55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 45 pt.1

“تم سچ میں ایسا کرنا چاہتی ہو؟” امرحہ اس وقت عائشہ کے پاس اسکے کمرے میں بیٹھی تھی
“ہاں یہی صحیح ہے۔ میں کچھ دیر ان سب سے دور رہنا چاہتی ہوں” وہ گہرا سانس بھرتے ہوۓ بولی۔
“سوچ سمجھ کر فیصلہ کرو، جزبات میں آ کر ایسا قدم مت اُٹھانا” امرحہ اسکے گرد بازو لیپٹتے ہوۓ بولی.
“ابھی تک صرف سوچا ہی تو ہے، اب عمل کرنا ہے” وہ پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولی۔ وہ دونوں باتیں کر رہیں تھیں، جب ایکس میٹ گروپ میں حسام کا میسج آیا۔ امرحہ نے موبائل کھول کر دیکھا۔
“آج کا ڈنر میری طرف سے ” نیو سٹار ریسورینٹ “میں آ جانا سب” امرحہ نے میسج پڑھ کر بتایا۔
“چلو اچھی بات ہے وہی سب کو بتا دوں گی” عائشہ بولی۔
“تقی سے بات ہوئی دوبارہ” کچھ دیر گزری تو عائشہ بولی۔ تقی کے نام پر امرحہ کے ماتھے پر بل پڑے
“نہیں، اور مجھے کرنی بھی نہیں، ویسے بھی یک طرفہ محبت کا انجام تو یہی ہوتا ہے۔ کونسا اسکو مجھ سے محبت تھی، جو بات کرنے کا جواز بھی بنتا، اب مزید اسے تنگ نہیں کروں گی” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔ لہجے میں کھونے کا دکھ، ایک ادھورا پن واضع تھا۔۔ عائشہ چپ ہی رہی۔
مجھ کو تیری ضرورتیں تھیں مگر
لوگ اکثر نہیں ملا کرتے


میسج پڑھتے ہی سب رات کے لیے تیار ہونا شروع ہوۓ، بلاج نے میرال کو بھی تیار ہونے کا بولا۔اسنے جانے سے منع کیا۔ کہ تم فرینڈز کا ٹائم یے۔ پر حسام نے اسے پرسنلی میسج کیا اسے لانے کا۔ جسے پڑھ کر وہ تیار ہو گئی۔
خوبصورت پنک کپری شرٹ پہنے، ساتھ ہم رنگ دوپٹہ، ہلکا سا میک اپ بالوں کو پونی میں قید کیے وہ مکمل تیار تھی۔ بس وہ شیشے کے سامنے کھڑی لیپ اسٹک لگا رہی تھی جب بلاج بلیک پینٹ شرٹ پہنے اسکے پیچھے کھڑا ہوا۔ میرال کی نظر بے اختیار اسکی طرف اُٹھی وہ برش سے اپنے بال سیٹ کر رہا تھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو بیگم” بالوں کو سیٹ کرتے وہ شیشے سے اسکو دیکھتے ہوۓ بولا۔ وہ چونکی۔
“کچھ سوچ رہی تھی” وہ اسکے عکس کو دیکھتے ہوۓ بولی۔
“اچھا جی ایسا کیا گہرا سوچ رہی تھی، مجھے بھی بتاؤ” بلاج بالوں کو اخری ٹچ دے کر برش ڈریسنگ پر رکھتے ہوۓ مکمل اسکی طرف متوجہ ہوتے ہوۓ بولا۔ اسکے سامنے ڈریسنگ سے ٹیک لگاۓ کھڑا ہوا۔
“یہی کہ تم کبھی شلوار قیمض کیوں نہیں پہنتے شائد ایک دفع ہی میں نے تمہیں شلوار قمیض میں دیکھا تھا، اچھے لگتے ہو تو پہنا کرو” وہ لیپ سٹک لگاتے ہوۓ بولی۔ اسکی بات پر بلاج مسکرایا۔
“حکم کرو ابھی تبدیل کر لیتا ہوں” وہ ہلکا سا اسکی طرف جھک کر بولا۔
“بالکل نہیں ابھی دیر ہو رہی ہے چلو چلتے ہیں” اسنے سینڈل نکالی اور پہنے لگی۔
“جانے سے پہلے ایک کام رہ گیا” وہ بولتے الماری کی طرف بڑھا اور ایک گفٹ نکال کر اسکے سامنے کھڑا ہوا۔ میرال اسکے ہاتھ میں گفٹ دیکھ کر حیران ہوئی۔
“میرے لیے” اسکی آنکھوں مین چمک ابھری۔ وہ اسکے بچوں والے ری ایکشن دیکھ کر مسکرایا۔ اور ہاں میں سر ہلاتے اسکے ہاتھ میں گفٹ دے دیا۔
