Rate this Novel
Episode 15
” میرال تم نے نوٹس دیکھا؟” مشی جو کہ ابھی یونی داخل ہوئی تھی اسکی نظر اپنے ڈیپارٹمنٹ میں آتے ہی نوٹس بوڈ پر پڑی۔ جلدی سے کلاس میں داخل ہوتے سامنے اپنی جگہ پر بیٹھی میرال کے پاس جا کر ایکسائیٹمنٹ میں بولی۔
“نہیں کیوں؟ کیا ہوا؟” میرال نے اپنی کتاب سے نظریں ہٹاتے ہوۓ پوچھا تھا۔
“یار ڈرامہ کلب کومپیٹیشن آ رہا ہے، یا ہو اچھا ہوا کچھ تو ایکسائیٹنگ ہو رہا ہے مزہ آۓ گا” وہ خوشی کے مارے اوچھلتے ہوۓ بولی۔ میرال نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔ پھر اسکی اتنی خوشی پر مسکرا دی۔
“تو تم کیوں اتنا خوش ہو رہی ہو، تمہیں کون سا ایکٹنگ آتی ہے” حسام نے مڑ کر اسے چھیرتے ہوۓ کہا۔
“ہاہ تم تو ایکٹنگ کے کنگ ہو، اور مجھے بہت اچھی ایکٹنگ آتی ہے، آفٹر آل ایکٹر کی بہن ہوں” وہ بھی اسی انداز میں بولی۔
” چوہیا زیادہ اُڑو مت اِس پلے میں تمہارے بھائی کو ہیرو تو بننے نہیں دو گا” حسام اسے چیلنج کرتے ہوۓ بولا۔
“ہنہہ تم روکو گے میرے بھائی کو مت بھولو پچھلے کئی سالوں سے میرا بھائی ہی ہیرو بن رہا ہے اور اب تو وہ ایک سٹار ہے تو افکورس وہی مین ہیرو بنے گا” وہ اپنے گھنگرالے بالوں کو ایک ادا سے جھٹکتے ہوۓ بولی۔
“تم بھولو مت اُسے کون ہیرو بننے دیتا تھا” حسام نے تیخے لہجے میں کہا مشی چپ سی ہو گئی۔ اور اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئی۔
“بلاج کہاں تھا اتنی دیر ہو گئی” وہ موبائل پر کسی سے بات کرتا کلاس میں داخل ہوا، جب حسام نے پوچھا۔ میرال نے اسکی بات پر نظر اُٹھا کر اسے دیکھا۔ بلو جینز پر وائٹ شرٹ پہنے، بالوں کو ہمیشہ کی طرح سیٹ کیے وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا۔ کل جیسے اسنے اسکی مدد کی تھی وہ سب یاد آتے ہی اسے وہ اچھا لگنے لگا۔ وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی تبھی اسکا دل ایک دم دھڑکا۔
“جتنی جلدی ہو سکے اسکو ڈھونڈو، دوپہر تک کا وقت ہے تم سب کے پاس، ورنہ تمہیں میرا اچھے سے پتہ ہے” بلاج نے موبائل پر سخت لہجے میں کسی کو کہا تھا۔
“جی سر ہم ڈھونڈ لیں گے” آگے سے جواب آیا۔
“میرال تم ہیروئن بنو گی اس پلے میں” مشی کے پکارنے پر وہ ہوش میں آئی اورپلٹ کر غائب دماغی سے اسے دیکھا۔
“کیا؟” اسنے ناسمجھی سے پوچھا۔ بلاج موبائل بند کرتا اپنی جگہ پر آکر بیٹھا۔ تبھی کلاس میں میم فرحت اور راحیل داخل ہوۓ، راحیل کے ہاتھ میں ایک فائل تھی۔
“کلاس آپ نے نوٹس دیکھا؟” میم فرحت نے سب کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا۔
“یس میم صبح ہی دیکھا” سب سے اونچی آواز مشی کی تھی وہ تو اپنی جگہ سے کھڑی بھی ہو گئی تھی۔
“جانتی ہوں سب سے پہلی تمہاری ہی نظر اس پر پڑی ہو گئی، پڑھائی کے علاوہ تمہاری نظر ہر چیز پر ہوتی ہے” میم فرحت نے طنزیہ انداز میں کہا۔ کلاس میں دبی دبی ہنسی کی آواز گھونجی۔ مشی کا منہ ایک دم اتر گیا وہ اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔
” کومپیٹیشن دو ویک میں ہے، ہر ڈیپارٹمنٹ اس میں حصہ لے گا، اور تم لوگوں کو کسی بھی حالت میں یہ کومیپٹیشن جیتنا ہے، پچھلے دو سال سے تم لوگ ہار رہے ہو، اب کسی قسم کی دشمنی یالڑائی نہیں ہونی چاہیے، بلاج اور راحیل دنوں اپنی لڑائیاں سائیڈ پر رکھ کر پرفام کرو گے اگر بیک وقت پر انکار کیا یا پلے چھوڑ کر گے، تو اس سبجیکٹ میں پوری کلاس کو فیل کر دوں گی، میرے پاس ایک سکرپیٹ ہے۔” میم فرحت کافی غصے میں لگ رہی تھیں۔
“مجھے اسکے ساتھ کوئی پلے نہیں کرنا ” راحیل نے بلاج کو ایک نظر دیکھتے ہوۓ کہا۔ اسکی بات پر میم فرحت نے غصے سے اسے دیکھا۔
“میں کون سا مرے جا رہا ہو مجھے بھی نہیں کرنا” بلاج نے بھی اسی انداز میں کہا
“چپ تم دونوں کرو گے کیونکہ اچھی ایکٹنگ کرتے ہو۔ میرال ادھر آؤ” میم فرحت ان دنوں کو چپ کروا کر کتاب پر کچھ لکھتی میرال کو بلوایا۔ وہ ایک دم چونکی وہ تو شکر کر ہی تھی کیونکہ اب ان دنوں وہ اچھے سے پڑھ سکتی تھی اسے شوق بھی نہیں تھا اس میں حصہ لینے کا۔
“جی میم” وہ چلتی ہوئی انکے پاس آ کر بولی۔
“تم اس پلے میں پاٹ لو گی اور پورا سپروائیز بھی کرو گی، ان سب کو ہینڈل کر کے اچھا سا پلے کروانا ہو گا، کاسٹنگ، ڈریسنگ سب تم کرو گی، اپنے ساتھ جسکو مرضی شامل کر لینا ” میم فرحت نے راحیل کے ہاتھ سے فائل پکڑ کر اسے پکڑائی۔ میرال نے صدمے سے انہیں دیکھا۔
“پر میم میں کیسے یہ سب بہت لڑتے ہیں” وہ رو دینے کو تھی۔
“تمہیں اگر ڈائیلگ چینج کرنا ہو تو کر لینا، پلے فنی اور ایموشنل ہے سارا پڑھ کر جسکو جو کریکٹر دینا ہو دے دینا سب تمہاری ذمہ داری ہے، اور جو نا مانے انکو میں ہینڈل کر لوں گی” میم فرحت نے بولتے بولتے راحیل اور بلاج کو دیکھا۔ بلاج تو میرال کی سکل دیکھ کر ہنس رہا تھا۔
“جی ٹھیک ہے” میرال نے ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ کہا، اور واپس اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گئی۔
“میم اگر میرال کو یہ مشکل لگ رہا ہے تو مین ہینڈل کر سکتی ہوں” اسماء اپنی جگہ سے کھڑی ہو کر بولی۔ میرال ایک دم خوش ہوئی۔
“مجھے پتہ ہے میں کس کو کیا ذمہ داری دے رہی ہوں وہ ہینڈل کر لے گی تم سے نہیں ہو گا، تم خود کو ہینڈل کرو بس” میم فرحت کو تو پہلے ہی زیادہ تیار شیاہ لڑکیاں زہر لگتیں تھیں۔ انکی بات پر ان پانچوں کا قہقہ بلند ہوا۔اور میرال بچاری اپنا سا منہ لے کر بیٹھ گئی تبھی اسکے موبائل پر میسج آیاجہاں بلاج کا نام جگمگا رہا تھا۔
” کلاس کے بعد کوریڈور کے لاسٹ پر مجھے ملو بات کرنی ہے” اسکا میسج پرھ کر میرلا نے اسکی طرف دیکھا۔ جسنے مڑ کر اسے دیکھا اور آنکھیں چھپکائیں۔۔
یس موم! اوکے میں خود سارے کاسٹیوم دے آؤں گی” عائشہ امرحہ کے ساتھ کینٹین کی طرف جا رہی تھی اور ساتھ اپنی موم سے بات کر رہی تھی، جن کو اچانک دبی جانا پڑا پر یہاں پر ضروری کام تھا اسی کا وہ عائشہ کو بتا رہیں تھیں۔
