55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

وہ ان سب سے پہلے ہی گھر آ گیا تھا ابھی وہ فریش ہو کر لانونج میں بیٹھا ٹیوی دیکھ رہا تھا، جب بیل بجی،
“اس وقت کون آ گیا؟” چونکہ اسنے چوکیدار کو پہلے ہی نکال دیا تھا اس لیے اسے خود دروازہ کھولنے جانا پڑا۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔
“تو اس وقت یہاں کیا کر رہا ہے؟” اسنے دروازہ کھولا تو حسام کھڑا تھا۔
“چل اندر بات کرنی ہے” حسام اندر داخل ہوتے ہوے بولا۔ اسکے ہاتھ میں پیزا اور کوک کی بوتل تھی۔ بلاج نے دروازہ بند کیا اور حسام کے پیچھے لاونج میں آیا۔ جہاں وہ آرام سے پیر پھیلا کر پیزے کا سلائیس کھا رہا تھا۔ بلاج نے نفی مین سر ہلاتے اسے دیکھا اور اسکے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔
“کیا ہے ایسے کیوں دیکھ رہا ہے تو بھی کھا لے” حسام اسے خود کو گھورتے پا کر بولا۔
“نہیں تو کھا، وجہ بتا کیا کرنے آیا”
“واہ اب بس دوستی اتنی رہ گئی ہے دوسرے دوست کے گھر آنے کے لیے کسی وجہ کی ضرورت ہو گئی، بالکل پرایا کر دیا” حسام ایک دم صوفے سے کھڑا ہوتے ہوۓ دکھ سے بھرے انداز میں بولا۔
“اتنا سینٹی کیوں ہو رہا ہے بیٹھ جا” بلاج نے فوراً اسے بیٹھایا۔ حسام نے کوک کا ایک کین کھول کر اسے دیا۔
“تجھے کوئی بات شیئیر کرنی ہے؟” حسام ایک سپ لیتے ہوۓ بولا۔
“نہیں” بلاج بھی گھونٹ بھرتے ہوۓ بولا۔ حسام نے اسکی طرف دیکھا۔
“ٹھیک ہے میں کچھ پوچھتا ہوں اسکا جواب دے” حسام نے سنجیدگی سے کہا۔ بلاج اسکے یوں سیریس ہونے پر تھوڑا حیران ہوا۔
“پوچھ”
“کل کے دن میں ایسا کیا ہوا کہ تو نے وہ کان کیے جسکے لیے تو پچھلے دو سال سے لڑ رہا تھا” حسام کے سٹریٹ سوال پر بلاج نے گہرا سانس لیا تھا جو وہ کسی کو نہیں بتانا چاہتا تھا وہ اسطرح حسام پوچھ رہا تھا۔
“کل رات کو سکندر حمدانی آۓ تھے، ایک کانٹریکٹ لے کر ” بلاج کوک کا ایک گھونٹ بھررتے ہوۓ بولا۔
“کانٹریکٹ کیا مطلب؟” حسام کو کچھ سمجھ نا آیا۔
“دادا جی نے یہ گھر جو میرے رہنے کے لیے دیا تھا، وہ انکے نام کر دیا میرے سارے بینک اکاونٹ بند کر دیے، اور یہ سب میرے باپ نے کروایا، اسکے بعد کل رات کو یہاں آ کر کنٹریکٹ میرے سامنے پیش کیا، کہ اگر تمہیں پیسے اور گھر چاہیے تو یہ کانٹریکٹ سائین کرنا پرے گا جسکے مطابق مجھے اس وقت تک جب تک میں یہاں رہتا ہوں اور انکے پیسے کھاتا ہوں تب تک مجھے انکی ہر بات ماننی پڑے گی” بلاج نے حسام کو سب بتا دیا۔