“شادی کے بعد میں نے تمہیں گفٹ نہیں دیا تھا۔ تو سوچا اب دے دوں، ویسے اتنا ایکسپرینس تو نہیں پھر بھی کوشش کی ہے دیکھو کیسا ہے ” بلاج کان کھجاتے ہوۓ بولا۔ اور وہ ایکسائیٹڈ ہوتے ہوۓ گفٹ اوپن کر رہی تھی۔ یہ ایک ڈائمنڈ پینڈینٹ تھا اسکے ساتھ ایک رنگ بھی تھی۔
“اگر پسند نہیں تو۔۔۔۔” وہ بولا۔
“نہیں بہت اچھا گفٹ ہے، شکریہ” وہ چہک کر بولی۔ بلاج کو گویا سکون ملا۔
“تو انتظار کس بات کا ہے پہنو، روکو میں پہناتا ہوں” وہ بولتا اسکے ہاتھ سے باکس لے گیا۔ پینڈنٹ اسکے گلے میں پہنایا۔ ساتھ ٹاپس بھی، اور انگھوٹھی پکڑتے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا۔
“میرال عرف میرال بلاج حمدانی کیا تم مجھے اپنی پوری زندگی کے لیے اپنا غلام قبول کر سکتی ہو؟” اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا وہ بولا۔۔۔میرال کی ہنسی نکل گئی
“غلام نہیں اپنا ہمسفر قبول کر سکتی ہوں” وہ اسکی طرف جھکی اور ماتھے پر آتے بال بال پیچھے کرتے مسکرا کر بولی۔ اسکی یہ ادا بلاج کا دل لے گئی۔
فافففف
“ہاۓ ظالم، دلبر کا یہ اظہارے محبت کہی جان ہی نا لے لے” وہ دل پر ہاتھ رکھتا،گہرا سانس بھر کر بولا۔ میرال کا قہقہ بلند ہوا۔ بلاج نے اسکی انگلی میں رنگ پہنا دی۔ اور کھڑا ہوا۔
“آئی لو یو میری جان” اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ اظہارے محبت کر رہا تھا جو کہ اب وہ ہر گزرتے پل کرتا ہی رہتا تھا۔
“جانتی ہوں، دیر ہو رہی ہے چلیں” وہ اسکے بال بگارتے ہوۓ بولی۔ جو کہ آجکل اسکا فیورٹ کام تھا۔ اسکی حرکت پر وہ ہمیشہ چڑ جاتا تھا۔
“اف میرو کچھ بھی کرو بس میرے بالوں کو مت خراب کرنا” وہ چڑتے ہوۓ بولا۔ اور اپنے بالوں کو سیٹ کرنے لگا۔ میرال ہنسی۔
“تمہارا یہ چڑچڑا چہرا دیکھنے کے لیے ہی تو ایسا کرتی ہوں” وہ اسکے دونوں گال کھینچتے ہوۓ ہنس کر بولی اور پلٹ کر اپنا موبائل پکڑ کر کمرے کے دروازے کی طرف بڑھی تبھی اسکے قدم جہاں تھے وہی تھم گے۔ موبائل کی سکرین پر نظر آنے والا میسج اسکی جان نکالنے کے لیے کافی تھی۔ کچھ سیکنڈ وہ فریز رہی۔
“کیا ہوا؟” اسے یوں ٹھہرتے دیکھ بلاج چونکا۔ تبھی وہ اپنے اپ کو سھنمبالتی پلٹی۔ اور نفی میں سر ہلایا۔
“جلدی کرو ” بول کر وہ کمرے سے چلی گئی۔ بلاج کو کچھ عجیب سا لگا۔ وہ اپنی کار کیز لیتے نیچے کی طرف بڑھا۔دروازہ بند کرتے وہ گاڑی کے پاس کھڑی میرال کے پاس آیا۔ کچھ دیر میں وہ ریسٹورنٹ کی طرف نکل گے۔


وہ دونوں حسام کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچے ریسٹورینٹ کی بیک سائیڈ پر بنے گارڈن میں انکی جگہ ریزو تھی حسام وہاں امرحہ اور عائشہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ انکو دیکھتے وہ مسکراتے ہوۓ کھڑا ہوا۔
“واہ ماشااللہ چشمےِ بدور، حسینوں جمیل، نیا بیاہی جوڑا تشریف لا چکا ہے” حسام انہیں دیکھتے ہی اُٹھ کر انکے پاس آتے ہوۓ بولا۔
