Rate this Novel
Episode 37
ازقلم فاطمہ طارق
سبھی لڑکوں نے کالی شلوار قمیض پہنی تھی، حسام اور بلاج تیار ہو کر کمرے سے نکلے۔
“ہارون کہاں ہے؟ ہمارے ساتھ تیار بھی نہیں ہوا” بلاج اپنی گھڑی کو بند کرتا حسام سے مخاطب ہوا۔
“پتہ نہیں یہی ہو گا” وہ موبائل پر میسج کرتے مصروف انداز میں بولا۔
“یہ راحیل کے ساتھ کیا کر رہا ہے؟ ہارون!” تبھی اسکی نظر سامنے کمرے سے نکلتے راحیل اور ہارون پر پڑی۔ دونوں کو ساتھ دیکھ اسکے ماتھے پر بل پڑے۔ اسکی آواز پر دونوں رکے اسے دیکھتے ہی راحیل کے چہرے کے زاویے بگڑے، وہ ہارون سے ملتا باہر گارڈن کی طرف چلا گیا۔ جہاں مہندی کا انتظام ہوا تھا۔
“تم اسکے ساتھ کیا کر رہے تھے؟” ماتھے پر بل ڈالے وہ سخت لہجے میں بولا۔۔ہارون نے ایک نظر اسے اور پھر حسام۔ کو دیکھا۔
“کیوں؟ مجھے کسی سے بات کرنے سے پہلے کیا پرمیشن لینے کی ضرورت ہے؟ میری مرضعی جس سے چاہے بات کروں” وہ بگڑے تیور سے بولا تھا۔ آج پہلی دفع وہ اس انداز سے بات کر رہا تھا۔ ورنہ وہ نرم مجاز کا انسان تھا۔
“بڈی کیا ہوا؟ ناراض ہو؟ کتنے دن سے نوٹ کر رہا ہوں تم ہم سے بات تک نہیں کرتے” بلاج اگے بڑھا اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے فکرمندی سے بولا۔
” شکر ہے تم نے نوٹ تو کیا، ورنہ۔۔۔۔ خیر میں شادی میں ہوں یہاں کوئی بدمزگہی نہیں چاہتا، اور راحیل میرا دوست ہے، میں اس سے بات کروں گا جسکی انا پر یہ چیز لگتی ہے لگے، تم لوگ اپنی مرضعی کرتے ہو کرو میں اب سے اپنی مرضعی کروں گا” وہ غصے بھری نظروں سےا سے گھور کر بولتا وہاں سے چلا گیا۔ بلاج شاک میں تھا انکھوں میں حیرانگی تھی وہ سمجھ نہیں پایا یہ سب کیا بول کر چلا گیا۔، دو سال پہلے وہی تھا جس نے سب سے پہلے اسکا ساتھ دیا آج بھی وہ پہلا تھا جسنے اسکا ساتھ چھوڑا۔
“بلاج!” وہ ویسے ہی شاک میں کھڑا تھا جب حسام نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہلایا۔
“ہمم” وہ چونکا تھا۔
“فکر مت کر، شادی ہو جانے دے پھر اس سے بات کریں گے” حسام نے اسکا اترا ہوا چہرا دیکھ کر کہا۔ وہ خود بھی حیران تھا۔ بلاج نے بس ہاں میں سر ہلا دیا۔ اور اسکے ساتھ گارڈن کی طرف بڑھا۔
وہ گارڈن میں آیا، سامنے اسٹیج پر دلہا دلہن کے بیٹھنے کا انتظام ہوا تھا۔ پورے گارڈن کو پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ وہ عمیر کے پاس آے
مشی اور میرال گارڈن میں پہنچیں، گارڈن اب مہمانوں سے بھر چکا تھا۔ رات کے گیارہ کا وقت تھا اور یہ محفل دیر رات تک چلنی تھی۔
“اف یہ مما نے کیا پہنا دیا ہے میں تو دنیا کا آٹھواں عجوبہ لگ رہی ہوں” مشی بار بار اپنے ڈوپٹے کو صحیح کرتی کبھی لہنگے کو پکڑتے جو چلتے ہوۓ اسکے پاؤں میں آ رہا تھا۔ دو دفع تو وہ گِڑنے سے بچی تھی۔
