میری گاڑ درخت سے ٹکڑا گئی، پتہ نہیں مجھے کم چوٹیں کیوں آئیں، اچھا ہوتا اس سے بھی زیادہ برا ایکسیڈینٹ ہوتا کم ازکم مر تو سکتا” وہ نا جانے کیا کیا بول رہا تھا۔
“استغفراللہ کسی باتیں کر رہے ہو، اتنی غلط باتیں نہیں بولتے کبھی بھی باتیں سچ ہو سکتیں ہیں” میرال جھٹ سے بولی، اسے وہ کافی پریشان سا لگا۔ بلاج نے بنا کچھ بولے فون کاٹ دیا، میرال نے حیرانگی سے فون کی سکرین کو دیکھا۔ بلاج نے حسام اور ہارون کو میسج میں لوکیشن سینڈ کی اور انہیں یہاں آنے کو بولا۔ تب تک پولیس بھی ا چکی تھی وہ انوسٹیگیشن کر رہی تھی۔ حسام اور ہارون بھی پہنچ گے، ایک گھنٹے کے بعد وہ لوگ اسے لے کر ہسپتال گے اور اسکے بازوں کی ڈریسنگ کروائی، یہ وہی ہسپتال تھا جہاں وہ لڑکی ایڈمٹ تھی، وہ ابھی صحیح تھی اور ہوسپیٹل کے ایک روم میں ایڈمٹ تھی۔ اسکا سارا خرچہ بلاج نے ادا کیا، اس سارے عرصے میں ہارون اور حسام بالکل سپاٹ چہرہ لیے اسکے ساتھ سب کر رہے تھے، تینوں کام ختم کر کے گاڑی کی طرف آۓ،
“اب کیا تم دونوں نے کچھ نا بولنے کی قسم کھائی ہے؟” بلاج نوٹ کر رہا تھا، جب وہ دونوں ایکسیڈنٹ والی جگہ پر پہنچے، بلاج نے غصے میں گاڑی چلانے والی بات انہیں بتائی تب سے وہ بالکل چپ تھے۔
“بتا کیا بولیں اور تیرے غصے کے بارے میں کیا ہی بول سکتے ہیں” حسام اسکی بات پر بھڑکا تھا۔
“ریلکس گائیز ایم فائین اتنا اُور ری ایکٹ کیوں کر رہے ہو زندہ ہوں مرا نہیں” بلاج بول کر آخر میں ہلکا سا ہنسا۔
“تو کیا ہم تیرے مرنے کا انتظار کریں، بلاج اپنے غصے پر تھوڑا کنٹرول کرنا سیکھ، زندگی اس سے بھی زیادہ زہریلی ہوتی ہے، اگر برداشت نہیں کر پاۓ گا تو آئندہ زندگی میں کیا کرے گا، ہر بات پر غصہ مسلے کا حل نہیں ہوتا” ہارون نے اسکی اُوٹ پٹانگ بات سن کر بولا۔ بلاج چہرہ نیچے کیے اپنے بوٹ سے زمین پر لگا گھاس مسل رہا تھا۔
“اور یہ تو تیرے حق میں بہتر ہوا پولیس والے کو میں جانتا تھا، اور اگر اس لڑکی کو کچھ ہو جاتا تو وہی سب ختم تو سرتا رہتا جیل کے اندر” حسام کو اسکے چہرے سے ایک بھی پرسنٹ پریشانی نظر نہیں آ رہی تھی، وہ بالکل خاموش سا کھڑا تھا۔
“فضول میں بات کو مت بڑھاؤ چلو چلتے ہیں” وہ بول کر گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولتا اندر بیٹھا، ہارون اور حسام نے ایک دوسرے کو دیکھا اور نفی میں سر ہلایا۔ دونوں گاڑی میں بیٹھے۔


تقی آج ایک ہفتے بعد یونی جا رہا تھا پچھلے ایک ہفتے سے وہ کسی کام کے سلسلے میں لاہور گیا ہوا تھا کل ہی لوٹا، گھر میں ہوئی باتیں بھی اسے معلوم ہوئیں، اسکی بائیک خراب تھی وہ سڑک پر کھڑا بس کا انتظار کر رہا تھا، جبھی ایک گاڑی اسکے سامنے آ کر رُکی،
“ہیلو جی! کی حال چال” اپنی طرف کا شیشہ نیچے کرتے امرحہ نے اپنی گردن باہر نکالتے انکھوں سے چشمہ ہٹاتے ہوۓ کہا۔ تقی نے اسکی طرف دیکھا اور ناگواری سے چہرہ موڑ لیا۔ امرحہ دروازہ کھول کر باہر آئی۔
