Yaaron Ki Yaari Season 1 By Fatima Tariq Readelle50127 Episode 45 Pt.2
Rate this Novel
Episode 45 Pt.2
“پر میری بات تو سن ،ایک موقع تو دے، مجھے اپنی بات رکھنے کا” راحیل سھنمبل کر منت بھرے لہجے میں بولا۔
“تو نے دیا تھا موقع،ہنہہہ” وہ بول کر آخر میں طنزیہ انداز میں ہنسا۔
“بلاج اسکی بات تو ایک دفع سن لے” حسام درمیان میں آ کر بولا۔
“تو تو اپنی زبان بند ہی رکھ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا” لال انگارے بھرتی آنکھوں سے اسے گھورتے ہوۓ وہ بولا
“ہمارے گروپ کا رول تھا ہم میں نے کسی سے بھی غلطی ہو جاۓ تو اگلے کو اسکی بات سننی ہو گی، اور معاف بھی کرنا ہو گا یاد ہے کہ بھول گے تو یہ رول مجھ پر بھی اپلائی ہوتا ہے ” راحیل دو قدم اگے بڑھتے ہوۓ بولا۔سبھی انہے پریشانی سے دیکھ رہے تھے۔
“وہ رول میرے گروپ کا ہے، اور تو میرے گروپ میں شامل نہیں ہے، دو سال قبل میرے کردار پر انگلی اُٹھاتے وقت تو نے خود سب برباد کر دیا، اپنا یہ چہرا دوبارہ مجھ مت دیکھانا، ورنہ۔۔۔۔۔۔۔” وہ ایک ایک لفظ چباتے ہوۓ بولا۔اور میرال کا ہاتھ پکڑ کر بنا کسی کی سنے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ کسی نے اسکے پیچھے جانے کی ہمت نا کی۔
راحیل نے ایک نظر سبکی طرف دیکھا، تو اسکی نظر عائشہ پر آ کر رکی، دماغ میں اسکے جانے والی بات آئی۔ وہ چلتا ہوا اسکے پاس آیا۔
“امرحہ چلو دیر ہو رہی ہے” اپنا پاؤچ پکڑتے وہ امرحہ کو بولتے اگے بڑھی۔ تبھی اسکی کلائی کسی نے پکڑی، وہ اور کوئی نہیں راحیل تھا۔
“تو میری موت کا یہ فرمان جاری کیا ہے، میں روکوں گا نہیں، جہاں جانا ہے جاؤ، ہو سکتا ہے میں مر جاؤں، میری آخری خواہش پوری کر دینا، میرا آخری دیدار ضرور کرنا، اور میری قبر پر نا روز ایک گلاب کا پھول رکھا، سکون ملے گا مجھے،جو زندہ رہتے ہوۓ تو نہیں ملا خداحافظ” اسکی آنکھوں میں اپنی نم آنکھیں گھاڑے وہ جب بولا تو عائشہ کو لگا کسی نے اسکی سانسیں روک لی ہوں، وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ خداحافظ کہتا اسکا ہاتھ چھوڑے انکھ کا کنارہ صاف کرتے وہاں سے چلا گیا۔۔ وہ جہاں تھی وہی تھم سی گئی۔۔۔۔۔۔وہ کیسے اتنی تلخ باتیں بول کر جا سکتا ہے۔۔۔۔۔
وہ دونوں گھر پہنچے، سارا رستہ بلاج غصے میں تھا، گھر پہنچتے ہی وہ سیدھا اپنے کمرے میں آیا۔ میرال بھی اسکے پیچھے گئی۔ وہ غصے میں یہاں وہاں ٹہل رہا تھا۔
“تمہیں ایک دفع اسکی بات سننی چاہیے تھی” اپنا پاؤچ بیڈ پر رکھتے ہوۓ وہ بولی۔
” مجھے اس ٹاپک پر کوئی بات نہیں کرنی” وہ غصے سے کہتا الماری کی طرف بڑھا اور اپنا نائیٹ سوٹ پکڑا۔
