Rate this Novel
Episode 19
ازقلم فاطمہ طارق
“جی ڈاکٹر ابھی اس لڑکی کی طبعیت کیسی ہے؟” بلاج یونی کے گارڈن میں کھڑا فون پر ڈاکٹر سے کل رات ایکسیڈینٹ والی لڑکی کی کنڈیشن پوچھ رہا تھا۔
“چلیں پھر میں پانچ بجے تک آ کر ساری فامیلٹیز پوری کرتا ہوں” بلاج سامنے مشی اور میرال کو لڑتے ہوۓ دیکھ کر بات کو ختم کرتے ہوۓ بولا
“مشی میری بات سنو تم ہمیشہ مجھے غلط ہی سمجھتی ہو” میرال نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکتے ہوۓ کہا۔
“تم بھاڑ میں جاؤ، میں نے تمہیں ایک اچھی دوست مانا اور تم نے میرے ہی بہن بھائی کو سب کے سامنے اسطرح انسلٹ کیا تم دوستی کے قابل ہی نہیں ہو، وہ گندی گروپ ہی ڈیزو کرتی ہو، دوبارہ مجھے بُلانے کی ضرورت نہیں” مشی نے اپنا ہاتھ کھینچتے ہوۓ چلا کر کہا۔ وہ بہت زیادہ غصے میں تھی۔
“مشی میں تمہاری دوست ہوں اسکا مطلب یہ نہیں میں تمہاری فیور کروں گی، یہ ڈیوٹی مجھے میم نے دی تھی، اور میں نے زندگی میں ہر کام میں سو فیصد دیا ہے، میں کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتی اور نا ہی آگے کروں گی، اگر تمہیں لگتا ہے ہمیں دوست نہیں رہنا چاہیے تو ہم نہیں رہیں گے” میرال کو اسکا انداز بہت ہی برا لگا، اسنے بھی اسی انداز میں جواب دیا۔
“تو بھاڑ میں جاؤ” مشی بدتمیزی سے کہتی پلٹ کر چلی گئی۔ میرال نم نظروں سے اسے جاتے ہوۓ دیکھتی رہی، پھر پلٹ کر وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کے تیسرے فلو کی طرف چلی گئی۔
“اہمم” میرال تیسرے فلور کی راہداری کی دیوار کے سامنے کھڑی تھی وہاں سے یونی کا گارڈن کیپٹن سب دکھ رہا تھا۔ وہ مشی کی وجہ سے دیورا پر بازوں کی کہنیاں رکھے ہاتھوں پر چہرہ گِراۓ رو رہی تھی۔ جب دیوار پر کسی نے کوک کا کین رکھا۔ اور گلا کہنگال کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ میرال نے چہرے سے اپنا ہاتھ ہٹاۓ، بغل میں دیکھا بلاج ہاتھ میں اپنا کین پکڑے سامنے دیکھ رکھا تھا۔
“پی لو اچھا محسوس ہوتا ہے، جبھی بھی غصہ رونا یا اکیلا پن محسوس ہو تو ایک کوک کا کین پیا کرو اچھا محسوس ہوتا ہے جب ٹھنڈا گھونٹ اندر جاتا ہے تو اندر کی ساری جلن ختم ہونے لگتی ہے” وہ ایک گھونٹ بھرتے اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا۔میرال نے کین پکڑا اور اسے کھول کر پینے لگی۔
“مشی اس یونی میں بننے والی پہلی دوست تھی، وہ مجھے اتنا غلط کیسے سمجھ سکتی ہے، میں کیوں جان بوجھ کر انسلٹ کروں گی” میرال خود ہی اسے سب بتا رہی تھی، بلاج کو اچھا لگا وہ بنا پوچھے اپنے دل کی بات کہ رہی تھی۔
