55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

“جی جی میں بس پہنچتا ہوں، آدھے گھنٹے میں ” گاڑی کی چابی پکڑتے وہ باہر کی طرف بھاگا، ابھی اسے ہسپتال سے کال آئی وہ وہی جا رہا تھا۔ رش ڈرائیو کے بعد وہ ہسپتال پہنچا۔
” ڈاکٹر یہ سب کیسے ہوا؟ بلاج ڈاکٹر کے پاس آتے ہی فوراً بولا۔ جو کی دو نرسز کے پاس کھڑا تھا۔۔
“میرے کیبن میں چلتے ہیں وہی بات ہو گی” ڈاکٹر بلاج کو لیے اپنے کیبن میں آیا۔
“اس دن جس لڑکی تم نے ایڈمٹ کروایا تھا، جسکا ایکسیڈینٹ تمہاری گاڑی سے ہوا تھا” ڈاکٹر نے بات کی شروعات کی۔
” ایک دفع ملنے بھی آیا تھا میں یاد تو ہو گی، کیا ہوا اسے؟اور آپ نے مجھے کیوں یہاں بلوایا ہے؟” بلاج کو ڈاکٹر کی سمجھ نہیں آرہی تھی تبھی وہ چڑتے ہوۓ بولا۔
“اسنے کل رات کو اپنی نبض کاٹ لی تھی، ہم اسکے گھر والوں کو نہیں جانتے، تمہیں ہی سب جانتے ہیں، فوری ٹریٹمنٹ ملنے کی وجہ سے وہ اب ٹھیک ہے، ہم نے بات کرنے کی کوشش کی پر وہ جواب نہیں دے رہی، ہو سکتا ہے، کل کو وہ دوبارہ ایسی کوشش کرے، اسی لیے تمہیں بلایا تم اس سے بات کرو پچھلی دفع اسنے تم سے اچھے سے بات کی تھی، اس سے بات کر کے وجہ کا پتہ لگواؤ وہ ایسے کیوں کر رہی ہے” ڈاکٹر نے بلاج کو سارا معاملا سمجھایا۔ جسے سن کر وہ بھی پریشان ہوا۔
“چلیں میں اس سے بات کرتا ہوں” بلاج کہتا ہوا کھڑا ہوا، اورڈاکٹر کے ساتھ اس لڑکی کے کمرے میں آیا۔
وہ پندرہ سال کی معصوم سی لڑکی تھی۔ سامنے بیڈ پر بیٹھی سوپ پی رہی تھی، بلاج کو دیکھتے ہی اسنے سر پر ڈوپٹہ لے لیا۔ اور چہرہ جھکا کر سوپ پینے لگی۔ بلاج چلتا ہوا اسکے بیڈ کے پاس سٹول کھینج کر بیٹھ گیا۔
“تمہارے ماں باپ کہاں ہیں؟” بلاج نے بیٹھتے ہی سوال کیا۔
“یتیم ہوں، ماں باپ پہلے ہی مر گے” وہ سوپ پیتے ہوۓ ہولے سے بولی، چہرے پر ایک شکن نہیں تھی۔
“ہمم تو اب تک کس کے پاس رہ رہی تھی؟ اور رات کو یہ سب کیوں کیا؟” وہ اسکی کلائی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولا۔۔
“ہاہ کیا صاحب تم کو میری کہانی سننی ہے، چلو تفصیل سے بتاتی ہوں، ان ڈاکٹروں کے سامنے تو بولنے کو بھی دل نہیں کرتا، دوائیوں پر دوائیاں دے رہے ہیں” وہ سوپ کا بول سائیڈ پر رکھتے ہوۓ بولی۔ اسکے لہجے سے بلاج کو لگا وہ کسی دور گاؤں سے آئی ہے۔
“دیکھو حمنہ تمہارے پاس دس منٹ ہیں جلدی سے سب بتاؤ، پھر مجھے جانا ہے” بلاج گھڑی دیکھتے ہوۓ بولا۔
” تو میری کہانی تب شروع ہوتی ہے، جب میں اس دنیا میں آئی، ویسے ہر کسی کی زندگی کی کہانی وہی سے شروع ہوتی ہے،کسی کی خوبصورت ہوتی ہے اور کسی کی میری طرح بدصورت” وہ جیسے خود پر ہنس کر بولی۔
“او ہیلو یہ لمبی تقریر مت کرو جلدی سے شاٹ میں بتاؤ” بلاج کو اب اس سب سے چڑچڑاہٹ ہو رہی تھی۔ اسکے کہنے پر حمنہ نے منہ بنایا۔ اور پھر بولنے لگی۔