” ہمیں ہمیشہ اپنا دل برا کر کے دوسری کی سننی چاہیے، ویسے وہ تمہارا دوست۔۔۔۔۔۔” میرال ابھی کچھ بول رہی تھی کہ وہ درمیان میں بول پڑا۔
“میرال میرے معاملوں سے دور رہو، اپنی یہ تقریر اپنے پاس رکھو۔ وہ کبھی میرا دوست نہیں تھا ہوتا تو ویسا کبھی نا کرتا” وہ کافی بدتمیزی سے بولا۔ میرال حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“ایم سوری بلاج مجھے لگا تم میرے ہو تو مجھے تمہیں سمجھانا چاہیے پر شائد میں غلط تھی۔ سوری اب نہیں بولوں گی” وہ نم لہجے میں کہتی بنا اسکی طرف دیکھے کمرے سے نکل گئی۔
“افففففففففف” اسے احساس ہوا وہ زیادہ ہی بول گیا۔ ہاتھ میں پکڑا سوٹ بیڈ پر پھینکتے وہ باہر کی طرف بڑھا۔ وہ نیچے آیا پر تب تک نیچے والے کمرے کا دروازہ بند یو چکا تھا۔ اسنے خود کو کوسا۔ زبان پر کنٹرول تو ہے نہیں، خود کو کوستے وہ دروازے کی طرف بڑھا۔ پھر کچھ سوچ کر رک گیا۔ اور اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔ فریش ہو کر نیچے آیا تو کمرے کا دروازہ کھلا ملا وہ حیران ہوا، کچن سے کھٹ پٹ کی آوازیں آ رہیں تھیں۔ وہ کچن کی طرف آیا۔ وہ انہیں کپڑوں میں ملبوس کھانے کو کچھ بنا رہی تھی۔ وہ چلتا ہوا اسکے پیچھے آ کر کھڑے ہوتے اسنے اپنے حصار میں لیا۔ میرال پہلے ہی اسکی خوشبو سے جان چکی تھی کہ وہ کچن میں داخل ہو چکا ہے۔
“ایم سوری میری جان، غصے میں زیادہ بول گیا، سوری۔۔” کندھے پر تھوڑی ٹکاتے وہ معافی مانگ رہا تھا۔ میرال نے چولہے کی گیس کم کی اور اسکی طرف پلٹی۔
“انسان غصے میں ہی سچ بولتا ہے، تمہیں میرا سمجھانا تقریر لگے یا کچھ بھی میرا فرض ہے اپنے شوہر کو سیدھی راہ دیکھاؤں” وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔ بلاج کو شرمندگی ہوئی۔
“سوری، اور تمہاری کوئی بات مجھے کبھی غلط نہیں لگی انفیکٹ تم نے ہمیشہ مجھے اچھی باتیں ہی سمجھائیں، یاد ہے ہر بات کا سلیوشن لینے میں تمہارے پاس ہی آتا ہوں، بس غصے میں پتہ نے کیا بول دیا ۔معاف کر دو” وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوۓ بولا۔ میرال کو وہ کافی کیوٹ لگا۔
“آئندہ کبھی ایسے غصے سے بات مت کرنا، مجھے بہت برا لگا، میں اتنا روئی” اسکے سینے سے لگ کر وہ نم لہجے میں بولی۔ بلاج نے اسے گرد بازوں کا گھیرا تنگ کیا۔ اور ہاں میں سر ہلایا
“میرال !” کچھ پل بعد وہ بولا۔
“ہممم” وہ اسی انداز میں بولی۔۔
“رومانس بعد میں کر لیں گے، کھانا جل جاۓ گا، بھوک بہت لگی ہے” وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولا۔
“بدتمیز ” میرال چونکی اسنے اسے دھکہ دیا اور چولہے کی طرف پلٹی۔ بلاج کا قہقہ بلند ہوا۔ اور میرال کے گال لال ہوۓ۔
