55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

وہ ایک گھنٹہ وہاں بیٹھی دروازہ کھٹکھٹاتی رہی، آس پاس کے کافی لوگ اسے حیرانگی سے دیکھ رہے تھے اور آپس میں چہ مگوئیاں کر رہے تھے۔
“تجھے ایک دفع سمجھ نہیں آتی دفع ہو جا یہاں سے، کتنا گھٹیا کردار ہے تیرا سب معلوم ہو گیا نکل یہاں سے ” ملائکہ کی ساس باہر آئی اور میرال کو ہاتھ سے پکڑ کر گلی میں دھکہ دیا۔ وہ زمین پر گڑی، تھوری زمین پر لگی اور چھل گئی۔ ملائکہ کی ساس نے دروازہ بند کر دیا۔ میرال نے نم نظروں سے آس پاس دیکھا، کافی لوگ اسے دیکھ تھے اور باتیں کر رہے تھے۔ اسنے اپنا ڈوپٹہ سر پر لیا اور بیگ کو کندھے پر ڈالے وہ کھڑی ہو گئی۔ اور اس گلی سے نکل گئی۔ وہ بے دھیانی میں چلتی جا رہی تھے آنکھوں سے آنسوں جاری تھے۔ وہ چلتی جا رہی تھی۔ اسکے دماغ میں ملائکہ کے الفاظ گھونج رہے تھے۔
“یہ تو میرال لگ رہی ہے، یوں کیوں چل رہی ہے؟” ہارون بائیک پر بیٹھا یونی سے گھر کی طرف جا رہا تھا جب اسکی نظر میرال پر پڑی۔ اسنے اپنی بائیک کا رخ میرال کی طرف موڑا۔ اور اسکے سامنے بائیک روکی۔ بائیک روکنے کی وجہ سے میرال کے پاؤں بھی رکے۔ اسنے چہرہ اُٹھا کر دیکھا تو ہارون تھا۔
“میرال تمہیں کیا ہوا، کہی گڑی ہو؟ اور رو کیوں رہی ہو؟” ہارون جھٹ سے بائیک سے اتر کر اسکے سامنے کھڑا ہوا۔ میرال نے اپنے ڈوپٹے سے چہرہ صاف کیا۔ وہ اسکو کچھ بتانا نہیں چاہتی تھی۔
“ہاں چلتے وقت ٹھوکر لگ گئی۔ کافی گہری ٹھوکر لگی تھی؟ تم بھی زندگی میں احتیاط سے چلنا تا کہ کبھی ٹھوکر نا لگ سکے ” وہ کھوۓ ہوۓ لہجے میں بولی۔ ہارون کو اسکی دماغی حالت پر شک سا ہوا۔
“اچھا چلو میں تمہیں ہاسٹل چھوڑ دیتا ہوں” ہارون بائیک پر بیٹھ کر بولا۔ میرال نے نفی مین سر ہلایا۔ اقر ایک رکشہ روکا۔
“شکریہ ہارون تم گھر جاؤ بلاوجہ تقلیف ہو گی میں چلی جاؤں گی ویسے بھی زندگی میں اکیلا ہی چلنا ہوتا ہے” وہ رکشے میں بیٹھتے ہوۓ بولی۔ ہارون کو اسکی بات پھر عجیب لگی۔ وہ بیٹھ چکی تھی اور رکشہ جلا گیا تھا۔ ہارون نے گہری سانس لی اور بائیک کا رستہ گھر کی طرف موڑا۔


وہ پانچوں عائشہ کے گھر پر موجود تھے، وہ کافی دنوں سے اپ سیٹ تھی تو سب نے اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے اچانک ا کر اسے سرپرائز دیا۔ اس وقت وہ سب گھر کے گارڈن میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
“اب یہ ڈرامہ کامیٹیشن کا ایک نیا ڈرامہ شروع ہو گیا اوپر سے اس بہن جی کو انجارج بنا دیا سب وہ کرے گی تو ہم کیا کریں گے؟” امرحہ پلیٹ میں رکھی چیپس کھاتے ہوۓ بولی۔