“دوستوں میں تو یہ سب ہوتا رہتا ہے، تمہاری ابھی نئی دوستی ہے وقت لگے گا مظبوط ہو جاۓ گی ٹینشن مت لو حیات خود ہی ٹھیک ہو جاۓ گی زیادہ دیر ناراض نہیں رہ سکتی صبح تک اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جاۓ گا۔ میں جانتا ہوں” بلاج اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگا۔
“شائد، ویسے تم سب مشی کو حیات کیوں کہتے ہو جبھی بھی بلانا ہو حیات ہی کہتے ہو، مشی نے مجھے بتایا تھا تم سب ایک گروپ میں تھے اسکے بعد کیا ہوا نہیں بتایا” میرال نے اسکی اُور دیکھتے ہوۓ پوچھا۔ اسکے سوال پر بلاج نے نظریں چُرائیں اور سامنے دیکھنے لگا۔
” وہ حیات کے نام سے چڑتی تھی اسی لیے جان بوجھ کر چِڑاتے تھے وہی سے عادت کو گئی” بلاج نے ایک اور گھونٹ بھرتے ہوۓ کہا۔ جس طرح اسنے اس گھونٹ کو پیا میرال کو لگا جیسے بہت سی کڑوی یادوں پر اس ایک گھونٹ کو ڈال ہو۔ میرال نے اپنے بیگ سے رومال نکال کر چہرہ اور چشمہ صاف کیا۔ جو رونے کی وجہ سے خراب ہو گیا تھا۔
” چشمش! ویسے رونے کی تمہیں بیماری لگتی ہے ہر بات پر رو دیتی ہو بالکل بچوں کی طرح، رونے سے یاد آیا، کل جب میرا ایکسیڈینٹ ہوا تھا، اس بات پر تم روئی کیوں تھی؟ ایکسیڈینٹ میرا ہوا تھا چوٹ مجھے لگی تھی تو تمہیں اس سے اتنا فرق کیوں پڑا؟” بلاج دیوار کے ساتھ اپنی کمر لگاتا مکمل اسکی جانب متوجہ ہوا۔ اسکے سوال پر وہ بُکھلائی تھی۔ آس پاس سے سٹوڈینٹس جا رہے تھے۔
“بولو!” بلاج نے اسکے ہاتھ سے چشمہ لے کر خود لگاتے ہوۓ کہا۔
“ایکسیڈینٹ کا سن کر میں ڈر گئی تھی اسی لیے” میرال نے کچھ الفاظ میں بات ختم کرنا چاہی۔
“اچھا ڈر گئی تھی، کیوں تمہیں لگا میں مر سکتا تھا” بلاج نے اسکے چہرے کو چشمے کے شیشے سے فوکس کرتے ہوۓ پوچھا یوں اسکا چہرہ مزید برا لگ رہا تھا۔
“کیسی باتیں کر رہے ہو، ایکسیڈینٹ کے نام سے ہی خوف آتا ہے، جب میں چھوٹی تھی تب میرے ابو کی ڈیتھ ایکسیڈینٹ سے ہوئی تھی، بس تب سے اس لفظ کا سن کر خوف لگتا ہے” وہ سامنے دیکھتےہوۓ بولی۔ بتاتے ہوۓ اسکا لہجہ اداس ہو گیا۔
“اوو اچھا اس وجہ سے مجھے لگا شائد تمہیں۔۔۔” بلاج سیدھا کھڑا ہوتے ہوۓ بولا۔ اور رک گیا۔
“شائد تمہیں کیا؟” میرال اسکے چپ ہونے پر فوراً بولی۔
“مجھے لگا شائد تمہیں میری فکر تھی، کہ مجھے چوٹ لگی، اس پر تمہیں رونا آیا” بلاج نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوۓ کہا۔
“واٹ!ہنہہہ بھلا مجھے تمہاری کیوں فکر ہو گی، تمہارے اپنوں کو تمہاری فکر ہونی چاہیے، اور میرے اور تمہارے درمیان ایسا کوئی رشتہ نہیں جس سے مین فکر کروں” میرال نے ہلکا سا ہنس کر کندھے اچکاتے ہوۓ کہا۔ چہرے پر گھبڑاہٹ واضع تھی۔