★
“اتنے دنوں بعد نظر آئی ہو، مجھ سے چھپ رہی تھی؟” اگلے دن حسام بلاج سے چھپتا چھپاتا پھر رہا تھا، وہ گارڈن میں ایک کونے پر بیٹھا ہوا تھا جب اسکی نظر مشی پر پڑی۔ جینز شرٹ پہنے گھنگھرالے بالوں کونپونیبمیں قید کیے وہ موبائل پر میرال کو میسج کرتی تیز تیز چل رہی تھی۔ جب حسام اسکے سامنے آیا۔ وہ ڈر کر رک گئی۔
“کیوں؟ تم سے کیوں چھپوں گی؟ میں نے کونسی چوری کی ہے جو چھپتی پھیروں؟” وہ غصے سے بولی۔
“چوری تو کیا ہے ہاۓ یہ دل” وہ سینے پر ہاتھ رکھتے ڈرامائی انداز میں بولا۔ مشی نے غصے سے آنکھیں چھوٹیں کیں۔
“اپنی یہ نوٹکنی بند کروں ڈرامے باز” وہ غصے سے بولتی اگے بڑھ گئی۔
“حیات عالم جب تمہیں میری محبت پر یقین ہو جاۓ تو اظہار کر دینا ورنہ یہ دیوانہ تمہیں یہیں سڑکوں پر رلتا ہوا ملے گا” وہ اونچی آواز میں بولا۔ کافی لوگوں نے مڑ کر دیکھا مشی اسے گھورتی جلدی سے کلاس کی طرف بڑھی۔۔۔حسام کو احساس ہوا تو اسنے آس پاس دیکھا۔
“لگتا ہے جذبات میں آ کر زیادہ ہی بہک گیا کسی نے سن تو نہیں لیا” اپنی کالر سیٹ کرتے ہوۓ بولا۔ تبھی دو ہاتھ اسکے کندھوں پر آۓ۔
“اوووو تو یہ چل رہا ہے” دائیں طرف سے آواز آئی۔ حسام نے ڈرتے ہوۓ گردن پھیر کر دیکھا ہارون کھڑا تھا۔
“یہاں تو تم مجنوں بن کر سڑکوں پر رلنے کے لیے بھی تیار ہو واہ اتنی محبت” بائیں طرف سے آواز آئی، اب اسکا رخ بائیں طرف تھا امرحہ کھڑی تھی۔ اور اسے گھور رہی تھی۔
“ہی ہی ہی میں تو مزاق کر رہا تھا” وہ پھیکا سا ہنستے ہوۓ بولا۔ اور اگے کو برھنے لگا
“اووو امرحہ یہ مزاق کر رہا تھا رکو تم تو ہم سے اتنی بری بات چھپائی ” ہارون اسکے پیچھے چلتے اسکو گردن سے دبوچتے ہوۓ بولا۔
“یار ابھی تو بس اظہار کیا ہے بھاؤ تو مل نہیں رہا تم لوگوں کو کیا ہی بتاتا” وہ منہ بسورتے ہوۓ بولا۔ ہارون نے گردن چھوڑی۔
“مل جاۓ گا تم فکر مت کرو” امرحہ اسے حوصلہ دیتے ہوۓ بولی۔ وہ تینوں باتیں کرتے کلاس میں آۓ۔ عائشہ تو اب یونی نہیں آتی تھی، وہ جانے کی پیکنگ کر رہی تھی، دو دن بعد فلائیٹ تھی۔ وہ تینوں اپنی جگہ پر جا کر بیٹھے۔ بلاج اور میرال کچھ دیر بعد کلاس میں داخل ہوۓ۔ میرال ہاتھ میں پانی کی بوتل پکڑے مشی کے پاس آئی۔ بلاج حسام کو مکمل نظر انداز کرتا ہارون کی بغل میں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا اور اس سے بات کرنے لگا ویسے بھی کئی ہفتوں سے دنوں نے ٹھیک سے بات نہیں کی تھی۔۔۔۔۔۔۔
“اووو کب کی بات ہے؟” مشی میرال کو حسام کی بات بتا رہی تھی۔ جسے سن کر وہ بھی حیران ہوئی تھی۔ اسکے بعد مشی نے سب بتانا شروع کیا۔وہ دونوں آہستہ آہستہ باتیں کر رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔
یونی سے آتے ہی بلاج میرال کو کام کا بول کر باہر نکل چکا تھا۔ اسے گے تین گھنٹے ہو گے تھے۔ میرال کے موبائل پر کال آنا شروع ہوئی نمبر دیکھ کر وہ گھبڑائی۔ اسنے کال کاٹ دی۔ پھر ایک میسج آیا۔ میسج پڑھ کر اسکے قدموں تلے زمین کھسکی۔ دوبارہ کال آنا شروع ہوئی۔ ہمت کرتے اسنے کال اُٹھائی۔
“زہے نصیب بری بات ہے تم نے کال اُٹھا لی، ویسے یہ اچھا ہی کیا، ورنہ آج تمہارے شوہر کی لاش ہی گھر آتی” آگے سے ہنستے ہوۓ وہ بول رہا تھا۔
“باسط میرا پیچھا چھوڑ دو ورنہ میں پولیس میں کمپلین کروں گی” وہ غصے سے بولی۔ وہ پچھکے ایک ہفتے سے اسے تنگ کر رہا تھا، دھمیکاں دے رہا تھا، وہ بلاج کو بتانا چاہتی تھی پر کوئی نا کوئی مسلہ کھڑا ہو ہی جاتا تھا۔ اور وہ چپ ہو جاتی
“بتاؤ بتاؤ خوشی سے پولیس کے پاس جاؤ۔ پھر تمہاری وہ تصاویریں شوشل میڈیا پر پھیل جائیں گئی، تمہاری بہن کو طلاق بھی دلاؤاں گا اور تمہارا وہ شوہرِ نامدار کی لاش کسی روڈ ایکسیڈینٹ میں ملے گی” وہ بہت سفاکی سے یہ سب بول رہا تھا۔ اور میرال کے پاؤں تلے زمین کھسک رہی تھی وہ جو سمجھی تھی وہ اسکا پیچھا چھوڑ گیا۔ ایسا بالکل نہیں تھا وہ تو کہی بیٹھے پلائینگ کر رہا تھا۔
” تم بھاڑ میں جاؤ کمینے انسان ” وہ چلائی تھی۔
“ہاہاہاہاہا بھاڑ میں تو جاؤں گا پر تمہیں ساتھ لے کر، میں تمہیں ایک ایڈریس سینڈ کروں گا وہاں آجانا ورنہ ۔۔۔۔۔ ” یہ بول کر باسط نے کال کاٹ دی۔ میرال وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ اسکی جسم ایک دم ٹھنڈا پڑ چکا تھا آدھا گھنٹا وہ وہی بیٹھی رہی۔ اور ساتھ بلاج کو کالز کرتی رہی پر اسکا نمبر بند آ رہا تھا۔ وہ مزید ٹرائی کرتی کہ باہر گاڑی کے رکنے کی آواز آئی۔ وہ باہر کی طرف بھاگی۔ اسکے قدموں کو تب بریک لگی جب اسنے سامنے گاڑی سے نکلتے سکندر حمدانی کو دیکھا۔ وہ اکیلے تھے۔ میرال گھبرائی۔ وہ اچانک کیوں آۓ۔ سکندر حمدانی اسے دیکھ چکے تھے۔ وہ اگے بڑھے۔
” السلام علیکم! کیسی ہو بیٹی؟” وہ شفقت بھرے لہجے میں بولے میرال حیران ہوئی۔
” وعلیکم السلام!” میں ٹھیک انکل اندر آئیں” وہ انہیں اندر ہال میں لائی وہ صوفے پر بیٹھے۔ میرال جلدی سے کیچن میں آئی۔ اور گلاس میں جوس ڈال کر انکے پاس آئی۔
“انکل بلاج گھر پر نہیں، ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کام سے گے ہیں میں کال کرتی ہوں” وہ گھبڑاہٹ میں بول رہی تھی۔ دونوں کا رشتہ وہ خوب جانتی تھی۔
“رہنے دو بیٹا، ویسے بھی میرا سن کر کونسا وہ بھاگا بھاگا چلا آۓ گا۔ غصہ ہی کرے گا مجھے اصل میں تم سے ہی بات کرنی ہے بیٹھو” سکندر حمدانی جوس کا گلاس سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولے۔ میرال ہاں کیں سر ہلاتی سامنے صوفے پر بیٹھ گئی۔