“واٹ مشی اتنی اچھی تو لگ رہی ہو کیوٹ سی” میرال نے اسکا دوپٹے کو دوبارہ سے پن لگاتے ہوۓ کہا۔ سمائرہ بیگم دونوں کو آتے دیکھ چکیں تھیں۔ وہ انکی طرف آئیں
“مشی تم تیار نہیں ہوئی؟” سمائرہ بیگم اسکے پاس اتے ہی بولیں مشی کا تو صدمے سے انتقال ہی ہونے والا تھا۔
“مما آپ نے کیا بولا مین تیار نہیں ہوئی تو یہ سب کیا یہ، یہ اتنا بھاری ڈریس یہ دو کلو میک اپ یہ اتنے بھاری جمکھے یہ رنگز یہ سب کیا ہے؟” صدمے سے اسکی پوری آنکھیں کھول گئیں تھیں۔
“حیات ایک چیز ہوتی ہے کنگھی جس سے بالوں کو سلجھایا جاتا یے، اسے بھی استعمال کرنا ہوتا ہے، اپنے بال دیکھو پورا گھونسلا لگ رہی ہو، اور جو ہلیز دیں تھیں وہ کیوں نہیں پہنیں” سمائرہ بیگم نے اسے ڈانٹا۔ میرال نے اپنی مسکراہٹ سمیٹی۔
“مما یہ بالوں کا ہئیر سٹائل آپکی بھیجی میک آرٹسٹ نے بنایا ہے، اور جو ہلیز تھیں وہ نہیں پہنی کیونکہ مجھے جوگرز پہنے تھے۔ کچھ تو مشی کی سٹائل میں رکھنا تھا۔ ورنہ میں خود کو ایلین سمجھ بیٹھتی، اور مما آپ فکر مت کریں آپکی بیٹی ویسے ہی بہت حسین ہے ان آرٹیفیشل چیزوں سے میری اصل خوبصورت ختم۔ہو جاۓ” وہ اپنے بالوں کو جھٹکتے ہوۓ بولی۔۔سمائرہ بیگم نے نفی میں سر ہلایا۔ اور وہاں سے چلی گئیں۔ میرال مشی کے ساتھ چلتی ایک ٹیبل پر پہنچی، اور وہی بیٹھ گئی۔
“یار مجھے برا عجیب لگ رہا ہے” میرال بار بار اپنا ڈوپٹہ کندھے پر صحیح کرتے ہوۓ ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔
“ارے کیوں اچھا رکو میں بلاج کو بلاتی ہوں، حسام! ادھر آؤ” مشی اسکی بات سنتے جلدی جلدی بولی اور سامنے ایک طرف فوٹو شوٹ کرواتے حسام کو اشارہ کیا۔ وہ اپنا موبائل لڑکے سے پکڑتا انکی طرف آیا۔
“مشی تم پاگل ہو” میرال کو اس پر غصہ آیا۔
“ہیلو میرال، ہاۓ کتنی پیاری لگ رہی ہو، ویسے یہ الفاظ کسی اور کے ہونے چاہیے تھے، پر خیر ویسے یہ نوڈلز والے بالوں والی جانی پہنچانی سی لگتی ہے” وہ انکے پاس ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوۓ بولا۔
“تم ہو گے نوڈلز کے بالوں والے بدتمیز میں تو بہت کیوٹ سی مشی ہوں” وہ اپنے چہرے پر دنوں ہاتھ رکھتے کیوٹ سا فیس بناتے آنکھیں مٹکاتے ہوۓ بولی۔ حسام کا دل دھڑکا
“ہاۓ قسم سے ہو تو تم میری دشمن پر دشمن جب حسین ہو تو دل دھڑک ہی جاتا ہے، خوبصورت تو تم ہو” وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھتے گہری مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا۔ میرال نے مسکراہٹ دبائی، مشی کا تو منہ ہی کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“بکواس بند کرو اور بلاج کو بلا کر لاؤ میرال بلا رہی ہے” وہ گھبڑاہٹ میں بولی۔
