Rate this Novel
Episode 17
بلاج شام کے پانچ بجے گھر میں داخل ہوا، اسے لگا جیسے کوئی گھر میں موجود ہے، وہ اندر داخل ہوا تو سامنے ٹیوی لاونج میں صوفے پر کنول بیگم اور عمیر بیٹھے تھے۔
“آپ دونوں یہاں کیا کر رہے ہیں؟” وہ اپنی گاڑی کی چابی ڈائینگ ٹیبل رکھتے ہوۓ سرد لہجے میں کہا اسکی آواز پر دونوں نے پلٹ کر دیکھا۔
“تم سے ملنے اۓ ہیں کیا اب اس پر بھی پابندی ہے؟” کنول بیگم نے غصے سے کہا۔
” میری چھوڑیں اپنے شوہر کو بتایا ہے ، کہ تمہارے سو کالڈ نام کے بیٹے کو ملنے جا رہی ہوں، انہوں نے آجاذت دے دی؟” بلاج انکے مقابل کھڑے ہو کر بولا۔
“بلاج ضروری ہے ہم جب بھی ملیں ایسے لڑتے ہوۓ ملیں نارمل انداز میں نہیں مل سکتے؟” عمیر نے اسکے پاس آ کر کندھے پر ہاتھ رکھتے تھکے ہوۓ لہجے میں کہا۔ بلاج نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اور نفی میں سر ہلایا۔
” نارمل طریقے سے تو صرف نارمل فیملیز ملتی ہیں ہم جیسی نہیں” وہ نفی میں سر ہلاتا بولا۔ عمیر نے اسکی بات سن کر گہرا سانس لیا۔
“بیٹے سب باتوں کو بھول جاؤ، کل عمیر کی شادی کی تاریخ طے ہونی ہے،پلیز خوشی سے اپنے برے بھائی کی شادی میں شرکت کرو، مجھے اتنی سی خوشی تو دے سکتے ہو” کنول بیگم کا لہجہ بولتے بولتے بھاری ہوا۔
“ارے واہ مبارک ہو، بتائیں عمیر صاحب سکندر حمدانی نے اپکو کتنے میں بیچا، کیونکہ اپنے بیٹوں کو اپنے سو کالڈ بزنس کے لیے بیچانا تو انہیں شروع سے بہت پسند ہے” وہ ہنستے ہوۓ طنزیہ انداز میں بولا اسکے لہجے میں چھپا غصہ نفرت بھرپور دکھ رہا تھا۔
“تو ڈیڈ کو اتنا غلط کیوں سمجھتا ہے، ٹھنڈے دماغ سے سوچ انہوں نے اج تک جو کیا ہماری بھلائی کے لیے ہی کیا” عمیر نے اسے سمجھانا چاہا۔
“بھلائی ہا ہاہاہاہا بھائی اپ نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی ہے میں نے نہیں، اور کس بھلائی کی بات کر رہے ہیں، بتائیں جس سے اپ شادی کرنے کے لیے تیار ہو گے کیا ایک پرنس اپکی مرضعی شامل ہے، اگر اپکی مرضعی شامل ہے تو پھر اس۔۔۔۔” بلاج مزید بولتا درمیان میں عمیر بول پڑا وہ جانتا تھا وہ کیا بولنے والا ہے اور وہ سب وہ کنول بیگم کے سامنے نہیں لانا چاہتا تھا۔
“تو فضول کی باتیں کیوں کر رہ ہے میں بہت خوش ہو جس سے میری شادی ہو رہی ہے وہ بہت اچھی لڑکی ہے، تو پلیز کسی اور کے لیے نا سہی میرے لیے کل آجانا ” عمیر ہاتھ جورتے ہوۓ بولا۔ بلاج نے خود پر ضبط کیا۔ عمیر کا یوں ہاتھ جوڑنا اسے برا لگا۔ وہ اب مزید کیا کہتا جتنا بولتا اتنی باتیں بھرتیں۔
