Rate this Novel
Episode 7
ازقلم فاطمہ طارق
وہ خاموش سی اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی،ان دنوں میں جو کچھ اسکے ساتھ ہوا اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی جب کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی، اسکی روم میٹ میں دروازہ کھولا تو سامنے مِشی ہاتھ میں ایک شاپر لیے کھڑی تھی۔
“ہیلو ایم مشی ” اسنے مسکراتے ہوۓ سامنے کھڑی لڑکی کو اپنا تعارف کروایا۔
“یس آئی نو” وہ لڑکی بھی جواباً مسکرا کر بولی۔
“مِشی تم یہاں وہ بھی اس وقت؟” میرال نے اسے یوں اپنے کمرے میں دیکھا تو فوراً بولی۔
“تم تو مجھے یونی میں ملی ہی نہیں تو میں نے سوچا خود آ کر تم سے کچھ باتیں کر لوں، ویسے بھی واڈرن کو میں جانتی ہوں انہوں نے آنے کی آجازت دے دی” مِشی اپنے جوتے اتارتی اسکے بیڈ پر بیٹھی۔ اور کھانے کے لیے پیزہ اور بوتل نکالی۔
“تمہارا نام؟” اسنے دوسری لڑکی سے پوچھا جو اپنے بیڈ پر بیٹھی تھی۔
“آمنہ” اسنے اپنا نام بتایا۔ مِشی نے اسے بھی کھانے کے لیے بولایا۔ میرال کی اور آمنہ کی ہلکی پھلکی بات چیت ہی ہوتی تھی۔
“تم نے باقی کی کلاسس کیوں نہیں لیں اور واپس ہاسٹل کیوں آگئی” مشی نے میرال کو آڑے ہاتھ لیا وہ کافی دیر تک اسے ڈھونڈتی رہی پر وہ ہاسٹل آ گئی تھی۔
“بس میرا سر درد کر رہا تھا اسی لیے آگئی” میرال نے کوک کا ایک سپ لیتے ہوۓ بولا۔
“اچھا اور اسی درد کی وجہ سے میری اتنی کالز بھی نہیں اُٹھایا” ابکی بار مِشی تھوڑا غصے میں بولی۔
“میں تم پر غصہ تھی، تم نے اور تمہارے بھائی نے آج جو بھی کیا وہ سب ٹھیک نہیں تھا” وہ انکی حرکت سے کافی اپ سیٹ تھی۔
” اچھا اور جو انہوں نے کیا وہ ٹھیک تھا، وہ دو دن سے مسلسل تمہیں تنگ کر رہے تھے، ہم نے بس انہیں احساس کروانے کی نا کام کوشش کی، اور پتہ بھائی تم سے کتنے ناراض ہیں، تم نے آخر میں انہیں کیوں بچایا؟” مِشی کو بھی اسکی حرکت پر کافی غصہ تھا۔
“کیونکہ میں یہ سب تماشا ختم کرنا چاہتی تھی، اگر وہ گروپ ایک مہینے اس یونی سے نکالا تھا، اسکے بعد وہ دوبارہ اسی یونی میں آنا تھا،تو تمہیں کیا لگتا ہے تب وہ سب مجھے تمہیں یا تمہارے بھائی کو چھوڑتے، نہیں وہ تب دوبارہ ا کر تنگ کرتے، میں نے سب وہ سب روکنے کے لیے یہ سب کیا” میرال اپنا سر مسلتے ہوۓ بولی۔
“ہمم تو اسکا مطلب تم ڈر گئی؟” مِشی اسکے بیڈ سے کھڑی ہو کر بولی۔
“اگر میں لڑنا نہیں چاہتی اسکا مطلب یہ نہیں میں ڈر گئی، بس مجھے ان سب معاملات میں نہیں پڑنا، پلیز تم اور تمہارا بھائی دونوں میرے معاملے سے دور رہو” میرال بھی کھڑی ہو گئی۔
” اوکے میرال میں تو ایک دوست کے ناطے تمہارا ساتھ دے رہی تھی، پر اب مجھے معلوم ہو چکا ہے تم مجھے اپنا دوست ہی نہیں مانتی، ایم سو سوری میرال احمد میں نے تمہارا وقت برباد کیا، میں چلتی ہوں” مِشی کو اسکی بات کافی بُری لگی وہ غصے سے بولتی بنا اسکی ایک بھی سنے کمرے سے نکل گئی۔میرال پیچھے اسے روکتی رہ گئی۔