“اچھا! ایسا کوئی رشتہ نہیں، پھر مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ کچھ تو ہے” بلاج مسکراہٹ دباتے ہوۓ اسکی بات سن کر بولا۔
“کیاااا ہےےےےے؟” وہ ہکلاتے ہوۓ بولی۔
“جلد ہی بتاؤں گا چشمش ” وہ مسکراتا ہوا چشمہ اتار کر اسے پہناتے ہوۓ بولا۔ اور وہاں سے چلا گیا۔ میرال نے اسکے جاتے ہی سکون کا سانس لیا اور اپنے دل پر ہاتھ رکھا جو زور زور دھڑک رہا تھا۔ وہ جانتی تھی وہ کس بارے میں بات کر رہا یے وہ بات وہ خود ماننا نہین چاہتی تھی۔
وہ نیچے آیا ابھی پارگنگ میں کھڑے گھر جانے کے لیے ریڈی تھے
“سو گائیز آجکا کیا پلین ہے؟” بلاج نے ان سب کو کہا جو اسی کا انتظار کر رہے تھے۔
“ہم کب سےا نتظار کر رہے تھے تو کہاں تھا” امرحہ نے غصے سے پوچھا۔
“بس آ رہا تھا کچھ کام آ گیا” بلاج اپنے ہاتھ رگڑتے ہوۓ بولا۔ حسام گاڑی کے ساتھ ٹیک لگاۓ کن اکھیوں سے اسے گھور رہا تھا۔
“مجھے تو مما نے جلدی گھر آنے کا بولا کے کچھ بات کرنی ہے تو میں جا رہی ہوں تم لوگ پلین بناؤ، میں آجاؤں گی” عائشہ کہتی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئی۔
“تو رات کو میرے گھر آ جاؤ” حسام نے ان تینوں کو کہا۔ سبھی نے ہاں میں سر ہلایا اور اپنے اپنے گھر چلے گے۔
“میری آج بائیک خراب تھی تو چل زار مجھے گھر چھوڑ دے مجھےرستے میں ضروری بات بھی کرنی ہے” حسام اسکے کندھے پر تھپتھپا کر بولا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا۔
“ٹھیک ہے” بلاج اسکی ضروری بات کہنے پر ٹھٹکا تھا وہ کل سے جیسے اسے گھور رہا تھا اسے عجیب لگا۔
بلاج گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی کو روڈ پر ڈالا۔ حسام مسلسل اسے ہی گھور رہا تھا۔
“سالے کیا ہے اسطرح کیوں گھور رہا ہے؟” بلاج نے اسے یوں گھورتے محسوس کیا تو بولا۔
“دیکھ رہا ہوں میرا دوست بدلا بدلا لگ رہا ہے، ہونٹوں کی مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک تو نئی کہانی کی آغاز بتاتی ہے، اب وہ سچ ہے کہ نہیں وہ مجھے تم بتاؤ” حسام نے ہاتھ باندھ کر ڈیٹیکٹو کی طرح اسکا معائنہ کرتے ہوۓ کہا۔
“مطلب؟” بلاج نے گلا کھنگال کر کہا۔
“مطلب ابھی آدھے گھنٹے پہلے ڈیپارٹمنٹ کی تیسری منزل پر میں نے کسی کو کسی سے باتیں شاتے کرتے دیکھا کوئی کوک پلا رہا تھا جس سے موڈ اچھا ہوتا ہے، اور کوئی بول رہا تھا، تم روئی کیوں اور کوئی پوچھ رہا تھا” حسام کچھ اور بھی کہتا بلاج نے کھینچ کر اسکے سر پر تھپر مارا۔
“سالے تو وہاں کیا کر رہا تھا؟”