“واٹ اتنا سب ہو گیا اور تو نے بتانے کی ضہمت نہیں کی” حسام نے پاس پڑی گدی اسکے کندھے پر مارتے ہوۓ غصے سے کہا۔
“بتانے سے کیا ہو جاتا” وہ کندھے اچکاتے ہوۓ بولا۔
“تو اُٹھ ابھی وہ کانٹریکٹ پھار کر آتے ہیں، اور چل میرے گھر وہاں پر رہ، اس گھر کو دفع کر” حسام کو تو حد سے زیادہ غصہ آ رہا تھا۔
“بیٹھ جا اتنا غصہ مت کر” بلاج نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔
“ٹھنڈا ہو جاؤ میرا تو بس نہیں چل رہا ابھی اس وقت۔۔۔۔۔ خیر تو کیوں اتنا ریلکس ہے، چھوٹی سی بات ہر تو اپنے باپ کا جینا حرام کر دیتا یے اور اب اتنا کچھ وہ کر کے چلا گیا اور تو ابھی تک خاموش ہے، سگا بیٹا ہے تو انکا اور حرکتیں دیکھو سوتیلوں سے بھی برا سلوک کر رہے ہیں” حسام کو تو اسکے اتنے پرسکون انداز پر حیرانگی کے ساتھ غصہ آ رہا تھا۔
“سگا ہنہہ میں انکی باتین صرف اسی لیے مان رہا ہو کیونکہ میں جس چیز پر پچھلے تین سال سے کام کر رہا ہوں اسکے لیے مجھے پیسے چاہیں، بہت زیادہ پیسے اور بتا آج اگر مین سب چھوڑ دوں تو کیا کروں گا، جس دن میرا مقصد پورا ہو جاۓ گا میں اسی دن یہ گھر ہر وہ چیز جو سکندر حمدانی کے ساتھ جُڑی ہے سب چھوڑ دوں گا۔ مجھے نہیں معلوم کتنی دیر مزید لگے گی، کچھ حاصل بھی ہو گا یا نہیں ، پچھلے تین سال سے ایک بھی کُلو نہی۔ ملا حسام ایک بھی، یہ سوچ کر ہی اتنا غصہ اتا ہے” بلاج نم لہجے میں بولا اور اپنے سر کو ہاتھوں پر گِڑا دیا۔ حسام ایک پل مین سمجھ گیا وہ کس بارے میں بات کر رہا ہے۔
“جگر ریکس سب ٹھیک ہو جاۓ، بہت جلد تجھے اپنے مقصد میں کامیابی ملے گی” حسام نے اسکے کندھے پر دباؤ ڈالتے ہوۓ حوصلہ دیا۔


” یار کل کی پارٹی بہت مزے کی تھی، اتنا مزہ آیا،مت پوچھو” مشی کب سے پیچھے بیٹھی جان بوجھ کر اونچی آواز میں پارٹی کی تعریفیں کر رہی تھی۔ اور ایماب اسکے ساتھ ساتھ تھی۔
یہاں پر پوچھا بھی کس نے، خود ہی بے وقوفوں کی طرح بولے جا رہی ہو” حسام نے اسکی اچھی خاصی کر دی تھی۔
“موٹے کانوں والے اپنے کانوں میں انگلی دے کر بیٹھ جاؤ کیونکہ میں تو بولوں گی، کل بہت مزہ ایا” مشی اونچی آواز میں بول کم چلائی زیادہ تھی۔ اسے حسام کا بلاوجہ اس پر کومینٹ پاس کرنا بالکل پسند نہیں تھا۔
“بس کر مشی” میرال نے اسے واپس کرسی پر بیٹھاتے ہوۓ کہا۔
“مس حیات اگر اتنا چلانے کا شوق ہے نا تو میں تمہیں ایک چیلنج دیتا ہوں تم ابھی جب میم کلاس میں آئیں گی تب تم یہ الفاظ میم اپ ان کپڑوں مین بہت موٹی لگ رہی ہیں۔ اونچی آواز میں بولو گی تب میں مانو گا تم بہت بہادر ہو” حسام نے پلٹ کر اسے چیلنج دیتے ہوۓ کہا۔