“میرے پیدا ہوتے ہی میری ماں مر گئی، باپ نے اپنی بہن کے کہنے پر دوسری شادی کر لی، اور پھر اپنی زندگی میں کھو گیا، ماں تو صاحب اپنی ہی ہوتی ہے، سوتیلی مائیں کہاں اپنانی ہیں، اور وہی اسنے کیا، مجھ پر ہر ظلم کیا، اور دیکھو میں ابھی تک اسکی مار پیٹ سہ کر بھی زندہ ہوں، باپ سال پہلے کینسر کی وجہ سے مر گیا، اسکے بعد سوتیلی ماں تو مجھے پہلے ہی ناپسند کرتی تھی، اسنے سب سے پہلے میرا سکول چھڑوایا۔ چھے مہینے تک تو اسمے برداشت کیا، پھر پچاس سال کے بُڈھے زمین دار سے بہانے لگی جسکی پہلے ہی دو بیوئیاں تھیں، پر میں بھی حمنہ ہوں میں بھی وہاں سے بھاگ آئی، گھر سے باہر قدم تو رکھ دیا، پھر معلوم ہوا، دنیا تو اس سوتیلی ماں سے زیادہ خطرناک ہے، جگہ جگہ بھٹکتی رہی، بہت کچھ ہوا میرے ساتھ خیر اسکو چھوڑو اس دن جب آپ گاڑی چلا رہے تھے، تب بھی جان بوجھ کر اپکی گاڑی کے سامنے آئی تھی، کہ چلو جھنجھٹ ہی ختم ہو پر دیکھو بچ گئی، اب زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے، تو جینے کا کیا فائدہ، جب نا کوئی اپنا ہے، اور نا اپنا گھر، یوں کسی کے در پر پڑے رہنے سے کیا فائدہ” وہ کبھی ہنس کر کبھی کھوۓ ہوۓ لہجے میں سب بتا رہی تھی، بلاج حیرانگی سے اپنے سامنے پندرہ سال کی بچی کو دیکھ رہا تھا، وہ کیسے اتنا کچھ برداشت کر گئی۔
“بس یہ تھی میری کہانی اب صاحب تم جاؤ دس منٹ ہو گے” وہ ہنس بولی اور سوپ پینے لگی۔
“دیکھو زندگی ایک دفع ہی ملتی ہے یوں بار بار” بلاج ابھی بول رہا تھا جب وہ کاٹ کر بولی۔
“ارے صاحب، تم بھی ان ڈاکٹروں کی طرح مجھ سے یہ سب مت بولو، معلوم ہے مجھے سب، پر ایک دفع تم اپنے اپ کو میری جگہ پر رکھ کر دیکھو پھر پتہ چلے گا، ویسے بھی تم امیر ہو تمہیں کوئی پریشانی نہیں ہو گی،میں غریب ہوں اسی لیے رُل رہی ہوں” وہ اسکی بات کاٹ کر تلخ لہجے میں بولی۔ بلاج اسکی بات سن کر ہلکا سا مسکرا اور سٹول سے کھڑا ہوا۔
“ضروری نہیں امیر خوش ہی ہو کیا پتہ اسکی زندگی تم سے بھی بدتر ہو اور تم اتنی چھوٹی سی ہو باتیں دادی اماں والی کر رہی ہو، اچھا اگر میں تمہیں اچھا سکول دوں، جہاں تم کھا سکو ، اور اچھا پڑھ سکو تو کیا تم یہ اپنی کلائی کاٹنا اور گاڑی کے آگے آنے بند کرو گی، اور اچھی زندگی گزارو گی، تمہارا سارا خرچا مین اُٹھاؤ گا بولو منظور ہے؟” بلاج نے کچھ سوچ کر بولا، حمنہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“صاحب کا سچ میں تم یہ سب کرو گے؟” وہ آنکھیں بری کرتے ہوۓ بولی۔
“بالکل کروں گا مین نہین چاہتا تم اتنی جلدی مر جاؤ، ویسے جتنی بھی کوشش کر لو، جب تک زندگی ہے مر نہیں پاؤ گی” وہ ہلکا سا ہنس کر بولا۔
“اگر تم یہ سب کرے گا تو مجھے کوئی مسلہ نہیں، مجھے بس سکون کی زندگی چاہیے، اور تم کو پتہ مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے مین تم کو پڑھ کر دیکھاؤ گی، پھر جب مین بری ہو جاؤں گی تمہارے پیسے سارے واپس کر دوں گی” وہ خیالی پلاؤ بناتے ہوۓ بولی۔ بلاج نے ہنس کر نفی میں سر ہلایا۔
“تم ابھی اپنی آنے والی خوبصورت زندگی کے بارے میں سوچوں میں چلتا ہوں، رات تک سارا پراسس پورا کروا کر کل تمہیں لینے آؤں گا، ٹھیک ہے” وہ خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا۔ حمنہ نے اُکے کا سائن دیا بلاج مسکراتا کمرے سے باہر نکل آیا۔ گھڑی پر وقت دیکھا تو کافی وہ چکا تھا۔


