55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 46

لڑائی کی وجہ سے کھانا تو کسی نے کھایا نہیں تھا، وہ کچن سمیٹ کر لاونچ میں ٹوٹی ایل سی ڈی کے ٹکڑوں کو ڈسٹبین میں ڈالے لاونچ صاف کر کے وہی صوفے پر بیٹھ گئی تھی،
باہر اندھیرا پھیل رہا تھا دس کا وقت ہوا۔ وہ کئی گھنٹوں سے کمرے میں بند تھا۔
وہ کھڑی ہوئی اور اوپر کمرے کی طرف آئی۔ دروازے کو دھکیلا وہ کھلتا چلا گیا۔ کمرے میں مکمل اندھیرا کیا ہوا تھا بس بالکنی سے ہلکی سی روشنی آ رہی تھی، اسکی سیدھی نظر بیڈ پر سیدھا لیٹے بلاج پر گئی جو آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا تھا۔اور اسکے پاؤں ہل رہے تھے۔ مطلب وہ سویا نہیں تھا۔ وہ اسے اگنور کرتی سیدھا بیڈ کی طرف آئی اور اپنی جگہ پر جا کر لیٹ گئی۔ وہ اسکی طرف بیٹھ کیے لیٹی ہوئی تھی۔اسنے انکھیں بند کر لیں۔ کچھ دیر بعد بلاج نے اپنی آنکھوں سے بازو ہٹایا اور اسکی طرف دیکھا، اور پھر خود بھی دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گیا اور آنکھیں بند کر لیں۔ میرال نے آہٹ محسوس کی تو مڑ کر اسکی طرف دیکھا۔ اسے دوسری طرف منہ کیے لیٹا دیکھ کر اسکا غصہ مزید بڑھا۔وہ پلٹ گئی۔۔۔۔یونہی ایک دوسرے سے اجنبی بنتے وہ دونوں بنا بات کیے سو گے۔۔۔۔۔۔


” میں مزاق نہیں کر رہا میں نے جو بھی بولا ہے سب سچ ہے میری فیلنگ سچ ہیں” وہ یونی پہنچی، تو حسام جو کہ کل سے اسے میسجز کر رہا تھا پر وہ انکا رپلائی نہیں دے رہی تھی۔ اسکے بہت فورس کرنے پر وہ اسے گارڈن میں ملنے چلی گئی۔
“جانتی ہوں، تم سچ بول رہے ہو، پر یہ ممکن نہیں” وہ وہی بنے سمینٹ کے بینچ پر بیٹھ گئی۔ اسکی بات سن کر حسام کی سانس رک گئی۔
“کیوں؟ آخر انکار کی وجہ کیا ہے؟” وہ وہی اسکے پاس بیٹھتے ہوۓ بولا۔ مشی نے ہاتھوںکو مسلتے اسکی طرف دیکھا۔
جو آنکھوں میں سوال لیے اسکے جواب کا منتظر تھا اور پھر رخ موڑ لیا۔
“پہلے ہی اتنے مسلے ہیں، راحیل اور عائشہ علحیدہ ہو گے، بلاج تمہارا گہرا دوست ہے، اسکے درمیان اگر تم مجھ سے رشتہ رکھو گے، تو بہت مسلے ہوں گے” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔ اسکی بات سن کر حسام نے سکون کا سانس لیا۔
“حد یے مجھے لگا پتہ نہیں کیا بات ہے” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولا۔
“کیا مطلب یہ بات تمہارے لیے کچھ معنی نہیں رکھتی” مشی نے حیرانگی سے پوچھا۔
“نہیں، سب صحیح ہو جاۓ گا، اب تو راحیل سے میری دوستی بھی ہو گئی، بلاج سے ہونا مشکل ہے پر ناممکن نہیں، تو فکر مت کرو اور مجھے اپنا جواب دو ہاں یا نا” وہ بات ک دو جملوں میں ختم کرتے ہوۓ اپنے مطلب کی بات پر آیا۔
“اسکے بعد اب جواب کی کیا ضرورت ہے؟ افکورس ہاں ہی ہو گا ” مشی اپنے گھنگھرالے بالوں کی بنی پونی کو رول کرتے ہوۓ بولی اور اُٹھ کر بھاگ گئی۔اور حسام کو کچھ سیکنڈ لگے سب سمجھنے میں