“ٹھیک ہے آ جاؤں گا، پر بس ایک گھنٹے کے لیے” وہ گہرا سانس لے کر بولا۔ کنول بیگم نے شکر ادا کیا وہ مان گیا۔ عمیر نے اسے سینے سے لگاتے شکریہ ادا کیا۔۔ کنول بیگم نے سامنے اپنے دونوں بچوں کو دیکھتے انکھیں صاف کئیں۔
“””“””***
بلاج چونکہ ناشتہ نہیں کر کے آیا تھا۔ تو وہ اپنے لیے کچھ کھانے کو لینے کینٹن کی طرف جا رہا تھا۔
بلاج! کیا تم دو منٹ میری بات سن سکتے ہو؟” تبھی پیچھے سے میرال کی آواز آئی۔ وہ مڑا اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ جو بلیک شلوار قمیض، سر پر بلیک ہی ڈوپٹہ ڈالے عام سے لباس میں بھی نا جانے کیوں اسے اچھی لگی۔
“بولو؟” وہ ٹھنڈے لہجے میں بولا۔
“کل مجھے اسطرح کا بی ہیو نہیں کرنا چاہیے تھا، اسکے لیے ایم سوری میں بس کچھ چیزوں کی وجہ سے کافی پریشان تھی” وہ اپنا چشمہ ٹھیک کرتے ہوۓ بولی۔ اور اسکی یہ حرکت ہمیشہ اسے ٹھہر جانے پر مجبور کرتی تھی۔
“ہمم کوئی بات نہیں” وہ بول کر پلٹا تھا۔جب پیچھے سے میرال بولی۔اسکے قدم وہی تھم گے۔
“اس دن جب مجھے آپی کا فون آیا تب میں گھر گئی تو وہاں پر۔۔۔” وہ بولتے بولتے رکی کیونکہ اسکی آواز بھاری ہوئی بلاج نے بہت اچھے سے محسوس کیا۔ وہ پلٹا اور اسکی بات سننے لگا۔
“وہاں کیا؟” اسنے سوالیہ انداز میں کہا۔ میرال نے نم نظروں سے ایک پل کے لیے اسے دیکھا، اور وہی بلاج نے اسکی آنکھوں میں تیرتی نمی کو دیکھا۔
“باسط نے وہ تصویر سب کو دیکھا دی۔۔۔” میرال بےا س دن کی ساری بات بتائی۔ جسے سن کر بلاج کو حد درجہ غصہ آیا۔
“تو تم مجھے بتاتی میں وہاں آ کر سب کو سچ بتا دیتا” بلاج نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوۓ کہا۔
“ہنہہہہ وہ فیملی وہ رشتہ ہی کیا جس میں کسی دوسرے کو آ کر گواہی دینے کی ضرورت پڑے، جو آنکھوں دیکھا ہی سچ مان لے جسکو اتنی فرصت نا ہو وہ یہ سمجھ سکے جسکے ساتھ بہن کا رشتہ ہے جسکے ساتھ ساری عمر گزاری وہ کردار کی کیسی ہو گی” وہ تلخہ انداز میں بولی
“صحیح کہا جہاں اپنوں کو ہی گواہیاں دینی پڑ جائیں وہاں بھروسہ نہیں رہتا” بلاج بھی تلخیہ انداز میں بولا۔ میرال نے اسکی طرف دیکھا۔
“میں نے سب بتا دیا اب تم ناراض نہیں ہو نا؟” میرال نے ڈرتے ہوۓ پوچھا کہی وہ ابھی تک ناراض نا ہو۔
“کیوں؟ تمہیں میری ناراضگی سے فرق پڑتا ہے چشمش” وہ تھوڑا سا جھک کر اسکی انکھوں میں انکھیں ڈال کر سوالیہ انداز میں بولا۔
“واٹ فرق نو وے، میں تو وہ بس۔ تمہیں غلط بولا اسی وجہ سے پریشان تھی” میرال نے جلدی سے جواب دیا۔ بلاج کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
