Rate this Novel
Episode 44
راحیل نے اپنے تعلقات کی مدد سے نیوز نیوزچینل سے تو بند کروا دی، پر شوشل میڈیا ہر تبصرے ابھی بھی جاری تھے۔ اور چاہ کر بھی وہ سب کو چپ نہیں کروا سکتا تھا۔
صبح ناشتے کے وقت اسماء، عالم صاحب اور سمائرہ بیگم بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔ اسماء ایسے نے فکر بیٹھی تھی جیسے اسنے کچھ غلط کیا ہی نا ہو۔ عالم صاحب ناشتہ کر رہے تھے، جب انکے موبائل پر کسی کی کال آئی۔ نام دیکھ کر منہ کو جاتا نوالہ رک گیا۔ انہوں نے موبائل پکڑا اور ایکسیوز کرتے ہوۓ ایک طرف چلے گے، اور کال اٹھائی۔ اسماء چونکی۔
“ہیلو!” انہوں نے کال اُٹھائی۔ اور ہولے سے بولے۔
“باہر آئیں، بات کرنی ہے” اگے سے جواب ملا۔
“اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود میں کیوں باہر آ کر تمہاری بات سنوں؟” وہ اپنے غصے کو دباتے ہوۓ بولے۔
“بات جب بیٹی کی ہو تو آنا چاہیے، آخر کو آپ سب جانتے ہو،اگر اگلے ایک منٹ میں نا آۓ تو سب کچھ شوشل میڈیا پر پھیل جاۓ گا” سامنے والے نے سرد لہجے میں کہا۔ عالم صاحب وہی ٹھہر گے موبائل کان کو لگاتے باہر کی طرف بھرے۔ گھر سے باہر نکلے تو سامنے پینٹ شرٹ پہنے، انکھوں پر گلاسس لگاۓ وہ گاڑی کے ساتھ ٹیک لگاۓ کھڑا تھا۔ انکو آتا دیکھ مسکرایا۔ عالم صاحب روڈ کراس کرتے اسکے پاس آۓ۔ گاڑی انکے گھر کے سامنے ہی کھڑی تھی۔
“اچھا لگا بیٹی کا سن کر دوڑے چلے آۓ، آئیے بہت بری بری باتیں کرنی ہیں” انکھوں سے چشمہ ہٹاتے ہوۓ وہ طنزیہ انداز میں بولا۔
“کیا بات کرنی ہے؟” وہ بھی سرد لہجے میں بولے۔
“بتاتا ہوں اتنی بھی کیا جلدی یے، ویسے آپ کمال کے ایکٹر ہو، سب جانتے ہوۓ بھی ہم سب کی زندگی اپنی بیٹی کے لیے تباہ کر کے رکھ دی” وہ دو قدم اگے بڑھتا سرد انداز میں بولا۔ آنکھیں لال تھیں۔
“کیاااا مطلب ہے تمہاراااا بلاج۔۔۔۔” وہ ہکلاتے ہوۓ بولے۔ اسکی انکھوں سے تو کچھ کچھ جان سکے کے وہ کیا جان چکا یے۔
“بتاتا ہوں، رکیں” وہ طنزیہ انداز میں ہنستا پلٹا اور گاڑی سے ایک لیپ ٹاپ اور ایک فائل نکالی۔ لیپ ٹاپ نکال کر گاڑی کے بونٹ پر رکھا اور ایک ویڈیو چلا دی۔ویڈیو دیکھ کر انکے پاؤں تلے زمین کھسکی۔ اور پاس کھڑا بلاج ہنسا تھا۔
“کیا ہوا انکل جی چونک گے نا، میرے ہاتھوں میں یہ کیسے لگی؟ جیسے آپکی پہنچ بہت دور تک ہے نا ویسے ہی میری اتنی دور نا سہی پر لندن تک تو ہے” وہ طنزیہ انداز مین دوبارہ ہنسا تھا آج اسکے ہاتھ خزانہ جو لگ گیا تھا۔
“تم کیا کرنے والے ہو؟” عالم صاحب نے ہمت کر کے پوچھا۔ وہ انکی بات پر سوچتے ہوۓ مسکرایا۔