“ارے روکو میری بات سنو بھاگ کیوں رہی ہو روکو” وہ بھی اسکے پیچھے بھاگا۔۔۔۔ پر تب تک وہ کلاس روم کی طرف جا چکی تھی۔


عائشہ کی کل شام کی فلائیٹ تھی، وہ اپنی پیکنگ کرنے میں مصروف تھی۔ سمائرہ بیگم صبح اس سے مل کر گئیں تھیں۔ امرحہ اسی کے پاس تھی۔
کلاسز ختم ہوئیں، صبح بھی میرال رکشہ پر آئی تھی، وہ کافی ناراض تھی۔ بلاج نے بھی یونی میں ایک دفع بھی اسے منانے کی کوشش نا کی اور یہی بات اسے مزید غصہ دلا رہی تھی۔ وہ یونی کے باہر کھڑی رکشے روک کر اس میں بیٹھی، اور گھر آ گئی۔ گھر کے کاموں میں لگے وقت کا پتہ ہی جا چلا۔ اور شام ہو گئی، بلاج ابھی تک نہیں آیا تھا۔ اسکے دماغ میں باسط کے کہے گے الفاظ گھونج رہے تھے۔ کھانے میں بریانی بنا کر وہ فارغ ہوئی اور چاۓ کا کپ لے کر باہر گارڈن میں آئی۔ وہاں رکھے لوہے کے جھولے پر بیٹھتے سکون سے چاۓ کی چسکیاں بھرنے لگی۔ آسمان پر آہستہ آہستہ اندھیرا چھا رہا تھا۔ جھولے کو پیروں کی مدد سے ہولے ہولے جھولتے وہ آنکھیں بند کیے چاۓ کا مزہ لے رہی تھی۔ وہ مگن تھی جب مین دروازہ کھلا اور ہیوی بائیک اندر آ کر رکی۔ وہ بائیک سے اترا۔ میرال اسے ایک نظر دیکھ کر اگنور کر چکی تھی۔ وہ بھی اسے اگنور کرتا اندر کی طرف بڑھ گیا۔ میرال کو اسکا اگنور کرنا زہر لگا۔ دل ایک دم اداس ہوا۔ کہی نا کہی من میں خیال تھا کہ وہ منا لے گا۔ پر۔۔۔۔۔اسنے آہ بڑھتے چاۓ کی چسکی لی۔ وہ اندر نہیں جانا چاہتی تھی چاۓ ختم کرتے نا چارہ اسے اندر جانا پڑا۔
“حد یے اتنا ایٹیٹیوڈ، کہتا یے پیار کرتا ہوں اور منا بھی نہیں سکتا” وہ غصے میں گھلتی پیر پٹختی اپنے گندے کپڑوں کو چینج کرنے اوپر کمرے کی طرف آئی۔ اسے آۓ آدھا گھنٹا گزر چکا تھا۔ وہ اندر داخل ہوئی۔ کمرے میں سیاہ اندھیرا تھا۔ بالکنی سے ہلکی سے روشنی آرہی تھی اسے اندر داخل ہوتے ہی کھانسی آئی۔ بالکنی میں ننگے پاؤں کھڑے وہ سگریٹ پھونک رہا تھا۔ میرال نے نفی میں سر ہلایا۔ اور اسکے پاس آئی۔ اب اسکی برداشت ختم ہو چکی تھی۔ وہ اوپر آسمان میں دیکھتا سگڑیٹ پی رہا تھا۔
“یہ صحت کے لیے کتنی نقصان دہ ہے معلوم بھی ہے” اسکے ہاتھ سے سگڑیٹ چھینتے وہ غصے سے بولی۔ بلاج نے ایک گہرا سانس لیا۔ اور اسکی طرف دیکھا۔ میرال ٹھٹکی اسکی آنکھیں لال انگاریے بھر رہیں تھیں جیسے آنسوں پر نا جانے کتنا ضبط کر رہا ہو۔
“بلاج کیا ہوا؟” اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے وہ پریشانی سے بولی۔ اسکی ناراضگی جانے کہاں سو چکی تھی۔ بس معلوم تھا کہ وہ درد میں ہے۔ اور یہی اسکا بھی ضبط جواب دے گیا۔ جو کب سے برداشت کر رہا تھا۔اگلے ہی پل اسکے گلے سے جا لگا۔۔۔اسکے کندھے پر اپنا ماتھا رکھ دیا۔ میرال اب گھبرائی۔ ایسا کیا ہو گیا؟
