Rate this Novel
Episode 3
وہ ایماب کی حرکت کا جواب دے کر اب اپنی کلاس ڈھونڈ رہی تھی جو کچھ دیر کی محنت کے بعد اسے مل چکی تھی۔ کلاس میں داخل ہوئی، کلاس کافی بری تھی ، جس میں سیٹس اور ٹیبل لگے ہوۓ تھے۔ وہ چلتی ہوئی سامنے فرسٹ رو میں بیٹھ گئی۔ چونکہ وہ ہمیشہ سے کلاس میں فرسٹ پر ہی بیٹھتی تھی تو یہاں بھی بیٹھ گئی۔ ایماب کی حرکت ابھی تک اسے غصہ دلا رہی تھی۔ آتے ہی پہلے دن ہی اسکا موڈ خراب ہو گیا۔ پھر بھی اسنے نارمل رہنے کی کوشش کی۔ تبھی کلاس میں ایماب اور مِشی، رضوان داخل ہوۓ۔ میرال نے انہیں دیکھ کر چہرا موڑ لیا۔ ۔
ہاۓ کلاس! میں آگئی” مِشی اونچی آواز میں بولی تو سب نے ہوٹنگ کی، وہ کلا س میں سب سے زیادہ شرارتی تھی اور تقریباً سب کی فیورٹ تھی۔ دوستوں کی دوست اور دشموں کی دشمن تھی۔
“ہیلو کیا تم ہماری کلاس کی سٹوڈنٹ ہو؟” وہ موبائل پر ملائکہ کو میسج کر رہی تھی۔ جب پچھلی سیٹ پر بیٹھا ایک لڑکا بولا۔
“کیوں میں تمہیں شکل سے بے وقوف لگتی ہوں جو یوں منہ اُٹھا کر کسی بھی کلاس میں بیٹھ جاؤں، افکورس اسی کلاس کی ہوں تو یہی بیٹھوں گی” وہ جو پہلے ہی بڑھی بیٹھی تھی،اس لڑکے کے اُٹ پٹانگ سوال پر چڑ سی گئی۔
“تم اپنے حولیے سے اس کلاس کی تو کیا اس یونی کی بھی نہیں لگتی ہنہ بہن جی” پیچھے سے اسی لڑکے کی دوست طنزیہ انداز میں بولی۔ میرال نے مڑ کر ان دونوں کو دیکھا، پھر کچھ نا بولنے کا ہی ارادہ کیا اور چہرہ موڑ لیا، ورنہ لڑائی برھ جاتی۔
وہ مگن سی اپنے موبائل میں مصروف تھی، جب اسکے ٹیبل پر کھٹ کھٹ کی آواز آئی، اسنے نظریں اوپر اُٹھا کر دیکھا تو سامنے امرحہ اور عائشہ کھڑیں تھیں۔
“جی کیا بات ہے؟” میرال نے اپنا چشمہ صحیح کرتے ہوۓ انہیں پوچھا۔
“تم شائد نیو ہو تو جانتی نہیں، یہ پہلی رو ہماری ہے، ہمارا گروپ یہاں بیٹھتا ہے،چلو اُٹھو اور پیچھے کہی جا کر بیٹھو” امرحہ نے اسکا رجسٹر پکڑ کر اسکے ہاتھ پر رکھتے ہوۓ کہا۔ میرال نے حیرانگی سے انکی بات سنی۔
“سوری پر میں نہیں جاؤں گی تم چلی جاؤ، میں پہلے آ گئی تھی تو میں یہی بیٹھوں گی” میرال نے رجسٹر دوبارہ وہی رکھتے ہوۓ کہا۔سبھی کلاس کے اسٹوڈنٹس نے میرال کی بہادی دیکھی، یہاں بیٹھنے کی ہمت انہوں نے آج تک نا کی تھی۔ کلاس میں کچھ سٹوڈینٹس پرانے تھے اور کچھ نئے،
“او تو میڈیم کو ہمارا پتہ نہیں تبھی اتنی بہادری دیکھا رہی ہیں، چلو کوئی نہیں جلد پتہ چل جاۓ گا، وہ دونوں وہی کھڑیں تھی جب دروازے سے داخل ہوتے حسام نے اپنی گلاسس آنکھوں سے اتارتے ہوۓ کہا۔ سبھی نے اسکی طرف دیکھا۔ دروازے کے درمیان میں حسام، ہارون کھڑے تھے جو کہ تھوری دیر پہلے ہی آۓ تھے میرال کا جواب وہ سن چکے تھے۔ کلاس میں خاموشی سی چھا گئی، میرال نے حیرانگی سے پیچھے مڑ کر دیکھا ساری کلاس اچانک خاموش ہو گئی، یہ بات اس سے ہضم نہیں وہ رہی تھی۔