“سارے لے کر جانا ایک بھی چھوٹے نا ” وہ اسے فل انسٹریکشن دے رہیں تھیں۔
“امرحہ تم یہی لے آؤ وہاں کافی بھیر ہے” عائشہ نے سامنے کینٹین مین اتنی بھیر دیکھی تو فوراً بولی۔ امرحہ اوکے کہتی کینٹین میں چلی گئی اور عائشہ ہاتھ میں کلچ پکڑے وہی کھڑی ہو کر بات کرنے لگی۔ تبھی پیچھے سے کوئی اس سے ٹکڑایا تھا۔ اسکا فون اور کلچ زمین پر گڑا۔
“اندھے ہو نظر نہیں اتا” وہ چلاتے ہوۓ بولی اور مُڑی سامنے راحیل کو کھڑے دیکھا تو ماتھے پر بلو مین اضافہ ہوا۔ کیونکہ اسکے ساتھ ایک لڑکی بھی تھی۔ وہ اس یونی کے تو نہیں لگ رہی تھی۔
“رستے کے درمیان میں کھڑے ہونے کی عادت تمہاری گئی نہیں” راحیل نے بھرپور طنز مارا تھا۔ عائشہ نے اپنے غصے کو پیتے ہوۓ زمین پر بکھرے اپنے سامان کو اُٹھانا شروع کیا۔
“راحیل چلیں” اس لڑکی نے راحیل کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا۔ عائشہ نے ان دونوں کے ہاتھوں کو دیکھا اور ہھر راحیل کو دیکھا جو لاپرواہ سا ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔ عائشہ نے اپنا چہرہ موڑ لیا۔ انکھوں میں آئی نمی کو اندر نگلا۔ اور جلدی سے بکحرا سامان اُٹھانا چاہا وہ جلد سے جلد یہاں سے جانا چاہتی تھی۔
“یہ کیا ہے؟” راحیل کی نظر زمین پر پڑی میڈیسن کی ڈبی دیکھی تو فوراً اسے پکڑنے لگا جبھی عائشہ نے اس سے پہلے پکڑ لی۔ اور کھڑی ہوئی۔ اور اگے برھ گئی۔
“روکو! عائشہ کیا ہے یہ؟” راحیل نے ایک جھٹکے سے اسکا بازو پکڑ اور اسکا رخ اپنی طرف کیا۔
“کیا بدتمیزی ہے چھوڑو مجھے” عائشہ نے غصے سے کہا اور اپنا بازو کھینچنا شروع کیا۔
“پہلے بتاؤ کس چیز کی میڈیسن ہے” راحیل نے اسکے بازو پر دباؤ ڈالتے ہوۓ کہا۔
“راحیل کسی بھی چیز کی میدیسن ہو تمہیں اس سے کیا چھوڑو اسے” تبھی پیچھے کھڑی لڑکی اسکے پاس آکر بولی۔ پر وہ سن کہاں رہا تھا ویسے ہی غصے سے وہ عائشہ کو دیکھ رہا تھا جو اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔
“عائشہ کیا ہوا؟ تم چھوڑو اسے” امرحہ برگرز لے کر آئی تبھی راحیل اور عائشہ پر نظر پڑی۔ اسکے آنے سے راحیل نے ایک جھٹکے سے اسکا بازو چھوڑا۔ وہ لڑکھڑائی تھی پر امرحہ نے سحنمبال لیا۔ اور اسے لے کر وہاں سے چلی گئی۔ راحیل اپنا ماتھا مسلتا یونی سے نکلتا چلا گیا۔
“جب بھی بدتمیزی کرے ایک لگایا کرو تم چپ کیوں ہو جاتی ہو” امرحہ کو اسکا یوں اسکے سامنے چپ ہو جانا بہت برا لگا تھا۔
“ایک لگائی ہی تو نہیں گی اگر لگا دیتی تو شائد سب ٹھیک ہوتا” وہ کھوۓ ہوۓ لہجے میں بولی تھی۔
“حد ہے مجھے یہاں بلوا کر خود کہاں رہ گیا؟” وہ کب سے اسکی بتایی جگہ پر انتظار کر رہی تھی۔ یہ تھوڑی ویران سی جگہ تھی۔ آس پاس کوئی سٹوڈینٹ نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد وہ اسکی طرف آتا دیکھائی دیا۔
“ادھے گھنٹے سے انتظار کر رہی ہوں، کہاں تھے؟” میرال نے اسے کھڑی دیکھا کر غصے سے پوچھا۔