“میں ہوں” وہ جب بولی تو بس اتنا ہی۔ ان دو لفظوں میں ایک طاقت تھی جو بلاج کو اس وقت چاہیے تھی۔ اسکا کندھا بھیگ گیا تھا۔ نا جانے کتنی دیر یونہی گزر گئی کچھ پلوں بعد میرال نے اسے علحیدہ کیا اور اسکا ہاتھ پکڑے کمرے میں لے گئی۔ اور اسے صوفے پر بیٹھایا۔ پاس بیٹھ کر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
“سب ختم ہو گیا میرال ایک امید تھی وہ بھی آج دم توڑ گئی” گہری خاموشی کے بعد اسکی آواز گھونجی۔
“کیا ہوا؟”
“جس دن کا مجھے معلوم ہوا حسن بھائی م ع ا ف ی ہ میں شامل ہیں میں تب سے انکا پتہ کروا رہا تھا۔ اور آج صبح میں لوکیشن مل گئی۔ یونی کے بعد میں وہاں گیا،۔۔۔۔۔” بولتے بولتے اسکا لہجہ بھاری ہوا۔
“وہ ملے؟”
“ہمممم ملے تھے، پانچ منٹ کی ملاقات تھی، بالکل بدل گے ہیں، انکا بیٹا بھی پاس ہی تھا۔ چھوٹا سا ہے پر حیرانگی والی بات یہ کہ اسکے ہاتھ میں اصل پسٹل تھی، اور حسن بھائی کا حلیہ ہی بدل گیا ہے، اور لہجہ تو اس سے بھی زیادہ، طاقت کا نشہ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ پانچ منٹ ملے اور چلے گے بالکل ایک اجنبی کی طرح” وہ بول کر آخر میں خاموش ہو گیا۔۔۔
“دل برا بھاری بھاری سا ہو رہا ہے، اچھا بھلا لڑکا کن چکروں میں پر گیا۔ جس دلدل میں وہ دھنس گے ہیں، وہاں سے نکلنا ناممکن ہے، ” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولا۔
“تم انکے لیے دعا کیا کرو وہ اس دلدل سے نکل آئیں” اسکے کندھے پر سر رکھتے وہ بولی۔۔۔بلاج نے بس ہاں میں سر ہلایا۔ کئی لمحے خاموشی کی زرد ہو گے۔۔۔وہ صوفے کی بیک سے ٹیک لگاۓ اوپر کمرے کی چھت کو دیکھنے لگا۔ میرال نے کچھ لمحے گزرنے کے بعد اسکا چہرا اپنی طرف کیا۔
“جب سب اللہ پر چھوڑ دیا تو ٹینشن لینے کی کیا ضرورت ہے، میری امی کہتیں تھیں، ساری فکریں خدا کے سپرد کر دو، خدا تمہاری ساری پریشیانیاں ختم کر دے” اسکی ہلکی سی نکلتی دھاڑی پر ہاتھ پھیرتے وہ مسکرا کر بولی۔ وہ بھی اسکی بات پر مسکرایا۔
“چلو بریانی بنائی یے جلدی سے کھاتے ہیں بہت بھوک لگی یے” وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور اسکو بازو سے پکڑا۔ وہ ناچاہتے ہوۓ بھی اسکے ساتھ نیچے آیا۔ اسنے جلدی سے بریانی گرم کی اور ٹیبل پر لگا دی۔ اور اسکے ساتھ بیٹھ گئی۔۔اسکی پلیٹ میں بریانی نکالی۔ اور اپنی پلیٹ میں نکالنے لگی بلاج نے روک دیا۔ اور اپنی پلیٹ سے چمچ بھر کر اسکے منہ کی طرف کیا۔
“کل تم پر غصہ کرنے کے لیے معافی مل سکتی ہے؟” اسی طرح چاولوں بھرا چمچ پکڑتے وہ بولا۔
“اوو میں تو بھول ہی گئی کہ میں تم سے ناراض تھی۔” وہ اپنے سر پر چت لگاتے ہوۓ بولی۔ اسکی حرکت پر بلاج مسکرایا۔
“میرال ایم سوری غصے مین جانتا ہوں ہر دفع حد پار کر جاتا ہوں، پلیز سوری ” وہ شرمندگی بھرے لہجے میں بولا۔میرال نے چاول کھاۓ۔