” اچھا ہے مزہ آۓ گا، یار مجھے تو آج حیات عالم کی ہوئی بے عزتی پر بہت مزہ آیا بہت ایکشن مار رہی تھی” حسام ہنستے ہوۓ بولا۔
“ہاں مزہ تو آیا” امرحہ ہنس کر بولی۔
“بلاج داداجی کی کال آئی تھی تم انکا فون نہین اُٹھا رہے وہ کافی پریشان ہیں ایک دفع بات کر لے” حسام نے کچھ دیر پہلے اسکے دادا کی کال کے بارے میں بتایا۔ بلاج جو کہ اپنے موبائل پر کسی کو میسج کرنے مین مصروف تھا اسکی بات پر صرف ایک نظر اسے دیکھا۔اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
“اگلی دفع کسی کی کال اُٹھاۓ تو بولنا وہ دوبارہ کسی کو کال نا کریںا اگر کرنی ہو تو اپنے بیٹے کو کریں، اور بولتا انکا پوتا مر گیا” وہ ٹھنڈے لہجے میں بولا۔ حسام نے غصے سے اسکی طرف دیکھا۔ اور پاس پڑا جوتا اسکی طرف پھیکا جو سیدھا اسکے سر پر لگا۔
“سالے مجھے کیوں مارا؟” بلاج نے حیرانگی سے اسے دیکھا جو جوتا مار کر اب مسکر ارہا تھا۔
“کیونکہ تیری عقل میں جو بھوسا بھرا ہے شائد میرے جوتے سے وہ تھوڑا کم ہو جاۓ” حسام نے ہنستے ہوۓ کہا۔ بلاج نے وہی جوتا کھینچ کر اسے مارا۔
“کوئی بھوسا نہیں بھرا اور تم سب اپنے اپنے موبائل سے انکا نمبر بلاک کرو” بلاج نے گھاس پر پڑا حسام کا موبائل اُٹھایا اور خود نمبر بلاک کیا۔ حسام نے نفی میں سر ہلایا۔ مطلب یہ نہیں سُدھر سکتا۔ اور واپس اپنی جگہ پر بیٹھا۔
“یار کچھ کھلا دو بہت بھوک لگی ہے” حسام نے امرحہ اور عائشہ کو کہا۔ کیونکہ گھر پر عائشہ کی ماما موجود نہیں تھیں، اور ورکرز بھی سو چکے تھے تو انہیں ہی کچھ بنانا ہو گا۔
“مجھے تو کچھ نہیں آتا ہاں ہماری شیف عائشہ کو ضرور آتا ہے چل۔ میں تیری مدد کرتی ہوں” امرحہ عائشہ کو لیے اندر کی طرف چل دیں۔
“تب تک میں جوس یا بوتل کا جوگاڑ کرتا ہوں” حسام کھڑا ہو کر انکے پیچھے چلا گیا۔ بالج کی نظر چپ چاپ بیٹھے ہارون پر پڑی وہ کچھ سوچ رہا تھا۔
“بڈی کیا ہوا؟ پریشان لگ رہا ہے؟” بلاج نے ہارون سے پوچھا۔
“ہممم نہیں بس ایسے ہی کچھ سوچ رہا تھا؟” وہ چونکتے ہوۓ بولا۔ بلاج نے اسے پہلی دفع ایسے دیکھا تھا۔
“ایسا کیا سوچ رہا تھا بول؟” بلاج کو لگا یقیناً کوئی بری بات ہو گی جو وہ یوں بول رہا ہے۔
“یار آج جب مین گھر جا رہا تھا۔۔۔ ” ہارون نے میرال سےملاقات کا سارا واقع اسے سنایا۔
“تو اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے گڑ گئی ہو گی تو زیادہ سوچ رہا ہے؟” بلاج نے عام سے لہجے میں کہا۔ ہارون نے ہاں مین سر ہلا دیا۔