“اوو مین لیٹ ہو گیا، مجھے پتہ نہیں چلا” وہ کندھے اچکاتے ہوۓ بولا۔ میرال کو اسکے بے فکرے انداز پر بہت غصہ آیا۔
“بولو کیا بات ہے؟” میرال دونوں بازوں کو باندھ کر اسکی طرف رخ کرتے ہوۓ بولی۔
“میں نے کوشش کی باسط کو پکڑنے کی پر وہ پکڑا نہیں گیا، تو تم دھیان سے رہو بلا وجہ کسی کی کال پر باہر نا چلی جانا” وہ کف فولڈ کرتے ہوۓ بولا۔
“تم نے یہ کہنے کے لیے مجھے پچھلے آدھے گھنٹے سے یہاں کھڑا رکھا” اسکی بات سن تک میرال کا تو دماغ خراب ہو گیا۔
“کیا ہوا؟ یہ بات اہم نہیں، ہنہہ میں ایویں اسکو پکڑنے کے چکر میں خوار ہو رہا ہوں تمہیں تو فرق ہی نہین پڑ رہا” بلاج اسکے اس ری ایکشن کو دیکھتے ہوۓ بولا۔
“تم یہ بات مجھے فون پر بھی بتا سکتے تھے، اور ویسے بھی مجھے معلوم ہے وہ پکڑا نہیں جاۓ گا، اور میں بے وقوف نہیں ہوں جو اتنا کچھ ہو جانے کے بعد بھی کسی کے فون پر کہی بھی چلی جاۓ، ہان تمہارے میسج پر یہاں انا بے وقوفی ضرور تھی” وہ چرتے ہوۓ بولی۔
“حد ہے بھلائی کا تو زمانہ نہیں رہا” بلاج کندھے اچکاتے ہوۓ دکھی لہجے مین بولا۔
“مجھے جو بھلائی پچھلے کچھ دنوں سے تمہاری طرف سے مل رہی ہے، بس ہضم نہیں ہو رہی، تم اچانک اتنے اچھے کیسے بن سکتے ہو، کیا بات ہے؟” میرال نے چانچتی نظروں سے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا۔
“کیا پتہ کوئی بات ہو، کیا پتہ مجھے تم سے محبت ہو گئی ہو، اور میں یہ سب محبت میں کر رہا ہوں” بلاج نے اسکی انکھوں میں انکھیں ڈال کر جواب دیا۔ میرال ایک دم گڑبڑائی۔
“واٹٹٹ ممحبتتت” وہ اٹک اٹک کر بولی۔ بلاج نے اپنی مسکراہٹ چھپائی۔
“ہاں محبت کیوں نہیں ہو سکتی؟” وہ ویسے ہی اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔ میرال کا چہرہ ایک دم پیلا پڑگیا۔ اور آنکھیں ایک دم کھل گئیں۔ یہ وہ کیا بول رہا تھا۔ اسکا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
“ہاہاہاہہا چشمش اپنی شکل دیکھو، ہاہایا” مزید وہ اپنی ہنسی کنٹرول نا کر پایا تو قہقیہ بلند کیا۔ میرال نے غصے سے اسکی طرف دیکھا۔
” مزاق کر رہا تھا، کیوں تمہیں میرا یہ نرم لہجہ انداز پسند نہیں آرہا تو بتاو دوبارہ ویسا ہی بن جاتا ہوں” بلاج ایک دم سنجیدہ ہوتے ہوۓ بولا۔
“نہیں ایسی بات نہیں بس تم اچانک سے ایسے ہو گے تو کچھ سوال تھے، ایم سوری، اینڈ تھینک یو میری مدد کرنے کے لیے، اب تمہین ان سب کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں میں دیکھ لوں گی” میرال بھی نارمل ہوتے ہوۓ بولی۔ بلاج نے ہاں مین سر ہلایا۔ تبھی میرال کا موبائل بجا۔
” السلام علیکم !جی آپی” موبائل پر ملائکہ کی کال تھی۔
” کہاں ہو؟” ملائکہ نے سلام کا جواب تک نا دیا اور اگلا سوال کیا۔ میرال کو کچھ گڑ بڑ محسوس ہوئی۔
“یونی مین ہوں کیوں؟” میرال نے بتایا۔
“ابھی اسی وقت گھر آؤ” ملائکہ نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔ میرال نے بند فون کو دیکھا۔