“اٹس اوکے جانتی ہوں تمہارا غصہ کتنا برا ہے، ویسے بھی انکل اور تمہارے درمیان جو بھی ہے میں آئندہ بات نہیں کروں گی” وہ مسکرا کر بولی۔
“ایسی بات۔۔۔۔۔” بلاج کچھ بولنے ہی والا تھا کہ میرال نے ٹوکا ۔
“پرانی باتیں ختم اوکےمسٹر کھڑوس” اسکے بال بگاڑتے وہ ہنس کر بولی۔ اسکی پیاری سی ہنسی سن کر بلاج مطمین ہوا
“اسکے بعد مووی دیکھیں گے ” اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے وہ بولی۔
“اوکے چشمش” پیار سے اسکے گال کھینچتے ہوۓ بولا کھانے کے بعد دونوں نے لیپ ٹاپ پر مووی دیکھی۔مووی دیکھتے دیکھتے وہ اسکے کندھے پر سر رکھے سو گئی۔ بلاج نے احتیاط سے لیپ ٹاپ بند کیا اور اسے اپنے حصار میں لیا۔
“ایم سوری میری جان” اسکے ماتھے پر بوسہ دیتے وہ ہولے سے بولا۔ تبھی میرال کے موبائل پر ایک میسج آیا۔ بلاج نے دیکھنا چاہا پر وہ دور پڑا تھا۔ لائیٹ آف کرتے وہ لیٹ گیا۔ اور آنکھیں بند کر لیں۔۔۔


آج ہفتے کا دن تھا۔ عائشہ کی فلائیٹ تھی، کوئی بھی یونی نہیں گیا تھا، میرال گھر پر تھی، بلاج اور باقی سارا گروپ عائشہ کے گھر پر گے تھے۔ مشی بھی انکے ساتھ تھی۔
وہ موبایل پکڑ کر بیٹھی ڈرامہ دیکھ رہی تھی۔ جب اسکی نظر رات کو آۓ باسط کے میسج پر پڑی۔ میسج کھولتے ہی اسکی سانس اٹک گئی۔ جس پر لکھا تھا۔
“دوپہر ایک بجے مجھے اس پتے پر ملو” ایک بج چکا تھا۔ وہ گھر پر ہی تھی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کیا کرے، جبھی دحرا دھر پانچ میسجز آۓ۔
“ملنے آؤ”
“ورنہ تمہارے شوہر کو مار دوں گا”
اسکی لوکیشن میرے پاس یے” لوکیشن عائشہ کے گھر کی تھی۔
“ابھی کے ابھی آؤ” ۔
“اور پھر ایک ویڈیو بھی تھی جس میں وہ پانچوں عائشہ کی بالکنی میں بیٹھے مزاق مستی کر رہے تھے۔ اور دوسری بلڈنگ پر ایک گن والا آدمی جو بلاج پر نشانہ باندھے بیٹھا تھا۔ دیڈیو دیکھتے ہی میرال کے ہاتھ سے موبائل زمین پر گڑا۔ اسنے کانپتے ہاتھوں سے آنے والی کال اُٹھائی۔
” تم پاگل ہو” وہ کانپتے ہوۓ بولی۔
“پندرہ منٹ میں پہنچ ورنہ۔۔۔۔۔” باسط کے سخت الفاظ سن کر وہ کانپی۔۔۔۔اسنے کال کاٹ دی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کیا کرے، اسنے بلاج کو کال ملائی پر وہ اُٹھا نہیں رہا تھا۔ وہ کمرے کی طرف بھاگی۔ وہاں سے پرس پکڑا چادر لی اور گھر سے نکل آئی۔ اسکی بتائی ہوئی جگہ پر اگلے بیس منٹ میں وہ پہنچ گئی۔۔۔
یہ ایک پرانی کھنڈر عمارت تھی جو دوبارہ سے بنایی جا رہی تھی جہاں کام ہو رہا تھا۔ پر ابھی وہ مکمل خالی تھی۔ وہ اوپر آئی۔ یہ ایک برا سا حال تھا۔ سامنے دو کرسیاں اور برا سا ٹپ رکھا ہوا تھا۔ کرسیوں پر بیٹھے باسط اور اسماء کو دیکھ وہ چونکی۔۔۔تو مطلب یہ بھی شامل یے۔۔۔۔
