Yaaron Ki Yaari Season 1 By Fatima Tariq Readelle50127 Last Episode 48
Rate this Novel
Last Episode 48
ازقلم فاطمہ طارق
عمیر کے ساتھ وہ لوگ گھر واپس آۓ، بلاج کی ضد پر وہ اوپر اپنے کمرے میں ہی گیا۔ ایک گھنٹہ بیٹھ کر عمیر چلا گیا۔
وہ کچن میں سوپ بنا کر فارغ ہوئی، سوپ کو باوئل میں ڈالے وہ کمرے میں لے آئی۔ جہاں وہ بیڈ پر نیم دراز لیٹا سامنے ٹیوی پر فٹ بال میچ دیکھ رہا تھا۔ میرال نے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھی۔
“بلاج سوپ پی لو، پھر دوائی کھانی ہے” وہ پلٹ کر بولی۔ بلاج نے ٹیوی کا والیم بند کیا، اور سیدھا ہو کر بیٹھا میرال نے ٹرے درمیان میں رکھی۔ اور سوپ کا چمچہ بھر کر اسکی طرف کیا۔ نظر سیدھی اسکی نظر سے ٹکڑائی۔ اسکا چہرا سپاٹ تھا۔ بس آنکھوں میں وہ نا دیکھ سکی، بلاج نے اسکے ہاتھ سے چمچہ لیا، اور خود الٹے ہاتھ سے سوپ پینے لگا۔ میرال کے دل کو کچھ ہوا۔
“میں پلا دیتی ہوں” وہ ہاتھ اگے لے جاتے ہوۓ بولی۔ وہ کچھ نا بولا اور خود ہی پیتا رہا۔ میرال سے مزید نا بیٹھا گیا وہ اُٹھ کر واشروم میں بند ہو گئی۔ بلاج نے ایک نظر بند دروازے کو دیکھا۔ اسکا بنایا ہوا سوپ پیا اور دوائی لے کر سونے کے لیے لیٹ گیا۔ دس منٹ بعد وہ واشروم سے باہر نکلی، اسکی نظر بلاج پر پڑی جو آنکھوں پر بازو رکھے سیدھا لیٹا ہوا تھا۔ وہ جانتی تھی وہ جاگ رہا ہے۔ وہ بیڈ پر جا کر بیٹھی۔
“بات نہیں کرو گے؟” اسکے پاس بیٹھتے ہوۓ اسکے بازو کو ہلاتے وہ بولی۔ پر وہ خاموش رہا کچھ نا بولا۔
“اتنا ناراض ہو گے ہو، سوری نا، میں ڈر گئی تھی سوچا نہیں تھا سب اتنا بھیانک ہو جاۓ گا” اسکا بازو زبرداستی آنکھوں سے ہٹاتے ہوۓ وہ بولی۔ بلاج نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اور چہرا موڑ لیا۔ میرال کو اس وقت اس پر بے حد پیار آیا۔ بے اختیار اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھری۔ وہ اسکے سینے پر سر رکھے لیٹ گئی۔ جانتی تھی وہ نہیں ہٹاۓ گا۔
“آئی نو مجھے تمہیں سب بتانا چاہیے تھا پر وہ تمہیں کچھ کر دینے کی دھمکی دے رہا تھا، اور ویڈیو بھی بھیجی میں ڈر گئی تھی۔ تمہیں کھونا نہیں چاہتی تھی اسی لیے نہیں بتایا” اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے وہ بول رہی تھی۔
“اور کیا میں تمہیں کھونا چاہتا تھا جانتی ہو کس قدر ڈر گیا تھا۔ تمہیں اس ویکس کے اوپر الٹا لٹکے دیکھ کر، جان نکل گئی تھی اگر ایک لمحے کی دیر ہو جاتی تو تم۔۔۔۔” اس سے مزید بولا نا گیا۔۔