“دفع کر حسام یہ نہیں کر پاۓ گی” بلاج نے بھی اسے چڑاتے ہوۓ کہا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے جس بات سے مشی کو روکا جاۓ وہ وہی کرے گی۔
“میں کروں گی” وہ میرال کے روکنے کے باوجود کھڑی ہو کر بولی۔ ساری کلاس نے ہوٹنگ کی۔
“مشی تمہارا دماغ خراب ہے” میرال نے غصے سے کہا کیونکہ وہ جانتی تھی میم کتنی غصے والی ہے، وہ کلاس میں بالکل شور برداشت نہیں کرتیں۔
“مس چشمش کی بات مان لو تم سے نہیں ہو گا” بلاج نے میرال کو دیکھتے ہوۓ مشی کو کہا۔ پر وہ اپنی بات پر ڈٹی رہی۔ تبھی میم کلاس میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے آتے ہی انکے کل کے ٹیسٹ کی خراب پرفارمس کے بارے میں بتایا وہ کافی غصے میں لگ رہیں تھیں۔
“میم آپ ان کپڑوں میں بہت موٹی لگ رہی ہیں” مشی اونچی آواز میں بولی۔
“یہ کون بدتمیز ہے؟ کس نے بولا؟” میم فرحت کا پارہ ایک دم سے ہائی ہوا۔ کیونکہ وہ جسامت کے لحاظ سے پہلے ہی موٹی تھیں سب کی دبی دبی سی ہنسی نکلی۔
“میم یہ حیات عالم کی آواز ہے، یہ کافی بدتمیز وہ گئی ہے” حسام نے اپنی ہنسی کو روکتے ہوۓ کہا۔
“حیات یہاں آؤ فوراً” میم فرحت نے غصے سے اہنا چہرہ چھپاتی مشی کو کہا۔
“روکا بھی تھا جاؤ اب” میرال نے غصے سے کہا۔ مشی کانپتی ٹانگوں سے میم کے پاس آئی۔
“پڑھائی میں تو نالائق ہو ہی، اب کیا تمیز بھی صفر ہو چکی ہے، یہ دیکھو کل کے ٹیسٹ میں پانچ نمبر لیے ہیں کوئی اتنے نمبر لیتا ہے” میم فرحت بہت برے طریقے سے اس پر چلا رہیں تھیں، مشی شرمندگی کے مارے رو دینے کو تھی۔
“میم!یہ سب حسام کی وجہ سے ہوا ہے اسی نے مشی کو چلینج کیا یہ سب بولنے کا یہ سب ولڈز بھی اسی کے ہیں” میرال ایک دم کھڑی ہو کر بولی۔ اسے مشی کی یوں انسلٹ ہوتی کافی بری رہی تھی۔ وہ مشی کے پاس آکر کھڑی ہوئی۔
“کیا چشمش اب کیا ہر بات کا الزام ہم پر لگاؤ گی، حد ہے مانا ہم برے ہین پر اتنے بھی نہین کہ میم فرحت جیسی شخصیت کو اتنے برے الفاظ سے نوازیں، میم فرحت ہماری فیورٹ ٹیچر ہیں ہم ایسی گستاخی کیسے کر سکتے ہیں” بلاج ایک دم کھڑا ہو کر بولا۔ حسام نے اسکی ایکٹینگ کی داد دی۔ اور میرال بیچاری منہ کھولے دیکھتی رہ گئی۔
“ایم سوری میم” مشی نے روتے ہوۓ کہا۔
“یہ تمہاری پہلی غلطی ہے تو میں معاف کرتی ہوں، جاؤ آئندی ایسی بدتمیزی برداشت نہیں کروں گی، سب سُدھر جاؤ ورنہ بہت برا پیش آؤں گی” میم فرحت نے پوری کلاس کو وارنگ دیتے ہوۓ کہا۔
