Rate this Novel
Episode 34
“او ہیلو سامان کہاں لے کر جا رہے ہو؟” میرال نے اسے سامان کے ساتھ اوپر کی طرف جاتے دیکھ تو فوراً بولی۔ وہ اسکی آواز پر رک کر پلٹا۔
“ہمارے کمرے میں” وہ بول کر واپس پلٹا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔ قدم آگے بڑھاۓ۔ میرال کا تو منہ ہی کھلا کا کھلا رہ گیا۔ یہاں وہ اس سے بات تک نہیں کر رہی اور وہ اسکا سامان اپنے کمرے میں لے کر جا رہا ہے۔
“روکو” وہ جھٹ سے اسکے سامنے آئی اور سامان کو پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
“کیا ہوا؟ چشمش میرے ساتھ نہیں رہنا، بیوی ہو تو شوہر کے ساتھ ہی رہو گی نا” بلاج نے اسکا غصے سے بھرا چہرہ دیکھ ہلکا سا جھکتے مسکراہٹ دبا کر اسے چھیرا۔ کافی دنوں بعد اسنے چشمش کہ کر پکارا تھا۔ میرال کی دھڑکنیں ایک پل کو رکیں۔ جلد ہی اسنے خود پر قابو پایا۔
“مجبوری نا ہوتی تو ایک پل بھی تمہارے ساتھ نا رکتی ، میں گیسٹ روم میں رُکوں گی” اسنے اپنا سامان کھینچتے ہوۓ بولا۔ اور اگے بڑھنے لگی۔ بلاج نے اگے بڑھ کر اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا۔ اور اسکا رخ اپنی طرف موڑا۔
“بھول گئی کچھ دن پہلے ہم دنوں نکاح ہوا ہے، تم میری بیوی ہو، اور میری بیوی گیسٹ روم میں رُکے ایسا مجھے اچھا نہیں لگے گا، باقی کی بحث ہم بعد میں کریں گے چلو میرے ساتھ” بلاج نے بہت ہی نرم لہجے میں بولا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اوپر کی طرف جانے لگا۔ میرال نے جھٹکے سے ہاتھ چھڑوایا۔
“اِنف از اِنف بلاج،خود کو سمجھتے کیا ہو، جب دل چاہا دل میں بیٹھا لیا اور جب دل چاہے پکڑ کر دل سے نکال دیا، خود کی چلانی بند کرو، یہ نکاح میں نے آپی کی وجہ سے کیا ہے، ورنہ میں کبھی تم جیسے جھوٹے شخص سے نکاح نا کرتی” ہاتھ چھڑواتے ہی وہ غصے سے بولی۔ بلاج کے ماتھے پر بل پڑے۔
” پرانی باتوں کو تم بھول نہیں سکتی، ہو گئی غلطی کتنی دفع تو معافی مانگ چکا ہوں، اور تم مجھے جھوٹا کہ رہی ہو، خود پرنسپل کے سامنے اس باسط کی سائیڈ لی اور مجھے سبکے سامنے جھوٹا بنا دیا۔ ” وہ بھی اسی کے انداز میں بولا تھا۔
“یہ اچھا ہے اپنی بات کو چھپانے کے لیے دوسری باتیں نکال لو، جو بھی اس دن میں نے بولا سب سچ تھا تم تو اس باسط سے بھی برے ہو ” میرال کو بے انتہا غصہ آرہا تھا۔ بلاج نے بہت مشکل سے اپنا غصہ کنٹرول کیا۔ وہ کیسے اسے باسط کے ساتھ کمپیر کر سکتی تھی۔ وہ اگے بڑھا اور اسکا سامان لے کر سامنے والی کمرے میں آیا۔ وہاں پر سامان رکھتا اسے گھورتا باہر کی طرف چلا گیا۔ اور تھوڑی ہی دیر بعد گاڑی کے جانے کی آواز آئی۔ میرال کمرے میں آئی اور وہی بیڈ پر سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ انجانے میں وہ زیادہ بول گئی۔۔
