55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

“کیا تمہاری منگنی ہو چکی ہے؟ اور وہ بھی اس اسماء کے ساتھ؟” میرال نے بنا کوئی اور بات کیے یہی سوال کیا۔ اور دل ہی دل میں دعا کرنے لگی وہ انکار کردے۔ بلاج اس سوال کی بالکل توقع نہیں کر رہا تھا۔ اسنے گہرا سانس لیا۔
“ہاں، ہو چکی ہے” وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔ اور وہی میرال کی آنکھیں حیریت سے پوری کی پوری کھل گئیں، وہ سوال کے جواب میں یہ سب نہیں سننا چاہتی تھی۔
“اگر ہو چکیییی تھی تووووہ سب کیا تھا؟” وہ ہکلاتے ہوۓ بولی۔ اسکی آنکھوں میں ابھی تک حیرت تھی۔
“کیا سب؟ اُو تمہارا مطلب ہے ہمارے درمیان جو محبت وغیرہ تھی؟ اسی کا پوچھ رہی ہو” بلاج ایک دم ہنس کر بولا۔ میرال کو لگا وہ کسی اجنبی کے سامنے کھڑی ہے۔
“تھی سے تمہارا کیا مطلب ہے، تم نے تو بولا تھا تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔ اور میں نے بھی اپنے دل کی بات تمہیں بتائی تھی۔ اور تم کس انداز میں بات کر رہے ہو؟” میرال کو اسکا لہجہ بہت عجیب لگا۔ اسنے کسی انہونی کا احساس ہوا۔ بلاج اسکی بات پر ایک بار پھر ہنسا، پاس سے سٹوڈینٹس کا ایک گروپ گزرا۔
“اُو سو سیڈ، یہ بات اسطرح باہر نکلنی تھی مجھے پتہ نہیں تھا، چلو خیر اب باہر آ چکی ہے تو اچھے سے نکالتے ہیں، لو حسام بھی آ گیا” بلاج نے ہنس کر بولتے سامنے سے آتے حسام کو ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوۓ اپنے پاس بُلایا۔
“لے حسام تیری لگائی شرط پوری ہوئی، تو نے ہی بولا تھا اس لڑکی کو پیار کے جال میں پھنسا کر اظہارے محبت کرواؤ، کیونکہ اسنے میری بے عزت کی تھی بلاج حمدانی کی بے عزتی کی تھی۔ دیکھو تھورے سے دنوں میں یہ کیسے میرے پیار کے جال میں آ گئی، میں تو ڈرامہ جلد ہی ختم کرنے والا پر عائشو کا ولیمہ تھا، اسی کو نپٹا رہا تھا” بلاج نے حسام کے کندھوں کے گرد بازو باندھتے ہوۓ ہنستے ہوۓ بولا۔ میرال کو لگا اسکے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسک گئی، وہ پھٹی آنکھوں سے سامنے ہنس کر اتنی بری بات بولتے ہوۓ بلاج کو دیکھنے لگی۔ اور حسام اسکی بھی حالت اس سے کم نا تھی۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو اسکا میسج آیا تھا کہ اس جگہ پر آ جا اور وہاں جو ہو اسکی ہاں میں ہاں ملانا، اور ایک لفظ ایکسٹرا مت بولنا۔
“بلاج! تم تم، مزاق کر رہے ہو نا، ایسا کچھ نہیں تم سچ میں محبت کرتے ہو نا” میرال نے ایک امید سے اسکی جانب دیکھ کر پوچھا جیسے وہ بولا ہاں۔۔۔اور ہنس دے۔ بلاج نے اسکی طرف دیکھا، اسکی آنکھوں میں چھپے ڈر خوف کے جزباتوں جو دیکھ اسے خود کا حوصلہ بھی ختم یوتا ہوا محسوس ہوا، اسنے جھٹ سے نظریں چُڑا لیں۔ اور ہنس دیا۔
