55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

ازقلم فاطمہ طارق
وہ بے دھیانی میں لیکچر لے رہی تھی، دماغ میں باسط کی باتیں دوڑ رہیں تھیں، وہ جانتی تھی کہ اب باسط اسے بلیک میل کرنے والا ہے۔ لیکچر ختم ہوا۔
“راحیل آجکل جو ڈرامہ چل رہا ہے بہت مزے کا ہے، اور تمہاری ایکٹنگ کی تو میں فین ہو چکی ہوں” لیکچر ختم ہونے کے کلاس کی ایک لڑکی راحیل کے پاس آ کر اسکی تعریفیں کرنے لگی۔
“تھینکس! ” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔
“مجھے تو ڈرامہ میں فزا اور تمہاری جوڑی کمال کی لگتی ہے، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوبصورت لگتے ہو، اگر تم دونوں کی حقیقت میں بھی شادی ہو جاۓ تو بہت مزہ آۓ” تبھی ایک اور لڑکی اسکے سامنے آ کر بولی۔ اسکی بات پر وہ ہلکا سا ہنسا تھا۔
“واقعی فزا تو بہت کمال کی ہے، اچھی ، خوبصورت،اور ساتھ نبھانے والی لڑکی ہے، سوچ سکتا ہوں” راحیل نے ایک نظر عائشہ کو دیکھتے ہوۓ کہا۔ جو یقیناً انکی باتیں سن رہی تھی۔۔۔
“ہاۓ اگر ایسا ہوا تو پلیز مجھے شادی پر بلانا” وہ لڑکی کافی ایکسائیٹیڈ لگ رہی تھی۔
“ہاں ضرور! میں تم سب کو اپنی شادی پر بلاؤں گا” راحیل نے اونچی آواز میں کہا،تاکہ اچھے سے وہ سن لے، امرحہ نے غصے سے مُر کر دیکھا وہ کب سے اسکی باتیں سن رہی تھی۔
“میں آتی ہوں” عائشہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور بنا کسی کو دیکھے کمرے سے باہر چلی گئی۔ راحیل نے اسکا جانا برے غور سے دیکھا۔ وہ تلخیہ انداز میں مسکرایا۔
**
وہ اکیلی کوریڈور سے ہو کر کنٹین کی طرف جا رہی تھی، جب اسکے موبائل پر کال آئی وہ ایک سائیڈ پر ہو کر کھڑی ہوئی اور ہاتھ میں پکڑے موبائل کو دیکھا۔
“اف اب کیا کروں، یہ تو پیچھے ہی پر گے ہیں” میرال نے موبائل پر باسط کی کال دیکھی تو دانت پیس کر بولی۔ وہ صبح سے دو دفع کال کر چکا تھا، پر میرال نے کال پک نہیں کی، جان چھڑوانے کے لیے اسنے کال پک کی۔
“بولیں کیا مسلہ ہے؟ کیوں بار بار کال کر رہے ہیں؟” وہ کال پک کرتے ہی غصے سے بولی تھی۔
“میں تمہاری یونی کے باہر کھڑا ہوں باہر آؤ، مجھے بات کرنی ہے” باسط نے اسکے غصے کو اگنور کرتے ہوۓ کہا۔ وہ ابھی اپنا کام خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
“کیسی بات جو کہنا ہے فون پر ہی کہیں” میرال سخت لہجے میں بولی۔
“اگر میری بات نا مانی تو تم اچھے سے جانتی ہو میں کیا کروں گا” باسط نے اب غصے سے کہا۔