“ہہاہا میں سر حارث سے اٹینڈیس لگوا رہا تھا کیونکہ لیکچر جو مس کیے تھے، اسی وقت تم دونوں کی باتیں سنی اور تو اچھے سے جانتا ہے پوری باتیں سن کر ہی مزہ آتا ہے آدھے میں چھوڑ نہیں سکتا” وہ اپنے سارے دانتوں کی نمائش کرتے ہوۓ بولا۔
” دانت اندر کر ورنہ توڑ دوں گا” بلاج کو اسکی حرکت پر غصہ آیا۔
“بلاج اس لڑکی کے ساتھ یوں ہی لگا ہے یا بات کچھ اور ہے کیونکہ وہ لڑکی ویسی نہیں لگتی اگر سچ میں انٹرسٹڈ ہے تو ٹھیک ہےو رنہ سب یہی بند کر دے” حسام سنجیدہ ہوتے ہوۓ بولا۔۔
“پتہ نہیں کیوں پر شروع میں جتنی وہ مجھے بری لگتی تھی، اس سے بھی کئی زیادہ اب اچھی لگتی ہے، اسکے ساتھ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے، اس بات کا احساس مجھے آج ہی ہوا تھا، اسی لیے اسے بول رہا تھا جلدی ہی بتاؤں گا” بلاج سامنے سڑک پر دیکھتے ہوۓ بول رہا تھا بات کرتے اسکے چہرے پر مسکراہٹ تھی ایک چمک سی تھی جو حسام نے اج سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ وہ بھی مسکرا دیا۔
“تو تجھے اس سے محبت ہو گئی؟” حسام نے اسکی بات سن کر کہا محبت کی بات پر وہ ٹھہرا تھا۔
“محبت! پتہ نہیں شائد ہاں” وہ گہری مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا۔
“اچھی بات ہے، میں سو فیصد تمہارے ساتھ ہوں، باقی سب کو کب بتانا ہے؟” حسام اسکی بات سن کر ایسائیٹڈ ہوتے ہوۓ بولا۔
“ابھی نہیں میں خود بتاؤں گا، پہلے اس سے بات کر لوں” بلاج گاڑی کو حسام کے اپارٹمنٹ کے سامنے روکتے ہوۓ بولا۔ وہ اوکے کا سائن دیتے گاڑی سے نکل گیا۔ بلاج نے گاڑی چلا دی۔
“میرال احمد، کیا ہو تم، اس لڑکے کو بھی محبت کے سمندر میں اترتے دیکھ بہت خوش ہوں، زندگی میں اپنوں نے کم ہی اسے اپنا کم ہی سمجھا، اب شائد تم اسکی زندگی میں خوشیاں بھر سکو” حسام اسکی گاڑی کو دور جاتے دیکھ بولا۔
“مام کیا بات کرنی تھی، او ڈیڈ بھائی آپ دونوں کب آۓ؟” عائشہ گھر میں داخل ہوئی تو روبینہ بیگم کے ساتھ اسکے والد آصف خان اور اسکا بھائی منیب خان کھڑا تھا وہ بھاگ کر انکے گلے لگی۔ عائشہ منیب سے چھوٹی تھی، چاروں کی چھوٹی سی اور پیاری سی فیملی تھی۔
“کچھ دیر پہلے ہی آۓ ہیں” اصف صاحب نے اسکے سر پر بوسہ دیتے ہوۓ کہا۔ دونوں ایک مہینے سے امریکہ گے ہوۓ تھے، ابھی لوٹے تھے۔
“بھائی آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟” وہ منہ پھلاتے ہوۓ بولی۔
“اگر بتا دیتے تو تمہارا یہ سر پرائیز والا چہرہ کیسے دیکھتے” منیب اسکے بال بگارتے ہوۓ بولا۔