“کیا ہوا، بس کا انتظار کر رہے ہو ویسے یہ بتاؤ میرے میسجز کا جواب کیوں نہین دیتے؟ اور پچھلے ایک ہفتے سے کہاں تھے؟” امرحہ نے سوالوں کی بوچھار کر دی۔
“تم سے مطلب” تقی نے آس پاس دیکھتے ہوۓ بس اتنا ہی کہا، یہ رستہ اسکے گھر سے تھوڑا دور تھا یہاں اس پاس سبھی اسے جانتےتھے اور یوں کسی لڑکی سے بات کرتے دیکھتے تو یونہی باتیں بناتے۔ کیونکہ اسکی ڈریسنگ بھی ویسی ہی تھی،وہ ہر وقت جینز شرٹ پہنتی تھی۔ تقی نے اسے آج تک قمیض شلوار پہنے نہیں دیکھا تھا۔
“ہاۓ تواڈے سارے مطلب تو میرے نال ہیں” وہ دل پر ہاتھ رکھتی دوبارہ سے ٹوٹی پھوٹی پنجابی میں بولی۔وہ صرف اسکے سامنے ایسی پنجابی بولتی تھی۔ کیونکہ اسے معلوم ہوا تھا تقی کو پنجابی زبان کافی پسند تھی۔
“امرحہ یہ چھچوڑی حرکتیں بند کرو، اور جاؤ یہاں سے، یہاں بہت سے لوگ مجھے جانتے ہیں ، خامخواہ میں باتیں ہوں گی” تقی نے ابکے سخت لہجے میں کہا۔
“جانا تو ہم دونوں کو یونی ہی ہے تو چلو گاڑی میں چلتے ہیں” امرحہ نے اسکا ہاتھ پکڑنا چاہا، تقی ایک دم پیچھے ہوا۔
“اپنی نہیں تو میری ہی عزت کا کچھ خیال رکھ لو، شرم تو ویسے بھی تم میں ختم ہو چکی ہے” وہ اتنا بول کر رکی ہوئی بس کی طرف چلا گیا اور اس میں بیٹھ گیا۔ امرحہ حیرانگی سے اسکا رویہ دیکھتی رہی، کہ اسنے ایسا ری ایکٹ کیوں کیا، پھرخود پر کنٹرول کرتی گاڑی میں بیٹھی اور یونی کی طرف بڑھا دی۔


سبھی کلاس میں بیٹھے میم فرحت کا لیکچر لے رہے تھے، راحیل کو کل کا تھپر نہیں بھولا تھا، وہ لیکچر لے رہی عائشہ کو دیکھ رہا تھا، لیکچر ختم ہوا، اب انکی پریکٹس کا وقت تھا۔۔
“اج جسکو لڑنا ہے یا ایک دوسرے کو مارنا ہے وہ یہی رہے باقی بنا دیر کیے ڈرامہ روم میں آؤ اگر لیٹ ہوۓ تو دیکھنا ” میرال اپنے بالوں کا میسی سا جوڑا بنا کر سر پر ڈوپٹہ لیے ان سب کے سامنے آ کر کھڑی ہو کر سخت لہجے مین عائشہ اور راحیل کو گھورتے ہوۓ بولی اور پلٹ کر کمرے سے چلی گئی،
“یہ کچھ زیادہ ہی بول رہی ہے، ہماری میڈیم بنی ہوئی ہے، اسکو تھوڑی سی سزا نا دی جاۓ” حسام نے ساتھ بیٹھے بلاج کو ہولے سے کہا۔
“دفع کر، وہ اپنا کام رہی ہے، چل چلتے ہیں” بلاج نے اسکی بات کی نفی کرتے ہوۓ کہا، اور اُٹھ کر کھڑا ہوا اور کمرے سے نکلا، حسام نے اپنی آنکھوں کو چھوٹا کرتے ہوۓ اسے دیکھا۔ کچھ تو عجیب اسے محسوس ہوا تھا۔وہ بھی جھٹ سے کھڑا ہوا اور اسکے پیچھے بھاگا، باقی سب تو جا چکے تھے،
“میرال مجھے تم سے بات کرنی ہے دو منٹ ہیں تمہارے پاس” تقی ڈرامہ روم کی طرف جاتی میرال کو روکتے ہوۓ بولا۔ میرال نے ہاں مین سر ہلایا اور ایک طرف کھڑی ہو کر اسکی بات سننے لگی۔