حسام یونی میں داخل ہوا جب اسکے موبائل پر ایک میسج آیا۔ آنے والے میسج کی نوٹیفکیشن دیکھ کر وہ حیران ہوا۔
“اب اس چوہیا کو کیا کام ہے؟” وہ سوچتے اسکی بتائی جگہ پر آیا۔ یونی کے بالکل ایک طرف جہاں ایک برا سا درخت لگا ہوا تھا۔ اسکے آس پاس بیٹھنے کی جگہ بنائی گئی تھی۔ وہی وہ بلیک جینز، بلیک ہی کھلی اور لمبی سی شرٹ پہنے اپنے گھنگھرالے بالوں کی ایک لٹ کو انگلی پر گھماتے ہوۓ چکر لگاتے ہوۓ اسکا انتظار کر رہی تھی اسکے اس عجیب غریب حلیے کو تو وہ شروع سے ہی دیکھتے ا رہا تھا ایک بھی کام اس میں لڑکیوں والا نہیں تھا۔ ہمیشہ اوٹ پٹناگ کپڑے پہنے گھومتی رہتی۔ پھر بھی نا جانے کیوں کہی نا کہی وہ اسے اچھی لگتی تھی، اسے چھیڑنے کے بغیر اسکا کھانا ہضم نہیں ہوتا تھا۔ نکاح کے دن کے بعد سے حسام نے اسے بلایا نہیں تھا دو دفع وہ کوشش کر چکی تھی۔ اس سے نظریں چڑاتے چہرے پر اکتاہٹ لاۓ وہ آگے بڑھا
“بولو کیا ہے؟” اکتاۓ ہوۓ لہجے میں بولا۔
“میں جانتی تھی تم ضرور آؤ گے، یہاں بیٹھو بتاؤ کیا پیو گے یہ میں نے برگر اور کولڈ ڈرنکس لائی ہوں” وہ اسے دیکھتے ایک دم خوش ہو گئی۔ حسام نے برگر پکڑتے کھانا شروع کر دیا۔
“جلدی بولو میرے پاس وقت نہیں ہے” برگر کھاتے وہ کلائی میں باندھی واچ کو دیکھتے ہوۓ بولا۔ مشی نے گھور کر اسکے بے فضول سے ایٹیٹیوڈ کو دیکھا۔
“برا آیا پرائیم منسٹر کہی کا” وہ اسے گھورتے ہوۓ منہ میں بولی۔
“میں نے سن لیا اب جلدی سے بتاؤ کیا بات ہے ورنہ میں جاؤں” حسام برگر کی بائیٹ لیتے ہوۓ بولا۔
“ارے ارے غصہ کیوں کر رہے ہو وہ اصل میں ضروری بات ہے” وہ جھٹ سے نارمل ہوتے ہوۓ بولی۔
“سن رہا ہوں”
” حسام تم تو جانتے ہو، جب ہم سب ایک ساتھ ہوتے تھے تو کتنا مزہ آتا تھا جب سے ہم الگ ہوۓ بالکل مزہ نہیں آ رہا” وہ منہ بناتے ہوۓ بولی۔
“تو میں کیا کرو، یہاں تمہاری خوشی کے لیے بندہ کا ناچ کرواؤں”وہ کوک کی سپ لیتے ہوۓ بولا۔
” ہنہہ بندر کا ناچ کروا ہی ان دو تم، ویسے میں سیریس بات کر رہی تھی” مشی اسے گھورتے ہوۓ بولی۔ اسکی بات درمیان میں جو کاٹ دی۔
“ہاہاہا سیریس بات اور وہ بھی تم” حسام پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ ہنس کر بولا۔
“بھوکر کہی کے بیٹھ کے برگر ہی کھاۓ جا رہے ہو میری بات تو دھیان سے سن نہیں رہے، پلیز سن لو نا، ایک تم ہی ہو جو میری مدد کر سکتے ہو، میں ویسے ہی بہت پریشان ہوں” وہ رونے کا منہ بناتے ہوۓ بولا۔ حسام نے اسے یوں دیکھا تو خود کو کوستا سیدھا ہو کر بیٹھا۔