“جانتی ہوں، بہت مشکل تھا ایم سوری میری وجہ سے تمہیں اتنی چوٹ لگی، جب تم پر گولیاں چلیں تب میری بھی جان نکل گئی تھی دماغ ایک دم بلینک ہو گیا تھا۔ یہ سوچ ہی مار ڈالنے کو کافی تھی کہ اگر تمہیں کچھ۔۔۔۔۔۔” وہ نم لہجے میں بولی۔ اسکے آنسوں اسکے سینے پر گرتے شرٹ کو بھگو رہے تھے۔ بلاج نے گہرا سانس لیا۔
“اب رو کے مجھے منانا چاہتی ہو جانتی ہو تمہیں روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا، آئندہ ایسی بے وقوفی مت کرنا” اسکے گرد اپنے بازوں کا حصار تنگ کرتے ہوۓ وہ محبت بھرے لہجے میں بولا۔
“ہمممم ویسے ایک بات تو اچھی ہو گئی نا راحیل اور تمہاری دوستی ہو گئی” کچھ دیر بعد وہ بولی۔
“ہممم” اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے کلائی پر زخم پر بندھی پٹی پر اپنا انگھوٹھا مسلتے ہوۓ بولا۔ سب کچھ آنکھوں کے سامنے آیا۔ اسنے خدا کا شکر ادا کیا کہ سب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس واقع کو تین مہینے گزر چکے تھے۔ وہ سب اس وقت لاونچ میں بیٹھے ہوۓ تھے۔ اسماء کی وجہ سے سمائرہ بیگم کی طبعیت کافی خراب تھی۔ وہ راحیل کے گلے لگے رو رہیں تھیں۔ انکی بیٹی کی وجہ سے انکا بیٹا موت کے منہ سے واپس آیا تھا۔ باسط کو دس سال کی سزا سنائی گئی تھی، اسماء کو مینٹلی طور پر ڈسٹرب قرار دیا گیا اور ادے ہسپتال میں شفٹ کر دیا گیا۔ آج سمائرہ بیگم اس سے مل کر آئیں تھیں، ماں تھیں وہ انہی کی بیٹی تھی۔ دل تو موم ہو جانا تھا۔۔۔
“امی اسے وہاں رہنے کی ضرورت ہے، اور ہم کونسا اسے بھول رہے ہیں بہن ہے میری ہم ملنے جاتے رہیں گے جیسے ہی وہ ٹھیک ہو گی ہم واپس لے آئیں گے” راحیل انہیں سینے سے لگاتے ہوۓ بولا۔ سمائرہ بیگم ہاں میں سر ہلاتے رو دیں۔
“رونے کی بجاۓ اسکے لیے دعا کیا کرو، یہ سب میری غلطی یے، مجھے اسے لندن سے بلوانا نہیں چاہیے تھا۔ اسکے ڈاکٹر نے آجازت نہیں دی تھی، تو لانا نہیں چاہیے تھا” عالم صاحب آنکھوں سے چشمہ اتارتے ہوۓ آنکھیں کو بے بسی سے مسلتے ہوۓ بولے۔
“زیادہ مت سوچیں سب ٹھیک ہو جاۓ گا” راحیل گہرا سانس لے کر بولا۔ عائشہ چاۓ کی ٹرے لے کر انکے پاس آئی۔ اور سبکو چاۓ دی۔۔۔
چار سال بعد:
سب اپنی زندگی میں مگن تھے، ہر کسی کی زندگی خوشیوں سے بھرپور تھی، عائشہ اور راحیل کی زندگی میں ایک پیاری سی پری سحر نے انکی زندگی مزید پیاری بنا دی تھی۔ مشی اور حسام کی منگنی ہو گئی، اور چھے منہیے بعد انکی شادی تھی۔ تقی اور امرحہ کی شادی ایک سال پہلے ہو گئی،میرال اور بلاج کی زندگی میں انکا کا ایک پیارا سا بیٹا ساحل آیا۔ جسنے انکی زندگی خوشیوں سے بھر دی۔ آج انکی گریجیویشن سرمنی تھی، وہ سب اس وقت یونی مین موجود تھے۔ گریجیویشن کیپ اور گائون پہنے سب اپنی ڈگری لے کر اب تصاویریں بنوا رہے تھے۔ سب نے ایک ساتھ تصاویریں بنوا کر اس یادگار پل کو ایک خوبصورت تصویر میں قید کر لیا۔شام سات بجے تک یہ سرمنی چلتی رہے اسکے بعد سب بلاج کے گھر اکھٹے ہوۓ۔ عمیر اور حرا اپنی بیٹی علیزے کے ساتھ آۓ تھے۔