“مشی کی بچی میں کب بلا رہی ہوں” میرال اسکے ہاتھ پر ہلکی سی چت لگاتے ہوۓ گھور کر بولی
“ہاۓ یہ سن کر تو میرا دوست چلتا کیا اُڑتا ہوا آۓ گا” حسام اپنی جگہ سے کھڑا ہو کر بولا۔ اور پلٹ کر بلاج کی طرف بڑھا۔ میرال نے مشی کو گھورتے چہرا موڑ کر دیکھا تو سامنے عمیر کے ساتھ بلاج کھڑا تھا۔ اور وہی انکے پاس اسماء کھڑی تھی جو بار بار بلاج کا دھیان اپنی طرف کھیچنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تبھی حسام اسکے پاس پہنچا اور اسکے کان میں کچھ بولا۔ بلاج نے اسی وقت اسکی طرف دیکھا۔ دنوں کی نظریں ملیں اسکے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری میرال نے جھٹ سے چہرا موڑ لیا۔
“میں آتی ہوں” مشی کی نظر اپنے کزنز پر پڑی تو انکی طرف بڑھی۔ میرال ٹیبل پر رکھے کوک کے گلاس کو ہاتھ سے ایک گھونٹ بھر کرواپس ٹیبل پر رکھا۔
“مجھے بلایا بیگم!” تبھی اسے اپنے کان کے قریب ہلکی سی آواز آئی، اسکی خوبشو اسے اپنے آس پاس بکھری محسوس ہوئی۔
“نہیں نہیں تو وہ مشی کی شرارت تھی” میرال ہلکاتے ہوۓ بولی۔بلاج اسکے پاس ہی کرسی پر بیٹھا اور اسکی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگا
” تمہارا ہوں پورے حق سے بلایا کرو، اور جب حکم کرو گی یہ خادم حاضر ہو جاۓ گا” وہ اسے اتنا سجا سنوار پہلی بار دیکھ رہی تھا۔ اسکے چہرے سے چاہ کر بھی وہ نظریں ہٹا نہیں پا رہا تھا اور وہ کنفیوز ہو رہی تھی۔
“میرے چہرے پر کچھ لگا ہے؟” اسے یوں خود کو گھورتے دیکھ وہ چڑ کر بولی۔
“نہیں، میں تو تمہاری خوبصورتی کو نہار رہا ہوں حق کے بھائی میرا، سچ بولو بہت پیاری لگ رہی ہو، بالکل مہندی والی میری دلہن” وہ ہلکا سا اسکی طرف جھک کر بولا۔ اور اسکا چوڑیوں دے بھرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں کیا میرال کو اپنی جان جاتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اسنے اس پاس دیکھا۔
“بلاج لمٹ میں رہو، کوئی دیکھے گا تو کیا سوچے گا” میرال اب اس سے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر ہی تھی۔ جسکی وجہ سے چوڑیاں ماحول میں ارتعاش پیدا کر رہیں تھیں
“جب میں نے یہ چوڑیاں لیں تھیں تو سوچا تمہارے ہاتھوں پر یہ کیسی لگیں گی، سچ میں تم نے چوڑیوں کی قیمت کو بڑھا دیا” وہ اسکی چوڑیوں کو دیکھتے بولا۔ اب میرال سے برداشت نا ہوا وہ کھڑی ہو گئی۔ اور اپنا ہاتھ چھڑوایا۔ چہرے پر غصہ تھا۔ بلاج نے مزید تنگ کرنا مناسب نا سمجھا کیا پتہ ابھی گلاس اسکے سر پر دے مارے۔