“اچھا سوری بتاؤ کیا بات ہے اب درمیان میں نہیں بولوں گا” حسام کو اب سیریس ہو کر اسکی بات سننی تھی آخر اسکے دماغ میں چل کیا رہا ہے۔
“اس دن جب نکاح ہوا تھا تم نے جو بھی بولا میں نے اس پر کافی غور کیا۔ جو پہلے ہو چکا ہے ہم وہ تو تبدیل نہیں کر سکتے، پر دیکھو ابھی راحیل اور بلاج دونوں کیسے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں، باقی سب بھی ایک دوسرے سے نفرت ہی کرتے ہیں، صرف ایک انسان اسماء آپی کی وجہ سے ہم سب کی فرینڈ شپ برباد ہو گئی، یاد ہے بائیک رائیڈنگ کرتے تھے، کتنا مزہ آتا تھا۔ اور گھومنے بھی جاتے تھے آۓ دن پارٹی سب کو میں بہت مس کر رہی ہوں” وہ بولتے بولتے اداس ہو گئی۔ حسام نے اسکا اداس چہرہ دیکھا۔
“پر ہم کیا کر سکتے ہیں، تمہارے بھائی نے کچھ کم تو کیا نہیں، نہایت زہر لگتا ہے مجھے، اس وقت اگر وہ بلاج پر یقین کر لیتا تو آج ہم سب ویسے ہی ہوتے” حسام نے اسے جیسے کچھ یاد کروایا تھا۔
“یہی تو میں بات کر ہی ہوں، تمہیں نہیں لگتا، یہ سب لڑائی جگھڑے کچھ زیادہ ہی ہو گے ہیں، اور ان میں کچھ رکھا بھی نہیں، دیکھو راحیل اور عائشہ کی تو شادی وہ گئی ہے، وہ دنوں تو ٹھیک ہیں ہمیں سب کو ملوا دینا چاہیے، سب جھگڑے ختم کر دینے چائیں، پھر مزہ آۓ گا” وہ ایکسائیڈ ہوتے ہوۓ بولی۔ حسام اسکی بات پرہلکا سا ہنسا۔
“تمہیں کیا یہ سب بچوں کا کھیل لگتا ہے، سب سے زیادہ نفرت وہ دنوں ایک دوسرے سے کرتے ہیں لاکھ کوشش کر لو کچھ ٹھیک نہیں ہو گا، تم اپنا یہ چھوٹا سا مت استعمال کرو چلو کلاس میں چلتے ہیں” حسام کھڑا ہوتے ہوۓ بولا۔ مشی بھی کھڑی ہوئی اور اسکے پاس آئی۔
“میری مدد کرنا چاہتے ہو تو کرو مجھے یہ سب ٹھیک کرنا ہے، اور اس دن کی اصل سچائی بھی سبکے سامنے لانی ہے، مجھے لگا تمہیں تمہارے دوست کی فکر ہو گی اسی لیے تمہیں بلایا، پر تم۔۔۔” مشی نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔
“یہ ناممکن ہے حیات ” حسام نے جب دیکھا کہ وہ ہٹ نہیں رہی تو آخر میں بس اتنا ہی بولا۔ جانتا تھا ضد پر آ گئی تو کچھ بھی کرے گی وہ بھی اکیلے۔
“ہر نظر آنے والی مشکل کو حل کرنا ہر دفع ناممکن تو نہیں ہوتا، کبھی کبھی بہت اسانی سے حل نکل آتے ہیں،” وہ ایک عزم کے ساتھ بولی۔
“اوکے فائن دوں گا ساتھ” وہ جیسے ہار کر بولا تھا۔
“یسسسسس” مشی خوشی سے چلائی تھی۔
“سو اب ہم یہ سیکرٹ مشن پورا کریں گے، اوکے مینڈک” وہ ہنستے ہوۓ بولی۔
“بالکل چوہیا” وہ بھی ہنس کر بولا دونوں باتیں کرتے کلاس کی طرف بڑھے۔ مشی پہلے کلاس میں گئی، تھوڑی دیر بعد حسام گیا۔