راحیل کی آنکھ نو بجے کے قریب کھلی، وہ اُٹھ کر بیٹھا آس پاس نظر دُوڑائی تو کمرہ خالی تھا۔ اسکے دماغ میں کل کا سارا واقع آیا۔ وہ کھڑا ہوا اور فریش ہو کر بالوں کو ڈراۓ کر کے سیٹ کرتا، وہ کمرے سے باہر آیا۔ ٹیوی لاونچ میں حسام، امرحہ، اور ہارون بیٹھے ہوۓ تھے، وہ ناشتہ لے کر آے تھے۔ عائشہ صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی، اور امرحہ سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی۔ اسے یوں ہنستے دیکھ راحیل کے ماتھے پر بل پڑے، وہ تو سوچ رہا تھا وہ دکھی اور روتی ہوئی ملے گی پر یہاں معاملا بدلا ہوا تھا۔
“عائشہ بھابھی! منہ دیکھائی میں کیا ملا؟” مشی راحیل کو دیکھ کر فوراً بولی۔ عائشہ اسکی عمر کی ہی تھی پر رشتے کے لحاظ سے اسنے اسے بھابھی ہی بلانا شروع کیا۔ عائشہ بھی راحیل کو آتا دیکھ چکی تھی۔
“تمہارا بھائی مل گیا اب اور کیا چاہیے؟” عائشہ راحیل کو سرد نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولی۔ اسکے لہجے میں چھپے طنز کو راحیل نے صاف محسوس کیا۔
“ارے واہ لگتا ہے پٹری بدل گئی گڈ ایم سو ہیپی” مشی ایک دم چہک کر بولی اور عائشہ کے گلے لگی۔
“مشی تمہیں ہر وقت کودنے میں مزہ آتا، بے وقوفوں کی طرح ناچتی رہتی ہو” اسماء اسے یوں عائشہ سے چپکتے ہوۓ دیکھ کر غصے سے بولی۔ راحیل سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔
“میں نے کیا کِیا؟” مشی عائشہ سے علحیدہ ہوتے ہوۓ حیرانگی سے بولی۔
“چھوٹی نہیں ہو تم جاؤ ماما کی مدد کرواؤں، ہر وقت ہنسی مزاق” اسماء نےا سے اچھا خاصہ ڈانٹ دیا۔ ان سب کے سامنے اسطرح انسلٹ ہونگ پر مشی کی آنکھوں میں آنسوں آ گے۔
“ارے کیسی باتیں کر رہی ہیں، اسماء جی، اگر حساب لگایا جاۓ تو آپ مشی سے دو سال بری ہیں، اسکے حساب سے تو اپکو اپنی ماما کی مدد کرنی چاہیے، ارے میں بھی کیا، آپکو تھوڑی یہ سوٹ کرتا ہے کہ آپ خود کیچن میں جائیں، اچھا ہے دوسروں پر حکم چلاتے رہو گُڈ” حسام جھٹ سے درمیان میں بولا۔ اسماء کو بہت غصہ آیا۔
“ہاں یہ گھر میرے ڈیڈ کا ہے، یہاں کام کروں یا نا کروں مجھے فرق نہیں پتہ ہے، ہاں تم خود کسی کے پیسوں پر ابھی تک پل رہے ہو، وہ بھول گے یاد دلواؤں” اسماء طنزیہ انداز میں بولتی حسام کو چپ کروا گئی، اسکی بات کا مطلب وہ اچھے سے جانتے تھے۔ آج پہلی بار حسام کو کسی نے چپ کروایا تھا، وہ اس بات کو خود ہی بڑھانا نہین چاہتا تھا۔
“بچوں آ جاؤ ناشتہ لگ گیا” روبینہ بیگم کی آواز آئی۔ سبھی اُٹھ کر ڈائینگ ٹیبل پر چلے گے۔ اور ناشتہ شروع کیا۔
“ویسے تم لوگ مطلب تمہارے سو کالڈ ایس میٹ گروپ میں پانچ لوگ نہیں تھے، جنہیں تم اپنی فیملی سمجھتے ہو، اور وہ فیک فیملی ہر جگہ کھڑی ہوتی ہے، تو آج اپنی سو کالڈ دوست کا ناشتہ لے کر تم تینوں ہی کیوں آۓ چوتھا کہاں ہے، کہی چھپ کر تو نہیں آۓ، یا وہ اسے اپنی سو کالڈ فیملی اب مانتا ہی نہیں یہ میرے ساتھ جو جڑ گئی ہے، اسکے سب سے برے دشمن کے ساتھ، تو یہاں آنا نہیں چاہتا ہو گا، کیوں ٹھیک کہا نا” راحیل طنزیہ انداز میں بولتا بار بار انکے گروپ کو نشانہ بناتے ہوۓ بولا۔
“ان یور ڈریمز، مسٹر راحیل” حال میں داخل ہوتا بلاج بولا۔۔
