55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

حسام کے جانے کے بعد بلاج سکون سے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔ میرال نے اپنا بیگ پکڑا اور کھڑی ہو گئی۔ سر پر ڈوپٹے کو فولڈ کرتی وہ دوازے کی طرف بڑھی۔ مشی بھی اسکے ساتھ ہی تیار ہو گئی۔
“کہاں جا رہی ہو؟” وہ اسے یوں تیاری کرتے دیکھ فوراً کھڑا ہوتے ہوۓ بولا دونوں رک گئیں۔
“جہنم! میں جا رہی ہوں تمہیں جانا ہے؟” وہ پلٹ کر غصے سے اسے گھورتے ہوۓ بولی۔ بھلا ابھی بھی کوئی جواز بنتا تھا یہ سوال پوچھنے کا۔
“ہاۓ تمہارے ساتھ تو جہنم بھی جنت لگے گی، چلو چلیں وائفی ” وہ دل پر ہاتھ رکھتے اسکے قریب آتے شوخ لہجے میں بولا۔ ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ تھی۔ اسکے وائفی کہنے پر دوسری طرف میرال کا چہرہ لال ہوا تھا۔ شرم سے نہیں غصے سے وہ مسلسل اسے گھورے جا رہی تھی۔ مشی نے حیرت سے بلاج کو دیکھا وہ ایسے شوخ لہجے اور مسکراتے چہرے کے ساتھ کبھی نہیں دِکھا تھا۔ اور آج تو اسکے چہرے پر سکون تھا اور آنکھیں میں جیت کی چمک تھی۔ اپنی محبت کو اپنے نام کر لینے کی خوشی اسکے چہرے پر تھی۔
“بھاڑ میں جاؤ” پاؤں پٹھکتی وہ باہر کی طرف بڑھی۔ مشی چپ سی اسکے ساتھ چل دی۔ بلاج دروازے کو لاک لگاتا اسکے پیچھے بھاگا ۔ وہ تیز تیز چلتیں اپنی گاڑی کی طرف آئیں۔ مشی نے ڈرائیونگ سیٹ سھنمبالی میرال نے فرنٹ ڈور کھولا تبھی بلاج نے ہاتھ سے دروازہ بند کیا۔
“کیا مسلہ ہے اب؟” وہ تیز لہجے میں بولی۔ فل حال وہ بلاج سے دور جانا چاہتی تھی، وہ اس اچانک آئی سچویشن کو قبول نہیں کر پا رہی تھی۔
“ابھی میں تمہیں اسکے ساتھ جانے دے رہا ہے، کل یونی کے بعد تم اسکے گھر والوں کو بتا دینا تمہیں ہاسٹل میں کمرہ مل گیا ہے، مزید وہاں رہنے کی ضرورت نہیں” ابکی بار اسکا چہرہ سنجیدہ تھا۔ میرال کے ماتھے پر بل پڑے۔
“مجھے تمہاری کوئی مدد نہیں چاہیے، ہاسٹل کا کمرہ اپنے پاس رکھو بلاج حمدانی” وہ تلخ لہجے میں بولی۔ اور چہرہ موڑ لیا۔
“میں کب بول رہا ہوں تم ہاسٹل میں رہو گی، میرے ساتھ گھر پر رہو گی” ابکی بار وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولا۔ جانتا تھا اب وہ پھٹے گی۔
“بلاج بکواس بند کرو ایسا بالکل نہیں ہو گا سائیڈ پر ہو جاؤ” وہ اسکی بات سن کر چیخی تھی۔ اور اسکا ہاتھ دروازے سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔
“کوئی بکواس نہیں کر رہا، تمہیں کیا لگتا ہے بلاج حمدانی اتنا بے وقوف ہے اپنی بیوی کو اپنے ہی دشمن کے گھر پر چھوڑ دوں میرا بس چلتا تو کبھی تمہیں اس گھر میں رکنے نہیں دیتا” وہ سخت لہجے میں بول رہا تھا اور میرال حیرانگی سے اسکی باتیں سن رہی تھی۔ مشی اندر بیٹھی اسکا انتظار کر رہی تھی۔ وہ کافی پریشان تھی۔