“کیا بات کرنی یے جو اتنے دنوں سے دماغ کھا رہے ہو؟” وہ خود میں ہمت پیدا کرتے ہوۓ غصے سے بولی۔۔کہ ایسا نا لگے کہ وہ ڈری ہوئی یے۔۔۔
“واہہ تم آگئی۔ مزہ آۓ گا” باسط ہنستے ہوۓ بولا۔ اسماء میرال کی طرف بڑھی۔ وہ ڈر کے مارے پیچھے کی طرف جا رہی تھی۔
“میری محبت چھین کر تمہیں کیا لگا تم خوش رہ پاؤ گی۔ تمہاری جان لے لوں گی” ہاتھ میں ڈنڈا پکڑے وہ اسکے سر پر مارا اور اگلے ہی پل وہ بے ہوش گئی۔۔دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراۓ۔ باسط نے موٹی رسی کی مدد سے میرال کے دونوں ہاتھ باندھے۔ اور اسکو کھینچ کر اس برے سے ٹپ کے پاس لاۓ۔ جہاں ویکس اُبل رہی تھی۔ دونوں نے مل کر اسے اس ابلتی ویکس کے اوپر رسی کی مدد سے ٹانگ دیا۔ جو کہ پہلے ہی چھت پر کنیکٹ تھی۔ اور وہ الٹی ٹنگی ہوئی تھی۔ اسماء نے اسکی ویڈیو بنانی شروع کی۔۔۔۔
“چچچچچ کیسی لگ رہی یے تمہاری بیوی، ابھی اسکی رسی کاٹ دوں تو چچچچچ بچانا چایتے ہو تو بچا لو ڈھونڈ لو مجھے۔ ہایاہا” اسماء نے بولتے ہوۓ ویڈیو بنائی اور بلاج کے نمبر پر سینڈ کر دی۔
وہ سب گاڑی میں عائشہ کا سامان رکھ رہے تھے،۔ جب بلاج نے موبائل پر آنے والی میسج کو دیکھا۔ وہاں میرال کی کافی کالز تھیں۔ اور پھر ایک انجان نمبر سے آنے والی ویڈیو کھولی ویڈیو دیکھتے دہکھتے۔ اسکے ہاتھ سے موبائل گڑا۔۔اسے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔
“کیا ہوا بڈی” ہارون اسکا شاک چہرا دیکھ فوراً اسکی طرف آیا۔ اور نیچے سے موبائل اُٹھا کر ویڈیو دیکھی۔ اسکا بھی حال ویسا ہی تھا باقی سب بھی انکی طرف متوجہ ہوۓ۔
“اسماء کا دماغ خراب ہے سائیکو کہی کی” حسام تو غصے سے بولا۔۔ تبھی ایک گاڑی آ کر رکی۔ جس میں راحیل نکلا وہ مشی کو پل کرنے آیا تھا یا یوں مانو جاتے ہوۓ عائشہ کو دیکھنے آیا تھا۔ راحیل کو دیکھتے ہی بلاج اسکی طرف جھپٹا۔
“میرال کہاں ہے؟ تمہاری وہ سائیکو بہن اسے کہاں کے کر گئی یے؟” اسے کالر سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوۓ وہ غرایا تھا۔ راحیل اسکے یون اچانک حملہ کرنے پر شاک میں تھا۔
“کیا بول رہے ہو مجھے کچھ نہیں پتہ ہوا کیا ہے؟” راحیل اپنا کالر چھڑواتے ہوۓ بولا۔ حسام نے جلدی سے ویڈیو راحیل کو دیکھائی۔۔۔ وہ شاک کے عالم میں ویڈیو دیکھ رہا تھا۔
“تو بھی اس سب میں شامل ہے سالے تیری جان لے لون گا اگر میری بیوی کو کچھ ہوا” اسکے چہرے پر مکہ مارتے ہوۓ وہ غصے سے بولا۔
“لے لینا اگر تجھے میری جان لے کر ہی سکون ملے تو لے لینا، پر مجھے میرے ماں باپ کی قسم میرا اس میں ایک پرسنٹ ہاتھ نہیں، بلکہ مین ابھی تمہیں اسکی لوکیشن بتاتا ہوں، اسکے موبائل کی لوکیشن کو میں نے اپنے موبائل میں سیٹ کیا ہوا تھا” راحیل بھی اسی کے انداز میں چلایا اور موبائل نکال کر اسکی لوکیشن نکالی جو کہ وہی تھی۔ لوکیشن دیکھتے ہی بلاج گاڑی کی طرف بھاگا۔