“میں یہ سب شوشل میڈیا پر ڈال دوں گا، کیا ہی مزے کی نیوز ہو گی، عالم بزنس مین کی بیٹی ایک پاگل ہے، ایک سائیکو ہے، اسے ہسپتال میں ایڈمٹ کروانے کی بجاۓ، اسکا باپ اسے ہماری زندگی حرام کرنے کے لیے لے آیا” وہ دانت پیس کر بولا تھا۔ عالم صاحب کے ماتھے پر پسینہ آیا تھا۔جانتے تھے یہ کتنی بری نیوز بنے گی۔ اسماء بچپن سے ہی بہت ضدی تھی، اپنی چیز کو پانے کے لیے وہ آخر حد تک جا سکتی تھی، اور اس میں غصے حد سے زیادہ تھا۔ وہ غصے میں کسی کو مار بھی سکتی تھی۔۔ اسکا ایک نمونہ جب وہ دس سال کی تھی تب عالم صاحب بے دیکھا تھا۔ جب اسنے صرف ایک گڑیا کے لیے اپنی دوست کے ہاتھ کو چھری سے زخمی کر دیا تھا، اور تب اسکی آنکھوں میں جو جنون تھا عالم صاحب کو پتھر کر جانے کے لیے کافی تھا، اسکے بعد چھوٹی موٹی چیزیں چلتی رہیں، عالم صاحب اسکی ہر ضد کو پورا کر دیتے، اور یہی عادت اس میں غرور پیدا کر گئی، اور جب وہ بی بی کے پہلے سمسٹر میں تھی، وہاں ایک لڑکی سے لڑائی ہونے پر اسنے گھر جاتے وقت اس لڑکی کا ایکسیڈینٹ کروا دیا جس سے وہ اس دنیا سے چلی گئی۔ اسنے یہ سب اتنی صفایی سے کیا کہ کسی کو خبر ہی نا ہو سکی کے وہ یہ سب کر چکی ہے، اسکا علم بس اسکی ایک دوست کو تھا، جسنے عالم صاحب کے آفس آکر سب انہیں بتا دیا۔ تب اسکے سمسٹر کے پیپرز تھے۔ اور تبھی بلاج والا سارا سین بھی ہوا۔ تب بھی جانتے تھے انکی بیٹی غلط ہے، وہ سب سچ جانتے تھے پر وہ چپ رہے۔ اسکے بعد انہوں نے لندن میں ایک ڈاکٹر سے بات کی۔ اور اگلے دو دن میں اسے لندن بھیج دیا۔ وہ وہاں دو سال رہی، دوائیاں، تھرپی، ہر چیز ہوئی جس سے وہ اپنے غصے پر کنٹرول کر سکے، جب ڈاکٹر کو لگا وہ ٹھیک ہے تب انہوں نے اسے واپس پاکستان بھیج دیا۔۔۔۔۔۔
“تم ایسا نہیں کر سکتے” وہ ایک امید سے بولے شائد وہ مان جاۓ۔
“ہنہہہ آپکی غلط فہمی یے میں ایسا کروں گا یہ ویڈیو جس میں وہ اس لڑکی کو مار رہی ہے، اور یہ اسکی ساری میڈکل ہسٹری میڈیا پر ریلیز کر دوں گا” وہ سخت لہجے میں بولا۔ دور کھڑی اسماء سب سن رہی تھی۔
“میں اسے سمجھا دوں گا وہ اب ایسا نہیں کرےگی ” وہ آنکھیں چُراتے ہوے بولے۔ انکی بات پر وہ طنزیہ انداز مین ہنسا تبھی اسکی نظر اسماء پر پڑی۔ اسکے جبڑے سخت ہوۓ۔وہ چلتی ہوئی انکے پاس آئی۔
“اپکی وجہ سے یہ اس قدر بے خوف ہو چکی ہے کیونکہ جانتی ہے میرا باپ تو میری ساری غلطیوں پر پردہ ڈال دے گا، پر مسٹر عالم میں آپکو یہ لاسٹ وارنگ دے رہا ہوں، اگر دوبارہ آپکی اس بیٹی نے میری بیوی کو ذرا سا بھی ہرٹ کیا، تو یہ یہ ساری ریپورٹس اور ویڈیو تو بعد میں میڈیا پر ریلیز کروں گا پہلے آسکو زندہ زمین مین گھاڑ دوں گا۔ تو اسکو کنٹرول کر لو” وہ سخت لہجے میں دونوں کو دیکھتے ہوۓ بولا۔
