55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

ازوقم فاطمہ طارق
وہ یونی کے گارڈن میں بیٹھی بریسلیٹ کے موتیوں کو دیکھ رہی تھی۔ اب وہ ٹھیک تو ہو نہین سکتی تھی۔ پچھلی برتھ ڈے پر اسکی امی نے اسے گفٹ دیا تھا۔ ایک آنسو اسکے گال پر بہا۔
“اب کیوں رو رہی ہو؟” تبھی اسے مِشی کی آواز آئی، جو کیفے سے ہو کر کلاس میں جا رہی تھی رستے میں اسکی نظر روتی ہو میرال پر پڑی۔ نا چاہتے ہوۓ بھی اسنے پوچھ ہی لیا۔
“مِشی یہ ٹوٹ گئی” میرال اسے دیکھتے ہی ضبط کھو بیٹھی اور ہاتھ میں پکڑے موتیوں کو اسے دیکھاتی ہوئی رو دی۔
“کیا ٹوٹ گیا یہ کیا ہے؟” مِشی اسے روتے دیکھ ایک دم نرم پڑی اور نیچے اسکے پاس بیٹھ کر بولی۔ اور اسکے ہاتھ سے موتی پکڑے۔ اسے بہت ہی عام سے موتی لگے وہ کیون ان عام سے موتیوں کے لیے رو رہی تھی
“میری امی نے آخری گفٹ یہ دیا تھا” اسنے ان موتیوں کو دیکھتے ہوۓ کہا۔ اور آخری گفٹ پر مِشی چونکی تھی۔
“آخرییی مطلبب” وہ پوچھتے ہوۓ بھی حقلائی تھی۔ میرال نے نم آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا۔
“دو ہفتے پہلے میری امی کی دیتھ ہو گئی، یہ گفٹ انہوں نے مجھے میری برتھ ڈے پر دیا تھا۔ بہت خوبصورت بریسلیٹ تھی۔ میں ہر وقت اسکو کلائی پر پہنتی تھی۔ سکون سا ملتا تھا پر اب تو یہ ٹوٹ گئی، اب میں پہن بھی نہیں پاؤں گی۔ وہ روتے ہوۓ اسے بتا رہی تھی۔ تھورے فاصلے پر کھڑے ایک انسان نے اسکی بات سنی تھی۔ مشی نے اسے گلے سے لگایا۔
” پاگل اس میں رونے کی کیا بات ہے؟ سارے موتی تو تمہارے پاس ہیں ہم اسے دوبارہ بنوا لین گے تم یہ مجھے دو میں کل تک تمہیں ٹھیک کروا دوں گی” مشی نے اسکے ہاتھ سے موتی لے کر اپنے پرس میں ڈالے۔
” اگر تم یہ کر دو تو تمہارا بہت بہت شکریہ” میرال اپنا چہرا صاف کرتے ہوۓ بولا۔
“ایٹس اوکے میری مام ڈیزائنر ہیں، وہ ان چیزوں کو ایک منٹ میں ٹھیک کر دیتی ہیں” وہ مسکراتے ہوۓ کھڑی ہوئی۔ میرال بھی کھڑی ہوئی۔
“کل تم ناراض ہو گئی تھی، میرا کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا، میں نہیں چاہتی تم میری وجہ سے کسی مصیبت میں پڑو،اور ایک میٹ گروپ تو ہے ہی مصیبتوں کا بادشاہ، وہ میری جان کبھی نہین چھوڑے والے میں نے تو سوچا کمپلن نہیں کروں گی تو پیچھے ہٹ جائیں گے پر اج دوبارہ سے انہوں نے اپنی اوقات دیکھا دی” میرال اسکے ساتھ چلتے ہوۓ بولی رہی تھی۔
“کیا مطلب اج کیا کِیا؟ ” مشی نے ایک دم رک کر پوچھا تھا، میرال نے اسے سارا واقع بتایا۔
“کیا بات کر رہی ہے مطلب تو نے اسکے منہ پر پنچ مارا؟” مشی اسکی ساری بات سن کر بولی۔
“ایک تو کیا میرا بس چلتا تو دو اور مارتی، گھمنڈی کہی کا” میرال کا غصہ ایک دم غصے سے بولی۔
