Rate this Novel
Episode 35
وہ کمرے میں داخل ہوا تو سیدھی نظر سامنے بیڈ پر کمبل میں لپٹی عائشہ پر پڑی۔ وہ آج کل سائے کی طرح اسکے ساتھ رہتا تھا، کافی بار اسنے عائشہ کو سمجھانے کی کوشش کی پر ہر بار وہ اسکی بتا نہیں کہ کر ختم کر دیتی۔ اب تو اسنے بولنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ جانتا تھا وہ کتنی ضدی ہے، اور ویسے بھی وہ اب خوش خوش رہنے لگی تھی، بات با بات مسکراتی تھی، سمائرہ بیگم اسکی ڈائیٹ کامکمل خیال رکھ رہی تھیں، راحیل خود اسکے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ لنچ اور ڈنر کرتا، چاہے کتنا ہی مصروف کیوں نا ہو وہ وقت نکال کر اسکے ساتھ رہتا، اسی چکر میں اسکا دھیان اپنے کام پر نا تھا۔ ایک پرواجیکٹ بھی اسنے چھوڑا تھا۔ وہ صرف اسکے لیے پہلے والا راحیل بن رہا تھا، عائشہ اچھے سے اسکا بدلاؤ محسوس کر رہی تھی۔
“عائشو! اُٹھو تمہارے لیے کچھ لایا ہوں” وہ اسکے پاس بیڈ پر بیٹھا اسکے کندھے پر تھپتھپاتے ہوۓ اُٹھا رہا تھا۔
“ہممم کیا ہے سونے دو” وہ کمبل ٹھیک سے لیتے ہوۓ بولی۔ راحیل اسکے انداز پر مسکرایا۔
“سنو! گول گپے لایا ہوں، دوپہر میں بول رہی تھی نا کہ کھانے ہیں” وہ اسکے کان کے قریب آ کر ہولے سے بولا۔ عائشہ نے ہلکی ہلکی آنکھیں کھولیں، اور اسکی طرف دیکھا۔
“جھوٹ بول رہے ہو دیکھاؤ” وہ جیسے اس پر یقین نہیں کر رہی تھی کہ آیا اسے تنگ کر رہا ہو گا راحیل نے مسکراتے ہوۓ شاپر اسکے سامنے کیا۔ وہ اُٹھ کر بیٹھ گئی۔
“سچ میں، واؤ” اسنے جھٹ سے شاپر پکڑا ساری نیند بھاگ گئی تھی۔ من پسند چیز جو سامنے تھی۔ وہا سے کھولنے لگی۔
“ارے رُکو، ایسے نہیں میں پلیٹس لے کر آتا ہوں” وہ بولتا باہر کچن کی طرف گیا۔ ایک پلیٹ اور ساتھ میں پانی کے لیے ایک باؤل لایا۔
“چلو جی بناتے ہیں” کمبل کو یک طرف کرتے وہ بیڈ پر سیدھا ہو کر بیٹھا اور شاپر سے گول گپوں کی پاپڑی اور چاٹ نکالی۔ پانی باؤل میں ڈالا۔ ایک گول گپہ بنا کر اس میں پانی ڈال کر اسنے عائشہ کی طرف کیا۔ وہ جو کب سے اسے اپنے لیے یک سب کرتے نرم نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اسے وہ دن یاد آیا جب اسی کمرے میں راحیل نے اسے کیا کچھ نا بولا تھا۔ ان دو سالوں میں کیا کچھ نا ہوا تھا اور آج جب وہ بالکل ٹھیک ہو رہا تھا اسے یقین ہی نہیں ہو رہا تھا۔ عائشہ کو یوں خود کو یوں تکتے دیکھ وہ حیرنا یوا
“عائشو کیا ہوا؟ نہیں کھانا؟ طبعیت ٹھیک کے؟” وہ ایک دم پریشان ہو گیا۔ عائشہ اسکی آواز پر اپنے خیالوں سے باہر نکلی۔
