Rate this Novel
Episode 41
رات ایک بجے کے قریب وہ گھر آئی، ہسپتال میں صرف ایک ہی فرد کو رکنے کی آجازت تھی، حسام اسے اور امرحہ کو چھوڑ کر اپنے گھر چلا گیا۔ آج جو کچھ بھی حسام نے بولا تھا اسکے دماغ میں وہی چل رہا تھا۔ ایک دم سے سب عجیب سا لگ رہا تھا۔ وہ حال سے ہوتے ہوۓ اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔
“بری خوش لگ رہی ہو، لگتا ہے دوست بچ گئی؟” وہ اپنے کمرے میں داخل ہونے ہی والی تھی کہ اسماء اپنے کمرے سے نکلتے ہوۓ اسکے قریب آ کر بولی۔
“اپ نے تو اسے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، شکر کریں وہ بچ گئی ورنہ ابھی تک آپ جیل میں بیٹھی ہوتی” مشی بامشکل اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوۓ بولی۔
“اسکی قسمت اچھی تھی جو زہر سے بچ گئی، خیر ابھی اور بھی طریقے ہیں، بچے گی تو نہیں” وہ شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کچھ سوچتے ہوۓ بولی۔ مشی کو اسکی باتیں سن کر حیریت ہوئی۔ آج سے پہلے تو کبھی اسنے ایسی باتیں نہیں کی تھیں۔
“آپی کیا آپکا دماغ خراب ہو چکا ہے، آپ کیا کر رہی ہیں، وہ ایک جیتی جاگتی انسان ہے کسی کو مارنے کے بارے میں آپ کیسے سوچ سکتیں ہیں؟” اسکی سوچ پر ہی اسے بہت دکھ ہو رہا تھا۔
“تمہیں زیادہ تقلیف کیوں ہو رہی ہے، وہ لڑکی اچھی نہیں اسنے مجھ سے میرے منگیتر، میری محبت، میرا عشق بلاج چھینا ہے اور تم کہتی ہو میں اسے ایسے ہی جانے دوں بالکل نہیں” اسنے پاس سٹینڈ پر رکھا گلدان زمین پر پٹختے ہوۓ چلا کر کہا۔ رات کی اس خاموشی میں ارتعاش پیدا ہوا۔ مشی ڈر کر دو قدم پیچھے ہوئی۔ اسے اس وقت اسماء کی آنکھوں میں جنون دیکھائی دیا۔ ایک ضد نظر آئی۔ بلاج کو پانے کی ضد، میرال سے اسے چھیننے کی ضد۔
” آپ پاگل ہو گئی ہیں، آپکو علاج کی ضرورت ہے، اور کس محبت کی بات کر رہی ہیں، ارے آپ نے تو کبھی بلاج سے محبت کی ہی نہیں، وہ صرف آپکی ایک ضد تھا، اس رات بھی قصور صرف آپکا تھا نا؟ وہ بے قصور تھا نا؟ بولیں بولتی کیوں نہیں” وہ بھی اسی کے انداز میں چلائی تھی۔ اسماء اگے بڑھی اور مشی کا گلا زور سے پکڑ کر اسے دیوار سے لگایا۔ پاؤں میں چپل نا پہننے کی وجہ سے کانچ اسکے پیروں میں چھپ چکا تھا جہاں سے خون رس رہا تھا۔ وہ خونخار نظروں سے مشی کی انکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی۔ اپنی ہی بری بہن کی یہ حالت دیکھ کر وہ اندر تک کانپ گئی۔