“چشمش،” اسکے پکارنے پر اسنے چہرہ اسکی طرف موڑا تبھی ایک کلک کی آواز پر موبائل نے یہ منظر کیپچر کیا۔ جس میں وہ مسکراتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا اور وہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ کیمرے کی نظر کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ تھے جنہوں نے یہ منظر دیکھا۔ وہ آنکھ ونک کرتے مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔ میرال وہی بیٹھ گئی۔ ہاتھوں کو مڑوتے اسکی نظر چوڑیوں پر پڑی، پہلے چاہے اسنے ان پر دھیان نہیں دیا پر اب ایک دم سے اسے بھی اپنے ہاتھ پیارے لگے، چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری۔۔۔ تبھی موبائل پر میسج آیا۔
“ماشااللہ کہنا بھول گیا، نظر نا لگے” بلاج کا میسج تھا اور اسکے ساتھ ہی ایک دل بنا ہوا تھا۔ میسج پڑھتے وہ دوبارہ مسکرائی۔ مہندی کا فگشن خوش اسلوبی سے مکمل ہوا۔ سب تھکے ہوۓ تھے تو صبح تین بجے سو گے۔
حویلی میں گہما گہمی تھی، سبھی بارات کی تیاری کر رہے تھے، فنگشن آج پاس کے حال میں ہو رہا تھا۔ حرا تیار ہو چکی تھی۔
“عائشہ تم نے ناشتہ کیوں نہیں کیا چلو جلدی سے یہ کھا لو” راحیل کمرے مین داخل ہوا جہاں عائشہ، امرحہ، مشی اور میرال تھیں۔
“اوہو۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھائی شادی کے بعد تو بدل گے ہو ہممم” مشی اسے چھیرتے ہوۓ بولی۔
“بیوی اتنی پیاری ہو تو کون نہیں بدلے گا” وہ مسکراتا ہوا عائشہ کے پاس بیٹھا اور کھانا سامنے رکھا۔ سبھی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری۔
“راحیل میرا دل نہیں کر رہا، ویسے بھی اتنی ویکنس ہو رہی ہے میرا تو شادی ہر جانے کا بھی دل نہیں کر رہا” عائشہ منہ بسورتے ہوۓ بولی۔
“کیا ہوا طبعیت زیادہ خراب ہے تو ڈاکٹر بلوا لوں” وہ فکرمندی سے بولا۔
“نہیں اتنا لمبا سفر تھا اور سے کل کا فنگشن تھکاوٹ ہو گئی” وہ اپنا سر ہاتھ سے دباتے ہوۓ بولی۔ وہ جانتا تھا وہ پہلے ہی ویک ہے اوپر سے اتنا لمبا سفر اب وہ اسے یہاں لا کر پچھتا رہا تھا
“تم یہ اتنا ہیوی ڈریس مت پہنو، کچھ ہلکا پھلکا پہن لو، اور تھوڑا سا کھا لو، اچھا لگے گا” راحیل اسکے بال کان کے پیچھے کرتے ہوۓ بولا۔۔
“ڈریس انٹی نے دیا ہے نا پہنا تو انکو برا لگے گا” مین تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جاؤں گی” راحیل کو اس پر بے اختیار پیار آیا۔
“ٹھیک ہے پر پہلے کچھ کھا لو” وہ دوبارہ اسے کھانے کی طرف متوجہ کرتے ہوۓ بولا۔ عائشہ نے تھوڑا سا کھایا۔
“گرلز تیار نہیں ہوئیں؟” دروازے سے بلاج براؤن شیر وانی پہنے اندر داخل ہوا۔ تبھی اسکی نظر راحیل پر پڑی موڈ بگڑا۔
“ہو گے” امرحہ ساڑھی کا پلو سیٹ کرتے ہوۓ بولی۔ بلاج کی نظر میرال پر پڑی۔ لال رنگ کی پیروں کو چھوتی فراک پہنے بالوں کو سٹریٹ کر کے کھلا چھوۓ ہلکا سا میک اپ کیے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ وہ کانوں میں جمکھے پہن رہی تھی۔