“کچھ نہیں میں خود کھا لیتی ہوں” عائشہ نے خود اپنے لیے تیار کر کے گول گپہ منہ میں ڈالا۔ راحیل اپنے ہاتھ میں پکڑے گول گپے کو دیکھنے لگا۔ تو اب وہ اسکے ہاتھ سے بنی کوئی چیز کھانا بھی نہیں چاہتی یہی بات اسکے دل میں آئی ایک دم سے اسکا موڈ آف ہوا۔۔ اسنے وہ پلٹ میں رکھ دیا۔ عائشہ مگن سے کھا رہی تھی۔
“تم کھاؤ میں فریش ہو کر آتا ہوں” وہ زبردستی مسکرا کر اُٹھا اور نائیٹ سوٹ لیے واشروم میں گھسا۔ عائشہ کی نظر اسکے بناۓ ہوۓ گول گپے پر پڑی۔ اسنے وہ اُٹھایا اور کھا لیا۔
“مجھے ابھی یقین نہیں ہے کہ آپ بدل گے ہو یا صرف دیکھاوا کر رہے ہو، جب یقین آجاۓ گا میں بھی پہلے والی عائشہ بن جاؤ گی” وہ واشروم کے بند دروازے کو گھورتے ہوۓ بولی۔ اور دوبارہ کھانے میں مصروف ہو گئی۔
وہ فریش ہو کر باہر نکلا۔ تولیے سے بال رگڑتا ڈریسنگ کی طرف آیا۔ بالوں میں برش کیا۔ عائشہ دوبارہ سے کمبل میں گھس چکی تھی۔ وہ الماری کی طرف بڑھا وہاں سے ایک ایلبم نکالا۔ اور بالکنی میں آ گیا۔ کرسی پر بیٹھا اور سامنے ٹیبل پر ایلبم رکھ کر کھولا۔ اس ایلبم میں اسکے بچپن کی یادیں تھیں، ان سب کی یادیں اس میں قید تھیں۔ انہی یادوں کو دیکھتے وہ ماضی کے کچھ پلوں میں کھو گیا۔
ماضی”
وہ چاروں اس وقت مری موجود تھے برف بھاری زوروں سے ہو رہی تھی۔ اور وہ چاروں فام ہاؤس کے باہر ایک دوسرے پر برف کے گولے بنا بنا کر پھینک رہے تھے چاروں پچھلے دو دن سے مری میں موجود تھے۔
“راحیل یہ لے” وہ موبائل پر عائشہ کو میسج کر رہا تھا۔ جب بلاج نے برف کا گولا بنا کر اسکے چہرے پر مارا۔ اسکا موبائل نیچے گڑا۔
“بلاج پاگل ہے میں عائشہ کو میسج کر رہا تھا” وہ غصے سے بولا۔ اور نیچے گڑا موبائل پکڑا۔۔ وہ تینوں ہنس رہے تھے۔ ہارون انکی تصویریں بنا رہا تھا۔
“ابے سالے جب یاروں کے ساتھ ہو تو عائشہ کو تھوڑی دیر بھول جایا کر” بلاج نے اسکی گردن دباتے ہوۓ ہنس کر بولا۔
“ابے چھوڑ مارے گا کیا؟” راحیل اسکا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرتے بولا۔
“اسکا یہی علاج ہے بولا بھی تھا یہ چار دن ہم سکون سے گزاریں گے، اور ان تینوں کو آنے کا بولا تو تھا۔ خودی انکو گرلز پارٹیز کرنی تھیں اس میں ہمارا کیا قصور” حسام بھی اسی انداز میں بولا۔
“یار بس حال چال پوچھ رہا تھا۔ یاد آ رہی تھی” راحیل معصوم سا چہرہ بنا کر بولا۔
اف راحیل جورو کا غلام تیرا کیا بنے گا، بس دن ہوۓ ہیں بس ” بلاج اپنا سر پکڑتے ہوۓ بولا۔