سامنے کھڑے بلاج کو دیکھ کر راحیل کے ماتھے پر بل پڑے۔ وہ تو اور بھی بہت کچھ بولنا چاہتا تھا۔ ان چاروں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری۔ راحیل نے تیخی نظر نے عائشہ کو مسکراتے دیکھا۔ اسکا مسکرانا اسکے جلے ہر نمک کا کام کر رہا تھا۔
“بلاج حمدانی جسے دل سے اپنا مان لیتا ہے، اسے یوں کسی بے مطلب انسان کے لیے چھوڑتا نہیں، بس کئی ناسورؤں کو خود سے الگ کرنے کے لیے جڑ سے کاٹ کا پھینکتا ضرور ہوں” وہ چلتا ہوا راحیل کے پاس آ کر کھڑا ہوتے ہوۓ سخت لہجے میں بولا۔ راحیل نے اپنے ہاتھ کی مُٹھی کو زور سے بھیچا۔ اور غصے سے بھری نظروں سے بلاج کو گھورنے لگا۔
“بس مائی بڈی، اور وہ ناسور۔۔۔” حسام بلاج سے ہائی فائی کرنے کے لیے کھڑا ہوتے ہوۓ بولنے والا تھا۔
“بس حسام چپ کر کے بیٹھ جاؤ، بلاج تم بھی ” عائشہ نے حسام کو ڈانٹ کر چپ کروا دیا۔ اور پلٹ کر بلاج کو بولا جو راحیل کے گھورنے کو اگنور کیے، کرسی گھسیٹ کر بیٹھ بھی چکا تھا۔ اور اب مزے سے ناشتہ کر رہا تھا وہ حمنہ سے مل کر فوراً اسطرف آ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں سے فارغ ہو کر سبھی اپنے اپنے گھر گے اور ولیمے کے لیے تیار ہونے لگے۔


“پاپا! کیسا لگ رہا ہوں، یہ بال ٹھیک تو بنے ہیں نا؟” ہارون بار بار اپنے بال درست کرتے ہوۓ جاوید صاحب سے پوچھ رہا تھا۔
“آج سے پہلے تو تم نے کبھی اپنے اوپر اتنا دھیان نہیں دیا، اور آجکل برے خوش نظر آتے ہو بات کیا ہے؟ کہی دل ول تو نہیں لگ گیا” جاوید صاحب اسے گہری نظروں سے جانچتے ہوۓ بولے۔ انکے سوال پر ہارون کی سانسیں رُکیں۔
“پاپا کیسی باتیں کر رہے ہیں” وہ بات کو ٹالتے ہوۓ بولا۔
“کون ہے وہ لڑکی جسکی وجہ سے میرے بیٹے کے چہرے پر اتنی پیاری مسکراہٹ آئی ہے” جاوید صاحب کھڑے ہو کر اسکے پاس آکر بولے۔کوئی مین دروازہ پر آکر رُکا، اندر بھرتے اسکے قدم تھم سے گے۔
“پاپا ایسی بات نہیں ہے، بس وہ میری کلاس میٹ ہے، بس اچھی لگتی ہے” وہ ہلکا سا شرما کر بولا۔ جاوید صاحب کا قہقہ بلند ہوا۔۔
“شکر خدا کا تمہیں بھی کوئی پسند آیا، مجھے ملوانا اس سے” جاوید صاحب مسکراتے ہوۓ بولے۔
“ضرور! پر ابھی میں نے اس سے بات نہیں کی تو، پہلے اس سے بات کر لوں پھر اپکو ملواؤں گا” ہارون بات کو ختم کرتے ہوۓ بولا۔
“چلو ٹھیک ہے، ولیمہ پر عالم سے معذرت کر لینا، مجھے آفس میں ضروری کام ہے، میں چلتا ہوں، ابھی تک حسام آیا نہیں تمہیں لینے” جاوید صاحب دو فائلز پکڑتے ہوۓ گھڑی سے وقت دیکھتے ہوۓ بولے۔
“آتا ہو گا، تھوری دیر پہلے اسنے میسج کیا تھا آ رہا ہوں” ہارون موبائل نکال کر اسکا نمبر ملانے لگا۔۔۔۔
“ہیلو انکل کیسے ہیں؟” بلاج جو کہ بایر کھڑا انکی بات سن چکا تھا، وہ حیران ہوا اسے ہارون نے ابھی تک یہ سب بتایا کیوں نہیں۔
“ایم فائن! بیٹے میں لیٹ ہو رہا ہوں تو چلتا ہوں” جاوید صاحب بول کر باہر کی طرف چلے گے۔
“حسام نے آنا تھا؟” ہارون اسے اپنے سامنے دیکھ کر بولا۔
“ہاں وہ امرحہ کو پک کرنے چلا گیا تو مجھے آنا پڑا ویسے بڈی، تو کسی کو پسند کرتا ہے اور اتنی بری اور خوشی کی بات تو نے مجھے نہیں بتائی” بلاج اسکے بال بگاڑتے ہوۓ بولا۔ حیران تھا کہ ہارون جیسا کم گو اپنے آپ میں مگن رہنے والا انسان بھی کسی کو پسند کر سکتا ہے۔