“بھول گئی، مس میرال احمد میں ایک برا انسان تھا جسنے تمہیں بہت تنگ کیا، اور ایک برا انسان سبکے سامنے ایک بکواس سی بریسلیٹ کی وجہ پڑے جانے والے پنچ کو کیسے بھول سکتا ہے، اسکا بدلہ تو لینا ہی ہوتھا سو میں نے لے لیا، تمہارا غرور توڑ کے،تم مجھ جیسے لڑکے سے کبھی محبت نا کرتی، بس حسام نے شرط لگائی اور میں نے پوری کر دی۔ سو یہ سب یہی ختم اوکے” وہ ہلکا سا جھک کر بولا۔ حسام کا دل کیا ابھی میرال کے سامنے ہی اسے بہت مارے اور اسکی زبان بند کر دے جو وہ بکواس بول رہا تھا اور میرال شاک سی اسکے منہ سے نکلے الفاظوں کو سن رہی تھی۔
“ویسے سوچو میں بلاج حمدانی ہوں، کڑروڑں کی جائیداد ہے میری، اور میں تم جیسی عام سے بیک گراؤنڈ کی لڑکی سے محبت کروں گا جسے نا پہنے کا ڈہنگ ہے، نا کوئی اسٹینڈر ہے، اگے پیچھے کوئی ہے نہیں۔ بس بلاوجہ کا ایٹیڈیوڈ ہے، ایسی لڑکی کو میرے جیسا لڑکا پسند کیوں کرے گا؟” بلاج اسکا مزاق اُڑاتے ہوۓ بولا، میرال نے اسکی باتیں سن کر نفی میں سر ہلایا۔
“مجھے بالکل یقین نہیں آ رہا تم ایسے نکلو گے، اتنی گھٹیا سوچ تمہاری کیسے ہو سکتی ہے، تمہارے لیے یہ ایک بکواس سی شرط ہو گی، پر میرے لیے۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرو گی کبھی بھی نہیں” بولتے بولتے کب کے رُکے آنسو گالوں پر بہے، اسکا چشمہ دھندلا ہو گیا۔ اسے اب مزید ان دنوں کے سامنے کھڑے ہو کر بے عزتی نہیں کروانی تھی۔ وہ روتے ہوۓ پلٹی اور وہاں سے بھاگ گئی۔ اسکے جاتے ہی بلاج کے ہونٹوں سے مسکرایٹ غائب ہوئی۔ اور چہرہ ایک دم اداس ہوا۔
“یہ سب کیا تھا؟ تجھے بولا تھا نا اس لڑکی کے ساتھ ایسے ویسا کچھ نا کرنا اور یہ شرط کہاں سے آ گئی میں نے کب لگائی شرط؟ ” حسام اسکے جاتے ہی بلاج پر چڑ گیا۔ جو اسی رستے کو دیکھ رہا تھا۔ جہاں سے وہ گئی تھی، آج اسنے اس لڑکی کا دل توڑا جسے وہ بے انتہا محبت کرتا تھا۔
“بول چپ کیوں ہے؟” حسام نے اسکو کالر سے پکڑتے ہوۓ جھنجھوڑا۔ بلاج نے اسکے ہاتھ سے کالر چھڑوائی۔
“میں گھر جا رہا ہوں” وہ کالر چھڑوا کر وہاں سے چلا گیا۔ اور حسام دانت پیستا رہ گیا۔ یہ سب کیا ہو رہا تھا اسے بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
میرال وہاں سے روتے ہوۓ بھاگ کر گارڈن میں جا رہی تھی جب سامنے سے آتی مشی سے ٹکڑائی۔
“آہ اندھی ہو؟” مشی بنا دیکھے چلائی۔ میرال نے اسکی کتابیں جو زمین پر گڑ گئیں تھیں وہ اُٹھا کر دیں۔ نظریں چُراتی وہ اگے بڑھنے لگی۔ جب مشی نے اسے روک لیا۔
“میرو یہ تو رو کیوں رہی ہے؟ کیا ہوا؟” مشی اسکی روتی ہوئی آنکھوں کو دیکھ کر حیرانگی سے بولی۔
“نہیں تو میں کیوں رؤں گی” میرال نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔ اور نظریں چڑاتی رہی۔
“ادھر دیکھ” مشی نے اسکا چہرہ اپنی طرف کیا۔ اسنے نظریں نیچیں ہی رکھیں اور اپنا رونا کنٹرول کرنے لگی۔
“کیا ہوا؟” مشی کو اب بالکل سمجھ نہیں آرہا تھا۔