گارڈن میں کھانے کا سارا سیٹ اپ کیا تھا۔ سب ہاتھ میں پلٹ پکڑے کھانا کھانے میں مصروف تھے ساتھ باتیں بھی ہو رہیں تھیں۔ تبھی ایک گاڑی گھر میں داخل ہوئی۔ گاڑی کو دیکھتے سب چونکے پھر سحنمبل گے کیونکہ وہ گاڑی سکندر صاحب کی تھی۔ وہ ہر دوسرے ہفتے اب بلاج سے ملنے چلے آتے دونوں کے درمیان رشتہ اب بھی ویسا ہی تھا۔ بس بلاج اب خاموش ہو جاتا، بدتمیزی نہیں کرتا تھا۔ ساحل سے سکندر صاحب کافی اٹیچ تھے، اج بھی اسی نے چھپ کر انکو فون کیا تا کہ وہ ملنے آئیں۔
“دادا جی۔۔۔۔۔دادا جی۔۔۔” انکو دیکھتے ہی وہ چلاتا ہوا انکی طرف بھاگا اسکندر صاحب نے اپنی باہیں کھولیں اور اسے سینے سے لگا لیا۔ ایک ٹھنڈک سی انہیں پہنچی۔ اسکا ماتھا چومتے اسے اُٹھاۓ وہ بلاج کی طرف آۓ۔
“میں آتا ہوں” وہ جو ہارون کے پاس کھڑا تھا۔ انہیں اپنی طرف آتا دیکھ فوراً وہاں سے نکل گیا انکے قدم وہی تھم سے گے چہرے پر آئی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ دور کھڑی میرال نے سب نوٹ کیا وہ جلدی سے سکندر صاحب کے پاس آئی۔
” السلام علیکم! انکل کیسے ہیں؟ ” وہ انکے قریب آتے ہی بولی۔
” وعلیکم السلام! میں بالکل ٹھیک اپنے پوتے کو دیکھ کر تو ایک دم فٹ ہو گیا” سکندر صاحب زبردستی مسکرا کر بولے۔ میرال نے اچھے سے نوٹ کیا اسے بالکل اچھا نا لگا۔
“کھانا لگا ہوا ہے، میں آپکے لیے لاتی ہوں، آپ تب تک یہاں بیٹھیں” میرال نے انہیں پاس ہی رکھی کرسی پر بیٹھایا، وہ ساحل کے ساتھ کھیلنے لگے، وہ کچھ کھانے کو لینے چلی گئی۔۔۔
“اس میں ناراض ہونے والی کیا بات ہے؟” حسام جو کہ کب سے مشی کو منانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مشی نے اس سے اسکا موبائل مانگا جو اسنے دینے سے منع کر دیا وہ تب کا منہ پھلا کر بیٹھی تھی۔
“تم نے مجھے منع کیا۔ مجھے اپنا موبائل نہیں دیا، ضرور کچھ چھپا رہے ہو، کہی کوئی اور تو پسند نہیں آگئی اور مجھ سے جان چھڑوانا چاہتے ہو، میں جانتی تھی۔۔ یااللہ” وہ رونے والا چہرہ بناۓ بول رہی تھی۔ حسام حیرانگی سے سب سن رہا تھا۔
“واہ تم نے تو مجھے ایک موبائل نا دینے کی وجہ سے بے وفا کرار دے دیا مشی” وہ صدمے سے بولا۔
“تم سب مرد ایسے ہی تو ہوتے ہو بے وفا” وہ منہ موڑ کر بولی۔ حسام نے نفی میں سر ہلایا۔
“یہ لو موبائل جو دیکھنا ہے دیکھ لو کچھ نہیں چھپا رہا حد ہے،محبت کرتا ہوں تم سے کوئی بے وفائی نہیں کی” حسام کو کافی ہرٹ ہوا۔ اسنے مشی کے ہاتھ میں موبائل دے دیا اور جانے لگا۔ مشی نے جلدی سے اسکا بازو پکڑا۔