“بھائی” وہ چلائی تھی۔ روبینہ بیگم نے لنچ لگوایا چاروں نے مل کر لنچ کیا اور ڈھیر ساری باتیں کئیں۔ آصف صاحب کافی خوش لگ رہے تھے۔ لنچ کے بعد وہ سبھی ٹیوی لونچ میں بیٹھے باتیں کرنے لگے منیب نے اسکے سارے گفٹس دیے، جو وہ امریکہ سے لایا تھا۔
“بھائی روحا کو کیوں نہیں لاۓ، اور راحم کو کتنا مس ک رہی تھی ان دونوں کو لےا تے” عائشہ نے منیب سے اسکی بیوی اور بیٹے کا پوچھا۔
“راحم کے فائنلز تھے دو پیپرز رہ گے اسکے بعد آجاۓ گا اور اب تو آنے ضروری ہے” منیب مسکرا کر بولا۔
“عائشہ! مجھے اپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے” آصف صاحب نےا سے اپنے پاس بلا کر کہا۔
“جی بولیں ڈیڈ” وہ چاۓ کا گھونٹ پیتے ہوۓ بولی۔
“کل عالم کا فون آیا تھا، وہ اور اسکے گھر والے چاہتے ہیں تمہاری اب رخصتی ہو جاۓ ویسے بھی نکاح کو دو سال ہو چکے ہیں، راحیل کی بھی یہی مرضعی ہے” آصف صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔ عائشہ کو لگا مانو اسمان اسکے سر پر آکر گِڑا ہو۔
” پر ڈیڈ اتنی جلدییی ابھی تو میری پرھائی پوری نہیں ہوئی” عائشہ نے اپنے دماغ کو سھنمبالتے ہوۓ جواب دیا۔ اب وہ انکو کیا بتاتی دونوں کا پچھلے دو سال سے کیسا رشتہ ہے، اسنے کبھی گھر میں یہ سب باتیں نہیں بتائیں تھیں، بلاج اور راحیل کے درمیان ہوا مسلہ سبھی کو معلوم تھا، پر عائشہ اور راحیل کے درمیان کی باتیں آج تک کسی کو معلوم نا تھیں نا انہوں نے سب کے سامنے کبھی کچھ بولا تھا۔
“ائی نو جلدی ہے پر راحیل نے بولا ہے تم شادی کے بعد پڑھ سکتی ہو، اور بات بھی ٹھیک ہے، رات کو عالم کی فیملی گھر پر ڈنر کے لیے آ رہی ہے وہی ہم شادی کی ڈیٹ ڈیسائیڈ کریں گے” آصف صاحب نے سبحی کو بتایا۔ عائشہ انکار بھی نا کر سکتی۔ کیونکہ نکاح تو انکی پسند سے ہوا تھا تو اب یوں اچانک وہ کیا بول کرانکار کرے۔ اسے راحیل کی چلاکی پر بے انتہا غصہ آیا تھا۔
عائشہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی، اور اپنے موبائل سے راحیل کو نمبر ملایا جو کہ بند تھا۔ اسنے کافی بار ٹرائی کیا پر بند ہی ملا، اسنے موبائل کو بیڈ پر پھینکا اب وہ کیا کرے اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ وہ کمرے میں ہی بند رہی رات کو روبینہ بیگم کے کہنے پر نا چاہتے ہوۓ بھی وہ تیار ہوئی بلیک کلر کی فراق پہنے، گلے مین ڈوپٹہ ڈاکے، بالوں کو کھلا چھوڑے، ہلکا سا میک اپ کیے وہ باہر آئی، جہاں راحیل عالم کی فیملی موجود تھی اور وہ خود بھی وہی موجود تھا۔ عائشہ سب سے بہت اچھے سے ملی، راحیل کی نظریں اسی پر تھیں، عائشہ نے غصے سے اسکی طرف دیکھا اور نفرت سے منہ پھیر لیا اسکا یہ انداز راحیل کو تیش دلانے کے لیے کافی تھی۔