“میں پاگل نہیں ہوں میں پاگل نہیں ہوں، مجھے اس سے محبت ہے، وہ میرا جنون ہے، مجھے وہ چاہیے اسکے لیے چاہیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے،میں وہ کروں گی، اور دوسری بات وہ بے قصور نہیں تھا، اسنے مجھے رجیکٹ کیا تھا مجھے اسماء عالم کو ریجکٹ کیا تھا۔ مجھے اس سے بدلہ بھی لینا تھا اور اسے ساری عمر اپنے ساتھ جوڑے بھی رکھنا تھا، اسی وقت نکاح ہو جاتا اگر اسکی وہ ماں درمیان میں نا آتی، اسی کی وجہ سے صرف منگنی ہوئی۔ میرے اتنے سالوں کی محنت کو کوئی یوں اچانک کچھ مہینوں میں برباد نہیں کر سکتا، وہ میرا تھا میرا ہے اور ہمیشہ میرا ہی رہے گا اسکے لیے مجھے چاہیے اپنے رستے میں آئی ہر چیز کو تباہ ہی کیوں نا کرنا پڑے میں وہ کروں گی۔ آئی سمجھ” وہ لال آنکھوں بکھرے بالوں میں اسے گھورتے ہوۓ اسکا گلا مزید دباتے ہوۓ غِرائی تھی۔ اس وقت مشی کو وہ سچ میں ایک پاگل انسان لگی تھی۔ مشی کی سانس اٹک رہی تھی۔ وہ اسکا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی پر ناکام رہی۔ تبھی کسی نے اسماء کو بازو سے جکڑتے ہوۓ اپنی طرف موڑا اور کھینچ کر اسکے چہرے پر ایک تھپڑ مارا۔ وہ بونچھا کر رہ گئی۔ کیونکہ سامنے کوئی اور نہیں بلکہ اسکا سب سے برا سپوٹر راحیل عالم آنکھوں میں اپنے اعتماد کی کرچیاں لیے کھڑا تھا۔ مشی گہرے گہرے سانس لیتے خود کو سھنمبال رہی تھی۔ اسماء نے چہرے پر ہاتھ رکھتے راحیل کے پیچھے دیکھا تو وہاں اسکے والدین بھی کھڑے تھے۔ سمائرہ بیگم کی آنکھوں میں بھی وہی حیرانگی تھی۔ عالم صاحب نارمل تھے۔
“کیا جو ابھی ابھی تم نے کہا وہ سچ تھا؟ کیا اس رات بلاج بے قصور تھا؟ ” وہ خود پر ضبط کرتے اپنے کانوں سے سنے اسکے جملوں کو نظر انداز کرتے ہوۓ اس سے دوبارہ سوال کر بیٹھا تھا۔ اور دل میں دعا کر رہا تھا وہ ایک دفع انکار کر دے اور بولے نہیں وہ قصور وار تھا۔
” ہنہہہ ہاں وہ بے قصور تھا تو اب کیا کرو گے بولو کیا کرو گے، اسکے ساتھ مل جاؤ گے اپنی بہن کو چھوڑ دو گے” وہ بنا کسی شرمندگی سے بول رہی تھی۔ اور راحیل کو لگا اسکا سانس ہی رک گیا۔ ایک دم سے اسکے کانوں میں یہ الفاظ گھونجے۔
“راحیل یارا میں بلاج ہوں تیرا جگر تیرا دوست بھلا میں ایسا گھٹیا کام کر سکتا ہوں، میرا یقین کر میں بے قصور ہوں مجھ پر الزام لگایا جا رہا ہے” بلاج کے روندھے لہجے میں بولے یہ جملے اسکے کانوں میں گھونجے تھے۔ اور اس وقت اپنی اسی بہن کے منہ سے نکلے الفاظ جیسے اسکے اعتماد کی کرچیاں کرچیاں کر گے تھے۔
“وہ وہ بے قصور تھا، اصل مجرم تم تھی، تم، اور تم نے اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی ان سب کا مجرم اور سب سے بڑھ کر بلاج کا مجرم بنا دیا” وہ اسکی طرف جھپٹا تھا۔ عالم صاحب اور اسماء نے اسے پکڑتے ہوۓ روکا۔ وہ دو قدم پیچھے ہو گئی۔