“کیا ہوا؟” بلاج نے اسکا پریشان سا چہرہ دیکھا تو پوچھا۔
“پتہ نہیں یہ تو گھر جا کر پتہ چلے گے۔ چلو میں چلتی ہوں” وہ اپنا موبایل بیگ میں ڈالتے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بولی۔ بلاج نے ہاں مین سر ہلایا۔ وہ پلٹ کر چلی گئی۔ بلاج کئی پل اسے دور جاتے دیکھتا رہا۔۔۔۔
وہ ادھے گھنٹے میں گھر پہنچی۔ گھر میں داخل ہوئی تو ماحول کچھ بدلا سا محسوس ہوا، سبھی حال مین بیٹھے اسکا انتظار کر رہے تھے۔
“کیا ہوا اپی، یوں اچانک کیوں بلوایا؟” میرال سامنے کھڑی ملائکہ کے پاس آکر بولی۔
“کیوں بی بی اپنے بواۓ فرینڈ سے ملنے میں دیر وہ رہی تھی جو یہ سوال کر رہی ہو؟” پیچھے سے ملائکہ کی ساس نے طنزیہ انداز میں کہا۔ میرال نے انکے الفاظوں پر حیرانگی سے انہین دیکھا تبھی اسکی نظر سامنے صوفے پر بیٹھے باسط پر پڑی جسکے ماتھے پر پٹی لگی تھی اور بازو پر پلستر لگا ہوا تھا اکسے چہرے کا رنگ اُڑا مطلب اسنے سب بتا دیا تھا۔اب کس طریقےسے بتایا تھا وہ ملائکہ کا چہرہ بتا رہا تھا۔
“یہ کیسی باتیں کر رہیں ہیں” میرال نے غصے سے کہا۔
“ٹھاہ! تم یہ کرنے آئی تھی یہ کرنے کے لیے تم نے یونی مین ایڈمیشن لیا” ملائکہ نے تھپڑ مارتے اسکے سامنے تصویر کی۔
” آپی اپ کیا کہ رہی ہے، یہ میرا کلاس فیلو ہے” میرال نے اسے سمجھانا چاہا۔
“توبہ توبہ اگر یہ کلاس فیلو ہے تو میرے بچے کا وہ حال کس نے کیا” ملائکہ کی ساس نے کہا۔
“بولو کرو بکواس اس لڑکے لے ساتھ کہان جا رہی تھی جو باسط نے دیکھ لیا اور تم دونوں نے اسکا یہ حال کیا” ملائکہ نے ایک اور تھپڑ مارتے ہوۓ کہا۔ میرال تو اسلے الفاظ پر ہی دھنگ رک گئی۔ باسط نے کتنے گھٹیا طریقے سے گھر مین یہ سب بتایا تھا۔
“آپی میرا یقین کرو میرا کلاس فیلو ہے، باسط نے اس دن کیڈ” میرال بول ہی رہی تھی جب باسط درمیان میں بولا۔
“میرال اب جھوٹ کیوں بول رہی ہو، اس دن تو بول رہی تھی تم دونوں دیٹ پر جا رہے ہو اور اب مُکر گئی۔ میں نے تو بس روکا تھا اور میرا یک حال کر دیا اس لڑکے نے، اور پارٹی پر بھی اسکے ساتھ گئی تھی” باسط درمیان مین بول پڑا کہی وہ کیڈنیپنگ والی بات نا بول دے پر اسنے اسطرح سے سب بتایا تھا اگر وہ بول بھی دیتی تب بھی کوئی یقین نا کرتا۔
“توبہ توبہ کیا کیا دیکھنا پڑ رہا ہے، بہت اچھا ہوا تمہاری مان مر گئی ورنہ یہ سب دیکھ کر کیا سوچتی” ۔ملائکہ کی ساس بولی۔میرال کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہو گے۔
“مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تم میری بہن ہو، اتنے گھٹیا کام کیسے کر سکتی ہے دفع ہو جاؤ، آئندہ کبھی اپنی شکل مجھے مت دیکھانا” ملائکہ اسے دھکے دیتے ہوۓ گھر سے نکالنے لگی۔
“آپی میرا یقین کرو میں نے کچھ غلط نہیں کیا، میری بات تو سنو” میرال روتے ہوۓ بول رہی تھی پر ملائکہ نے اسے باہر نکالتے دروازہ بند کر دیا۔ میرال کافی دیر دروازہ کھٹکھٹاتی رہ گئی۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