“اچھا، ہنہہہ جاؤ جا کر جسکو جو بتانا ہے بتاؤ اسماء عالم کسی سے نہیں ڈرتی، اور تم اپنی بیوی کی حفاظت کرو، کیونکہ میں اسکو زندہ رہنے نہیں دوں گی، تمہارے سامنے اسے مار دوں گی اور تم کچھ نہیں کر پاؤں گے جیسے پہلے زہر والا پانی پینے سے روک نہیں پاۓ تھے۔ بلاج سکندر حمدانی، مجھے زندہ زمین میں گھاڑنے کے تم قابل بھی نہیں رہو گے تمہاری بیوی کا وہ حال کروں گی، مجھ دھدکارنے پر پچھتاؤ گے” وہ بولی تو اسکی انکھوں میں ایک ضد تھی، ایک جنون تھا جیسے وہ ابھی میرال کو مار دے گی۔ ایک پل کو بلاج بھی ڈر گیا۔
“چلو اچھی بات ہے، تم نے خود ہی اپنا جرم قبول کر لیا ایک اور ثبوت مل گیا” وہ موبائل کو پاکٹ سے نکالتا ریکارڈنگ آف کرتے ہوۓ بولا۔ اسماء اسکی حرکت پر ہسنی۔
“تم شائد ابھی تک سمجھے نہیں تم مجھے مار بھی ڈالو تب بھی تمہاری بیوی تو زندہ نہیں بچے گی۔ اور ویسے یہاں آنے سے پہلے اپنے باپ کے پاس جانا تھا وہ تو سب جانتے ہیں، انفیکٹ انہوں نے مجھے کچھ بھی کرنے کی آجازت دی ہوئی ہے، بس تمہیں انکے پاس لے جاؤں” وہ دو قدم اگےبڑھتے ہوۓ بولی۔ عالم صاحب پریشان سے کھڑے تھے۔ بلاج نے گہرا سانس لیا۔ لیپ ٹاپ اور فائل پکڑی اور گاڑی میں رکھی۔
“اپنی بیٹی کو سھنمبال لیں، ورنہ بعد میں افسوس ہی رہ جاۓ گا” وہ انکو بول کر گاڑی میں بیٹھا اور اگلے ہی پل گاڑی وہاں سے چلی گئی۔
“ہنہہہ برا آیا ابھی تک اسماء کو جان ہی نہیں پاۓ تمہاری سب سے بری خوشی چھین لوں گی” وہ جنونی انداز میں بولی اور گھر میں چلی گئی، عالم صاحب کافی دیر تک وہاں کھڑے رہے انہیں اپنی غلطیوں کا شدت سے اندازہ ہو رہا تھا۔
،،،**
اسنے گاڑی کا رخ سکندر حمدانی کے آفس کی طرف کیا۔ اسماء کے الفاظ ابھی تک اسکے کانوں میں گھونج رہے تھے۔ اگلے پانچ منٹ میں وہ آفس کے باہر کھڑا تھا۔ لفٹ میں داخل ہوتا وہ چھٹے فلور پر پہنچا۔ شرٹ کے بازو فولڈ کرتا وہ افس کی طرف برھا۔ وہاں کا ہر سٹاف اسکو اچھے سے جانتا تھا۔ اسکے چہرے پر سرد تاثر تھے۔ وہ بنا کسی کی طرف دیکھے سیدھا سکندر حمدانی کے آفس میں داخل ہوا۔ جہاں وہ کچھ لوگوں کے ساتھ میٹنگ کر رہے تھے۔ اسکو یوں اندر آتے دیکھ چونکے۔
“مجھے بات کرنی یے” وہ سرد لہجے میں بولا۔ سکندر حمدانی کچھ پل اسکے چہرے کو دیکھتے رہے، اج وہ کیا بات کرنے آیا تھا؟ وہ بھی خود بنا انکے بلاۓ، اس دن کا انتظار تو ہو کرتے تھے کہ وہ خود بات کرے۔ انہوں نے باقی سب کو جانے کا بولا ۔ انکے جاتے ہی بلاج نے زور سے دروازہ بند کیا۔