“کہی بیٹھ کر بات کریں” میرال آس پاس دیکھ کر بولی۔ کافی سٹوڈینٹس انہیں دیکھ رہے تھے۔ مشی بھی اسکی بات سمجھ گئی، اور اسے لے کر گارڈن میں آئی، دونوں گھاس پر بیٹھ گئیں۔
“بول اب! کیا ہوا؟” مشی بیٹھ کر فوراً بولی، میرال پہلے اسکے لگی اور کافی دیر تک روتی رہی۔ مشی کی حالت غیر ہونے لگی، اسنے میرال کو ایسے روتے ہوۓ پہلے کبھی نا دیکھا تھا۔ وہ گھبڑا گئی۔
“میرال چپ اب روئی نا تو ایک لگاؤں گی، بول ہوا کیا؟” مشی نے اسے علحیدہ کرتے ہوۓ غصے سے کہا۔۔ روتے روتے میرال کی ہچکی بندھ گئی۔ مشی نے اسے پانی دیا۔ وہ تھوڑا ریکس ہوئی۔ میرال نے مشی کو شروع سے لے کر اب تک کا سب بتا دیا۔ مشی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اسے بے انتہا غصہ آ رہا تھا۔
“اسکی اتنی ہمت اسنے سمجھ کیا رکھا ہے، میں اب اسے چھوڑوں گی نہیں” مشی غصے سے کہتی اُٹھنے لگی، میرال نے اسے چپ کروا کر نیچے بیٹھایا۔
“دفع کر، جب سامنے والے کو احساس ہی نہیں وہ کتنا غلط جا رہا ہے تو خود غصہ کرنے کا فائدہ” میرال اسے ٹھنڈا کرتے ہوۓ بولی۔
“میرو تو پریشان مت ہونا، اور رونا تو بالکل نہیں ان جیسے بکواس لوگوں کے لیے رونے کی ضرورت نہیں، میں ہمیشہ تیرے ساتھ ہوں خود کو اکیلی محسوس مت کرنا” مشی اسے گلے سے لگاتے خود بھی ایموشنل ہو گئی۔ میرال نے گہرا سانس لیا، اور نارمل ہونے کی کوشش کرنے لگی، تا کہ مشی زیادہ پریشان نا ہو۔
“مجھے ہاسٹل جانا ہے، میں لیکچر نہیں لے پاؤں گی” میرال کھڑی ہوتے ہوۓ بولی۔ مشی نے سے ہاسٹل تک چھوڑا۔ میرال اپنے کمرے میں آگئی۔ کمرے میں پہنچتے ہی، وہ بیڈ پر دھے سی گئی۔ آنکھوں کے سامنے کچھ دنوں کے خوبصورت سے پل لہراۓ، اور پھر بلاج کے الفاظ سنائی دیے، وہ تکیے میں منہ دے کر رونے لگ گئی۔ اسے ابھی بھی یقین نہیں ہو رہا تھا، بلاج ایسا نکلے گا۔


حسام اسے کئی گھنٹوں سے تلاش کر رہا تھا پر وہ اپنی بائیک لے کر نا جانے کہاں چلا گیا اب تو رات کے گیارہ بج گے تھے، وہ اب پریشان ہو رہا تھا اسکا موبائل بھی بند تھا۔
“کیا ہوا؟ حسام بلاج کہاں ہے؟” امرحہ اور ہارون اسکے میسج کو پڑھنے کے بعد فوراً اسکے گھر پہنچے۔
“پتہ نہیں صبح کا غائب ہے، شائد انکل کی وجہ سے غصے میں ہے” حسام نے جھوٹ بولا۔
“او تو اب کیا کریں؟ اسکے گھر چلیں کیا پتہ وہی ہو” امرحہ بولی۔
“ہاں چلو گھر ہی رہ گیا چیک کرنے کو” حسام موبائل پکڑتے دنوں کے ساتھ بلاج کے گھر پہنچا، انکے میسج پر عائشہ بھی وہی آ گئی تھی۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، چاروں چلتے ہوۓ گھر میں داخل ہوۓ، گھر کی ایکسٹرا چابی حسام کے پاس تھی۔ وہ لوگ حال میں داخل ہوا، حال میں بھی مکمل اندھیرا تھا۔
“گھر میں تو کوئی نظر نہیں آ رہا وہ کہی اور ہو گا، بات کیا ہو گی جو کال بھی نہیں اُٹھا رہا” ہارون اندھیرے میں ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ بولا۔ تبھی کسی نے گھر کی لائیٹ آن کی۔