“لو جی پیو ” تبھی حسام کین لے کر انکے پاس آگیا۔ بلاج نے کین کھولا اور پینے لگا۔
“میرے سامنے اسے گھر سے کال آئی تھی اسکی شائد آپی کا فون تھا، وہی گئی تھی تو وہاں ایسا کیا ہوا جو اسے چوٹ لگی؟ خیر مجھے کیا جو مرضعی ہو” وہ پہلے خود ہی سوچنے لگا بعد میں سر جھٹکا۔ پر بات تو اسکے دماغ سے بھی نہیں نکلی۔۔عائشہ اور امرحہ پاستہ بنا کر لے آئیں، سبھی نے کھایا اور کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ دو بجے کے قریب سبھی اپنے اپنے گھر چلے گے امرحہ عائشہ کے پاس رکی۔


وہ ساری رات روتی رہی اور اپنی امی کو یاد کرتی رہی۔ ایک گھنٹہ ہی وہ سو پائی۔ اسکی روم میٹ آمنہ اپنے گھر گئی ہوئی تھی تو وہ اکیلی ساری رات کمرے میں روتی رہی۔ روتے روتے نا اجنے کب اسکی انکھ لگ گئی۔ صبح دس بجے اسکی آنکھ کھلی۔ وقت دیکھ کر وہ جلدی جلدی اُٹھی اور یونی کے لیے تیار ہونے لگی موبائل پر مشی کی دس مس کالز تھیں۔ وہ اپنے اندر ہمت پیدا کرتی یونی آئی۔ پہلی کلاس تو نکل چکی تھی۔ وہ سیدھی اپنی کلاس میں آئی۔ جہاں دوسرا لیکچر ہونے والا تھا۔ وہ چلتی ہوئی اپنی جگہ پر آئی۔
“تمہیں مین نے کتنی کالز کیں کہاں تھیں؟ پہلا لیکچر نکل گیا؟” مشی اسے دیکھتے ہی بھرکی تھی۔
“آنکھ نہیں کھلی، اسی لیے لیٹ ہو گئی” وہ اپنی جگہ پر بیٹھتے رجسٹر اور پینسل نکالتے ہوۓ بولی۔
“اوکے میم فرحت نے کہا تم آؤ تو سٹاف روم میں ملنے چلی آؤ” مشی نے کچھ دیر پہلے کہے میم فرحت کے الفظ دھراۓ۔ میرال نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ کہ وہ چلی جاۓ گی۔
“میرال کیا ہوا؟ تمہارا چہرہ کیوں اترا ہوا ہے؟ تم بیمار لگ رہی ہو، کیا ہوا طبعیت تو ٹھیک ہے نا” مشی کو لگا وہ شائد بیمار ہے تبھی اسطرح کا برتاؤ کر رہی ہے۔ بلاج کب کا بنا انکی طرف دیکھے انہی کی باتہں سن رہا تھا۔
“نہیں مشی میں ٹھیک ہوں تم زیادہ مت سوچو” میرال نے زبردستی مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجائی۔ مشی ایماب سے بات کرنے لگ گئی۔ اسکے مصروف ہونے کے بعد میرال نے اپنی نم آنکھوں کو ٹشو سے صاف کیا۔ اسے لگا کوئی اسے دیکھ رہا ہے اسنے نظر اُٹھا کر دیکھا تو بلاج اسے دیکھ رہا تھا۔ کافی سوال اسکے چہرے پر تھے۔ میرال نے نظر چُرا لی۔ تبھی سر کلاس میں آۓ اور لیکچر شروع ہو گیا۔
لیکچر کے بعد میرال میم فرحت سے مل کر واپس آرہی تھی۔ تبھی بلاج اسکے رستے میں آیا۔
“کیا ہوا؟” وہ بس اتنا ہی بولا اور ان دو الفاظوں میں بھی لاتعداد سوال تھے۔
“کیوں کچھ ہونا تھا؟” میرال نے دوسری طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