“آپ مجھے بلیک میل کر رہے ہیں، جائیں مجھے آپ سے نہیں ملنا جو کرنا ہے کر لیں، میں نے کچھ غلط نہیں کیا میں اپنی بہن کو خود سمجھا لوں گی” میرال نے غصے سے کہتے ہی موبائل بند کر دیا۔ اور دل ہی دل میں اسے ڈھیروں گالیاں دیں۔
بلاج کلاس سے نکل کر باہر کھلی ہوا میں آیا، جب اسکی نظر موبائل پر کسی سے بات کرتی میرال پر پڑی۔ وہ اگنور کر کے وہاں سے جانے ہی والا تھا جب اسکی بات کانوں میں پڑی۔ وہ بے اختیار رکا تھا۔ اسے یہ بات عجیب لگی، میرال کینٹین کی طرف جا رہی تھی۔ وہ کچھ پل وہی کھڑارہا پھر اپنا سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔


اپنی منگیتر کا ویلکم نہیں کرو گے یوں باہر آکر کھڑے ہو گے” اسماء نے جب دیکھا بلاج باہر چلا گیا وہ بھی اسی کے پیچھے ا گئی۔ وہ دونوں گارڈن میں کھڑے تھے آس پاس بہت کافی اسٹوڈنٹس تھے۔
“اسماء بہت اچھا ہو، اگر اپنی حد میں رہو گی، ورنہ لوگوں کو انکی حدود میں رکھنا مجھے بہت اچھے سے آتا ہے” بلاج نے انگلی اُٹھا کر اسے وارنگ دیتے ہوۓ کہا۔
“اف ظالم تمہاری یہی تو ادائیں ہیں جو مجھے تم پر مزید فرا ہونے پر مجبور کرتی ہیں” اسماء نے اسے اپنی دائیں آنکھ مارتے ہوۓ کہا۔
“تم جیسی گھٹیا لڑکی میں نے اپنی لائف میں نہیں دیکھی، جسے نا تو اپنی عزت کی پرواہ ہے نا کسی اور کی” بلاج نے نفرت بھرے انداز میں کہا۔ اسماء پر اسرا سی مسکرائی تھی۔
“یاد ہے بلاج سکندر حمدانی ایک دفع تم نے کہا تھا، تم جیسی لڑکی سے کوئی بھی رشتہ منسلک کرنے سے پہلے میں موت کو گلے لگاؤں گا، ٹھیک دو دن بعد تم میرے منگیتر بنے سب کے سامنے تم نے مجھے یہ انگھوٹی پہنائی، اور اب دوبارہ سے بری بری باتیں کر رہے ہو، تو بہتر ہے تم اپنی قسمت کو مان لو کیونکہ تمہاری زندگی میں تو میرے علاوہ کوئی آ بھی نہیں سکتا” اسماء فل کانفیڈینس سے بولی تھی، اور بلاج کچھ پل کے لیے چپ کر گیا تھا۔
“تب میں مجبور تھا پر آج نہیں ہوں، تو اپنی غلط فہمی سے نکلو اور مجھے سے دور رہو” وہ سخت لہجے میں بولتا اپنی شرٹ کی آستینیں فلوڈ کرتا وہاں سے چلا گیا۔
“بلاج سکندر حمدانی تم نا تو میری محبت ہو اور نا ہی عشق تم صرف میرا جنون ہو، اور جنون تو پاگل پن سے کئی حد آگے ہوتا ہے، اور اپنے جنون کو پورے کرنے کے لیے میں کسی بھی حد سے گزر جاؤں گی” وہ اسے جاتے ہوۓ دیکھ کر ایک عزم سے بولی تھی۔ اسکی انکھوں میں جنونیت دیکھ رہی تھی۔ وہ اس جنونیت میں کیا کرنے والی تھی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔


اگلے دو دن بہت آرام سے گزرے کسی نے کسی سے پنگا نہیں لیا۔ بس میرال ہی تھی جو بار بار باسط کے میسج اور کالز کی وجہ سے پریشان تھی، وہ اس مسلے کو کیسے حل کرے وہ نہیں جانتی تھی۔