“تم لوگوں کو بھی رات کو بتانے والا تھا، پر تم نے سن لیا” وہ مسکرا کر بولا۔
“اچھا چلو اب بتاؤ کس کو پسند کرتے ہو، اور کب سے چل رہا ہے یہ سب جو ہمیں معلوم نہیں، چھپے رستم” بلاج ہنس کر بولا۔۔
“تم سب اسے بہت اچھے سے جانتے ہو، وہ لڑکی میرال ہے ، جسے میں پسند کرتا ہوں” ہارون مسکرا کر سامنے شیشے کو دیکھتے اپنی بال بناتے ہوۓ بولا۔ اور بلاج کو لگا جیسے کسی نے ایک جھٹکے سے اسکے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی۔ میرال کا نام اسکے منہ سے سن کر وہ سُن پڑگیا۔
“پتہ ہے، پہلے دن سے ہی وہ مجھے اچھی لگنے لگی، پر میں اس فیلنگ کو اگنور کرتا رہا، پر آہستہ آہستہ مجھے
احساس ہوا چاہے مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے، پر میں ڈرتا تھا تم سب کو پتہ چلے گا تو تم سب کہی ناراض نا ہو جاؤ” وہ اپنی ہی دھن میں بولے جا رہا تھا۔۔ بلاج کے کانوں میں الفاظ تو پڑ رہے تھے پر وہ اسے سمجھ نہیں آرہے تھے، اسکا دماغ ایک دم معائف ہو چکا تھا۔ ہارون اور بھی نا جانے کیا کچھ بول رہا تھا۔
“بلاج! تو اپ سیٹ تو نہیں آئی نو تجھے وہ بہت بری لگتی ہے، پر میرا یقین کر وہ بہت اچھی ہے” ہارون اسکی طرف پلٹ کر بولا۔ بلاج اسکے پکارنے پر ہوش میں آیا۔ اور اپنے آپ کو سھنمبالو۔
“کیا ہوا؟ تجھے برا لگا، پر یار میں چاہ کر بھی یہ فیلنگ روک نہیں پایا، اسی لیے میں تم سبکو نہیں بتا رہا تھا، تم سب ناراض ہو جاؤ گے” ہارون کو اب بلاج کا چہرہ دیکھ کر پریشانی لگ گئی۔ بلاج نے چہرے پر ہاتھ پھیرکر اپنے آپ کو نارمل کیا۔
“پاگل ہے ایسی بات نہیں، چل دیر ہو رہی ہے” وہ بول کر پلٹ گیا اور باہر آکر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر پانی کی آدھی بوتل پی لی۔ ہارون اسکےس اتھ آکر بیٹھا۔ بلاج نے گاڑی چلا دی۔ وہ خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا۔ اسکا دماغ ابھی بھی کام نہیں کر رہا تھا۔ ہزاروں سوال جواب اسکے دماغ میں چل رہے تھے۔ سارا فنگشن وہ چپ سا رہا، اور بعد میں طبعیت خراب کا بہانہ بنا کر وہ گھر چلا آیا۔ راحیل اور عائشہ رسم کے مطابق خان ہاوس بھیج دیا گیا۔
**
صبح ناشتے کے ٹیبل پر بری ہنسی آ رہی تھی تمہیں” واشروم سے نکلتی عائشہ کو دیکھ کر وہ غصے سے اسکے پاس آکر بازو زور سے پکڑتے ہوۓ بولا۔ صبح کا اب جا کر اسے بات کرنے کا موقع ملا تھا۔
میرا منہ جیسے مرضعی ویسے ہنسوں گی مسکراؤں گی، اپکو اس سے کیا” عائشہ نے اپنا بازو چھڑواتے ہوۓ غصے سے کہا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کر اپنے بالوں میں برش کرنے لگی۔
” میرے سامنے تم اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر مجھ پر ہنس رہی تھی، اور مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے، واہ” وہ اونچی آواز میں چیخ کر بولا۔ نا جانے کس بات کا غصہ تھا جو وہ ایسے ظاہر کر رہا تھا۔ عائشہ نے برش ٹیبل پر رکھ کر پلٹ کر اسے دیکھا۔
“راحیل عالم اپنی آواز نچی رکھیں، نیچے میرے ماں باپ ہیں اگر انہوں نے ہمیں ایسے لڑتے دیکھ لیا تھا اچھا نہیں ہو گا اور غصہ کس بات کا آرہا ہے، ہنہہ میں تو پہلے بھی سب کے ساتھ مل کر ہنس لیتی ہوں تو اس میں نیا کیا ہے؟” عائشہ اسکے پاس آکر سرد لہجے میں بولی۔ راحیل نے گہرا سانس لے کر اپنے آپ کو نارمل کرنا چاہا۔