مشی اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئی میرال بھی سائیڈ سے ہو کر جا رہی تھی جب امرحہ نے اپنا پاؤں آہستہ سے رستے میں رکھا، جو میرال دیکھ نا سکی اور اس سے ٹکرا کر زمین پر گڑی۔
“میرال” کئی آؤازیں گھونجی تھیں۔۔
“تم ٹھیک ہو” ہارون نے اگے بڑھ کر ہوچھا۔ اسنے ہاں میں سر ہلا دیا۔
“میرا حشمہ” میرال نے نیچے زمین پر گڑا چشمہ اُٹھایا جسکےایک سائیڈ کاشیشہ کریک ہوا تھا اور دوسری سائیڈ کا تھوڑا سا ٹوٹ کو زمین پر پڑا تھا جو ہاتھ لگاتے ہی پورا باہر آ جاتا۔ میرال اپنا ٹوٹا چشمہ اُٹھاۓ اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھی۔
“تم ٹھیک ہو؟” مشی نے اس سے پوچھا۔ جسکا اسنے ہاں میں سر ہلا کر جواب دیا۔ میم فرحت لیکچر دینا شروع کر چکی تھیں پوری کلاس خاموشی سے سن رہی تھی۔ میرال کی آئی سیڈ کافی ویک تھی بنا چشمے کے تو اسے وائٹ بوڈ تک نظر نہیں آ رہا تھا۔ میرال نے ٹوٹا چشمہ آنکھوں پر لگا کر لیکچر لینا شروع کیا۔ اب وہ اور کر بھی کیا سکتی تھی۔
“اسٹوپیڈ! بلاج نے گردن موڑ کر دیکھا تو اسکی نظر ٹوٹا چشمہ لگاۓ میرال پر پڑی وہ نفی میں سر ہلاتا ہلکا سا بولا۔


عائشہ اپنا پاوچ امرحہ کو پکڑاۓ شیشے کی مدد سے انکھوں کے نیچے بیس لگا رہی تھی کیونکہ اسکے ہلکے کافی واضع ہو رہے تھے وہ دونوں اس وقت گارڈن میں بیٹھی ان تینوں کا انتظار کر رہیں تھی جو کھانے کے لیے کچھ لینے گے تھے۔
” امرحہ میرے پاوچ سے لیپ گلوس دینا ” وہ بیس جو انگلی کی مدد سے بلینڈ کرتے ہوۓ بولی۔ امرحہ نے ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ اسکا پاوچ کھولا۔ اور لیپ گلوس اسے نکال کر دیا۔ بند کرنے سے پہلے وہ ٹھٹکی تھی۔ اسنے اپنی تصلی کے لیے دوبارہ سے پاوچ کو کھولا اور اندر دیکھا۔
“عائشہ کیا تم نے یہ پلز دوبارہ سے لینا شروع کر دیں ہیں” امرحہ نے گولیوں کی چھوٹی سی ڈبی پاوچ سے نکالتے ہوۓ حیرانگی سے ہوچھا۔ عائشہ نے فوراً اسکے ہاتھ سے پاوچ اور پلز کی ڈبی پکڑ کر واپس پاوچ میں رکھی۔
“بولو مین کچھ پوچب رہی ہوں” جب وہ کچھ نا بولی تو امرحہ غصے سے بولی۔
“ہاں ” وہ بس اتنا ہی بولی اور لپ گلوس لگانے لگی۔ امرحہ کو اس پر بے انتہا غصہ آیا
“عائشہ تم پاگل وہ تمہیں پتہ ہے یہ تمہیں نقصان دے رہی ہیں پھر بھی”
“مجھے یہ سکون دیتی ہیں نقصان نہیں دیتیں” عائشہ نے عام سے لہجے میں کہا تھا۔ امرحہ کچھ بولتی وہ تینوں آ گے۔
“ہم بعد میں اس ٹاپک پر بات کریں گے” امرحہ بے کہا۔