“ہممم جاؤ ہم آتے ہیں” مشی کھانس کر بولی۔ وہ چونکا اور پلٹ گیا۔۔ وہ سب تیار ہو کر نیچے آئیں۔ بارات حال پہنچی اچھے سے استقبال کیا گیا۔۔ نکاح کے بعد دونوں کو اسٹیج پر بیٹھایا گیا۔ بلاج اپنے دوستوں کے پاس کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ ابھی تک میرال سے دو گھڑی بات کرنے کا موقع نہیں ملا
السلام علیکم! آپ سب کا بہت شکریہ اتنی دور سے میرے پہلے بیٹے کی شادی اٹینڈ کرنے آۓ۔ میں نے اور میرے بچوں نے ابھی ایک مہینے پہلے کنول کو کھویا ہے، اگر وہ ابھی زندہ ہوتی تو بہت خوش ہوتی ہم نے اپنے بچوں کو بہت لاڈ سے پالا کب وہ برے ہو کر شادی کے لائق ہو گے پتہ ہی نا چلا ” سکندد صاحب مائیک پکڑے اسٹیج پر بول رہے تھے۔ انکے ساتھ عالم صاحب اور اسماء کھڑی تھی۔
“لو انکی نوٹکنی شروع ہو گئی” بلاج نے چڑتے ہوۓ کہا۔
“بلاج یہاں آؤ” تبھی انہوں نے بہت پیار سے اسے بلایا وی جانا نہیں چاہتا تھا ہھر عمیر کے اشارے پر ۔ اسنے گہرا سانس لیا۔ اور اسٹیج پر آیا۔ چہرے پر واضع اکتاہٹ تھی جانتا تھا ابھی وہ اپنی شان میں قصدیے پڑھیں گے۔
“میرے ایک بیٹی کی شادی خوش اسلوبی سے ہو گئی، سبھی جانتے ہیں دو سال پہلے میرے دوسرے بیٹے بلاج سکندر حمدانی کی منگنی میرے دوست عالم کی بیٹی اسماء کے ساتھ ہوئی تھی میں نے اور عالم نے فیصلہ کیا ہے، کہ ہم آج ہی دونوں کا نکاح کر دیں گے اور رخصتی پڑھائی کے بعد ہو گی کچھ ہی دیر میں نکاح ہو گا” انکے الفاظ بم کی طرح سب پر گرے۔ بلاج کی سیدھی نظر میرال پر گئی، جسکی انکھیں ایک پل میں نم ہوئیں تھیں۔ سکندر صاحب نے اپنی بات پوری کر کے مائیک بند کر دیا۔ اور پلٹ کر بلاج کو دیکھا۔
میرال وہی کرسی پر بیٹھ گئی، انکھوں کے آگے اندھیرا آگیا۔
“چلو تھوڑی دیر میں تمہارا نکاح یے” وہ مغرو لہجے میں بولے جسے کہ رہے ہوں دیکھ لو میں تمہارا باپ ہوں۔ انکی بات پر بلاج طنزیہ انداز میں مسکرایا۔ اور اگے بڑھا انکے ہاتھ سے مائیک لیا۔
“ویٹ گائیز جب میرے والد محترم نے آپ سب کو یہ گڈ نیوز سنا ہی دی ہے، تو کچھ الفاظ اگر میں بول دوں تو کیا ہی جاۓ گا، تو آئیے ہم تھوڑی سی گفتگو کرتے ہیں” چہرے پر پراسرا مسکراہٹ سجا کر وہ فل کانفیدیٹ ہو کر بول رہا تھا۔۔ سکندر صاحب کو پتہ تھا اب یہ کچھ بلنڈر کرے گا۔
“بلاج بیٹا پہلے ہی وقت کافی ہو چکا ہے چلو نکاح کر لو” عالم صاحب واچ دیکھتے ہوۓ بولے۔
“ارے انکل ریلکس، زندگی ختم ہونے سے پہلے وقت تو ختم نہیں ہو گا، تو گائیز میرے بھائی کی شادی ہو گئی، میرے والد محترم کو میری شادی کا شوق چڑ گیا، مجھ سے پوچھے بغیر میرا نکاح طے کر دیا واؤ” وہ بولا اور ساتھ ہی تالیاں بجانے لگا۔ حسام نے ہنس کر گلاس منہ سے لگایا جانتا تھا وہ سب سھنمبال لے گا۔ راحیل اور ہارون ایک طرف کھڑے تھے۔