“پوری کلاس جانتی ہے یہ سیٹس ہماری ہیں یقینی x mate
گروپ کی یہاں ہم پانچوں بیٹھتے ہیں، تو پھر بلاوجہ کی تو ترا کرنے کی تو کوئی ضرورت نہیں یہ ہمارا رول ہے جو سب فالو کرتے ہیں تو میڈیم أرام سے اُٹھ کر چلی جاؤ” عائشہ ڈائیس کے قریب آکر بولی۔ میرال نے ان پانچوں کو دیکھا۔ باقی دونوں بھی اب اسکے سامنے آ کر کھڑے ہو گے تھے۔
“اوۓ اُٹھ کر چلی جا یہ لوگ بہت برا پیش آئیں گے تیری بھلائی کے لیے ہی بول رہی ہوں” تبھی میرال لے اپنے پیچھے سے اسی لڑکی کی آواز آئی۔
“یہ یونی ہے تم لوگوں کا گھر نہیں جو اپنی مرضی چلاؤ، اگر تم سب یہاں کے اسٹوڈنٹس ہو تو میں بھی ہوں، محنت کر کے اس یونی میں ایڈمیشن لیا ہے، تم لوگوں کی طرح باپ کی سفارشوں پر ایڈمیشن نہیں ملا تو اپنا یہ گنڈہ گردی والا انداز کہی اور چلانا، فضول میں بحث مت کرو صبح صبح موڈ آف کر دیا” میرال اپنی کرسی سے کھڑی ہو کر ان چاروں کو دیکھتے سخت لہجے میں بولی۔
“تمہاری اتنی ہمت تم ہم سے زبان لڑا رہی ہو تمہاری تو” امرحہ اسکی ساری باتیں سن کر شیرنی کی طرح اس پر جھپٹی۔
“روکو!” وہ اسکا گلا دبوچتی اس سے پہلے کسی کی آواز آئی سب نے آنے والے کو دیکھا۔ کلاس میں بلاج داخل ہوا۔ وہ میرال کی آخری بات سن چکا تھا۔ وہ چلتا ہوا میرال کے سامنے آ کر کھڑا ہوا۔
“ہممم ویری نائیس! مجھے تمہارا کانفیڈینس اچھا لگا، اور بالکل اچھا جواب دیا تم نے ان سب کو، یہ یونی جتنی ہماری ہےا تنی ہی تمہاری ہے، تم آرام سے اپنی جگہ پر بیٹھو فکر کرنے کی کوئی بات نہیں، ان سب سے میں بات کر لیتا ہوں” وہ بہت ارام سے میرال سے بات کر رہا تھا۔ میرال کو لگا کوئی بھلا انسان ہی ہو گا۔ وہ آرام سے کرسی پر بیٹھ گی۔
“اور تم سب شرم کرو نئی اسٹوڈنٹ ہے، اسکو تنگ مت کرو چلو اپنی اپنی جگہ پر بیٹھو، وہ ان چاروں کو گھور کر بولا۔ سبھی کے ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ آئی، وہ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گے۔ میرال نے حیرانگی سے ان دو لڑکیوں کو دیکھا جو ابھی کچھ دیر پہلے اتنی باتیں کر رہیں تھیں اور اب اسکے ایک اشارے ہر بیٹھ گئیں۔
” تم بے فکر ہو جاؤ اب یہ سب کچھ نہیں کہیں گے” بلاج مڑ کر میرال کو بولا۔
شکریہ! میرال نے اپنی ناک پر آتا چشمہ دوبارہ اوپر کرتے ہوۓ ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