“وہ تمہارا دشمن ہو گا میرا نہیں ہے، اور میں وہی رہو گئی، ایک لاوارث اور یتیم لڑکی کو انہوں نے جگہ دی تھی میں تمہاری وجہ سے وہ جگہ نہیں چھوڑوں گی انہوں نے بہت عزت سے رکھا ہے” میرال بھی جواباً اسی کے انداز میں بولی۔
“بیگم مجھے انڈر ایسٹیمیٹ مت کرو، اور تم لاوارث نہیں ہو تمہارا شوہر اب ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہے۔ کل تک کا وقت ہے، سب کو بتا دینا ورنہ گھر آکر ہاتھ پکڑ کر لے کر جاؤں گا، اور کوئی روک بھی نہیں پاۓ گا، چلو اب جاؤ” وہ دو قدم آگے بڑھا اور اسکا ڈوپٹہ صحیح کرتے ہوۓ بولا۔
“تمہارے خواب میں ہی ایسا ہو گا” میرال نے اسکا ہاتھ جھٹکا اور دروازہ کھول کر بیٹھتے زور سے دروازہ بند کر گئی۔ مشی نے گاڑی چلا دی۔ بلاج دور جاتی گاڑی کو دیکھتا رہا۔
“خوابوں کو حقیقت کا روپ دینا مجھے اچھے سے آتا ہے وائفی” وہ بولتے ہلکا سا مسکرایا۔ اور اوپر اپارٹمننٹ کی طرف بڑھا۔
“”**
راحیل کل سے کافی پریشان تھا۔ اسنے وہ بات ابھی تک کسی کو نہیں بتائی تھی۔ گھر میں سبکو عائشہ کی پریگینسی کا علم ہو چکا تھا۔ وہ ابھی ہاسپٹل سے عائشہ کی مزید ٹیسٹ کی ریپورٹس لے کر گھر پہنچا تھا ریپورٹس اچھی نہیں تھی۔ اسکا چہرہ بُجھا ہوا تھا۔ حال میں داخل ہوا تو سامنے صوفے پر عائشہ ہنستے ہوۓ سمائرہ بیگم سے باتیں کر رہی تھی۔ آج دو سال بعد راحیل نے اسے یوں دل سے مسکراتے ہوۓ دیکھا تھا۔ وہ کل سے اس میں کافی تبدیلی محسوس کر رہا تھا وہ پریگینسی کی وجہ سے کافی خوش تھی۔ گھر میں سبھی بہت خوش تھے۔ وہ چلتا ہوا انکے پاس آیا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔ اور اپنا سر صوفے کی پشت سے ٹِکا دیا۔
“کیا ہوا راحیل طبعیت تو ٹھیک ہے نا؟” سمائرہ بیگم نے اسے یوں خاموش سا دیکھا تو بولیں۔ عائشہ نے اسکی طرف دیکھا چہرے پر واضع پریشانی اور تھکاوٹ تھی۔ وہ کل سے محسوس کر رہی تھی وہ بہت پریشان ہے۔ اسکے دل میں وسوسے چل رہے تھے۔
” مجھے آپ دنوں سے بات کرنی ہے” اسنے سمائرہ بیگم کا سوال اگنور کرتے ہوۓ کہا۔
“کیا بات ہے؟” سمائرہ بیگم فوراً متوجہ ہوئیں۔ راحیل کھڑا ہوا اور عائشہ کی سائیڈ پر آکر بیٹھا، اور اسکے کندھے کے گرد بازو پھیلایا۔ عائشہ کو گھبڑاہٹ سی ہوئی ایسی کیا بات بتانے والا تھا۔ راحیل نے ریپورٹس سمائرہ بیگم کی طرف بڑھائیں۔ اور آہستہ آہستہ ساری بات بتا دی۔ اسکے ایک ایک لفظ کے ساتھ عائشہ کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا۔ سمائرہ بیگم حیرانگی سے ریپورٹس دیکھ رہیں تھیں۔
“ایسا نہیں ہوووو سکتا” وہ ٹوٹے الفاظ کے ساتھ بولی۔ راحیل نے اسے ساتھ لگایا اور دوسرے ہاتھ کو پکڑا۔