“ویسے ایک بات کہوں، یاد رکھے گا، بچے پیدا کریں تو انکو اپنا غلام مت سمجھیں، ان پر اپنی حکمرانی مت کریں، ورنہ وہ بغاوت پر اتر آتے ہیں، اور میرے پیارے والد صاحب تو یہ اچھے جانتے ہیں،
اور میں حیران ہوں، جس لڑکی کو میں نے آج تک اپنی منگیتر تک تسلیم نہیں کیا، جس سے زبردستی میری منگنی کر دی گئی، اس لڑکی کے ساتھ بنا میرے پوچھے نکاح فکس کر دیا واؤ سکندر صاحب واؤ، مجھے بھی باقی سب کی طرح اپنے اشاروں پر چلانا چاہتے ہیں، ایسا نہیں ہو گا میں آپکے دوست کی بیٹی پر تھوکتا بھی نہیں میں اسےا پنی بیوی بناؤن گا واٹ آجوک” وہ ایک ایک الفاظ چبا چبا کر بول رہا تھا۔ تبھی سکندر صاحب کا ہاتھ اُٹھا اور اسکے چہرے پر چھاپ چھوڑ گیا۔۔
“ہنہہہہ بس یہی کر سکتے ہیں، اب میری بات غور سے سنیے گا، دل تھام کر سنییے گا کہی مر مرا گے تو خا مخوا ماحول خراب ہو جاۓ گا” وہ بول کر اسٹیج سے نیچے اترا، کتنی آسانی سے وہ اپنے باپ سے یہ سب باتیں بول رہا تھا، جیسے ناجاننے کس قدر نفرت کرتا ہو۔وہ قدم قدم چلتا وہ میرال کے پاس آیا۔ میرال کو اپنی ٹانگوں سے جان جاتی محسوس ہوئی، بلاج نے اسکا ہاتھ پکڑا اور انکی طرف مُڑا، سبھی تماشائی بنے سب دیکھ رہے تھے۔ اسماء تو انگاڑے بھرتی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔سب کے سامنے وہ اسکی انسلٹ کر رہا تھا۔
“میں بلاج حمدانی نکاح کر چکا ہوں، میرال میری بیوی ہے، آپ اپنی بیٹی اپنے پاس رکھیں، ہو سکے تو اسکی تربیت پر توجہ دیں، کافی بگڑی، گھمنڈی اور گھٹیا لڑکی ہے” بلاج نے سخت انداز میں مائیک پر سب بولا تھا۔ میرال نے زور سے اسکا بازو بگڑا اسے چپ کروانے کی کوشش کرنے لگی۔ اسکے الفاظ سن کر سبھی شاک میں تھے۔
“ٹھاہ گھٹیا میری بہن نہیں تو ہے سالے، میری بین ہر کیچر اچھال رہا ہے، کمینے، تیری میں جان لے لوں گا” راحیل نے اسکے منہ پر مکہ مارا، اور دھرا دھر مارنے لگا۔ جواباً وہ بھی مار رہا تھا۔
“راحیل چھوڑو اسے۔۔۔” میرال اسے پیچھے کر رہی تھی۔
“میرال تم دور رہو، تم آسین میں پلا ہوا ایک سانپ ہو، ہمارے ہی گھر میں رہتے میری بہن کی زندگی خراب کر دی” اسنے میرال کو جھٹکا دیا وہ نیچے زمین پر گڑی۔
“میری بیوی کے بارے میں ایک لفظ بھی نکالا تو جان لے لوں گا” وہ غرایا تھا۔ اور اسکے چہرے پر مکہ مارا۔ وہ دو قدم لڑکھڑایا۔ بلاج نے میرال کو کھڑا کیا۔ حسام عمیر درمیان میں آۓ اور ان دونوں کو پیچھے کیا۔ اسماء اسٹیج پر بے ہوش ہو گئی
“سالے تو میری بہن کے لائق ہی نہیں میں تو کبھی تیرے ساتھ اپنی بہن کا رشتہ کرنے کے بھی حق میں نہیں تھا” راحیل غصے سے بولا۔
“بلاج تم میرال کو لے کر جاؤ” عمیر نے اسے جانے کو بولا۔ اسکا ہاتھ پکڑتے وہ حال سے نکل گیا۔ امرحہ عائشہ حسام اور نا چاہتے ہوۓ بھی ہارون اسکے پیچھے گے۔ عمیر نے راحیل کو کنٹرول کیا۔