“مطلب جہاں مجھے لگتا ہے اب تم مجھے امپریس نہیں کر سکتی وہی تو چوکا لگا دیتی ہو واؤ، تم ٹھیک میری دوست بنے کے لائق ہو مِشی عالم کی ایسی ہی نڈر دوست ہونی چاہیے ہماری خوب جمے گی یسس” مِشی بولتے بولتے اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولی۔ میرال ہنس دی وہ اسے لے کر کلاس میں چلی گئی۔ جہاں پہلی رو خالی تھی یہ دیکھ کر دونوں ہنس دیں۔


بلاج گاڑی کو ہائی سپیڈ پر ڈال کر گھر پہنچا اسکا دماع غصے سے پھٹ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ چاروں بھی ا گے۔ وہ چاروں نیچے بیس منٹ میں پینچے، جہاں جم میں بلاج ٹریڈ میل پر فل ہائی سپیڈ کر کے بھاگ رہا تھا پورا جسم پیسنے سے شرابور ہو رہا تھا۔ آنکھیں غصے سے بھری ہوئیں تھیں۔ وہ چاروں وہی ایک طرف بیٹھ گے جب دس منٹ تک وہ ٹریڈ میل سے نا اترا تو حسام اسکے پاس آیا۔
“بلاج سٹاپ ایٹ، اتنی تیز اور پانچ منٹ بھاگے گا تو یہی بے ہوش ہو جاے گا” حسام نے ٹریڈ میل بند کرنی چاہی جب بلاج نے لال انگارے بھرتی نظروں سے اسے گھورا یہ وارنگ تھی کہ بند نا کرنا ورنہ۔۔۔۔
“تیرا کچھ نہیں ہو سکتا” وہ نفی میں سر ہلاتا واپس بیٹھ گیا۔ بلاج اپنے کام مین مصروف رہا۔
“بلاج تم ایک لڑکی کی بدتمیزی کی وجہ سے خود کو کیوں تقلیف دے رہا ہے” امرحہ اسکے پاس آکر بولی۔
“بدتمیزی اس لڑکی نے نہیں ہم نے کی ہے اور پچھلے کئی دونوں سے مسلسل کر رہے ہیں” ہارون اپنی جگہ سے کھڑا ہو کر بولا وہ کافی غصے میں تھا۔ بلاج نے مڑ کر اسے دیکھا اور ٹریڈ میل آف کر کے وہ نیچے اترا تولیے سے اپنا چہرا صاف کیا اور اسکے پاس آیا۔
“ہم نے کیا بدتمیزی کی زرا روشنی ڈالو” وہ اسکے مقابل کھڑا ہو کر سرد لہجے میں بولا۔
“جو پچھلے کئی دنوں سے ہو رہا وہ بدتمیزی نہیں تو اور کیا ہے؟” ہارون بھی اب مزید چپ نہیں رہ پا رہا تھا۔
“ہارون کیا بول رہا ہے؟ چھوڑ ان باتوں کو” حسام نے اسے چپ کروانے کی کوشش کی۔
“حسام اسے اج بولنے دے بول کیا بدتمیزی کی،ہاں اور یہ سب جو ہم کرتے ہیں وہ کیا پہلے کبھی نہین کیا جو تمہیں ہر بات مین ابجیکشن ہو رہی ہے پہلے تو تم کبھی نہیں بولے” بلاج کو بھی اب غصہ ا رہا تھا۔
“بلاج تو بھول رہا ہے ہم نے اگر کسی کو تنگ کیا ہے، تو اسکے پیچھے ہاتھ دھو کر نہیں پر گے صرف ایک دفع ہی اسے تنگ کرتے تھے اسکے بعد ہم اسے چھور دیتے تھے اور میرال کو ڈے وان سے ٹارگٹ بنا کر رکھا ہےا سکا پیچھا چھوڑ ہی نہیں رہے، اس لڑکی نے ہمیں یونی سے نکالنے سے روکا اگر وہ نا روکتی تو آج ہم یونی سے ایک مہینے کے لیے نکالے جاتے۔اور تو بھی کچھ نہیں کر پاتا” ہارون غصے سے بول رہا تھا۔ اور بلاج کے ماتھے پر بل پر رہے تھے۔
“تو تمہیں اب ہم لوگ جو کئی سالوں سے دوست ہیں وہ برے لگ رہے ہیں، اور کل کی آئی لڑکی اچھی لگ رہی ہے واؤ۔۔۔ ” بلاج نے تالیاں مارتے ہوۓ کہا