“کل تمہیں گھر سے فون آیا تھا نا تو وہاں کیا ہوا، اور تم سڑک پر رو کیوں رہی تھی؟” بلاج نا جانے کیوں ان سب کا جواب چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا وہ اسے سب بتاۓ۔
“او تو ہارون نے تمہیں بتا دیا، خیر میرے ساتھ جو بھی ہوا ہو، اس سب سے تمہیں کیا، تم نے ایک دفع میری مدد کی بہت بہت شکریہ اسکا مطلب یہ نہیں مین اپنی پرسنل لائف کی ہر بات تم سے ڈسکس کروں” میرال کو نا جانے کیوں اسکے یوں پوچھنے پر غصہ آیا۔ یا شائد وہ اپنا غصہ کسی پر تو نکالنا چاہتی تھی۔
” تم زیادہ ہی بھاؤ نہیں کھا رہی میں نے بس پوچھا ہی تھا نہین بتانا تو مت بتاؤ، یہ بلاوجہ کا غصہ اپنے پاس رکھو، عجیب بددماغ لوگ ہیں” بلاج کو اسکے یوں جواب دینے پر بہت غصہ آیا۔ وہ غصے سے بولتا واپس پلٹ گیا اور خود کو ہی جھڑکنے لگا کہ کیوں اسنے بات کی۔۔


یس موم میں سارے ڈریسز لے کر آ گئی ہوں، ہاں اپکی اسسٹینٹ بھی ساتھ ہے ” وہ اپنی موم کی بتائی ہو جگہ پر پہنچی۔ جہاں کسی ڈرامے کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔ عائشہ کے ڈیڈ کا بزنس کافی پھیلا ہوا تھا۔ اسکی موم
” ایکسیوزمی! یہ ڈریسز کی ڈیلوری ہے” عائشہ نے پاس کھڑی ورکر کو کہا۔ اسنے مڑ کر اسے دیکھا وہ فوراً پہنچان گئی۔
” اوکے میں دیکھ لیتی ہوں” وہ مسکرا کر بولی اور لاۓ ہوۓ ڈریسز دیکھنے لگی۔ عائشہ نے ادھر اُدھر دیکھا، سامنے شوٹنگ ہو رہی تھی۔
” یہ شوٹنگ کر رہا ہے، موم حد ہے مجھے یہاں بھیجنے سے پہلے پتہ تو کر لیتیں” عائشہ کی نظر سامنے راحیل پر پڑئی جو ہنس ہنس کر کسی لڑکی سے بات کر رہا تھا۔ اور یہ وہی لڑکی تھی جو اس دن یونی میں ملی تھی۔ عائشہ کو اپنی آنکھوں میں چھبن سی محسوس ہوئی۔ وہ پلٹ گئی۔
راحیل اسے کوئی جواب دے رہا تھا، جب اسے خود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی۔ بولتے بولتے اسنے سامنے نظر اُٹھا کر دیکھا، عائشہ پر نظر پڑتی اس سے پہلے وہ پلٹ گئی۔ راحیل کو لگا وہ وہی ہے پر اسکے پلٹ جانے پر کنفرم نا ہو پایا۔ تبھی وہ ڈائیلگز بھی بھول گیا۔
“چلیں میں چلتی ہوں، آئی ہوپ اپکو میری موم کا پسند آۓ” عائشہ اس لڑکی کو بول کر پلٹ گئی اور تیز تیز چلتی اپنی گاڑی کے پاس آئی۔ وہ ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھنے لگی جب کسی نے دروازے پر ہاتھ رکھ کر اسے بند کیا۔
” میں جانتا تھا وہ تمہیں ہو۔ یہاں کیا کرنے آئی ہو؟” سامنے سنجیدہ چہرہ لیے راحیل کھڑا تھا۔ جو کچھ وقت پہلے کھلکھلا کر ہنس رہا تھا ابھی وہ سنجیدہ چہرہ لیے کھڑا تھا۔