“میں کل ہی واپس آیا ہوں، اور جو کچھ مین نے سنا مجھے اس پر ایک پرسنٹ بھی یقین نہیں، تم مجھے اپنا برا بھائی مان کر سب بتا سکتی ہو” تقی نے ڈائریکٹ بات شروع کی، میرال کی آنکھیں اسکی بات پر بھیگیں۔
“ہمم۔ اچھا لگا کہ اپکو مجھ پر یقین ہے، کاش آپی کو بھی ہوتا، پر افسوس انہوں نے اس دن میری بات بھی نہیں سنی” بولتے بولتے اسکے آنسوں گال پر بہے۔
“چپ رونا نہیں میں ہوں نا میں سب ٹھیک کر دوں گا سب کو سمجھانے کی کوشش کروں گا، سچ سامنے لانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا ، تم مجھے پوری بات بتاؤں” تقی نے اسے چپ کرواتے ہوۓ کہا میرال نے اسکو ساری بات بتائی، بلاج کا مدد کرنا بھی بتایا۔ سب سن کر تقی کو اپنے بھائی پر بہت غصہ آیا۔
بلاج اور حسام وہی سے گزر رہے تھے، بلاج نے دونوں کو باتیں کرتے دیکھا تو ماتھے پر بل پڑ گے۔ حسام نے اسکا رک جانا اور اسکی طرف دیکھ کر اپنے غصے کو کنٹرول کرنا محسوس کیا۔ اور کچھ سوچ کر ہاں میں سر ہلایا۔
“کیا ہوا؟ چلیں دیر ہو رہی ہے ورنہ ہماری ٹیچر ڈانٹے گی” حسام نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ کہا۔
“چل” بلاج میرال کو گھورتا حسام کے ساتھ چلا گیا۔
“آپ اس معاملے کو دوبارہ مت شروع کرو، میں اب دوبارہ وہ سب شروع نہیں کرنا چاہتی، یہاں پر میں بہت خوش ہوں اچھے سے پڑھ رہی ہوں، جلد ہی سب بھول جاؤں گی” میرال نے اسے کچھ بھی کرنے سے منع کر دیا۔ اب امرحہ اور اسکے پیچھے اسماء جو یہاں سے گزر رہی تھی اسنے بھی اسے دیکھا۔
“سچ تو ایک دن خود با خود سامنے آ جاۓ گا اور تمہیں اگر کسی چیز کی ضرورت محسوس ہو تو مجھ سے بلا جھجھک کہ دینا ٹھیک ہے” تقی نے اسکا موڈ نارمل کرنے کے لیے کہا۔ میرال نے ہاں میں سر ہلایا۔
“مین چلتی ہوں ” میرال ہلکا سا مسکرائی تقی بھی مسکرایا۔ میرال چلی گئی۔
“میرے سامنے تو کڑوے کریلے کی طرح ہوتا یے اور اسکے سامنے دیکھو” امرحہ نے دانت پیستے ہوۓ کہا اور اگے بڑھ گئی۔
میرال اپنا چہرہ صاف کرتی ڈرامہ روم میں داخل ہوئی اور اپنی جگہ پر جا کر کھڑی ہوئی۔
“ٹیچر ٹیچر آپ نے تو بول تھا لیٹ مت ہونا ورنہ آپ نا جانے دنیا ہلا دیں گی ابھی آپ خود دیر سے آئیں ہیں تو اسکے بارے میں کیا کہیں گی” حسام نے جھٹ سے کہا۔
“پہلی بات میں تم سب کی ٹیچر نہیں اور دوسری بات مجھ کام تھا اسی لیے تھوڑی سی دیر ہوئی” میرال نے اسے گھورتے ہوۓ کہا۔
“میرال ہیرو کون بنے کا اسکا ریزلٹ تو تم نے بتایا ہی نہیں” مشی نے اونچی آواز میں کہا سبھی نے میرال کی طرف دیکھا میرال نے راحیل اور بلاج کو دیکھا۔