“ایٹس اوکے یہ تو میرا فرض تھا میں بھلا اپنی یونی کے کسی اسٹوڈینٹ کے ساتھ غلط کیسے ہونے دے سکتا ہوں” بلاج اپنے سینے پر ہاتھ رکھتا ہلکا سا جھک کر بولا۔ اور مڑ کر اپنی جگہ پر بیٹھ گی۔
یہ تو گئی اب ایکس میٹ اسے نہیں چھوڑیں گے” میرال کو اپنے پیچھے سے کسی کی آواز سنائی دی۔ اسنے مڑ کر پوچھنا چاہا کہ انکا کیا مطلب تھا، پر تبھی کلاس میں سر داخل ہوۓ۔ سبھی خاموشی سے اپنا کام کرنے لگے۔ میرال بحی سب بھول کر لیکچر کی طرف توجہ دینے لگی۔
وہ کلاس میں بیٹھا ہوا تھا جب اسکے موبائل پر میسج کی ٹون بجی سائلنٹ نا ہونے کی وجہ سے آواز ساری کلا س میں گئی۔
“کون ہے کس کا موبائل بجا” سر امجد کی آواز کلاس میں گھونجی۔ ساری کلاس نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
“پیچھے بیٹھے بلاج نے موبایل کو کھولا اور میسج پڑھا جس میں سکندر حمدانی نے کافی لانت ملامت کی تھی۔ کیونکہ وہ ویڈو اب پوری شوشل سائیٹس پر پھیل چکی تھی اور اب تک تو نیوز بھی بن چکی ہو گی۔
” بلاج سکندر حمدانی سٹینڈ اپ” سر امجد نے ہاتھ میں پکڑی مارکل اسکی طرف اچھالی جسے برق رفتاری سے اسنے ہاتھ میں کیچ کر لیا تھا۔
“پروفیسر کتنی دفع بولا ہے بلاج بلایا کریں یہ سکندر حمدانی لگانا چھوڑ دیں ویسے ہی نام برا بھاری ہے، بلاج، پر آپ سنتے نہیں، وہ اپنی جگہ پر کھڑا ہو کر موبائل کو ہاتھ مین گھوماتا ہوا بولا۔ امجد صاحب نے لمبا سانس لے کر خود کو پر سکون کرنا چاہا۔
” موبائل سائنلٹ پر کیوں نہیں لگایا اور کلاس مین بیٹھ کر کیوں استعمال کر رہے تھے” انہوں نے اپنا غصہ دباتے ہوۓ پوچھا، وہ اپنے اس سٹوڈینٹ کو بہت اچھے سے جانتے تھے سیدھے طریقے سے جواب دینا تو اس آتا ہی نہیں تھا۔
اصل میں صبح سے میں سکندر حمدانی کے میسج کا انتظار کر رہا تھا،بس اسی لیے سائنلٹ نہیں لگایا” وہ ہلکا سا ہنس کر بولا۔ جو کہ امجد صاحب کو مزید تپا گیا۔
“تمیز تو تمہیں چھو کر نہیں گزری، اپنے والد کو نام سے بلاتے ہو،اور تمہارا کارنامہ مین صبح ہی دیکھ چکا ہوں، مجھے ایک بات بتاؤ تمہین زرا احساس ہے، سکندر حمدانی اتنے اچھے انسان کا نام تم مٹی میں ملا رہے ہو، کچھ تو احساس کر لو آج اگر یہاں کھڑے ہو تو انہیں کی وجہ سے تمہیں تو اہنی حرکت پر شرم سے مر جانا چاہیے” امجد سر کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اسے جھنجھور کر احساس کروائیں کہ تم نے غلط کیا۔