“ہارون مین بلاج کے ساتھ جاتا ہوں تم پولیس کو کے کر وہان پہنچوں” حسام جلدی جلدی بولا۔ اور بلاج کی طرف بھاگا۔۔ جو گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔ وہ بھی جلدی سے بیٹھا۔ راحیل نے ایک نظر باقی سب کو دیکھا اسکی نظر عائشہ پر ٹھہری ناجانے اسکی نظر میں ایسا کیا تھا عائشہ کو ایک دم گھبڑاہٹ ہوئی۔۔ وہ جلدی سے اپنی گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی کو بلاج کی گاڑی کے پیچھے لگا دیا۔ اگلے دس منٹ میں وہ اس لوکیشن پر موجود تھے۔ بلاج نے گاڑی بہت دور روک دی۔ اور اتر کر چھپ کر چلنے لگا۔ راحیل بھی انکے ساتھ تھا۔ بلاج نے ایک سخت نظر اسے دیکھا اور چلنے لگا ابھی فل حال اسے میرال بالکل صحیح سلامت چاہیے تھی۔ وہ تینوں اہستہ آہستہ چلتے اس فلور پر آۓ جہاں وہ تینوں تھے۔ یہ چوتھا فلور تھا۔ برا سا حال تھا۔ ٹپ بالکل سینٹر میں تھا۔ وہ دونوں کرسیوں پر بیٹھے چپس کھ رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے۔ انکا رخ انکی طرف نا تھا۔ بلاج نے حسام کو اشارہ کیا۔ حسام اور راحیل چپکے سے ان دونوں کی طرف بڑھے اور بلاج میرال کی طرف بڑھا۔ وہی پڑا چاکو بلاج نے پکڑا اور میرال کے پاس آیا۔ تبھی حسام نے باسط کو اور راحیل نے اسماء کو پکڑا۔ وہ دونوں اتنی اچانک انکے پہنچ جانے پر بھونچا گے۔ باسط نے ہاتھ پاؤں چلاۓ۔ اور چھوٹ گیا۔ تب تک بلاج میرال کے پاس پہنچ گیا۔اسے پکڑ کر ویکس سے دور کیا اور چاکو کی مدد سے رسی کاٹی اور میرال کو سائیڈ پر لٹایا۔ حسام باسط سے لڑ رہا تھا راحیل نے تین تھپڑ اسماء کو مارے، وہ لڑکھڑا کر گڑی۔ بلاج نے میرال کے چہرے پر تھپتھپایا کچھ دیر بعد وہ جاگی۔ وہ ہلکا سا جاگی۔۔ بلاج نے اسے سینے میں بھیجا۔ کچھ پلوں میں ہی اسکی جان نکل گئی تھی۔ پاس لگے پلیر کے ساتھ اسے بیٹھایا۔ اور اپنے بازو فولڈ کرتا وہ باسط کی طرف آیا۔ وہ اسے اندھا دھند پیٹنے لگا۔
“دور ہو جاؤ ورنہ سب کو مار دوں گی مین سب کو ختم کر دوں گی” تبھی اسماء نے انکی طرف پسٹل تان کر چلاتے ہوۓ کہا۔ کوئی نا روکا۔ اسماء نے ہوائی فائیر کیا۔ جو جہان تھا وہی تھم گیا۔ راحیل اسکی طرف بڑھنے لگا۔ تبھی باسط نے بلاج کو دھکہ دیا۔ وہ دور جا گڑا۔ اور وہان رکھے باکس میں سے دوسری پسٹل باسط نے نکال کر ان پر تانی۔ اور قدم با قدم اسکی طرف بڑھا۔ وہ قدم یچھے لیتا رہا۔۔۔ گولی کی اواز پر میرال نے اپنا گھومتا ہوا سر اُٹھایا۔ سامنے کا منظر دیکھ وہ کانپ گئی۔
“بری مردانگی ہے تو ایک گولی تو کھا کر دیکھا” غصے سے کہتے باسط نے بلاج کی طرف گولی چلائی۔ تبھی راحیل نے بلاج کو دھکہ دیا۔ وہ ایک طرف گِرا اور باسط کی پسٹل سے نکلتی گولی سیدھا راحیل کے بازو پر لگی وہ لڑکھرایا۔ یہ حال اس طرف سے کھلا ہوا ہوا تھا۔ وہ لڑکھرایا اور پیچھے کی طرف گِرا۔