“یہ کیا بدتمیزی یے؟ ایسی کیا بات کرنی ہے؟” سکندر حمدانی تھوڑا سخت لہجے میں بولے۔
“بدتمیزی تو ابھی میں نے کی ہی نہیں، انفیکٹ آپ کافی حدیں پار کر چکے ہیں، مجھے ایک سوال کا جواب تو دیں، میری اور حسن بھائی کی زندگی برباد کر کے کیا آپکو سکون نہیں ملا جو میری زندگی میں ایک خوشی آ ہی گئی اسے بھی چھیننا چاہتے ہیں ” وہ غصے سے غرایا تھا۔ سکندر حمدانی نے شیشے سے باہر دیکھا سبھی انکی طرف متوجہ تھے انہوں نے بٹن دبا کر بلدئینڈز گڑا دیں۔
“اس سب کا کیا مطلب ہے؟ میں نے اب کیا کِیا؟” وہ تھکے ہوۓ لہجے میں بولے۔
“اوو پلیز یہ ڈرامہ میرے سامنے کرنے کی ضرورت نہیں ، اور آپ کتنی جلدی بھول گے، اس اسماء کے ساتھ مل کر میرے خلاف کیا چالیں چل رہے ہیں، کیا بولا اسکو کچھ بھی کرو مجھے بلاج چاہیے ” وہ اسی انداز میں بولا۔ انکھیں لال ہو رہی تھیں۔
“ہاں بولا تھا، کیونکہ مجھے میرا بیٹا واپس چاہیے” وہ بولے۔ انکے جواب نے بلاج کو دکھ پہنچایا۔ مطلب وہ سب جانتے تھے اسنے کیا کِیا//
“اوو تو آپ بھی اس سب میں شامل تھے، آپکو معلوم بھی ہے اسنے کیا کِیا؟” وہ ضبط کی اخری حد پر تھا۔ آنکھیں ہلکی سی نم ہوئیں۔ عمیر اتنی اوازیں سن کر کمرے میں ایا اور دروازہ بند کیا۔
“کیا کِیا؟” پہلی دفع بلاج کی آنکھیں یوں نم دیکھیں تھیں۔
“آپکی اس چہتی نے میری بیوی کے پانی میں زہر ملایا، زہر، وہ دو دن ہسپتال رہی مرتے مرتے بچی یے” وہ ایک ایک لفظ کو چبا کر بولا۔ سکندر حمدانی کو لگا انہوں نے غلط سنا۔ وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوۓ۔
“کیا زہر۔۔۔۔ پرررر میں نے ایسا نہیں بولللا” وہ چشمہ اتارتے بولے تھے۔ آواز لڑکھڑائی تھی۔۔
“اووو پلیز بس کریں، مجھے آپ پر ایک پرسنٹ بھی یقین نہیں رہا، میری زندگی تو برباد تھی، آپکی نظر میں مین تو ایک نمبر کا آوارہ کڑا ہوا، لڑکیوں کی عزتیں خراب کرنے والا لڑکا ہوں نا، تو زرا اپنی چہیتی اسماء عالم کی سچائی بھی سن لیں” وہ غصے سے بولتا اپنا موبائل نکال کر وہ ریکاڈنگ جو کہ ابھی اسنے کی تھی وہ انکو سنائی۔ جسے سننے کے بعد وہ وہی کرسی پر بیٹھ گے۔ عمیر جلدی سے انکے پاس گیا۔
“میں نے ایسا نہیں۔۔۔۔” انکے الفاظ ابھی زبان میں تھے۔ کہ بلاج بولا۔
“آپ نے کبھی سوچا میں نے آپکو ڈیڈ کہنا کیوں چھوڑ دیا” وہ کھوۓ ہوۓ لہجے میں بولا۔ نا جانے اسکے لہجے میں کیا تھا سکندر حمدانی نے اسکی طرف دیکھا۔ انکا دل ڈوبا۔