“ڈونٹ وری چشمش میں تمہارے ساتھ ہوں تو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں” وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولا اور پلٹ کر کینٹن چلا گیا۔ اور میرال اسکی بات کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔ پھر وہ سر جھٹک کر کلاس میں چلی گئی۔
یونی میں بارہ بجے کے بعد آج سے ڈرامہ کی پریکٹس ہونا شروع ہو گئی تھی۔ سبھی اس وقت ڈرامہ کلب میں موجود تھے، میرال ڈرامہ کلب کے چھوٹے سے سٹیج پر کھڑی تھی۔ جہاں اب سے ان سب نے پریکٹس کرنی تھی۔
” میں نے سارے کریکٹرز کے بارے میں پڑھ لیا ہے، میں سب سے پہلے آپ سب کا اوڈیشن لوں گی یہ جاننے کے لیے کہ کس کو ایکٹنگ آتی بھی ہے کہ نہیں اسکے بعد ڈیسائیڈ کروں گی کس کو کیا کریکٹر دینا ہے” سبھی اسکے سامنے کھڑے تھے وہ سنجیدہ لہجے میں بول رہی تھی۔ اسکی نظر بلاج پر گئی جو بالکل خاموش مگر پریشان سا لگ رہا تھا۔ میرال کو کل والی باتیں یاد آئیں۔ وہ خود بھی کافی برا محسوس کر رہی تھی۔
“واٹ اوڈیشن! تم ہمارا اُوڈیشن لو گی، ہنہہہ بہن جی ” امرحہ اسکی بات سنتے ہی طنزیہ انداز میں بولی۔
“امرحہ میم فرحت نے مجھ پر یہ ذمہ داری ڈالی یے کہ پلے اچھے سے ہو اسکی ہر چیز پرفیکٹ ہو اسکی مین چیز کریکٹرز کو کیسے آسانی سے لوں، مجھے جسکی ایکٹنگ اچھی لگے گی صرف اسے ہی پلے میں لوں گے۔ لخیر میں فضول کی بحث نہیں کروں گی اگر تمہیں پرفام نہیں کرنا تو تم جا سکتی ہو” میرال کو بھی غصہ ایا تھا ایک تو وہ خود پریشان تھی اوپر سے یہ پلے کی ساری ذمہ دای۔۔۔۔ اب جب اس پر یہ ذمہ داری ا چکی تھی تو وہ اسے اچھے سے نِبھانا چاہتی تھی۔ وہ اپنے ہر کام میں ہنڈرڈ پرسنٹ دینے کی کائل تھی۔
“فائن گو ٹو ہیل” امرحہ پاؤں پٹختی جانے لگی حسام اور عائشہ نے زبردستی اسے روکا۔
“میرال تم ان سب کو چھوڑو جیسا تمہیں ٹھیک لگے ویسا کرو، ہم تمہارے ساتھ ہیں کسی کے گروپ کی چلنے نہیں دیں گے” مشی نے اونچی اواز میں کہا
“چوہیا تم اتنا ہی بولو جتنا واپس سن سکتی ہو، پھر رونے مت لگ جانا” حسام نے اسے چھیرتے ہوۓ کہا۔ مشی کوئی جواب دینے لگی جب میرال بول پڑی۔
“گائیز! پلیز اب یہاں پر کوئی گروپ کی باتیں نہیں کرے گا ہم سب ایک ساتھ پرفام کرنے والے ہین تو یہ سب باتیں مت کرو، خیر مجھے بتاؤ کون ہیرو کا رول کرنا چاہتا ہے؟” میرال نے حسام اور مشی کو چپ کرواتے ہوۓ کہا
“میں” دو آوازیں آئیں۔ بلاج اور راحیل کی آواز تھی۔ دونوں کھڑے ہوۓ۔
“جب ڈراموں کا ہیرو میں ہوتا ہوں تو اس چھوٹے سے پلے کا ہیرو بھی میں ہی ہوں گا، اور ویسے بھی مجھے تو اُوڈیشن دینے کی بھی ضرورت نہیں، ہاں کسی اور کو ایکٹنگ کا اے بھی آتا ہے یا نہیں یہ معلوم نہیں” راحیل نے بلاج کو دیکھتے طنزیہ انداز میں کہا۔ بلاج کے ماتھے پر بلوں کا اضافہ ہوا۔