“بلاج تمہیں پہلے ہی بولا تھا اب اسے تنگ مت کرو، پر تم جان بوجھ کر آج اسکے سامنے آۓ، اور کیا ضرورت تھی اسکی بریسلٹ توڑنے کی؟” ہارون اسکے رویے کو اگنور کرتا بولا تھا۔
“گاییز بس کرو” عائشہ ان دونوں کےد رمیان آئی۔
“نہیں عائشہ اسے بولنے دو دیکھیں تو ہمارا ہی دوست ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے؟” بلاج نے اسے سائیڈ مین کرتے ہوۓ کہا۔
“بلاج آج سُدھر جاؤ تو اچھا ہے ورنہ۔۔۔” وہ بولتے بولتے روکا۔
“اچھا ورنہ کیا اور میں اب اسکا پیچھا بالکل نہیں چھوڑوں گا مزید تنگ کروں گا، اور اب دس گنا زیادہ کروں گا” وہ بامشکل اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوۓ بولا۔ اسے ہارون کو رویہ بالکل پسند نہیں آ رہا تھا
“تو پھر تو میرے ہاتھوں پٹے گا” ہارون نے بولتے ہوۓ اسے پنچ مارا۔ سبھی نے چلا کر ہارون کا نام لیا۔ بلاج نے شاک نظروں سے اسکی طرف دیکھا اسے بھی غصہ ایا اسنے بھی اسے پہنچ مارا دونوں آپس میں لڑنے لگ گے۔
“تم دنوں کا دماغ خراب ہے، بلا وجہ دونوں لڑ رہے ہو” حسام نے دونوں کو علحیدہ کرتے ہوۓ چلا کر کہا۔ پر ہارون دوبارہ سے ادے مارنے لگا
“ہارون دور رہ ” حسام نے اسے پکڑ کر پیچھے کی طرف دکھیلا اور چلا کر کہا۔
“مجھے کیا بول رہا ہے اسے بول جسکی اکڑ ہی ختم نہیں ہوتی” ہارون چلایا۔
” میں نے کون سی اکڑ دیکھائی، تو اپنے اپ کو دیکھ اس لڑکی کی وجہ سے میرے سے لڑ رہا ہے” بلاج نے اسکی بدلتی ٹون کو دیکھتے ہوۓ غصے سے کہا۔
“جس دن تجھے اپنی غلطیاں نظر آنا شروع ہو جائیں گی تب سدھرے گا، اور تیری یہی اکڑ تجھے لے ڈوبے گا، اگر تم سب چاہتے ہو کہ میں تمہارا دوست رہوں اور اس گروپ میں رہوں تو یہ سب بند کرنا پڑے گا ورنہ بھاؤ میں جاؤ” وہ غصے سے کہتا کمرے سے نکلتا چلا گیا۔بلاج وہی چکر لگا کر اپنا غصہ ختم کرنے کی نا کام کوشش کر رہا تھا۔ باقی تینوں سر پکڑے وہاں بیٹھے ہوۓ تھے ان سب کے درمیان یہ پہلی لڑائی تھی وہ آپس مین کبھی بھی جھگڑے نہیں تھے۔
“حد ہو گئی سبھی کا دماغ خراب ہو گیا ہے لڑو ایک دوسرے سے ” حسام غصے سے کہتا کمرے سے چلا گیا۔


ہارون کافی دیر باہر گاڑی چلاتا رہا اور اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا رہا، رات کے آٹھ بجے وہ گھر پہنچا، جاوید صاحب ٹیوی حال میں بیٹھے ٹیوی دیکھ رہے تھے، وہ اندر داخل ہوا اسکا چہرا کافی بجھا ہوا تھا۔ جاوید صاحب نے اسکی طرف دیکھا تو وہ ٹھٹکے کیونکہ اسکا ہونٹ پھٹا ہوا تھا۔
“ہارون یہ کیا ہوا؟” وہ فوراً اسکے پاس آۓ۔ اسنے نظریں چڑائیں جاوید صاحب نے اسے صوفے پر بٹھایا۔ اور پاس بیٹھے۔