“ماشااللہ عائشہ بیٹی بہت خوبصورت لگ رہی ہو، ہمارے گھر مین تو رونق آجاۓ گی” سمائرہ بیگم نے اسکا سر چومتے ہوۓ کہا۔
“مجھے پتہ ہے یوں اچانک رخصتی کی بات سن کر سبھی حیران ہوۓ ہوں گے، اصل میں راحیل ہی کل صبح میرے پاس آیا اور رخصتی کی بات کی، اور پڑھائی کی بالکل ٹینشن مت لیں وہ عائشہ بچی مکمل کرے گی” عالم صاحب نے مسکرا کر کہا۔
“بس عائشہ کے دور جانے سے گھبراہٹ ہوتی ہے” روبینہ بیگم نم لہجے میں بولیں۔
“ارے آنٹی کیسی باتیں کرتیں ہیں، وعدہ کرتا ہوں عائشہ کو وہ سب خوشیاں دوں گا جو وہ ڈیزو کرتی ہے، دیکھے گا آپ سب کو بھول جاۓ گی” راحیل نے سب خوشیاں الفاظ پر زور دیتے ہوۓ کہا۔ اسکی بات پر سبھی مسکرا دیے عائشہ اسکے الفاظ کو مطلب سمجھ گی کہ وہ ہر وہ دکھ دے گا جو وہ ڈیزو کرتی ہے، وہ چہرہ جھاۓ بس برداشت کر رہی تھی۔
“مشی کیوں نہیں آئی” روبینہ بیگم نے مشی کو نا دیکھا تو پوچھا۔
“اسکی طبعیت خراب تھی تو کہتی ہے گھر ہی رہوں گی” سمائرہ بیگم نے جواب دیا سبھی اپس میں باتیں کرنے لگے، عائشہ دو منٹ کا کہ کر اُٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد راحیل بھی اسکے پیچھے چلا گیا۔
“کیا ہوا بیگم وہاں باہر ہماری شادی کی بات ہو رہی ہے اور تم اُٹھ کر آگئی، کیا ہوا خوش نہیں کو” راحیل اسکے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ طنزیہ انداز میں بولا۔
“تم یہ سب کیوں کر رہے یو مجھے تم جیسے شخص کے ساتھ رخصتی نہیں کرنی” عائشہ مڑ کر غصے سے بولی۔
“اُووو ریلکس بیگم، جب نکاح مجھ جیسے کے ساتھ ہوا ہے تو رخصتی بھی مجھ جیسے کے ساتھ ہی کرنی ہو گی، اب اس میں تمہاری مرضعی شامل ہو یا نا ہو، کیونکہ اب مجھے وہ بلاوجہ کی طلاق کی دھنکیاں، اور سب کے سامنے تھپر یہ سب نہیں چاہیے” وہ دو قدم چل کر اسکے قریب آتے ہوے بولا۔
“مجھے تم سے نفرت ہے راحیل عالم تمہارے چہرے تمہاری باتوں تمہارے کردار ہر چیز سے نفرت ہے”عائشہ نے اسے دھکہ دیتے ہوۓ کہا۔
” عائشہ آصف خان، تمہارے نام کے آگے جو میرا نام لگا ہوا ہے نا اسکو اپنی زندگی میں شامل کرنا سیکھ لو کیونکہ اب سے تمہیں میرا چہرہ پسند ہو یا نا ہو اسے روز دیکھو گی، اور میری باتوں کو روز سنو گی، اور کردار کا ثبوت تو تمہیں بعد میں دوں گا، فل حال اتنا مت اُڑو، جب میں پر کاٹوں تو تمہیں میرے سوا کوئی نظر نا آۓ، تو اپنے اس دماغ میں بٹھا لو دو ہفتے کے اندر اندر تم میری دسترس میں ہو گی، اور تم چاہ کر بھی یہ شادی روک نہیں سکتی” راحیل نے اسکی کلائی کا پکڑ کر مڑورتے ہوۓ اسکی کمر سے لگاتے ہوۓ سخت لہجے مین سبھی الفاظ ادا کیے۔