“میں بھی ایسا نہیں چایتا تھا پر یہی سچ ہے” وہ نم لہجے میں بولا۔
“نہیںنننن” عائشہ نے اسکے ہاتھ جھٹکے اور کھڑی ہو کر کمرے کی طرف بھاگی۔ راحیل وقت ضائع کیے بغیر اسکے پیچھے بھاگا، سمائرہ بیگم پریشان سی وہی صوفے پر بیٹھیں تھیں۔
وہ کمرے میں آتے ہی دروازہ بند کرنے لگی راحیل
نے روک لیا۔ اور اندر داخل ہوا۔
“ایسا نہیں ہو سکتا میں کتنی خوش تھی۔ میں ایسا بالکل نہیں کروں گی۔ اپنی جان کے لیے اپنے بچے کی جان نہیں لوں گی” وہ نفی میں سر ہلاتی روتے ہوۓ مسلسل بول رہی تھی۔ راحیل نے اسے بیڈ پر بیٹھایا۔
“میری جان میں بھی ایسا نہیں چاہتا، پر اب ایسا ممکن نہیں، تمہاری زندگی رسک میں ہے، اور میں تمہاری زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتا” راحیل اسکے پاس بیڈ پر بیٹھتا دونوں ہاتھ پکڑ کر نم لہجے میں بولا۔
“آپکو تو فرق پڑتا نہیں ہے، پر مجھے پڑتا ہے، کل سے ایک عجیب سی خوشی سکون محسوس ہو رہا ہے، جیسے میں دوبارہ سے جی اُٹھی ہوں، ایک دم سے مجھے اپنی زندگی اچھی لگ رہی ہے، اور اب سب میں اپنے ہاتھوں سے ختم نہیں کر سکتی میں اباؤشن نہیں کرواؤں گی، اور یہی میرا آخری فیصلہ ہے” وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی، راحیل اسکی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ اتنا زیادہ رونا اسکے لیے ٹھیک نہیں۔
“اچھا رونا تو بند کرو، طبعیت خراب ہو جاۓ گی، تم چاہتی ہو ایسا ہو؟ نہیں نا تو چپ کرو” وہ اسکے گالوں پر بہے آنسوں کو صاف کرتے ہوۓ پیار سے بولا اور اسکے گرد بازو پھیلا کر اسکا چہرہ اپنے کندھے سے ٹکایا۔
“پلیز راحیل میں ایسا نہیں کروں گی، پلیز” وہ دوبارہ سے رونے لگ گئی۔ اباؤشن کا سوچ کر ہی کہ اسکی جان نکلی جا رہی تھی۔
” ایموشنل ہو کر کچھ فیصلہ نہیں لیے جاتے، یہ میرے لیے بھی آسان نہیں ہے، پر پریٹکلی سوچیں تو تمہاری زندگی مجھے زیادہ عزیز ہے، کچھ پرنسٹ چانسز پر میں رسک کیسے لوں، اور تمہیں کھونے کا رسک میں نہیں لے سکتا، اگر تمہیں کچھ ہوا تو۔۔۔۔۔۔” بولتے بولتے اسکی آواز بھاری ہوئی۔ سوچتے ہی اسکو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔ عائشہ نے اسکے سینے میں اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا اور اسکی شرٹ کو زور سے پکڑا تھا۔اور ہلکا ہلکا کانپ رہی تھی۔ اسکی بات سن کر وہ علحیدہ ہوئی۔