“مجھے نہیں کرنی” عائشہ نے واضع انداز میں کہا۔


“مشی اس میں سب سے زیادہ تمہاری غلطی ہے میں نے روکا تھا نا” میرال کو مشی پر بہت غصہ تھا۔
“پر تم نے آ کر مجھے بچا لیا نا” مشی آنکھیں مٹکاتے ہوۓ بولی۔
” پر تمہاری بھی تو کوئی عقل ہے نا وہ صاف صاف تمہیں بس چڑا رہے تھے، جان بوجھ کر ایسے الفاظ بول رہے تھے جس سے تم ہاپر ہو کر بات مان جاؤ، اور تم نے دیکھا کیسے مُکرے ہیں، وہ بلاج کس طرح سے اسنے ایکٹنگ کی توبہ پورے کے پورے عجوبے ہیں” میرال کو ابھی بھی بلاج کا درمیان مین کودنا غصہ دیلا رہا تھا۔
“وہ سب کے سب ڈرامے باز ہیں، میری کمزوری پتہ ہے انہیں جانتے ہین مجھے اگر کوئی چینلج کرے تو پھر مین نہیں دیکھی اگے کون ہے” مشی انکھیں چھوٹی کرتے گارڈن مین بیٹھے ان چاروں کو گھورتے ہوۓ بولی۔
“جس طرح کل بلاج مجھ سے بات کر رہا تھا مجھے لگا اسکی عقل ٹھکانے ا گئی ہے اب دوبارہ سے کبھی تنگ نہیں کرے گا پر آج پھر سے اس امرحہ نے جان بوجھ کر مجھے گرا دیا اور میرا چشمہ بھی ٹوٹ گیا” میرال کو بے انتہا غصہ آ رہا تھا۔
“دو منٹ تم سے بات کیا کر لی تم تو الگ ہی ٹینجٹ پر پہنچ گئی مس ٹوٹی چشمش” بلاج انکی ساری باتیں پیچھے کھڑا سن رہا تھا۔ وہ دونوں ایک دم چونک کر پیچھے مڑیں۔۔
“ہاں میں بھول گئی تھی تم تو وہی روڈ بلاج ہو، مجھے لگا ہارون نے تمہیں سمجھایا تھا تم نے اس سے وعدہ بھی کیا تھا کہ اب تم مجھے تنگ نہیں کرو گے پر آج پھر تم لوگوں نے مشی اور میرے ساتھ وہی کیا، بہت ہی جھوٹے لوگ ہو ہنہہ” میرال نے طنزیہ انداز میں جواب دیا تھا۔ اور بلاج ہارون کے نام پر چونکا تھا کیا ان دونوں کیا اتنی اچھی دوستی ہو چکی تھی کہ اب وہ وعدے والی باتیں بھی اسے بتا رہا تھا۔
“مس چشمش ایک بات اپنے اس چھوٹے سے ذہین میں بیٹھا لو۔ میرے دوستوں سے بلا وجہ دوستیاں بڑھانے کی ضرورت نہیں اور اگر آئندہ اگر میں نے تمہیں ہارون کے اس پاس بھی دیکھا تو بہت برا پیش آؤں گا” وہ ایک دم سنجیدہ ہو کر بولا تھا۔ میرال کو اسکی بات بالکل سمجھ نا آئی وہ کب ہارون کی دوست بنی تھی، وہ اپنی کہ کر چلا گیا۔
“یہ بھی دنیا میں الگ ہی پیس ہے، پتہ نہیں کہاں ہر وقت اُڑتا رہتا ہے، میرا بس چلے سب سے پہلے اسکی عقل ٹھکانے لگاؤں” میرال کو اس پر بے انتہا غصہ آ رہا تھا۔
“کیا ہو گیا اج اتن غصہ کیوں کر رہی ہو، چلو جانِ من کچھ کھاتے ہیں” مشی اسکے گال کھہنچتے ہوۓ بولی۔ اور اگے بھاگی
“مشی یہ کیسے بے ہودہ الفاظ استعمال کر رہی ہو” میرال بھی اسکے پیچھے بھاگی۔
جاری ہے۔