“یہ بات تو تم نے صحیح کہی تم ایکٹنگ تو کمال کی کرتے ہو وہ چاہے ٹیوی کی سکرین پر ہو یا حقیقی زندگی میں” بلاج کوئی جواب دیتا اس سے پہلے عائشہ بول پڑی وہ کرسی پر بیٹھی موبائل چلاتے ہوۓ بولی تھی۔ راحیل نے مُڑ کر اسے دیکھا۔ وہ چپ ہی رہا۔ وہ اگر مجبور ہو کر کسی کے سامنے چپ ہوتا تھا تو وہ وہی تھی۔ ورنہ۔۔۔۔
“مجھے چھوڑو، تمہیں تو ہمیشہ سے ولن کا رول پسند تھا ہمیشہ ولن بننا چاہتے تھے اب اچانک ہیرو کیوں بننا ہے، میرا مقابلہ کرنا چاہتے ہو” راحیل نے عائشہ کو اگنور کرتے بلاج کو کچھ یاد کروایا۔
“ہنہہ جب ٹیوی سکرین کا ہیرو حقیقی زندگی میں ایک بھیانک ولن بن سکتا ہے تو میں ولن سے ہیرو کیوں نہیں بن سکتا” بلاج نے سرد نظروں سے اسکی انکھوں میں۔ دیکھتے ہوۓ کہا۔ راحیل نے بہت مشکل سے خود کو کنٹرول کیا۔
” بس کرو تم دونوں مجھے ڈیسائیڈ کرنا ہے کون اس رول کے لیے صحیح رہے گا، یہ لائینز ہیں پڑھ کر ایکٹ کر کے دیکھاؤ” میرال نے دونوں کو ایک ایک پیپر پکڑاتے ہوۓ کہا۔ دونوں نے لائنز یاد کیں پہلے بلاج نے پرفام کرنا تھا۔
“اے میرال راحیل کو ہی ہیرو بنانا میرا بھائی ہیرو ہی اچھا لگتا ہے” مشی میرال کے پاس آ کر ہولے سے بولی۔
“جو اس رول کے لیے سوٹ کرے گا اسے ہی بناؤں گی” میرال نے دونوں کو دیکھتے ہوۓ کہا۔
“میری ہیرؤئن کوسامنے کھڑے کرو ایک دو ڈائیلگ تو بولے تبھی میں جواب دے پاؤں گا” بلاج نے میرال کو کہا۔ اسماء اُٹھ کر جانے لگی۔ جبھی میرال بولی۔
“شروع کرتے ہیں” میرال اسکے سامنے کھڑی ہوتے ہوۓ بولی۔ بلاج نے گہرا سانس لیا اور ہاتھ میں پکڑا کاغذ سائیڈ پر رکھا۔
” میں نے زندگی میں ایک پل کے لیے بھی سوچا نہیں تھا تم میرے ساتھ اتنا برا دھوکہ کرو گے؟” میرال نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے غصے سے کہا ان دنوں کو دیکھتے اسماء کو حد سے زیادہ غصہ آیا۔
“کیسا دھوکہ، تم غلط سمجھ رہی ہو، میں نے زندگی میں اگر کسی سے محبت کی ہے تو وہ تم ہی ہو، میری پہلی اور آخری محبت تم ہو”بلاج نرم لہجے میں بولا۔
” اگر تم مجھ سے محبت کرتے تو وہ سب نا کرتے” میرال نےا گلی لائن بولی۔
“اگر تم مجھ پر بھروسہ کرتی تو آج ہم زندگی کے اس حصے پر موجود نا ہوتے پر تم نے مجھ پر بھروسہ نہیں کیا اور مجھے اکیلا چھوڑ دیا” بلاج نے جس انداز سے کہا میرال کو لگا وہ ایکٹنگ نہیں کر رہا۔ تبھی تالیاں گھونجھیں، اتنا ہی سین تھا۔