وہ اسے لیے پارکنگ میں آیا، میرال ہلکا ہلکا کانپ رہی تھی، اور رو بھی رہی تھی۔
“میرال تم ٹھیک ہو نا، سوری یار تمہیں یہ سب فیس کرنا پڑا، جب بھی نکاح کی بات سامنے آتی ایسا ہی ری ایکشن ہونا تھا پر یہ سب اتنی اچانک ہو گیا” گاڈی کے سامنے کھڑے بلاج نے دونوں ہاتھ اسکے چہرے کے گرد لپیٹے ہوۓ اسکے آنسوں صاف کرتے ہوۓ کہا۔
“ہمممم” اسکے بازو کو زور سے دبوچے ہو بس اتنا ہی بولی۔
“کیا ہوا میری شیرنی، میرے سامنے تو ہر وقت ہمت سے کھڑی رہتی ہو، اچھی خاصی کلاس بھی لے لیتی ہو، ابھی کیوں بھیگی بلی بن گئی ہو، بریو ہو جاؤ ابھی اور بہت فیس کرنا ہے فکر مت کرو میں تمہارے ساتھ ہوں ہمیشہ” وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہلکا سامسکرا کر بولا۔
“ہمیشہ” وہ بس اتنا بولی، بلاج نے ہاں میں سر ہلاتے دوبارہ بولا۔ تبھی وہاں وہ چاروں آ گے۔
“بلاج واٹ از دس تم نے ہمیں بھی نہیں بتایا” عائشہ غصے سے بولی۔
“وہ یار سب اچانک ہو گیا” وہ ہاتھ رگڑتے ہوۓ بولا۔
“تم نہیں جانتے تم نے کیا کِیا ہے، پہلے ہی راحیل اور تمہارے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی ہے، میں نے پہلے تمہارا ساتھ دیا تھا اب نہیں دے پاؤں گی” عائشہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ وہ جانتی تھی اب راحیل اسکو اس سے دوستی رکھنے نہیں دے۔
“تو اب تم اسکے کہنے پر چلو گی مجھ سے دوستی توڑو گی” بلاج کو اسکی بات بالکل سمجھ نا آئی۔
“کیوں ساری زندگی تمہاری سنتی رہے، اسکی بیوی یے تو اسکی کی سنے گی، خود تو جیسے تم صرف اپنی سنتے ہو” ہارون تلخ انداز میں بولا۔
“ہارون تم شروع مت ہو جاؤ” حسام اسکو چپ کرواتے ہوۓ بولا۔
“مجھے ہر دفع کیوں روکتا ہے، کبھی اس کو بھی روک، اسکو بتا، یہ ہمیں مزید کنٹرول نہیں کر سکتا، جیسا ہم چاہیں گے ویسا ہی کریں گے، اگر میرا دل چاہے گا راحیل سے بات کرنے کا تو میں کروں گا، اور ویسے بھی تو تو بول ہی مت انکے نکاح میں تم بھی شامل تھے ہم تو کسی خاطے میں آتے ہی نہیں، دوست تو تم ہو” وہ تلخہ انداز میں بولا بنا یہ جانے سامنے کھڑا شخص اسکی باتوں سے کس قدر ٹوٹ رہا ہے۔
“بڈی واٹس رونگ، میں نے کسی ریزن سے نکاح ایسے کیا ورنہ۔۔۔” بلاج آگے بڑھا اور ہارون کے پاس آکر بولا۔
“اچھا کیا ریزن تھا ہممم تم نے مجھے نہیں بتایا، کیونکہ میری فیلنگز کا تمہیں پتہ چل گیا تھا، پہلے تم نے میرے لیے اسکو چھوڑ دیا، پھر شادی کر لی، تمہیں لگا ہو گا ارے یہ تو روکاٹ بن جاۓ گا اسکو مارو گولی چھپ کر نکاح کر لیتے ہیں، بعد میں جب پتہ چلے گا تب سوری کہ دوں گا، تو بلاج حمدانی اب یہ سب مزید نہیں چلے گا” بولتے بولتے اسکی آواز مزید اونچی ہوئی۔ بلاج حیرانگی سے اسکی باتیں سن رہا تھا اسکے دل میں کیا کچھ نا چھپا ہوا تھا اور وہ جانتا ہی نہیں تھا۔ عائشہ اور امرحہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہیں تھیں