“کیا کروں کیسے اس مسلے سے نکلوں؟” وہ خالی نظروں سے سامنے وائٹ بوڈ کو دیکھتی خود سے سوال کر رہی تھی۔
“کیا مجھے اس سے بات کرنی چاہیے؟” اسکی نظر ٹیرھی کرسی کر کے بیٹھے بلاج پر پڑی جو ہارون اور حسام کی باتوں پر ہنس رہا تھا۔ ہنستے ہوۓ وہ کئی بار اپنی عادت سے مجبور اپنے بالوں کو سنوار چکا تھا۔۔۔
“اسے اپنے بالوں سے کتنا پیار ہے ہر وقت انہی کو سہلاتا رہتا ہے، ہنہہہ ” میرال اسے دیکھتے ہوۓ خودی سے بولی۔
“حد ہے مجھے کیا وہ جتنا مرضعی اپنے بالوں کو چھیرے، جتنا وہ کھڑوس ہے مجھے نہیں لگتا وہ مدد کرے گا” اسنے نفی میں سر ہلا کر اپنے خیال کو رد کیا، اور ایک افسردہ سانس خارج کرتے ہوۓ پھر سے وائٹ بوڈ کو دیکھنے لگی، جیسے وہاں پر اسے مسلے کا حل مل جاۓ گا۔
“کیا ہوا میرال؟ چپ چپ کیوں ہو؟” ایماب سے باتیں کرتی مشی کی نظر میرال پر پڑی تو اسکا اداس اور گم سم سا چہرہ دیکھ کر بولی۔
“ہممم نہیں ایسی بات نہیں ہے، بس رات کو ٹھیک سے سو نہیں پائی سر درد ہو رہا ہے” وہ سیے ہی تھوڑی تلے ہتھلی جماۓ سامنے وائٹ بوڈ کو دیکھتے بولی۔ بلاج کی نظر اسکی طرف گئی، دو دن پہلے سنے گے الفاظ اسکے کانوں میں گھونجے۔ اور پھر اسکا افسردہ چہرہ دیکھا،
“ایسی کیا بات ہو سکتی ہے جو یہ چشمش چپ ہو گئی؟” وہ ایک نظر میرال کو دیکھتے ہوۓ من میں بولا۔ جو اپنے مشغلے میں مصروف تھی۔
“حد ہے میں کیوں سوچ رہا ہوں” وہ سر جھٹکتے ہوۓ بولا۔۔
“ہمم کیا کہا؟” حسام نے اسے بربراتے ہوۓ سنا تو بولا۔
“نہیں کچھ نہیں” وہ سیدھا ہو کر بیٹھتے ایک بار پھر بالوں کو سیٹ کرتے ہوۓ بولا۔
**
چھٹی کے بعد وہ ہاسٹل کی طرف جا رہی تھی جب اسکا موبائل بجا۔ اسنے بیگ سے موبائل نکال کر دیکھا تو اس پر باسط چگمگا رہا تھا۔ اسنے کال ڈسکنیکٹ کر دی۔ اور چلنے لگی تبھی ایک میسج آیا۔
“نمرہ کا ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے، وہ کافی سیریس ہے” باسط کا میسج پڑھ کر اسکا دماغ ایک دم بند ہو گیا۔ اسنے جلدی سے اسکا نمبر ملایا۔
“یہ سب کیسے ہوا؟” وہ فوراً بولی۔۔
“تم جلدی سے باہر آؤ میں یہی کھڑا ہوں” یہ کہتے ہی اسنے کال بند کر دی، میرال اگلے پل بنا سوچے سمجھے یونی سے باہر آئی اور باسط کی گاڑی دیکھ کر فرنٹ کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گئی۔
“باسط بھائی نمرہ ٹھیک تو ہے نا آپی کہاں ہے؟” وہ روتے ہوۓ بولی تھی۔ ہلکا ہلکا سا کانپ رہی تھی یوں اچابک کوئی بھی خبر ملے تو انسان کا دماغ تو بند ہو جاتا ہے۔
” سکول کی بس کا ایکسیڈینٹ ہو گیا ابھی ہسپتال میں ایڈمٹ ہے، تمہاری باجی نے ہی لانے کو کہا ہے” باسط نے گاڑی کی سپیڈ تیز کی۔