“اچھی ایکٹگ کرتے ہو” میرال نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
“اب انسان کمال کا ہوں تو ایکٹنگ بھی کمال کی کروں گا” وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے انہیں سیٹ کرتے ہوۓ بولا۔ میرال مسکرا دی۔ اسماء کی نظر ان دونو پر تھی۔ یہ منظر دیکھتے ہوۓ اسکی آنکھوں سے شعلے نکلے۔ بلاج اپنی جگہ پر چلا گیا۔
“راحیل اب تمہاری باری تم نے بھی یہی سین کرنا ہے” میرال نے راحیل کی طرف دیکھ کر کہا۔ وہ چلتا ہوا اسٹیج پر آیا۔میرال وہی اسکے سامنے کھڑی تھی۔
“میرال رُکو یہ سین میں پرفام کرتی ہو عائشہ چلتی ہوئی راحیل کے سامنے آ کر کھڑی ہؤی۔ میرال نیچے ا گئی۔ سبھی نے شاک کے عالم میں ایک دوسرے کو دیکھا یہاں پر میرال کو چھوڑ کر سبھی ان دونوں کے بارے میں جانتے تھے۔
” میں نے زندگی میں ایک پل کے لیے بھی سوچا نہیں تھا تم میرے ساتھ اتنا برا دھوکہ کرو گے؟” عائشہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے غصے سے کہا۔
“کیسا دھوکہ، تم غلط سمجھ رہی ہو، میں نے زندگی میں اگر کسی سے محبت کی ہے تو وہ تم ہی ہو، میری پہلی اور آخری محبت تم ہو” راحیل ایک قدم چلتا اسکے قریب ہو کر نرم لہجے میں بولا۔۔
“ٹھاہ! تم سے جھوٹا انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں۔ دیکھا، اور محبت جیسے لفظ کو تم اپنی زبان پر بھی نا لانا، کتنے بے شرم انسان ہو” عائشہ نے اسکے چہرے پر تھپر مارتے ہوۓ کہا۔ سبھی اپنی جگہ سے کھڑے ہوۓ۔ کسی کو عائشہ سے ایسے ردے عمل کی توقع نہیں تھیں۔
“تمہارا دماغ خراب ہے” راحیل چیخا تھا۔ بلاج ایک دم انکے درمیان میں آیا۔ اور راحیل کو دھکہ دیا۔ وہ غصے میں وہاں سے جانے لگا۔جبھی کسی کے گرنے کی آواز آئی۔ سنے مڑکر دیکھا۔ عائشہ زمین پر گڑتے ہی بے ہوش ہو گئی راحیل کا دل ایک دم سے بند ہوا، وہ اسکے قریب جانا چاہتا تھا پھر رک گیا اور کمرے سے نکل گیا۔
“عائشہ! امرحہ نے اسکے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے پر وہ بے ہوش ہی رہی۔۔ اسے جلدی سے یونی کے میڈیکل روم میں لے جایا گیا۔
” انہوں نے کل رات سے کچھ نہیں کھایا اسی وجہ سے بے ہوش ہو گئیں ہیں، یہ ڈرپ ختم ہونے سے پہلے ہوش میں آجائیں گی” فی میل ڈاکٹر نے اسکا چیک اپ کرتے ہوۓ سبھی کو جواب دیا۔۔
“اسکو ہسپتال لے کر جانے کی ضرورت تو نہیں” ہارون نے ڈاکٹر سے پوچھا۔
“نہیں بس کچھ دیر کی بات ہے ہوش آ جاۓ گا” ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا۔ سبھی نےسکون کا سانس لیا۔
میڈیکل روم سے نکل کر مشی اور میرال اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف جا رہیں تھیں میرال کے ذہین میں ہزاروں سوال تھے۔