“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو، ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ہارون” سامنے سے ہاتھ میں کیک پکڑے، چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ، بلاج کنگنا رہا تھا، سارا حال غباروں سے بھرا ہوا تھا۔ ہارون اسکی حرکت پر ہنسا۔ سبھی ہمیشہ ایک دوسرے کو انوکھے طریقے سے ہی برتھ ڈے وش کرتے۔
“گائیز منہ کیا دیکھ رہے ہو، برتھ ڈے وش کرو” بلاج نے باقی سب کو چپ کھڑے خود کو گھورتے دیکھا تو فوراً بولا۔
“برتھ ڈے تو ابھی وش کرتے ہیں رُک” حسام غصے سے کہتا آس پاس دیکھتا ایک طرف پڑی سمائلی بالز پکڑ کر بلاج کو مارنے لگا۔ عائشہ اور امرحہ نے بھی حصہ ڈالا۔
“ارے کیا کر رہے ہو پاگل ہو کیک خراب کو جاۓ گا” بلاج کیک کو بچانے کے لیے پلٹ گیا۔
“تمہیں کوئی آئیڈیا بھی ہے ہم کتنے پریشان تھے” امرحہ اسکے کمر پر بالز مارتے ہوۓ بولی۔
“ہم سب پریشان تھے، اور بھائی صاحب کو دیکھو یہاں برتھ دے کی پلینگ ہو رہی تھی، ہمیں بھی بتا دیتے ہارون ہمارا بھی دوست ہے” عائشہ بھی مارتے ہوۓ بولی۔ اور بلاج ہنس رہا تھا۔
“موبائل کیوں بند تھا تیرا؟” حسام بھی مارتے ہوۓ بولا۔
“گائیز بس کرو، معاف کر دو اسے، چلو کیک کاٹتے ہیں، بھوک بھی لگی ہے” ہارون درمیان میں آتے ہوۓ ہنس کر بولا۔ سبھی رک گے
“شکریہ ہارون جلادوں سے بچا لیا” بلاج کیک ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولا۔ سبھی ٹیبل کے گرد اکھٹے ہوۓ۔ ہارون نے تالیوں اور وشیز کے درمیان کیک کاٹا۔ اور سبکو کھیلایا۔ سبھی وہی صوفوں پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ حسام بار بار بلاج کو دیکھ رہا تھا، جو اسے اگنور کر رہا تھا۔
“گائیز مجھے تم لوگوں سے کچھ بات شئیر کرنی ہے، بلاج کو میں بتا چکا ہوں، تم تینوں کو معلوم نہیں” ہارون نے کوک کا کین ٹیبل پر رکھتا سبکو اپنی طرف متوجہ کیا۔
“ایسی کیا بات ہے جو بلاج کو پتہ ہے اور ہمیں معلوم نہیں؟” امرحہ نے تجسس سے بھرے انداز میں کہا۔ ہارون نے بلاج کو دیکھا، اسنے زبردستی چہرے پر مسکراہٹ سجا کر اسے بولنے کا اشارہ کیا۔ جیسے وہ جانتا ہو کہ وہ کیا بولنے والا ہے۔ انکا یہ اشارہ حسام نے غور سے دیکھا اسنے کین منہ سے لگایا۔
“وہ ایکچوئلی مجھے تم سبکو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا، پر میں خود ڈاؤٹ میں تھا، خیر اب سب کلیر ہے، اصل میں بات یہ ہے، آئی لائیک میرال، اور ڈرامہ ڈے پر میں اس سے اظہار کرنے کا سوچ رہا ہوں” وہ ہاتھ مڑورتے ہوۓ کنفیوز سا ہوتا انہیں بتا رہا تھا۔ حسام کواسکی بات سن کر ایک دم کھانسی آئی، ساری کوک زمین پر گڑ گئی۔
“واٹ!” عائشہ اور امرحہ ایک ساتھ چلائیں۔ اور اپنی جگہ سے کھڑی ہوئیں۔
” کیا ہوا؟ تم لوگوں کو میری بات پسند نہیں آئی؟ آئی نو وہ تم سبکو بہت بری لگتی ہے، پر ایسا نہیں وہ بہت اچھی ہے” ہارون دونوں کے خطرناک ری ایکشن کو دیکھتے ہوۓ بولا۔