“ناراض ہو گے، میرے مینڈک ایم سوری میرا وہ مطلب نہیں تھا” وہ کھڑی ہو کر اسکے سامنے آتے ہوۓ بولی۔ حسام نے چہرہ موڑا۔ اسے کافی برا لگا تھا۔
“میں تو مبائل اسی لیے مانگ رہی تھی ہم دونوں ایک اچھی سی فوٹو لیتے ہیں، میرے موبائل کی بیٹری ختم ہو گئی۔ تم نے نہیں دیا تو غصہ آ گیا۔۔ ایم سوری” وہ بول کر آخر میں اپنے کان پکڑ گئی۔
“آئندہ بے وفا والا الفاظ استعمال مت کرنا حیات عالم محبت ہو تم میری، اور میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتا” مشی نے ہاں میں سر ہلایا۔ وہ اسکے ہاتھ سے۔ موبائل کے کر اب فوٹو بنانے کی تیاری میں تھا۔ ناراضگی ختم ہو گی۔ انہوں نے کافی فوٹوز لیں۔ اور حسام اسے موبائل دے کر اکیلے کھڑے ہارون کے پاس آیا۔ جو ہاتھ مین جوس کا گلاس پکڑے مسکرا کر راحیل اور عائشہ کو اپنی بیٹی کے ساتھ تصویریں بناتے دیکھ رہا تھا۔
“کیا بات ہے جگر” اسکے کندھے پر ہاتھ مارتے وہ بولا۔
“کچھ نہیں بس سب خوش ہیں تو اچھا لگ رہا ہے” وہ مسکرا کر بولا۔ اور ایک سپ لی۔
“ویسے اب تو بھی شادی کر ہی لے، انکل نے جو پچھلی لڑکی سے ملوایا تھا کیسی لگی؟” جاوید صاحب اب ہر دوسرے ہفتے اسے اپنے دوست کی کوئی نا کوئی بیٹی سے ملنے کو کہتے کہ کوئی تو اسے پسند آ جاۓ پر وہ بس مل کر آ جاتا اور انکار کر دیتا۔
“اچھی تھی پر میرا موڈ ابھی شادی کا بالکل نہیں ڈیڈ کا آفس جوائن کرنا یے، اور بس کام کرنا ہے شادی بھی ہو جاۓ گی” وہ مسکرا کر بولا۔ حسام بھی مسکرا دیا۔
رات بارہ بجے کے قریب سب اپنے اپنے گھر واپس گے۔ میرال نے سب سمیٹا اور ساحل کو سلا کر دو کپ چاۓ بنائی اور باہر گارڈن میں واک کرتے ہوۓ بلاج کے پاس آئی۔
“چاۓ” میرال نے اسکی طرف چاۓ کا کپ بڑھایا۔
“شکریہ چشمش” چاۓ کا کپ پکڑتے بلاج نے اسکا چشمہ ٹھیک کرتے ہوۓ مسکرا کر کہا۔وہ دونوں ایک ساتھ واک کرتے چاۓ ہی رہے تھے۔ بلاج نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ہوا تھا یہ انکا روز کا معمول تھا۔ وہ روز اسی طرح فارغ ہو کر واک کرتے اور ساتھ باتیں کرتے۔ پر آج میرال کچھ چپ چپ سی تھی۔
“میری چشمش کو کیا ہوا؟ آج اتنی چپ کیوں ہے؟” بلاج نے رک کر اسکی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔ جو کسی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔
“تم سے ایک بات کرنی تھی سمجھ نہیں آ رہی کروں کہ نا کروں” وہ کنفیوز سی دیکھائی دی۔
“جو بولنا ہے بولو، وہ ہلکا سا جھک کر اسکی ناک دباتے ہوۓ بولا۔۔