” میں یہاں ایک بات کرنے آیا ہوں، جانتا ہوں میں ایک برا باپ ثابت ہوا ہوں، میرے رویوں کی شائد معافی بھی نا ہو، پر پھر بھی میں کوشش کرنا چاہتا ہوں، اور مجھے تمہاری مدد چاہیے، تم اس سے بات کرو کہ ایک دفع مجھ سے مل لے، میں کافی پیغامات بھجوا چکا ہوں وہ کسی پر رسپونس نہیں دیتا” سکندر حمدانی کافی تھکے ہوۓ لگ رہے تھے۔
“انکل اس میں۔ میں کیا کر سکتی ہو؟” میرال کنفیوز ہوئی۔
“وہ صرف تمہاری بات سنتا ہے اگر اسے سمجھاؤ کہ اپنے باپ سے ایک دفع بات کر لے” وہ بولے، انکے لہجے کو سن کر میرال کے دل کو کچھ ہوا۔
” انکل آپ پلیز پریشان نا ہوں، میں بات کروں۔۔۔۔۔۔” وہ ابھی بول رہی تھی کہ ہال میں بلاج داخل ہوا۔ سامنے بیٹھے سکندر حمدانی کو دیکھ اسکے ماتھے پر بلوں کا اضافہ ہوا۔۔
“یہ گھر میری ماں نے دیا ہے، تو یہاں بن بلاۓ مہمان کیا کر رہے ہیں؟” وہ سخت لہجے میں بولتا ان دونوں کے پاس آیا۔ بلاج کو دیکھ کر سکندر حمدانی کھڑے ہوۓ۔
“بلاج۔۔۔انکل ۔۔تم سے بات کرنا ۔ چاہتے ” میرال نے کچھ بولنا چاہا بلاج نے انگلی اُٹھا کر اسے روک دیا۔
“جی بتائیں کیا بات کرنی ہے؟” وہ سیدھا کھڑا ہوا۔۔
“میں چلتا ہوں شکریہ بچے” وہ میرال کے سر پر پیار دیتے ہوۓ باہر کی طرف بڑھے۔
“آئندہ میرے گھر میں مت آئیے گا” وہ سخت لہجے میں بولا۔ سکندر حمدانی کے قدم ایک پل کو رکے اور پھر وہ باہر کی طرف چلے گے۔ کچھ دیر بعد گاڑی چلنے کی آواز آئی۔
“یہ کونسا طریقہ ہے اپنے والد سے بات کرنے کا؟” میرال کو اسکا انداز بلکل پسند نا آیا۔ وہ انکے جاتے ہی غصے سے بولی۔
“میرا یہی طریقہ ہے، تم ان معاملوں سے دور رہو” وہ سخت لہجے میں بولتا صوفے پر بیٹھ گیا اور ٹیوی آن کیا۔
“ہنہہہ واؤ۔۔۔ کہاں یہ لکھا ہے کہ اولاد اپنے والد سے ایسے بات کر سکتی ہے۔ کتنا دل دکھا ہو گا انکل کا۔ احساس ہے تمہیں” وہ غصے سے بولی تھی۔
” تو میں کیا کروں” وہ تلخ انداز میں بولا۔ میرال نے نفی میں سر ہلایا۔
” ان سے اچھے سے بات کیا کرو، ڈیڈ ہیں تمہارے” وہ بول رہی تھی۔ جب بلاج نے ہاتھ مین پکڑا ٹیوی کا ریموٹ سامنے ٹیوی پر زور سے مارا ٹیوی کی سکرین ٹوٹ کر زمین پر بکھری میرال ڈر کر دو قدم پیچھے ہوئی۔
“ڈیڈ ڈیڈ ڈیڈ بولا نا نہیں ہیں وہ میرے ڈیڈ تو بار بار بولنا بند کرو” وہ غصے سے غرایا تھا۔ ۔۔
“جیسے دیکھو سمجھانے آ جاتا ہے ۔” وہ غصے سے بولتا اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ میرال حیرانگی سے اسکا غصہ دیکھ رہی تھی جو ٹیوی پر نکالا تھا۔
جاری یے۔۔۔۔۔۔۔