“اُووو تو یہ بات ہے” حسام بلاج کو دیکھتا ہنس کر بولا۔ بلاج ٹانگ پر ٹانگ جماۓ خاموش بیٹھا تھا، حسام کے کہنے پر اسنے ایک نظر اُسے دیکھا اور پھر پھیر لیں۔
“یا اچھی بری کا پتہ نہیں پر پتہ نہیں کیوں مجھے اسے دیکھ کر ہی غصہ آ جاتا ہے” امرحہ ہارون کی بات سن کر بولی۔
“بالکل” عائشہ نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔
“چھوڑو ان سب باتوں کو، ابھی سب سے ضروری بات یہ ہے، کہ ہارون میرال کو پسند کرتا ہے، واؤ بہت اچھی بات ہے، اور ہم سب اسکے دوست ہیں تو ہمیں دل کھول کر اس بات کو تہے دل سے اپنانا چاہیے” حسام اُٹھ کر ہارون کے کندھوں کے گرد بازو لپیٹتے ہوۓ بلاج کو گھور کر بولا۔ جو اپنی جگہ سے کھڑا ہو کر انکی طرف آیا۔
“بالکل! اپنانا چاہیے آخر دوست جو ہے، دوست کے لیے اتنا تو کر ہی سکتے ہیں” بلاج نے اس سارے وقت میں پہلا جملہ بولا۔
“اگر تم سب راضعی ہو تو ہم بھی خوش ہیں” عائشہ مسکرا کر بولی امرحہ اور وہ ہارون کو چھیرنے لگیں۔
“بالکل دوست کے لیے سب کرنا چاہیے لیکن اس میں بھی حد ہونی چاہیے، حد سے زیادہ نا محبت اچھی ہوتی ہے نا نفرت اور نا دوستی” حسام دانت پیستے ہوۓ بولا۔ بلاج نے اسے اگنور ہی کیا۔
“ہارون تیرا برتھ ڈے کا گفٹ گھر پر ہے، ہربڑی میں آۓ تجھے دینا یاد نہیں رہا، جاتے وقت لے جانا، ویسے بلاج تو نے تو ہارون کو گفٹ دے دیا ہو گا؟” حسام بولتے بولتے بلاج لی طرف پلٹا۔
“نہیں ابھی نہیں، جاتے وقت دوں گا” وہ موبائل نکال کر اس پر یوہی انگھوٹھا چلاتے ہوۓ بولا۔
“بھول گیا دے تو دیا گفٹ، اپنی دھڑکنیں، جینے کی وجہ، چہرے پر مسکان کی وجہ، سبھی تو دے دیا اور کیا دے گا” حسام طنزیہ انداز میں آہستہ سے کہتا اسکا کندھا تھپتھپاتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
“مجھے کام ہے جا رہا ہوں، ہارون چل گھر چھوڑ دے” حسام بولتا باہر چلا گیا۔ ہارون بھی باۓ کہتا چلا گیا۔
“دیر تو ہو گئی، بلاج ہم دونوں بھی نکلتی ہیں” عائشہ موبائل پر وقت دیکھتے ہوۓ بولی جہاں ایک بج گیا تھا۔ وہ بھی چلی گئیں۔ ان سبکے جاتے ہی بلاج وہی صوفے پر بیٹھ گیا اور اپنا سر ہاتھوں پر گِڑا لیا۔ یونی سے نکلتے ہی وہ اپنی بائیک لے کر بے مقصد سڑکوں پر پھیرتا رہا۔ اپنے دل کو مطمین کر رہا تھا کہ جو اسنے کیا وہ صحیح تھا۔ موبائل اسنے بند کر دیا دماغ کو بھٹکانے کی خاطر اسنے گھر پہنچ کر برتھ ڈے کی تلاش کی۔