“کیونکہ مجھے لگا جس انسان کو اپنی اولاد کی ہی فکر نا ہو، جسے اس پر رتی برابر بھی یقین نا ہو، جو بھری محفل میں کسی کی باتوں پر یقین کر کے اپنے جوان بیٹے کو مارے، اس شخص کو میں اپنا باپ کیسے مان سکتا ہوں،
اگر اس دن آپ سبکے سامنے بولتے نا کہ کچھ بھی ہو جاۓ میرا بیٹا کچھ غلط نہیں کر سکتا، خدا کی قسم اس وقت آپ جو بولتے میں وہ کر دیتا اگر میری جان بھی مانگ لیتے اف تک نا کرتا وہی دے دیتا۔ پر آپ نے کیا کِیا سبکے سامنے مجھے ہی گناہگار بنا دیا۔ کیا ایک سگا باپ ایسا کرتا ہے؟” وہ سکندر حمدانی کو کٹھگڑے میں کھڑا کرتے سوال کر رہا تھا۔ اور سکندر حمدانی کو لگا اب انکے پاس جواب ختم ہو گے۔ وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوۓ اور بلاج کے بالکل سامنے آۓ۔
“بالکل نہیں ایک باپ بالکل ایسا نہیں ہوتا، اور میرے جیسا تو بالکل نہیں ” انکے کہے گے الفاظ عمیر اور بلاج دونوں کے لیے حیرانگی کا باعث تھے۔ پہلی دفع ایسا جملہ انکے منہ سے نکلا تھا۔
” ڈیڈ” عمیر انکے پاس آیا، بلاج چپ انکے سامنے کھڑا تھا۔
“مجھے سمجھ آ چکی ہے، ہمارے گھر کا سکون صرف میری وجہ سے برباد ہوا ہے، اگر میں تم سب پر اپنی مرضعی نا ڈالتا تو ہم سب ایک خوشگوار فیملی ہوتے،
پر ایک بات کا بلاج تم یقین کر لو، میں نے اپنے تینوں بچوں سے بہت محبت کی ہے، کبھی انکے بارے میں یہ نہیں سوچا کہ انکے ساتھ کچھ غلط ہو یا انکی خوشیاں چھن جائیں، جانتا ہوں میں غلط تھا، جب حسن کو میڈیکل میں ایڈمیشن نہیں لینے دیا، مجھے لگا اگر وہ بھی عمیر کی طرح میرے ساتھ مل جاۓ تو ہم تینوں باپ بیٹے مل کر بزنس کو اونچائیوں تک پہنچا سکتے ہیں، پر نہیں جانتا تھا وہ کس قدر اپنے خواب کے لیے جا سکتا ہے، اور آخر وہ چلا گیا، ہم سب سے دور، گہرے اندھیرے میں میرا بچہ چلا گیا۔” بولتے بولتے وہ اب رو دیے۔ اج پہلی دفع بلاج نے اپنے باپ کا یہ چہرا دیکھا۔ وہ چپ سا ہو گیا۔
“ڈیڈ ریلکس بیٹھیں یہاں ڈاکٹر نے ٹینشن لینے سے منع کیا ہے” عمیر نے انہیں صوفے پر بیٹھایا، اور پانی کا گلاس پکڑایا۔
“عمیر بیٹے اب تو میری زندگی میں سواۓ ٹینشن اور پچھتاوے کے کچھ بچا ہی نہیں، میری وجہ سے میرے بچے ایسی زندگی جی رہے ہیں، اور جب سے مجھے معلوم ہوا حسن زندہ ہے۔ اور۔۔۔۔” انکے منہ سے نکلنے والے الفاظ بلاج اور عمیر کے لیے بم کی طرح تھے، بلاج نے ہی تو بتایا تھا۔ حسن کی دیتھ ہو چکی ہے تو اب وہ کیا بول رہے ہیں۔