“نوٹنکی بند کر ہارون نہیں آیا ؟” بلاج اسکی نوٹنکی دیکھتے ہوۓ بولا۔
“نہیں ابھی تو نہیں آیا، میں نے گروپ میں میسج کیا تھا اسنے سین بھی کر لیا اب دیکھو آتا ہے کہ نہیں اللہ ہی جانے اسکا غصہ کب ختم ہو گا، کافی چپ چپ سا رہتا ہے” حسام دونوں کے ساتھ ٹیبل تک اتے ہوۓ بولا۔میرال عائشہ اور امرحہ سے ملی۔ دونوں اچھے سے ملیں۔
“یار مجھے لگتا ہے، اس دن غصے میں آ کر میں نے بھی زیادہ ہی بول دیا تھا، ویسے بھی ہمارے گروپ کا رول ہے کبھی دوستی کے معاملے میں جھکنے سے نہیں ڈریں گے، اگر آ گیا تو میں خود ہی منا لوں گا” بلاج اپنی جگہ پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔۔حسام منہ کھولے اسے دیکھتا رہا۔
“کیا ہوا؟ منہ بند کر مکھی چلی جاۓ گی” بلاج اسکا منہ بند کرتے ہوۓ بولا۔
“میرال بھابھی جی آپ نے ایسا کیا میرے دوست پر تعویز کیا ہے، وہ تو سر سے لے کر پاؤں تک بدل گیا اپنی غلطی ماننے لگا واہ واہ” وہ میرال کو مخاطب کرتا تالیاں بجاتے ہوۓ بولا۔ بلاج کے بغل میں بیٹھی میرال اسکی بات پر چونکی۔ بلاج نے حسام کو گھورا۔
“تعویز، میں کیوں کروں گی، تعویز” میرال نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔ چاروں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری۔
“ارے آپ نے ہی تو ہمارے یار پر محبت کا تعویز کیا ہے، بندہ مکمل بدل گیا اپنی غلطیاں ماننے لگا” حسام اسکے جواب میں فوراً بولا۔میرال اسکی بات پر مسکرائی۔ بلاج اسے ہی دیکھ رہا تھا
“ارے نہیں ایسی بات نہیں جب انسان آہستہ آہستہ برا ہوتا ہے تو ایک وقت پر جا کر عقل آ ہی جاتی ہے، آپکے دوست کے ساتھ بھی ویسا ہی ہوا” وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولی۔ حسام کا قہقہ بلند ہوا۔
“تو تمہیں میں پہلے بے عقل لگتا تھا” بلاج اسکی بات پر اسے گھورتے ہوۓ بولا۔
“میں نے ایسا کب بولا، اب تمہیں کچھ بھی سمجھنا یے سمجھو ویسے عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے” وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولی۔ بلاج اسکی ہمت دیکھ کر حیران ہوا۔
“تم تو روکو تمہیں بعد میں دیکھتا ہوں” اسے گھورتے ہوۓ بولا۔ میرال نے کندھے اچکا دیے۔ اور امرحہ اور عائشہ کے ساتھ بات کرنے لگی۔ بلاج نے حسام کو دیکھا وہ بار بار کسی کا نمبر ٹراۓ کر رہا تھا۔ ابھی پانچ منٹ ہی گزرے تھے۔ کہ حسام کو ہارون آتا ہوا دیکھائی دیا۔
“ہارون یہاں” وہ اسے ہاتھ ہلا کر اپنی طرف متوجہ کرتے ہوۓ بولا۔ اسکی آواز پر سبھی نے پلٹ کر دیکھا۔ بلاج کو دیکھ کر ہارون کے قدم رکے۔ وہ گہرا سانس لے کر انکی طرف آیا۔
“ہیلو گائیز” انکے قریب آ کر وہ ہولے سے نرم لہجے میں بولا۔ اسکی نظریں جھکیں ہوئیں تھیں۔ بلاج اپنی جگہ سے اُٹھا۔ اور اگے برھ کر اسکو گلے سے لگایا۔
“اپنے دوست سے کیا اتنے دنوں تک ناراض رہا جاتا ہے، ایم سوری” بلاج اسے گلے سے لگاتے ہی بولا۔
“میں اس دوستی کے قابل نہیں، میں نے بہت غلط غلط بولا” وہ ہولے سے بولا۔