“میں بتاؤں کس بات کا غصہ ہے۔ جو بدتمیزی رات کو کی تھی، اپکو لگا ہو گا، یہ تو میرے سامنے روۓ گی، دہائیاں دے گی، پر صبح مسکراتے ہوۓ دیکھ کر برداشت نہیں ہوا سوچا ہو گا کل رات کو جو درندے والا روپ میں نے اسے دیکھایا تھا اسے تو توڑ گیا ہو گا، پر راحیل عالم اپکی بھول ہے، میں ٹوٹنے والی نہیں، میں یہ سب برداشت کروں گی، میں دیکھوں گی اپنے اندر کی نفرت کو کس طریقے سے باہر نکالتے ہو، میں اس رشتے کو نِبھانے کی اپنی آخری سانس تک کوشش کروں گی اور آپ اپنے اندر کی نفرت کو نکالتے رہنا، مگر ایک بات یاد رکھنا، جتنا آپ میرے ساتھ برا کرو گے، میں کچھ نہیں بھولوں گی، بس سب کے سامنے اس رشتے کو اچھا دیکھانے مین مدد کر دینا ہو سکے تو سبکے سامنے اچھے سے رہ لینا، باقی مرضعی یے جو کرنا ہے کرو” بولتے بولتے اسکی آنکھیں نم ہوئیں تھیں، راحیل نے اسکی بھیگی آنکھوں میں دیکھا۔ پہلے وہ ہلکا سا ہنسا، اور پھر زور زور سے ہنسنا شروع کر دیا، عائشہ نے حیرانگی سے اسے یوں ہنستے دیکھا۔
“اف واؤ بہت اچھے، بہت اچھی تقریر کی، رشتے کو آخری سانس تک نبھاؤں گی، جو کرنا ہے کر لو، بلا بلا بلا۔۔۔۔۔۔ تم محبت کو تو آخری سانس تک نِبھا نا سکی تو اس رشتے کو کیا نِبھاؤ گی، تمہیں کیا لگا میرے سامنے ایسی بکواس باتیں کرو گی تو مجھے احساس کو جاۓ گا کہ کل رات میں نے برا کیا،تمہاری بھول ہے، میں نا تو تمہیں سکون سے رہنے دوں گا اور نا تمہارے ان دوستوں کو، سبکو اکگ کر دوں گا اور وہ بھی تمہاری انکھوں کے سامنے اور تم کچھ کر نہیں پاؤں گی، پھر تمہیں احساس ہو گا، مجھے کیسا محسوس ہوا تھا” وہ لال انگارے بھری نظروں سے اسے گھورتے ہوۓ سرد لہجے میں بولا۔۔
“تو آپکا ضمیر اس بات کی گواہی دے رہا ہے کل رات جو بھی کیا غلط تھا” عائشہ نے اسکی ایک بات پکڑ کر اسے لفظوں کے جال میں اُلجھایا۔
“غلط کیا تھا، میری بیوی ہو، میرا حق ہے” وہ دو قدم چلتا ہوا اسکے نزدیک آتے ہوۓ بولا۔۔ عائشہ نے نفی میں سر ہلایا اور گہرا سانس لیا۔
“اتنا مت گِڑو راحیل مجھے خود پر شرم آۓ کہ آپ جیسے انسان سے کسی زمانے میں محبت کی” عائشہ پلٹ کر بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔
“مان لیا نا کسی زمانے میں محبت کی تھی، آج نہیں ہے، میرے ہر عمل کے لیے تیار رہنا” راحیل اسکے الفاظوں کو پکڑتے ہوۓ بولا۔ اور واشروم میں چلتا چینج کرنے چلا گیا۔ عائشہ سیدھی ہو کر لیٹی، آنسوں خاموشی سےا سکی آنکھوں سے نکل رہے تھے، تبھی واشروم کا دروازہ کھلا، اسنے سر تک کمبل لے لیا، راحیل بیڈ پر بیٹھ کر موبائل پر کچھ کام کرنے لگا، کل اسکی شوٹنگ تھی، وہ کام ختم کر کے بیڈ پر لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد عائشہ اُٹھ کر بیٹھی، اور اپنی طرف کا سائیڈ ٹیبل سے ایک ڈبی نکالی اس میں سے ایک گولی نکال کر منہ میں ڈالی اور پانی سے نگلی، اور واپس بیڈ پر لیٹ گی، اور تھوڑی ہی دیر میں سو گئی۔ راحیل سویا نہیں تھا وہ اُٹھا اور اسکی طرف آ کر وہی دوائی کی ڈبی نکالی اور دیکھنے لگا یہ کس چیز کی دوائی ہے،