““”””””””””””* رات کو وہ دس بجے واپس آگیا تھا، اسکے کمرے کے پاس گیا تو کمرہ لاک دیکھ اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، دانت پیستے وہ اپنے کمرے میں آیا اور بیڈ پر اوندھا منہ لیٹے سو گیا۔ صبح اپنے وقت پر وہ اُٹھا تو نیچے سے کھٹ پٹ کی آوازیں آ رہیں تھیں۔ مکمل تیار ہو کر وہ نیچے آیا، اسکی سیدھی نظر کیچن میں کھڑی میرال پر پڑی نیلے تنگ کی قمیض شلوار ساتھ ہم رنگ ڈوپٹہ لیے وہ یونی جانے کہ لیے بالکل تیار تھی۔ اور اب فرج کھولے کھانے کے لیے کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔ گھر میں اسے یوں کچن میں کھڑے دیکھ وہ مسکرایا اور دبے قدموں سے چلتا اسکے پیچھے آ کر کھڑا ہوا۔ میرال اسکی خوشبو پہنچان چکی تھی۔ وہ مڑی نہیں اور سامنے خالی فریج کو دیکھنے لگی۔ “کیا ہوا چشمش؟” جب وہ نا پلٹی تو وہ جھک کر اسکے کان میں ہولے سے بولا۔ وہ دو قدم پیچھے ہوئی۔ اپنا ڈوپٹہ سر پر درست کیا۔ اور اسے گھورا۔ “کیا تم ناشتہ نہیں کرتے، ناشتہ تو چھوڑا کیا تم لنچ ڈنر کچب نہیں کرتے اپنے فریج کو دیکھو بالکل خالی ہے، گھر میں کھانے کو کچھ نہیں، کچھ بھی نہیں” وہ خالی فریج کی طرف اشارہ کرتے غصے سے بولی۔ ” میں نے دو دن پہلے ہی یہاں شفٹنگ کی ہے، مما نے جاتے ہوۓ گھر باہر کھڑی گاڑی اور کچھ کریٹ کاڈ دیے تھے، وہ شائد جان چکی تھیں، وہ چلی جائیں کہ اور بعد میں میں اکیلا رہ جاؤں گا، اسی لیے یہ سب دے کر چلی گئیں، یہاں پر تم سب سے پہلے آئی ہے۔ فکر مت کرو ہم یونی سے واپسی پر سارا سامان لے آئیں گے” وہ ہلکا سا مسکراتے ہوۓ بول رہا تھا۔ میرال نے نوٹ کیا آجکل وہ زیادہ مسکراتا تھا ہاں جب وہ ملی تھی تب اسکے چہرے پر کبھی مسکراہٹ نہیں ہوتی تھی۔ اور اس بات کا تو وہ اعتراف کر چکی تھی۔ کہ اسکی سمائل پر کوئی بھی ہار سکتا ہے۔ اسنے نظریں چُرا کر فریج کا دروازہ بند کر دیا۔ “اوکے” وہ ہولے سے بولی۔ بلاج حیران ہوا۔ وہ اتنی آسانی سے کیسے مان گئی۔ “سچ میں، چلو پھر تمہیں اچھا سا ناشتہ کرواتا ہوں اسکے بعد ہم یونی چلیں گے” وہ ایکسائیٹڈ ہوتے بولا۔ “بالکل نہیں میں یونی سے کھا لوں گی، اور میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گی، یونی میں سب کو علم ہو جاۓ گا، تو یونی ہم الگ ہی جائیں گے” میرال اپنا بیگ پکڑتے باہر کی طرف بڑھی۔ “میرال روکو پاگل ہو، میرے ساتھ چلو” بلاج اسکے سامنے آ کر روکتے ہوۓ بولا۔ “بلاج پلیز ضد مت کرو، میں جا رہی ہوں” میرال بولتی گیٹ سے باہر نکلی۔ مین روڈ پر آتے وہ رکشے کا انتظار کرنے لگی۔تب تک بلاج گھر لاک کرتا گاڑی لیے اسکے پاس رُکا۔ “میرا بیٹھو گاڑی میں، میں جا تو رہا ہوں، تو الگ سے جانے کی کیا ضرورت ہے” وہ اب اسکی فضول سی ضد سے چڑ گیا تھا۔ تبھی رکشہ رکا۔ “باجی جانا یے” رکشے والا اپنے لہجے میں بولا۔ میرال بلاج کو اگنور کرتی رکشے میں بیٹھ گئی۔ اور وہ اپنا سا منہ لیے وہاں کھڑا رہا۔ “یہ لڑکی میری ایک نہیں سنتی” وہ چڑ گیا تھا۔ گاڑی کو رکشے کے پیچھے لگاتا، اسنے سارا سفر طے کیا۔ میرال رکشے والے کو پیسے دینے لگی، اپنے بیگ میں ہاتھ ڈالا تو پرس غائب تھا۔ بلاج گاڑی سے یہ منظر دیکھ چکا تھا۔ وہ نفی میں سر ہلاتا باہر آیا۔ اور گاڑی کے پاس ہی کھڑا رہا۔ جانتا تھا وہ اب اسکے پاس آ کر بولے۔ جب کچھ دیر تک وہ نا آئی تو ناچارہ اسے ہی اسکے پاس آنا پڑا۔ تبھی ہارون کی بائیک وہاں رُکی سر سے ہیلمٹ اتارتے اسکی نظر بلاج اور میرال پر پڑی۔ ان دونوں کو اگنور کرتے وہ یونی میں داخل ہوا۔ “یہ میں اس لیے دے رہا ہوں کل سے تم میرے ساتھ آؤ گی منظور ہے تو بتاؤ ورنہ میں جا رہا ہوں” وہ اسے بلیک میل کرتے ہوۓ بولا۔ جانتا تھا اب تو وہ مان جاۓ گی۔ “انکل آپ اس سے پیسے لے لو، میں چلتی ہوں” وہ اسکی بات کو سِرے سے اگنور کرتے بول کر یونی کے گیٹ کی طرف بڑھی۔ بلاج اپنا آپ ایسے اگنور ہوتے بلکل برداشت نہیں کر پایا۔ رکشے والے کو پیسے پکڑا کر وہ ہنا گاڑی پارک کرتا یونی میں داخل ہوا۔ کلاس تو اسنے چھوڑ دی وہ کولڈ ڈرنک لیے سیمنٹ کے بنے بینچ پر بیٹھا تھا۔ چینز اور ٹی شرٹ پہنے ہوۓ وہ کوک کے کین کو ماتھے پر لگا رہا تھا۔ “ہاہا لگتا ہے ہمارے نئے نویلے دلہے کی ایک ہی دن میں بینڈ بج گئی” حسام جو کہ سامنے سے اسے آتا دیکھ چکا تھا، یوں اکیلا بیٹھا اور کولڈ ڈرنک کو ماتھے سے لگاتے دیکھ ہنسا تھا۔ اور چلتا ہوا اسکے پاس آتے ہوۓ بولا۔ “آجا تیری کمی رہ گئی تھی” ماتھے پر کین لگاتے وہ چڑتے ہوۓ بولا۔ “کیا ہوا اتنا سڑا ہوا کیوں ہے؟” وہ اسکے ہاتھ سے کین پکڑے اسے کھول کر پیتے ہوۓ بولا۔ “کیا ہو سکتا ہے؟ وہی میرال مان ہی نہیں رہی، ہر بات کا الٹ کرتی ہے، آج بھی صبح میں نے بولا میرے ساتھ چلو پر نہیں میڈم کو میری ایک نہیں سننی اپنی ہی چلانی ہے رکشے پر آئی ہے” وہ جیسے پھٹ پڑا۔ حسام کی ہنسی چھوٹ گئی۔ ” حسام سالے تو اپنے دوست کی زندگی کی اتنی بری پریشانی ہر ہنس رہا ہے، زرا بھی دوستی نہیں بچی، بس یہ کولڈرنک پیتا جا” بلاج اسکے بالوں کو بگاڑتے ہوۓ کندھے پر تھپڑ مارتے ہوۓ بولا۔ “جب میرے سامنے میرے دوست کی اتنی مزے والی فلم چل رہی ہو تو کیسے نا ہنسوں مزہ آ رہا ہے تیری بینڈ بجتے دیکھ، تجھے انکار سننے کی عادت نہیں تھی اب ہر بات پر انکار سننا پڑرہا ہے، تیری یہ حالت تیری بس بیوی میرال بلاج حمدانی ہی کر سکتی ہے” حسام ہنستے ہوۓ بول رہا تھا۔ ہارون جو کہ کینٹن سے ہو کر انکی بیک سے چلتا ہوا انکے پاس آرہا تھا۔ تھوڑے فاصلے پر کھڑا یہ سب سن چکا تھا۔ اسکے پاؤں تلے زمین کھسکی۔ انکھوں میں حیرانگی پھیلی۔ اسکے دوست نے اس سے اتنی بری بات چھپائی۔ وہ اسی طرح وہاں سے پلٹ گیا۔ “رک جا تو تیرا وقت آنے دے اس سے بھی برے طریقے سے تیرے سے بدلہ لوں گا” بلاج اسے وارنگ دیتے ہوۓ بولا۔ “ہاہ ناجانے وہ دن کب آۓ گا” حسام دل پر ہاتھ رکھتے ہوۓ دکھی لہجے میں بولا۔ بلاج نے نفی میں سر ہلایا۔ دونوں کافی دیر وہاں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ یہ جانے بغیر کہ ہارون سب سن چکا ہے۔ واپسی پر بلاج نے ہاتھ پکڑ کر زبردستی اسے گاڑی میں بیٹھایا۔ اور خود گاڑی چلا دی۔ مارکیٹ پہنچ کر وہ اسے گلوسری شاپ لے گیا۔۔وہاں سے کیچن کی سب چیزیں لیں۔ بلاج اسے بوتیک لے گیا وہاں سے کپڑے بیگز ، جوتے سب خرید کر وہ رات کا ڈنر کر کے واپس گھر آۓ۔ میرال تو بہت تھک چکی تھی اتے ہی سو گئی۔ صبح ویسے بھی اتوار تھا تو ساری سیٹنگ کل پر ڈال دی۔ “””،،،،****
تقی آج کافی ہفتوں بعد یونی آیا تھا۔ جلد ہی اسکے پیپرز ہونے والے تھے، اتنی چھٹیوں کے بعد چھوٹ جانے والے نوٹس وہ باہر گارڈن میں بیٹھا تیار کر رہا تھا۔
“ہیلو جی! فیر کی حا چال، اینے دن توسی کدھر سی، میں تے توانوں کافی ڈھونڈا( ہیلو جی کیا حال چال یے، اتنے دن کہاں تھے میں نے آپکو کافی ڈھونڈا)” وہ اپنے کام میں مگن تھا جب امرحہ جو اسکے ڈیپارٹمنٹ میں اسے ڈھونڈنے آئی تھی، اسکو اکیلا بیٹھا دیکھ فوراً بھاگ کر اسکے پاس آئی اور اسکے سامنے بیٹھے، اور اور پنجابی مکس انداز میں بولی۔ کاغذ پر چلتے تقی کا ہاتھ اسکی اواز پر رکا۔
“تمہیں مجھ سے کیا کام ہے، جو ڈھونڈ رہی تھی؟” بنا اسکی طرف دیکھے، وہ دوبارہ سے لکھنا شروع کر چکا تھا۔
“ارے اتنے دنوں بعد تو آپکو دیکھا ہے، کیا بیٹھ کر گپ شپ بھی نہیں کر سکتی؟” وہ منہ بسورتے ہوۓ بولی۔
“بالکل نہیں میں بہت مصروف ہوں، جاؤ یہاں سے” وہ روکھے انداز میں بولا۔ امرحہ کا منہ لٹک گیا۔
“تقی اتنے ظالم بھی مت بنیں، کیا آپ اندھے ہیں دیکھتا نہیں میں کیوں بار بار آتی ہوں، محبت کرتی ہوں کتنی دفع بول چکی ہوں، ” وہ اسکے روکھے رویے کو دیکھتے نم لہجے میں بولی۔ کتنے دنوں بعد انکی ملاقات ہوئی تھی، وہ کتنی خوش تھی۔ اسکی بات پر تقی نے ایک لمحے کو اسکی طرف دیکھا۔ اسکی نم آنکھیں دیکھ نظریں چُرا لیں۔