“سوری سر” بلاج سر جھکا کر بولا۔ امجد سر کو لگا شائد انکی باتوں کی وجہ سے وہ شرمندہ ہوا ہے۔ ساری کلاس نے حیرانگی سے بلاج کو دیکھا جو شائد پہلی بار معافی مانگ رہا تھا۔ سواۓ اسکے دوستوں کےوہ ویسے ہی سامنے دیکھ رہے تھے۔
“سوری سر پر میں شرمندہ نہیں ہوں، مجھے خوشی ہوئی آپ نے میری ویڈیو دیکھی” وہ سوری بولنے کے فوراً بعد بولا۔ سامنے بیٹھے چاروں کی ہنسی کا فوارہ پھوٹا۔ اب شاک ہونے کی باری امجد سر کی تھی۔
“ویسے سر میرے دوست کی ایکٹنگ کیسی تھی،ایک دم ہیرو لگ رہا تھا ویڈیو میں چھایا ہوا تھا” حسام نے بھی بات میں حصہ لیا۔
“حسام کون سا ہیرو لگ رہا تھا فواد خان یا ہمایوں؟” پیچھے سے بلاج نے اونچی آواز میں کہا ساری کلاس کا۔ قہقہ بلند ہوا امجد سر نے دونوں کو غصے سے دیکھا
“جگر ان سے بھی زیادہ ہینڈسیم لگ رہا تھا، ایکٹنگ میں یوں چانس مل سکتا ہے” حسام نے پیچھے مڑ کر دانت نکالتے ہوۓ کہا۔میرال نے افسوس سے ان دونوں کو دیکھا پہلے ہی دن اس گروپ نے کلاس میں بہت تماشا لگایا تھا۔
شٹ اپ بوتھ اف یو سر امجد غصے سے چلاۓ۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہتے پریڈ آف ہو گیا۔
“آئندہ کوئی بھی کلاس مین موبایل استعمال نہیں کرے گا اور تم پانچوں اچھا ہو گا اگر ابھی سے سھنمبل جاؤ ورنہ۔۔۔” وہ ان کو وارنگ دیتے ہوۓ بولے اور کلاس سے نکل گے۔
“گائیز چلو ایک کام کرنا ہے” وہ ان چاروں کے پاس آ کر بولا۔ اور ایک نظر اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی میرال پر ڈالی جو کہ اپنا ڈوپٹہ درست کر رہی تھی۔
“سمجھ گے تو چلیں” عائشہ نے اسکا اشارہ سمجھتے ہوۓ کہا۔ پانچوں ایک ساتھ کلاس سے باہر چلے گے۔
کلاس تقریباً خالی تھی وہ بھی کچھ کھانے کا سوچ رہی تھی، صبح ناشتہ بھی نہین کیا تھا۔ یہی سوچتی وہ مُڑی جب ایک دم سے مِشی سامنے آئی۔
“ہاۓ بریو گرل! مجھے تم کافی اچھی لگی بہادر اور نڈر لڑکیاں بہت اچھی لگتی ہیں بالکل میری دوستی کے قابل تو میں مِشی ہوں مجھ سے دوستی کرو گی؟ مِشی اپنا ہاتھ اگے بڑھاتے ہوۓ بولی۔
اوکے! میں میرال احمد اسنے ہلکا سا مسکرا کر اسکا ہاتھ تھاما تھا۔
” یس! سو ہماری نئی دوستی کی سیلیبریشن کے لیے کینٹین چلتے ہیں بہت بھوک لگی ہے” مِشی اسکا ہاتھ پکڑتے باہر کی طرف بڑھی۔میرال کو وہ لڑکی اچھی لگی، یوں دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا تو اسنے بھی قبول کیا۔
“ویسے میں تمہیں اس یونی کی کچھ باتیں بتا دوں، یہاں پر دوست سوچ سمجھ کر بنانا سب پر یقین مت کرنا، استین کے سانپ نکلتے ہیں، تم مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہو، میں اچھی دوست ہوں۔ مِشی اسکی طرف مڑ کر بولی۔ میرال اسکی بات سے کنفیوز سی ہوئی۔