اُڑا لو مزاق جتنا اُڑانا ہے، دیکھ لو گا تم تینوں کو جب یہ وقت تم تینوں پر آۓ گا تب دیکھنا، محبت سے کوئی بچ نہیں پاتا تم تینوں بھی بچ نہیں پاؤ گے” وہ تینوں کو گھورتے ہوۓ بولا۔
“کچھ بھی ہو تیرے جیسے نہیں بنیں گے” بلاج نے دوبارہ سے برف کا گول بناتے طرف پھینکا۔ حسام بھی اسکے ساتھ ہی شامل ہوا ہارون انکی تصویریں بنانے لگا اور ساتھ ہنس رہا تھا۔
“تم تینوں کو تو میں بتاتا ہوں” راحیل نے موبائل کوٹ کی جیب میں ڈالا اور برف کا گولا بناے اب وہ بھی انکے حملوں کا جواب دے رہا تھا۔ تینوں ایک دوسرے پر پھینک رہے تھے۔ ہارون تینوں کو تصویریں لینے مین مصروف تھا۔ جب ایک گولا اسکے چہرے پر پڑا۔
“میں تصویریں لے رہا ہوں” وہ منہ کھولے بولا تھا۔
“تصویروں کا بہانا بنا کر بچنا چاہتا ہے” تینوں نے ایک ایک گولا ہاتھ میں پڑے اسکی طرف قدم بڑھایا۔ ہارون نے گلے میں ڈالے کیمرے کو بند کیا اور بھاگ کر اپنی جان بچانے لگا۔ تینوں اسکے پیچھے بھاگے اور برف کے گولے اسکی طرف پھینکے۔ وہ وہی برف پر گڑا۔ اور ہنسے لگا۔ وہ تینوں بھی ہنستے ہوۓ وہی لیٹ گے۔ اوپر آسمان سے ہلکی ہلکی برف بھاری انکے اوپر گڑ رہی تھی۔ اور وہ چاروں ہنس رہے تھے۔۔۔
موبائل کی بیل پر وہ چونکا، سامنے ٹیبل پر پڑے موبائل کو اُٹھایا۔ سامنے سکرین پرآۓ نام کو دیکھ وہ چونکا۔ رات کے اس وقت دو سال بعد وہ اسے کیوں فون کر رہا تھا۔ اسنے کچھ سوچ کر کال اُٹھا لی۔۔۔
” راحیلللللل۔۔۔۔۔” اگے سے کوئی روتے ہوۓ بول رہا تھا۔ وہ اسکی یوں رونے پر چونکا۔ رات کے اس وقت وہ اسے کوئی فون کر رہا تھا۔
“کیا ہوا تم۔ رو کیوں ہو سب ٹھیک تو ہے نا؟” وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتے ہوۓ پریشانی میں بولا۔
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔ تم پلیز مجھ سے مل لو،میں کسی سے یک بات نہیں۔۔۔۔۔۔” اسکی اواز کانپ رہی تھی۔ اور تبھی کال کٹ گئی۔ ا
راحیل نے بنف فون کو دیکھا وہ اسکے یوں رونے سے کافی پریشان ہو گیا۔ کیا کرے کیا نا کرے اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ دو سال بعد اسنے کیوں کال کی تھی۔ وہ کمرے میں آیا۔ گاڑی کی چابی لی عائشہ سو چکی تھی۔ وہ دبے قدموں کمرے سے نکلا اور بھاگ کر گاڑی کی طرف آیا۔ اور گاڑی کو روڈ پر ڈالا۔