★★*
“آئی نو، یہ سب ان تینوں کا پلین تھا، تینوں نے کافی محنت کی، اور راحیل نے تو حد سے زیادہ محنت کی، ہمارے خلاف کافی ثبوت اکھٹے کیے، پر فیل وہ گیا” بلاج کافی غصے میں تھا آج جو بھی یونی میں ہوا اسکو بھولنا اسکے لیے کافی مشکل تھا۔ وہ پانچوں اس وقت حسام کے گھر اسکے حال میں بیٹھے ہوۓ تھے۔
“اب شروعات راحیل نے کی ہے تو اسکا جواب تو دینا پرے گا، ویسے جب سے مشہور ہوا ہے بہت پر نکل اۓ ہیں” بلاج چکر کاٹتے ہوۓ بولا۔
“ہاں پر تو نکل آۓ ہیں، پر مجھے لگتا ہے اب ہمیں اس کیا نام ہے اس لڑکی کا ہاں میرال اسے چھوڑ دینا چاہیے اج تم لوگوں نے دیکھا اسی نے پرنسپل سے بچایا ورنہ ہم یونی سے نکالے جاتے” ہارون کھڑا ہو کر سب کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔
“بالکل نہیں، اسکو تو کسی حالت میں نہیں چھوڑوں گا، مجھے پورا یقین ہے وہ اس راحیل اور حیات عالم کے ساتھ ملی ہوئی تھی،اور آخر میں جھوٹا ناٹک کیا” بلاج کسی طور ماننے والا نا تھا۔ وہ نفی مین سر ہلاتے ہوۓ بولا۔
“بلاج آئی ڈونٹ تھنک اس میں میرال کا کوئی ہاتھ ہے، اسنے سچ میں ہماری مدد کی” حسام نے بھی ہارون کی ہاں میں ہاں ملائی۔
” تم لوگوں کو اس پر یقین ہو سکتا ہے پر مجھے نہیں ہے، اسکا بعد میں سوچیں گے ابھی فل حال راحیل کو سبق سیکھانا ہے، میرا بس چلے ابھی اس راحیل کو۔۔۔۔” وہ بولتے بولتے روکا،خود کو جیسے پرسکون کرنا چاہا۔ جینز کی جیبوں مین ہاتھ ڈالے اسنے لمبے لمبے سانس لیے۔
“بلاج تجھے نہیں لگتا ہمیں کچھ دن یہ سب بند کرنا چاہیے، پرنسپل پہلے ہی بڑھکا ہوا ہے” امرحہ بولی۔
“گائیز مجھے کچھ کام ہے تو مین گھر جا رہی ہوں” عائشہ کب سے خاموش بیٹھی ہوئی تھی، اپنا پرس کندھے پر لٹکا کر وہ کھڑی ہوئی۔ چہرہ کافی بجھا بجھا سا تھا۔
“عائشہ میں بھی چلوں” امرحہ نے پوچھا پر اسنے نفی میں سر ہلا دیا۔ اور بنا کسی کی طرف دیکھے چلی گئی۔
“اسے کیا ہوا؟” بلاج نے اسے یوں جانتے دیکھا تو سب کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
“تو تو ایسے بول رہا ہے جیسے تجھے کچھ پتہ ہی نا ہو، اپ سیٹ ہے صبح تک ٹھیک ہو جاۓ گی” حسام نے کہا تو بلاج کو بات سمجھ میں آئی۔
“چلو گائیز مین بھی چلتا ہون کسی سے حساب چکتا کرنا ہے اور حسام آج سے میں اپنے گھر سوؤں گا” بلاج نے حسام کو کہا۔ جو کہ اسکی بات پر چونکا
“انکل نے جانے کی آجازت دے دی، یہ نا ہو تو دوبارہ جاۓ اور سیکورٹی گاڈ دوبارہ روک لے” بولتے بولتے وہ ہلکا سا ہنسا۔
“سالے تجھے تو بعد میں دیکھتا ہوں، ابھی میں جلدی میں ہوں” بلاج اپنا موبائل پاکٹ میں ڈالتے ہوۓ بولا اور ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکل گیا۔