“زندگی اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور کیا گرینٹی ہے، میں اسکے بعد زندہ رہوں کیا پتہ یہی بیٹھے بیٹھے ہی موت آجاۓ، موت کے خوف سے میں کسی روح کا قتل نہیں کر سکتی، اگر ایک پرنسٹ بھی چانس ہوا میں تب بھی یہی کروں گی، اور اگر آپ چاہتے ہیں میں ہمارے رشتے کو ایک موقع دوں تو مجھے فورس مت کریں، اگر مجھے فورس کیا اور اباؤشن کروایا۔ خدا کی قسم راحیل میں آپکو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلی جاؤں گی، ہمارا رشتہ اسی وقت ختم ہو جاۓ گا، میں آپکی پچھلی ساری حرکتیں معاف کر دوں گی، پر اگر میری بات نا مانی تو آپ اچھے سے جانتے ہو میں کتنی ضدی ہوں کوئی میری ضد نہیں توڑ سکے گا” وہ اسے وارنگ دیتے ہوۓ بول رہی تھی اور جا کر اپنی جگہ لیٹ گئی۔ راحیل اسکی بات سن کر سر ہاتھوں میں گڑا گیا۔ وہ سچ میں اس وقت ضد پر اڑ چکی تھی۔ اسنے ابھی مزید بات نا کرنے کا سوچا اور اُٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔ عائشہ وہی بے چینی سے لیٹی رہی۔ جب کافی دیر تک سکون نا ملا تو اُٹھ کر بالکنی میں آئی اور وہاں پڑے جھولے پر بیٹھ گئی۔
*****
میرال نے بلاج کا نمبر بلاک کر دیا تھا، ابھی دو دن سے یونی نہیں جا رہی تھی، اور وہاں بلاج بے بسی سے اسکی حرکتیں برداشت کر رہا تھا۔ تنگ آ کر اسنے مشی کے نمبر پر کال کی، اور میرال سے بات کروانے کا بولا۔ اور بولا کہ آج نا آئی اور گھر پر ہاسٹل شفٹنگ کی بات نا بتائی تو وہ خود آ جاۓ گا، یہ بول کر اسنے فون رکھ دیا۔ بنا میرال کی سنے۔ وہ یونی پہنچا تو وہ ابھی تک نہیں آئی تھی، اسکی شفٹنگ والی بات سے وہ پریشان تھی، مشی کے فورس کرنے پر وہ آج یونی جانے کے لیے تیار ہوئی، بلیک سمپل سی قمیض شلوار پہنے سر پر ڈوپٹہ لیے، میک اپ کے نام پر کاجل اور لپ گلوس لگاۓ،آنکھوں پر چشمہ پہنے وہ بیگ لیے مشی کے ساتھ نیچے آئی۔ خود کو وہ بے بسی کی اخری حدوں پر محسوس کر رہی تھی۔ وہ چلتی ہوئی ڈائنگ ٹیبل پر پہنی جہاں سب ناشتہ کر رہے تھے۔ اسماء نے اسے نفرت بھری نظروں سے دیکھا جو اتنے سادے سے ڈریس میں بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
“انکل آنٹی مجھے آپ سے بات کرنی ہے” وہ ہاتھ مڑورتے ہوۓ بولی۔
“جی بولو بیٹا ” سمائرہ بیگم نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولا عالم صاحب بھی متوجہ ہوۓ۔ عائشہ خاموشی سے چہرہ جھکاۓ ناشتہ کر رہی تھی، راحیل اسکے برابر میں بیٹھا اسے جوس پینے پر فورس کر رہا تھا پر وہ مسلسل انکار کر ہی تھی آج یونی جانے کی بھی ضد کر رہی تھی۔ راحیل اسے اکیلے تو بھیجنا نہیں چاہتا تھا۔ اپنی سوٹنگ اسنے کینسل کروائی اور اسکے ساتھ یونی جانے کے لیے تیار ہوا۔
“آپ لوگوں نے مجھے اپنے گھر رہنے دیا آپ سب کو بہت بہت شکریہ، وہ اصل میں مجھے ہاسٹل میں دوبارہ کمرہ مل گیا ہے، تو میں آج شفٹ کرنا چاہتی ہوں” وہ بہت مشکل سے جھوٹ بول رہی تھی، اور دل میں بلاج کو کوس رہی تھی۔ مشی مزے سے ناشتہ کر رہی تھی۔