وہ کب سے کمرے میں بیٹھی پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ پر لاونچ میں بیٹھے بلاج نے ٹیوی کا والیم حد سے زیادہ تیز کیا ہوا تھا۔ اور فلم دیکھ رہا تھا اور وہ بھی ڈراونی فلم۔ اسکی عجیبوں غیریب ڈراونی چیخیں گھر میں پھیلیں تھیں۔ آخر اسے کمرے سے باہر آنا ہی پڑا۔ بلاج نے جان بوجھ کر آواز اونچا کیا ہوا تھا۔ وہ جب سے یونی سے آئی تھی کمرے میں بند تھا۔ بلاج نے کافی دفع دروازہ کھٹکھٹایا پر اسنے ایک دفو بھی جواب نا دیا۔ آخر میں اسے یہی حل نظر آیا۔
“آواز کم کرو” وہ اسکے پاس آ کر غصے سے بولی۔ وہ پورا فلم میں کھویا ہوا تھا۔ اسکی بات کا جواب نہیں دیا۔ اور سامنے پڑی چپس کے پیکٹ سے چپس پکڑ کر کھانے لگا۔
“بلاج! آواز کم کرو سر میں درد لگا دی ہے” وہ اسکے کان کے قریب آ کر چلائی۔ بلاج نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے پاس صوفے پر بیٹھایا۔
“آہستہ بولو سن سکتا ہوں” ٹیوی کا وایلم کم کرتے وہ بولا۔۔
“پورے پاگل ہو، اب آواز اونچی مت کرنا” وہ اپنا ہاتھ چھڑواتی وہاں سے جانے لگی۔ بلاج نے دوبارہ آواز اونچی کر دی۔ وہ رک کر پلٹی اور اسے غصے سے گھورا۔ وہ مسکراہٹ دبا کر اب کوک کا گھونٹ بھر رہا تھا۔
“اب کرو اونچی آواز ” وہ اگے بڑھی اور ٹیوی کا بٹن ہی بند کرنے کے لیے دیورا میں لگی ایل سی ڈی کے پاس آ کر اسکا بٹن تلاش کرنے لگی۔ ادھر اُدھر دیکھتے اسے بٹن نظر آیا۔ جو کہ کافی اوپر تھا۔ اسکا ہاتھ تو ادھر جانے نہیں والا تھا۔ اس پاس دیکھا کوئی سٹول یا کرسی نہیں تھی۔ وہ وہی کھڑی اب مسلسل اسے غصے سے گھور رہی تھی۔ جو فلم میں ایسا کھویا تھا جیسے وہ وہاں کھڑی ہی نا ہو۔ میرال کو اب اسکی ہٹ دھرمی پر غصہ آنے لگا ساتھ مین آنکھیں ہلکی سی بھیگیں۔ وہ پلٹ کر اپنے کمرے میں جانے لگی۔ جب اسکی کلائی بلاج کے ہاتھ کی پکڑ میں تھی۔ اسنے اسے ہلکا سا جھٹکا دیا۔ وہ سیدھا اسکے سینے سے آ لگی۔ ٹیوی کی آواز بند ہو چکی تھی
“کیا ہوا چشمش؟” وہ چہرہ جھکاۓ ویسے ہی اسکے سینے سے لگی تھی۔ بلاج نے اسکا چہرہ تھوڈی سے پکڑ کر اوپر کیا۔
“تم بہت بدتمیز ہو کب سے بول رہی ہوں آواز کم کرو دو گھنٹے ہو گے تم نے ایسے ہی اونچی آواز کر کے سر میں درد کر دیا ہے” وہ سو سو کرتی آنسوں گال پر بہاتے ہوۓ بولی
“غصے سے کہنے کی بجاے پیار سے کہتی میں تبھی بند کر دیتا اور تم نے یونی سے آتے ہی دروازہ ایسے بند کیا تھا جیسے صدیوں کا تم نے کمرہ نا دیکھا ہو، میں نے دروازہ کتنا کھٹکھٹا تھا تم نے میری بات مانی جو میں مانتا” وہ اسکے آنسوں صاف کرتے ہوۓ نرم لہجے میں بولا۔
“اب اونچی آواز مت کرنا” وہ بول کر جانے لگی۔