” مطلب؟” اسنے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب جو جیسا دیکھتا ہے ویسا ہوتا نہیں، دوسری بات کسی سے گھبرانے کی صرورت نہیں اب تم حیات عالم عرف مِشی عالم کی دوست ہو اور میری دوست کو کوئی تنگ نہیں کر سکتی کیونکہ مجھے فاییٹنگ اتی ہے” وہ ایک دم فائیٹنگ والے موڈ میں اتے ہوۓ بولی۔ میرال کو اسکی اوٹ پٹانگ باتوں پر ہنسی آئی۔
“میں رب کی ذات کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتی، یہ تو پھر عام سے سٹوڈینٹس ہیں” میرال اسکا مطلب سمجھ چکی تھی وہ امرحہ لوگوں کا ذکر کر رہی تھی۔
“تم نئی ہو تو تمہیں ان سب کے بارے میں پتہ نہیں وہ سب پورے کے پورے شیطان ہیں، کسی کو نہین بخشتے، جس کے پیچھے پر جائیں اسے یہاں سے بھیج کر ہی سانس لیتے ہیں” مِشی نے اسے سچ بتانا چاہا۔
“لیکن مجھے وہ لمبا لڑکا کیا نام تھا اسکا ہاں بلاج وہ تو صحیح لگا اسنے ہی تو آ کر سب کو روکا تھا۔ ہاں سر سے بدتمیزی کی پر میری تو مدد کی” میرال نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔ مِشی نے نفی مین سر ہلایا۔
“ریلیکس چلو کچھ کھاتے ہین یہ سب باتیں بعد میں کریں گے” وہ اسکا دھیان بٹھکانے کے لیے بولی اور اسے لیے کیٹین میں آئی۔ دونوں نے مل کر برگر کھایا اور واپس کلاس روم کی طرف آنے لگیں، کیونکہ اگلی کلاس شروع ہونے والی تھی۔
“ہیلو مس نیو قمر! وہ دونوں جا رہیں تھیں جب پیچھے سے بلاج کی آواز آئی۔دونوں نے مڑ کر دیکھا۔
” کیا ہے؟” میرال نے سوالیہ اندز میں کہا۔
“میں نے اپنے دوستوں کو سمجھانے کی کوشش کی پر سب بہت ناراض ہیں تم بس ایک دفع ان سے معافی مانگ لو پھر سب ٹھیک ہو جاۓ گا” وہ میرال کی طرف دیکھتے ہوۓ معصوم سا چہرا بنا کر بولا۔ میرال کے ماتھے پر بل پڑے۔
“بلاج دیکھو اس سے دور رہو، وہ نئی ہے، اسکو تنگ مت کرو” مِشی نے اگے بڑھ کر روکنا چاہا”
حیات عالم میرے کاموں میں اپنی ٹانگ اڑانا بند کرو ورنہ۔۔۔۔ اسکی بات سن کر بلاج سخت لہجے میں بولااور اسے سائیڈ پر کیا۔
“تو مس نیو قمر! کیا جواب ہے تمہارا آج کی بدتمیزی کی معافی مانگو گی” وہ تھوڑا سا اگے بڑھ کر بولا۔
“کس بات کی معافی میں نے کچھ غلط نہیں کیا، انہوں نے بدتمیزی کی تھی میں نے جواب دیا تھا” میرال اسکی بات سن کر آپے سے باہر ہوئی اور غصے سے بولی۔
“اووو غصہ، ریلکس بی بی ڈول ” بلاج ہلکا سا ہنس کر بولا۔ اسلےا س بے ہودہ لفظ پر میرال کو بہت غصہ ایا۔ کافی سٹوڈینٹس اکھٹے ہو گے۔ سبھی جانتے تھے میرال اب ایکس میٹ کے نشانے پر آچکی ہے۔