“دونوں کی ایکٹنگ اچھی تھی، پر اس کریکٹر میں ہائیٹ تھوڑی سی لمبی چاہیے تو ان سب کو دھیان میں رکھتے ہوۓ۔۔۔۔ میرے خیال میں بلاج صحیح رہے گا، اور راحیل کی ایکٹنگ کو دیکھتے ہوۓ اس پر لڑکی کے باپ کا رول سوٹ کرے گا ولن ٹائپ ہے سوٹ کرے گا” میرال نے ڈرتے ڈرتے اپنا فیصلہ دیا، کیونکہ جانتی تھی اسکے بعد راحیل بگھرے گا، اپنا نام سن کر بلاج کے چہرے پر مسکراہٹ آئی، اور راحیل کا کریکٹر سن کر سب سے اونچی ہنسی حسام کی تھی، وہ ہنستے ہوۓ زمین پر بیٹھ گیا باقی سب بھی ہنس دیے۔ راحیل نے سخت نظروں سے ان سب کو دیکھا۔ میرال کو گھورتا وہ کمرے سے جانے لگا میرال بھاگ کر اسکے سامنے آئی۔
“راحیل تمہاری ایکٹنگ بہت اچھی ہے، پر ہائیٹ کی وجہ سے میں نے اسے بنایا، اگر یہ پروبل نا ہوتی تو تمہیں ہی بناتی، وہاں پر مینشن بھی ہے میں نے میم سے بھی بات کی، میرا یقین کرو تم ولن کے رول میں بھی کمال کرو گے۔ پلیز بیٹھ جاؤ” میرال نے اسکے سامنے جا کر نرم انداز میں سمجھایا، اسکا یوں منتیں کرنا بلاج کو بالکل پسند نا آیا۔ راحیل گہرا سانس لے کر واپس بیٹھ گیا۔ میرال واپس اپنی جگہ پر گئی۔ ایک کرسی چھوڑ کر عائشہ بیٹھی تھی۔
“بری بات ہے، آج پہلی بار تم نے کسی کی بات مانی حیرانگی ہوئی دیکھ کر” عائشہ سامنے دیکھتے طنزیہ انداز میں بولی۔
“باتیں تو تمہاری بھی بہت مانی تھیں، پر تم نے میری ایک بھی نہیں مانی تھی اگر مان لیتی تو بہتر ہوتا” راحیل نے بھی اسی انداز میں کہا، عائشہ طنزیہ انداز میں ہنسی اور نفی میں سر ہلایا۔
“اب جلدی سے بتاؤ ہیرؤئن کون بنے گا ، امرحہ، عائشہ مشی ، ایماب؟” میرال نے سامنے سب کو دیکھتے ہوۓ کہا۔
“میں بنو گی” روم میں اسماء داخل ہوتے ہوۓ بولی، وہ بلاج ہیرؤ بنے گا اسکا تو سن چکی تھی۔ ایس لیے بولی۔ میرال نے اسکی طرف دیکھا۔ اور پھر ان پانچوں کی طرف دیکھا جنکے اسکی بات پر چہرے سپاٹ ہو گے۔
“اوکے! تو تم یہ لائینز بول کر دیکھاؤ” میرال نے ایک پیپرز اسے دیا۔ اسماء سٹیج پر آ کر کھڑی ہوئی اور پیپرز پکڑا۔
“میرے سامنے میرے ہیرو کو کھڑا نہیں کرو گی ” اسماء نے بلاج کو دیکھتے ہوۓ مسکرا کر کہا۔ میرال نے اسکی بات پر بلاج کی طرف دیکھا جو اپنے آپ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ دونوں ہاتھ سینے پر بندھے ہوۓ تھے، اور ہاتھوں کی مُٹھیاں بیچھیں ہوئیں تھیں۔ میرال نے سب نوٹ کیا وہ سوچ رہی تھی اگر اسنے بلاج کو آنے کا کہا تو کہی وہ پھٹ ہی نا پڑے۔وہ جا تی تھی وہ پانچوں اس گروپ کو پسند نہیں کرتے تھے وہ اسماء کی طرف پلٹی۔
“تم مجھے ہیرو سمجھ کر لائیز بول دو” میرال نے اسماء کو کہا۔ حسام اور امرحہ کی ہنسی بلند ہوئی۔ اسماء کو میرال پر بہت غصہ آیا۔۔ پر خود پر کنٹرول کرتے ہوۓ اسنے لائینز پڑھیں اور ایکٹ کرنے لگی۔ اسکی ایکٹنگ دیکھ کر سبھی کی ہنسی چھوٹ گئی کیونکہ اسے بالکل بھی ایکٹنگ نہیں آتی تھی۔
“سوری اسماء تمہاری ایکٹنگ بالکل اچھی نہیں، پر تمہیں ایک رول دے سکتی ہوں تم آخری سین میں جب لڑکی رو رہی ہو گی تب اسے پانی کا گلاس پکڑانے جو داسی آتی ہے وہ بن جاؤ بولنا بھی نہیں پڑے گا اور تمہارا حصہ بھی ہو گا ڈرامہ میں” میرال نے عام سے لہجے میں کہا۔ اسکی بات پر وہاں پر جتنے بھی لوگ تھے سبھی ہنستے، اسماء میرال کو گھورتی پیر پٹھکتے ہوۓ کمرے سے نکل گئی۔