“بھائی زندہ ہے کیا مطلب۔؟” بلاج ایک سیکنڈ میں انکی طرف آیا۔ سکندر حمدانی نے دونوں کی طرف دیکھا۔ اور اپنی آنکھوں کو رومال کی مدد سے صاف کیا۔ اور ہاں میں سر ہلایا۔
“جس دن بلاج نے ہمیں بتایا کہ حسن کی دیتھ ہو گئی، مجھے اس بات پر یقین نہیں تھا تو مین نے کچھ لڑکوں کو پیسے دے کر حسن کا پتہ کرنے کا بولا۔ ابھی ایک ہفتہ پہلے ہی مجھے معلوم ہوا، وہ زندہ ہے، میں برا خوش ہوا پر اگلی بات نے میرے پاؤں تلے زمین کھسکا دی” وہ آنکھیں پونچیھتے دونوں کو بتا رہے تھے۔
“کیا بات کیا ہوا؟” بلاج کو انکا چپ کرنا بہت برا لگا۔
“وہ جس دن یہاں سے بھگا، اسکے کچھ دنوں بعد پتہ نہیں کیسے ایک مافیہ کے بندے کے ہاتھ لگ گیا، اسی نے اسے اپنے جیسا بنا لیا۔ اس بندے کی بیٹی کے ساتھ اسنے شادی کر لی، اسکا ایک بیٹا بھی یے، اسنے اپنا نام بدل لیا، اسی لیے تمہیں اتنے سالوں کی کوشیشوں کے باوجود وہ تمہیں مل نا سکا، اب وہ راجا بھائی کے نام سے کافی مشہور ہے، بالکل بدل گیا ہے” وہ تھکے ہوۓ لہجے مین سب بتا رہے تھے، عمیر اور بلاج کو انکی بات پر یقین نا آے انکا بھائی کیسی گندگی میں پھنس گیا تھا۔۔۔
“مجھے معاف کر دو یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے، اگر میں تم سبکے ساتھ اتنا سخت نا ہوتا تو یہ سب نا ہوتا” وہ ہاتھ جوڑتے روتے ہوۓ بولے۔ عمیر نے انکو گلے سے لگا لیا۔ بلاج اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور بنا کچھ بولے وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
رات کا ایک بج چکا تھا اور وہ ابھی تک گھر نہیں آیا تھا۔ میرال پریشان سی گارڈن میں چکر کاٹ رہی تھی اور بار بار بلاج کا نمبر ملا رہی تھی، پورے گھر میں وہ اکیلی تھی، اس سے وہ مزید خوف زدہ ہو رہی تھی۔ مزید ایک گھنٹا گزر گیا وہ سر پکڑ کر کرسی پر بیٹھی رو رہی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ تبھی گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی دی۔ دروازہ کھلا اور اسکی گاڑی اندر داخل ہوئی۔ میرال جلدی سے اسکی طرف بڑھی۔ وہ گاڑی سے باہر نکلا۔۔
“فون کہاں ہے تمہارا، کتنی کالز میسجز کیے ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔ یہاں میری جان نکلی جا رہی تھی کہ کہاں چلے گے اتنی رات ہو گئی، دو بج گے، اس فون کو اُٹھانا نہیں ہوتا تو پھینک دو اگ لگا دو” وہ اسکے پاس آتے ہی برس پڑی۔ اور بلاج نے اسکی روتی انکھوں کو دیکھا، اسکے لہجے میں واضع فکر تھی۔ اسنے خود کو کوسا اسنے موبائل کو سائلنٹ پر لگا دیا تھا۔
“ایم سوری میری جان بس مصروف تھا اسی لیے دیر ہو گئی” وہ اسے اپنے حصار میں لیتے گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھا۔