” تمہارے ڈیڈ کے بارے میں یے” میرال نے کلیر بولا۔ اسکی بات سن کر بلاج سنجیدہ ہو گیا۔ میرال نے اسکا ہاتھ پکڑا۔ اور وہی گارڈن کی گھاس پر اسے بیٹھایا۔
“میں سب جانتی ہوں، تم کیوں اپنے ڈیڈ کو ڈیڈ نہیں کہتے، اتنی سرد مہری کیوں رکھتے ہو، پر آج جس طرح تم نے انہیں اگنور کیا، مجھے بالکل پسند نہیں آیا” چاۓ کا کپ سائیڈ پر رکھتے وہ اسکا ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولی۔۔
“ہم نے طے کیا تھا اس ٹاپک پر بات نہیں ہو گی”وہ سنجیدگی سے بولا۔
” ہو گی بات اور کھل کر ہو گی، کب تک تمہیں یہ سب کرتے دیکھوں گی، بیوی ہوں تمہاری اچھا برا سمجھانا میرا فرض ہے۔
پتہ بلاج تم خوش قسمت ہو تمہارا باپ ابھی زندہ ہے، میں چھوٹی تھی جب میرے ابا اس دنیا سے چلے گے زندگی کے ہر موڑ پر میں سوچتی ہوں کاش ابا زندہ ہوتے تو وہ مجھے اس مشکل سے نکلنے میں مدد کرتے۔پر تم لکی ہو تمہارے ڈیڈ ابھی ہیں، تمہیں انہیں دنیا کی ہر خوشی دینی چاہیے، یوں نا بول کر نا تو تم خوش رہ پاؤ گے نا وہ۔۔۔۔
مانا انہوں نے جو کیا وہ غلط تھا پر تم نے بھی انہیں چین سے جینے نہیں دیا بہت ڈرامے کیے ہیں، اور اب جب وہ بدل گے ہیں تب بھی تم ان سے بات نہیں کرتے کیا یہ بات مناسب یے؟ اگر کل کو ساحل ایسا کرے تو تمہیں کیسا لگے گا؟ انہیں اور خود کو اتنی تقلیف نا دو” وہ اسکے دنوں ہاتھ پکڑتے ہوۓ نرم لہجے میں بول رہی تھی۔ اور وہ سر جھکاۓ بس سن رہا تھا۔
“یہ سب کہنے کی باتیں ہیں، میرے لیے کرنا بہت مشکل ہے جو دیوار ہم دونون کے درمیان حائل ہے وہ توڑنا نا ممکن ہے” وہ گہرا سانس لیتا نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولا۔
“کوشش تو کرو کیا پتہ دور سے دیکھنے والی مظبوط دیوار بس ایک قدم سے ہی پار ہو جاۓ”
“پتہ نہیں دیکھوں گا” وہ پچھے کی طرف لیٹ گیا۔ میرال بھی اسکی بغل میں جا کر لیٹ گئی۔
“میرو۔۔۔۔۔۔” وہ خاموشی سے اوپر تاروں بھرے اسمان کو دیکھ رہی تھی جب بلاج کی آواز آئی۔
“ہمممم” وہ بس اتنا ہی بولی۔
“میری زندگی میں آنے کا شکریہ” وہ اسکی طرف چہرہ گھوما کر بولا۔ وہ اکثر یہ بولتا رہتا تھا۔
“تمہارا بھی” اسکے بال بگاڑتے ہوۓ وہ ہنس کر بولی۔ بلاج پہلے تو چڑا پھر اسکی ہنسی دیکھ کر خود بھی ہنسنے لگ گیا۔۔۔
“ماما” تبھی ساحل کی آواز آئی جو اسکو ڈھونڈتا باہر آیا تھا۔ وہ انکے پاس آیا۔
“میرا بچہ ماما کو ڈھونڈ رہے تھے۔ ” اسکا ماتھا چومتے ادے گود میں لیا۔ گود میں آتے ہی اسنے آنکھیں بند کر لیں۔ بلاج اٹھ کر اسکے ساتھ بیٹھا۔ اور اسے اپنے بازوں کے حصار میں لیا۔ اور سکون کا ایک گہرا سانس فضا میں خارج کیا۔۔میرال نے اسکے کندھے پر اپنا سر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔۔۔ِِ۔
ختم شدہ۔۔۔۔۔۔