* “اس وقت تک کہاں تھی؟” عائشہ کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے راحیل ماتھے پر ہزاروں بل لیے کھڑا تھا۔ “جہاں بھی ہوں اپ سے مطلب؟” وہ اپنی سینڈل اتارتے ہوۓ بولی۔ اور الماری سے نائیٹ ڈریس نکالا۔ “تمہارے سارے مطلب مجھ سے ہی ہیں آئی سمجھ” اسکے ہاتھ سے ڈریس پکڑ کر زمین پر اچھالتے ہوۓ وہ غصے سے بولا۔ ” مجھے نہیں آئی سمجھ اور نا آۓ گی” عائشہ زمین سے اپنا ڈریس پکڑتے ہوۓ عام سے لہجے میں بولی، پر اسکو تپا گئی۔ “کیا بکواس کی تم نے؟ اب تم مجھ سے زبان درازی کرو گی” راحیل کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ کچھ کر بیٹھتا۔ “کیا ہوا؟ اتنا غصہ کس بات کا ہے، ہماری شادی ہی ہوئی ہے، تم نے مجھے خریدا نہیں ہے، جو اسطرح چلا رہے ہو، اور حکم اپنے پاس رکھو، یہ بلاوجہ کا غصہ مجھ پر مت نکالو” عائشہ اسکی انکھوں مین دیکھتے وارنگ دیتے ہوۓ بولی۔ اور واشرم کی طرف بڑھی۔ جبھی راحیل آگے بڑھا اور اسکا بازو پکڑ کر مڑورا اور کمر سے لگایا۔ “اہ راحیل کیا بدتمیزی ہے میرا بازو چھوڑو” وہ اس اچانک افتار پر چلائی۔ “تم اب میری بیوی بن گئی ہو، اور مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا اگر تم میرے ہی دشمن کے گھر سے دیر رات کو واپس آؤ، اپنی دوستیاں یونی تک رکھو تو بہتر ہے، ورنہ۔۔۔” راحیل اسکے بازو پر دباؤ ڈالتے دانت پیستے ہوۓ سخت لہجے میں بولا۔ “ورنہ کیا، ہاہ مارو گے بولو” عائشہ غصے سے بولی۔ “ہاہ ماروں گا نہیں، تمہارے پر ہمیشہ کے لیے کاٹ دوں گا، پوچھو کیسے، ارے بتاتا ہوں، تم تو جانتی ہو تمہارا شوہر شوبز کی دنیا میں رفتہ رفتہ انچائیوں کو چھو رہا ہے، اور پتہ خوشی کی بات کیا ہے، مجھے ایک فلم آفر ہوئی ہے، جسکا آدھا شوٹ پاکستان میں اور باقی کا آدھا امریکہ میں ہونا ہے، میں نے وہ ایکسپٹ کر لی تو اگلا پورا ایک سال ہم یعنی میں اور میری پیاری سی بدتمیز بیوی وہاں جائیں گے، تو تمہارے ان دوستوں سے تمہارا پیچھا ایک دم سے چھوٹ جاۓ گا آئی سمجھ” راحیل کبھی ہنس کر اور کبھی سخت لہجے میں اسے اپنے پلین بتا رہا تھا، اور عائشہ اسکا یہ پلین سن کر غصے میں آئی۔ تبھی راحیل نے جھٹکے کے ساتھ اسکا بازو چھوڑا۔ “بہت اچھا پلین ہے، کر لو ایکسپٹ پر جاؤ گے تم اکیلے میں نہیں جاؤں گی، عجیب دماغ خراب کر کے رکھا ہے” عائشہ غصے میں بولتی واشروم میں گھس گئی۔ اور دروازہ زور سے بند کیا۔ راحیل نے اپنا غصہ دبایا۔ جب وہ بارہ بجے گھر پہنچا وہ بہت تھکا ہوا تھا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی کمرہ ایک دم خالی ملا تو بھک سے اسکا دماغ اُڑا مشی سے پوچھنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ عائشہ بلاج کے گھر گئی ہے، اور بلاج کے نام پر تو وہ انتہا غصے میں آ جاتا۔ تبھی سے وہ کمرے میں چکر لگاتا اسکا انتظار کر رہا تھا۔ ***
سبھی یونی آگے، لیکچرز کے بعد اس وقت سواۓ میرال کے سبھی ڈرامہ کلب میں تھے۔ کیونکہ ڈرامہ کومپیٹیشن کو صرف ایک دن رہتا تھے۔
” ایم سوری گائیز میں لیٹ ہو گئی، میں نے یہ ہر ایک کی سکرپٹ علحیدہ کر دی، جو ڈائیلگ بولنے ہیں وہ یہ رہے” میرال کلب میں داخل ہوتے ہوۓ جلدی جلدی بولی۔ اور ایک ایک کر کے سبھی کو پیپرز پکڑاۓ، بلاج یک ٹک اسے ہی دیکھ رہا تھا میرال نے ایک دفع بھی اسے دیکھنے کی زہمت نا کی۔ وہ یہاں بھی بہت مشکل سے کھڑی تھی۔