“بیٹا یہی رہتی ، اتنے دنوں میں اپنایت سی ہو گئی وہاں اکیلی کیسے رہو گی” سمائرہ بیگم فکر مندی سے بولیں۔
“تھینکس آنٹی، مجھے سچ میں یہاں رہنے کا بہت مزہ آیا۔ پر اب میں جانا چاہتی ہوں” اسکو سمجھ نا آئی کیسے مناۓ۔ سمائرہ بیگم کچھ بولنے لگیں۔
“لیو اٹ مام، ویسے بھی کتنی چیرٹی کریں گی، بہت دن مفت کا کھا لیا جانے دیں” اسماء چاۓ کا گھونٹ پیتے ہوۓ تلخ لہجے میں بولی۔ میرال کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑا۔ سمائرہ بیگم نے اسے گھورا۔
“بہت کوئی گھٹیا بات تھی آپی” مشی تیز لہجے میں بولی۔ اور کھڑی ہو گئی۔ عالم صاحب چپ چاپ سب دیکھ رہے تھے۔
“گھٹیا حرکت تو تمہارے سو کالڈ لو سٹینڈر دوست نے کی ہے، کسی کے گھر اتنے دن پڑے رہنا، خود کو شرم آ جاتی ہے مفت کی کتنی کو بھی کھاؤ گے، مفت رہنا مفت کھانا مفت گاڑی پر جانا یہ گھٹیا نہیں ہے کیا؟ ” اسماء میرال کو دیکھتے طنزیہ لہجے میں بولی۔ میرال کی آنکھوں میں پانی سا آیا اسے کافی انسلٹنگ لگا۔
“میرو چل چلتے ہیں” مشی نے چپ بیٹھی میرال کو پکڑ کر اُٹھایا اور اسے اپنے ساتھ لے گئی۔
“یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا؟” انکے جاتے ہی سمائرہ بیگم نے غصے سے اسے گھورتے ہوۓ بولا۔
“وہی طریقہ جسکی وہ حق دار ہے اسے تو بہت پہلے چلے جانا چاہیے تھا” وہ انڈے کا پیس منہ میں ڈالتے ہوۓ بولی۔ سمائرہ بیگم اسے مزید ڈانٹنے لگیں۔
“سمائرہ بس کرو ویسے بھی اسنے کچھ غلط نہیں بولا تمہیں ہی شوق چڑ جاتا ہے کسی کو بھی اپنے گھر رکھنے کا” عالم صاحب ابکی بار غصے سے بولتے کھڑے ہوۓ اور آفس کے لیے چلے گے۔ اسماء کو تو گویا سکون سا ملا اسکی انسلٹ کر کے اب اسکا چہرہ کھل رہا تھا۔ سمائرہ بیگم نفی میں سر ہلاتیں اُٹھ گئیں
**“”””****
دو دن بعد یونی آئی، وہ سیدھا اپنی کلاس میں گئی، اسماء کی باتیں وہ بھلا چکی تھی۔ کلاس میں داخل ہوئی تو ایک طرف وہ چاروں کھڑے باتیں کر رہے تھے، بلاج کی ہنسی سب سے اونچی تھی، وہ حسام کی کسی بات پر کھل کر ہنس رہا تھا۔ وہ ان سب کو اگنور کرتی پیچھے مشی کے ساتھ بیٹھی، جو آتے ہی ہارون اور ایماب سے باتیں کرنے لگ پڑی۔ بلاج نے اسے آتے دیکھ لیا تھا۔ اور اسکا اترا چہرہ بھی نوٹ کر لیا تھا۔ بلیک ڈریس میں وہ اسکا دل دھڑکا گئی۔ پہلی کلاس ویسے ہی فری تھی۔
” بلاج عمیر کی شادی کب ہو رہی ہے میں تو سن کر شاک ہو گیا، جسے وہ پسند کرتا تھا اسکے ساتھ تمہارے ڈیڈ نے رشتہ کر دیا” ہارون کو کچھ یاد آیا تو وہ فوراً بولا۔ بلاج کو بھی کل ہی عمیر نے بتایا تھا۔ وہ بہت خوش تھا
“ہاں بھائی نے کل ہی بتایا ہے، دادا کی وجہ سے ہوا ہے، پتہ نہیں انہوں نے ایسا کیا بولا جو سکندر حمدانی کی اکڑ ختم ہو گئی اور رشتہ ہو گیا اب یہ تو انہی کو علم ہے پر رشتہ ہو گیا، اور ڈائریکٹ شادی ہے، دو ویک بعد” بلاج نے مسکراتے ہوۓ بتایا۔ وہ عمیر کے لیے خوش تھا۔