“یا اللہ میری نمرہ کو ٹھیک رکھنا” وہ روتے ہوۓ دعائیں کر رہی تھی اور بادط تیز گاڑی چلا رہا تھا۔ قریب آدھا گھنٹہ وہ گاڑی چلاتا رہا۔
“اتنی دور ہسپتال ہے ابھی تک پہنچے کیوں نہیں؟” میرال نے باسط کی طرف دیکھ کر پوچھا جو چپ سا گاڑی چلا رہا تھا اسکی بات پر وہ مسکرایا تھا میرال کو اسکا یوں ہنسنا عجیب لگا تھا۔
“باسط بھائی آپ بول کیوں نہین رہے ہم ہسپتال پہنچے کیوں نہیں” اب اسکی آواز مین واضع ڈر سا تھا۔
“ہم ہسپتال نہیں جا رہے، ہم فام ہاؤس جا رہے ہیں” باسط غلیظ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا۔
“کککیا مطططلب؟، اپ نے جھوٹ بولا” وہ ہلکاتے ہوۓ بولی۔۔۔ اسے یقین نہین آ رہا تھا۔
“ہہایا جھوٹ ہاں جھوٹ بولا اب تم خود تو مجھ سے ملنے پر مان نہیں رہی تھی، تو یہی طریقہ اپنانا پڑا مجھے پورا یقین تھی تم جیسی بے وقوف لڑکی جھٹ سے بھاگ کر آۓ گی” وہ ہنستے وہۓ اپنا کارنامہ بتا رہا تھا۔ اب صحیح مائینوں میں میرال کو ڈر لگا۔ اسے لگا وہ کسی درندے کے ہاتھ لگ گئی ہے۔ اب وہ کیسے بچے گی یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی۔
“کیا ہوا ڈر گئی ہاہاہا ڈرنا چاہیے، تم اب میری قید میں ہو اور باسط کی قید سے آج تک ایک پنچھی بھی اُڑ کر نہیں گیا۔” وہ اونچا ہنستے ہوۓ بولا۔
” گاڑی روکو روکو گاڑی” میرال کو کچھ سمجھ نا ایا وہ کیسے نکلے تو اسنے سٹرینگ کو پکڑ کر گھمانا شروع کر دیا گاڑی ہچکولے کھانے لگی۔ باسط نے اسے ہٹانے کی کوشش کی پر وہ پاگلوں کی طرح سٹرنگ کو گھوما رہی تھی۔ باسط نے کھینچ کر اسکے چہرے پر تھپڑ مارا میرال چکرا کر رہ گئی
“بے وقوف ایکسیڈینٹ کرواے گی چپ کر کے بیٹھ جا” باسط ایک دم اس پر چلایا تھا۔ میرال ڈر سی گئی۔
“میرال یہ وقت ڈرنے کا نہیں اگر تمہیں اپنی عزت بچانی ہے تو ہمت کرنی پڑے گی” میرال نے سوچتے ہوۓ دروازہ کھولنے کی کوشش کی پر وہاں لاک لگا ہوا تھا۔ اسنے نفرت سے طاسط کو دیکھا جو مکاری سے مسکر رہا تھا۔
“مجھے کمزور سمجھنے کی تم بھول کر بیٹھے ہو” میرال نے اپنے بیگ سے پانی والی سٹیل کی بوتل نکالی اور باسط کے سر پر مارتے ہوۓ کہا۔ باسط یہ سب سچ بھی نہیں سکتا تھا اسنے جھٹ سے لگائی، میرال نے سوچنے سمجھنے سے پہلے ایک اور وار کیا، ااکا سر پھٹ چکا تھا وہ نیم بے ہوش ہو رہا تھا اسنے جلدی سی لاک کھولا، اور اپنا بیگ لے کر گاڑی سے باہر نکلی،باسط نے اےس روکنے کی کوشس کی پر ناکام رہا اور پھر وہ اندھا دھند بھاگنے لگی۔ روتے ہوۓ وہ بہت تیز بھاگ رہی تھی۔ تبھی وہ کسی گاڑی سے ٹکرائی۔ پر سد شکر گاڑی والے نے جھٹ سے بریک لگا لی۔