“روکو یار بور ہو رہا ہوں چلو مل کر فلم دیکھتے ہیں کھانا بھی لایا ہوں وہ بھی کھاتے ہیں، اتنا پڑھ کر کیا کرو گی ویسے بھی تم ٹاپ ہی کرنے والی ہو” بلاج اسکا ہاتھ پکڑے صوفے پر بیٹھاتے ہوۓ بولا۔ وہ بھی ارام سے بیٹھ گئی بھوک تو اسے بھی لگی ہوئی تھی۔ بلاج نے کھانا گرم کر کے ٹیبل پر لگایا۔ اور اسکے پاس بیٹھ کر ٹیوی کا وایلم آن کیا۔ ایک دم سے آواز تیز ہوئی۔
“بلاج” میرال نے اسکے کندھے پر تھپر مارتے ہوے چیخی۔
“ہاہاہاہا سوری” بے ساختہ اسکا قہقہ بلند ہوا۔ کان پکڑ کر اسنے سوری کہا۔ اور ریموٹ پکڑ کر آواز آہستہ کی۔
سامنے پڑی بریانی کو دیکھ کر میرال کی بھوک ایک دم جاگی، پلٹ میں بریانی ڈال کر وہ کھانے لگی اور ساتھ فلم دیکھنے لگی۔ جب بلاج نے اسکی پلٹ سے بریانی کھانی شروع کی۔ اسکی حرکت پر میرال نے دوبارہ اسے گھورا۔ وہ بس گھور ہی سکتی تھی، جس دن سے وہ یہاں آئی تھی وہ ایسے ہی اسکی پلٹ سے کھانا کھاتا۔ اسکی حرکت کہی نا کہی اسے بھی اچھی لگی پر وہ اپنی ساری فیلنگز غصے کے پیچھے چھپا دیتی۔۔ دنوں نے مل کر کھانا کھایا۔ اور فلم دیکھنے لگی۔ فلم دیکھتے دیکھتے کب میرال کو نیند آ گئی اور وہ وہی صوفے پر سو گئی۔ بلاج نے اسے یوں سوتے ہوۓ دیکھ مسکرایا۔ اسنے ٹیوی بند کیا۔ اور ساری پلیٹس کیچن میں رکھ کر وہ صوفے پر سوئی میرال کے پاس آیا۔ ایک دو دفع اسے ہلایا پر وہ ویسے ہی سوئی رہی۔ اسنے اگے بڑھتے اسکے وجود کو بازوں میں بھرا اور اسکے کمرے میں لا کر بیڈ پر لٹایا۔ اسکے اوپر کمبل درست کرتے وہ وہی بیٹھ گیا۔ اسکے سوۓ ہوۓ معصوم چہرے کو دیکھتے وہ اگے بڑھا۔
“تم سچ میں کسی دن مجھے پاگل کر کے چھوڑو گی” اسکے چہرے پر آئی بالوں کی لٹ کو پیچھے کرتے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔ اور اُٹھ کر کمرے سے باہر آ گیا۔۔۔
وہ گھر میں داخل ہوا تو پورا گھر خالی تھا۔ شائد گھر میں کوئی نا تھا وہ سیدھا اسکے کمرے میں آیا دروازہ کھول کر اندر آیا۔ کمرے کا ماحول دیکھ وہ بھونچا کر رہ گیا۔ پورے کمرے میں سگریٹ کی بو پھیلی تھی۔ اسنے تو کبھی سگریٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔ بہت ساری پرفیومز ٹوٹ کر زمین پر بکھریں تھیں۔ بیڈ کے نیچے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے وہ وجود رور رہا تھا۔
“ہارون کیا ہوا” وہ جلدی سے اسکے پاس آ کر بیٹھتے ہوۓ بولا۔ راحیل کی آواز سن کر ہارون نے گردن اُٹھا کر اسے دیکھا۔ رونے کی وجہ سے پورا چہرہ بھیگا اور لال سرخ تھا۔ آنکھیں سوجھی ہوئیں تھیں۔ جیسے وہ کافی گھنٹوں سے رو رہا تھا۔