“تم غلط” اسنے بولنے کی کوشش کی۔
“او پلیز بلاج حمدانی بس کرو، مزید جھوٹ مت بولو تم نے خود ہماری دوستی میں ایک لڑکی کے لیے جھوٹ لا کر دوستی کے ٹکڑے کیے ہیں، تمہیں پتہ تم سے اچھا وہ راحیل ہے، جو ہے منہ پر تو ہے، انفیکٹ مجھے لگتا ہے، اس رات بھی تو ہی غلط تھا” وہ غصے میں بولے جا رہا تھا۔ بلاج کو اپنے کانوں پر یقین نا ہوا وہ بے یقینی سے ہارون کو دیکھ رہا تھا۔
“تیرا دماغ خراب ہو چکا کیا بکواس کیے جا رہا ہے” حسام نے آکر اسے پیچھے دھکہ دیا۔۔۔۔ اور مزید بولنے سے روکا۔
“دماغ میرا نہیں تمہارا اور اسکا خراب ہے، تم دونوں جھوٹے ہو، تم دونوں میری دوستی کے قابل ہی نہیں ہو، مجھے اب مزید اس جھوٹی دوستی کا حصہ نہیں بننا، بھاڑ میں گے تم اور بھاڑ میں گئی تم لوگوں کی دوستی” نم لہجے میں کہتا وہ پلٹا اور وہاں سے چلا گیا۔ وہ وہی حیرانگی سے اسے جاتے دیکھ رہا تھا۔ اسے کچھ سمجھ ہی نا آئی۔
“بلاج ریلیکس اس سے بعد میں بات کریں گے ابھی تم۔میرال کو لے کر جاؤ، ورنہ وہ راحیل۔۔۔” حسام ماتھا مسلتے ہوۓ اسے بولا۔
“ہنہہہ اسکے اندر اتنا کچھ بھرا ہوا تھا،اور مجھے پتہ ہی نہیں” وہ جیسے خود پر ہنس رہا تھا۔
“بلاج گھر جاؤ وہی بات کریں گے” امرحہ اگے آئی۔ وہ جانتی تھی اسے کتنا۔ ہرٹ ہوا۔ بلاج اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرے گاڑی کی طرف بڑھا۔ میرال فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔ اسنے گاڑی چلا دی۔ سپاٹ چہرہ، لال آنکھیں لیے وہ گاڑی چلا رہا تھا۔
“بلاج تم ٹھیک ہو” میرال نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے اپنی طرف متوجہ کیا۔
“ہمممم” اسنے بنا اسکی طرف دیکھے بس ہاں میں سر ہلایا۔ اور گاڑی کی سپیڈ مزید تیز کر دی۔۔میرال نے مزید بولنا مناسب نا سمجھا اور سر سیٹ کی پشت پر ٹکا دیا۔ پانچ گھنٹوں کا راستہ انہوں نے دو گھنٹے میں طے کیا۔ گاڑی کا گھر میں داخل کیا۔ دروازہ بند کرتا وہ اندر کی طرف بڑھا۔ آج اسکی چال میں ہی لڑکھڑاہٹ تھی، چہرے پر ابھی تک بے یقینی سی تھی۔۔ وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔ اور جا کر دروازہ بند کر دیا۔ شیروانی اتارتا بیڈ کے پاس ہی زمین پر بیٹھ گیا۔
میرال چینج کرتی، کیچن میں گئی، کھانے کو ہلکا پھلکا سا بنایا۔ جب وہ کافی دیر تک نیچے نا آیا، تبھی اسنے کچھ ٹوٹنے کی آواز سنی، وہ بھاگ کر اوپر اسکے کمرے کی طرف گئی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