“میں ابھی روک کے دکھاؤں گی” عائشہ اسے دھکہ دیتے ہوۓ کمرے سے باہر نکلی۔ وہ تیز تیز چلی ٹیوی لاونچ میں ائی راحیل اسکے پیچھے بھاگتا ہوا آیا۔
“مجھے آپ سب سے ضروری بات کرنی ہے” وہ ان سب کے سامنے کھڑی ہو کر بولی۔ سبھی اسکی طرف متوجہ ہوۓ۔
“بیٹا کیا بات ہے؟” اصف صاحب نے پوچھا۔
“انکل ہم دونوں نے ڈیسائیڈ کیا ہے ہم ایک ہفتے بعد رخصتی کریں گے، اسکے بعد ہمارا ڈرامہ کمپیٹیشن ہے تو اسکے لیے بھی تیاری کرنی ہے” راحیل جلدی سے اگے برھ کر بولا۔ عائشہ نے غصے سے اسکی طرف دیکھا، ابھی اندر تو دو ہفتے کی بات کر رہا تھا اآتے ہوۓ ایک ہفتہ بھی کم کر دیا۔
“پر اتنی جلدی” منیب بولا۔
“ارے جلدی کیا سب کام ہو جائیں گے، بچوں کی جس میں خوشی ہم بھی اسی میں خوش” عالم صاحب ہنس کر بولےماحول پھر سے خوشگوار یو گیا۔ عائشہ پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی۔ راحیل کھل کر مسکرایا۔ بارہ بجے کے قریب وہ سب چلے گے، عائشہ اپنے کمرے میں بیٹھی اس سچویشن سے نکلنے کا سوچ رہی تھی۔ پر ہر طرف دروازہ بند ہی مل رہا تھا۔ کچھ سوچ کر وہ آصف صاحب کے روم کی طرف گئی، کہ آصف صاحب سے بات کر کے شادی کو ٹال سکے۔ تبھی اندر سے آتی آواز پر وہ رک سی گئی۔
” مجھے بہت خوشی ہے ہماری بچی اچھے گھر کی بہو بننے والی ہے، راحیل بہت اچھا انسان ہے، روبینہ تمہیں یاد ہے نا جب ہم اس شہر میں نئے نئے آۓ تھے تب بزنس اسٹبلش کرنے مین عالم نے ہمارا کتنا ساتھ دیا تھا۔ تب اس نے صحیح معانوں میں دوستی نبھائی تھی، جب بچوں کا نکاح ہوا تب ہم بہت خوش تھے ، اکثر ہم رشتے داری جوڑنے کا مزاق کیا کرتے تھے لر جب مزاق سچائی میں بدلا تب جتنے خوش ہم تھے زندگی میں اتنی خوشی کبھی محسوس نہیں ہوئی، شروع سے ہی راحیل مجھے سلجھا کوا بچہ لگتا تھا” آصف صاحب مسکراتے پرانی باتوں کو یاد کر رہے تھے۔ عائشہ نے انکے لہجے میں خوشی محسوس کی اس میں ہمت ہی نا ہوئی وہ اندر جا سکے، وہ وہی قدموں کو گھسیٹی کمرے مین پہنچی، اہنی ڈرار سے نیند کی گولیاں نکال کر اسے کھا کر بیڈ پر لیٹ گئی۔
“راحیل عالم، تم جو زبردستی کر رہے ہو میں کبھی تمہیں معاف نہیں کروں گی” وہ روتے ہوۓ بولی۔ اور روتے روتے اسکا سر بھاری ہونے لگا نیند کی گولیوں نے اثر دکھایا اور وہ سو گئی۔
اگلی صبح میرال تیار ہو یونی پہنچی، کلاس مین داخل ہوئی اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔ بلاج لوگ عائشہ کا انتظار کر رہے تھے۔
میرال! میری میرو!”وہ اپنے کام میں مگن تھی، جب مشی کی آواز آئی۔ وہ دروازے کے سامنے ہاتھ کھولے روتا ہوا چہرہ بناۓ کھڑی تھی۔ میرال اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور جلدی سے اسکی جانب جانے لگی۔