“تم سب ایک دوسرے کو کب سے جانتے ہو؟” میرال نے رک کر مشی سے پوچھا جو خود پریشان تھی۔
“بچپن سے ہم سب ایک ساتھ ہی برے ہوۓ ہیں، ہماری فیملیز ایک دوسرےکو بہت اچھے سے جانتی ہیں، وہ پانچوں میں اور بھائی ہم سات لوگوں کا گروپ ہوا کرتا تھا” مشی نے گہرا سانس لیتے ہوۓ میرال کو بتایا۔ اب بتانا بھی چاہیے تھا وہ انکے ساتھ ہی رہنے والی تھی۔
“کیا ایک گروپ لگتا تو نہیں،ایسا کیا ہوا جو تم سب اسطرح سے ہو گے” میرال کو اسکی باتیں بالکل سمجھ نہیں آ رہیں تھیں۔
“تم یقین تو نہیں کرو گی، بلاج اور راحیل اس گروپ کے دو پیلرز تھے ایک دوسرے کو بھائیوں سے بڑھ کر چاہتے تھے، ایک دوسرے کے لیے کچھ بھی کر سکتے تھے۔ تمہیں پتہ ہے جب ہم سب ساتھ ہوتے تھے بہت مزہ آتا تھا۔ بہت مستیاں کرتے تھے، بہت پیاری یادیں ہیں، وہ سب مین کبھی نہیں بھول سکتی” مشی بتاتے بتاتے اداس سی ہوئی۔
“اور یہ عائشہ اور راحیل یہ اسی لے جھگڑتے ہیں؟” میرال نے ایک اور سوال کیا۔ وہ دونوں ایک طرف کھڑی ہو کر باتیں کر رہیں تھیں۔ اسکی بات پر مشی نے گہرا سانس لیا۔
“دونوں کا دو سال پہلے نکاح ہوا تھا، ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے” مشی نے اسکی طرف دیکھ کر جواب دیا جانتی تھی یہ بات اسکے لیے جھٹکا ہی وہ گیی۔
“یا اللہ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا، پہلے سب ایک ہی گروپ میں تھے، ان دونوں کا نکاح بھی ہو گیا، پھر ایسا کیا ہوا جو تم سب آج اسطرح لڑتے ہو” اسکی بات سن کر وہ حیرانگی سے بولی۔
“یار بری لمبی سٹوری ہے کسی اور دن سناؤں گی، ابھی چل کچھ کھاتے ہیں بہت بھوک لگی ہے” مشی نے ٹاپک کو بند کرنا چاہا۔ یا شائد وہ سب نہیں بتانا چاہتی تھی۔ میرال تھوڑا سمجھ گئی اور اسے فورس نہیں کیا۔ دونوں کینٹن کی طرف گئیں۔
وہ جانا تو نہیں چاہتا تھا پر مجبور ہو کر بھائی کی وجہ سے چلا گیا نو بجے گھر داخل ہوا عمیر کے سسرال والے ا چکے تھے۔۔ سبھی حال میں بیٹھے باتین کر رہے تھے۔
“ہیلو ایوری ون! کیسے ہیں سب؟” بلاج نے مسکراتے ہوۓ ہاتھ ہلا کر سب کو ہیلو کیا۔
“ٹھیک” عمیر کے سسر نے جواب دیا۔
“ارے ٹھیک تو ہونا ہی تھا آخر کو بیٹی کی شادی ہو رہی ہے وہ بھی اپ کے من پسند شخص کے ساتھ” بلاج وہی ٹیبل پر پڑی کھانے کی چیزوں میں سے کیک اور بسکٹ اُٹھا کر کھاتے ہوۓ بولا۔ سکندر حمدانی کے ماتھے پر بلوں کا اضافہ ہوا۔ پہلی بات انہیں پتہ نہیں تھا وہ یہاں آنے والا ہے۔ ورنہ وہ اسکی اینٹری بند کر دیتے۔ انہوں نے سخت نظروں سے کنول بیگم کو دیکھا۔ کنول بیگم جلدی سے اُٹھیں۔