عائشہ تیز گاڑی چلاتی گھر پہنچی، وہ بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں آئی۔ بھاگتے ہوے اسکا سانس پھول رہا تھا۔ بہت سی بھیانک یادیں اسکے ذہین پر لہرا رہیں تھیں، اسکا جسم ہلکا ہلکا سا کانپ رہا تھا۔ دروازے کو وہ پہلے ہی لاک کر آئی تھی تا کہ کسی کو اسکی حالت کا پتہ نا چلے، وہ بیڈ سے ٹیک لگاۓ زمین پر بیٹھ گئی، اپنا چہرا ہاتھوں مین گڑا وہ رو رہی تھی، اسکی سانس پھول رہی تھی سر چکر رہا تھا۔ اور جسم ہلکا ہلکا سا کانپ رہا تھا، جب اس سے مزید برداشت نا ہوا تو اپنے بیڈ کے ڈرار میں سے اسنے ایک دبی نکال اور اس میں سے دو گولیاں نکال کر پانی کے ساتھ نگلی۔ آہستہ اہستہ وہ ٹھیک ہو رہی تھی، وہ وہی زمین پر لیٹ گئی اور اپنی انکھیں بند کر لیں۔۔
*“”””
بلاج نے گاڑی کو حمدانی ولا میں داخل کیا۔ وہ کئی مہینوں بعد یہاں داخل ہوا تھا۔ اپنے بالوں مین ہاتھ پھیرے کر اسنے ٹھیک کیے،اور گھر کے داخلی دروازے ہی طرف بڑھا۔
“شکر کے برخردار کو مہینوں بعد گھر کا رستہ یاد آیا، آئیے مالک صاحب یہ اپکا ہی گھر ہے شائد اپکو یاد نہیں” وہ جیسے ہی گھر داخل ہوا سکندر صاحب کہ طنزیہ سے بھرپور آواز سنائی دی، وہ ٹیوی لاونج میں بیٹھے کنول بیگم کے ساتھ چاۓ پی رہے تھے۔ جب انکی نظر اس پر پڑی۔
“ارے کیا بات کر رہے ہیں حمدانی صاحب ، یہ گھر میرا کہاں سے ہو گیا مین تو ٹھہرا غریب آدمی، جسکی ایک چھونپری تھی وہ بھی اپ جیسے گھمنڈی انسان نے چھین لی، اور اس گھر میں دادا جان کے علاوہ ایسا کوئی نہیں جسے مین ملنے آؤں” بلاج نے بھی اسی انداز مین جواب دیا۔ کنول بیگم کے دل کو کچھ ہوا، کئی مہینوں بعد انہوں نے اسکا چہرہ دیکھا تحا وہ فوراً اس سے ملنے کے لیے اُٹھیں، اور اگے بڑھیں پر وہ دو قدم پیچھے ہو گیا اور گردن موڑ لی۔ وہ وہی رک سی گئیں۔
“داداجی گاؤں چلے گے ہیں، وہ تمہارا انتظار کرتے رہ گے پر تم ملنے نہیں آۓ” بلاج کی آواز سن کر کمرے سے عمیر نکل کر آیا ادنے جواب دیا۔
“چلیں پھر مین چلتا ہوں پر جانے سے پہلے حمدانی صاحب وہ گھر نا تو اپکا ہے اور نا ہی اپکے پیسوں کا جو مجھے اس گھر میں رہنے سے روکیں، وہ گھر میرے دادا نے دیا تھا مجھے اور میرے ہی نام پر ہے تو آئندہ مجھے روکنے کی کوشش بھی مت کیجیے گا،ورنہ اپکا اس گھر میں تو کیا اس ملک میں بھی رہنا مشکل کر دوں گا اور دوسری بات مجھ پر دوبارہ ہاتھ مت اُٹھاۓ گا اب مین بالکل لحاظ نہیں کروں گا” وہ انگلی اُٹھا کر وارنگ دینے والے انداز میں بولا۔ وہ اسکا وقت انکا بیٹا نہین دشمن لگ رہا تھا۔
“کیوں کہی کے گنڈے ہو جو گنڈا گردی کر کے جینا حرام کرو گے” عمیر اب اسکے مقابل آ کر بولا۔ اسے اب مزید اسکی بدتمیزیاں برداشت نہیں ہو رہیں تھیں۔ وہ کافی سالوں سے اسے سمجھانے کی کافی بار کوشش کر چکا تھا پر وہ ڈھیٹ کی طرح ایک ہی بات پر آڑا ہوا تھا۔
“اپ سب کے لیے مجھے گنڈا بھی بننا پڑے تو مین پیچھے نہیں ہٹوں گا” وہ اپنے لہنے میں نفرت سموۓ بولا اور پلٹا۔
“بلاج میرے بچے بس کرو یہ لڑائی جھگڑے واپس ا جاؤ، دو سال ہو گے اب مزید میں تم سے دور نہیں رہ سکتی۔ اپنی ماں کا کہنا نہیں مانوں گے، کنول بیگم اسکے پیچھے بھاگیں اور سکا بازو پکرتے ہوۓ نم لہجے میں بولیں۔