“تم میرے بھائی تھے تمہارا فرض بنتا تھا میرا ساتھ دو جو تم نے دیا، اور ایک منٹ میں نے تمہیں زبردستی تو نہیں بولا تھا کہ اس ہر یقین نا کرو تو اپنی غلطی میرے پر تھوپنے کی ضرورت نہیں” وہ اسی انداز میں بولی۔
“تم جیسی گھٹیا بہن ہونے سے بہتر تھا اسی وقت مر جاتی جب پیدا ہوئی تھی”
“میں اکیلی گھٹیا نہیں تم بھی برابر کے شریک ہو، تمہیں اپنے دوست سے زیادہ اپنی بہن پر یقین تھا، تو اس میں میری نہیں تمہاری غلطی تھی” وہ اپنے بالوں کو جھٹکتے ہوۓ بولی اور وہاں سے چلی گئی۔ عالم صاحب اور سمائرہ بیگم اسماء کے کمرے کی طرف بڑھے۔ راحیل وہی مجسم بنا کھڑا رہا۔ اسکا دماغ معاؤف ہو چکا تھا۔ وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی اپنے کمرے میں بیٹھا گروپ میں میرال کی ہوئی حالت کے بارے میں پڑھ رہا تھا جب کچھ ٹوٹتے کی آواز آئی تو وہ فوراً باہر آیا۔ تبھی اسماء کے اونچا اونچا بولنے کی آواز آ رہی تھی وہ سیڑھیوں کی طرف آیا۔ عالم صاحب اور سمائرہ بیگم بھی آوازیں سن چکے تھے راحیل جلدی سے اوپر آیا۔ وہ اسماء کو مشی کا گلا دباتے ہوے دیکھ چکا تھا، جب وہ آخری سیڑھی پر پہنچا تو اسماء کے الفاظ اسے وہی تھمنے پر مجبور کر گے، جیسے جیسے وہ سن رہا تھا ویسے ویسے خود کو پتھر ہوتے محسوس کر رہا تھا۔
“بھائی” مشی اسکو یوں حقہ بقہ دیکھ اگے بڑھی اور اسکو کندھے سے پکڑ کر ہلایا۔ وہ چونکا۔
“ہممم” وہ چونکتے ہوۓ بولا۔ اور الٹے قدموں واپس پلٹا وہ سیڑھیوں سے بھاگتے ہوۓ اتر رہا تھا، اپنے کمرے میں جا کر اسنے گاڑی کی چابی پکڑی، اس وقت اسے اس گھر میں اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ باہر جانا چاہتا تھا۔ وہ گاڑی لے کر روڈ ہر نکل آیا۔ ابھی تک اسکے دماغ میں اسماء کے الفاظ گھونج رہے تھے۔ راحیل کے جانے کے بعد مشء نے پینٹ کی جیب میں رکھا فون نکالا اور ریکاڈنگ آف کی۔ اسنے یہ ریکاڈنگ اس وقت آن کی تھی، جب اسماء نے اس سے پہلا سوال کیا تھا۔ وہ چاہتی تھی وہ اپنا گناہ قبول کر لے، پر یہ نہیں جانتی تھی، انتا بھیانک سچ اسکے سامنے آۓ گا، اسے بھی پہلے اپنی بہن پر ہی یقین تھا۔ اسی کی وجہ سے اسنے بھی راحیل کا ہی ساتھ دیا اور ساتے گروپ سے بائی کاٹ کر دیا تھا، جس دن بلاج اور میرال کا نکاح ہوا اس دن حسام کے کہے گے الفاظ اسکے اندر سوال پیدا کر گے۔
وہ پاگلوں کی طرح گاڑی چلا رہا تھا، گاڑی کے چاروں شیشے نیچے تھے، پھر بھی اسے گھٹن محسوس ہو رہی تھی، اسے اس وقت سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے اسے گزرے دو سالوں کا ایک ایک لمحہ یاد آیا کیسے وہ بلاج سے نفرت کرنے لگ گیا تھا۔ اور اپنی نفرت کا اظہار وہ کیسے کیا کرتا تھا۔ اسنے اپنی شرٹ کے دو بٹن کھولے۔ اسنے گاڑی ایک جگہ روکی، اور خود گاڑی سے باہر نکلا۔