“بلاج تم بیٹھ کر چاۓ پی لو”انہوں نے بلاج کو پکڑ کر صوفے پر بیٹھایا۔۔
سبھی برے شادی ڈیٹ پر بات کرنے لگے۔ کہ کون سی رکھی جاۓ۔
“دیکھیے انکل شادی کی تاریخ تو بعد میں رکھیں گے پہلے بتائیے اپ اپنی بیٹی کو جہیز میں کیا دے رہے ہیں؟” بلاج نے چاۓ کی چسکی بھرتے ہوۓ کہا۔
“سکندر یہ کیا بدتمیزی ہے، تم نے اپنے بیٹے کو تمیز نہیں سیکھائی؟” جمیل صاحب ایک دم ہی بلاج کی بات سن کر بگڑے تھے وہ آرام سے چاۓ کا مزہ لیتا رہا۔
“یہ کرنے کے لیے آۓ ہو؟” عمیر نے غصے سے اپنے ساتھ بیٹھے بلاج کو کہا۔ پر آواز دھیمی تھی۔
“میرے بھیا جی دیکھتے جاؤ تمہارا یہ رشتہ نہیں ہونے دوں گا، آخر کو تمہاری مرضعی جو شامل نہیں” بلاج نے آنکھ مارتے ہوۓ عمیر کو کہا۔ اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔
“ارے انکل انکے پاس تمیز سیکھانے کا وقت نہیں تھا پیسے کمانے میں بہت مصروف تھے، خیر آپ تو پڑھے لکھے لگتے ہیں، تو بتائیں اپنی بیٹی کو جہیز میں کیا دے رہے ہیں، یا یہ شادی ایک بزنس ڈیل ہے” بلاج دونوں ہاتھ کمر پر باندھتا پرسکون لہجے مین بولا۔
“سکندر ہم اپنی مزید بے عزتی برداشت نہیں کر سکتے، یہ رشتہ اور ڈیل دونوں کینسل” جمیل صاحب نے غصے سے کہا اور اپنی بیوی اور بیٹے کو لے کر انکے گھر سے چلے گے۔
“لو میں نے ٹھیک ہی کہا شادی کی جگہ بزنس ڈیل ہو رہی تھی ” انکے جاتے ہی بلاج نے طنزیہ انداز میں ہنستے ہوۓ کہا۔
“ٹھاہ” سکندر حمدانی نے اسکے چہرے پر کھینچ کر دو ٹھپر مارے۔ بلاج نے ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے بھیچا۔
” تجھ جیسی اولاد کے ہونے سے تو اچھا ہے بے اولاد ہوتا ، کم از کم میری زندگی میں سکون تو ہوتا، کیا نہیں کیا میں نے تم لوگوں کے لیے دن رات ایک کر دی، اتنی محبت کی، دنیا کی ہر آشائش دی، اور بدلے میں مجھے کیا مل رہا ہے یہ ذلت، بیٹے ہونے کا ایک بھی فرض تم نے نِبھایا” وہ بولتے ہوۓ ایک اور تھپر مارنے والے تھے جب عمیر درمیان میں آیا۔
“آشائش پیسہ سکون، ہنہہہ یہ سب صرف آپ نے اپنے لیے کیا، اور کیا فرض نِبھاؤں جب آپ نے باپ ہونے کا فرض نہیں نِبھایا تو میں بیٹا ہونے کا کیسے نِبھاؤں” بلاج چیخا تھا۔
“بلاج خاموش ہو جاؤ” کنول بیگم نے اسے خاموش کروانا چاہا۔