“چلو شکر ہے کچھ تو مزہ آۓ گا، بور ہو چکی ہوں ” امرحہ خوشی سے بولی۔
“امرحہ آجکل تمہاری محبت وہ تقی نظر نہیں آ رہا ؟” حسام نے اسے چھیڑتے ہوۓ پوچھا۔
“ہاۓ ظالم کیا بات چھیر دی، وہ تو ایک مہینے سے یونی نہیں آ رہا بہت پریشان ہوں، کہی اسکی شادی تو نہیں ہو گئی؟ اگر ہو گئی ہوئی تب کیا کروں گی؟ نہیں بالکل نہیں، ایسا مکمن نہیں حسام تم۔میرے دوست ہو تمہیں دوستی کا حق ادا کرنا ہو گا پلیز پتہ کرواؤ کیا بات ہے” امرحہ اب مکمل سیریس ہو گئی تھی، وہ کافی دنوں سے پریشان تھی پر کسی کو بتایا نہیں تھا۔
“افکورس میں ہوں نا رات تک پتہ کرواتا ہوں” حسام مسکر اکر بولا۔ اور بلاج کی طرف دیکھا جو دائیں طرف کرسی پر بیٹھی میرال کو دیکھ رہا تھا۔
“اہممممم! ” حسام نے گلا کھنگال کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ وہ چونکا۔
“ویسے بلاج کو بھی ایک بات بتانی تھی، بول ” حسام نے اسے اشارہ کرتے ہوۓ بولا۔ بلاج کے تو طوطے اُڑ گے۔ اسنے حسام کو گھورا۔ اور چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
“کیا بات ہے بڈی؟” ہارون نے دونوں کے انوکھے اشارے دیکھتے ہوۓ تعجب سے پوچھا امرحہ عائشہ کو میسج کر رہی تھی۔
“کچھ نہیں بکواس کر رہا ہے، عمیر بھائی کی شادی حویلی میں ہونی ہے تو تم سب تیار رہنا” وہ بات بدل گیا۔ حسام نفی مین سر ہلاتا ہنس دیا۔ تبھی کلاس میں عائشہ اور راحیل داخل ہوۓ۔ راحیل نے عائشہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ وہ اسے لیے اپنی جگہ پر آیا اور ساتھ والی سیٹ پر بیٹھایا۔ اور خود اسکے ساتھ بیٹھ گیا۔ ان چاروں نے حیرانگی سے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھا عائشہ نے کبھی اپنی جگہ نہیں چھوڑی تھی، اور آج پہلی دفع وہ ان سے بنا ملے پیچھے جا کر بیٹھی تھی۔ وہ چاروں اسکی طرف ہی دیکھ رہے تھے، اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ اُٹھنے لگی راحیل نے ہاتھ پر دباؤ بڑھا کر اسے بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا۔
“آج سے تم یہی میرے پاس بیٹھو گی” وہ اسکے بال کان کے پیچھے کرتے ہوۓ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔ وہ ایک پل بھی اسے نظروں سے اُوجھل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ عائشہ نے ہاں میں سر ہلایا
“میں یہی بیٹھوں گی پر اس سے پہلے اپنے دوستوں سے مل لوں” وہ کھڑی ہوتے ہوۓ بولی۔ دوستوں کے نام پر راحیل کے ماتھے پر بل پڑے۔ اور سامنے دیکھا بلاج بھی ماتھے پر بل ڈالے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ چلتی ہوئی انکے پاس آئی اور ملی۔