“ہمارے پاس صرف کل کا دن ہے، ہمیں آج اور کل دیر تک ریہرسل کرنی پڑے گی، میں نے میم سے بات کر لی ہے، ہم سات بجے تک ریہرسل کر سکتے ہیں، عائشہ اور امرحہ تم دونوں نے سبکے کاسٹیومز تیار کروانے تھے ہو گے؟” میرال عائشہ اور امرحہ کو دیکھتے ہوۓ بولی۔
“ہاں تیار ہیں مل جائیں گے” عائشہ نے جواب دیا۔
“تو شروع کرتے ہیں” میرال بول کر ایک طرف کھڑی ہوئی، تا کہ جسکی پہلے باری ہے وہ اپنے ڈائیلاگز بولے۔ وہ سائیڈ پر ہو کر کھاسنے لگی۔
“میرو تو ٹھیک ہے طبعیت زیادہ خراب تو نہیں؟” مشی اسکے پاس آکر بولی۔
“ہاں ٹھیک ہوں” میرال بولتے ہوۓ بیگ سے سر درد کی دوا نکال کر پانی سے نِگلتے ہوۓ بولی۔
“میرال تم ٹھیک ہو؟” ہارون اسکو دوائی لیتے دیکھ کر اسکے پاس آیا۔
“ہاں ٹھیک ہوں” میرال ہلکا سا مسکرا کر بولی۔ بلاج ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا۔
“جوڑی پیاری لگ رہی ہے، اچھا فیصلہ لیا تم نے” حسام ہلکا سا اسکی طرف جھک کر بولا۔ بلاج نے اسے گھورا۔
“کیا ہوا؟ گھور کیوں رہا ہے؟ یہی چاہتا تھا نا اب دیکھ” حسام ہنس کر بولا۔ اور نفی میں سر ہلاتا اپنی لائنز پرفام کرنے لگا۔ بلاج نے آنکھوں کو انگلیوں کی مدد سے دبایا۔ رات نا سونے کی وجہ سے مسلسل درد کر رہیں تھیں۔
“کیا ہوا؟ بریک اپ کا درد ہو رہا ہے؟” وہ اسی طرح بیٹھا تھا جب اسکے برابر والی کرسی پر اسماء آکر بیٹھتے ہوۓ بولی۔ اسکی آواز سن کر بلاج نے با مشکل اپنے غصے کو دبایا۔ اسماء نے میرال کی طرف دیکھا، جو سبکے ساتھ مصروف تھی۔
“نکلو یہاں سے ” بلاج نے بامشکل آواز نیچی رکھتے ہوۓ بولا۔
“یاد ہے اس دن میں نے بولا تھا کسی کا خیال بھی اپنے زہین میں نا لانا، اور تم نے تو محبت جیسی غلطی کرنے کی جُرات کر لی، بھول گے میں وہی اسماء عالم ہوں، جسکے ساتھ نا چایتے ہوۓ بھی مجبوری کی آخری حد تک پہنچ کر تم نے منگنی کی، تو اپنی چیز کو کسی اور کا ہونے نہیں دوں گی، اچھا ہوا بریک اپ کر لیا، اب میں اسے کچھ نہیں بولوں گی، ورنہ۔۔۔۔ تم جانتے وہ میں کیا کر سکتی ہوں” اسماء اسکی طرف دیکھتے سرد لہجے میں بولی۔
” اس سے ہمیشہ دس قدم دور رہنا ورنی تمہیں تمہارے قدموں پر چلنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا” بلاج اسکی ساری باتیں سن کر سخت لہجے میں بولا۔ اسکی بات سن کر اسماء زور سے ہنسی، اسکی ہنسی کی اواز سن کر میرال نے انکی طرف دیکھا۔ دونوں کو ساتھ بیٹھے دیکھ اسکا دل بھر آیا۔ اسکی آنکھیں نم ہوئیں۔ تبھی بلاج کی نظر اس سے ملی۔ اسنے جھٹ سے آنکھیں پھیر لیں اور خود پر کنٹرول کرتے امرحہ کو لائینز سمجھانے لگی۔ اسماء اُٹھ کر روم سے باہر چلی گئی۔۔ سبھی وہاں سات بجے تک ریہرسل کرتے رہے۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