“فائن تو اب گِلہ مت کرنا، وہ تھوڑا سا پیچھے ہوتے ہوۓ بولا۔ میرال نے ناسمجھی سے اسے دیکھا ایا اسکی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ تبھی اچانک اسکے اوپر کیچر کی یوں مانو برسات ہونے شروع ہوئی۔ آس پاس سبھی نے ہنسنے لگ پڑے ان میں سے سب سے اونچی ہنسی بلاج کی تھی۔ میرال ایک دم سے سائیڈ پر ہٹی، پر اس سے پہلے وہ مکمل کیچڑ میں نہا چکی تھی۔
” ہاہاہاہاہاہا واہ مزہ آ گیا” وہ چاروں بلاج کے پاس آتے ہنس کر بولے۔ بس ہارون خاموش تھا۔
“تم سب کا دماغ خراب ہے” مِشی انکی حرکت دیکھ کر چلائی۔ اور میرال کے پاس آئی۔ جو کہ شاک سے اپنے سامنے کھڑے پانچوں کو ہنستے ہوۓ دیکھ رہی تھی۔ جو کسی کی تذلیل کر کے اب ہنس رہے تھے۔
“میرال تم ٹھیک ہو؟” وہ اپنی پاکٹ سے رومال نکال کر اسکا چہرا صاف کرتے ہوۓ بولی۔ میرال کی انکھیں ضبط سے لال ہو رہیں تھیں۔
“تو مس نیو قمر تم نے ایکس میٹ سے پنگا لیا ہے اپنی اگلی سزا کے لیے تیار رہو اتنی اسانی سے ہم تمہیں چھوڑنے والے نہیں باۓ کیچر والی” بلاج اسکے قریب آ کر بولا اور ہنستے ہوۓ آگے بڑھ گیا اسکے پیچھے ہی باقی سب بھی چلے گے۔
“مجھے ہاسٹل جانا ہے” میرال اہنا چشمہ رومال سے صاف کرتے ہوۓ بولی۔ مِشی نے ہاں میں سر ہلایا اور اسے لیے ہاسٹل کی طرف بڑھی، جو کہ یونی کے ایک حصے مین بنا ہوا تھا جہاں جانے میں بیس منٹ لگتے تھے۔ وہ دونوں چلتی ہوئی جا رہیں تھیں آس پاس سارے سٹوڈینٹس میرال کے حلیے پر ہنس رہے تھے۔ وہ ضبط سے بس چلتی جا رہی تھی۔ تھوڑی دیر مین وہ ہاسٹل پہنچیں،
تم نہا لو۔ مِشی نے کہا تو میرال نے اپنے بیگ سے کپڑے نکالے وہ اپنے کمرے میں بنے چھوتے سے واشروم میں چلی گئی۔تھوڑی دیر بعد وہ فریش ہو کر واشروم سے نکلی۔
“تم ٹھیک ہو؟” مِشی نے پوچھا۔
“ہاں ٹھیک ہوں مجھے بس یقین نہیں وہ رہا اتنے بے ہس لوگ بھی ہوتے ہیں سب کے سامنے تماشا بنا دیا” میرال اپنے بالوں میں برش پھیرتے ہوۓ بولی۔
“تم فکر مت کرو یہ سب لوگ دو دن میں بھول جائیں گے، اور بلاج لوگوں سے نپٹنے کے لیے کچھ سوچنا پرے گا” مِشی کمرے میں چکر لگاتے ہوۓ بولی۔
“پہلے ہی دن کتنا کچھ ہو گیا میں اس یونی میں لڑنے نہیں آئی مین پڑھنے آئی ہوں، بہت محنت سے میں نے سکالر شپ لی ہے، بولتے بولتے اسکی انکھوں میں پانی آگیا۔
” ارے میرال یار رونا مت، ان سب کو تو وہ حال کروں گی عقل ٹھیکانے آ جاۓ گی۔ تم فکر مت کرو۔ مِشی نے اسکے آنسوں صاف کرتے ہوۓ کہا۔ میرال نے ہاں مین سر ہلایا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