” ماں،، ہنہہہ کبھی ایک پر سکون گوشے میں بیٹھ کر سوچیے گا تب اپکو خود ہی جواب مل جاۓ گا آپ میری ماں نہیں ہیں، اگر ماں اپکے جیسی ہوتی ہے تو مجھے نہیں چاہیے۔ جسے اپنے بیٹے پر یقین نہیں ویسی ماں مجھے نہیں چاہیے،جو زخم اپ لوگوں نے دیے تھے وہ دو سال میں تو کیا دو صدیوں میں بھی مندمل نہیں ہو سکتے۔” وہ بولا تو اسکا لہجہ میں سرد پن تھا۔ جو کسی کو بھی چپ کروا سکتا تھا۔اور کنول بیگم چپ سی ہو گئیں۔ وہ وہی سے مڑا اور چلا گیا کنول بیگم روتی ہوئیں وہی زمین پر بیٹھ گئیں۔
وہ وہاں سے نکل آیا تھا، گاڑی وک فل سپیڈ پر ڈالے، وہ گھر پہنچا، دین محمد نے اسے روکنے کی کوشش نہین کی، پر بلاج نے انہیں نکال دیا، وہ اپنے کمرے میں آیا، فریش ہو کر وہ ٹاول سے بال خشک کرتا اپنی الماری کی طرف بڑھا اور ایک چھوٹا سا لکڑی کا باکس نکالا اور کمرے کے ساتھ بنی بالکنی میں رکھے چھوٹے سے صوفے پر بیٹھا۔ سامنے ٹیبل پر وہ باکس رکھا۔ اسے کھولا اور اس میں سے کچھ تصویریں نکالیں اور ٹیبل پر رکھیں۔
“مس یو سو مچ” ایک تصویر پر ہاتھ پھیرتے وہ بولا تو اسکی انکھ سے انسو اس تصویر پر گڑا۔
“کاش میں تب اس قابل ہوتا لڑ پاتا تو اج۔۔۔۔۔۔” وہ بولتے بولتے روکا اور اپنا چہرہ ہاتھوں پر گڑاۓ رو دیا۔
“”*
رات کو دیر سے سونے کی وجہ سے وہ لیٹ ہو گی کندھے پر بیگ لٹکاے ہاتھ میں رجسٹر پکڑے اپنا چسمہ درست کرتی وہ بھاگتی کلاس میں ہوئی۔ سامنے سیٹس پر بلاج کا گروپ بیٹھا ہوا تھا۔ اسکی نظر مِشی پر پڑی جس نے اسے دیکھتے ہی چہرہ موڑ لیا اسکے ساتھ ہی راحیل بیٹھا ہوا تھا۔۔ وہ چلتی ہوئی مشی کے دوسری طرف خالی سیٹ پر ا کر بیٹھی۔
“کیا ہوا عائشہ تم ٹھیک تو ہو نا” امرحہ نے ساتھ بیٹھی عائشہ سے پوچھا جو کہ اپنا سر دبا رہی تھی۔
“ہان سب ہلکا سا سر درد کر رہا ہے” وہ اپنے بال پیچھے کرتے ہوۓ بولی۔ کسی نے اسکی آواز پر اسکی طرف دیکھا تھا۔
“پین کلر کھا لو” امرحہ نے اپنے پرس سے درد کی گولی نکال کر دی، عائشہ نے ہاں کہتے کھا لی۔ سر امجد کلاس مین داخل ہوۓ۔
“کلاس اسائیمنٹ ریڈی ہے تو سبمنٹ کروا دیں” انہوں نے لیپ ٹاپ پر یو ایس بی لگاتے ہوے کہا۔ سبھی اہستہ اہستہ سبمنٹ کروانے لگے۔ انہوں نے لیکچر دیا اور چلے گے۔
“گاییز تم لوگوں کو پتہ ہے کل کسی کو یونی سے نکالا جا رہا تھا پر انکی قسمت کسی کی بے وقوفی کی وجہ سے بچ گے” سر کے جانے کے فوراً بعد راحیل دروازے کے قریب پہنچ کر پلٹ کر اونچی اواز میں بولا۔ حسام اور ہارون نے ہلکا سا ہنس کر اسےد یکھا۔
” ہاں اور سنا ہے کسی کو اپنے ڈیڈ سے تھپر بھی پڑا تھا” مِشی نے بھی اونچی اواز میں ہنس کر بولی اور راحیل کے ساتھ ا کر کھڑی ہو گئی۔ بلاج اپنی جگہ سے کھڑا ہوا،اور انکی طرف چلا۔
“مِشی مجھے تم سے بات کرنی ہے” میرال کو لگا اب یہ سب دوبارہ سے شروع سے شروع ہو جائیں گے تو وہ درمیان مین آئی۔