“راحیل! سب دھوکے باز ہیں،سب کے سب۔۔۔۔” اور راحیل کو دیکھتے ہی وہ اسکے سینے سے لگا کسی بچے کی طرح روتے ہوۓ بولا۔ وہ ایک دم پریشان ہو گیا۔ وہ بالکل بچپن والا ہارون لگ رہا تھا جب وہ اپنی ماں کے بچھر جانے پر ایسے رویا کرتا تھا۔ تب وہ ڈپریشن میں چلا گیا تھا۔ جاوید صاحب آج گھر پر موجود نہیں تھے وہ میٹنگ کے سلسلے میں دوسرے شہر میں تھے
“اچھا بتاؤ کیا ہوا۔۔؟” راحیل اسکی پیٹھ تھپتھپاتے ہوۓ بولا۔
“مجھے سمجھ آگیا کوئی کسی کا دوست نہیں سبھی جھوٹے ہیں چھپ کر کام کرتے ہیں ہمیں دھوکہ دیتے ہیں” وہ روتے ہوۓ بولا۔
“کس سے جھگڑا ہوا، حسام، امرحہ یا بلاج کس سے ہوا بتاؤں؟” راحیل کو لگا شائد ان سے جھگڑا ہو گیا یے اسی لیے رو رہا یے۔اسنے نفی میں سر ہلایا۔
“راحیل مجھے برا درد ہو رہا ہے، ایسا لگ رہا یے میرا دل پھٹ جاۓ گا۔ میں اسے بہت پسند کرتا تھا مجھے معلوم ہے وہ مجھے نہیں بلاج کو چاہتی ہے، اسنے مجھے انکار بھی کر دیا تھا۔ پر بلاج نے وہ سب کیوں کیا۔ اسنے مجھ سے چھپایا وہ تو میرا دوست ہے نا، اسے کیا لگا میں رُکاوٹ بنو گا۔ مجھے اتنی تقلیف کیوں ہو رہی ہے سانس لینا مشکل ہو رہا ہے” وہ اپنی شرٹ کے بٹن کو کھینچ کر توڑتے اپنے دل پر ہاتھ مسلتے ہوۓ اکھڑے لہجے میں بولا۔ راحیل کو اسکی حالت بگڑی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ کیا بول رکا تھا اسکی سمجھ سے باہر تھا۔ کچھ باتوں کا اسے علم تھا کچھ کا نہیں۔۔
“اچھا تم ریکس کرو طبعیت خراب ہو جاۓ گی” راحیل اسے بیڈ پر بیٹھاتے ڈاکٹر کو فون کرنے لگا۔
“اسے مجھ پر بھروسہ نہیں تھا، مجھے کچھ نہیں بتایا۔ میں نے کبھی اسکا برا۔۔۔۔۔” بولتے بولتے وہ بری طرح کھسنا شروع ہو گیا۔ راحیل کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے۔ اسکی اتنی بری حالت اسنے سالوں بعد دیکھی تھی۔ کچھ دیر میں ڈاکٹر آ گیا۔ اسنے چیک اپ کیا۔ اور اسے سکون آور انجکشن دیا۔
“تم سچ میں بہت برے وہ بلاج تمہاری وجہ سے تمہارے دوست ہمیشہ پریشان ہی ہوتے ہیں” راحیل اسکے پاس کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ وہاں صبح چھے بجے تک رہا ہارون تو گہری نیند میں تھا چھے بجے وہ واپس کمرے میں آیا۔ عائشہ ابھی تک سوئی ہوئی تھی وہ بیڈ پر لیٹ کر سو گیا۔
سب یونی آۓ تھے، کل عمیر کی شادی کے لیے گاؤں جانا تھا سب اسکے بارے میں باہر گارڈن میں بیٹھے ڈسکشن کر رہے تھے۔ عائشہ اور امرحہ تو کپڑوں کے بارے میں ڈسکس کر رہیں تھیں۔ ہارون ابھی تک نہیں آیا تھا۔
“یہ ہارون ابھی تک نہیں آیا” بلاج موبائل نکال کر ہارون کو کال ملانے لگا۔ اسکے موبائل پر کال جا رہی تھی پر وہ فون اُٹھا نہیں رہا تھا۔