“گائیز باہر چل کر بات کریں مجھے تم لوگوں کو کچھ بتانا ہے” عائشہ نے چاروں کو بولا۔ اور وہ پانچوں باہر کی طرف چلے گے۔
“کیا بات ہے؟ اسنے کوئی بدتمیزی تو نہیں کی؟ یا زبردستی تو نہیں کر رہا؟ ہم سے بات کرنے سے روک رہا ہے؟ اسکی تو” بلاج غصے سے بولا۔
“ایسی بات نہیں ہے، وہ میں پریگنٹ ہوں” وہ اہستہ سے بولی جانتی تھی سبکا کتنا لاؤڈ ری ایکشن ہو گا۔
“واٹ! اور تم ایسے بتا رہی ہو، کوئی شور شرابہ نہیں” وہ چاروں چیخے تھے۔
“چپ کر کے میری پوری بات تو سن لو” عائشہ نے کانوں پر ہاتھ رکھتے انہیں چپ کروایا۔ اور پھر ساری بات بتائی۔ جسے سن کر سبھی حیران اور پریشان ہوۓ۔
“عائشو تمہیں اتنا برا رسک نہیں لینا چاہیے” امرحہ نے فوراً کہا۔ وہ ہلکا سا مسکرائی۔
“میں اپنی زندگی میں کوئی رگریکٹ نہیں رکھنا چاہتی کہ اگر تب ایسا نا کیا ہوتا تو اب ایسا نا ہوتا، کچھ اور ہوتا، اور موت کا تو کسی کو علم نہیں تو میں اتنی بری نعمت کو کیسے ٹھکرا سکتی ہوں اور ایک دوسری بات” وہ مسکرا کر بولتے بولتے رکی تھی۔ سبھی اسکی طرف متوجہ تھے۔
“کیسی بات؟” ہارون بولا۔
“آئی نو تم سب کو راحیل بالکل پسند نہیں، نفرت کرتے ہو، شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے، پر یہ بھی اتنا ہی برا سچ ہے کہ وہ میرا شوہر ہے، میں اپنی زندگی سے لڑتے لڑتے تھک چکی ہوں، زندگی مجھے ایک خوبصورت موقع دے رہی ہے، بہتری کا، میں راحیل کو ایک اور موقع دے رہی ہوں، اپنی زندگی اسکے ساتھ گزارنے کا موقع، ” وہ ہولے سے بول رہی تھی۔
“عائشہ تم بھول گئی اسنے کیا کیا تھا تم اسکو معاف کیسے کر سکتی ہو” بلاج غصے سے بولا۔
“میں نے اسے موقع دیا ہے، معاف نہیں کیا اسے اپنے آپ کو پرو کرنے کا موقع دیا ہے، دوبارہ سے میرا یقین جیتنے کا موقع دیا ہے، جس دن مجھے احساس ہو جاۓ گا وہ پہلے والا راحیل بن گیا ہے اسی دن میں اسکی ہر غلطی دل سے معاف کر دوں گی” وہ ہلکا سا مسکرا کر بول رہی تھی۔
“ہممم، فکر مت کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں” امرحہ نے اسے ہگ کرتے ہوۓ بولا۔
“بلاج میں تم سے یہ نہیں بول رہی تم اسے معاف کر دو، تمہارے جو معاملات ہیں وہ رکھو، بس اب میں اسے موقع دے رہی ہوں، اور خود کو بھی، کیا تم میرا ساتھ نہیں دو گے؟” اسنے بلاج کا جھکا چہرہ دیکھتے ہوۓ بولا۔
“ٹھیک ہے” وہ بس اتنا ہی بولا۔ عائشہ مسکرا دی۔۔ پانچوں نے گروپ ہگ کیا۔ اور کمرے میں آ گے۔ عائشہ کی نظر راحیل پر پڑی جو منہ پھلاۓ بیٹھا تھا وہ چلتی ہوئی اسکے پاس آکر بیٹھی۔