“یہ سب بکواس ہے بھول جاؤ سب” رجسٹر بند کرتے وہ بولا۔
“محبت کرتی ہوں کوئی مزاق نہیں ہے جو بھول جاؤں، کیا آپ کو میں اچھی نہیں لگتی؟” امرحہ نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا۔
“دیکھو امرحہ اب یہ سب بہت زیادہ ہو رہا ہے، پہلی بات تو یہ میں تک سے پیار نہیں کرتا، دوسری بات تمہاری اور میرے رہن سہن میں ہماری کلاس میں بہت ڈفرینس ہے، اور تیسری سب سے اہم اور آخری بات دو ہفتے قبل میری منگنی ہو گئی ہے” تقی اسکے سر پر بم پھوڑکر اب بہت ہی آرام سے کھڑا ہوتے اپنی چیزیں سمیٹ رہا تھا۔ اور امرحہ وہ تو حیرانگی سے اسکا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ وہ اسکے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا تھا۔
“آپ جھوٹ بول رہے ہو نا ایسا ممکن نہیں، میں بہت محبت کرتی ہوں کیا میری محبت نظر نہیں آئی جو منگنی کر لی” وہ اسکے سامنے آ کر روتے ہوۓ بولی۔ تقی نے آس پاس دیکھا کافی لوگ انکی طرف متوجہ تھے۔
” امرحہ بہت ہوا تماشا مت لگاؤ اور میرا پیچھا چھوڑ دو” وہ لفظوں کو چبا چبا کر بولتا اگے بڑھ گیا۔ اور امرحہ وہی روتے روتے بیٹھ گئی، یوں اچانک یہ سب ہو جاۓ گا اسنے سوچا بھی نہیں تھا۔ تقی تھوڑی دور جا کر رکا۔ اور پلٹ کر اسکو روتا ہوا دیکھا۔
“کچھ دیر کا درد سہ لو ساری عمر کے درد کو سہ نہیں پاؤگئی ایم سوری امرحہ۔” وہ خود سے نم لہجے میں بولتا واپس پلٹ گیا۔
یونی میں دونوں کی ملاقات ہوئی تھی، امرحہ کو اس سے ایک طرفہ پیار ہو گیا۔ جسکا اظہار اسنے برے کھلے انداز میں کیا۔ تقی تو اسکی ہمت دیکھ کر چونک ہی گیا تھا۔ وہ ہر دوسرے دن اسکو ملنے آجاتی، اسنے بہت اگنور کرنے کی کوشش کی، تقی کے منہ سے کافی دفع وہ پنجابی سن چکی تھی، شائد اسے پنجابی بولنا کافی پسند تھا، وہ بھی ہلکی پھلی پنجابی سیکھنے لگی اور اسکے سامنے جا کر بولتی۔ پہلی دفع تو تقی نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کی تھی وہ اسکے سامنے روکھا ہی رہتا۔ اسے بھی وہ اہستہ اہستہ دل میں گھر کرتی محسوس ہو رہی تھی اور اسی بات سےوہ ڈر جاتا، اور اس سے روکھے لہجے میں بات کرتا۔ وہ جانتا تھا یہ رشتہ ہونا نا مکمن ہے، انکی کلاس میں بہت فرق ہے۔ اس لیے اسے دور کرنے کے لیے اسنے ہر ممکن کوشش کی پر وہ بھی نڈر تھی، ہر بار واپس آ جاتی ہمیشہ پرانی باتیں بھول جاتی۔ آج تقی نے اسکی ہر امید کو کچلا تھا، تا کہ وہ یہی رک جاۓ مزید آگے مت بڑھے جانتا تھا اس سفر کی منزل نہیں ہے صرف تقلیف ہی تقلیف ہے جو اسے سہنی پڑتی۔
جاری ہے۔