“آہ ہ ہ ” وہ اونچا آواز مین چلایا تھا، وہ اپنے آپ کو اس وقت دنیا کا سب سے برا انسان سمجھ رہا تھا جس سے نا تو دوستی کا فرض ادا ہو پایا اور نا ہی وہ اپنی محبت کو سھنمبال سکا اسکی وجہ سے وہ ذہنی مریض بن چکی تھی۔ اسنے اپنی جیب سے موبائل نکالا، کانپتے ہاتھوں سے اسنے اسکا نمبر ڈائل کیا، جو وہ دو سال پہلے ڈیلیٹ کر چکا تھا ہر آج بھی اسے اسکا نمبر یاد تھا۔ بیل جا رہی تھی پر کوئی اُٹھا نہیں رہا تھا۔۔ اسنے دوبارہ کال کی، پھر نہیں اٹھائی، وہ کئی دفع ملاتا رہا، اور آخر کار اسکی آواز آئی۔
“کون ہے؟ سکون نہیں، اگر فون نہیں اُٹھا رہا تو مطلب سو رہا ہوں، بند کرو فون” بلاج جو کہ میرال کے پاس ہی کرسی پر بیٹھا بیٹھا سو چکا تھا۔ جب بار بار موبائل کو بجتے دیکھا تو نمبر دیکھے بنا کال اُٹھا کر چلایا۔ اور آخر میں فون کاٹنے لگا۔
“یارا” راحیل روندھے لہجے میں بس اتنا ہی بولا۔ یارا لفظ پر ہی بلاج کے ہاتھ تھم سے گے۔ ایک جھٹکے میں نیند اُڑی تھی۔
“فون کیوں کیا؟” وہ دوبارہ فون کان سے لگاتے سخت لہجے میں بولا۔ میرال سامنے بیڈ پر سو رہی تھی۔
“شائد یہ بات کہنے کو بہت دیر ہو گئی، مناسب بھی نا لگے” وہ پیروں سے مٹی کُریدتے ہوۓ بھاری لہجے میں بولا۔ اسکی بات سن کر بلاج طنزیہ انداز میں ہنسا۔
“کیا ہوا راحیل صاحب، ہواس کیوں خطا ہیں، زبان سے الفاظ کیوں ادا نہیں ہو رہے، کہی بہن کی سچائی تو معلوم نہیں ہو گئی” بلاج طنزیی انداز میں بولا۔ راحیل وہی تھم گیا وہ کیسے جان گیا۔ جب وہ کافی دیر تک نا بولا تو بلاج ہی بول پڑا۔
“ہنہہہ میں جانتا تھا یہ ایک دن ہو گا، آخر جھوٹ کب تک چھپ سکتا ہے، سچائی جان کر تمہیں لگ رہا ہو گا چلو اسکو فون کر معافی مانگ لیتا ہوں سب ٹھیک ہو جاۓ تو مسٹر راحیل صاحب یہ بات اپنے دماغ مین فٹ کر لو، بلاج حمدانی یقین کے اتنے کچے لوگوں کو اپنی دوستی کے قابل نہیں سمجھتا، آئندہ مجھے فون مت کرنا” اسنے سخت لہجے میں بولتے اپنی بات مکمل کی اور کال کاٹ دی،اور پھر موبائل ہی آف کر دیا۔ تبھی اسکی نظر میرال پر پڑی جو اسکی آواز سے اُٹھ گئی تھی اور شائد سب سن چکی تھی۔ اسنے گہرا سانس لیا۔ میرال نے بنا کچھ بولے اسکے ہاتھ کو پکڑے اپنے ساتھ کا احساس دلایا۔ اسکی حرکت نے بے ساختہ بلاج کے چہرے پر مسکراہٹ سجا دی۔
ماضی دو سال قبل:
یہ رات عائشہ اور راحیل کے نکاح کی تھی، نکاح کی تقریب برے پیمانے پر رکھی گئی تھی، عائشہ کے گھر کے گارڈن میں سارا اریجمنٹ کیا گیا تھا، وہ سب دوست اس نکاح کی تقریب کے لیے بے حد ایکسائیٹیڈ تھے، راحیل اور اسکی فیملی پہنچ چکی تھی، وہ اسٹیج پر بیٹھا تھا،ادھے گھنٹے میں عائشہ کا نکاح راحیل عالم کے ساتھ ہوا تھا۔ اور اسے اسٹیج پر اسکے ساتھ بیٹھایا گیا۔ اب سب دوستوں نے تیار کیا ڈانس پیش کیا۔ اسکے بعد دونوں اپنا فوٹو شوٹ کروانے لگے۔ عائشہ کی موم نے بلاج کو اوپر کمرے سے کچھ سامان لانے کو بھیجا۔ وہ اپنی دھن میں کمرے مین داخل ہوا۔ اور سامان لے کر پلٹا۔ جب سامنے اسماء کھڑی نظر آئی۔ اسکو دیکھتے ہی بلاج کے ماتھے پر بل پڑ گے۔وہ دو مہینے پہلے دبی سے واپس آئی تھی، پہلے وہ وہی پڑھتی تھی، چھٹیاں گزارنے وہ واپس آئی۔ ایک دو دفع بلاج سے اسکی ہلکی پھکی لڑائی ہو گئی، اسے بلاج کا غصہ کرنا، اسکی اکڑ اسکا بے خوف انداز اپنی طرف کھینچنے لگا، ایک مہینے بعد اسنے اسکے سامنے اپنی محبت کا اظہار کر دیا۔ جسے بہت طریقے سے بلاج نے انکار کر دیا۔ اسی بات کو اسنے اپنی انا پر لے لیا اور اسکے بعد کئی دفع وہ اسکو بولنے لگی کہ مجھ سے شادی کر لو، بلاج کو اس سے عجیب سی چڑ ہونے لگی، اسمے اکفی سخت الفاظ بھی استعمال کیے تا کہ وہ جان چھوڑ دے۔ اسکا بار بار انکار اسماء میں ضد پیدا کر رہا تھا۔ وہ اب کسی بھی حالت میں اسکی نام سے منسوب ہونا چاہتی تھی۔
وہ اسے اگنور کرتا باہر نکلنے لگا جب اسماء نے دروازہ بند کر دیا، بلاج کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
“دو دن پہلے کیا بولا تھا تم نے کہ تمہاری جیسی لڑکی سے کوئی بھی رشتہ منسلک کرنے سے بہتر ہے میں موت کو گلے لگا لوں تو بلاج حمدانی آج میں تمہیں بتاؤں گی رشتہ قائم کرنے سے بہتر موت نہیں ہے” وہ دو قدم اگے بڑھتے ہوے بولی۔
“یہ کیا کر رہی ہو؟ دروازہ کھولو” وہ سامان وہی رکھ کر اگے بڑھا۔ اسماء نے اسے پیچھے کو دھکہ دیا۔
“مجھے انکار کیا تھا نا اب دیکھنا کچھ دیر بعد خود نکاح کرو گے” وہ اپنے بالوں کو بکھیر رہی تھی، اسکے ساتھ اسنے اپنا ڈوپٹہ دور پھینکا۔ میک اپ کو بھی خراب کر دیا۔
“یہ کیا کر رہی ہو دور ہٹو” بلاج کو انہونی کا احساس ہوا وہ اگے بڑھا اور دروازہ کھولنے لگا، تبھی اسماء نے اونچی اونچی چلانا شروع کر دیا، آواز باآسانی باہر جا رہی تھی آہستی آہستہ لوگ اکھٹا ہونے لگے۔ وہ کمرے کا سامان بھی بکھیر دیا، اور ساتھ ہی اس سب کو اصل دیکھانے کے لیے اسنے بلاج کا گِریبان پکڑتے کھینچا جس سے اسکے دو بٹن ٹوٹ کر زمین ہر بکھرے بلاج نے زور سے اسے پیچھے دکھیلہ وہ زمین پر گڑی۔ تھی کسی سے چابی سے دروازہ کھولا، سامنے کا منظر دیکھتے راحیل کے پاؤں تلے زمین گھسی۔ بلاج خود ابھی تک شاک میں تھا اچانک یہ اسکی ساتھ کیا ہوا اسنے سبکی طرف دیکھا سبھی اسے مشکوک نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اسماءبھاگ کر راحیل کے گلے لگی اور زور زور سے رونے لگی۔