کیا تم واقع سچ بول رہے ہو، سچ میں کوئی سوراغ ملا؟” بلاج موبائل پر کسی سے پوچھ رہا تھا۔
“جی سر آپ جلدی سے آ جائیں” اگے سے جواب ایا۔
“میں آتا ہوں تم ایڈریس لکھواؤ” بلاج نے کہتے ہوۓ ایڈریس نوٹ میا اور اگلے ہی پل گاڑی کی چابی پکڑے باہر بھاگا وہ بہت خوش تھا آج شائد اسے اپنے مقصد کی پہلی سیڑھی مل جاۓ۔ گاڑی کو فل سپیڈ پر ڈالے وہ جلد سے جلدی وہاں پہنچنا چاہتا تھا۔ تبھی اچانک اسکے سامنے ایک لڑکی آئی اگر وہ جھٹ سے بریک نا لگاتا تو برا ایکسیڈینٹ ہو جانا تھا۔ پر جس بات نے اسے فریز کیا تھا وہ سامنے بکھری حالت مین کھڑی میرال نے کیا تھا۔وہ جلدی سے باہر آیا۔ میرال بار بار پیچھے دیکھ رہی تھی۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ اور وبے وقوفوں کی طرح روڈ پر کیوں بھاگ رہی ہو؟ مرنے کا ارادہ ہے تو کسی اور کی گاڑی کے سامنے آ کر مرنا” وہ لیٹ ہو جانے کی وجہ سے اسے ڈانٹ رہا تھا۔ پر وہ سن کہاں رہی تھی وہ تو بار بار پیچھے دیکھ رہی تھی، بلاج نے غور سے اسے دیکھا تو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا۔ وہ ڈری سہمی کانپ رہی تھی اور منہ سے ایک الفاظ نہین نکل رہا تھا۔
“ہۓ چشمش ؟ کیا ہوا؟ تم ٹھیک ہو؟ کانپ کیوں رہی ہو” وہ تھوڑا سا اسکے قریب آکر بولا۔ میرال نے زمین کو چھوتا ڈوپٹہ سر پر لیا۔
“وہ ہہہ باسط بھا۔۔۔۔” وہ ہکلاتے ہوۓ بولی۔ اب صحیح مین بلاج پریشان ہوا تھا اسنے کبھی اسے ایسے نہیں دیکھا تھا۔
“کون باسط ایک منٹ یہ کہی وہی تو نہیں جسکا اس دن بھی تم ذکر کر رہی تھی؟” بلاج نے ایک دم یاد آنے پر پوچھا۔ پر میرال ویسے ہی پیچھے دیکھتی رہی۔
“مجھے ہاسٹل جانا ہے یہاں پر کوئی بسسس ملے گی” اسنے اپنے بیگ کو زور سے مٹھیوں مین بھینتے ہوۓ کہا۔ بلاج کو اسکی دماغی حالت پر شک ہوا وہ اس ویرانے میں بس ڈھونڈ رہی تھی۔
“مس چشمش پہلے ریکس ہو جاؤ پھر مجھے بتاؤ کیا ہوا؟، بلاج نے گاڑی سے پانی نکال کر اسے پکڑایا۔ تبھی پیچھے گاڑی رُکی اور باسط باہر آیا۔ اسے دیکھتے ہی میرال کے ہاتھ سے پانی کی بوتل گِڑی۔ وہ بے ہوش نہیں ہوا تھا تبھی پندرہ منٹ بعد وہ گاڑی کو اسی رستےپر دوڑا رہا تھا جس طرف اسنےا سے جاتے دیکھا، وہ جانتا تھا اتنی جلدی بھاگ نہیں سکتی۔ اسے وہ نظر بھی آ گئی تبھی اسنے گاڑی روک دی۔ وہ سامنے کھڑے لڑکے کو بھی پہچان چکا تھا۔
” واہ بری تیز ہو بواے فرینڈ کو اتنی جلدی بلوا لیا، اوۓ سن اس لڑکی کو میرے حوالے کر اور تو نکل” باسط نے طنزیہ انداز میں میرال کو کہا۔ بلاج کو تھوڑی بہت بات سمجھ میں آنے لگی۔