“آ جاتا ہے تم سب نے پیکنگ کر لی؟” حسام نے تینوں سے پوچھا۔
“نہیں! جا کر کروں گی” امرحہ موبائل ہر بے مقصد انگلیاں چلاتے ہوۓ بولی۔ اسنے اگلے دن ہی انہیں تقی کے بارے میں بتا دیا تھا وہ کچھ اداس اداس سی رہتی تھی۔
“ویسے بلاج تم نے میرال کو انوائیٹ کیا؟” حسام نے پاس بیٹھے بلاج کو جان بوجھ کر پوچھے اسکے سوال پر امرحہ اور عائشہ نے اسکی طرف دیکھا۔ بلاج نے حسام کو گھورا جو اب غور سے اسکا جواب سننے کو تیار تھا۔ بلاج کا دل کیا اسکا سر پھوڑ دے۔
“ہمممم میرے ساتھ ہی آۓ گی” بلاج نے نظریں جھکاۓ موبائل پر دوبارہ ہارون کا نمبر ملاتے ہوۓ بولا۔ اسکے جواب پر حسام کے منہ کو جاتا پانی اُچھل کر باہر آیا۔ اور اسے زور کی کھانسی لگی۔
“کیا تم دونوں کی صلح ہو گئی؟” عائشہ نے اب سوال کیا۔ حسام اب اسکا جواب سننا چاہتا تھا کہی وہ سچ بتانے تو نہیں والا۔
“ہاں ہو گئی” وہ بس اتنا ہی بولا۔
“ارے عائشہ اب تو بات صلح سے اگے نکل گئی ہے کیوں بلاج” حسام دانت نکال کر اسے چھیرتے ہوۓ بولا۔ بلاج کا من کیا اسکے دانت پھوڑ دے۔
“چلو اچھی بات ہے ویسے بلاج ہمیں بھی بتا دیا کرو تمہاری لائف میں کیا چل رہا ہے، آجکل تو تمہارا کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا کہاں ہوتے ہو، ہم نے تمہارے نیے گھر شفٹ ہونے پر کوئی پارٹی بھی نہیں کی” امرحہ بولی۔ بلاج گڑبڑایا۔
“کہاں ہونا ہے یہی ہوتا ہوں، شادی کے بعد پارٹی کریں گے” اسنے ساری بات ٹال دی۔ حسام کا قہقہ گھونجا، امرحہ اور عائشہ نے نفی میں سر ہلایا۔ تبھی ہارون انکی طرف آتا دیکھائی دیا۔۔۔
“ہیلو گائیز” وہ انکے پاس آتا ہولے سے بولا۔
“تم کہاں تھے کتنی کالز اور میسجز کیے تم نے ایک کا بھی جواب نہیں دیا” بلاج اسکے آتے ہی غصے سے بولا۔۔
“بلاج ضروری نہیں تمہاری ہر بات کا جواب دوں مصروف تھا” وہ کافی روڈ انداز میں بولا۔ سبھی نے حیرانگی سے ہارون کو دیکھا۔ انکے گروپ میں ایک وہی تو سویٹ تھا۔ اسنے کبھی کسی سے ایسے بات نہیں کی تھی۔ بلاج سے تو بالکل نہیِں۔
“بڈی کیا ہوا؟ ایسے کیوں بات کر رہا ہے” بلاج نے کھڑے ہو کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ پوچھا۔
“کچھ نہیں میں کلاس میں جا رہا ہوں” ہارون نے اسکا ہاتھ ہٹاتے ہوۓ اسی انداز میں کہا اور کلاس کی طرف بڑھ گیا۔ سبھی نے حیرانگی سے اسکو یوں جاتے دیکھا۔
“اسکو کیا ہوا” بلاج اسکے رویے پر کافی پریشان ہوا۔ وہ چاروں بھی کلاس کی طرف بڑھے۔
جاری ہے۔