“اسنے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔” وہ روتے روتے بول رہی تھی۔ سکندر صاحب اپنے بیٹے کو مجرم دیکھتے اگے بڑھے اور اسکے چہرے پر لگاتار تھپر رسید کرنے لگے اور اسے دھکے دے کر کمرے سے باہر نکالا۔ ساتھ وہ اسے گالیاں دے رہے تھے۔
“میں نے کچھ نہیں کیا میں بے قصور ہوں وہ جھوٹ بول رہی ہے۔” وہ بس بار بار یہی دھرا رہا تھا۔ سمائرہ بیگم نے ماحول دیکھتے سبھی مہمانوں کو جانے کا بول دیا۔ وہ چلے گے۔
“بدبخت انسان تجھ سے یہی امید تھی” سکندر حمدانی اسے جوتوں سے مارتے ہوۓ بولے۔
“انکل اسکی بات تو سن لیں” حسام درمیان میں آتے انہیں روکنے کی کوشش کرنے لگا۔ پر وہ بے قابو ہوتے ہوۓ اسے ماری جا رہے تھے۔ سمائرہ بیگم وہی بیٹھیں رو رہیں تھیں۔
“سکندر رک جاؤ، اس مسلے کا حل بیٹھ کر نکالنا ہو گا، سارے خاندان میں یہ بات اب پھیل چکی ہے، مارنا کوئی حل نہیں” منیر صاحب درمیان میں آکر بولے۔ سکندر صاحب نے ہاپتے ہوۓ اپنا جوتا پھینکا اور جا کر عالم صاحب کے سامنے زمین پر بیٹھتے ہاتھ جوڑ دیے۔
“مجھے معاف کر دو عالم میرا بیٹا اتنا گڑ جاۓ گا میں نے کبھی سوچا نہیں تھا،میں ابھی کے ابھی ان دونوں کا نکاح کروا دیتا ہوں” وہ ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولے۔ زمین پر گڑا بلاج اپنے باپ کی بات پر حیرانگی سے دور کھڑی اسماء کی طرف دیکھنے لگا جو چادر میں منہ چھپاۓ سمائرہ بیگم کے سینے سے لگی جھوٹے آنسوں بہا رہی تھی۔ اسنے ایک ایک کر کے سبکی طرف دیکھا اسے سبکی نظروں میں خود کی ذات مجرم نظر آ رہی تھی۔ بنا کسی سوال جواب کے، سب نےاسے اپنی عدالت میں کھڑا کر کے خود ہی سوالوں کے جواب خود ہی اخز کرتے اسے ایک مجرم سمجھ لیا اور اب اسکی سزا بھی مقرر کر دی۔ اسکے زہن میں آیا، بلاج اگر تو آج نا بولا تو اپنی ذات پر لگے یہ الزام دھو نہیں پاۓ گا۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے کھڑا ہوا۔
“میں کسی سے نکاح نہیں کروں گا کیونکہ میں نے کچھ نہیں کیا، یہ سب اس اسماء کا کیا دھرا ہے” وہ بولنا شروع ہوا۔ حسام نے اسے کھڑا ہونے کے لیے سہارا دیا۔
“اپنا منہ بند رکھ ورنہ یہی گھاڑ دوں گا” راحیل نفرت سے بھرے لہجے میں اس سارے معاملے میں پہلی دفع بولا تھا بلاج کو لگا اسکا پہلا سہارا چھن گیا جس سے اسے امید تھی کہ وہ اسکا یقین کرے گا، اپنے حق میں بولنے کے پہلے قدم میں ہی وہ لڑکھڑا گیا تھا۔