“بلاج پلیز مجھے بچا لو یہ بہت گھٹیا انسان ہے مجھے کڈنیب کرنے کی کوشش کی ہے پلیز بچا لو” میرال ایک دم اسکے پیچھے ا کر چھپی۔ وہ ڈر سے کانپ رہی تھی۔
“او ہیلو چشمش تم اب کیا چاہتی ہو مین اس پہلوان ٹائپ انسان سے تمہارے لیے لڑوں، ارے واہ جس لڑکی کو جانے ابھی دو ہفتے نہیں ہوۓ، اسکے لیے میں اپنی ہڈیاں کیوں تڑواں” بلاج نے مُڑ کر اپنے پیچھے چھپی میرال کو دیکھتے ہوۓ کہا۔ میرال کے چہرے کا رنگ ایک دم پیلا پر گیا۔
” یہ بچی ہے، میری بھابھی کی بہن ہے، بس گھومنے اۓ تھے، اچانک ڈر گئی اور بھاگ گئی” باسط نے جب دیکھا بلاج خود لڑنا نہیں چاہتا تو وہ فوراً اگے بڑھ کر نرم لہجے میں بولا۔ اور میرال کا بازو پکڑنے لگا۔ تبحی بلاج نے اسکا بازو پکڑ لیا۔
“ارے کیا باسط صاحب اتنی بھی کیا جلدی ہے میں نے یہ کہا، جس لڑکی کو پندرہ دن نہیں ہوے جاننے اسکے لیے کیوں لڑوں، پر اسکا مطلب یہ نہیں اسے یوں تم جیسے گھٹیا انسان کے پاس چھوڑ کر چلا جاؤ” بلاج نے اسکے منہ پر ایک زور دار پنچ مارتے ہوۓ کہا وہ لڑکھڑا کر دور گڑا۔
“گاڑی میں بیٹھو” بلاج نے سمی کھڑی میرال کو کہا وہ اپنی کانپتی ٹانگوں کو گھسیٹتی ڈرائیونگ سیٹ کے برابر والے دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔ باہر بلاج اور باسط لڑ رہے تھے، بلاج اسے زیادہ مار رہا تھا۔ کیونکہ میرال نے اسکے سر پر پہلے ہی بوتل ماری ہوئی تھی اسلیے اس مین لڑنے کی ہمت ختم ہوئی تو وہ زمین پر گڑا گہرے گہرے سانس لے رہا تھا۔ بلاج نے اپنا پاوں اسکے گلے کے پاس رکھا اور دباؤ ڈالنے لگا۔
“خبر دار اگر آئندہ کسی لڑکی کے ساتھ انتی گھٹیا حرکت کرنے کی کوشش کی، مجھے اگر تو نظر بھی آ گیا وہی گھاڑ دوں گا” پاوں کا دباؤ مزید برھاتے ہوۓ اسنے سرد لہجے میں کہا۔ بساسط سے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ پلٹا اور ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر چہرہ اندر کی طرف کیا۔
“کیا کہتی ہو پولیس کے حوالے کر دوں؟” بلاج نے میرال سے پوچھا جو ابھی تک کانپ رہی تھی۔
“نہیں پلیز تم مجھے ہاسٹل چھوڑ دو” وہ ہاتھ جوڑ کر بولی۔ بلاج کو پتہ تھا وہ اس سچویشن سے کافی پریشان ہو گئی ہے تو وہ بھی گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی چلا دی۔۔۔۔ میرال کا رونا بند نا ہوا۔ بلاج کو اب اریٹیشن یو رہی تھی۔
“اب بتاؤ گی یہ سب کیسے ہوا؟ اور کیا یہی شخص تھا جو تمہیں بلیک میل کر رہا تھا” بلاج نے ساتھ بیٹھی میرال کی طرف دیکھ کر پوچھا ہر وہ تو رونے مین مصروف تھی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