“میرو میری جان میری اکلوتی دوست، میری سورج مُکھی، میری جان کا ٹوٹا ایم سوری” وہ روتے ہوۓ اسکے گلے لگ کر بولی۔ میرال کے ساتھ باقی سب کی بھی ہنسی نکلی۔ اسکا انداز ہی اتنا فنی تھی۔
“اٹس اوکے رو تو مت” میرال نے اسے چپ کروتے ہوۓ کہا
“چوہیا دھیان سے کہی تمہاری جان کا ٹوٹا تمہاری سورج مُکھی پس نا جاۓ پھر ڈھونڈتی رہنا اپنی میرو کو” حسام اسے چھیرتے ہوۓ بولا۔ مشی نے غصے سے اسکی طرف دیکھا۔
“یااللہ بچا استخفراللہ بالکل ڈائن لگ رہی ہو” اسکے رونے کی وجہ سے انکھوں میں لگا کاجل بہ کر گالوں پر آیا اوپر سے گحنگرالے بال حسام دل پر ہاتھ رکھتا ڈرتے ہوۓ بولا۔ اسکے ایکشن کر سبھی کا قہقہ بلند ہوا۔
“تمہیں بعد میں دیکھتی ہوں ابھی میرو ایم سوری میں زیادہ بول گئی اور دوستی بھی توڑ دی تم میری باتوں ہر مت جانا۔ بھول جاؤ” وہ دوبارہ سے رونے کی تیاری کر رہی تھی۔
“ارے بس کوئی بات نہیں دوست کو اتنی سی بات تو بول سکتی ہو اب رونا بند کرو ورنہ میں بھی رو دوں گی” میرال اسکا چہرہ صاف کرتے ہوۓ بولی۔ مشی نے دوبارہ اسے ہگ کیا۔ میرال کی انکھیں بھی نم ہوئیں۔ ہارون میرال کو دیکھ کر مسکرایا۔
“کل ساری رات سوچتی رہی، پھر جا کر احساس ہوا میں نے غلط بولا تھا” مشی اپنی جگہ ہر بیٹھتے ہوۓ بولی۔ میرال مسکرا دی۔ بلاج کی بات سچ ہوئی تھی اسے جلد ہی احساس ہو گیا تھا۔
“تم میں دماغ کی بہت کمی ہے اسی لیے رات لگ گئی ورنہ کچھ سیکنڈ لگتے احساس ہو جاتا تم غلط ہو” حسام نے دوبارہ سے تیلی لگائی۔
“حسام مت کر” ہارون نے اسے روکا۔ وہ ہنس کر چپ ہو گیا۔
“یار عائشہ کا نمبر بھی نہیں لگ رہا وہ ابھی تک نہیں آئی” امرحہ اسکا نمبر بار بار ٹرائی کر رہی تھی پر بند جا رہا تھا۔
“ظاہری بات ہے، جب کل سسرال والے شادی کی ڈیٹ طے کر کے آۓ ہیں تو وہ یونی کیوں آۓ گی” مشی اونچی اواز میں بولی۔ اسکی بات پر وہ چاروں ایک ساتھ کھڑے ہوۓ اور اسکی طرف مُڑے۔
“کیا بکواس کر رہی ہو؟” بلاج اسکی بات پر چلایا تھا۔
“مطلب صاف ہے، کل مجھے چھوڑ کر باقی سب راحیل بھائی بھی عائشہ کے گھر گے تھے شادی کی ڈیٹ بھی فکس ہو چکی ایک ہفتے بعد بارات ہے” وہ پرسکون انداز میں بولتی سب کا سکون اُڑا گئی۔
“تمہارا دماغ خراب ہے ایسا بالکل نہیں ہو گا تمہارے لفنٹر بھائی کے ساتھ وہ رخصتی کے لیے کبھی ہاں نہیں کرے گی” حسام نے غصے سے کہا۔
“گائیز چلو اسکے گھر چلیں” امرحہ اپنا پاوچ پکڑتے ہوۓ بولی، وہ چاروں کمرے سے باہر نکل گے۔ مشی میرال کو سب بتانے لگی۔۔۔۔۔۔