“راحیل یارا میں بلاج ہوں تیرا جگر تیرا دوست بھلا میں ایسا گھٹیا کام کر سکتا ہوں، میرا یقین کر میں بے قصور ہوں مجھ پر الزام لگایا جا رہا ہے” بلاج نے روندھے ہوۓ لہجے میں کہا تھا۔
“چپ کر (گالی) تجھ کیا لگ رہا ہے، مین اتنا بے غیرت ہوں آنکھوں دیکھی مکھی نگل جاؤں گا، اپنے سامنے اپنی بہن کی ایسی حالت دیکھ تجھ لگ رہا یے مین تم پر بھروسہ کروں گا، تم نے آج بتا دیا، کبھی کسی دوست پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے تجھ جیسے بے غیرت لوگ اپنا اصل چہرہ دیکھا ہی دیتے ہیں ” اسکے چہرے پر تھپر مارتے وہ غرایا تھا۔ اسکا یہ تھپر بلاج کو چہرے پر نہیں بلکہ اپنے کردار اپنی دوستی کے اعتماد پر لگا تھا۔ اپنے باپ سے اتنی مار کھانے کے باوجود اسے جو درد اس تھپر سے ہوا اسکا اندازہ یہاں کھڑا کوئی شخص نہیں لگا سکتا تھا۔ وہ نم آنکھوں سے راحیل کو دیکھ رہا تھا۔ جو اپنا غصہ ضبط کر رہا تھا۔
موم میری بات پر یقین کریں میں نے کچھ نہیں کیا پلیز یقین کرین” وہ کچھ دور کھڑی کنول بیگم کو دیکھتے ہوۓ چیخ کر بولا کہ کوئی تو اسکی بات پر یقین کر لے۔ انہوں نے بے بسی سے چہرہ موڑ لیا۔
“مین سچ بول رہا ہوں، میری بات کا یقین کریں، میں نے کچھ نہیں کیا، میں اتنا گرا ہوا انسان لگتا ہوں، جو ایسی گھٹیا حرکت کرے گا، اللہ کا واسطہ ہے مجھ پر یقین کرو میں بے قصور ہوں میرا کردار پاک ہے، میں اتنا گھٹیا نہیں ہو جو کسی لڑکی۔۔۔۔” وہ بولتے بولتے لڑکھڑایا۔ تبھی ہارون اگے بڑھا اور دوسری طرف سے اسے پکڑا کر اسے سہارا دیا۔
“مجھے تجھ پر یقین یے ،بلاج تجھے صفائی دینے کی بالکل ضرورت نہیں” اسکےماتھے پر بنے زخم سے پر اپنا رومال رکھتے وہ نم لہجے میں بولا۔ بلاج کی آنکھیں نم ہوئیں۔
“مجھے بھی اپنے دوست پر یقین یے” امرحہ اور عائشہ کی آواز ایک ساتھ آئی تھی۔ وہ دونوں بھی اسکے پاس آ کر کھڑی ہوئیں۔ راحیل نے غصے سے عائشہ کو دیکھا۔ اسنے چہرہ جھکا لیا اس وقت اسے بلاج کی آنکھوں میں سچائی نظر آ رہی تھی تو بھلا وہ کیسے اسکا ساتھ نا دیتی۔ بچپن سے وہ اسے جانتی تھی وہ جانتی تھی وہ ایسا بالکل نہیں۔
” تم سب اپنی بکواس بند کرو، منیر کاری کو بلواؤ ابھی کے ابھی نکاح ہو گا” سکندر حمدانی درمیان میں آ کر غصے سے بولے۔ انکی بات پر اسماء کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری۔
“ہنہہہ سکندر حمدانی صاحب آپکو تو ویسے بھی اپنے کسی بیٹے پر یقین نہیں ہے، نا حسن بھائی ہر نا عمیر بھائی پر اور میری بات تو رہنے ہی دیں، آپکو بس اپنا فیصلہ سنانا آتا ہے بنا سچ جانے بنا تصدیق کیے، اپنا فیصلہ تھوپ دیتے ہیں،