**
چھٹی کے بعد وہ مشی کے ساتھ گھر گئی اور گھر سے سارا سامان لیے سمائرہ بیگم سے مل کر وہ مشی کے ساتھ ہی بلاج کی بتائی جگہ پر پہنچی۔ جہاں وہ اپنی بلیک گاڑی کے ساتھ ٹیک لگاۓ کھڑا اسکا انتظار کر رہا تھا۔ وہ گاڑی سے نکلی۔ بلاج نے اسکا سامان ڈکی سے نکالا۔ اور اپنی گاڑی میں رکھا۔ مشی اسے باۓ بولتی چلی گئی۔
“چلیں وائفی!” بلاج نے اسے یوں چپ کھڑے دیکھا تو اسے چلنے کا بولا۔ میرال چپ چاپ چلتی ہوئی فرنٹ سیٹ پر ا کر بیٹھ گئی۔ چہرے پر سنحیدگی تھی۔ وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔ اور گاڑی کو روڈ پر ڈالا۔
“صبح کیوں موڈ آف تھا ، کچھ ہوا تھا؟” بلاج نے اسے خاموش خاموش دیکھا تو بات کرنے کے لیے ٹاپک نکالا۔ میرال نے گہرا سانس لیا۔ اور ایک نظر اسے دیکھا۔
“ہاں تمہاری منگیتر نے اسکے گھر رہنے پر کافی باتیں سنائیں تھیں” وہ شیشے سے باہر دیکھتے منگیتر لفظ پر زور دیتے ہوۓ بولی۔ بلاج کے سٹرینگ پر ہاتھ مظبوط ہوۓ۔
“آئندہ کچھ بھی بول لینا بنا کچھ کہے سن لوں گا دوبارہ اسکا ذکر میرے سامنے مت کرنا” پتھریلے ثاثرات اسکے چہرے پر تھے۔ میرال نے اسے یون اچانک اتنا سیریس ہوتے حیرانگہ سے دیکھا۔ وہ ابھی تک منگیتر کی پچھلی ساری کہانی کہاں جانتی تھی ورنہ واقع اسکے سامنے دوبارہ نام نا لیتی۔
” انسان کنگال ہو جاۓ وہ زندہ رہ لے گا کسی کے ماں باپ نا چھوڑ کر جائیں، پیچھے انکی اولاد در در کی ٹھوکریں کھانے کے لیے رہ جاتی ہے، نا چاہتے ہوۓ بھی لوگوں کی باتیں ماننی پڑتی ہیں” وہ شیشے سے باہر بھاگتے رستوں کو دیکھتے ہوۓ گہرے لہجے میں بولی۔ بلاج کے ہاتھ سٹرنگ پر لرزے، اسکے سامنے کنول بیگم کا کفن میں لپٹا وجود آیا انکھیں ایک پل میں ہلکی سی نم ہوئیں۔
“بالکل صحیح کہا” گاڑی کو دائیں طرف موڑتے گھر کے سامنے روکا۔ اور خود گاڑی سے باہر نکلا۔ چابی سے گیٹ کھولا اور دوبارہ گاڑی میں آ بیٹھا، میرال کو ایک دم احساس ہوا انجانے میں وہ اسے ہرٹ کر گئی۔
“ایم سوری میرا وہ مطلب نہیں تھا” وہ ایک دم نرم پڑی۔ بلاج پھیکا سا مسکرایا۔اور گاڑی کو گھر کے اندر داخل کیا۔
“ایٹس اوکے وائفی! چلو تمہیں گھر دیکھاتا ہوں” گاڑی کو پورچ میں روکتے وہ باہر نکلا۔ اور اسکی طرف کا دروازہ کھولا۔ میرال باہر نکلی۔ اور گھر کو دیکھا۔
یہ بہت ہی خوبصورت دو فلور کا گھر تھا۔ جسکے ایک طرف پول بنا ہوا تھا تو اسکی دائیں طرف کرسیاں رکھ کر بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ گھر کا برا سا لکڑی کا دروازہ تھا جسے کھول کر وہ اندر داخل ہوۓ تو سامنے ٹیوی لاونچ تھا، جہاں صوفے رکھے گے تھے، ایک طرف چھوٹا سا ڈائینگ ٹیبل تھا۔ دائیں طرف اوپن کیچن تھا۔ لاونچ کے سینٹر سے سیڑھیاں اوپر کی طرف جا رہیں تھیں، جہاں دو کمرے تھے، اور نیچے تین کمرے تھے۔ بلاج سامان اندر لے آیا۔ اور اسے اپنے کمرے مین رکھنے لگا۔۔۔۔۔
جاری ہے