“کس سے لڑائی ہوئی؟” انہوں نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا جو چہرا جھکاۓ بیٹھا تھا۔
“بلاج سے” وہ بس اتنا ہی بولا۔
“کیا بلاج نہیں کیا بول رہے ہو ، وہ تو تم سب اک بہت خیال رکھتا ہے تو اس لڑائی کیسے ہو سکتی ہے” جاوید صاحب کو یقین نہیں آ رہا تھا
” وہ بس کچھ بات سمجھ نہیں رہا تھا اسی لیے مجھے غصہ ا گیا تو میرا ہاتھ اُٹھ گیا” وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا۔ اور سر صوفے کی پشت سے ٹکا دیا۔
“دوست سمجھ نہیں رہا اسکا مطلب یہ نہیں مار پیٹ شروع کر دو، اور ہارون بچے تم تو ان چیزوں سے دور رہتے ہو تو آج کیوں؟” جاوید صاحب کو اسکی وجہ سمجھ نہین آ رہی تھی۔
“پہلے بہت بار اسے آرام سے بھی سمجھایا تھا یہ مت کر پر وہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں، اور اسکی وجہ سے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے شروع سے اسکی حرکتیں ایسی ہی ہیں، جب سمجھانا لگو تو سنتا نہیں” ہارون نے اپنا سر ہاتھ پر گراتے ہوۓ کہا۔ وہ کافی پریشان تھا۔ جاوید صاحب کو اسکے لہجے میں بلاج کے لیے فکرمندی نظر آئی۔
” کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سمجھانے سے نہیں سمجھتے تو انکو وقت سمجھتا ہے، اور بلاج انہی لوگوں میں سے ہے پچھلے دو سال سے میں نے اسے کافی سمجھایا پر وہ نہین سمجھایا، وہ تبھی صحیح ہو گا جب وقت کی چالیں اسے اسکی بے وقوفیوں پر سمجھائیں گی، تم فکر مت کرو چلو فریش ہو جاؤپھر دونوں کھانا کھاتے ہیں” جاوید صاحب نے اسکے کندھے پر تھپتھاتے ہوۓ کہا۔
” میں نہیں چاہتا اسے دوبارہ سے گہرے زخم لگیں، پر اگر اسکی حرکتیں یہی رہیں تو میں بھی روک نہین پاؤں گا” وہ کہتا کھڑا ہوا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔


“مجھے بس اتنا سمجھا دو تم کرنا کیا چاہتے ہو، اگر اپنے کریر کو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دینا چاہتے ہو تو بھی بتا دو” اس وقت عالم صاحب نے راحیل کو سٹڈی روم میں بلوایا تھا۔
“کیوں میں نے کیا کِیا؟” وہ بے فکرے لہجے میں بولا۔
“جو اس دن تم نے اتنا برا تماشا لگایا تھا اسکی ویڈو شوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے” عالم صاحب نے موبائل سے اسکی ویڈیو دیکھائی۔
“یہ کب ہوا؟” وہ ایک دم الرٹ ہوا۔ اور موبائل پکڑ کر ویڈیو دیکھی۔ جس میں بلاج اور وہ دونوں ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔
” جب تم کتوں کی طرح لڑ رہے تھے تبھی کسی نے ویڈیو بنا لی اور ابھی کچھ دیر پہلے اپلوڈ کی” عالم صاحب نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔
“یہ اسی بلاج نے کروایا ہو گا تا کہ میرا نام خراب ہو سکے” راحیل نے غصے سے کہا۔