تو یہ مت بھولیے گا میں بھی آپکا ہی بیٹا ہوں، مرتا مر جاؤں گا لیکن یہ نکاح کر کے اپنے کردار پر لگے الزام پر مہر نہیں لگاؤں گا” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ پورے عزم سے بولا۔ اسکے لہجے میں نظر آتی ضد صاف دکھ رہی تھی، اور وہ انہی کا بیٹا تھا تو انہی پر جانا تھا۔
“تو میں بھی تمہارا ہی باپ ہوں دیکھتا ہوں کیسے نکاح نہیں کرتے” سکندر حمدانی بھی اسی کے انداز میں بولے۔ بلاج نے دانت پیستے اپنے اوپر ضبط رکھا۔
“یہ نکاح نہیں ہو گا، اسکے نام سے منسوب ہی کرنا ہے نا تو منگنی کر دیتے ہیں، دونوں کی پڑھائی مکمل ہوتی ہے تو انکی شادی کر دیں گے یہ میرا وعدہ ہے مجھے یقین یےا پ سب میری بات پر یقین رکھیں گے” کنول بیگم بولتے ہوۓ اسماء کی طرف بڑھیں اور اپنے ہاتھ کی انگلی سے انگھوٹی نکال کر اسکی انگلی پر پہنا دی۔ سب کے سب خاموش ہو گے۔
بلاج نے برے ضبط سے یہ سارا عمل دیکھا، حسام کو اشارا کیا کہ وہ یہاں سے چلے ہارون امرحہ اور عائشہ اسکے پیچھے گے۔یوں اس درد ناک رات کا اختتام ہوا۔
،*
گاڑی میں بیٹھتے اسنے بے مقصد گاڑی چلا دی۔ بلاج کے الفاظ ابھی تک اسکے دماغ میں گھوم رہے تھے۔ اسکا دماغ گھوم چکا تھا۔ وہ چیخ چیخ کر بولنا چاہتا تھا اہنی غلطیوں کا اعترف کرنا چاہتا تھا۔ پر جانتاتھا اب کچھ ہاتھ نہیں آۓ گا سب اسکے ہاتھوں سے نکل چکا تھا۔ کچھ سوچ کر اسنے اپنی گاڑی کا رخ اسکے گھر کی طرف موڑا۔ دس منٹ بعد گاڑی اسکے دروازے کے سامنے رکی، چوکیدار نے اسے دیکھتے ہی دروازہ کھول دیا۔ وہ اندر آیا، گاڑی سے نکلتا وہ اندر حال کی طرف بڑھا، رات کے دو بج چکے تھے، حال اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ اسکے قدم خود با خود اسکے کمرے کی طرف بڑھے، اسکے کمرے کے سامنے آ کر وہ رکا، اسنے دروازہ بجانے کے لیے ہاتھ اُٹھایا۔ پھر نیچے گرا دیا۔ وہ بھلا یہاں کیسے آ سکتا تھا، اس دنیا میں اگر وہ سب سے برا مجرم کسی انسان کا تھا تو وہ عائشہ تھا۔
ہمت کر کے اسنے دروازہ بجایا۔ دو دفع بجانے پر ہی دروازہ کھل چکا تھا۔ دروازہ کھولتے ہی عائشہ کی نظر اہنے سامنے بکھرے حلیے میں کھڑے راحیل پر پڑی اسکے بال بکھرے یوۓ تھے، شرٹ کے بٹن ٹوٹے ہوۓ تھے، آنکھیں سے آنسوں نکل رہے تھے۔
“عائشہ۔۔۔۔۔” اسکا نام پکارتے ہوۓ وہ اگے بڑھا اور اسکے قدموں میں بیٹھ گیا۔ عائشہ کی سانسیں وہی تھم گئیں۔ رات کے وقت اسے اہنے سامنے دیکھ پہلے تو اسے وہم لگا پر ابھی جو حرکت اسنے کی، وہ چونکی۔ وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں لیے بلک بلک کر رو رہا تھا، اسنے جلدی سے دروازہ بند کیا اور اسکے سامنے آ کر نیچے بیٹھی۔
جاری ہے