“مجھے تو بالکل ہیروئن نہیں بننا” مشی نے فوراً نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔ امرحہ اور عائشہ نے ایکٹ کیا پر میرال کو کچھ مسنگ لگا۔ وہ نفی مین سر ہلا رہی تھی،
“نہیں یار تم لوگ فل فیلنگ کے ساتھ لائینز نہیں بول رہیں، دکھ درد نظر نہیں آرہا” میرال نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔ حسام نے ایک نظر ان پریشان سی میرال کو دیکھا اور پھر بلاج کو دیکھا جو بری فرصت سے اسی طرف دیکھ رہا تھا۔
“ویسے میرال کل تم نے بھی پرفامنس دی تھی، تم خود ہیروئن بن جاؤ، کیوں بلاج” حسام نے میرال کو کہتے آخر میں بلاج سے پوچھا۔ بلاج چونکا۔
“ہمم کیا؟” وہ جیسے اپنی سوچوں سے نکل کر چونکتے ہوۓ بولا۔
“کہاں اتنی فرصت سے کھویا ہوا تھا؟ ایسا کونسا حسین منظر دیکھ لیا؟” حسام نے تیکھی نظروں سے اسے جانچتے ہوۓ ہوچھا۔
“بکواس بند کر بس کل کے بارے مین سوچ رہا تھا”
“بالکل نہیں میں اگر خود ایکٹنگ کرنے لگ جاؤں گی تو پلے کو سھنمبالنا مشکل ہو جاۓ گا مین بیک گرونڈ میں رہ کر سب سھنمبالوں گی” میرال نے ادی وقت انکار کر دیا۔
“ارے تو اس میں کیا پریشانی ہے، حیات عالم جو کہ ہمشہ فارغ رہ کر کھاتی رہتی ہے اور وہ ہماری اسماء جی جنکو ایکٹنگ نہیں آتی دونون بہنیں سب سھنمبال لیں گی” حسام نے دانت نکال کر کہا، مشی اُٹھی اور ہاتھ میں پکڑا لیز کا پیکٹ جس میں سے وہ کھا رہی تھی، وہ سارا پیکٹ حسام کے سر ہر اُلٹ دیا۔
“میں کب فارغ کر کھاتی ہوں، لو اب تم کھا لو” مشی نے وہ سارا پیکٹ حسام کے سر پر اُلٹ دیا۔
“پاگل لڑکی کھانا نہیں تھا تو ویسے ہی دے دیتی یہ میرے بالوں کو کھلانے کی کیا ضرورت تھی، ہاں اپنے ان گھونسلے جیسے بالوں کو کھلاتی تو مزہ آتا” حسام ہاتھ میں گری لیز کو کھاتے ہوۓ ہنس کر بولا۔ اور کھڑا ہو کر اپنے بالوں کو صاف کیا۔
“تمہاری تو” مشی اسے مارنے کے لیے افے بڑھنے لگی جب میرال نے اسے روکا،
“مشی بس کرو” اسنے اسے پکڑ کر دور کرتے ہوے کہا۔
“تم بھی دور رہو، تم بالکل اچھی اور مخلص دوست نہیں ہو، تم ان سب سے ملی ہوئی ہو ورنہ میرے بہن بھائی کو ایسے گندے رول دے کر انسلٹ نا کرتی، ” مشی نے اسے پیچھے دکھیلتے ہوۓ غصے سے کہا اور کمرے سے چلی گئی میرال نے حیرانگی سے مشی کو جاتے ہوۓ دیکھا۔
“مشی! مشی روکو” راحیل اسے اتنے غصے مین دیکھ کر فوراً اسکے پیچھے بھاگا۔
میرال نے خود پر کنٹرول کرتے باقی سب کو انکے کریکٹرز کے بارے میں بتایا، اور کہا کہ کل سے وہ سب سینز پرفام کریں گے۔ اتنا بول کر وہ اپنی چیزیں سمیٹنے لگی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