“راحیل۔۔۔۔۔۔” سبھی کی آواز گھونجی تھی۔۔۔۔۔ ماحول میں سناٹا چھا گیا تھا۔ بلاج بھاگ کر ایا اور نیچے کی طرف دیکھا۔ اسکی سانس میں سانس آئی۔ وہ اپنے دوسرے ہاتھ سے سریا پکڑے ہوۓ تھا۔ جو کہ کافی مشکل تھا بلاج نے جلدی سے اسکا وہ ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچے لگا۔۔حسام انکی طرف بھاگا۔ تبھی ایک فائیر ہوا اور گولی بلاج کے بازو پر لگی۔۔۔۔میرال کی چیخ نکلی وہ کھڑی ہو کر اسکی طرف بڑھنے لگی۔ جب اسماء نے اسے درمیان میں روکا اور اسے زور سے دھکہ دیا۔ وہ زمین پر گِری۔۔۔۔اسکا سر زمین پر لگا۔۔۔ اسماء اسے برے طریقے سے پیٹنے لگی۔۔۔
“سالے حرام خور” حسام نے وہی پڑا ڈنڈا باسط کے سر پر مارا۔۔۔ اور اسے پیچھے کیا۔ باسط اس سے لڑنے لگ گیا۔
“ہاتھ مت چھوڑنا” بلاج نے مظبوطی سے پکڑتے ہوۓ کہا۔ اسکے بازو سے لگاتار خون نکل رہا تھا سیدھا وہ خون راحیل کی سفید شرٹ پر جا رہا تھا۔
“یاراااا بس معافف کر دینا اپنے اس پاگل دوست کو پلیز ” راحیل نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔ اسکی بات پر بلاج نے نفی میں سر ہلایا اور اسکا ہاتھ مظبوطی سے پکڑا۔ تبھی وہاں پ ول ی س آ گئی۔۔۔ اور وہ سارے بھی پہنچے۔ راحیل کو یوں لٹکے دیکھ سبھی کی سانس رکی۔۔ عائشہ کو لگا وہ سانس نہیں لے پاے گی۔۔۔
“بھول گے جیئیں گے ساتھ مریں گے ساتھ” بلاج نے مسکراتے ہوۓ نم لہجے میں بولا اور اسے اوپر کھینچے لگا۔ ایک درد کی لہر اسکےبازو میں ہوئی وہ چیخا۔ حسام سے لڑتے باسط نے اسکی طرف دیکھا پولیس اوپر پہنچ گئی تھی۔ اور انکو پکڑنے والی تھی۔ جب ایک اور نشانہ سادھا۔ اور ایک فائیر کیا۔جو بلاج کی ٹانگ پر لگا۔ وہ چیخا۔ اور اسکا ہاتھ چھوٹا۔ راحیل نیچے گرتا چلا گیا۔
“رااااحححححیلللللللل” کئی آوازیں فضا میں گھونجیں تھیں۔ وہ تیسری منزل سے زمین پر گڑا تھا۔ آنکھیں کچھ پل کو کھولیں، کانوں میں اپنے نام کی سدائیں بھی گھونجی اور پھر آنکھیں بند ہو گئیں۔۔۔۔۔سبھی اسکی طرف بھاگے۔ بلاج کی آنکھیں بھی بند ہو گئیں۔۔
پ و ل ی س پہنچ چکی تھی۔ دونوں کو پکڑ لیا گیا تھا۔ سبکی مدد سے دونوں کو ہسپتال لے جایا گیا۔۔۔


آپریشن تھیٹر کے باہر عائشہ کھڑی تھی۔ وہ کس طرح اب تک اپنے قدموں پر تھی یہ وہ نہیں جانتی تھی۔ وہ مسلسل اسکی زندگی کء دعا مانگ رہی تھی۔ وہی کچھ دور زمین پر وہ پھٹے ہونٹ اور سر کو لیے بیٹھی۔ تھی۔ اسکی آنکھوں سے وہ منظر ہی دور نہیں ہو رہا تھا۔ جب اسکو دو گولیاں لگیں۔۔۔۔۔ وہ اس سب میں خود کو قصور وار تھہڑا رہی تھی۔ اسکی وجہ سے دونوں کی جان خطرے میں تھی۔ اگر وہ بلاج کو پہلے ہی سب بتا دیتی تو یہ سب نا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