“پتہ کتنے برے برے خیالات آ رہے تھے، حد کرتے ہو کم از کم مجھے بتادیتے” وہ اسے غصے سے گھورتے ہوۓ بولی۔ وہ دونوں کمرے میں آۓ۔
“سوری چشمش” وہ اسکے گال کھینچتے ہوۓ بولا۔ اور نائیٹ سوٹ لے کر واشروم میں چلا گیا۔ میرال جلدی سے نیچے آئی کچن میں کھانے گرم کیا اور کمرے میں لائی۔ وہ فریش ہو کر واشروم سے نکلا تھا۔ میرال نے نوٹ کیا وہ کافی پریشان تھا۔ چہرا بھی اترا ہوا تھا۔ میرال اسے دیکھ رہی تھی۔
“کیا ہوا مسسز ایسی کیا دیکھ رہی ہو، اتنی سی دیر میں اداس ہو گئی تھی” وہ اسکے پاس آ کر چھیرتے ہوۓ بولا۔ اور وہی کھانے کے لیے صوفے پر بیٹھ گیا۔
“دیکھ رہی ہوں، تم بدلے بدلے لگ رہے ہو، صبح کے کہاں تھے؟ اور اتنی دیر کیوں کی؟” میرال اسے کھوجتے ہوۓ بولی۔ بلاج کو اسکا خاصہ بیویوں والا رویہ پسند آیا۔
“شک کر رہی ہو؟” روٹی کا نوالہ کھاتے ہوۓ بولا۔ اور ہنسا۔ میرال کو اسکی ہنسی کھوکھلی لگی۔
“بلاج کیا ہوا؟ تم پریشان لگ رہے ہو؟ ” میرال نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوۓ پوچھا۔ اور بلاج نے گہرا سانس لیا۔ اور پھیکا سا مسکرایا۔
“تمہیں معلوم ہو جاتا ہے، میں اپسیٹ ہوں” وہ اسکی ناک دباتے ہوۓ بولا۔
“بیوی ہوں نا تو معلوم کیسے نہیں ہو گا، جنکے دل ایک دوسرے سے ملے ہوں، وہ ایک دوسرے کی پریشانیاں کیسے نہیں سمجھیں گے تو بلاج جی بتائیں کیا بات ہے” وہ اسکا بازو پکڑتے ہوۓ مسکرا کر بولی۔ بلاج نت اپنی اتنی پیاری ہمسفر کو دیکھ کر دل ہی دل میں رب کا شکر ادا کیا۔ اور پھر گہرا سانس لے کر اسے سب بتا دیا۔ میرال حیرانگی سے سب سن رہی تھی۔
“بس اسی لیے دل نہیں کر رہا تھا کہ گھر جاؤ سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں، یقین ہی نہیں ہو رہا حسن بھائی ایسی دلدل میں الجھ گے ہیں” وہ گہرا سانس لیتا اپنا سر پیچھے صوفے پر ٹکا گیا۔
“تم فکر مت کرو، جو ہو گا بہتر ہی ہو گا بس اللہ سے دعا کرو، وہ سب صحیح کر دے گا” وہ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولی۔
“انشااللہ” وہ اسکی گود میں اپنا سر رکھے آنکھیں بند کرتے ہوۓ بولا۔ میرال اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتی رہی اور وہ گہری نیند میں چلا گیا۔۔۔ تبھی صوفے پر پڑے میرال کے فون پر ایک میسج آیا۔ اسنے موبائل پکڑا اور میسج پڑھا۔ میسج پڑھتے ہی اسکے ہاتھ کانپے۔ اسنے موبائل ہی بند کر دیا۔
“یا اللہ ہمیں اس مشکل سے نکال دے” وہ آنکھیں بند کرتے ہولے سے بر برائی۔
جاری ہے۔