“کام تھا” عائشہ اتنا ہی بولی۔ اور دروازہ کھولنے لگی پر اس پر راحیل کا ہاتھ تھا۔
“کام ہنہہہ تمہیں یہاں کون سا کام ہو سکتا ہے؟ ہاں مجھ پر نظر رکھنے ضرور آ سکتی ہو، کیوں ٹھیک کہا نا پہلے بھی ایسا کی کرتی تھی تھی، پر تب تم اتنی بری نہیں لگتی تھی، ڈھونگی نہیں لگتی تھی، اب اس سب کی وجہ؟” وہ بھرپور طنزیہ انداز میں بولا۔ آنکھوں میں ناجانے کون سا احساس تھا۔ عائشہ نے نظریں پھیریں۔ اور سامنے دیکھا جہاں سے وہ لڑکی آ رہی تھی۔
” راحیل عالم صاحب آپ بلاوجہ اپنا دماغ مت لڑائیں ، مجھے یہاں کام تھا وہی کرنے آئی تھی، اگر یقین نہیں تو اپنی ٹیم ممبر سے پوچھ لیں۔ خیر یقین کی بات تو کرنی نہیں چاہیے تمہیں صرف اپنے بہن کے علاوہ یقین ہے بھی کس پر” وہ بھی اسی کے انداز میں بھرپور طنز کا تیر چلاتے ہوۓ بولی۔ راحیل اسکی بات کا اچھے سے مطلب سمجھتا تھا۔
“ہاں ہے یقین مجھے میری بہن پر کیونکہ وہ تم لوگوں کی طرح دھوکے باز اور پیٹھ پر چھڑا گھونپنے والی نہیں، راحیل نے اسکے جواب میں سخت لہجے میں کہا۔
” ہمم اچھی بات ہے، آج ملاقات ہو ہی گئی ہے تو میری ایک بات سن ل، ہمارے درمیان جو کاغذی رشتہ ہے نا جلد از جلد مجھے اس سے آزادی چاہیے” عائشہ نے اپنی کمان سے وہ تیز نکالا تھا جو سیدھا اسکے سینے پر لگا تھا۔ ایسا تیر جسکا نا تو زخم نظر آ رہا تھا۔ بس اسکے جبھنے کا درد اسکی آنکھوں میں دکھ رہا تھا جو اسکی بات پر لال ہو چکیں تھیں وہ اگے بڑھا اور اسکو بازوں سے جکڑا،
“مس عائشہ راحیل عالم تمہیں مجھ سے اور میرے نام سے رہائی تو اسی وقت ہو گی جب میری موت ہو گی اب دعا کرنا جلد مر جاؤں، پھر اپنے آزادی کا جشن خوب اپنے ان دوستوں کے ساتھ منانا” راحیل نے اسکے دونوں بازوں پر دباؤ ڈالتے ہوۓ دانت پیس کر بولا۔
“تو پھر ٹھیک ہے راحیل عالم میں دعا کرتی ہوں میں ہی مر جاؤں سب کی جان چھوٹ جاۓ” وہ نم آنکھیں اسکی لال انگارے بھرتی انکھوں میں ڈالتے ہوۓ بولی۔ اسکی الفاظوں اور آواز میں چھپے درد کو محسوس کرتے راحیل کے دل کو کچھ ہوا۔ اسنے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا۔
“جاؤ یہاں سے” وہ بول کر پلٹ گیا۔ عائشہ ایک پل ضائع کیے بغیر گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی کو روڈ ہر بھگایا۔
“راحیل کیا ہوا؟ سب ٹھیک توہے نا؟” مومنہ جو کل اسکے ساتھ یونی بھی گئی تھی وہ اس ڈرامے میں اسکی کو سٹار تھی۔
“ہمم” وہ بس اتنا بولتا اگے بڑھ گیا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