“بڈی، غلطیاں کس سے نہیں ہوتیں، اسکا مطلب یہ نہیں کسی سے بات ہی مت کرو، چھپ کے بیٹھ جاؤ، اگر آج تو نا آتا تو میں تمہارے گھر آنے والا تھا، کچھ غلطیاں مجھ سے بھی ہوئیں، مجھے بھی معاف کر دے اور دل صاف کر اتنی لمبی لڑائی زندگی میں کبھی ہماری نہیں رہی” وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے بول رہا تھا۔
“مجھے سب سے معافی مانگنی ہے، اور اسپیشلی میرال سے، میرال میں نے بہت غلط الفاظ اس دن استعمال کیے، کیا تم مجھے معاف کر دو گی” وہ گردن جھکاۓ بول رہا تھا۔
“اٹس اوکے ہارون، کوئی بات نہیں” میرال فوراً بولی۔
“چلو بھائی سب سیٹ ہو گیا، یار مل گے، اب یہ دکھی باتیں مزید نہیں، مزید معافیاں تلافیاں نہیں، کھانا منگواتے ہیں بہت بھوک لگی ہے” حسام درمیان میں آتے ہوۓ بولا۔ سبھی اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گے، اور کھانا آڈر کیا۔
“گائیز مجھے بھی کچھ بتانا ہے” عائشہ سبکو ایک ساتھ دیکھتے ہوۓ بولا۔
“بولو کیا بات ہے” بلاج بولا۔
“مجھے اس ہفتے امریکہ جا رہی ہوں، میرا ایڈمیشن بھی ہو چکا ہے، سب ریڈی ہے بس تم لوگوں کو بتانا تھا” عائشہ کے منہ سے نکلے الفاظ سب پر بم کی طرح گرے بس امرحہ سب جانتی تھی۔ پر کوئی اور بھی تھا جسکے پاؤں تلے زمین کھسکی تھی۔
“یوں اچانک؟ کیوں؟” بلاج اور حسام ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہوۓ بولے تھے۔
“بس ایسے ہی” وہ کندھے اچکاتے ہوۓ بولی۔ اور چہرا دائیں طرف پھیرا جب اسکی نظر اپنے سے کچھ قدم ہی دور کھڑے راحیل عالم پر پڑی، جو کہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ جیسے پوچھ رہا ہو تو یہ فیصلہ کیا تم نے۔ قطرہ قطرہ تڑپا کے مارنے کا۔
مت پوچھیے ضبط نے مارا ہے کس طرح
ہم نے یہ تیر دل میں اتارا ہے کس طرح
راحیللل” بے اختیار اسکے منہ سے یہ الفاظ نکلے۔ اسکے الفاظ پر سب چونکے اور بے اختیار اسکی سمت دیکھا وہ سامنے ہی کھڑا تھا۔ اسے دیکھتے ہی بلاج کے ماتھے پر بل پڑ گے۔ اسنے اپنے آپ پر قابو پایا اور انکی طرف آیا۔
“کیسے ہو سب؟” وہ بولتا اگے بڑھا اور حسام سے ہاتھ ملایا۔ حسام مسکرا بھی نا پایا۔ سامنے ہی بلاج کی نظریں اسے گھور رہیں تھیں وہ جان گیا یہ اسی کا کام ہے۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوۓ وہ سخت لہجے میں بولا۔
“حسام کو میں نے بولا تھا تم سبکو اکھٹا کرے مجھے بات کرنی ہے” وہ نرم لہجے میں بولا۔ بلاج نے اسکی بات سنتے ہی حسام کو گھورا جو اسکے گھورنے سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔
“میرال چلو، شکریہ حسام یہ رات خراب کرنے کے لیے” وہ غصے سے بولا۔ اور میرال کو چلنے کا اشارہ کیا۔ وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔
“یارا میری بات سن لے ایک دفع پلیز” راحیل اسکے سامنے آتے ہوۓ اسکو پکڑتے بولا۔ بلاج سے مزید برداشت نا ہوا اسنے اسے دھکہ دیا وہ لڑکھرایا۔
“اپنی حد میں رہ ورنہ یہی گھاڑ دوں گا، آئی بات سمجھ” وہ اسے وارنگ دیتے ہوۓ بولا۔