“مجھے کسی سے بات نہیں کرنی چلو بھائی” مِشی ایک دم سیریس ہو گئی اور راحیل کے ساتھ چلی گئی میرال کواسکا یوں جانا کافی برا لگا۔ وہ سر جھٹک کر اگے بڑھنے لگی جب اسکے بازو میں پہنی بریسلیٹ بند نا ہونی کی وجہ سے زمین پر گڑی۔ وہ اسے پڑنے کے لیے جھکی پر اس سے پہلے بلاج نے پکڑ لی۔
” اووو افسوس جنکے ساتھ مل کر اتنی پلینگ کی، انہوں نے لگتا ہے بےبی کا ہاتھ چھوڑ دیا” وہ ہنستے ہوۓ بولا۔ اور برسلیٹ کو انگلی میں گھومایا۔
“کیا مطلب؟ کس چیز کی پلانگ؟ میں نے کوئی پلانگ نہیں کی میری برسلیٹ واپس دو” وہ نا سمجھی سے اپنا چشمہ ٹھیک کرتے ہوۓ بولی۔
“بہت بھولی ہو تم، کوئی بات نہیں میں یاد دلوا دیتا ہوں، کل کا جو سارا ڈرامہ کیا تھا وہ سب پلانگ” بلاج نے غصے سے کہا آدھی کلاس ابھی یہی موجود تھی۔
” تم غلط سمجھ رہے ہو میں نے کچھ نہیں کیا، مجھے اس سب کا پتہ بھی نہین تھا اور تم لوگوں کو تو میرا سکرگزار ہونا چاہیے میری وجہ سے تم سب یونی میں ہو،میرا برسلیٹ دو، میری امی نے گفٹ دیا تھا۔ ” وہ پانچوں کو دیکھتے ہوۓ بولی۔ اور اخر میں بلاج کے ہاتھ میں پکڑے برسلیٹ کو پکرنے لگی جب اسنے ہاتھ پیچھے کر لیا۔
“ارے واہ اسکے لیے تو ہمیں تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہے، تو مس میرال احمد بہت بہت شکریہ” بلاج نے کہتے ساتھ اس برلیسٹ کو کھینچ کر اسکے دو ٹکرے کر دے برلیسٹ کے موتی زمین پر بکھرے۔
“میرال کی انکھوں سے انسوں نکلنا شروع ہو گے اسنے اس پاس بکھرے موتیوں کو دیکھا۔ اور غصے سے بلاج کو دیکھا۔وہ زمین پر بیٹھ کر موتی چننے لگی۔
” ویسے تمہاری امی تو بہت کنجوس تھیں بہت ہی ہلکا گفٹ دیا دیکھو ایک سیکنڈ میں ٹوٹ گیا مین تو تمہین واپس کرنے والا تھا پر ہلکا نکلا” وہ اسکا مزاق اُراتے ہنس کر بولا۔ ساتھ مین امرحہ اور حسام کی ہنسی بھی شامل تھی۔
“ٹھاہ” میرال نے کھڑے ہو کر اسکے منہ پر ایک پنچ مارا۔ سبھی ایک دم اپنی جگہ سے کھڑے ہوۓ۔ بلاج نے اپنی مٹھیاں بھیچیں۔
“تم ایک نمبر کے بدتمیز اور گھمندی انسان ہو، تم سب کو بس کسی کا مزاق اُڑا کر اس ہر ہنسنا ہے، اب احساس ہو رہا ہے میں نے واقع میں تم سب کو کل بچا کر بہت بری غلطی کی، تم سب کو یونی میں آنے ہی نہیں دینا چاہیے،ہر وقت دوسروں کو ہرٹ ہی کرتے رہتے ہو، تمہیں سچ میں گفٹ کی قدر نہیں ہو گی، جس انسان کو اپنے باپ سے بات کرنے کی تمیز نا ہو اس کو کسی کے احساسات سے کیا فرق پڑتا ہو گا، آئندہ مجھ سے اُلجھنے کی ہمت بھی مت کرنا ورنہ بہت برا ہو گا” وہ انگلی اُٹھا کر وارنگ دیتے ہوۓ بولی۔ اور اپنا گال سے انسوں صاف کرتے ہوۓ، کمرے سے چلی گئی۔
“بلاج تم نے اسے کچھ کہا کیوں نہیں جانے کیوں دیا کتنا کچھ بول کر چلی گئی امرحہ نے بلاج کو ہی اپنا غصہ ضبط کرتے دیکھا تو فوراَ اسکے پاس ا کر غصے سے بولی۔ پر وہ بنا کچھ بولے وہاں سے چلا گیا۔ وہ چاروں اسکے پیچھے بھاگے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