“پاگل لڑکی!” راحیل نے دانت پیس کر کہا کیونکہ وہ نیند کی گولیاں لیتی تھی، اسنے اور بھی دوائیاں نکالی۔ باقی دوائیوں کی اسے سمجھ نا آئی پر نیند کی گولیوں کا پتہ لگ گیا۔ وہ اسے وہی رکھ کر اپنی جگہ پر لیٹ گیا۔


بلاج گھر پہنچا گاڑی کو کھڑا کیا، ہاتھ میں کوٹ پکڑے، بال ماتھے پر بکھرے ہوۓ تھے، شرٹ اُتارتا سفید بنیان میں گارڈن میں آیا اور وہی گھاس پر لیٹ گیا، اسکے کانوں میں ہارون کے الفاظ گھونج رہے۔
“ایسا نہیں ہونا چاہیے، ہارون کو میرال سے محبت کیسے ہو سکتی ہے کیسے” وہ اونچی آواز میں اوپر آسمان کو دیکھ کر چلایا، دو آنسوں اسکی آنکھوں سے نکل کر اسی ٹھنڈی گھاس میں جزب ہو گے۔
“میں اب کیا کروں؟ ایک طرف محبت اور دوسری طرح دوست میں کیا کروں گا” وہ اُٹھ کر بیٹھا اور سوچنے لگا، وہ اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہا تھا۔ تبھی اسکے موبائل پر بیل ہوئی۔ اسنے موبائل دیکھا تو میرال کی کال تھی۔ اسکی آنکھیں بھر آئیں۔ اسنے کانپتے ہاتھوں سے کال پک کی اور موبائل کان سے لگایا۔
“کیا کر رہے ہو، گھر پہنچ گے؟ اور فنگشن کیسا رہا؟” وہ اسکے کال اُٹھاتے ہی فوراً بولی۔ بلاج اسکی آواز سن کر واپس گھاس پر لیٹ گیا۔
“ہاں” وہ بس اتنا ہی بولا۔ اور اوپر تاروں بھرے آسمان کو دیکھنے لگا۔
“ہاں کیا؟ بتاؤ کیا کر رہے ہو؟” میرال اسکا جواب سن کر چڑتے ہوۓ بولی۔
“چاند دیکھ رہا ہوں” وہ آسمان پر تاروں کے گھیرے میں جگمگاتے چاند کو دیکھتے ہوۓ بولا۔
” نائیس، تو کل یونی آ رہے ہو؟” میرال اپنے بیڈ پر لیٹتے ہوۓ مسکرا کر بولی۔
“ہممم” وہ کھوۓ ہوۓ لہجے میں بولا۔ میرال کو عجیب سا محسوس ہوا۔ وہ پہلی بار اتنے چھوٹے چھوٹے جواب دے رہا تھا۔ ورنہ وہ اسکے ساتھ کافی بولتا تھا۔
“بلاج! کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو نا آئی مین ایسا لگ رہا پے تم پریشان ہو کیا ہوا؟ میرے ساتھ شئیر کرو” میرال اپنی جگہ پر اُٹھ کر بیٹھتے سیریس ہو کر بولی۔ اسکے یوں پکارنے پر بلاج کو نا جانے کیا ہوا وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور کوٹ پہن کر گاڑی کی طرف برھنے لگا۔
“مجھے ابھی تم سے ملنا ہے تمہارے ہاسٹل آ رہا ہوں” گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوے بولا۔
“واٹ تم پاگل ہو بالکل نہیں سکون سے گھر بیٹھو، واڈرن بہت سخت ہے اور رات کے اس وقت ملنا مجھے پسند نہیں” میرال فوراً بولی۔ بلاج رک گیا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، اسنے دروازہ بند کر دیا۔ اور وہی گاڑی کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا۔ اور اپنی آنکھیوں کو انگلیوں کی مدد سے دبایا۔
“چشمش! اگر میں کبھی کچھ غلط کر جاؤں تو اسکو دل پر مت لینا” وہ کھوۓ ہو لہجے میں بولا۔ میرال کو سمجھ نا آئی وہ کیا بول رہا ہے۔
“کیا؟” وہ چونک کر بولی۔
“کچھ نہیں تم سو جاؤ رات کافی ہو چکی ہے، کل یونی میں ملنا پھر بات ہو گی، ضروری بات بتانی ہے” بلاج نے بول کر کال کاٹ دی اور اپنے کمرے میں آ گیا۔ وہ سوچ چکا تھا اسے کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔


میرال تیار ہو کر یونی پہنچی وہ کلاس میں آئی اپنا بیگ رکھا اور موبائل پکڑ کر بلاج کا نمبر ملانے لگی کل رات سے اسے بے چینی ہو رہی تھی کہی کچھ غلط ہونے کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ چلتے ہوۓ کسی سے ٹکڑائی۔ اور اسکا موبائل نیچے گڑ گیا۔ ۔
“ایم سو۔۔۔” وہ معافی مانگنے لگی تھی۔
“اُوو تو تم ہو، ویسے ماننا پڑے گا ایک نمبر کی کھیلاڑی ہو” اسماء ایک ادا سے گلاسس اتارتے ہوۓ بالوں کو پیچھے کندھے پر بکھیرتے ہوۓ بولی۔
“کیا مطلب ہے تمہارا؟” میرال کو اسکی بات سمجھ نا آئی۔
“اُووو تم تو بہت بھولی ہو، بلاج حمدانی کو پھسانے کی کوشش کر رہی ہو، دیکھا اس دن وہ تمہارے لیے کھڑا ہوا، وہ بھی میرے سامنے اپنی منگیتر کے سامنے ماننا پرے گا تم ایک نمبر کی چلاک لڑکی ہو امیر لڑکوں کو پھسانے کی صحیح کوشش کر رہی ہو” اسماء طنزیہ لہجے میں تالیاں بجاتے ہوۓ بولی۔ اور میرال کی انکھیں تو اسکی منگیتر والی بات پر پوری کی پوری کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اسے یہ معلوم نہیں تھا اس دن مشی نے اسے راحیل اور عائشہ کے رشتے کے بارے مین بتایا تھا لیکن یہ بات اسے معلوم نا تھی۔
“منگیتر!” اسکو اپنی آواز کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
“ہاں منگیتر، دو سال پہلے ہماری منگنی ہوئی، اور دو تین سال تک شادی بھی ہو جاۓ گی، تم بلاج کے سٹائل کو شائد جانتی تھی وہ تم جیسی بہن جی کو کبھی اپنی بیوی نہیں بناۓ گا تو اچھا ہو گا تم اس سے دور رہو۔ ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، بس وہ تھوڑ سا ناراض ہے اسی لیے اُکھڑا اُکھڑا رہتا ہے ، پر میں اسے منا لوں گی ۔ اسماء اپنے بیگ سے موبائل نکالتے ہوۓ بولی۔
” بیوقوف کسی اور کو بناؤ، وہ تم سے نفرت کرتا ہے اور وہ مین اسکی آنکھوں میں دیکھ سکتی ہوں، اور جہاں تک رہی محبت کی بات تو بلاج حمدانی صرف میرال احمد سے محبت کرتا ہے، تو تم اپنا یہ جھوٹ کس اور کو سنانا” میرال کو اسکی ایک بھی بات سچ نا لگی۔ وہ سخت لہجے میں بولی۔
“ہنہہ میں کیوں جھوٹ بولوں گی یہ رہی منگنی کی انگھوٹھی اور یہ رہی منگنی کی تصاویر” اسماء نے اپنے ہاتھ میں پہی ڈائمنڈ کی انگھوٹھی دیکھائی اور موبائل سے تصاویر دیکھائی میرال پھٹی انکھوں سے سب دیکھ رہی تھی پر اسکا دل ابھی بھی ماننے کا تیار نا تھا۔ اسماء مسکرا کر اسکا اُڑا ہوا چہرہ دیکھتی رہی۔ بارات والے دن وہ ان دونوں کو اکھٹے کھڑے دیکھ چکی، تب سے اسکا بس نہیں چل رہا تھا کیسے میرال کو دور کرے۔ تبھی اسے منگنی کا خیال آیا۔ یقیناً بلاج نےا سے نہیں بتایا ہو گا کیونکہ وہ اس منگنی کو مانتا نہیں تھا۔ وہ مسکراتے ہوۓ کلاس میں چلی گئی۔
میرال وہی کھڑی رہی جب بلاج کا میسج آیا، وہ اسے کاریڈور کے خالی حصے میں بلا رہا تھا۔ میرال خود کو سھنمبال کر اسکے پاس آئی۔ بلاج سامنے دیوار سے ساتھ کھڑا اسے اتے ہوے دیکھ رہا تھا۔
“کیا تمہاری منگنی ہو چکی ہے؟ اور وہ بھی اس اسماء کے ساتھ؟” میرال نے بنا کوئی اور بات کیے یہی سوال کیا۔ اور دل ہی دل میں دعا کرنے لگی وہ انکار کردے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