“کیا موم کیوں خاموش ہوجاؤ انکو حقیقت تو دیکھا دوں، تو سنیں سکندر حمدانی صاحب کبھی ایک اندھیرے کمرے میں بیٹھ کر سوچے گا ضرور میں نے آپکو ڈیڈ کہنا کیوں بند کر دیا کیونکہ آپ اس عہدے کے قابل ہی نہیں، اور آپ ہمیں اپنے بیٹے نہیں جائیداد مانتے ہیں، آج اسکو اس میں انویسٹ کر دیتا ہوں کل اسکو کر دوں گا بس یہی کر سکتے ہیں، عمیر بھائی کی شادی کروانے چلے تھے کبھی پوچھا ان سے کہ وہ شادی کرنا بھی چاہتے ہیں کہ نہیں کہی وہ کسی کو پسند تو نہیں کرتے، یہ نہیں بولیں گے میں بتاتا ہوں، لندن والی مریم خالہ کی بیٹی حرا اور بھائی کافی سالوں سے ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، پر صرف اپکے لیے انہوں نے یہ سیکری فائیز کرنے کا پلین کیا کیونکہ جانتے تھے اگر آپ کو پتہ لگ بھی گیا تب بھی آپ منع کر دیں گے، کیونکہ آپکو تو صرف حکم دینا آتا ہے اپکا دل کرتا ہے سب اپکے اشاروں پر چلیں” وہ چختے ہوۓ سب بول رہا تھا۔ سبھی خاموش تھے۔ عمیر اور حرا والی بات پر کنول بیگم نے حیرانگی نے حیرانگی سے عمیر کو دیکھا جسنے سر جھکا لیا۔
“اگر تمہیں لگتا ہے میں اشاروں پر چلوانا چاہتا ہوں تو لگے، میں پھر بھی وہی کروں گا جو مجھے کرنا ہے” سکندر حمدانی اسکے سامنے کھڑے ہو کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولے۔
“مسٹر سکندر حمدانی اپنی اس ڈیڈھ فٹ کی ایگو کو سھنمبال کر رکھے گا، اپکو اپنے بیٹوں کو یوز کرنا ہے تو کریں، کیونکہ اپکو نا تو سالوں پہلے فرق پڑا تھا جب اپکی اسی ضدی طبعیت انا غصے کی وجہ سے میرا بھائی حسن یہ گھر چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔ کیوں؟ وجہ بھی کتنی معمولی ہے، ہنہہہ کیونکہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتا تھا پر اپکو اسے اپنی طرح ایک بزنس مین بنانا تھا۔ وہ کہاں ہے؟ زندہ بھی ہے کہ مر گیا کسی کو انفیکٹ کچھ پتہ ہی نہیں، اور پھر بھی آپ اسی انا پر کھڑے ہیں میرے اشاروں پر چلو مائی فٹ” وہ انتہائی درجے غصے میں تھا بولتے بولتے اسکا لہجہ حسن والی بات پر بھاری بھی ہوا۔ اسکی بات سبھی پر سکتہ طاری ہو گیا کیونکہ سالوں بعد یہ بات آج یہ بات اس گھر میں کی گئی تھی، ورنہ حسن کے جانے کے بعد سے سکندر حمدانی نے اسکا ذکر بھی کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔
“کنول! اس کو بولو دفع ہو جاۓ ابھی کے ابھی دفع ہو جاۓ مجھے اسکی شکل نہیں دیکھنی” سکندر حمدانی نے کنول بیگم کو غصے سے کہا۔ اور خود صوفے پر بیٹھ گے۔
“اپکے اس گھر میں دو منٹ بھی گزرنا مشکل ہے اپکو اپکا یہ قید خانہ مبارک ہو” وہ طنزیہ اندا زمیں کہتا پلٹ گیا۔ اور باہر جانے لگا، جبھی اسنے راہداری مین رکھے ٹیبل سے گلدان پکڑا اور زور سے سامنے شیشے پر دے مارا شیشہ چکنا چوڑ ہو کر زمین پر بکھر گیا۔ اور وہ انکو ایک نظر دیکھتا گھر سے نکلتا چلا گیا۔
جاری ہے