“راحیل بس کرو دو سال ہو یہ تماشا ہر دوسرے مہینے لگتا ہے جان چھوڑ دو اب ایک دوسرے کی اگر اب دونوں لرتے ہوۓ نظر آۓ تو تم مجھے اچھے سے جانتے ہو ” عالم صاحب نے وارنگ دیتے ہوۓ کہا۔ اور روم سے نکل گے۔
“اسکو تو اب میں نہیں چھوڑوم گا” وہ دانت پیستےہوۓ بولا اور موبائل نکال کر اپنی ٹیم سے بات کرنے لگا تا کہ یہ ویڈیو ہٹا سکے۔


“واٹ موم نو وے مجھے کسی پارٹی میں نہیں جانا، پارٹیزی کتنی بورنگ ہوتی ہیں” وہ سب ڈنر کے بعد فارغ ہوۓ تو سمائرہ بیگم نے نازلی کے گھر سے آۓ انوی ٹیشن کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے ایک نئی کمپنی کو شروع کرنے کی خوشی میں برے برے بزنس مینز کو انوائیٹ کیا ہے، عالم صاحب کا ایماب کے والد حیدر صاحب سے کافی اچھے مراسم ہیں، تو پوری فیملی کو جانا پڑے گا۔
“مزہ تو آتا ہے، ویسے تم جیسی بھٹکی ہوئی بُڈھی روح کو ہی مزہ نہیں آۓ گا” راحیل نے اسے چھیرتے ہوۓ کہا۔
“کیا بھٹکی ہوئی بُڈھی روح میں اپکو بوڑھی لگتی ہوں، مجھے بس وہاں کا بورنگ ماحول پسند نہین آۓ گا، ہاں اپکو ضرور مزہ آۓ گا، وہاں پر کافی حسین پریاں جو آئیں ہوں گی” مِشی بھی کہاں چپ رہنے والی تھی۔
” مام جلدی سے اس بوڑھی روح کی شادی کریں اور اس گھر سے نکالیں، ہر وقت دماغ کھاتی رہتی ہے” راحیل نے اسکا کان مڑورتے ہوۓ کہا۔ وہ زور سے چلائی۔ سمائرہ کے گھورنے پر راحیل نے اسکا کان چھوڑا۔
” ہاہ ابھی اپی یہاں ہوتی تو پتہ چلتا، میری شادی کو چھوڑیں اپنی شادی کریں۔ مام ویسے اپی کب آ رہی ہیں، دو مہینے ہو گے انہیں گ” مشی ایک دم ایموشنل ہو گئی۔ وہ اپنی بری بہن کے بارے میں یاد کر کے بولی۔ راحیل اسکی بات پر ایک دم چپ سا ہو گیا۔ا ور اُٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
“ایک سرپرائیز ہے اگر تم کل پارٹی میں جاؤ گی تب دوں گی” سمائرہ بیگم نے اسے ٹریپ کیا۔
“اوکے چلی جاؤں گی اچھا کیا میں اپنی دوست کو لے کر جا سکتی ہوں” سرپرائز کا سن کر وہ کہاں رک سکتی تھی۔
“ہاں لے آنا اب چلو میرے ساتھ تمہارے لیے ڈریس لےا ئیں ” سمائرہ بیگم فوراً کھڑی ہوتے ہوۓ بولیں، مشی منہ بنا کر انکے ساتھ چل دی۔
“راحیل اپنے کمرے میں آیا، اور اپنی سائیڈ ٹیبل کا نیچے والا ڈرار کھولا، اس میں ایک ٹوٹا فریم تھا، جسکا شیشہ کافی ٹوٹ چکا تھا اور کافی ابھی بھی لگا ہوا تھا۔ اسنے وہ فریم پکڑا اور وہی بیڈ پر بیٹھ گیا۔ وہ اس فریم میں لگی تصویر کو دیکھنے لگا۔
” مجھے چھوڑنے کا انجام تم بھی بگھتو گی، اب میں تمہیں بتاؤں گا راحیل عالم کو ٹھکڑانے کا انجام کیا ہوتا ہے” وہ نفرت اور غصے سے ملے جلے جزبات سے اس تصویر میں مسکراتے ہوے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔

وہ لان میں بیٹھا آج کے ہوے واقع کے بارے میں سوچ رہا تھا، اب اسے خود پر غصہ ا رہا تھا کیونکہ اسنے لڑائی کی۔ تبھی مین دروازے کو کھولتا کوئی اندر داخل ہوا، انے والے کو دیکھ کر اسکے ماتھے پر بل پڑے۔
“اپ یہاں کیا کرنے آۓ ہیں؟” وہ چلتا ہوا انکے پاس آیا۔ اور غصے سے بولا۔
“بات کرنی ہے چلو بیٹھو وہاں” سکندر صاحب نے اسکے ماتھے کے بلوں اور غصے کو ایک دم ہی اگنور کرتے ہوۓ کہا۔ اور لان میں رکھی کرسی پر بیٹھے گے۔ اور ٹیبل پر ایک فائل رکھی۔
“دیکھو اسے” انہوں نے بلاج کو اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔ بلاج نے ماتھے پر بل ڈال کر فائل پکڑی اور اسے دیکھنے لگا۔
“یہ کیا بکواس ہے؟” اسنے پیپرز پڑھتے ہوۓ کہا۔ جسکے مطابق اب یہ گھر اب سکندر حمدانی کے نام تھا۔
“بکواس نہیں ہے ایک ڈیل ہے” وہ اسکے سامنے کھڑے ہوتے اپنے کوٹ کو بٹن بند کرتے ہوۓ بولے۔
“کونسی ڈیل؟” بلاج نے بھورے میچتے ہوۓ پوچھا۔
“یہ گھر تمہیں ابا نے دیا ضرور تھا پر ابھی تک انہی کے نام ہے، اور اج صبح یہ گھر اب میرے نام ہو چکا ہے۔ اور جو کریڈیٹ کارڈ، جن میں ابا پیسے ڈالتے تھے وہ سب بھی اب بلاک ہو چکے ہیں مطلب اب تم کنگال ہو، یوں سمجھو بے گھر ہو تو میرے پاس ایک ڈیل ہے” سکندر حمدانی بولتے بولتے رکے اور اسکی انکھوں میں ابھرنے والا غصہ دیکھا۔
“تو ڈیل یہ ہے اگر تم گھر پیسے یونی میں رہنا چاہتے ہوۓ ساری اسائیش اسی طرح رکھنا چاہتے ہو تو تمہیں میری ہر بات ماننی پڑے گی، تمہیں سب فالتو حرکتیں بند کرنی ہوں گی” سکندر حمدانی بہت آرام سے بولے۔ جیسے یہ سب بہت آسان ہو
“ہنہہہ واؤ تو دادا جان بھی سکندر حمدانی کے اشاروں پر چلنے لگے” وہ پاکٹ میں ہاتھ ڈالے طنزیہ انداز میں ہنس کر بولا۔ سکندر صاحب مسکرا دیے۔
“اگر تم میری ڈیل کو ٹھکراتے ہو تو تم ابھی اسی وقت ہر چیز، موبائل وائلٹ سارا سامان سب یہاں چھوڑ کر جا سکتے ہو اور اگر منظور ہے تو ان پیپرز پر سائن کر دو” سکندر حمدانی نے آخری داؤ کھیلا۔
“مجھے اپکی سوچ ہر بالکل تعجب نہیں اپکی سوچ پہلے بھی اتنی ہی گھٹیا تھی، دو سال پہلے بھی مجھے اسی طرح بیچا تھا، اور آج پھر سے اپنی یہ تھرڈ کلاس ڈئیل لے کر آ گے، تو ٹھیک ہے مجھے اپکی ڈیل منظور ہے،بس میری یونی والے معالات سے دور رہیے گا، اور جو ٹھپا اپ نے دو سال پہلے میری زندگی میں لگایا تھا وہ اپکو خود ختم کریں گے” وہ پینسل پکڑ کر ان پیپرز پر سائن کرتے ہوۓ بولا۔
“مسٹر حمدانی صاحب اب مرتے دم تک میرا اور اپکا کوئی واسطہ نہیں اور اس گھر میں اپکو انے کی اب آجازت نہیں نا ہی میری زندگی کے کسی مامعلے میں” وہ فائل انکے ہاتھ پر رکھتا سرد لہجے میں بولا۔ سکندر صاحب گہرا سانس لے کر مسکراۓ اور وہاں سے چلے گے۔۔
*
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